الٓمّٓ ۟ۚالٓمّٓۚ
الم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Alif, Lam, Meem.
— Saheeh International
Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
The Cow · Medinan · 286 ayahs · 40 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓ ۟ۚالٓمّٓۚ
الم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Alif, Lam, Meem.
— Saheeh International
Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Baqara
الف لام میم
الم
الف لام میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
الۤ م ۤ۔
الف، لام، میم
یہ الف، لام، میم ہے
الم
الف الام میم
(الم) ا۔ ل۔ م۔
الم
Alif. Lam. Mim.
Alif. Lam. Mim .
Alif. Lam. Mim .
Alif Lam Mim.
Alif. Lam. Mim.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Alif, Lam, Meem.
Alif. Lam. Mim.
Alif Lam Mim.
Alif. Lam Mim
حروف مقطعات اور ان کے معنی الم جیسے حروف مقطعات ہیں جو سورتوں کے اول میں آئے ہیں ان کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض تو کہتے ہیں ان کے معنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں اور کسی کو معلوم نہیں۔ اس لئے وہ ان حروف کی کوئی تفسیر نہیں کرتے۔ قرطبی نے حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابن مسعود ؓ سے ہی نقل کیا ہے۔ عامر، شعبی، سفیان ثوری، ربیع بن خیثم رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں ابو حاتم بن حبان کو بھی اسی سے اتفاق ہے بعض لوگ ان حروف کی تفسیر بھی کرتے ہیں لیکن ان کی تفسیر میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں یہ سورتوں کے نام ہیں۔ علامہ ابو القاسم محمود بن…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 1 یہ حُرُوفِ مُقَطعَات قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں پائے جاتے ہیں۔ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس دور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حُرُوفِ مُقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا۔ خطیب اور شعراء دونوں اس اُسْلوب سے کام لیتے تھے۔ چناچہ اب بھی کلام جاہلیّت کے جو نمونے محفوظ ہیں ان میں اس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مقطعات کوئی چیستاں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی ﷺ کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی نے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بےمعنی…
Read the full tafseer →سورة البقرہ نام اور تعداد آیات اس سورت کا نام سورة بقرہ ہے اور اسی نام سے حدیث اور آثار صحابہ میں اس کا ذکر موجود ہے جس روایت میں سورة بقرہ کہنے کو منع کیا ہے وہ صحیح نہیں (ابن کثیر) تعداد آیات دو سو چھیاسی ہے اور کلمات چھ ہزار دو سو اکیس اور حروف پچیس ہزار پانسو ہیں (ابن کثیر) زمانہ نزول یہ سورت مدنی ہے، یعنی ہجرت مدینہ طیبہ کے بعد نازل ہوئی اگرچہ اس کی بعض آیات مکہ مکرمہ میں حج کے وقت نازل ہوئی ہیں مگر وہ بھی باصطلاح مفسرین مدنی کہلاتی ہیں، سورة بقرہ قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت اور مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے اس کا نزول شروع ہوا اور مختلف زمانوں میں مختلف آیتیں نازل ہوتی رہیں یہاں تک کہ ربا…
Read the full tafseer →الٓمّٓ: یہ ایک مستقل جملہ ہے۔ عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق یہاں مبتدا محذوف ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے تو پوری بات یوں ہو گی۔ ھٰذہ الٓمّٓ، (یہ الف، لام، میم ہے) ہم نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔ یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔ یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور…
