Explained with ayahs 6–10
لعان سے مراد
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی ؒ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہوجائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہوجائے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة النُّوْر 7
یہ آیات پچھلی آیات کے کچھ مدت بعد نازل ہوئی ہیں۔ حد قذف کا حکم جب نازل ہوا تو لوگوں میں یہ سوال پیدا ہوگیا کہ غیر مرد اور عورت کی بد چلنی دیکھ کر تو آدمی صبر کرسکتا ہے، گواہ موجود نہ ہوں تو زبان پر قفل چڑھا لے اور معاملے کو نظر انداز کر دے۔ لیکن اگر وہ خود اپنی بیوی کی بد چلنی دیکھ لے تو کیا کرے ؟ قتل کر دے تو الٹا سزا کا مستوجب ہو۔ گواہ ڈھونڈنے جائے تو ان کے آنے تک مجرم کب ٹھہرا رہے گا۔ صبر کرے تو آخر کیسے کرے۔ طلاق دے کر عورت کو رخصت کرسکتا ہے، مگر نہ اس عورت کو کسی قسم کی مادی یا اخلاقی سزا ملی نہ اس کے آشنا کو۔ اور اگر اسے ناجائز حمل ہو تو غیر کا بچہ الگ گلے پڑا۔ یہ سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ اپنی بیبیوں کو (زنا کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز اپنے (ہی دعوے کے) اور کوئی گواہ نہ ہوں (جو عدد میں چار ہونے ضروری ہیں) تو ان کی شہادت (جو کہ دافع حبس یا حد قذف ہو) یہی ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ بیشک میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر خدا کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں اور (اس کے بعد) اس عورت سے سزا (یعنی حبس یا حد زنا) اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ قسم کھا کر کہے کہ بیشک یہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر خدا کا غضب ہو اگر یہ مرد سچا ہو (اس طریق سے دونوں میاں بیوی سزائے دنیوی سے بچ سکتے ہیں البتہ وہ عورت اس مرد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
6-9
والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھدآء الا انفسھم فشھاۃ احدھم اربع شھدت باللہ انہ لمن الصدقین والخامسۃ ان لعنۃ اللہ علیہ ان کان من الکذبین ویدروئو اعنھا العذاب ان تشھد اربع شھدت باللہ لمن الکذبین والخامۃ ان غضب اللہ علیھآ ان کان من الصدقین
لعان کا ضابطہ
اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کی ذات کے سوا اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو اس صورت میں معاملہ کا فیصلہ قسم سے ہوگا۔ اس کو اصطلاح شریعت میں لعان کہتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہوگی کہ مرد چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے گا کہ میں جو الزام لگا رہا ہوں اس میں سچا ہوں۔ پانچویں بار یہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹ الزام لگا رہا ہو تو اس…
Read the full tafseer →9-1یعنی اگر خاوند کے جواب میں بیوی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے (اور میں جھوٹی ہوں) تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ تو اس صورت میں وہ زنا کی سزا سے بچ جائی گی اس کے بعد ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی۔ اسے لعان اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں دونوں ہی اپنے آپ کو جھوٹا ہونے کی صورت میں مستحق لعنت قرار دیتے ہیں، نبی ﷺ کے زمانے میں ایسے بعض واقعات پیش آئے، جن کی تفصیل احادیث میں موجود ہے، وہی واقعات ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
7: اگر کوئی شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اوپر جو قاعدہ بیان کیا گیا ہے، اس کی رو سے اگر وہ چار گواہ نہ لاسکے تو اس پر بھی اسی کوڑوں کی سزا لاگو ہونی چاہیے تھی، لیکن میاں بیوی کے تعلقات کی خصوصی نوعیت کی وجہ سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک الگ خصوصی طریقہ کار مقرر فرمایا ہے جسے اصطلاح میں لعان کہا جاتا ہے۔ یہ طریق کار ان آیات میں بیان ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کو قاضی ان الفاظ میں پانچ پانچ قسمیں کھانے کو کہے گا جو ان آیتوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ اور اس سے پہلے دونوں کو یہ ترغیب دے گا کہ آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے زیادہ سخت ہے، اس لیے جھوٹی قسم کھانے کے بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
