Ayah 1:1سورة فاتحہ کے اسماء اور فضائل
سورۂ فاتحہ مکی ہے، بعض علماء نے اسے مدنی بھی کہا ہے اور بعض علمائے تفسیر نے فرمایا کہ یہ سورت دو بار نازل ہوئی ہے ‘ ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں، اس سورت کے بہت سے نام ہیں۔ سب سے زیادہ مشہور نام الفاتحہ ہے، تفسیر اتقان میں پچیس نام ذکر کئے ہیں ‘ جن میں چند نام یہ ہیں : فاتحۃ الکتاب، فاتحۃ القرآن، ام الکتاب، ام القرآن، السبع المثانی، سورة المناجاۃ، سورة السوال، سورة الحمد، سورة الشکر۔
سورۂ حجر میں فرمایا ہے : (وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ) ” اور ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں۔ جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم دیا۔ “
السبع (سات) اس لیے فرمایا کہ اس میں سات آیات ہیں اور مثانی اس لیے فرمایا کہ یہ سورت بار بار پڑھی جاتی ہے۔ امام بخاری ؓ اپنی کتاب صحیح بخاری 642 ج 2 میں فرماتے ہیں کہ سورة فاتحہ کا نام ام الکتاب اس لیے رکھا گیا کہ یہ مصاحف میں بالکل شروع میں لکھی جاتی ہے اور نماز میں بھی اسی سے قرأت شروع کی جاتی ہے اور فاتحہ کی یہ بھی بہت بڑی فضلیت ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔
احادیث شریفہ میں سورة فاتحہ کی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ صحیح بخاری ص 642 ج 2 میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سورة فاتحہ کو اعظم سورة فی القرآن (یعنی قرآن کی عظیم ترین سورت) فرمایا۔ سنن ترمذی میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سورة فاتحہ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم اس جیسی سورت نہ توریت میں اتاری گئی نہ انجیل میں نہ زبور میں نہ قرآن میں (باب ماجاء فی فضل فاتحۃ الکتاب) حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سورة فاتحہ کو افضل القرآن بتایا۔ (درمنثورص 5 ج 1) بعض احادیث میں سورة فاتحہ کو دو تہائی قرآن کے برابر فرمایا ہے۔ (درمنثورص 5 ج 1)
حضرت ابوامامۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں اس خزانہ سے اتاری گئی ہیں جو عرش کے نیچے ہے۔ ان چار کے علاوہ اس میں سے کوئی چیز نہیں اتاری گئی (1) ام الکتاب (2) آیۃ الکرسی (3) سورة بقرہ کی آخری آیات (4) سورة کوثر۔ (درمنثورص 5 ج 1 عن الطبرانی والضیاء المقدسی فی المختارۃ)
حضرت مجاہد تابعی ؓ نے فرمایا کہ ابلیس ملعون چار مرتبہ رویا، ایک تو اس وقت رویا جب سورة فاتحہ نازل ہوئی، دوسرے اس وقت جب وہ ملعون قرار دیا گیا، تیسرے جب زمین پر اتارا گیا، چوتھے جب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی۔ (درمنثورص 5 ج 1)
صحیح مسلم ص 271 ج 1 میں ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) فخر عالم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا، ایک فرشتہ نازل ہوا، حضرت جبریل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا۔ اس فرشتہ نے آنحضرت ﷺ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ آپ خوشنجری سن لیجئے، دو نور آپ کو ایسے ملے ہیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے : (1) فاتحۃ الکتاب (2) سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں (ان میں دعا ہے اور چونکہ یہ دعا اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہے اس لیے مقبول ہے) ان دونوں میں سے جو بھی کچھ تلاوت کریں گے اللہ تعالیٰ ضرور آپ کا سوال پورا فرمائیں گے۔
تفسیر اتقان میں ہے کہ حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا کہ سورة فاتحہ میں (اجمالی طور پر) قرآن شریف کے تمام مقاصد اور مضامین جمع کردیئے ہیں۔ یہ سورت مطلع القرآن ہے اور یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ یہ سورت پورے قرآن شریف کے لیے براعت استہلال کا حکم رکھتی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ قرآن شریف اور تمام آسمانی ادیان چار علوم پر مشتمل ہیں۔ اول علم الاصول جس میں تین چیزیں ہیں۔ (1) اللہ پاک کی ذات وصفات کو جاننا، اس کی طرف سورة فاتحہ میں شروع کی دو آیتوں میں اشارہ ہے۔ (2) نبوت و رسالت، اس کی طرف (اَلَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) میں ارشاہ ہے۔ (3) قیامت اس کی طرف (مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) میں اشارہ ہے۔ دوم علم العبادات، اس کی طرف (اِیَّاکَ نَعْبُدُ ) میں اشارہ ہے۔ سوم، علم السلوک یعنی نفس کو آداب شرع کا پابند بنایا اور احکام خداوندی کی فرماں برداری پر آمادہ کرنا اس کی طرف (وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) میں اور (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ) میں اشارہ ہے۔ چہارم علم القصص یعنی گزشتہ امتوں کے واقعات، ان واقعات سے یہ غرض ہے کہ فرماں برداروں کی سعادت و کامیابی اور نافرمانوں کی بدبختی و بربادی معلوم کرکے عبرت حاصل کی جائے۔ اس مقصد کی طرف (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ ) میں اشارہ ہے۔