Read the full tafseer →1 الف لام میم انہیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے، یعنی علیحدہ علیحدہ پڑھے جانے والے حروف ان کے معنی کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے (وَاللّہ العالِمُ بمرادہ) البتہ نبی ﷺ نے یہ ضرور فرمایا ہے میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، میم ایک حرف اور لام ایک حرف ہر حرف پر ایک نیکی اور ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے۔
Read the full tafseer →1) مختلف سورتوں کے شروع میں یہ حروف اسی طرح الگ الگ نازل ہوئے تھے، ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا ایک راز ہے جس کی تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں اور عقیدے یا عمل کا کوئی مسئلہ ان کے سمجھنے پر موقوف نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ،…
Read the full tafseer →1 ان حروف کو مقطعات کہتے ہیں ان کے اصلی معنی تک اوروں کی رسائی نہیں۔ بلکہ یہ بھید ہے اللہ اور رسول کے درمیان جو بوجہ مصلحت و حکمت ظاہر نہیں فرمایا۔ اور بعض اکابر سے جو ان کے معنی منقول ہیں اس سے صرف تمثیل و تنبیہ و تسہیل مقصود ہے۔ یہ نہیں کہ مراد حق تعالیٰ یہ ہے۔ تو اب اس کو رائے شخصی کہہ کر تغلیط کرنا محض شخصی رائے ہے جو تحقیق علماء کے بالکل خلاف ہے۔
Read the full tafseer →یہ حروف مقطعاتّ ہیں جن کے بارے میں یہ جان لیجیے کہ ان کے حقیقی ‘ حتمی اور یقینی مفہوم کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ اور اس کے رسول کے۔ یہ ایک راز ہے اللہ اور اس کے رسول کے مابین۔ حروف مقطعات کے بارے میں اگرچہ بہت سی آراء ظاہر کی گئی ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی شے رسول اللہ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ یہ بات ثابت ہے کہ اس طرح کے حروف مقطعات کا کلام میں استعمال عرب میں معروف تھا ‘ اس لیے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔ قرآن مجید کی 114 میں سے 29 سورتیں ایسی ہیں جن کا آغاز حروف مقطعات سے ہوا ہے۔ سورة قٓ‘ سورة القلم اور سورة صٓ کے آغاز میں ایک ایک حرف ہے۔ حٰمٓ‘ طٰہٰ اور یٰسٓ دو دو حرف ہیں۔ ا ل م اور ا ل…
Read the full tafseer →1 فضائل سورة البقرۃ :۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورة البقرہ پڑھی جائے، شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے۔ (مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین و قصرھا، باب استحباب الصلوۃ النافلۃ فی بیتہ۔۔ الخ) نیز آپ نے فرمایا : الزھراوین (دو جگمگانے والی سورتیں یعنی البقرہ اور آل عمران) پڑھا کرو۔ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان یا پرندوں کے دو جھنڈ ہیں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے (مغفرت کے لیے) جھگڑا کریں گی (لہٰذا) سورة البقرہ پڑھا کرو۔ اسے حاصل کرنا برکت اور چھوڑ دینا حسرت ہے اور باطل قوتیں (جادو وغیرہ) اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ (مسلم، کتاب فضائل القرآن و مایتعلق بہ باب…
Read the full tafseer →4 الم یہ حروف پڑھنے میں پوری پوری آواز کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اردو رسم الخط میں ظاہر بھی کردیا گیا ہے۔ اور یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ صحابی اور بعض تابعین کا قول ہے کہ الم مخفف اور قائمقام ہے پورے فقرہ انا اللہ اعلم کا (ابن جریر) زجاج لغوی نے یہی قول اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ حروف مقطعات میں سے ہر حرف کسی متعین معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ” عربی شاعری “ سے اس کی مثالیں پیش کی ہیں (قرطبی) بعض نے کہا ہے کہ یہ سورت کا نام ہے۔ اکثر متکلمین اور خلیل نحوی اور سیبویہ نحوی اسی طرف گئے ہیں۔ انھا اسماء السور وھو قول اکثر المتکلمین واختیار الخلیل وسیبویہ (کبیر) بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اَلمّ اللہ ہی اس سے اپنی مراد کو بہتر جانتا ہے، یہ کتاب ہے جس کو محمد ﷺ پڑھتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ منجانب اللہ ہے اور جملہ (یعنی لَا رَیْبَ فِیْہِ ) خبر ہے جس کا مبتداء ذٰلِکَ ہے اور اسم بعید کا استعمال بیان تعظیم کے لئے ہے، ھُدًی خبر ثانی ہے اور معنی میں ھَادٍ کے ہے، متقیوں کے لئے رہنما ہے (یعنی) امتثال اوامر اور اجتناب نواہی کے ذریعہ تقویٰ کی رغبت رکھنے والے ہیں، (اس امتثال واجتناب) ہی کی بدولت نار جہنم سے بچنے کی وجہ سے ان کو متقی کہا گیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو مغیبات پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی ان چیزوں کی جو ان سے مخفی ہیں مثلاً بعث بعد الموت، جنت اور نار کی تصدیق کرتے ہیں اور نماز…