1 یعنی جو اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اولاً اس سے چار گواہ طلب کیے جائیں گے، اگر پیش کر دے تو عورت پر حد زنا جاری کردی جائے گی۔ اگر گواہ نہ لاسکا تو اس کو کہا جائے گا کہ چار مرتبہ قسم کھا کر بیان کرے کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے (یعنی جو تہمت اپنی بیوی پر لگائی ہے اس میں جھوٹ نہیں بولا) گویا چار گواہوں کی جگہ خود اس کی یہ چار حلفیہ شہادتیں ہوئیں اور آخر میں پانچویں مرتبہ یہ الفاظ کہنے ہوں گے کہ " اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت اور پھٹکار " اگر الفاظ مذکورہ بالا کہنے سے انکار کرے تو حبس کا کیا جائے گا اور حاکم اس کو مجبور کرے گا کہ یا اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرے، تو حد…
Read the full tafseer →آیت 9 وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ”
اگر شوہر چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر الزام میں اپنی سچائی کی گواہی دے دے اور پانچویں دفعہ یہ بھی کہہ دے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو تو اس کی طرف سے چار گواہ پیش کرنے کا قانونی تقاضا پورا ہوگیا۔ اس کے بعد متعلقہ عورت کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اگر وہ اس الزام کو تسلیم کرلے یا خاموش رہے تو اس پر حد جاری کردی جائے گی ‘ لیکن اگر وہ اس سے انکار کرے تو اسے بھی اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اس کا شوہر جھوٹ بول رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اگر وہ اپنے الزام میں سچا ہو تو…
Read the full tafseer →10 آیت نمبر 6 سے آیت نمبر 9 تک کی وضاحت کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی بیوی (خوا بنت عاصم) کو شریک بن سخماء سے متہم کیا۔ آپ نے ہلال سے فرمایا : ( چار) گواہ لاؤ وفنہ تمہاری پشت پر حد قذف پڑے گی ہلال نے جواب دیا : یارسول اللہ !~ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی سے بدکاری کرتے دیکھے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈھتا پھرے ؟ (یہ تو بہت مشکل ہے) لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ ورنہ حد پڑے گی ہلال کہنے لگے : اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے، میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے متلعق کوئی ایسا حکم نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
14۔ یعنی عورت بھی اگر اسی طرح پانچ بار حلفی شہادت مرد کی تکذیب میں دے تو حد زنا سے تو بچ جائے گی۔ البتہ اس مرد پر حرام ہوجائے گی، قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔ اور پھر تجدید نکاح بھی ہوسکے گی، جب تک دونوں میں ایک اپنی خطا کا قائل اور دوسرے کا مصدق نہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور (اس کے احکام) کو مقرر کیا ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ (مشدد سے اشارہ کثرت احکام کی طرف ہے) اس لئے کہ اس سورت میں احکام کثرت سے ہیں اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف احکام نازل کئے ہیں جو کہ واضح الدلالت ہیں تاکہ تم یاد رکھو تاثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد جو کہ شادی شدہ نہ ہو، اس لئے کہ شادی شدی مرد عورت کیلئے رجم ثابت ہے، اور الف لام (الزانیۃ اور الزانی) میں موصولہ (بمعنی الذی ہے) اور وہ مبتدا ہے اور اس کے مشابہ بالشرط ہونے کی وجہ سے اس پر فا…