مسلم شریف ص 170 ج 1 میں ہے کہ آنحضرت فخر عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے نماز کو (یعنی نماز کے اہم ترین حصہ کو) اپنے اور بندہ کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا ہے اور بندہ جو سوال کرے اس کے لیے وہی ہے (اس کے بعد اس تقسیم کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی کہ) جب بندہ کہتا ہے : (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ ) (یعنی میرے بندہ نے میری تعریف کی) پھر جب وہ کہتا ہے : (اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (اَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ ) (یعنی میرے بندہ نے میری بڑائی بیان کی) پھر جب وہ کہتا ہے : (مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ ) (یعنی بندہ نے میری بزرگی بیان کی) پھر جب وہ کہتا ہے : (اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان ہے اور میرا بندہ جو سوال کرے اس کے لیے وہی ہے۔ (یہ آیت اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جہاں بندہ نے اپنی بندگی کا اعلان اور اقرار کیا اور مدد مانگنے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کو خاص کرلیا اور مان لیا اور اس طرح خود کو رحمت ونعمت کی نوازش کے قابل بنا لیا وہاں اس نے بلا شرکت غیرے اللہ پاک کی معبودیت کا بھی اعلان کیا اور یہ بھی مانا اور جانا اور دوسروں کو بتایا کہ جس سے مدد مانگی جائے وہ صرف اللہ پاک رؤف ورحیم احد و صمد ہے جو سب کچھ دے سکتا ہے اور جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے قبضہ میں ہر چیز ہے اور جس کسی کے پاس قلیل و کثیر جو کچھ بھی ہے سب اسی کا دیا ہوا ہے) پھر جب بندہ کہتا ہے : (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْن) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرا بندہ جو سوال کرے اس کے لیے وہی ہے۔
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
تعوذ اور تسمیہ کا بیان :
جب قرآن مجید کی تلاوت شروع کی جائے تو اوّل (اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ) پڑھا جائے سورة نحل میں ارشاد ہے : (فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ) (سو جب تو قرآن پڑھنا شروع کرے تو اللہ کی پناہ مانگ شیطان مردود سے) اور اس کے بعد (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم) پڑھا جائے۔
جب کسی مکان میں رہنے کا ارادہ کیا جاتا ہے تو اس کو تکلیف دینے والی چیزوں سے صاف ستھرا کرتے ہیں پھر اس کو زینت دیتے ہیں یعنی رنگ و روغن کرتے ہیں۔ اسی طرح سے جب تلاوت شروع کریں تو پہلے اپنے دل کو شیطان مردود کے وسوسوں سے پاک کریں۔ اس کے لیے (أَعُوْذُ باللّٰہِ ) (آخر تک) پڑھی جائے۔ پھر اللہ کا نام لے کر دل کو مزین کریں۔ نماز میں سب سے پہلے سورة فاتحہ پڑھی جاتی ہے اور اس کو شروع کرنے سے پہلے دل کو شیطانی وسوسوں سے صاف کیا جاتا ہے اور اللہ کے نام سے دل کو مزین کیا جاتا ہے۔ جب آدمی نماز شروع کرے تو ان چیزوں سے ذہن فارغ کرلے جن میں شیطان لگائے رہتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل بنانے والی ہیں۔
سورۂ فاتحہ کے علاوہ بھی جب کوئی سورت شروع کرے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے، البتہ سورة انفال ختم کرکے سورة برأت شروع کرے تو بسم اللہ نہ پڑھے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم قرآن کی ایک آیت ہے جو سورتوں کے درمیان فصل کرنے کے لیے نازل کی گئی ہے۔ لیکن سورة فاتحہ یا اس کے علاوہ کسی دوسری سورت کا جزو نہیں ہے۔ البتہ سورة نمل کے دوسرے رکوع میں جو ایک جگہ (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم) ہے وہ سورة نمل کا جزو ہے۔ ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة فاتحہ میں سات آیات ہیں جو حضرات (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم) کو سورة فاتحہ کا جزو مانتے ہیں وہ اس کو ایک آیت شمار کرتے ہیں اور (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) سے لے کر ختم سورت تک چھ آیات شمار کرتے ہیں (حضرت امام شافعی ؓ کا یہی مذہب ہے) اور جن ائمہ اور قراء کے نزدیک (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ ) سورة فاتحہ کا جزو نہیں ہے ان کے نزدیک (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ ) ساتویں آیت ہے۔ (معالم التنزیل ص 39 ج 1)