Read the full tafseer →الۗمّۗ۔ قرآن مجید کی بعض سورتوں کی ابتداء میں جو حروف مقطعات ( جستہ جستہ) آتے ہیں ان کی تحقیق میں علماء مفسرین کی مختلف آراء اور متعدد اقوال ہیں۔ بعضے کہتے ہیں ان سورتوں کے نام ہیں جن کی ابتداء میں یہ واقع ہوئے ہیں اور بعض کہتے ہیں ان سے ایک کلام کے منقطع ہونے اور دوسرے کلام کے شروع ہونے پر مزید تنبیہ مقصود ہوا کرتی ہے۔ (یعنی حروف مقطعہ سے واضع کی اصلی غرض یہ ہے کہ وہ ایک کلام کے انقطاع اور دوسرے کلام کے از سر نو شروع ہونے پر دلالت کریں) کچھ لوگوں کا بیان ہے کہ حروف مقطعہ سے ان کلمات کی طرف اشارہ ہے جن کے شروع میں یہ حروف واقع ہیں جیسا کہ عرب کے ایک نامور اور مشہور شاعر کا قول ہے فَقُلْتُ…
Read the full tafseer →شان نزول : (آیت) ”الم (1) ذلک الکتاب لا ریب فیہ“۔ ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی پہلی چار آیات مومنوں سے بارے میں اتری ہیں، اور اس کے بعد کی دو آیتیں کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور تیرہ آیات منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) (1) الم (ال م) کے بارے میں عبداللہ بن مبارک، علی بن اسحاق سمرقندی، محمد بن مروان، کلبی، ابوصالح کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ الف سے اللہ، لام سے جبریل اور میم سے محمد ﷺ مراد ہیں، دوم : الف سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، لام سے اس کا لطف، میم سے اس کا ملک وبادشاہت مراد ہے، سوم : الف…
Read the full tafseer →الۗمّ : کچھ سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں انھیں مقطعات کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں، ان کا معنی تو صاف ظاہر ہے کہ یہ حروف تہجی کے نام ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن مجید میں ایسے الفاظ بھی ہیں جن کا کوئی معنی ہی نہیں، مگر یہ حروف سورتوں کے شروع میں کیوں لائے گئے ہیں، اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے صحیح سند کے ساتھ کوئی بات منقول نہیں۔ قرطبی ؓ نے خلفائے اربعہ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ حروف سر الٰہی ہیں جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، مگر اس کی سند نہ قرطبی نے ذکر کی ہے نہ کہیں اور مل سکی ہے۔ عبداللہ بن عباس اور بعض تابعین سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آیت نمبر 1 تا 2 علماء تاویل کا ان حروف کا مفہوم متعین کرنے میں اختلاف ہے جو سورتوں کی ابتدا میں ہیں۔ عامر شعبی، سفیان ثوری اور محدثین کی ایک جماعت نے کہا : یہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے راز ہیں (1) اور اللہ کی کتب میں سے ہر کتاب میں اس کے راز ہیں یہ ان متشابہات میں سے ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور ان کے متعلق گفتگو کرنا واجب نہیں لیکن ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح آئے ہیں۔ یہ قول حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے۔ ابو لیث سمر قندی نے حضرت عمر، حضرت عثمان اور ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : حروف مقطعہ…
Read the full tafseer →(1) امام وکیع اور عبد بن حمید نے ابو عبد الرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ وہ الم اور حم کو ایک آیت شمار کرتے تھے۔ (2) بخاری نے تاریخ میں ترمذی (انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے) ابن الضریس، محمد بن نصر اور ابن الانباری نے المصاحف میں حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) ابن مردویہ، ابوذر الہروی نے فضائل میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس کے برابر ہے۔ میں نہیں کہتا ہے لفظ آیت الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے۔ اور میم ایک حرف ہے۔ (3) امام سعید بن…
