انعام یافتہ کون ؟
اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت صراط مستقیم کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہوسکتی ہے واللہ اعظم۔ اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورة نساء میں آچکا ہے فرمان ہے آیت (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا) 4۔ النسآء :69) یعنی اللہ اور اس رسول ﷺ کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے…
Read the full tafseer →سورة الْفَاتِحَة 9
یہ اس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔ یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظور نظر لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ بےخطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر رہا۔
سورة الْفَاتِحَة 10
یعنی " انعام " پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ " انعام " سے ہماری مراد حقیقی اور…
Read the full tafseer →اس آیت میں پہلے مثبت اور ایجابی طریق سے صراط مستقیم کو متعین کیا گیا ہے کہ ان چار طبقوں کے حضرات جس راستے پر چلیں وہ صراط مستقیم ہے اس کے بعد آخر کی آیت میں سلبی اور منفی صورت سے اس کی تعیین کی گئی ہے ارشاد ہے
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ یعنی نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا اور نہ ان لوگوں کا جو راستے سے گم ہوگئے الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ سے وہ لوگ مراد ہیں جو دین کے احکام کو جاننے پہچاننے کے باوجود شرارت یا نفسانی اغراض کی وجہ سے ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں احکام الہیہ کی تعمیل میں کوتاہی (یعنی تفریط) کرتے ہیں جیسے عام طور پر یہود کا حال…
Read the full tafseer →’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ الآیۃ‘ آدمی جس چیز سے جتنا ہی گہرا لگاؤ رکھتا ہے اس کو اسی قدر وضاحت کے ساتھ خود بھی سمجھنا چاہتا ہے اور دوسرے کو بھی سمجھانا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے صرف اتنے ہی پر بس نہیں کیا کہ ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت بخش بلکہ اس کی پوری وضاحت بھی کر دی ہے اور یہ وضاحت مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے ہے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ راستہ ان لوگوں کا ہو جن پر تیرا انعام ہوا ہے اور منفی پہلو یہ ہے کہ جو نہ تو مغضوب ہوئے ہیں اور نہ گمراہ۔ اس وضاحت کے بعد مدعا اس طرح آئینہ ہو کر سامنے آگیا ہے کہ کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔
اس ساری وضاحت کی ضرورت اس وجہ سے نہیں تھی کہ…
Read the full tafseer →1 یہ صراط مستقیم یہ وہ اسلام ہے جسے نبی ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔
2 صراط مستقیم کی وضاحت ہے کہ یہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا۔ (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا) 4:69 اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں۔ اس آیت میں یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(4) یہاں سے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جارہا ہے اور اسی کے ساتھ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی قسم کی عبادت کے لائق نہیں، نیز ہر کام میں حقیقی مدد اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہیے ؛ کیونکہ صحیح معنی میں کار ساز اس کے سوا کوئی نہیں، دنیا کے بہت سے کاموں میں بعض اوقات کسی انسان سے جو مدد مانگی جاتی ہے، وہ اسے کارساز سمجھ کر نہیں ؛ بلکہ ایک ظاہری سبب سمجھ کر مانگی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام فرمایا ، جو معتوب نہیں ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔ “
صحیح مسلم میں حضرت علاء رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں :” اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان پورا پورا تقسیم کردیا ہے ۔ نصف اپنے لئے اور نصف بندے کے لئے اور میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ ہے جو وہ طلب کرے ۔ جب بندہ کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میرے بندے نے میری حمد اور تعریف کی “ اور جب بندہ الرحمن الرحیم ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میرے بندے نے میری ثناء کی “ جب وہ مالک یوم الدین پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” میرے بندے نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 جن پر انعام کیا گیا وہ چار فرقے ہیں نبیین و صدیقین و شہداء و صالحین کلام اللہ میں دوسرے موقع پر اس کی تصریح ہے اور المغضوب علیھم سے یہود اور ضالین سے نصاریٰ مراد ہیں۔ دیگر آیات و روایات اس پر شاہد ہیں اور صراط مستقیم سے محرومی کل دو طرح پر ہوتی ہے۔ عدم علم یا جان بوجھ کر کوئی فرقہ گمراہ اگلا پچھلا ان دو سے خارج نہیں ہوسکتا سو نصاریٰ تو وجہ اول میں اور یہود دوسری میں ممتاز ہیں۔
7 یہ سورت خدا تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ جب ہمارے دربار میں حاضر ہو تو ہم سے یوں سوال کیا کرو اس لیے اس سورت کا ایک نام تعلیم مسئلہ بھی ہے۔ اس سورت کے ختم پر لفظ اٰمین کہنا مسنون ہے اور یہ لفظ قرآن شریف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ 5 غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ آمین !