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ کو سورت ختم ہونے کا علم نہ ہوتا تھا جب تک (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم) نازل نہ ہوجاتی تھی۔ جب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْکا نزول ہوتا تو آپ سمجھ لیتے تھے کہ سورت ختم ہوگئی اور اب نئی سورت شروع ہو رہی ہے۔ (درمنثورص 7 ج 1)
تفسیر معالم التنزیل ص 7 3 ج 1 میں لکھا ہے کہ (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم) ہر سورت کے شروع میں ہونا اللہ پاک کی طرف سے بندوں کو تعلیم ہے کہ قرأت سے پہلے اس کو پڑھیں اور قرأت شروع کرنے کا ادب جان لیں۔
Ayah 1:2سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں
اوّل کی تین آیات میں اللہ پاک کی تعریف اور اسم ذات اور اللہ پاک کی بڑی بڑی صفات ذکر کی گئی ہیں جو دیگر صفات کمالیہ کو بھی شامل ہیں۔
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ اس دعویٰ کو واضح اور ثابت کرنے میں مذکورہ صفات کو بڑا دخل ہے یعنی جو ذات پاک ایسی ایسی صفات سے متصف ہے ظاہر ہے کہ ہر تعریف کی مستحق ہے۔ جتنی تعریفیں آج تک ہوئی ہیں یا آئندہ دنیا و آخرت میں ہوں گی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تعریف کسی نے کی ہے یا آئندہ کوئی کرے گا اس کا اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہونا تو ظاہر ہے اور جو تعریفیں اس کی مخلوق کی کی جاتی ہیں یا آئندہ کی جائیں گی یا گزشتہ تمام زمانوں میں ہوچکی ہیں وہ بھی درحقیقت اللہ پاک کی ہی تعریفیں ہیں کیونکہ ہر صاحب کمال کو اس نے وجود بخشا ہے اور کمال سے نوازا ہے اور کمال اور صاحب کمال کی پرورش فرمائی ہے اور اپنی رحمت سے ان کمالات کو باقی رکھا ہے۔ لِلّٰہِ میں لام اختصاص اور استحقاق کے لیے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ محمود حقیقی اور مستحق حمد اللہ تعالیٰ ہی ہے اگر کوئی اللہ کی حمد نہ کرے تو اس کی محمودیت حقیقیہ میں ذرا فرق نہیں آتا۔
رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کا معنی اور مطلب :
رَبٌّ عربی زبان میں بمعنی مالک آتا ہے اور بمعنی پروردگار (پالنے والا) بھی آتا ہے (معالم التنزیل) یہاں دونوں معنی درست ہیں۔ اللہ پاک تمام جہانوں کے مالک ہیں اور پالنے والے بھی۔ الْعٰلَمِیْنَ عالم کی جمع ہے۔ عالم (بروزن فاعل بفتح العین) علم سے لیا گیا ہے۔ عربی قاعدہ کی رو سے فاعل کا وزن مادۂ اشتقاق کے آلہ کے لیے آتا ہے عالم کا مادۂ اشتقاق علم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق عالم ہے۔ اس لیے کہ اپنے خالق (پیدا کرنے والے) کے معلوم ہونے کا ذریعہ ہے۔ یوں تو ساری مخلوق بہ حیثیت مخلوق کے ایک عالم ہے لیکن مخلوق کی بیشمار قسمیں ہیں۔ ہر قسم کو علیحدہ علیحدہ عالم قراد دیکر جمع (عالمین) لائی گئی گویا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خدائے پاک کے جاننے اور پہچاننے کے لیے ایک عالم (بلکہ اس کا ایک ذرہ بھی) کافی ہے لیکن عالم اتنے زیادہ اور بیشمار ہیں کہ ان کو دیکھ کر اگر کوئی کوڑھ مغز بد باطن خدائے پاک کو نہ پہچانے تو اس کی محرومی، بدنصیبی، جہالت کی بھی تردید ہے جو بعض مخلوقات کو معبود مانتے ہیں اور خالق کو چھوڑ کر مخلوق و مملوک کے سامنے جبین نیاز رکھتے ہیں۔ مقاتل بن حیان نے فرمایا کہ عالم اسی ہزار ہیں، چالیس ہزار خشکی میں اور چالیس ہزار سمندر میں۔
حضرت وہب بن منبہ ؓ نے فرمایا کہ عالموں کی تعداد اٹھارہ ہزار ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جو جناب کعب الاحبار نے فرمائی کہ عالموں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا انہوں نے اپنے استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی : (وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ الاَّ ھُوَ ) (معالم التنزیل ص 40 ج 1)