Read the full tafseer →[ الٓـمٓ : الف لام میم ]
Read the full tafseer →حروف مقطعات کی بحث الم : یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات انتیس سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور وہ یہ ہیں : ا ل م۔ ا ل ر ۔ ا آمآآ۔ ا آمآرٰ ۔ حٰآ۔ حٰآآآآ۔ کھٰیٰعٓصٓ۔ طٰسٓ۔ طٰسٓمّٓ۔ طٰہٰ ۔ یٰسٓ۔ صٓ۔ قٓ۔ نٓ۔ ان میں ا ل م ر چھ جگہ ہے۔ اور ا ل ر پانچ جگہ ہے اور حٰمٓ چھ جگہ ہے اور طٰسٓمّٓ دو جگہ ہے۔ اور ان کے علاوہ باقی سب ایک ایک جگہ ہیں۔ کیونکہ یہ متشابہات میں سے ہیں۔ اس لیے مفسرین ان کے سامنے یوں لکھ دیتے ہیں۔ اللّٰہ اعلم بمرادہ بذلک۔ (اللہ کو اس کا معنی معلوم ہے) بہت سے اکابر جن میں خلفاء اربعہ اور ابن مسعود ؓ بھی ہیں ان کا موقف یہی ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ بعض حضرات نے ان کے…
Read the full tafseer →اس قسم کے حروف جو سورتوں کے ابتداء میں ذکر کیے جاتے ہیں ان کو " حروف مقطعات " کہتے ہیں اس لیے کہ یہ کلمات حروف تہجی کی طرح جدا جدا پڑھے جاتے ہیں اس لیے مقطعات (جدا جدا) کہلاتے ہیں ان کے بارے میں حضرات مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ 1 ۔ خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ ؓ اور تابعین رحمہم اللہ کے نزدیک یہ حروف متشابہات میں سے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ان کی مراد معلوم نہیں۔ کما قال تعالیٰ ۔ وما یعلم تاویلہ الا اللہ : ان متشابہات کی حقیقت سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں 2 ۔ بعض سلف اور جمہور متکلمین اور خلیل اور سیبویہ کے نزدیک حروف مقطعات ان سورتوں کے نام ہیں جن کے شروع میں یہ مذکور ہیں جو مضامین…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں جو قرآن مجید کی انیس سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں۔ مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے ان سورتوں کی ابتداء میں ذکر کرنے کی حکمتیں، ان کے ظاہری معانی اور ان کی تمثیلات بیان فرمائی ہیں۔ مفسرین کرام نے جو کچھ بیان کیا ہے اسے ان حروف مقطعات کے حقیقی معانی اور مرادات الٰہی تو نہیں کہا جاسکتا زیادہ سے زیادہ انہیں فوائد سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ حروف بےمعنی اور مہمل نہیں ہیں ان سے مراد خداوندی متعین ضرور ہیں لیکن اس کا بھید اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ ہذا علم مستور وسر محجوب استاثر اللہ تبارک وتعالیٰ بہ (تفسیر کبیر ص 227 ج 1، روح المعانی بمعناہ ص 82 ج 3) خلفائے…
Read the full tafseer →سورة کے موضوع اور نام سے پہلے قرآن کریم کی سورتوں سے متعلق چند بنیادی باتوں کا ذکر ضروری ہے ، اس کے بعد سورة بقرہ کے نام کے بارے میں کچھ بیان ہوگا۔ سورۃ اور آیت : لفظ سورة س کے ساتھ آیا ہے۔ اور اس کا معنی ہے قطعۃ من الایات یعنی آیتوں پر مشتمل ایک ٹکڑا یا حصہ۔ گویا چند یا زیادہ آیتیں مل کر ایک ٹکڑا بن جائے تو اسے سورة کہا جاتا ہے۔ کسی سورة کیلئے کم از کم تین آیات کا ہونا ضروری ہے۔ چناچہ سورة عصر ، سورة کوثر اور سورة نصر تین تین آیات پر مشتمل ہیں۔ سورة بقرہ سب سے لمبی سورة ہے۔ اور اسکی دو سو چھیاسی آیات ہیں۔ سورة کے ہر ٹکڑے کو آیت کہتے ہیں۔ جس طرح سورتیں چھوٹی بڑی ہوتی ہیں۔ اسی طرح آیتیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
رکوع نمبر 1 بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الۗمّۗ 1 ۚ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ 0ۛ فِيْہِ 0 ۛھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ 2 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي…
