اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۟ۙاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
ہم کو سیدھے رستے چلا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Guide us to the straight path -
— Saheeh International
Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۟ۙاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
ہم کو سیدھے رستے چلا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Guide us to the straight path -
— Saheeh International
Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Faatiha
ہمیں سیدھا راستہ دکھا
ہم کو سیدھے رستے چلا
ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا
ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما
ہم کو سیدھا راستہ چلا،
ہمیں سیدھا راستہ دکھا
ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔
ہمیں سیدھی راہ پر استقامت عطا فرما
ہمیں سیدھے رستے کی ہدایت بخش
سرفراز فرما دے ہمیں سیدھی راہ سے،
چلا ہم کو سیدھا راستہ
(اے رب ہمارے !) ہمیں ہدایت بخش سیدھی راہ کی۔
تو ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت دے
Direct us on to the Straight Way,
Take us on the straight path.
Take us on the straight path.
Guide us to the straight path.
Show us the straight path,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Guide us to the straight path -
(Lord), guide us to the right path,
Keep us on the right path.
Guide us Thou unto the path straight
Show us the straight way,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
حصول مقصد کا بہترین طریقہ جمہور نے صراط پڑھا ہے۔ بعض نے سراط کہا ہے اور زے کی بھی ایک قراۃ ہے۔ فرا کہتے ہیں بنی عذرہ اور بنی کلب کی قراۃ یہی ہے چونکہ پہلے ثنا و صفت بیان کی تو اب مناسب تھا کہ اپنی حاجت طلب کرے۔ جیسے کہ پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ اس کا آدھا حصہ میرے لئے ہے اور آدھا میرے بندے کے لئے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔ خیال کیجئے کہ اس میں کس قدر لطافت اور عمدگی ہے کہ پہلے پروردگار عالم کی تعریف و توصیف کی، پھر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حاجت طلب کی۔ یہ وہ لطیف انداز ہے جو مقصود کو حاصل کرنے اور مراد کو پالینے کے لئے تیر بہدف ہے، اس کامل طریقہ کو پسند فرما کر اللہ تبارک و…
Read the full tafseer →سورة الْفَاتِحَة 8 یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خیال اور عمل اور برتاؤ کا وہ طریقہ ہمیں بتا جو بالکل صحیح ہو، جس میں غلط بینی اور غلط کاری اور بدنامی کا خطرہ نہ ہو، جس پر چل کہ ہم سچی فلاح وسعادت حاصل کرسکیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ درخواست جو قرآن شروع کرتے ہوئے بندہ اپنے خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔ اس کی گزارش یہ ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ قیاسی فلسفوں کی اس بھول بھلیاں میں حقیقت نفس الامری کیا ہے، اخلاق کے ان مختلف نظریات میں صحیح نظام اخلاق کونسا ہے، زندگی کی ان بیشمار پگڈنڈیوں کے درمیان فکر و عمل کی سیدھی اور صاف شاہراہ کونسی ہے۔
Read the full tafseer →آخری تین آیتیں جن میں انسان کی دعا و درخواست کا مضمون ہے اور ایک خاص دعا کی تلقین ہے یہ ہیں (آیت)۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 9 غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بتلا دیجئے ہم کو راستہ سیدھا، راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا اور نہ ان لوگوں کا جو راستہ سے گم ہوگئے، ان تینوں آیات میں چند باتیں قابل غور ہیں تکمیل الدرایہ فی تفصیل درجات الہدایہیہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت کے لئے دعا جو اس آیت میں تعلیم فرمائی گئی ہے اس کے مخاطب…