اللہ جل شانہ، سارے جہانوں کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اور پرورش کرنے والا بھی اس نے صرف وجود ہی نہیں دیا بلکہ مخلوق کو زندہ رکھنے کے اسباب بھی پیدا فرمائے۔ وہ رزق بھی دیتا ہے کھلاتا پلاتا بھی ہے ہر فرد تک رزق پہنچاتا ہے۔ جب کھانے والارزق کھا لیتا ہے تو وہ اس رزق کو پچاتا ہے۔ جس سے جسم بڑھتا ہے خون پیدا ہوتا ہے رگوں میں دوڑتا ہے اور یہ سب بقائے حیات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جتنے بھی اسباب معاش ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائے ہیں۔ ان سب سے شان ربوبیت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ نئی نئی تحقیقات سے اجسام کے پلنے بڑھنے کے جو راز منکشف ہوئے ہیں انسانی عقل و شعور کے لیے بہت حیرت ناک ہیں۔ زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کو دیکھا جائے۔ طرح طرح کے غلے پھل اور میوے مختلف سبزیاں ترکاریاں وجود میں آرہی ہیں انسان اور جانور ان کو کھاتے ہیں اور پرورش پاتے ہیں۔ جس کا جو رزق مقرر ہے وہ اس کو ضرور پہنچ کر رہتا ہے ایک براعظم کی پیدا شدہ چیزیں دوسرے براعظم کے لوگ کھاکر اور استعمال کرکے جی رہے ہیں۔
پالنے کے مفہوم میں صرف جسمانی، غذائیں ہی نہیں آتیں بلکہ ہر وہ چیز آجاتی ہے جو زندگی اور بقا کا ذریعہ ہو۔ اجسام کی پرورش کے ساتھ روح کی پرورش بھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو زندگی کے لیے اصل چیز ہے اور جو معیشت کے آلات اور اسباب ہیں اور جو جسم کے اعضاء اور جوارح ہیں۔ یہ سب پرورش کا ذریعہ ہیں۔
Ayah 1:3بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ :
یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں رحم سے مشتق ہیں، بعض علماء کا قول ہے کہ دونوں کا ایک معنی ہے اور اکثر علماء یہ فرماتے ہیں کہ رحمن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے چونکہ دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں۔ اس لیے ہر ایک کے ترجمہ میں معنی مبالغہ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ رَحْمٰن اللہ پاک کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور رحیم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کی مخلوق کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ کما قال تبارک و تعالیٰ فی شان نبیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام (بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ط)
اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ کا برابر مظاہرہ ہوتا رہتا ہے وہ ساری مخلوق پر رحم فرماتا ہے، سب کا وجود اور بقا آرام و سکون سب اسی کی رحمت سے ہے۔
Ayah 1:4مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ
دین جزا اور بدلہ کو کہتے ہیں یَوْمِ الدِّیْنِ بدلہ کا دن۔ اس سے قیامت کا روز مراد ہے۔ اس روز خیر وشر کے بدلوں کا فیصلہ ہوگا ہر شخص اپنے اپنے عمل کا نتیجہ پائے گا۔ اللہ پاک کے رحم و کرم کے سوا کوئی راستہ جان چھوٹنے کا نہ ہوگا اگر کوئی سفارش کرنا چاہے گا تو بغیر اجازت مالک یوم الدین جل مجدہ، سفارش نہیں کرسکے گا۔ اس روز کسی کی مجازی حکومت و حاکمیت بھی نہ ہوگی۔ قال اللّٰہ تعالیٰ شانہٗ (اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذِ ط نِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۔ و قال جل جلالہ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ۔ وقال عزاسمہ یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْءًا وَّ الْاَمْرُ یَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِ ) اللہ تعالیٰ شانہ صرف قاضی یوم الدین ہی نہیں بلکہ (مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) بھی ہے بعض مرتبہ دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ قاضی (جج) فیصلہ تو کرتا ہے مگر ملک اور قانون کا مالک نہیں ہوتا۔ بادشاہ ملک یا مجلس قانون ساز کے مرتب کردہ دستور کا پابند ہوتا ہے اور اسی کے دائرہ قانون میں فیصلہ کرتا ہے۔ اللہ جل شانہٗمٰلِکَ الْمُلْکِ ہے قاضی روز جزا ہے اور ملک روز جزا بھی۔ اس پر کسی کا کوئی قانون اور کوئی حکم لاگو نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ رد نہیں ہوسکتا، اس کے خلاف اپیل نہیں ہوسکتی ...... وہاں دنیا کے حاکموں اور فیصلے کرنے والوں کے فیصلے بھی ہوں گے اور جانوروں تک نے جو ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کی تھی۔ اس کا بھی فیصلہ ہوگا۔ دنیا کے بادشاہ اور بڑے بڑے تسلط اور دبدبہ والے مجرموں کی صف میں کھڑے ہوں گے اور اپنے اپنے عمل اور کردار کا فیصلہ سنیں گے اور اس فیصلے کے مطابق عمل ہوگا۔ (لَا مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ وَ ھُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) ۔