Read the full tafseer →سورة بقرہ یہ سورة 1 ؎ مدنی ہے یعنی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے اس کی دو سو ستاسی آیتیں ہیں اور چھ ہزار اکیس کلمات اور پانچ سو پچیس ہزار حروف اور چالیس رکوع ہیں۔ قرآن مجید کی سب سورتوں سے یہ سورة بڑی ہے اور جس قدر احکام شرعیہ اس سے مستفاد ہیں اور کسی سے نہیں۔ اس میں ایک آیت مداہنہ ہے کہ جو سب آیتوں سے بڑی ہے اور بہت سے عمدہ مضامین اور طرح طرح کی ہدایت افزا باتیں ہیں مگر چونکہ گائے کے ذبح 2 ؎ کرنے کا جو بنی اسرائیل میں واقع ہوا ہے ایک عجیب اور بہت سے مقاصد ضروریہ کی طرف اشارہ کرنے والا قصہ مذکور ہے اس لیے اس کا نام سورة بقرہ 3 ؎ ہوا اور تسمیہ میں کوئی نہ کوئی مخصوص بات ملحوظ ہونی چاہیے۔ یہ نام…
Read the full tafseer →الٓـمّٓ حروفِ مقطعات کا تعارف الٓـمّٓ بہت ساری سورتوں کے شروع میں چند حرفوں سے مرکب کچھ کلمات لائے گئے ہیں۔ جیسے الم، حم، طسم وغیرہ۔ انھیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔ اگر یہ حروف، حروف تہجی کے طور پر استعمال ہوں تو یہ معرب ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے آخر میں اعراب ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات کے طور پر آتے ہیں، تو ان کا ہر حرف آخر میں ساکن ہوتا ہے۔ مثلاً الم کو الفٌ، لامٌ اور میمٌ نہیں پڑھیں گے بلکہ الف، لام اور میم پڑھیں گے۔ اہل علم کی ان کے بارے میں مختلف آراء اور مختلف اقوال ہیں۔ ہم سب سے پہلے چند اقوال کا ذکر کرتے ہیں۔ 1 ایک قول یہ ہے کہ عربی زبان کے اٹھائیس حروف تہجی ہیں۔ جن…
Read the full tafseer →فہم القرآن ربط سورة : فاتحہ دعا ہے اور قرآن اس کا جواب، فاتحہ خلاصہ ہے اور قرآن اس کی تفصیل۔ اپنے حجم اور مضامین کے لحاظ سے یہ فرقان حمید کی سب سے بڑی سورت ہے۔ ا آآ حروف مقطعات ہیں جن کے مفسرین نے اپنی اپنی فہم و دانش کے مطابق کئی معانی لکھے اور بتلائے ہیں جن کی تفصیل مختلف تفاسیر میں موجود ہے۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں یہ سورتوں کے نام ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قسموں میں سے قسمیں ہیں۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں ” ا ل م ر “ اللہ تعالیٰ کے اسمائے اعظم میں سے ہے۔ جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ قرآن کے اعجازکا نمونہ ہیں۔ لیکن اس بات پر تمام اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
حروفِ مقطعات کی بحث : الٓمّٓ: الٓمّٓ اور اسکے ہم مثل حروف مقطعات حقیقت میں ایسے اسماء ہیں جن کے مصداق وہ حروف تہجی ہیں جن سے مل کر کلمات بنتے ہیں۔ پس الف قال کے درمیان والے حرف پر دلالت کرتا ہے۔ اور لام اسکے آخری حرف پر دلالت کررہا ہے اور ان کے مشابہہ حروف کا یہی حال ہے۔ اسمیت کے دلائل : پہلی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے ذاتی معنی پر دلالت کرتا ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ امالہ، تفخیم، تعریف وتنکیر (معرفہ ونکرہ ہونا) اسی طرح جمع اور تصغیر سے ان میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ نحوی حیثیت میں یہ معرب ہیں، البتہ ان میں سکون زَیْد وغیرہ اسماء کی طرح ہے۔ کہ اعراب کا مقتضی موجود نہ…
Read the full tafseer →تفسیر : حروف مقطعات کی بحث : (1) ” الم “ علامہ شعبی (رح) اور ایک جماعت کا قول ہے کہ الم اور بقیہ حروف ھجاء (مقطعات) جو سورتوں کے آغاز میں ہیں ۔ متشابہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص فرما دیا ہے اور یہ حروف قرآن کریم کا (خصوصی) راز ہیں ، ہم ان حروف کے ظاہر پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے اندرونی علم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں ، ان حروف کے ذکر کرنے کا فائدہ ان پر ایمان لانے کی طلب ہے ۔ حضرت سیدنا ابوبکر الصدیق فرماتے ہیں ہر کتاب میں ایک خاص راز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو راز رکھا ہے وہ سورتوں کے آغاز میں آنے والے حروف ہیں ۔ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1 ۔ 2) ۔ 1۔ 2۔ ق ن ص الم طس حم یہ سب حروف مقطعات کہلاتے ہیں ان کی تفسیروں میں خلفاء اربعہ اور سلف کا یہی قول ہے کہ مثل آیات متشابہات کے ہیں جن کا ذکر آگے آوے گا ان حروف مقطعات کے معنی اور نازل فرمانے کا مطلب خدا ہی کو خوب معلوم ہے نماز روزہ۔ حج زکوٰۃ اور احکام کی آیتوں معنی صاف ہیں۔ لیکن یہ متشابہات آیتیں احکام کی آیتوں کے علاوہ ہیں مشرکین مکہ ان متشابہات آیتوں کے معنی بتانے سے بھی باوجود اہل زبان ہونے کے عاجز آگئے۔ اس لئے یہ بھی قرآن شریف کا ایک معجزہ ہے۔ ان آیتوں کا ذکر سورة آل عمران میں تفصیل سے آوے گا۔ غرض حروف مقطعات آیات متشابہات عبادات حج میں شیطانوں کو کنکریاں مارنا وغیرہ دین میں…
Read the full tafseer →بعض سورتوں کی ابتدا میں جو حروف مقطعات آئے ہیں ان کے بارے میں محتاط اور محفوظ مسلک یہ ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے ان کے معانی معلوم کرنے کے لئے تعرض نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عقیدہ بھی رکھا ہے جو ہمارے علم کی دسترس سے باہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اقامت صلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ قول باری ہے : (الذین یومنون بالغیب و یقیمون الصلوۃ و مما رزقنھم ینفقون) لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں) یہ قول باری نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کے امر اور حکم کو متضمن ہے کیونکہ اللہ سبحانہ نے یہ دونوں باتیں متقین کی صفات اور تقویٰ کی شرائط قرار دی ہیں، سج طرح ایمان بالغیب کو تقویٰ کی شرط قرار دیا گیا ہے، ایمان بالغیب سے مراد اللہ اور بعث و نشور پر نیز ان تمام باتوں پر ایمان لانا ہے جن کا اعتقاد ہم پر بطریق استدلال لازم ہوگیا ہے۔ تقویٰ کی شرائط قرار پانا آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ کے ایجاب کا…
Read the full tafseer →2 حروف مقطّعات اور ان کا معنیٰ و مفہوم ؟ : ایسے حروف کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو حروف تہجی کی طرح علیحدہ علیحدہ طور پر پڑھا جاتا ہے، ملا کر ایک کلمے کی طرح نہیں پڑھا جاتا۔ مکررات کو حذف کرنے کے بعد یہ کل چودہ حروف رہ جاتے ہیں جو انتیس مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔ ان کے معانی کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ مثلا یہ کہ ان میں اعجاز قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن حکیم انہی معانی اور ان ہی حروف و کلمات سے مرکب ہے جن سے تمہارا اپنا روز مرہ کا کلام۔ مگر اس کے باوجود اگر تم لوگ اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کی نظیر و مثال لانے سے بھی قاصر ہو اور قرآن حکیم کی زوردار…
Read the full tafseer →الم یہ اور اس طرح کے متعدد حروف اکثر سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔ یہ اسرارِ الٰہی میں سے ہیں ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں ان کے بارے میں تفصیل میں جانے سے قباحتیں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے لہٰذا آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق صرف ان کو سمجھ لینا ہی کافی ہے کہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے اس کی تفصیل میں جانا بہتر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اسرار ومعارف الم ذلک الکتاب لاریب فیہ الم حروف مقطعات ہیں جو اکثر مذکور ہوئے ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور معانی میں الجھنا غیر ضروری۔ انھا سرابین اللہ رسولہ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے درمیان راز ہیں مومن کو معنی جانے بغیر بھی ان کا فائدہ مل جاتا ہے ۔ یہ ایسی کتاب ہے جس میں ادنیٰ درجے کے شبہ کی بھی گنجائش نہیں یعنی ، اس کتاب سے جو جواب دعا ہے استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اے مخاطب ! تو اس کے کسی مضمون یا کسی خبر کو جو گذشتہ یا آئندہ کے بارے ہو یا کسی بھی بیان میں ادنیٰ سا شبہ بھی نہ رکھے کہ واقعتا کسی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اکثر کتابیں جو ایسے مضامین پر مشتمل ہوں اور ماورا الطبیعاتی…
