1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورت نمبر ١۔ کل رکوع ١۔ ٓآیات ٧۔ الفاظ وکلمات ٢٧۔ حروف ١٤٠۔ مقام نزول۔ مکہ مکرمہ قرٓن کریم میں ١١٤ سورتیں ہیں جن کے نام اللہ کے حکم سے آپ نے تجویز فرمائے۔ ہر سورت کا جو بھی نام تجویز فرمایا ہے، وہ لفظ ان سورتوں میں موجود ہے۔ جیسے بقرہ آل عمران، نساء وغیرہ، لیکن قرآن کریم کی دو سورتیں ایسی ہیں ، جن کے نام رکھے گئے ہیں، اور ناموں کا کوئی لفظ ان سورتوں میں موجود نہیں، وہ دو سورتیں الفاتحہ اور اخلاص ہیں۔ تعارف سورة فاتحہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نزول قرآن کی ابتداء میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہوا کرتی تھیں، سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں جو مکمل سورت نازل ہوئی وہ سورة فاتحہ ہے۔ قرآن کریم کی ابتداء بھی اسی سورت سے کی گئی ہے جس کی احادیث میں بہت فضیلتیں آئی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے سورة فاتحہ جیسی صورت نہ توریت ، انجیل اور زبور میں ہے اور نہ (اس سے پہلے) قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے۔ یہ وہی سبع مثانی (بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ) ہیں جو اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہیں (ترمذی) حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھی۔ حضرت جبرئیل بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ حضرت جبرئیل نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ وہ دروازہ ہے جو آج پہلی بار کھلا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا راوی بیان کرتا ہے کہ اتنے میں ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو ایسے دونوروں کی خوشخبری ہو جو آپ سے پہلے کسی کو نہیں دئیے گئے۔ ایک سورة فاتحہ دوسرے سورة بقرہ۔ ان دونوں میں سے اگر ایک حرف بھی پڑھیں گے تو وہ نور آپ کو دے دیا جائے گا (صحیح مسلم ) حضرت انس (رض) نے فرمایا ہے کہ سورة فاتحہ افضل قرآن ہے (بیہقی ۔ حاکم ) حضرت عبد اللہ ابن جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” جابر (رض) کیا میں تمہیں ایک ایسی سورت نہ بتاؤں جو اللہ تعالیٰ نے (بڑی عظمتوں کے ساتھ ) نازل کی ہے۔ حضرت جابر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور ارشاد فرمائیے۔ آپ نے فرمایا وہ سورة فاتحہ ہے “ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ سورت ہر مرض کے لئے شفاء ہے ۔ (مسند احمد) اسی طرح عبد الملک بن عمر (رض) سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فاتحۃ الکتاب ہر مرض کی شفا ہے۔ (مسند احمد۔ دارمی۔ بیہقی) مذکورہ احادیث اور ان کے علاوہ بیشمار روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ قرآن کریم کی وہ اہم ترین سورت ہے۔ جو سارے قرآن کریم کے مضامین کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ یہ سورت اس قرآن کا خلاصہ ہے جو تمام آسمانی علوم کا سرچشمہ اور انسانی زندگی کی رہبری اور رہنمائی کے اصولوں کو مجموعہ ہے۔ سورة فاتحہ کی اہمیت اور اس کے مضامین کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امت کے بڑے بڑے علماء مفسرین نے سورة فاتحہ کی آیات پر غور کیا تو انہوں نے اس سورت کی تشریح لکھنا شروع کی اور سیکڑوں صفحات لکھتے چلے گئے۔ مگر ان کی زبانوں پر یہی بات تھی کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ در حقیقت سورة فاتحہ ایک ایسے گہرے سمندر کی طرح ہے جس کی گہرائی اور تہہ کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ بہت سے علماء امت، مفسرین اور محققین نے اس سمندر کی گہرائی میں اتر کر اپنی ہمت کے مطابق موتی جمع کرنے کی کوشش کی ۔ زندگیاں بیت گئیں لیکن اس گہرے سمندر کی تہہ میں موتی ختم نہ ہوئے اور اسی بات کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : قرآن وہ ہے جس کے عجائب (حقائق ) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سورة فاتحہ کی حقیقی معرفت نصیب فرمائے، اور اس کے انوارات سے ہمارے دلوں اور دماغوں کو روشن ومنور فرمائے، آمین ثم آمین ۔ سورة فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء، اس کی ذات کی خوبیاں، احسان اور کرم کا اعتراف ہے، ایک ایسے انصاف کے دن کا یقین ہے جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی۔ اسی کی مخلصانہ عبادت و بندگی اور زندگی کے ہر مرحلے پر اسی سے مدد طلب کی جائے۔ اس کے بعد اللہ سے راہ ہدایت اور تلاش حق کی آرزو ہے، اس میں رسالت کی عظمت کے ساتھ اللہ کے پیغمبروں اور نیک ہستیوں کی پیروی اور اتباع، برے لوگوں کے برے اعمال سے بیزاری کا اظہار ہے اور ان لوگوں کے راستے پر نہ چلنے کی عاجزانہ درخواست ہے جن پر اللہ کا غصہ اور غضصب نازل ہوا۔ یا جو لوگ صحیح راستے بھٹک کر اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے۔ سورة فاتحہ کی اسی اہمیت کی وجہ سے اس کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے ” لاصلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتب “ یعنی اس وقت تک نماز نہیں ہو سکتی جب تک اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی نماز ہو فرض ، واجب ، سنت یا نفل اس کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔ اگر کسی وجہ سے سورة فاتحہ پڑھنا بھول جائے تو سجدہ سہو کرنے سے اس کی نماز ہوجائے گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے (آواز سے یا خاموشی سے ) تو مقتدی کو امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے کیوں کہ امام قراءت مقتدی کی قراءت ہوا کرتی ہے لیکن کوئی شخص خود سے تنہا نماز پڑھ رہا ہے تو اس کو سورة کا پڑھنا واجب ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی۔ قرآن کریم کی جتنی سورتیں ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے دو چار نام بتائے ہیں لیکن سورة فاتحہ کے اتنے زیادہ نام ہیں کہ ناموں کی کثرت اس سورت کی عظمت کی دلیل ہے۔ علامہ سیوطی (رح) نے ” الاتقان فی علوم القرآن میں سورة فاتحہ کے پچیس نام گنوائے ہیں۔ سورة فاتحہ کے چند نام یہ ہیں۔ (سورۃ الحمد) وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ کی بےانتہا حمد و ثنا اور خوبیوں کا ذکر ہے۔ (ام القران ) وہ سورت جو قرآن کریم کے بنیادی اور اہم اصولوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ (سورۃ الشفا) وہ سورت جس سے روحانی اور جسمانی شفا اور صحت حاصل ہوتی ہے۔ (سورۃ الکنز) وہ سورت جو قرآن کریم کے ابدی اصولوں کا انمول خزانہ ہے۔ (سورۃ الاساس ) وہ سورت جس کے بغیر قرآن کریم کی بنیادوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ (سورۃ الکافیہ) وہ سورت جو تمام لوگوں کی رہبری اور رہنمائی کے لئے کافی ہے۔ (سورۃ الصلوٰۃ) وہ سورت جس میں دعا اور صراط مستقیم کی طلب پائی جاتی ہے۔ (سورۃ المسئلۃ ) وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اپنے اللہ سے مانگنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ (سورۃ الدعاء) وہ سورت جس میں ہدایت کی دعا مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ (سورۃ التوحید ) وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی گئی ہے۔ (سورۃ السبع المثانی ) وہ سورت جس میں سات آیتیں ہیں جن کو بار بار پڑھا جاتا ہے۔ خلاصہ سورة الفاتحہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة فاتحہ جو قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے اس میں سات آیات ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور خاص طور پر اس کی چار صفات (خوبیوں ) کو بیان فرمایا گیا ہے۔ رب العالمین الرحمن الرحیم ملک یوم الدین یعنی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے جن چیزوں کو بھی پیدا کیا ہے اور انہیں خوبصورت اور حسین بنا کر ان میں اپنے جمال، جلال اور کمال کے رنگ بھر دئیے ہیں۔ ایک بندہ ان کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے اللہ یہ سب کچھ آپ ہی کا کرم اور احسان ہے۔ آپ ہی خالق، مالک ، رازق اور ہر طرح کی خوبیوں کے پیدا کرنے والے ہیں۔ ہم ہر آن آپ کی حمد و ثنا کرتے ہیں ۔ ہم آپ کی اس شان کریمی کی تعریف کرتے ہیں کہ آپ نے ایک ایسا عدل و انصاف کا دن مقرر کیا ہے جس میں ہر شخص کو اس کے تمام اچھے اور برے اعمال کی جزا اور سزا دی جائے گی اور کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ۔ ہم آپ ہی سے اپنی مرادوں کو مانگتے ہیں۔ آپ ہی دینے والے ہیں ہم نہ تو آپ کے درچھوڑ کر کسی اور در پر جائیں گے اور نہ کسی اور کے سامنے اپنی پیشانی کو جھکائیں گے اور ہر حال میں صرف آپ سے اپنی مرادیں مانگیں گے کیوں کہ آپ کے سوا دوسرا کوئی معبود اور مشکل کشا نہیں ہے۔ اور اے اللہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں وہ سیدھا اور سچا راستہ دکھادیجئے جس پر چل کر آپ کے بندے آپ کے انعام وکرم کے مستحق بن گئے ۔ لیکن اے اللہ ہمیں ان بدقسمت اور گمراہ لوگوں کے راستے پر نہ چلا دئیے گا جو آپ کے غضب کا شکار ہوگئے یا جو لوگ راستے پر چلتے چلتے بھٹک گئے اور اپنے ہاتھوں سے انہوں نے اپنی منزل کھو دی۔ ” آمین “ سورة فاتحہ کے ایک ایک لفظ میں عظمتوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں جن کا ترجمہ اور تشریح کر کے بھی ان کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سمجھنے سمجھانے کے لئے سورة فاتحہ کے سولہ الفاظ کی مختصر تشریح اور ترجمہ ملاحظہ کرلیجئے۔ (اللہ): یہ لفظ ” الہ “ سے بنا ہے جس کے معنی معبود کے آتے ہیں۔ عربی قاعدے کے مطابق اس لفظ میں سے الف (ہمزہ) کو گرا کر ” الف لام “ داخل کردیا گیا ہے تو یہ لفظ ” اللہ “ بن گیا۔ اللہ۔ اسم ذات ہے یعنی اللہ وہ ہے کہ جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا۔ نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ وحدہ لا شریک ہے۔ اسی طرح وہ تمام نظام کائنات چلانے میں بھی کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہی سب کا خالق ، مالک اور آقا ہے، نعمت ، ہدایت اور سب کا رزق اسی کے دست قدرت میں ہے۔ وہ سب کا مشکل کشا اور دستگیر ہے، سب کی توبہ قبول کرنے والا، اپنے بندوں پر بےانتہا مہربان ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر کوئی اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو کسی طرح بھی شریک کرتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ اور شرک اللہ کے ہاں ناقابل معافی جرم ہے۔ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے کسی مشرک اور ظالم قوم کو ڈھیل دینے کے باوجود جب اپنے عذاب میں پکڑا ہے تو پھر اس سے چھڑانے والا کوئی نہیں تھا۔ جب وہ مشرک اور ظالم قوموں کو مٹانے پر آتا ہے تو ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے کہ ان کے کھنڈرات بھی باقی نہیں بچتے۔ وہ اپنے نیک بندوں پر کرم فرماتا ہے تو انہیں دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی نعمتوں سے نواز دیتا ہے۔

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

سورت نمبر 1۔ کل رکوع 1۔ ٓآیات 7۔ الفاظ وکلمات 27۔ حروف 140۔ مقام نزول۔ مکہ مکرمہ قرٓن کریم میں 114 سورتیں ہیں جن کے نام اللہ کے حکم سے آپ نے تجویز فرمائے۔ ہر سورت کا جو بھی نام تجویز فرمایا ہے، وہ لفظ ان سورتوں میں موجود ہے۔ جیسے بقرہ آل عمران، نساء وغیرہ، لیکن قرآن کریم کی دو سورتیں ایسی ہیں ، جن کے نام رکھے گئے ہیں، اور ناموں کا کوئی لفظ ان سورتوں میں موجود نہیں، وہ دو سورتیں الفاتحہ اور اخلاص ہیں۔ تعارف سورة فاتحہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نزول قرآن کی ابتداء میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہوا کرتی تھیں، سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں جو مکمل سورت نازل ہوئی وہ سورة فاتحہ ہے۔ قرآن کریم کی ابتداء بھی اسی سورت سے کی گئی ہے جس کی احادیث میں بہت فضیلتیں آئی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے سورة فاتحہ جیسی صورت نہ توریت ، انجیل اور زبور میں ہے اور نہ (اس سے پہلے) قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے۔ یہ وہی سبع مثانی (بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ) ہیں جو اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہیں (ترمذی) حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھی۔ حضرت جبرئیل بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ حضرت جبرئیل نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ وہ دروازہ ہے جو آج پہلی بار کھلا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا راوی بیان کرتا ہے کہ اتنے میں ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا۔ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا اے اللہ کے نبی ﷺ ! آپ کو ایسے دونوروں کی خوشخبری ہو جو آپ سے پہلے کسی کو نہیں دئیے گئے۔ ایک سورة فاتحہ دوسرے سورة بقرہ۔ ان دونوں میں سے اگر ایک حرف بھی پڑھیں گے تو وہ نور آپ کو دے دیا جائے گا (صحیح مسلم ) حضرت انس ؓ نے فرمایا ہے کہ سورة فاتحہ افضل قرآن ہے (بیہقی ۔ حاکم ) حضرت عبد اللہ ابن جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جابر ؓ کیا میں تمہیں ایک ایسی سورت نہ بتاؤں جو اللہ تعالیٰ نے (بڑی عظمتوں کے ساتھ ) نازل کی ہے۔ حضرت جابر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے۔ آپ نے فرمایا وہ سورة فاتحہ ہے “ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سورت ہر مرض کے لئے شفاء ہے ۔ (مسند احمد) اسی طرح عبد الملک بن عمر ؓ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فاتحۃ الکتاب ہر مرض کی شفا ہے۔ (مسند احمد۔ دارمی۔ بیہقی) مذکورہ احادیث اور ان کے علاوہ بیشمار روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة فاتحہ قرآن کریم کی وہ اہم ترین سورت ہے۔ جو سارے قرآن کریم کے مضامین کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ یہ سورت اس قرآن کا خلاصہ ہے جو تمام آسمانی علوم کا سرچشمہ اور انسانی زندگی کی رہبری اور رہنمائی کے اصولوں کو مجموعہ ہے۔ سورة فاتحہ کی اہمیت اور اس کے مضامین کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امت کے بڑے بڑے علماء مفسرین نے سورة فاتحہ کی آیات پر غور کیا تو انہوں نے اس سورت کی تشریح لکھنا شروع کی اور سیکڑوں صفحات لکھتے چلے گئے۔ مگر ان کی زبانوں پر یہی بات تھی کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ در حقیقت سورة فاتحہ ایک ایسے گہرے سمندر کی طرح ہے جس کی گہرائی اور تہہ کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ بہت سے علماء امت، مفسرین اور محققین نے اس سمندر کی گہرائی میں اتر کر اپنی ہمت کے مطابق موتی جمع کرنے کی کوشش کی ۔ زندگیاں بیت گئیں لیکن اس گہرے سمندر کی تہہ میں موتی ختم نہ ہوئے اور اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : قرآن وہ ہے جس کے عجائب (حقائق ) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سورة فاتحہ کی حقیقی معرفت نصیب فرمائے، اور اس کے انوارات سے ہمارے دلوں اور دماغوں کو روشن ومنور فرمائے، آمین ثم آمین ۔ سورة فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء، اس کی ذات کی خوبیاں، احسان اور کرم کا اعتراف ہے، ایک ایسے انصاف کے دن کا یقین ہے جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی۔ اسی کی مخلصانہ عبادت و بندگی اور زندگی کے ہر مرحلے پر اسی سے مدد طلب کی جائے۔ اس کے بعد اللہ سے راہ ہدایت اور تلاش حق کی آرزو ہے، اس میں رسالت کی عظمت کے ساتھ اللہ کے پیغمبروں اور نیک ہستیوں کی پیروی اور اتباع، برے لوگوں کے برے اعمال سے بیزاری کا اظہار ہے اور ان لوگوں کے راستے پر نہ چلنے کی عاجزانہ درخواست ہے جن پر اللہ کا غصہ اور غضصب نازل ہوا۔ یا جو لوگ صحیح راستے بھٹک کر اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے۔ سورة فاتحہ کی اسی اہمیت کی وجہ سے اس کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ” لاصلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتب “ یعنی اس وقت تک نماز نہیں ہو سکتی جب تک اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی نماز ہو فرض ، واجب ، سنت یا نفل اس کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔ اگر کسی وجہ سے سورة فاتحہ پڑھنا بھول جائے تو سجدہ سہو کرنے سے اس کی نماز ہوجائے گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے (آواز سے یا خاموشی سے ) تو مقتدی کو امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے کیوں کہ امام قراءت مقتدی کی قراءت ہوا کرتی ہے لیکن کوئی شخص خود سے تنہا نماز پڑھ رہا ہے تو اس کو سورة کا پڑھنا واجب ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی۔ قرآن کریم کی جتنی سورتیں ہیں نبی کریم ﷺ نے ان کے دو چار نام بتائے ہیں لیکن سورة فاتحہ کے اتنے زیادہ نام ہیں کہ ناموں کی کثرت اس سورت کی عظمت کی دلیل ہے۔ علامہ سیوطی (رح) نے ” الاتقان فی علوم القرآن میں سورة فاتحہ کے پچیس نام گنوائے ہیں۔ سورة فاتحہ کے چند نام یہ ہیں۔ (سورۃ الحمد) وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ کی بےانتہا حمد و ثنا اور خوبیوں کا ذکر ہے۔ (ام القران ) وہ سورت جو قرآن کریم کے بنیادی اور اہم اصولوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ (سورۃ الشفا) وہ سورت جس سے روحانی اور جسمانی شفا اور صحت حاصل ہوتی ہے۔ (سورۃ الکنز) وہ سورت جو قرآن کریم کے ابدی اصولوں کا انمول خزانہ ہے۔ (سورۃ الاساس ) وہ سورت جس کے بغیر قرآن کریم کی بنیادوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ (سورۃ الکافیہ) وہ سورت جو تمام لوگوں کی رہبری اور رہنمائی کے لئے کافی ہے۔ (سورۃ الصلوٰۃ) وہ سورت جس میں دعا اور صراط مستقیم کی طلب پائی جاتی ہے۔ (سورۃ المسئلۃ ) وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اپنے اللہ سے مانگنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ (سورۃ الدعاء) وہ سورت جس میں ہدایت کی دعا مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ (سورۃ التوحید ) وہ سورت جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی گئی ہے۔ (سورۃ السبع المثانی ) وہ سورت جس میں سات آیتیں ہیں جن کو بار بار پڑھا جاتا ہے۔ خلاصہ سورة الفاتحہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة فاتحہ جو قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے اس میں سات آیات ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور خاص طور پر اس کی چار صفات (خوبیوں ) کو بیان فرمایا گیا ہے۔ رب العالمین الرحمن الرحیم ملک یوم الدین یعنی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے جن چیزوں کو بھی پیدا کیا ہے اور انہیں خوبصورت اور حسین بنا کر ان میں اپنے جمال، جلال اور کمال کے رنگ بھر دئیے ہیں۔ ایک بندہ ان کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے اللہ یہ سب کچھ آپ ہی کا کرم اور احسان ہے۔ آپ ہی خالق، مالک ، رازق اور ہر طرح کی خوبیوں کے پیدا کرنے والے ہیں۔ ہم ہر آن آپ کی حمد و ثنا کرتے ہیں ۔ ہم آپ کی اس شان کریمی کی تعریف کرتے ہیں کہ آپ نے ایک ایسا عدل و انصاف کا دن مقرر کیا ہے جس میں ہر شخص کو اس کے تمام اچھے اور برے اعمال کی جزا اور سزا دی جائے گی اور کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ۔ ہم آپ ہی سے اپنی مرادوں کو مانگتے ہیں۔ آپ ہی دینے والے ہیں ہم نہ تو آپ کے درچھوڑ کر کسی اور در پر جائیں گے اور نہ کسی اور کے سامنے اپنی پیشانی کو جھکائیں گے اور ہر حال میں صرف آپ سے اپنی مرادیں مانگیں گے کیوں کہ آپ کے سوا دوسرا کوئی معبود اور مشکل کشا نہیں ہے۔ اور اے اللہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں وہ سیدھا اور سچا راستہ دکھادیجئے جس پر چل کر آپ کے بندے آپ کے انعام وکرم کے مستحق بن گئے ۔ لیکن اے اللہ ہمیں ان بدقسمت اور گمراہ لوگوں کے راستے پر نہ چلا دئیے گا جو آپ کے غضب کا شکار ہوگئے یا جو لوگ راستے پر چلتے چلتے بھٹک گئے اور اپنے ہاتھوں سے انہوں نے اپنی منزل کھو دی۔ ” آمین “ سورة فاتحہ کے ایک ایک لفظ میں عظمتوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں جن کا ترجمہ اور تشریح کر کے بھی ان کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سمجھنے سمجھانے کے لئے سورة فاتحہ کے سولہ الفاظ کی مختصر تشریح اور ترجمہ ملاحظہ کرلیجئے۔ (اللہ): یہ لفظ ” الہ “ سے بنا ہے جس کے معنی معبود کے آتے ہیں۔ عربی قاعدے کے مطابق اس لفظ میں سے الف (ہمزہ) کو گرا کر ” الف لام “ داخل کردیا گیا ہے تو یہ لفظ ” اللہ “ بن گیا۔ اللہ۔ اسم ذات ہے یعنی اللہ وہ ہے کہ جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا۔ نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ وحدہ لا شریک ہے۔ اسی طرح وہ تمام نظام کائنات چلانے میں بھی کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہی سب کا خالق ، مالک اور آقا ہے، نعمت ، ہدایت اور سب کا رزق اسی کے دست قدرت میں ہے۔ وہ سب کا مشکل کشا اور دستگیر ہے، سب کی توبہ قبول کرنے والا، اپنے بندوں پر بےانتہا مہربان ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر کوئی اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو کسی طرح بھی شریک کرتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ اور شرک اللہ کے ہاں ناقابل معافی جرم ہے۔ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے کسی مشرک اور ظالم قوم کو ڈھیل دینے کے باوجود جب اپنے عذاب میں پکڑا ہے تو پھر اس سے چھڑانے والا کوئی نہیں تھا۔ جب وہ مشرک اور ظالم قوموں کو مٹانے پر آتا ہے تو ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے کہ ان کے کھنڈرات بھی باقی نہیں بچتے۔ وہ اپنے نیک بندوں پر کرم فرماتا ہے تو انہیں دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی نعمتوں سے نواز دیتا ہے۔
Ayah 1:2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