Ayah 1:5معبود اور مستعان صرف اللہ کی ذات ہے :
شروع سورت سے (مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) تک اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کا بیان تھا۔ اس بیان میں اگرچہ غیبت کا عنوان تھا لیکن جب بندہ نے مستحق حمد کی حمد بیان کرنے میں صفات کمال اور مظاہرہ جلال و جمال کا یقینی طور پر تصور کرلیا تو اس مستحق حمد سے خطاب کرنے اور مراد مانگنے کے لیے جذبہ میں آکر خطاب کرنے لگا، اول مخاطب ہو کر یہ اعلان کیا کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں، اور پھر اپنی سب سے بڑی ضرورت کا سوال کیا کہ ہم کو صراط مستقیم دکھا دے اور بتادے، کاضمیر خطاب نَعْبُدُ اور نَسْتَعِیْنُ کا مفعول ہے اس کو ضمیر منفصل بنا کر فعل سے مقدم لانے سے معنی میں حصر پیدا ہوگیا۔ اہل بلاغت نے بتایا ہے کہ تقدیم ماحقہ التا خیر مفید حصر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ترجمہ یہ ہوگیا کہ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ سورة فاتحہ پڑھنے والا گو واحد شخص ہوتا ہے۔ لیکن صیغہ جمع متکلم لاکر دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شریک کرلیتا ہے۔ اور اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ ساری مخلوق کا تو ہی معبود ہے اور سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ جو لوگ مشرک ہیں وہ گمراہ ہیں اور غلطی پر ہیں ان کا معبود حقیقی بھی تو ہے ہم ساری بنی نوع انسان کی طرف سے اور سارے جنات اور فرشتوں کی طرف سے بلکہ ساری مخلوق کی طرف سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ صرف تو ہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے بعد یوں عرض کیا کہ ہم صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ جب خداوند قدوس جل مجدہ، ہر چیز کا خالق بھی مالک بھی ہے معبود حقیقی بھی ہے۔ قادر مطلق بھی ہے تو اس کے سوا کوئی نہیں جس سے مدد مانگی جائے۔ عبادت بھی صرف اسی کی کرتے ہیں اور مدد بھی صرف اسی سے لیتے ہیں اس میں بھی صیغہ خطاب کا استعمال کیا اور اعلان کیا کہ اے اللہ ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ تو ہی مدد کرنے والا ہے تیرے سوا کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معبود اور مددگار ماننے کے بعد کسی دوسرے کو عبادت اور استعانت (مدد مانگنے) کے لیے پکارنا اعلان (اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس آیت میں شرک فی العبادۃ اور شرک فی الاستعانت دونوں کی نفی علیٰ وجہ الکمال کردی گئی ہے۔ دیوی، دیوتا، مزار، قبرولی، پیر، تعزیہ یا اور کسی چیز کو حاجت روا مشکل کشا سمجھنا اور اس کے سامنے سجدہ کرنا شرک ہے۔
Ayah 1:6صراط مستقیم کی دعا :
راہِ حق کو دکھانا اور مطلوب حق تک پہنچانا یہ سب کچھ ہدایت کے مفہوم میں داخل ہے۔ مدد مانگنے کے ذیل میں جہاں اور باتیں ہیں وہاں ہدایت کی طلب بھی ہے اور در حقیقت ہدایت ہی مخلوق کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ اگر سب کچھ موجود ہو اور بندہ ہدایت پر نہ ہو عقیدہ اور عمل سے گمراہ ہو تو دنیاوی چیزوں سے تھوڑا بہت فائدہ اٹھا کر عذاب دوزخ میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ اس اعتبار سے حقیقی نعمت ہدایت ہی ہوئی۔ لہٰذا یہ کہہ کر کہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں فوراً ہدایت کا سوال کیا گیا۔ یعنی صحیح راستہ پر چلانے کی دعا کرلی گئی۔ صحیح راستہ کون سا ہے اس کی تعیین کے لیے (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) لایا گیا جس کی تفسیر ابھی آتی ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ مؤمن ہیں قرآن کو مانتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں وہ تو ہدایت پر ہیں ہی ان لوگوں سے بار بار ہدایت کا سوال کیوں کرایا جاتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہدایت یافتہ ہوتے ہوئے ہدایت کی دعا کرنا موت تک ہدایت پر جمے رہنے اور ثابت قدم رہنے کا سوال ہے جیسا کہ دوسری آیت میں اہل ایمان کی دعا کا اس طرح تذکرہ فرمایا ہے۔
(رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃًج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ) (اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو حق سے نہ ہٹا دیجیے بعد اس کے کہ آپ نے ہمیں ہدایت دی اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرما دیجیے، بیشک آپ بہت زیادہ دینے والے ہیں)