اب دیکھئے ‘ یہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ہی کی تشریح ہے جو آخری تین آیتوں میں ہے۔ ہمیں اللہ سے کیا مدد چاہیے ؟ پیسہ چاہیے ؟ دولت چاہیے ؟ نہیں نہیں ! اے اللہ ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ پھر کیا چاہیے ؟ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ”ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما“۔ یہ جو زندگی کے مختلف معاملات میں دورا ہے ‘ سہ را ہے اور چورا ہے آجاتے ہیں ‘ وہاں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے کہ صحیح کیا ہے ‘ غلط کیا ہے۔ لہٰذا اے اللہ ! ہمیں سیدھے راستہ کی طرف ہدایت بخش۔ ”اِھْدِ“ ہدایت…
Read the full tafseer →14 انعام والے اور گمراہ لوگ کون ہیں ؟:۔ قرآن کی تصریح کے مطابق ان سے مراد انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ (4: 69) وہ لوگ نہیں جنہیں مال و دولت یا حشمت و جاہ کی فراوانیاں حاصل ہیں۔ اور آپ کے ارشاد کے مطابق (آیت مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ ) سے مراد تو یہود ہیں جو گناہ کے کاموں پر دلیر ہوگئے تھے اور ان پر اللہ کا عذاب اور پھٹکار نازل ہوئی اور ضالِّیْن سے مراد عیسائی حضرات ہیں جو فلسفیانہ موشگافیوں میں پھنس کر تثلیث اور گمراہی کا شکار ہوئے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس (مدینہ) آیا۔ وہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ کہنے لگے کہ یہ عدی بن…
Read the full tafseer →18 (باب ہدایت میں) یہ مزید شرح و تفسیر ہے اسی سیدھے راستہ یا صراط مستقیم کی۔ تعلیمات وہدایات تو ساری کی ساری قرآن مجید کے لفظ وعبارت میں آگئیں۔ لیکن مشیت الہی نے مذید شفقت وکرم سے ان تعلیمات وہدایت کے عملی نمونے بھی انسانی روح و قالب میں بشری صورت و سیرت میں بہ کثرت بھیج دیئے کہ اس صراط مستقیم پر چلنا اور زیادہ آسان ہوجاوے۔ یہ انعام پائے ہوئے لوگ انبیاء ومرسلین ہیں۔ ان کی زندگی کے واقعات و حالات قرآن مجید میں بکثرت نقل ہوئے ہیں۔ اور ان میں بھی علی الخصوص اس پاکیزہ جماعت کے پاکیزہ تیرین سردار محمد رسول اللہ ﷺ ۔ آپ کی سیرت مبارکہ کا ایک ایک جز تک محفوظ ہے۔ پھر اس کے بعد آپ کے جو صحیح نائب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اھدنا الصراط المستقیم یہ ایک بڑی اور جامع دعاء ہے جس چیز کی اس میں دعاء کی گئی ہے اس سے کوئی فرد بےنیاز نہیں، اور وہ ہے ” صراط مستقیم “ صراط مستقیم کی ہر کام میں ضرورت ہوتی ہے خواہ دین کا ہو یا دنیا کا، اب رہی یہ بات کہ وہ صراط مستقیم ہے کیا ؟ اس کی نشاندہی اگلی آیت میں کی گئی ہے۔
صراط الذین انعمت علیھم یعنی ان لوگوں کا راستہ کہ جن میں افراط وتفریط نہ ہو، اور وہ، وہ لوگ ہیں جن پر تو نے انعام فرمایا، اور ان منعم علیہم کو ایک دوسری آیت ” الَّذِیْنَ اَنَعَمَ اللہ عَلَیھم “ (الآیۃ) میں بیان کیا گیا ہے یعنی وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا، یعنی انبیائ اور صدیقین اور شہداء اور صالحین، مقبولین…
Read the full tafseer →صَرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ : یہ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ سے بدل ہے اور بدل بھی بدل کل جس کا فائدہ تاکید ہے اور اس بات پر استدلال ہے کہ ان لوگوں کا راستہ وہ ہے جس کے مستقیم ہونے کی شہادت دے دی گئی ہے ( مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہمیں ان لوگوں کا راستہ دکھا جن پر تو نے اپنا فضل کیا) اور ان سے وہ باخدا اور نیک دل لوگ مراد ہیں جنہیں خدا نے ایمان اور طاعت پر ثابت قدم رکھا یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ لفظ علیہم اور الیہم اور لدیھم کو جہاں کہیں بھی قرآن میں آیا ہے حمزہ 1 نے فصل اور وقف دونوں حالتوں میں ضمہ ہا سے پڑھا ہے لیکن حمزہ کے علاوہ اور تمام قاریوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) ان لوگوں کا دین جن پر تو نے دین عطا کرکے احسان کیا ہے وہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم ہے اور ان کا وہ وقت جب تک اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا تھا کہ ان پر وادی تیہ میں بادل نے سایہ کیے رکھا اور اس امت پر بطور نعمت من وسلوی آسمان سے اتارا گیا۔ اور یہ تفسیر بھی ہے کہ انعام والی جماعت سے نبیوں کی جماعت مراد ہے جو ان یہودیوں کے دن کی طلب گار نہیں جن پر تو نے اپنا غصہ کیا اور ان کو ذلیل ورسوا کیا اور ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے۔ اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے، اور نہ ان نصاری کے دین کے…
Read the full tafseer →(صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ) یعنی جن لوگوں پر تو نے دوسرے بیشمار انعامات کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق کا خاص انعام کیا، ان سے مراد چار قسم کے لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے، فرمایا : (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ) [ النساء : 69 ] ”اور جو کوئی اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے۔“ قرآن مجید میں مذکور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے تمام واقعات…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 29: صراط الذین انعمت علیھم
صراط، الصراط سے بدل کل ہے جیسے تو کہتا ہے : جاء بی زید ابوک۔ اس آیت کا مطلب ہے ہمیں ہمیشہ اپنی ہدایت عطا فرما کیونکہ انسان راستہ کی طرف رہنمائی کیا جاتا ہے پھر وہ اس سے بھٹک بھی جاتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس صراط سے مراد اور صراط ہے۔ اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا فہم۔ یہ جعفر بن محمد کا قول ہے اور قرآن کی لغت الذین ہی ہے حالت رفع، نصبی اور جری میں اور ہذیل حالت رفعی میں اللذون کہتے ہیں۔ عربوں میں کچھ کہتے ہیں اللذو اور بعض الذی کہتے ہیں (خواہ حالت رفعی ہو نصبی ہو یا جری ہو) جیسا کہ آگے آئے گا۔
علیھم میں دس لغات ہیں : علیھم ھاء کے ضمہ…
Read the full tafseer →صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 9 غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ
ترجمہ : جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا جن پر غصہ نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہیں۔ (7)
(1) امام وکیع، ابوعبید، سعید بن منصور بن حمیر، ابن المنذر، ابن ابی داؤد اور ابن الانباری ان دونوں نے المصاحف میں حضرت عمر بن الخطاب کے طریق سے نقل کیا ہے کہ وہ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الظالین “ پڑھا کرتے تھے۔
(2) امام ابو عبید، عبد بن حمید، ابن الانباری، ابن ابی داؤد نے حضرت عبد اللہ بن الزبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ نماز میں لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم غیر…
Read the full tafseer →[ صِرَاطَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کا راستہ ] [ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ : جن پر تو نے انعام کیا ] [ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ : جن پر غضب نہیں کیا گیا ] [ وَلَا الضَّآلِّیْنَ : اور جو گمراہ ہونے والے نہیں ہیں ]
ن ع م
نَعَمَ یَنْعَمُ ۔ نَعَمَ یَنْعُمُ (ف۔ ن) نَعْمَۃً : خوشحال ہونا ‘ نعمت پانا۔
نَعِمَ یَنْعَمُ (س) نَعَمًا : سرسبز ہونا ‘ تروتازہ ہونا۔