(حمد): حمد کے معنی تعریف کرنا، شکر ادا کرنا، حمد وثنا کرنے کے آتے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” جس نے اللہ کی حمد نہ کی اس نے اس کا ذرا بھی شکر ادا نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ کی حمدو ثنا کرتا ہے درحقیقت اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے چاروں طرف اپنی اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے کہ ان کو شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ بس اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی ہزاروں نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کا شکر ادا کرتا رہے گا تو اللہ کی نعمتوں میں اضافہ ہی کرتا چلا جائے گا لیکن اگر اس نے نعمتیں پانے کے باوجود ناشکری کی روش کو اختیار کیا تو وہ اللہ کی سخت سزاؤں کے لئے بھی تیار رہے۔ (رب): رب کے معنی بہت وسیع ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ رب اس کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو آہستہ آہستہ پرورش کر کے اس کو کمال کی حد تک پہنچا دیتا ہے۔ وہ ہر ایک کا رب ہے وہ کسی قوم ، قبیلے، خاندان ، نسل اور علاقے اور زمانے کا رب نہیں ہے بلکہ وہ سب کا رب ہے اس کا ساری کائنات سے تعلق ایک جیسا ہے وہ اللہ کی فرماں برداری کرنے والی قوم ہو یا نافرمان مخلوق ۔ اس نے اپنی نعمتوں کو حاصل کرنے کی جدو جہد نہیں کرتا وہ ان سے محروم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر انسان کے لئے وہی ہے جس کے لئے وہ جدو جہد اور کوشش کرتا ہے (القرآن ) (العالمین ): العالم کی جمع ہے دنیا، جہان۔ اللہ نے جتنے جہان پیدا کیے ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں یا معلوم نہیں ہیں وہ تمام جہانوں کو پالنے والا اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ اس کائنات میں کتنے جہان اور دنیائیں ہیں ان کا پورا علم تو اللہ کو ہے البتہ ” امام وھب (رح) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ ہزار جہان پید اکئے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک جہان یہ ہماری دنیا بھی ہے۔ زمین، آسمان ، پہاڑ ، دریا، شجر و حجر، پانی میں رہنے والی مخلوق ، خشکی اور صحرا کے جانور، آسمان پر اڑنے والے پرندے، جنگل کے جانور اور درندے اور انسان ان میں سے ہر ایک کا جہان ہے۔ اللہ کو اپنی ساری مخلوق کا علم ہے جو جہاں بھی ہے وہ ان سب کا پرورش کرنے والا ہے۔
Ayah 1:3

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

(الرحمٰن الرحیم) : رحمٰن اور رحیم یہ دونوں الفاظ مبالغہ والے ہیں۔ مبالغہ یعنی کسی بات یا حقیقت کے اظہار کے لئے اس کو اہمیت دینے کے لئے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا ۔ ” رحمۃ “ کے لفظ سے یہ رحمٰن اور رحیم بنائے گئے ہیں۔ ان کے معنی ہیں ہر مخلوق پر بےانتہا مہربانیاں کرنے والا اللہ جس کے فضل و کرم سے یہ دنیا قائم ہے۔ جس نے اس دنیا کو پھیلا کر اس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے روحانی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا اور پھر ان پیغمبروں نے ساری دنیا کے انسانوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دی۔ رحمٰن و رحیم وہ ذات ہے جو دنیا اور آخرت میں کام آنے والی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ لفظ رحمٰن کا تعلق دنیا میں بسنے والے انسانوں سے ہے یعنی وہ اللہ جو اس کائنات میں بسنے والے انسانوں پر بےانتہا مہربان ہے۔ لیکن الرحیم کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہے یعنی وہ اللہ جس قدر اپنے بندوں پر اس دنیا میں مہربان ہے آخرت میں اس سے بھی زیادہ مہربان ہوگا۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر اس دنیا میں جتنا مہربان ہے آخرت میں اس سے نناوے درجے زیادہ مہربان ہوگا۔ جب قرآن کریم میں لفظ رحمٰن آیا تو عربوں نے بڑی حیرت سے کہا کہ یہ رحمٰن کیا ہے اور کون ہے تب اللہ تعالیٰ نے سورة رحمٰن نازل کر کے بتایا کہ اللہ اور رحمٰن دو ذاتیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی ذات کے دو نام ہیں۔ رحمٰن وہ ہے جس نے اپنے کرم سے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہی آخرت میں بھی کام آنے والا ہے۔
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

انصاف (قیامت) کے دن کا مالک ہے۔

(یوم الدین ): جزا اور سزا کا دن، بدلہ کا دن، حسان کا دن، اس کے ایک دوسرے معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دین سے مراد ” اسلام اور اطاعت کے ہیں “ یعنی قیامت کا دن وہ ہوگا جس میں اسلام اور اطاعت کے سوا کوئی چیز نفع نہ دے گی۔ درحقیقت ” یوم الدین “ کہہ کر سارے معانی کو ان دو لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

(اے اللہ) ہم آپ ہی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