قال النسفی ای ثبتنا علی المنھاج الواضح کقولک للقائم قم حتی اعود الیک ای اثبت علی ما انت علیہ أو اھدنا فی الاستقبال کما ھدیتنا فی الحال (مدارک التنزیل ص 7 ج 1)
(علامہ نسفی ؓ فرماتے ہیں : یعنی آپ ہمیں واضح شاہراہ پر ثابت قدم رکھیں۔ جیسے آپ کھڑے ہوئے کو کہیں قُمْ (کھڑا رہ) یہاں تک کہ میں تیرے پاس واپس آؤں یعنی جس طرح تم کھڑے ہو اسی طرح کھڑے رہو یا (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ) کا معنی ہے کہ یا اللہ ! آپ ہمیں مستقبل میں بھی اسی طرح ہدایت سے مشرف رکھیں جس طرح حال میں ہدایت سے مشرف رکھا ہے۔ )
Ayah 1:7صراط مستقیم والے کون حضرات ہیں :
(صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) ان الفاظ میں صراط مستقیم کی تعیین کردی گئی۔ صراط مستقیم ( سیدھا راستہ) کیا ہے جتنی جماعتیں اور قومیں دنیا میں بستی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ہدایت پر ہی سمجھتے ہیں، لیکن وہ کون سا راستہ ہے جسے سیدھا راستہ مانا جائے اور جس پر چلنے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوگی اور آخرت میں نجات ہوگی۔ اس کے بتانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا راستہ صراط مستقیم ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔ یہ حضرات کون ہیں ان کا ذکر سورة نساء کی اس آیت میں ہے۔
(وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا) (اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرما نبرداری کرے یہ اشخاص ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں) اس سے واضح ہوگیا کہ ان حضرات پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے۔ سورة فاتحہ میں انہی حضرات کے راستہ کو صراط مستقیم یعنی صحیح اور سیدھا راستہ بتایا ہے۔
مغضوب علیھم اور ضالین کے راستہ سے بچنے کی دعاء :
(غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ ) (جن پر غصہ نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہیں) یہ (الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) کی صفت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے اللہ جن حضرات پر آپ نے انعام فرمایا ہے۔ یہ وہ حضرات ہیں جن پر آپ کا غصہ نہیں اور جو گمراہ نہیں ہیں۔ مفسر ابن کثیر نے بعض روایات ایسی نقل کی ہیں۔ جن میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ ) سے یہود اور الضَّآلِّیْنَسے نصاریٰ مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ یہودیوں کے بارے میں سورة بقرہ میں فرمایا (فَبَآءُ وْابِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ) کہ وہ غصہ پر غصہ کے مستحق ہوئے اور نصاریٰ کے بارے میں سورة مائدہ میں فرمایا۔
(وَ لَا تَتَّبِعُوْٓا اَھْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآء السَّبِیْلِ ) (ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو پہلے گمراہ ہوچکے ہیں اور انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور سیدھے راستہ سے بھٹک گئے) یہودیوں نے علم ہوتے ہوئے علم کو کھو دیا اور حق کو ٹھکرا دیا، نصاریٰ علم کے مدعی نہ تھے اور علم سے خالی بھی تھے لیکن اپنے آپ کو عبادت گزار سمجھتے تھے۔ ان کے راہب پہاڑوں میں رہتے تھے اور عبادت میں طرح طرح کی مشقتیں جھیلتے تھے اور عبادت کے طریقے انہوں نے خود نکالے تھے۔ یہ لوگ راہ حق سے ہٹے اور گمراہ ہوئے، جو شخص علم ہوتے ہوئے عمل چھوڑ دے وہ زیادہ مستحق غضب ہوتا ہے۔ اس لیے صفت مغضوبیت یہودیوں کے لیے خاص طور سے ذکر کی گئی اور نصاریٰ نے عمل کا ارادہ تو کیا لیکن بےعلمی کی وجہ سے طریقہ غلط اختیار کر گئے اور اتباع حق کو چھوڑ کر بےراہ ہوگئے۔
مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور اس پر عمل بھی ہو، پھر لکھتے ہیں۔ و کل من الیھود و النصاریٰ ضال مغضوب علیہ لکن اخص اوصاف الیھود الغضب واخص اوصاف النصاری الضلال ( ص 29 ج 1) یعنی ہیں تو دونوں ہی (یہود ونصاری) گمراہ اور مغضوب علیہ، لیکن مغضوبیت کی شان یہودیوں میں زیادہ ہے۔ ( اس لیے خصوصیت کے ساتھ ان کی طرف مغضوبیت کی نسبت کی گئی) اور نصاریٰ کے اوصاف میں خاص طور پر ضلال زیادہ واضح ہے۔ ( اس لیے ان کو ضالین فرمایا)
یہودیوں کی شرارت، عناد اور مکاریاں اور دسیسہ کاریاں جو سورة بقرہ میں اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہیں ان کے جاننے کے بعد ہر صاحب عقل یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ یہ لوگ قصداً وارادۃً ایسی حرکتیں کرتے تھے جن سے اللہ تعالیٰ کے غصہ کے زیادہ سے زیادہ مستحق ہوتے چلے گئے۔