Read the full tafseer →(2) سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں ان کو مقطعا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ الگ الگ کرکے پڑھے جاتے ہیں خلفاء اربعہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود اور دیگر اکا بر صحا بہ کا خیال ہے کہ یہ حروف راز خداوندی ہیں جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان حروف کی تفسیر میں کوئی بات ثابت نہیں ہے مگر بعض صحابہ مثلا عبداللہ بن عباس اور بعض تابعین سے اس کی تاویل میں مختلف اقوال مروی ہیں مگر صحت سند کے ساتھ ثابت نہیں ہیں صرف ایک قول عبد الر حمن بن زید سے ثابت ہے کہ انہوں نے ان حروف کو اسمائے سورة قرار دیا ہے وکھوا لصحیح ( کشاف رازی۔ متآ خرین علماء نے ان حروف کو کو لطا ئف دقائق بیان کئے ہیں مگر…
Read the full tafseer →(2) سورة البقرۃ مدنیہ (87) 2:1 ۔ الۗمّۗ‘ الف، لام، میم۔ ان کو حروف مفطعات کہتے ہیں۔ ان کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کے نزدیک ان کے معانی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کو معلوم ہیں۔ ھذا سر بین اللہ وبین الرسول (یہ ایک بھید ہے مابین اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے) ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ ان حروف مقطعات اور متشابہات (3:7) کا علم نہ صرف نبی کریم ﷺ کو بلکہ آپ کے اتباع کاملین کو بھی تھا۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ میں راسخین فی العلم ۔ (3:7) میں سے ہوں اور جو لوگ متشابہات اور مقطعات کی تفسیر کے عالم ہیں ان میں سے ایک میں بھی ہوں حروف مقطعات کا استعمال…
Read the full tafseer →سورة البقرۃ لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5 (لا ریب): شک نہیں ہے۔ یعنی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ (ھدی): ہدایت ہے۔ راستہ دکھانے اور منزل تک پہنچانے کو بھی ہدایت کہتے ہیں۔ (تقویٰ ): بچنا، ڈرنا، خوف۔ (اللہ سے اس طرح ڈرنا کہ اس میں اس کی رحمت پر بھی یقین ہو) ۔ (ایمان): زبان سے اقرار اور دل سے یقین کرنا۔ (غیب): انسان کے پانچوں حواس سے باہر جس کو صرف اللہ کے نبی ﷺ ہی اس کی مرضی سے بتا سکتے ہیں۔ (صلوٰۃ): اللہ کی عبادت کرنے کا وہ مخصوص طریقہ جس کو جیسے رسول مکرم ﷺ نے بتایا اس کو اسی طرح ادا کرنا۔ اسی کو عرف عام میں “ نماز ” کہتے ہیں۔ (انفاق): خرچ کرنا اپنے مال اور صلاحیتوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے…
Read the full tafseer →فضائل القرآن سورة بقرہ سورة بقرہ اور سورة آل عمران، یہ دونوں سورتیں پڑھنے والے پر حشر کے دن سایہ کریں گی۔ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ سورة بقرہ پڑھا کرو کہ اس کا پڑھنا موجب برکت اور نہ پڑھنا موجب حسرت ہے۔ جب عقبی میں اس کے پڑھنے والوں کو بلند درجہ ملے گا تو نہ پڑھنے والا حسرت سے پچھتائے گا کہ ہائے میں نے کیوں نہ پڑھی۔ حدیث سے منقول ہے کہ جو شخص سورة بقرہ پڑھے گا تو اسے بہشت میں تاج پہنایا جائے گا۔ ہر چیز کی بلندی ہے اور قرآن مجید کی بلندی سورة بقرہ ہے۔ سورة بقرہ میں ہزار امر، ہزار نہی، ہزار حکم اور ہزار خبریں ہیں۔ اس کے پڑھنے میں برکت اور نہ پڑھنے میں حسرت ہے۔ اہل باطل جادوگر اس کی استطاعت…
Read the full tafseer →[1] اس طرح کے حروف جو قرآن مجید کی بعض سورتوں میں واقع ہیں مقطعات کہلاتے ہیں اور حروف تہجی کی طرح پڑھے جاتے ہیں۔ ان کے معانی اللہ نے کسی مصلحت سے بندوں پر ظاہر نہیں کئے۔ بعض مفسرین نے جو معنی تجویز کئے ہیں وہ ان کی اپنی رائے ہے۔ ان کے معنی کا جاننا ضروری بھی نہیں۔ انہیں آدمی اگر نہ بھی جانے تو قرآن سے ہدایت حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں رہ جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حروف مقطعات کا فلسفہ : قرآن کی انتیس سورتوں کے آغاز میں یہ حروف آتے ہیں ، مفسرین نے مختلف معانی ان کے بیان فرمائے ہیں جو کھلا ہوا ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ حروف بےمعنی نہیں ۔ قطرب ، مبرو ۔ فراء اور محققین کا ایک عظیم القدر گروہ اس بات پر متفق ہے کہ یہ حروف قرآن کے ان حروف تہجی سے مرکب ہیں جس سے قرآن کے الفاظ بنے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ قرآن اپنے طرز بیان الفاظ کی شوکت اور معنویت کے اعتبار سے جو معجزہ ہے تو اس کی ترتیب میں انہیں روز مرہ کے حروف سے کام لیا گیا ہے تمہیں اگر اس کی ساحری ومعجز نمائی سے انکار ہے تو آؤ ایک سورة ہی ایسی لکھ دو جو قرآن کی کسی سورت سے لگاؤ کھا سکے ، علامہ زمخشری نے کشاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ الف ۔ لام ۔ میم یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کے منجانب اللہ ہونے میں ذرا سی بھی شک کی گنجائش نہیں یہ کتاب خدا سے ڈرنے والوں کو صحیح راہ دکھاتی ہے۔ ( تیسیر) الف ۔ لام ۔ میم حروف تہجی ہیں ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں ۔ تمام قرآن میں یہ حروف انتیس 92 سورتوں کی ابتداء میں آتے ہیں کسی سورت کی ابتداء میں صرف ایک ایک حرف ہے۔ جیسے قاف ۔ نون ۔ صاد اور کسی سورت کی ابتداء میں حرف دو ہیں ۔ جیسے طا ۔ ہا یا سین اور کسی سورت کی ابتداء میں تین ہیں ۔ جیسے الف ۔ لام ۔ میم اور الف ۔ لام ۔ را اور کسی سورت کی ابتدا میں ان حروف مقطعات کی تعداد چار ہے جیسے الف ۔ لام ۔ میم ۔ صاد اور کسی سورت کی ابتدا میں ان کی تعداد…
Read the full tafseer →ف 1۔ ان حروف کے معانی سے عوام کو اطلاع نہیں دی گئی۔ شاید حامل وحی ﷺ کو بتلا دیا گیا ہو کیونکہ اللہ اور اس کے رسول نے اہتمام کے ساتھ وہی باتیں بتلائی ہیں جن کے نہ جاننے سے دین میں کوئی جرح اور نقصان لازم آتا تھا لیکن ان حروف کا مفہوم نہ جاننے سے کوئی حرج نہ تھا اس لیے ہم کو بھی ایسے امور کی تفتیش نہ چاہیے۔
Read the full tafseer →الف۔ لا ... م می ...(1) م۔ 1 حروفِ مقطعات : 1: قرآن کریم میں انتیس سورتیں ہیں جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہے وہ سورتیں درج ذیل ہیں : (1) البقرہ ، 2 (2) آل عمران 3 ، (3) الاعراف 7 ، (4) یونس 10 ، (5) ہود 11 ، (6) یوسف 12 ، (7) الرعد 13 ، (8) ابراہیم 14 ، (9) الحجر 15 ، (10) مریم 19 ، (11) طہٰ 20 ، (12) الشعرا 26 ، (13) النمل 27 ، (14) القصص 28 ، (15) العنکبوت 29 ، (16) الروم 30 ، (17) لقمان 31 ، (18) السجدہ 32 ، (19) یٰسین 36 ، (20) ص 35 ، (21) المؤمن 40 ، (22) حم السجدہ 41 ، (23) الشوری 42 ، (24) الزخرف 43 ، (25) الدخان 44 ، (26) الجاثیہ 45 ، (27) الاحقاف 46 ، (28) ق 50 ، (29) القلم…
Read the full tafseer →The Surah begins with the Arabic letters Alif, Lam and Mim (equivalents of A, L and M). Several Surahs begin with a similar combination of letters, for example, Ha, Mim, or Alif, Lam, Mim, Sad. Each of these letters is pronounced separately without the addition of a vowel sound after it. So, the technical term for them is مقطعات (Mugatta` at: isolated letters). According to certain commentators, the isolated letters are the names of the Surahs at the beginning of which they occur. According to others, they are the symbols of the Divine Names. But the majority of the blessed Companions ؓ and…
Read the full tafseer →1. The names of letters of the Arabic alphabet, called huruf muqatta'at, occur at the beginning of several surahs of the Qur'an. At the time of the Qur'anic revelation the use of such letters was a well-known literary device, used by both poets and orators, and we find several instances in the pre-Islamic Arabic literature that has come down to us. Since the muqatta'at were commonly used the Arabs of that period generally knew what they meant and so they did not present a puzzle. We do not notice, therefore, any contemporaries of the Prophet (peace be on him) raising objections against the…
Read the full tafseer →