(ایاک): ” تیری ہی “ ، ” تجھ سے ہی “ اور ” تو نے ہی “ ۔ ” ایا “ کے معنی ” ہی “ ۔ ” ک “ کے معنی ” تیرا تو نے “ کے آتے ہیں۔ اصل میں ” ایا “ کلمہ حصر ہے۔ یعنی ایا جس لفظ پر آتا ہے تو اس لفظ کے تمام معنی کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ ” ایاک نعبد “ ہم آپ ہی کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں یعنی اے اللہ ہم صرف آپ کی ہی عبادت کرتے ہیں۔ آپ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتے ۔ اسی طرح ” ایاک نستعین “ کے معنی ہوں گے کہ ہم صرف آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ کسی دوسرے در پر جا کر مدد نہیں مانگتے ۔ اے اللہ ہم آپ کے سوا کسی دوسرے کو مشکل کشا نہیں مانتے۔ ہر مشکل گھڑی میں صرف آپ ہی ہماری مدد کرسکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک بندہ اپنے اللہ سے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اے اللہ ہم نہ تو اور کسی کے سامنے اپنا سر جھکائیں گے۔ نہ آپ کو چھوڑ کر دوسروں سے مدد مانگیں گے۔ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں یہی وہ توحید خالص ہے جس پر چلنے کا قرآن کریم اور احادیث ہم سے مطالبہ کرتے ہیں۔ (نعبد ): ہم عبادت و بندگی کرتے ہیں ۔ یعنی اے اللہ ہماری ساری عبادتیں صرف آپ کے لئے ہیں۔ ہم آپ کے سوا نہ تو کسی کے سامنے اپنے سر جھکاتے ہیں اور نہ آپ کو در چھوڑ کر کسی اور در کی تمنا رکھتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ نعبد کا مطلب ہے نعبدک ولا نعبد غیر یعنی ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں اور ہم آپ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتے۔ جہاں عبادت کا اعلیٰ ترین مفہوم نماز پڑھنا ہے وہیں اللہ و رسول کے بتائے ہوئے تمام قوانین ، احکام اور تعلیمات پر اللہ کی رضا اور خوشنودی کے ساتھ عمل کرنے کے بھی ہیں۔ (نستعین): ہم مدد مانگتے ہیں۔ یعنی اے اللہ ہمارا کام چھوٹا ہو یا بڑا اس کے پورا ہونے میں ہم صرف آپ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ آپ ہی ہماری مدد فرمائیں گے۔ آپ ہی کی توفیق ہمارے شامل حال رہی ہے تو ہمارے سارے کام بالکل صحیح اور درست ہوجائیں گے۔ ہم آپ سے ہی اطاعت و فرماں برداری کی توفیق مانگتے ہیں۔ ہم آپ ہی کے در کے بھکاری ہیں۔ ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ ہم پر مہربانی فرما کر زندگی کے ہر معاملہ میں ہماری مدد فرمائیے۔
Ayah 1:6

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہمیں وہ راستہ دکھائیے جو سیدھا راستہ (صراط مستقیم ) ہو۔

(اھدنا): ہمیں ہدایت دیجئے۔ ہمیں راستہ دکھائیے۔ ہمیں منزل تک پہنچا دیجئے۔ ہدایت کے معنی ہیں راستہ دکھانا۔ راستے پر چلانا۔ جو بھی منزل مقصود ہو اس تک پہنچا دینا۔ ایک مومن ہر وقت سیدھے اور سچے راستے تک پہنچنے کی درخواست کرتا ہے۔ کیونکہ کہ زندگی میں خطرناک موڑ آتے رہتے ہیں۔ اگر اللہ کی مدد شامل نہ ہو تو قدم قدم پر بہکنے اور پھسلنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ نفس اور شیطان انسان کو بہکانے اور ڈگمگادینے کے ہزاروں دلکش راستے دکھاتے رہتے ہیں۔ اس لئے اس ہدایت اور رہنمائی کی آرزو ہر دل میں ہر آن رہنی چاہئے جو صرف اللہ نے اپنے دست قدرت میں رکھی ہوئی ہے۔ (الصراط المستقیم): سیدھا سچا راستہ۔ صراط مستقیم۔ ایک مومن اپنے اللہ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ الٰہی ! ہمیں وہ سیدھا اور سچا راستہ دکھا دیجئے جس کا آپ کا فضل و کرم شامل ہو یعنی نیک اور برگزیدہ ہستیوں کا راستہ۔ ثابت قدمی اور صبرو تحمل کا راستہ۔ کامیابی کا راستہ ، راستے کی وہ توفیق جو ہمیں اس دنیا اور آخرت میں نجات عطا کر دے اور منزل مراد تک پہنچا دے۔
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان لوگوں کا راستہ جو اس پر چلے تو آپ کے انعام وکرم کے مستحق بن گئے۔ (اور اے اللہ) وہ لوگ جن پر آپ کا غضب نازل کیا گیا یا جو لوگ راستے سے بھٹک جانے والے ہیں۔ ان لوگوں کے راستے پر نہ چلائیے گا۔ (آمین ۔ اے اللہ ایسا ہی ہو)