سورۂ فاتحہ کے ختم پر اہل ایمان سے یہ دعا کرائی گئی ہے کہ یہودیوں اور نصرانیوں دونوں جماعتوں کے طریقوں سے علیحدہ اور بیزار رہیں۔ نماز میں بار بار سورة فاتحہ پڑھتے ہیں اور یہود و نصاریٰ کے طریقوں سے بچنے کی دعا مانگتے ہیں۔ اب مسلمان غور کرلیں کہ وہ ان دونوں جماعتوں کے طور طریق سے کس قدر دور ہیں اور جن حضرات پر انعام ہوا یعنی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) ‘ صدیقین اور صالحین ان کے طریقوں سے کتنے قریب ہیں۔ حکومت، سیاست، معاشرت، شکل و صورت، لباس، کسب مال، تجارت، معیشت و معاشرت، غرضیکہ زندگی کے ہر شعبہ میں غور کرلیں۔ امت محمدیہ ﷺ میں یہود و نصاریٰ کی مشابہت اور ان کا اتباع پایا جاتا ہے عوام میں بھی اور خواص میں بھی، جو لوگ نماز پڑھتے ہیں اور نماز میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں مغضوب علیہم اور ضالین کے راستہ سے بچا وہ لوگ بھی ان کی اتباع سے پرہیز نہیں کرتے۔ بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ اس امت میں سے جو عالم بگڑے گا اس کے اندر یہود کی صفات سے مشابہت ہوگی اور جو عابد بگڑے گا اس کے اندر نصاریٰ کی مشابہت ہوگی درحقیقت صحیح فرمایا امت کا حال نظروں کے سامنے ہے جو مغضوب ہیں اور ضالین ہیں عام لوگوں کو انہیں کے طریقے محبوب ہیں۔ ( اعاذنا اللّٰہ من ذلک)
جن حضرات پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ان کے راستہ کے علاوہ جتنے بھی دین، مذہب، فرقے، جماعتیں، پارٹیاں ہیں سب ہی صراط مستقیم سے خارج ہیں اور مومن موحد کے لیے ان سب سے بچنا فرض و واجب ہے۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ یہود و نصاریٰ کے راستہ سے بچنے کی دعاء مانگنے کی اس لیے تلقین کی گئی کہ ایک مسلمان بت پرست دہری منکر خدا ہونا گوارا نہیں کرسکتا اور اہل کتاب کے راستوں کو اختیار کرسکتا ہے، اہل کتاب کے دونوں فرقوں کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ان کے انجام کار ہی کو ان کا لقب بنا کر ذکر فرما دیا۔ جس میں دو امر کی طرف اشارہ ہے، اوّل یہ کہ انبیاء صلحاء صدیقین و شہداء کے راستہ سے ہٹنے کا انجام راہ سے بھٹک جانا اور خدائے پاک کے غصہ میں آجانا ہے۔ دوسرے یہ کہ صراط مستقیم کے خلاف صرف یہود و نصاری ہی کار استہ نہیں ہے بلکہ جو بھی یہود و نصاریٰ کے عقائد و کردار اوصاف و اخلاق اختیار کرے گا اس کے نتیجہ میں مغضوب علیہ اور ضال ہوگا (خواہ فرد ہو خواہ جماعت) لہٰذا اس کے راستہ سے بچنا بھی فرض ہوگا۔
آمین :
سورۂ فاتحہ کے ختم پر نماز میں اور خارج از نماز آمین کہنا مسنون ہے اور اس کے علاوہ بھی جو دعاء کی جائے اس کے آخر میں آمین کہا جائے۔ احادیث شریفہ میں اس کی فضیلت اور ترغیب وارد ہوئی ہے۔ آمین کا معنی ہے کہ اے اللہ قبول فرما۔ ایک مرتبہ دعا کی پھر دعا کی قبولیت کی دعا کی یہ مل کر گویا دو مرتبہ دعا ہوجاتی ہے۔
معالم التنزیل ص 42 ج 1 میں لکھا ہے کہ ( وَلَا الضَّآلِّیْنَ ) کے بعد ذرا ٹھہر کر آمین کہے ( تاکہ سورة فاتحہ کا جزو ہونے کا ایہام نہ ہو۔ )
چونکہ آمین قرآن مجید کا جزو نہیں ہے اس لیے قرآن مجید میں لکھا نہیں جاتا لیکن پڑھا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہودیوں نے تمہاری کسی چیز پر اتنا حسد نہ کیا جتنا آمین کہنے پر حسد کیا ہے۔ اور حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہودیوں نے تم سے تین چیزوں پر حسد کیا ہے۔ (1) سلام کو پھیلانا (2) نماز میں صفیں قائم کرنا (3) آمین کہنا ( یہ روایات در منثور میں نقل کی گئی ہیں۔ )
فائدہ : بعض غیر مسلموں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اپنی تعریف خود کرنا ٹھیک نہیں ہے پھر خدائے تعالیٰ نے اپنی تعریف خود کیوں کی ؟ اس کا ایک جواب مفسرین کے اس قول سے نکل سکتا ہے کہ یہ مضمون بندوں کی زبانی ادا کرایا گیا ہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے پہلے قُوْلُوْا (صیغہ امر) مقدر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کو حکم فرمایا ہے کہ یوں کہو اور چونکہ بندہ کی زبانی اول کی تین آیات ادا کرائی گئی ہیں اس لیے (اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) بھی اول کی تین آیات کے ساتھ اس صورت میں مضمون واحد ہو کر مسلسل ہوجائے گا۔ لیکن یہ جواب جزوی طور پر سورة فاتحہ کے بارے میں ہوسکتا ہے، قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ پاک کی حمد بیان کی گئی ہے اور حدیث شریف میں صاف اس طرح آیا ہے کہ لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علیٰ نفسک۔ (اے اللہ میں ایسی تعریف تیری بیان نہیں کرسکتا ہوں جیسی تو نے اپنی تعریف بیان کی ہے) اس سے صاف معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی تعریف بیان کرتے ہیں۔ پس غیر مسلموں کے سوال مذکورہ کا ایسا ٹھیک کلی جواب جو ہر موقعہ پر جواب بن سکے یہ ہے کہ خالق کو مخلوق پر قیاس کرنا ہی غلط ہے۔ بلاشبہ مخلوق کے لیے خود ستائی بری بات ہے لیکن خالق اگر اپنی تعریف کرے تو یہ کوئی بےجا نہیں ہے، بلکہ صحیح اور درست ہے۔ اوّل اس پر غور کرنا چاہیے کہ خود ستائی بری چیز کیوں ہے ؟ اس کی وجہ غور کرنے اور اہل عقل و دانش کے بتانے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ خود ستائی سے عجب (خود پسندی) اور تکبر پیدا ہوتا ہے اور خالق کمالات رب العالمین جل مجدہٗ سے غفلت ہوجاتی ہے اور انسان کا ذہن خالق کی حمد اور خالق کے کمالات سے ہٹ کر خود اپنی ذات میں الجھ جاتا ہے، اور رب العلمین خالق کل شئی اپنی خود تعریف کرے تو یہ کسی خرابی کا باعث نہیں ہے۔ اللہ پاک سے اوپر کوئی نہیں ہے اور وہ ایسا بڑا ہے کہ سب کی بڑائیاں اس کے سامنے ہیچ ہیں اور ہر بڑے کو اس نے بڑائی دی ہے لفظ تکبر میں تکلف کے معنی پوشیدہ ہیں یعنی جو بڑا نہیں وہ بڑا ہے اس کو تکبر کہتے ہیں۔ اللہ پاک کی بڑائی کامل ہے تکلف سے نہیں ہے۔ وہ سب کا خالق ہے اس کا کوئی خالق نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو اپنی تعریف کا پورا پورا حق ہے۔ اگر وہ اپنی تعریف کرے تو یہ لازم نہیں آتا کہ جو بڑا نہیں اس نے بڑائی کا دعویٰ کیا اور یہ بھی لازم نہیں آتا کہ اپنے خالق کو چھوڑ کر اپنی تعریف میں مشغول ہو۔ فللّٰہ الحمد اولا و آخر اوظآھراً و باطناً اللّٰھم لک الحمد لا احصٰی ثناء علیک انت کما اثنیت علیٰ نفسک۔
سورۃ فاتحہ شفا ہے :
سورة فاتحہ کا ایک نام شافیہ ( یعنی شفا دینے والی ہے) بھی ہے اس کے مضامین جس طرح مؤمن موحد کے لیے باطنی اور روحانی شفاء کا باعث ہیں۔ اسی طرح اس کے الفاظ جسمانی امراض و تکالیف اور دکھ درد کے لیے شفا بن جاتے ہیں۔ حضرت سائب بن یزید ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے مرض سے نجات دلانے کے لیے سورة فاتحہ پڑھ کر مجھ پر دم کرتے ہوئے تھتکار دیا، حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب زہر کے لیے شفا ہے۔ حضرت عبدالملک بن عمیر نے ( مرسلاً ) روایت کی ہے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب ہر مرض کے لیے شفا ہے۔ (یہ سب روایات درمنثور میں ہیں)
حصن حصین میں (ابو داؤد اور نسائی سے نقل کیا) ہے کہ جس کی عقل ٹھکانے نہ ہو تین روز صبح شام سورة فاتحہ کے ذریعہ جھاڑا جاوے (جھاڑنے والا) سورة فاتحہ کو پوری پڑھ کر اپنا تھوک (منہ) میں جمع کر کے تھتکار دے اور ترمذی شریف سے نقل کیا ہے کہ جس کو سانپ، بچھو ڈس لے سات مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کر جھاڑا جائے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چند صحابہ (سفر میں) ایک تالاب پر گزرے۔ وہاں ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا تھا۔ وہاں جو قبیلہ مقیم تھا۔ ان میں سے ایک آدمی ان حضرات کے پاس آیا اور اس نے کہا کیا تم میں کوئی شخص جھاڑ پھونک کرنے والا ہے۔ یہ سن کر ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے اور انہوں نے سورة فاتحہ پڑھ کر دم کردیا اور کچھ بکریاں لینے کی شرط لگا لی۔ وہ شخص اچھا ہوگیا اور یہ بکریاں لے کر اپنے رفقاء کے پاس آگئے۔ انہوں نے ان بکریوں کا لینا اچھا نہ جانا اور کہنے لگے کہ تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی۔ جب کہ مدینہ منورہ میں واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ انہوں نے کتاب اللہ پر اجرت لی۔ آپ نے فرمایا بلاشبہ کتاب اللہ ان سب چیزوں میں اجرت لینے کے لیے زیادہ احق ہے۔ جن پر تم اجرت لیتے ہو۔ (صحیح بخاری ص 854 ج 2)
اس حدیث کی وجہ سے جھاڑ پھونک کی اجرت لینا جائز ہے۔ بشرطیکہ کلام صحیح ہو، شرکیہ کلام نہ ہو۔
رات کو حفاظت کے لیے سورة فاتحہ پڑھنا :
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تو نے بستر پر اپنا پہلو رکھا اور فاتحۃ الکتاب اور (قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ) (ختم سورت تک) پڑھ لی تو موت کے سوا ہر چیز سے تجھے امان مل گئی ہے۔ (درمنثور)
و لقد تم تفسیر فاتحۃ الکتاب بحمد اللّٰہ تعالیٰ و حسن توفیقہ فلہ الحمد حمدًا کثیرًا طیبا مبارکا فیہ