نَعْمَۃٌ اور نِعْمَۃٌ : نعمت ۔ { وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ } (المزمل :11) ” اور تو چھوڑ دے مجھ کو اور جھٹلانے والوں کو جو نعمت والے ہیں۔ “ { وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ } (البقرۃ :231) ” اور تم لوگ یاد کرو اللہ کی نعمت…
Read the full tafseer →صراط مستقیم والے کون حضرات ہیں :
(صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) ان الفاظ میں صراط مستقیم کی تعیین کردی گئی۔ صراط مستقیم ( سیدھا راستہ) کیا ہے جتنی جماعتیں اور قومیں دنیا میں بستی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ہدایت پر ہی سمجھتے ہیں، لیکن وہ کون سا راستہ ہے جسے سیدھا راستہ مانا جائے اور جس پر چلنے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوگی اور آخرت میں نجات ہوگی۔ اس کے بتانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا راستہ صراط مستقیم ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔ یہ حضرات کون ہیں ان کا ذکر سورة نساء کی اس آیت میں ہے۔
(وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ…
Read the full tafseer →صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین
یعنی ان لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تو نے اپنا ایسا خاص انعام فرمایا کہ اسی خاص انعام اور خاص فضل کی بناء پر وہ نہ تیرے مغضوب اور معتوب ہیں بلکہ تیرے مقرب اور محبوب ہیں۔ تیری رضا اور خوشنودی کا تمغہ اور پروانہ حاصل کیے ہوئے ہیں اور نہ وہ گمراہ ہیں۔ صحیح راستہ ان کو معلوم ہے منزل مقصود سامنے ہے بصد ذوق وشوق خط مستقیم کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں۔ یمین ویسار کی طرف التفات بھی نہیں کرتے۔ مطلب یہ ہے کہ اے پروردگار عالم ہم نابکاروں کو انعام اور اہل انعام کی راہ پر چلا اور دار انعام میں پہنچا اور غضب اور ضلال کی راہ سے محفوظ اور دور رکھ اور اپنی…
Read the full tafseer →ف 9: صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔۔۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ سے بدل الکل ہے اور بدل کا فائدہ یہ ہے کہ صراط مستقیم کی تفسیر اور تعیین ہوجائے۔ یعنی صراط مستقیم وہ راستہ ہے جس پر وہ لوگ قائم رہے جو الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْکے مصداق ہیں اور جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے انبیاء علیہم السلام، صدیقین شہداء اور صالحین مراد ہیں جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس طرف اشارہ ہے۔ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا (النساء :69)…
Read the full tafseer →سورة الفاتحۃ 1 صراط الذین انعمت علیھم درس شانزدہم 16
ترجمہ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام فرمایا۔
(ربط آیات )
اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے کے بعد اسی کی عبادت کرنے اور اسی سے استعانت کا بیان ہوا ۔ پھر اس کے سامنے دست سوال دراز ہوا کہ مولا کریم ! ہماری راہنمائی فرما ہمیں سید ہے راستے پر چلا اس پر ثابت قدم رکھ صراط مستقیم کی مختصر تشریح بیان ہوچکی ہے اور اب گلاجملہ بھی سابقہ آیت ہی کے تسلسل میں ہے اور اسکی مزید وضاحت کرتا ہے ۔ یعنی پروردگار ! ہمیں اس صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ صراط الذین انعمت علیھم جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا۔
(نمونہ کی ضرورت)
یہ ایک واضح اصول…
Read the full tafseer →صرط
الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم .
سرط
السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من :
سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام :
231-
رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه
«2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه .
( ص ر ط ) الصراط
۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا…
Read the full tafseer →ترکیب : صِرَاط مضاف الَّذِیْنَ مضاف الیہ موصول اَنْعَمْتَ عَلَیْہْمْ فعل بافاعل و ضمیر عاید اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر مضاف الیہ ہوا مضاف کا وہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر بدل کل ہوا الصراط المستقیم سے۔ یعنی صراط مستقیم سے مراد وہ رستہ ہے کہ جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کا ہے۔ غَیْرْ الْمَغْضُوْبْ عَلَیْہْمْ معطوف علیہ ولا الضَّآلِّــیْنَ معطوف۔ معطوف اور معطوف علیہ دونوں مل کر الذین سے بدل ہوا۔ یعنی جن پر تو نے انعام کیا ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن پر تیری خفگی نہیں ہوئی ہے اور نہ وہ گمراہ ہیں تاکہ کوئی انعام دنیاوی سمجھ کر گمراہ دولت مندوں اور بادشاہوں کا طریقہ نہ سمجھ…
Read the full tafseer →اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ سے مراد
دوسری بات جو اس میں غور کرنے سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں صراط مستقیم کی وضاحت کے لیے کچھ ایسے لوگوں کا حوالہ دیا گیا ہے جن پر اس صراط مستقیم کا حق ادا کرنے کے باعث انعام واکرام ہوا۔ حالانکہ اس کی وضاحت کے لیے یہ بات کہی جاسکتی تھی، کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا راستہ ہے تم اسے اختیار کرو۔ تو بجائے صراط اللہ یا صراط الرسول کہنے کے آخر اس تعبیر میں کیا حکمت ہے۔ حقیقت تو اللہ جانتا ہے لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اس میں انسانی فطرت کا لحاظ کیا گیا ہے۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ کتابوں سے اس قدر نہیں سیکھتی جس قدر انسانی شخصیات سے متأثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
اب انعام یافتہ اور ہدایت یافتہ جماعت کا راستہ، ان کے ساتھ محبت اور ان کی معیت کی درخواست کی جاتی ہے جب کہ دوسرے گروہ سے اجتناب اور نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جس کارواں کے راستہ کی دعا کی جارہی ہے وہ محض عقیدت کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ ان کے کردار اور اعلیٰ مقام کی وجہ سے ہے۔ جو خدا کے فرستادہ، پسندیدہ اور انعام یافتہ انبیائے کرام (علیہم السلام) ہیں ان پر سب سے بڑا انعام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پیغام اور کام کے لیے منتخب فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو سیدھا راستہ بتلائیں اور اس پر چل کردکھائیں۔ اس قافلۂ قدسیہ کے معزز افراد ایک مشن کے داعی، خاندان نبوت کے افراد اور رشتۂ رسالت کے…
Read the full tafseer →خاص نکتہ :
مگر اس جگہ مخصوص بات یہ ہے کہ جب حمد و ثنا کے لائق ذات کا تذکرہ کیا اور اس پر ان عظیم صفات کو جاری کیا تو اب علم ایک عظیم الشان ذات سے متعلق ہوا جو کہ تعریف کے لائق اور مہمات و مشکلات میں مدد کے قابل اور اس لائق ہے کہ اپنی اتنہائی عاجزی اس کے سامنے پیش کی جائے۔ پس اسی معلوم اور جانی پہچانی ذات کو خطاب کر کے کہا جو ان صفات سے ممتاز ہے، اے وہ ذات ہے جس کی یہ صفات ہیں ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں تیرے سوا اور کسی سے نہیں۔
نکتہ :
عبادت کو استعانت پر اس وجہ سے مقدم کیا گیا، کیونکہ طلب حاجت سے پہلے ذریعہ طلب کو لانا قبولیت کے زیادہ قریب ہے یا نظم عبارت کا لحاظ…
Read the full tafseer →اصل میں لغوی طور پر واضح راستہ اس کا معنی ہے ، (آیت)” صراط الذین انعمت علیہم “۔ یعنی جن پر تو نے ہدایت اور توفیق کے ذریعے احسان فرمایا ۔ حضرت عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ جن پر تو نے (یا اللہ) ایمان پر ثابت قدم رہنے اور استقامت اختیار کرنے کا احسان فرمایا اور یہ لوگ انبیاء کرام (علیہم السلام) ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایمان پر ثابت قدم رکھا ، انبیاء کرام (علیہم السلام) ہوں یا مؤمنین عظام جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں کیا (آیت)” فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین “۔ الآیۃ۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قوم موسیٰ اور قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اھدنا الصراً المستقیم) یعنی سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی فرما اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق سے ہمیں نواز۔