(انعمت علیھم ): جن لوگوں پر آپ نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ ایک بندہ اللہ سے درخواست کرتا ہے کہ ہمیں اس راستے پر چلائیے جو آپ کا پسندیدہ راستہ ہے وہ راستہ نہیں ہے جسے ہم سیدھا راستہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ کہ دنیا میں ایسا کون آدمی یا جماعت ہے جو اپنے آپ کو صحیح نہ سمجھتا ہو۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ میں نے جس راستے کو اختیار کیا ہوا ہے وہی سیدھا اور سچا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کہو الٰہی ! ان لوگوں کے راستے کی طرف ہماری رہنمائی فرما دیجئے جو آپ کے حکم کے مطابق چلے تو وہ کامیاب ہوگئے اور آپ کے کرم کے مستحق بن گئے۔ وہ کون لوگ ہیں سورة نساء میں فرمایا گیا ہے وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام وکرم کیا یعنی انبیاء کرام (علیہ السلام) ، صدیقین، شھدا اور صالحین جن کی رفاقت بھی سب سے بہترین رفاقت اور ساتھ ہے (سورۂ نساء آیت 69) (غیر المغضوب علیھم): نہ (ان لوگوں کا راستہ) جن پر غضب کیا گیا۔ یعنی اے اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر تو چلائیے گا جو آپ کے برگزیدہ ، نیک اور عظیم بندے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے راستے پر نہ چلائیے گا جو چلتے چلتے آپ کے غصہ اور غضب کا شکار ہوگئے۔ (ولا الضالین ): نہ (ان لوگوں کا راستہ دکھائیے گا) جو راستے سے بھٹک جانے والے تھے۔ جنہوں نے آپ کی اطاعت اور فرماں برداری سے منہ موڑ لیا تھا۔ جو راستے پر چلتے چلتے بھٹک گئے تھے۔ مغضوب اور ضالین کون لوگ ہیں۔ اس کی وضاحت کے لئے حضرت عدی ؓ ابن حاتم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جن لوگوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اس سے مراد یہودی ہیں اور جو لوگ راستے سے بھٹکنے والے لوگ ہیں وہ نصاریٰ (عیسائی) ہیں (مسند احمد۔ تفسیر مظہری) علماء مفسرین نے مغضوب اور ضالین میں تمام کفار، مشرکین، اللہ کے نافرمانوں اور بد نیتوں کو بھی شامل فرمایا ہے۔ یہودیوں کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو جو اللہ کے پیغمبر تھے ان کو اللہ کا بیٹا بنا ڈالا تھا۔ اسی طرح ہر نعمت پر شکر ادا کرنے کے بجائے نا شکری کی روش اختیار کی۔ اس لیے اللہ کا غصہ اور غضب اس قوم پر نازل ہوا۔ نصاریٰ (عیسائیوں) کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کے پیغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر بدعتوں ، گمراہیوں اور رسموں میں اس طرح پھنس گئے کہ انہوں نے اپنے بزرگوں اور راھبوں کو معبود کا درجہ دے دیا ان راہبوں نے جس چیز کو حرام یا حلال کردیا نصاریٰ نے آنکھ بند کر کے اس کو حرام و حلال سمجھ لیا۔ ان جہالتوں اور بدعتوں کی وجہ سے وہ اپنے راستے سے بھٹک کر اللہ کی رحمتوں سے دور ہوگئے۔ سورة فاتحہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کی حمد و ثنا کر کے جب ایک بندے نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ الٰہی میں عبادت بھی آپ ہی کی کروں گا اور آپ ہی سے ہر طرح کی مدد مانگوں گا۔ پھر اس بندے نے اللہ کی بارگاہ میں یہ درخواست بھی پیش کردی کہ الٰہی ! ہمیں وہ سیدھا سچا راستہ دکھا دیجئے جس پر آپ کے نیک اور برگزیدہ بندے چلے تو آپ کے انعام وکرم کے مستحق بن گئے لیکن اے اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستے سے بچا لیجئے گا جو یا تو آپ کے غضب کا شکار ہوگئے یا وہ گمراہی کے راستے پر چل پڑے اور بھٹک کر اپنی منزل سے بہت دور نکل گئے۔ جب بندے نے اللہ سے یہ درخواست پیش کردی تو اللہ تعالیٰ نے پورا قرآن کریم سامنے رکھ کر فرما دیا کہ اے بندے تو جس سیدھے سچے راستے کی طلب کر رہا ہے وہ میرا کلام یعنی قرآن مجید ہے راستہ ہم نے تمہیں دکھا دیا ہے اس راستے کو پوری طرح سمجھانے کے لئے ہم نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو بھیج دیا جو اس کلام کی ایک ایک بات کی وضاحت فرمائیں گے۔ وہ جس طرف تمہارا ہاتھ پکڑ کرلے چلیں اسی طرح چلو اس طرح تم اپنی منزل مراد کو پالو گے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں تم ان کے دامن اطاعت و محبت سے وابستہ ہوجاؤ کبھی راستے سے نہ بھٹکو دے اور تم اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن جاؤ گے۔ (آمین ) سورة فاتحہ جب ختم ہوجائے تو سنت طریقہ یہ ہے کہ ” آمین “ کہی جائے۔ جس کا ترجمہ ہے ” اے اللہ ایسا ہی ہو “ ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام والا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیوں کہ اس وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ اور جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی تو اس کے گذشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے (بخاری ومسلم) اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم عطا فرمائے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) صدیقین ، شہداء اور صالحین جیسے مقبول بندوں کا ساتھ عطا فرمائے اور ہمیں مقبول بندوں کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