Read the full tafseer →والخامسۃ ان غضب اللہ علیہا ان کان من الصدقین۔ اور پانچویں یہ کہ اللہ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہے۔ العذاب سے مراد ہے حد زنا جس طرح آیت (فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلٰی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَاب) ِمیں العذاب سے حد زنا مراد ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ہلال کی بیوی سے فرمایا تھا وَاِنَّ عَذَاب اللّٰہِ اَشَدُّ مِنْ عَذَاب النَّاسِاللہ کا عذاب لوگوں کے عذاب یعنی حد زنا سے زیادہ سخت ہے۔
لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ یہ شخص جو زنا کی تہمت مجھ پر لگا رہا ہے یا اپنا بچہ ہونے کا انکار کر رہا ہے ان دونوں باتوں میں یہ جھوٹا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پہلی بات میں جھوٹا ہے یا یہ مراد ہے کہ دوسری…
Read the full tafseer →(9) اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہوا اگر میرا خاوند سچا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ۔۔ : حد قذف کی آیات نازل ہونے کے بعد یہ مسئلہ پیش آیا کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ کیا کرے۔ سب سے پہلے سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فرضی طور پر اس کے متعلق پوچھا، کہنے لگے : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِيْ رَجُلاً ، أَ أُمْھِلُہُ حَتّٰی آتِيَ بِأَرْبَعَۃِ شُھَدَاءَ ؟ قَالَ نَعَمْ) [ مسلم، کتاب اللعان : 15؍1498 ] ”یا رسول اللہ ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پاؤں تو کیا اسے چار گواہ لانے تک مہلت دوں ؟“ آپ نے فرمایا : ”ہاں !“ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
آیت نمبر 11-22 ۔
اس میں اٹھائیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ان الذین جائو بالافک عصبۃ منکم، عصبۃ انکی خبر ہے۔ اور حال کی بناء پر اس کو نصب دینا جائز ہے۔ اور خبر لکل امری منھم ماکتسب من الاثم ہوگی۔ امام بخاری نے اسے تعلیقا نقل کیا ہے اور اس کی حدیث اتم ہے۔ انہوں نے ام رومان حضرت عائشہ ؓ کی والدہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ام رومان نے فرمایا جب حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی گئی تو وہ غش کھاکر گرپڑیں۔ ام رومان حضرت عائشہ کی والدہ نے فرمایا : میں اور حضرت عائشہ ؓ بیٹھی ہوئی تھیں اچانک انصار کی ایک عورت داخل ہوئی اور کہا اللہ فلاں کے ساتھ ایسا کرے، اللہ فلاں کیساتھ ایسا کرے۔ ام رومان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عاصم بن عدی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت آیت ” والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتوا باربعۃ شہداء “ نازل ہوئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہاں تک کہ ہم چار گواہوں کو لے آئیں تو اتنے میں وہ آدمی نکل بھاگے گا میں تھوڑے دن ہی ٹھہرا تھا اچانک میرے چچا کا بیٹا اس کے ساتھ اس کی بیوی اور اس عورت کے ساتھ اس کا ایک بیٹا تھا اور وہ کہہ رہی تھی یہ تیرا بیٹا ہے اور بھتیجا کہہ رہا تھا یہ مجھ سے نہیں ہے تو آیت لعان نازل ہوئی عاصم نے فرمایا میں پہلا آدمی ہوں جس نے اس بارے میں بات کی اور میں پہلا آدمی ہوں جو اس کے ذریعہ مبتلا ہوا۔
زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہ ضروری ہیں
2۔ احمد…
Read the full tafseer →وَالْخَامِسَةَ [ اور پانچویں بار ] اَنَّ [ یہ کہ ] غَضَبَ اللّٰهِ [ اللہ کا غضب ہو ] عَلَيْهَآ [ اس پر ] اِنْ [ اگر ] كَانَ [ وہ ہو ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں میں سے ]
خ م س :
) ن ۔ ض) خمسا کسی چیز کا پانچواں حصہ لینا۔
خمسۃ اسم عدد ہے مذکر کے لئے۔ مؤنث کے لئے خمس۔ پانچ۔ وَيَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ (اور کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے) 18/22 ۔
خمسون پچاس۔ فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا ۭ (تو وہ رہے ان میں ہزار برس مگر پچاس سال) 29/14
خمس کسی چیز کا پانچواں حصہ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
جو لوگ اپنی بیویوں کی تہمت لگائیں ان کے لیے لعان کا حکم