(صراط مستقیم) سے مراد وہ واضح راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔ یہ معرفت حق اور اس پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔ پس اس راستے کی طرف راہنمائی فرما اور اس راستے میں ہمیں اپنی راہ نمائی سے نوازا۔
صرف مستقیم کی طرف راہنمائی کا مطلب، دین اسلام کو اختیار کرنا اور اسلام کے سوا دیگر تمام ادیان کا ترک کردینا ہے اور صراط مستقیم میں راہنمائی سے نوازن کے معنی یہ ہیں کہ تمام دینی معاملات میں علم و عمل کے اعتبار سے ہماری صحیح اور مکمل راہنمائی فرما،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
سورة فاتحہ
نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت
ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت کے اندر سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورة کی قرأت کی جائے گی۔ اگر نمازی ان رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قرأت ترک کر کے اس کے بجائے کوئی اور سورت پڑھ لے تو یہ بری حرکت ہوگی۔ تاہم نماز ہوجائے گی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر نمازی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ کفایت کرنے والی قرأت کی کم سے کم مقدار سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ اگر نمازی سورة فاتحہ کا ایک حرف بھی چھوڑ دے اور نماز سے باہر ہوجائے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا…
Read the full tafseer →8 انعام یافتہ حضرات سے مقصود و مراد ؟ : اور ان انعام یافتہ حضرات سے مراد وہ چار گروہ ہیں جن کا ذکر سورة نساء کی آیت نمبر 69 میں آیا ہے۔ یعنی انبیاء کرام، صدیقین اور شہداء و صالحین۔ (ابن کثیر، معارف، محاسن، جامع وغیرہ ) ۔ سو اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ راہ ہدایت وہی ہے جس کو ان حضرات نے اختیار کیا اور جس کی تعلیم و تلقین ان کی طرف سے فرمائی گئی ہے۔ اور جو راستہ ان حضرات کے طریق و ارشاد کے خلاف ہوگا وہ راہ حق نہیں ہو سکتاـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ یہاں سے صراط مستقیم کی اہمیت اور اس کی عظمت شان بھی مزید واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے سلسلے میں صرف اتنی ہی ہدایت نہیں فرمائی گئی کہ ہمیں صراط…
Read the full tafseer →تشریح : یہاں انسان مزید وضاحت چاہتے ہوئے دعا کرتا ہے کہ یوں تو ہدایت اور نجات کے تمام راستے طریقے اور اعمال قرآن مجید میں وضاحت سے بیان کردیئے گئے ہیں مگر ایسے لوگوں کی مثالیں ہمارے سامنے کھول کر رکھ دے کہ جنہوں نے فلاح پائی اور تیرے انعام کے حقدار ہوئے۔ ایسے لوگوں کا ذکر سورة نساء کی آیت 69 میں اس طرح کیا گیا ہے :
” ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبی، صدیق، شہید، صالح اور ان کی رفاقت کیسی اچھی ہے “۔
1 نبی : سے مراد اللہ تعالیٰ کا ایسا برگزیدہ بندہ کہ جو اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچائے۔
2 صدیق : یہ انبیاء کے بعد دوسرے درجہ پر ہیں مثلاً حضرت ابوبکر صدیق ۔
3 شہداء : خدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
رکوع نمبر 1
آیات 1 تا 7
دعا مانگنے کا طریقہ :
اللہ کریم نے نوع انسانی کو ایک جامع اور مکمل دعا تعلیم فرمائی ، ایک ایسی دعا جس میں اللہ کی تعریف اقرار عبودیت کے ساتھ استعانت و امداد کی درخواست اور پھر ہر دو عالم کی بھلائی اور اچھائی کا سوال ہے یہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے ، پہلے اللہ کی تعریف پھر اپنا اقرار عجز ، وعدہ بندگی اور پھر اپنی آرزو تمنا۔