کوئی مرد عورت کو زنا کی تہمت لگا دے اور اپنی بات کے سچا ثابت کرنے کے لیے چار گواہ پیش نہ کرسکے تو اس تہمت لگانے والے پر حد قذف جاری ہوگی یعنی اسے اسی کوڑے لگائے جائیں گے (جس کی تفصیل اوپر گزری) لیکن اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے بارے میں یوں کہے کہ اس نے زنا کیا ہے اور عورت اس کو جھٹلائے اور شوہر کے پاس چار گواہ نہیں ہیں تو گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کو حدقذف نہیں لگائی جائے گی بلکہ امیر المومنین یا قاضی شوہر سے کہے گا کہ تو لعان کر یا یہ اقرار کر کہ تو نے جھوٹی تہمت لگائی ہے اگر وہ دونوں میں سے کسی بات پر راضی نہ ہو تو قاضی اسے بند کر دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
حکم چہارم لعان
قال اللہ تعالیٰ والذین یرمون ازواجہم۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم۔
(ربط) پہلی آیت میں اجنبی عورتوں پر تہمت لگانے کا حکم بیان فرمایا تھا، اب ان آیات میں اپنی بیوی پر تہمت لگانے کا حکم بیان کرتے ہیں۔ جس کو اصطلاح شریعت میں لعان کہتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ اپنی منکوحہ بیوی پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز ان کی ذات کے اور کوئی گواہ نہ ہوں۔ جس کے لئے چار عدد گواہوں کا ہونا ضروری ہے تو ایسے شخص کی شہادت جو اس کو حد قذف اور سزاء حبس سے بچا لے یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ شہادت دے کہ وہ بلاشبہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار وہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8:۔ ” و یدرء عنھا الخ “: ” ان تشھد میں اَنْ مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مصدر یدرء کا فاعل ہے اور العذاب سے حد زنا مراد ہے یعنی اگر عورت بھی بطریق ذیل لعان کرے تو اس سے حد زنا ساقط ہوجائے گی پہلے چار بار خدا کی قسم کھا کر کہے کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے اور پانچویں بار یوں کہے کہ اگر اس کا خاوند اپنے دعوی میں سچا ہو تو اس (مراد بیوی) پر خدا کا غضب نازل ہو جب خاوند بیوی دونوں بطریق بالا لعان کرلیں تو ان دونوں کے درمیان زوجیت کے حقوق ختم ہوجائیں گے اور قاضی کی تفریق سے ان کے درمیان طلاق بائن واقع ہوجائے گی (روح و مدارک) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ربط آیات :
سورۃ ہذا کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے زنا ، فحاشی اور بدکاری وغیرہ سے متعلق تین قوانین کا ذکر کیا ہے۔ اس سے پہلے حد زنا اور حد قذف کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور آج کے درس میں لعان کا بیان آرہا ہے۔ پہلے حد زنا بیان ہوئی تھی جس کے مطابق غیر شادی شدہ زنا کار مرد یا عورت کو سوکوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ، شادی شدہ محصن کی سزا کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔…البتہ سنت میں ایسے مرد یا عورت کی سزا سنگساری مقرر کی گئی ہے اور خود حضور ﷺ کے زمانے میں اس سزا پر عمل درآمد ہوا۔ یہ سزا سرعام دینے کا حکم ہے تاکہ تمام لوگوں کو اس قبیح جرم کے مرتکب کا پتہ چل جائے اور انہیں عبرت حاصل ہو۔ پھر حد قذف کے متعلق…
Read the full tafseer →وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللہِ عَلَيْہَآ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 9
غضب
الغَضَبُ : ثوران دم القلب إرادة الانتقام، ولذلک قال عليه السلام : «اتّقوا الغَضَبَ فإنّه جمرة توقد في قلب ابن آدم، ألم تروا إلى انتفاخ أوداجه وحمرة عينيه» «2» ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به فالمراد به الانتقام دون غيره : قال فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] ، وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] ، وقال : وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] ، غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] ، وقوله : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] ، قيل :
هم اليهود «3» . والغَضْبَةُ کالصّخرة، والغَضُوبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
ترکیب :۔ والذین یرمون مبتداء فاجلدوھم بالتاویل اس کی خبر واولئک الخ جملہ مستانفہ، الا الذین ایک جماعت کے نزدیک پہلے جملوں سے استثناء ہے اور ایک جماعت کے نزدیک صرف الفاسقون سے اور موضع اس کا نصب ہے علی الاصل، الا انفسہم نعنت شہداء کی ہے یا اس سے بدل۔ فشھادۃ احدھم مصدر مضاف فاعل کی طرف متبداء والخبر فالواجب شہادۃ احد ھم اربع منصوب ہے۔ مصدر ہونے کی وجہ سے۔ اے ان یشہد احدہم اربع الخ باللہ۔
تفسیر …تہمت زنا کا حکم : بصریوں کے نزدیک شہادت سے اور کو فیوں کے نزدیک شہادۃ سے متعلق ہے یہ دوسرا حکم تہمت زنا کی بابت ہے جبکہ زنا کی قباحت اور اس کی سزا مقرر ہوئی تو کسی کو اس کے ساتھ متہم کرنے کی بھی ممانعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآئُ اِلَّآ اَنْفُسُھُمْ فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ اَرْبَعُ شَھٰدٰتٍ م بِاللّٰہِ لا اِنَّـہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍم بِاللّٰہِ لا اِنَّـہٗ لَمِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ لا وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَـآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 6 تا 10)
(اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
فہم القرآن
ربط کلام : پاکدامن عورتوں اور مردوں پر جھوٹی تہمت لگانے کی سزا کے ذکر کے بعد اپنی بیویوں پر جھوٹی تہمت لگانے والوں کی سزا اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا طریقہ۔
جس طرح عام مسلمان پاکدامن عورت اور مرد پر جھوٹی تہمت لگ سکتی ہے اسی طرح میاں بیوی کے درمیان تنازع پیدا ہوجانے کی شکل میں ان سے ایک دوسرے پر تہمت لگانے کا عمل سرزد ہوسکتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے اور انہیں غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے یہ قانون جاری کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی پر بدکاری کی تہمت لگاتا ہے اور اپنے سوا چارگواہ ثابت نہیں کرتا تو اسے چار مرتبہ ” اللہ “ کی قسم اٹھا کر شہادت دیناہو…
Read the full tafseer →9: وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَا اِنْ کَانَ (اور پانچویں مرتبہ وہ اس طرح کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو اگر ہو اس کا) خاوند۔ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (سچوں میں سے) اس بات میں جو اس نے زنا کی تہمت مجھ پر لگائی ہے۔
قراءت : الخامسۃ کو حفص نے اربع پر عطف کرتے ہوئے پڑھا اور اس کو منصوب قرار دیا جبکہ دیگر قراء نے ابتداء کی وجہ سے رفع دیا ہے اور اَنَّ غَضَبَ اللّٰہ اس کی خبر ہے اور نافع نے اَنْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ اور اَنْ غَضِبَ اللّٰہ کے اَنْ کو تخفیف کے ساتھ اور غَضِب کی ضادؔ کو کسرہ سے پڑھا اور یہ دونوں اَنْ مثقلہ کے حکم میں ہیں۔ اور اَنْ غَضَبُ اللّٰہ سھل اور یعقوب نے پڑھا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
9۔ والخامسۃ ان غضب اللہ علیھا ان کامن الصادقین۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہے جو حد کی صورت میں ہے۔ جیسا کہ سورة کے ابتداء میں اس کا حکم دیا گیا۔ ولیشھد عذابھما طائفۃ من المومنین۔ ان ونوں میں سے ایک آیت کا معنی یہ ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ لعان کرتا ہے تو بیوی پر زنا کی حد واجب ہوجاتی ہے۔ اور جب ان پر حد زنا لعان کے ذریعے سے واجب ہوتی ہے تو وہ اس کو اپنے سے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب لعان کرتا ہے تو وہ چار گواہ پیش کرتا ہے پھر وہ حاکم کے کہنے پر قسمیں اٹھاتا ہے کہ جس چیز کے بارے میں یہ مجھ پر جھوٹی تہمت لگارہا ہے میں اس سے بری ہوں اور وہ پانچویں مرتبہ یہ کہے گی کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