تعوذ و تسمیہ کے بعد انسان سب سے پہلے یہ اقرار کرتا ہے کہ جو کمالات اور ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ، حسن و جمال ہو یا جاہ و جلال قوت و طاقت ہو یا علم و ہنر جہاں بھی جس چیز کی خوبی بیان ہوگی وہ دراصل تصویر کی…
Read the full tafseer →(10) بہکئے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ازراہ جہالت صحیح راستہ سے بھٹک گئے ہوں اور جن پر غصہ کیا گیا، سے سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے جا بوجھ کر علیحح راستہ اختیار نہ کیا ایک مرفوع حدیث میں نصاری کو ضالین اور یہود کو مغضوب علیہم قرار دیا گیا ہے متعدد آیات میں بھی اس کی تا ئید ہوتی ہے (ابن کثیر) اور یہی تفسیر صحا بہ اور علماء تفسیر سے منقول ہے (فتح البیان) مسئلہ تفسیر درمنثور میں ہے کہ جبر یل نے آنحضرت ﷺ کو فاتحہ الکتاب پڑھائی تو آخر میں کہا کہ آمین کہیے اس پر آنحضرت ﷺ نے آمین کہی۔ فائدہ آمین کے معنی ہیں ہماری دعا قبول فرما، سورت فاتحہ میں ولا الضالین کے نون کے بعد آمین کہنا مستحب ہے جہری نمازوں…
Read the full tafseer →(1:6) صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ یہ جملہ بدل کل ہے الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ سے۔ ترکیب یوں ہوگی۔
صِرَاطَ ۔ مضاف مضاف ، مضاف الیہ مل کر
الَّذِيْنَ ۔ موصول موصول و صلہ بدل کل الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ سے
اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ فعل بافاعل وضمیر مفعول مل کر مضاف الیہ
عامد الی الذین مل کر جملہ صلہ
فعلیہ ہوکر
یعنی الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ سے مقصود وہ سیدھا راستہ ہے جس کی طرف رہنمائی کی دعا کی گئی ہے جو انعام یافتہ لوگوں کا ہے۔ یہ انعام یافتہ کون لوگ ہیں ؟ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ…
Read the full tafseer →(انعمت علیھم ): جن لوگوں پر آپ نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ ایک بندہ اللہ سے درخواست کرتا ہے کہ ہمیں اس راستے پر چلائیے جو آپ کا پسندیدہ راستہ ہے وہ راستہ نہیں ہے جسے ہم سیدھا راستہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ کہ دنیا میں ایسا کون آدمی یا جماعت ہے جو اپنے آپ کو صحیح نہ سمجھتا ہو۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ میں نے جس راستے کو اختیار کیا ہوا ہے وہی سیدھا اور سچا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کہو الٰہی ! ان لوگوں کے راستے کی طرف ہماری رہنمائی فرما دیجئے جو آپ کے حکم کے مطابق چلے تو وہ کامیاب ہوگئے اور آپ کے کرم کے مستحق بن گئے۔ وہ کون لوگ ہیں سورة نساء میں فرمایا گیا ہے وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
خواص سورة فاتحہ
الحمد شریف چالیس بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے بخار والے کے منہ پر چھینٹا دیں انشاء اللہ تعالیٰ بخار جاتا رہے گا۔ سورة فاتحہ کو چینی کے پاک برتن پر مشک و زعفران سے لکھ کر اگر مریض کو پلا دیں تو ہر قسم کے جسمانی مرض انشاء اللہ تعالیٰ جاتے رہیں گے۔ چیچک کے واسطے گیارہ مرتبہ اس سورة کو پڑھ کر دم کرنا مجرب ہے۔ الحمد شریف ہر روز صبح کی سنتوں کے بعد اور فرضوں سے پہلے اکتالیس مرتبہ پڑھنا موجب برکت ہے اور ہر کام کے لیے مفید ہے۔ اس کو پڑھ کر جو دعا مانگے گا وہ انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔
فضائل القرآن۔
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے زیادہ عظمت سورة فاتحہ کی…
Read the full tafseer →[14] انعام سے مراد دینی انعام ہے۔ انعام پانے والے چار گروہ ہیں، انبیاء، شہداء، صدیقین اور صالحین جیسا کہ سورة النساء کی آیت 69 سے واضح ہے۔ (دیکھئے صفحہ نمبر 291)