6۔ 10:۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ ایک صحابی تھے ‘ ان کا قصہ اس آیت کا شان نزول ہے ‘ رفع اس اختلاف کا وہی ہے ‘ جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح بخاری 3 ؎ میں بیان کیا ہے کہ دونوں قصے صحیح روایتوں میں ہیں اور ایک ہی زمانہ میں گزرے ہیں ‘ اس واسطے دونوں قصوں کو شان نزول کہنا چاہیے ‘ کیونکہ قرآن شریعت میں ایسی آیتیں بہت ہیں کہ کئی قصے ایک قسم کے گزرنے کے بعد وہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اور ان چند قصوں کا مجموعہ ان کی شان نزول ہے ‘ ہلال بن امیہ کا قصہ صحیح بخاری میں عکرمہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جو روایت کیا ہے اس کا حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(آیت نمبر (6
بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں شوہر کی چار گواہیاں اسے قذف کی حد سے بچا سکتی ہیں کیونکہ غالب حالات میں شوہر بیوی پر زنا کا بہتان نہیں لگاتا جس سے اس کی بیوی کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی شخصیت بھی عیب دار ہوتی ہے سوائے اس صورت میں کہ جب وہ الزام لگانے میں سچا ہو۔
نیز شوہر کا اس بارے میں حق ہے اور اسے اس بات کا بھی خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسی اولاد کا اس سے الحاق نہ ہوجائے جو اس کی نہیں ہے ‘ نیز اس میں بعض دیگر حکمتیں بھی ہیں جو دوسرے احکام میں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے فرمایا : (والذین یرمون ازاجھم) اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر “ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ‘ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اگر یہ کہا جائے کہ لعان تین طلاقوں اور رضاعت وغیرہ کی طرح ہے جن میں ان امور کے وجود میں آتے ہی علیحدگی ہوجاتی ہے اور اس کی صحت کے لئے حکم حاکم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ لعان ایسا سبب نہیں ہے جس کے وجود میں آتے ہی علیحدگی واقع ہوجاتی ہو اس لئے کہ اگر لعان کی یہ حیثیت ہوتی تو پھر غیر حاکم کے پاس بھی میاں بیوی کے لعان کے ساتھ ہی علیحدگی واقع ہوجانا لازم ہوجاتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر وہ سبب جس کے ساتھ فسخ کا تعلق ہوتا ہے ضروری نہیں کہ نفس سبب اس فسح کا موجب بن جائے کیونکہ بعض اسباب تو ایسے ہوتے ہیں جو خود فسخ کے موجب بن جاتے ہیں لیکن بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
16 لعان والی عورت سے حدِّ زنا ٹالنے کا طریقہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ عورت اپنے آپ سے سزا کو اس طرح ٹال سکتی ہے کہ وہ یوں کہے۔ یعنی حد زنا کی سزا جو کہ خاوند کے الزام اور اس کی ان قسموں کی بناء پر اس کو لگنا تھی۔ اور جب بیوی بھی اس طرح قسمیں اٹھا لے گی تو ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے تفریق اور علیحدگی و جدائی ہوجائے گی اور اس کے بعد یہ دونوں کبھی بھی آپس میں رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہو سکیں گے۔ آگے اس جدائی اور تفریق کے بارے میں بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ باہمی لعان کے نتیجے میں یہ تفریق و جدائی خود بخود واقع ہوجائے گی۔ جبکہ دوسرے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ اس کے بعد خاوند کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
زنا، اس کی سزا اور لعان کا حکم
تشریح : سب سے پہلے تو زنا کی تعریف کردی گئی۔ کئی گناہ انسان زندگی میں کرتا ہے مگر یہ گناہ اس قدر بڑا اورا نسانی سوسائٹی کے لیے مضر اور نقصان دہ ہے کہ اس کو شرک کے برابر کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام حدود کو توڑ دیتا ہے جو تہذیب و تمدن ‘ مذہب اور اخلاقیات اور انسانیت کی عظمت کے لیے ہر مذہب اور معاشرے میں مقرر کی گئی ہیں۔ البتہ موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ان حدود کو توڑ رہا ہے تو ان کے اندر جو انتشار ‘ بےچینی ‘ بےراہروی ‘ بد نظمی اور بےقاعدگی پیدا ہو رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ لوگ جب بھی اسلامی نظام کی اس خوبی سے بندھے ہوئے خاندانی ربط ‘ ضبط اور سکون کو دیکھتے ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة النور :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور شرمگاہوں کی حفاظت نیز عفت و پاکدامنی کا ذکر جب چلا تو اس کے خلاف کرنے پر اسلام نے سز امقرر فرما دی ، اسلام نے بھی قاضی اور جج کے لیے موقع کی مناسبت شہادت اور قرائن یا اقبال و انکار جرم وغیرھا چیزوں پر غور کرکے انسداد جرائم کے لیے سزا تجویز کرنے کا موقع رکھا ہے کہ سزا سے مراد معاشرہ کی اصلاح اور خود مجرم کی اصلاح بھی ہے اور قاضی کی تجویز کردہ سزا کو اصطلاح میں تعزیر کہا جاتا ہے مگر چار باتوں پہ جج کو سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں صرف شہادت لے کر واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ دے گا سزا اللہ جل جلالہ نے خود مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
3 ۔ جب اوپر کی آیت میں حد قذف نازل ہوئی تو اس کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو اس کا کیا حکم ہوگا۔ چناچہ یہ سوال سعد بن عبادہ نے ایک فرضی سوال کی حیثیت سے آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ (بخاری، مسلم) مگر جلدی ہی ہلال ؓ بن امیہ کا واقعہ پیش آگیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بیوی کے متعلق بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس کو زنا کرتے دیکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” چار گواہ لائو ورنہ حد قذف تم پر جاری کی جائے گی۔ “ اس پر یہ چار آیتیں نازل ہوئیں اور آنحضرت ﷺ نے ان آیات کے مطابق تصفیہ…لعان… کے لئے ہلال ؓ اور ان…
Read the full tafseer →(24:9) والخامسۃ اس کا عطف اربع شھدت پر ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 10 :
یرمون (تہمت لگاتے ہیں۔ الزام لگاتے ہیں) ‘ شھدائ (شھید) گواہ ‘ اربع (چار) ‘ لعنۃ ( پھٹکار۔ اللہ کی رحمت سے دوری) ‘ یدرئوا (دور کرتا ہے۔ ہٹادیتا ہے) ‘ فضل اللہ (اللہ کا فضل و کرم) ‘ تو اب (بہت توبہ قبول کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 4 تا 10 :
دین اسلام ایک ایسے پاکیزہ ‘ صاف ستھرے اور صالح معاشرہ کا تصور دیتا ہے جس میں ہر شخص ایک دوسرے پر اعتماد اور آپس کی عزت و آبرہ کا محافظ ہو۔ کوئی کسی پر بےبنیاد الزام لگا کر اپنی آخرت کو اور اسلامی معاشرہ کے سکون کو برباد نہ کرے اور روحانی ‘ اخلاقی ‘ اور جسمانی اعتبار سے وہ ایک مضبوط ترین معاشرہ بن جائے۔ اگر کوئی شخص کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(ف 2) شان نزول :۔
جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ کے روبرو ہلال بن امیہ نے اپنی بی بی کی بدکاری کی شکایت کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس شکایت کے ثبوت میں تم کو چار گواہ پیش کرنے پڑیں گے ورنہ تمہاری پیٹھ پر جھوٹی تہمت کے جرم میں اسی کوڑے پڑیں گے ہلال بن امیہ نے کہا کہ ایسے موقع پر گواہ کہاں پیدا ہوسکتے ہیں۔ مجھ کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل فرما کر میرے سچ پر ظاہر کردے گا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جس میں میاں بی بی کی قسم پر فیصلہ ہے اور فرمایا کہ گر تم پر اللہ کا فض اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم بڑی مضرتوں میں پڑجاتے، اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرنے والا حکمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[9] یعنی عورت بھی اگر اس طرح پانچ مرتبہ شہادت شوہر کی تکذیب میں دے تو زنا کی سزا سے تو بچ جائے گی لیکن اس مرد پر حرام ہوجائے گی اور قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
عفیفہ عورت کو متہم کرنے کی سزا :
(ف 1) ایک طرف قرآن نے زانی کی سزا اس قدر کڑی رکھی ہے کہ موجودہ مذاق کے لوگ اس کو تکلیف مالایطاق قرار دیتے ہیں ، اور دوسری طرف چار گواہوں کی شہادت ضروری بتائی ہے جن کا مہیا ہونا شاذو نادر ہی ہوسکتا ہے ، اس میں کیا حکمت ہے ؟ یہ ایک سوال ہے جو طبعا پیدا ہوتا ہے ۔
جواب یہ ہے کہ سزا اس لئے کڑی رکھی ہے ، تاکہ اس خبیث مرض کا کلیۃ انسداد ہوجائے ، چناچہ آپ عہد نبوی ﷺ میں دیکھئے گا کہ زنا کے واقعات دو تین سے زیادہ نہیں ملیں گے اور اس دور تہذیب جدید میں شاہد ہی چند آدمی ایسے مل سکیں ، جنہیں صحیح معنوں میں عفیف کہا جاسکتا ہے ۔
یہ ہیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا ۔
چار شاہدوں…
Read the full tafseer →(9) اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اگر یہ مرد سچا ہے اور اس نے سچی قسم کھائی ہے تو اس عورت پر یعنی مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب واقع ہو زنا کی حد کے قانون میں جو مشکل درپیش تھی اس کا حل لعان کا حکم بیان کرکے ظاہر کردیا۔ یعنی مشکل یہ پیش آئی کہ کوئی غیر عورت بدکار ہو اور اس کی بدکاری کے ثبوت کے لئے چار گواہ میسر نہ آئیں تو نظر انداز کردیا جائے لیکن اپنی رفیقہ حیات کی بدکاری کس طرح برداشت کی جائے۔ صبر کرے تو سخت کوفت کا سامنا دعویٰ کرے اور چار گواہ نہ لائے تو اسی 80 کوڑے لگائے جائیں لیکن لعان نے اس مشکل کو حل کردیں۔
لعان کی قسمیں اس وقت ہوتی ہیں جب خاوند اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا اس کی عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 7۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ ضرور مغفرت کرنے والا رحمت کرنے والا ہے، اور اس لئے فسق کی وجہ سے جو استحقاق عذاب آخرت کا ہوا تھا، وہ مرتفع ہوجاوے گا، گو رد شہادت جو کہ تتمہ تھا حد کا پھر بھی باقی رہے، کیونکہ توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →پانچویں بار وہ قسم کھائے گی کہ اگر یہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو :
15۔ چار بار قسمیں کھالینے کے بعد وہ پانچویں بار اس طرح قسم کھائے کی کہ ” اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ سچوں میں سے ہو “ یعنی اس قسم کے کھانے میں اگر میں جھوٹی ہوں اور میرا خاوند سچا ہے تو مجھ پر اللہ کی لعنت پڑے ۔ اس پر عورت بھی اگر اسی طرح پانچویں قسمیں کھالے تو وہ عذاب یعنی اس سزا سے بچ جائے گی جو اس جرم کے لئے بتائی جا چکی ہے یعنی سو کوڑے اور ایک سال تک کی قید ، اب دونوں میں سے سزا تو کسی کو بھی نہ ہوئی تو اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ اس کا نتیجہ فریقین کے درمیان جدائی ہے جب لعان کی قسمیں دونوں طرف سے ہوگئیں تو اب عورت کو مرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
Commentary
The fourth injunction is of Li'an (لِعَان : curse) among the adjuncts of fornication
The meaning of لِعَان and is to curse and praying for Allah's wrath on each other. Certain specific types of oaths between husband and wife with special connotation are called Li` an (لِعَان) in Islamic law. When a husband accuses his wife of adultery or refuses to own his child as being legitimate, and his wife refutes his allegation to be false, and claims for the punishment of false accusation (قَذَف) of eighty stripes to be awarded to him, then the husband will be asked to produce four…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
7. These verses were revealed some time after the preceding verses. The law of qazf prescribed the punishment for the person who accused the other man or woman of zina, and did not produce witnesses to prove his charge, but the question naturally arose, what should a man do if he finds his own wife involved in zina? If he kills her, he will be guilty of murder and punishable. If he goes to get witnesses, the offender might escape. If he tries to ignore the matter, he cannot do so for long. He can, of course, divorce the woman, but in this case there will be no moral or physical punishment…
Read the full tafseer →