[15] غضب کے مستحق وہ لوگ ہیں جو تحقیق کے باوجود راہ ہدایت کو چھوڑ دیں اور گمراہ وہ ہیں جو صراط مستقیم کی تلاش نہ کرنا چاہیں۔
Read the full tafseer →(ف 6) ضال ومغضوب سے وہ لوگ مراد ہیں جو صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں اور پھر تمرود سرکشی کی وجہ سے کسی نہ کسی طرح عذاب میں گرفتار ہیں ۔
Read the full tafseer →ف 4۔ ہم کو سیدھی راہ پر قائم رکھ ، راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے اپنا انعام و اکرام فرمایا ہے (تیسیر) سیدھی راہ سے مراد اسلام اور دین حق ہے۔ یہی وہ راہ ہے جس پر چلنے سے انسان مطلوب حقیقی تک پہنچ جاتا ہے۔ ہدایت کے معنی مفسرین نے راہ دکھایا ۔ سیدھی راہ پر ثابت رکھتا اور سیدھی راہ کی توفیق دنیا کئے ہیں ۔ یہاں ان تمام معنی کی گنجائش ہے ۔ آگے اس سیدھی راہ کو بتاتے ہیں کہ وہ کن لوگوں کی راہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ ان لوگوں کی راہ ہے جن پر انعام و اکرام ہوا ہے۔ وہ چار قسم کے حضرات ہیں ۔ انبیائ، صدیقین ، شہداء اور صالحین جیسا کہ پانچویں پارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ فائولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من…
Read the full tafseer →ف 3۔ انعام سے دینی انعام مراد ہے انعام والے چارہ گروہ ہیں۔ انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین۔
4۔ غضب کے مستحق وہ لوگ ہیں جو تحقیقات کے باوجود راہ ہدایت کو چھوڑ دیں اور گمراہ وہ ہیں جو صراط مستقیم کی تحقیقات نہ کرنا چاہیں ان میں مغضوب زیاداہ ناراضی کے مستحق ہیں جو دیدہ دانستہ حق کی مخالفت میں سرگرم ہیں۔
Read the full tafseer →انعام الٰہی کے اصل مستحق انبیاء شہداء اور صدیقین ہی ہیں :
27: تو نے انعام کیا۔ ” انعمت ‘ ‘ تو نے فضل کیا۔ تو نے احسان کیا۔ اس کی ” اصل ‘ ‘ ن ع م ہے اور انعمت انعام سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اور قرآن مجید میں انعمت کا لفظ آٹھ بار استعمال ہوا ہے۔
غصب الٰہی سے پناہ طلب کرتے رہنا چاہیے :
28: ” المغضوب “ کی ” اصل “ غ ض ب۔ غضب ، سخت غصہ ، بہت غصہ ہونا ، انتقام کے لئے دل کے خون میں جوش آکر گردن کی رگیں پھول جانا اور آنکھیں سرخ ہوجانا۔ گویا بدن کے اندر ایک آگ بھڑک جانا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت ہو تو اس سے مراد ہے ۔ سخت عذاب دینا ، المغضوب جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ غیر المغضوب…
Read the full tafseer →Which 'path' is 'straight'?
Now, to come to the meaning of the 'straight path', it is the path which has no turns and twists. The term signifies the particular way of Faith which equally avoids the two extremes of excess and deficiency. One who follows the straight path would, in matters of doctrine and practice both, neither go beyond the limits nor fall short of them.
The last two verses of the Surah Al-Fatihah define and identify that 'straight path', something man has been prompted to pray for immediately earlier. The verse says: (The path of those on whom You have bestowed Your grace).…
Read the full tafseer →9. This defines the 'straight way' which we ask God to open to us. It is the way which has always been followed by those who have enjoyed God's favours and blessings. This is the way which has been trodden from the beginning of time by all those individuals and communities that have unfailingly enjoyed God's favours and blessings.
10. This makes it clear that the recipients of God's favour are not those who appear, briefly, to enjoy worldly prosperity and success; all too often, these people are among those whom God has condemned because they have lost sight of the true path of salvation and…
Read the full tafseer →