Read the full tafseer →’اِھْدِنَا‘ کا مطلب صرف اسی قدر نہیں ہے کہ ہمیں سیدھا رستہ دکھا دے بلکہ اس کا مفہوم اس سے بہت زیادہ ہے۔ اس میں یہ مفہوم بھی ہے کہ اس راستہ کی صحت پر ہمارے دل مطمئن کر دے، اس پر چلنے کا ہمارے اندر ذوق و شوق پیدا کر دے، اس کی مشکلیں ہمارے لیے آسان کر دے اور اس پر چلا دینے کے بعد دوسری پگڈنڈیوں پر بھٹکنے سے ہمیں محفوظ رکھ۔ یہ سارا مضمون یہاں صلہ کو حذف کر دینے سے پیدا ہوتا ہے۔ ’الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘ پر الف لام عہد کا ہے۔ اس سے مراد وہ سیدھا رستہ ہے جو بندوں کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے کھولا ہے، جو دین اور دنیا دونوں کی فلاح و کامیابی کا ضامن ہے، جس پر چلنے کی دعوت نبیوں اور رسولوں نے دی ہے،…
Read the full tafseer →1 ہدایت کے کئی مفہوم ہیں، راستے کی طرف رہنمائی کرنا، راستے پر چلا دینا، منزل مقصود تک پہنچا دینا۔ اسے عربی میں ارشاد توفیق، الہام اور دلالت سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ہماری صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما، اس پر چلنے کی توفیق اور اس پر استقامت نصیب فرما، تاکہ ہمیں تیری رضا (منزل مقصود) حاصل ہوجائے۔ یہ صراط مستقیم محض عقل اور ذہانت سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ صراط مستقیم وہی ، الاسلام، ہے، جسے نبی ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(4) یہاں سے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جارہا ہے اور اسی کے ساتھ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی قسم کی عبادت کے لائق نہیں، نیز ہر کام میں حقیقی مدد اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہیے ؛ کیونکہ صحیح معنی میں کار ساز اس کے سوا کوئی نہیں، دنیا کے بہت سے کاموں میں بعض اوقات کسی انسان سے جو مدد مانگی جاتی ہے، وہ اسے کارساز سمجھ کر نہیں ؛ بلکہ ایک ظاہری سبب سمجھ کر مانگی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔ ” ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔ یعنی ہمیں سیدھے اور منزل مقصود تک پہنچانے والے راستے کو سمجھنے کی توفیق دے۔ اور اس کو سمجھنے کے بعد اس پر چلنے کی استقامت دے ۔ کیونکہ معرفت حق اور پھر اس پر استقامت دراصل اللہ کی رحمت شفقت اور رہنمائی کا ثمرہ ہوتی ہے اور اسی بارے میں اللہ کی طرف رجوع کرنا دراصل عقیدہ توحید کا ثمرہ ہے۔ لہٰذا ایک مومن جن معاملات میں اپنے رب سے مدد اور نصرت طلب کرتا ہے ان میں سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق کی دعا ایک نہایت ہی اہم اور عظیم مطلوب ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا وعقبیٰ کی سعادت اس پر موقوف ہے کہ انسان جادہ مستقیم کی طرف راہنمائی پائے ۔ اور جادہ مستقیم تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 جن پر انعام کیا گیا وہ چار فرقے ہیں نبیین و صدیقین و شہداء و صالحین کلام اللہ میں دوسرے موقع پر اس کی تصریح ہے اور المغضوب علیھم سے یہود اور ضالین سے نصاریٰ مراد ہیں۔ دیگر آیات و روایات اس پر شاہد ہیں اور صراط مستقیم سے محرومی کل دو طرح پر ہوتی ہے۔ عدم علم یا جان بوجھ کر کوئی فرقہ گمراہ اگلا پچھلا ان دو سے خارج نہیں ہوسکتا سو نصاریٰ تو وجہ اول میں اور یہود دوسری میں ممتاز ہیں۔ 7 یہ سورت خدا تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ جب ہمارے دربار میں حاضر ہو تو ہم سے یوں سوال کیا کرو اس لیے اس سورت کا ایک نام تعلیم مسئلہ بھی ہے۔ اس سورت کے ختم پر لفظ اٰمین کہنا مسنون ہے اور یہ لفظ قرآن شریف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ 5 غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ آمین ! اب دیکھئے ‘ یہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ہی کی تشریح ہے جو آخری تین آیتوں میں ہے۔ ہمیں اللہ سے کیا مدد چاہیے ؟ پیسہ چاہیے ؟ دولت چاہیے ؟ نہیں نہیں ! اے اللہ ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ پھر کیا چاہیے ؟ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ”ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما“۔ یہ جو زندگی کے مختلف معاملات میں دورا ہے ‘ سہ را ہے اور چورا ہے آجاتے ہیں ‘ وہاں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے کہ صحیح کیا ہے ‘ غلط کیا ہے۔ لہٰذا اے اللہ ! ہمیں سیدھے راستہ کی طرف ہدایت بخش۔ ”اِھْدِ“ ہدایت…
Read the full tafseer →13 سیدھی راہ کون سی ہے ؟:۔ صراط مستقیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ وہ سیدھی راہ ہے جو بندے کو اللہ تک پہنچانے والی ہے۔ اور اس میں کوئی پیچ و خم یا افراط وتفریط نہیں اور یہ ایک ہی ہوسکتی ہے جبکہ باطل راہیں لاتعداد ہوتی ہیں۔ اسی راہ کو اللہ تعالیٰ نے حبل اللہ بھی فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ سے تعبیر فرمایا ہے اور صراط مستقیم کی دوسری تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حق کا وہ راستہ جو سیدنا آدم سے لے کر تاقیامت ایک ہی رہا اور رہے گا اور وہی راستہ توحید ہر نبی کو وحی کیا گیا ہے۔ قرآن کریم ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے جن میں لوگوں کو اللہ سے دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →17 یعنی وہ راہ جس میں کوئی کجی نہیں، کوئی اونچ نیچ نہیں، کہیں ٹھوکر لگنے کا احتمال نہیں۔ مراد اس سے جادۂ شریعت ہے کہ یہی زندگی کا مکمل نظام ہے۔ زندگی کے ہر گوشہ اور ہر شعبہ کے باب میں ایک مکمل دستور ہدایت ہے۔ اور اسی پر چلتے رہنا فردو جماعت دونوں کے حق میں، دنیوی واخروی اعتبار سے فلاح ہی فلاح ہے۔ صحابہ، تابعین سب سے یہی معنی مروی ہیں، ھو دین اللہ الذی لا عوج لہ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ قال ابن عباس و جابر ھو الاسلام وھو قول مقاتل (معالم) یہ گویا بندوں کی زبان سے درخواست ہے کہ اے ہمارے ہادی برحق ورہنمائے حقیقی، اپنا سیدھا راستہ ہم پر کھول دے۔ اس پر چلنے کی ہمیں توفیق عطا فرما۔ اور اپنے فضل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اھدنا الصراط المستقیم یہ ایک بڑی اور جامع دعاء ہے جس چیز کی اس میں دعاء کی گئی ہے اس سے کوئی فرد بےنیاز نہیں، اور وہ ہے ” صراط مستقیم “ صراط مستقیم کی ہر کام میں ضرورت ہوتی ہے خواہ دین کا ہو یا دنیا کا، اب رہی یہ بات کہ وہ صراط مستقیم ہے کیا ؟ اس کی نشاندہی اگلی آیت میں کی گئی ہے۔ صراط الذین انعمت علیھم یعنی ان لوگوں کا راستہ کہ جن میں افراط وتفریط نہ ہو، اور وہ، وہ لوگ ہیں جن پر تو نے انعام فرمایا، اور ان منعم علیہم کو ایک دوسری آیت ” الَّذِیْنَ اَنَعَمَ اللہ عَلَیھم “ (الآیۃ) میں بیان کیا گیا ہے یعنی وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا، یعنی انبیائ اور صدیقین اور شہداء اور صالحین، مقبولین…
Read the full tafseer →اِھْدِنَا یہ اس اعانت اور مدد کا بیان ہے جو اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ میں طلب کی گئی تھی (مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہمیں سیدھی راہ دکھا) یا چونکہ سیدھے رستہ کی ہدایت تمام باتوں میں اہم اور مقصود اعظم تھی اس لیے اس کو علیحدہ ذکر کردیا گیا۔ ھِدَایَتْ کے اصلی معنی لطف و مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنے اور رستہ بتانے کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا استعمال ہمیشہ خیرو نیکی میں ہوا کرتا ہے یہ لفظ اور اس کے مشتقات اصل میں تو لام اور الی ہی کے ساتھ متعدی ہوا کرتے ہیں مگر کبھی کبھی بغیر کسی واسطہ کے خود ہی متعدی ہوجاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ دعا ہے نبی کریم ﷺ : کی اور نیز تمام مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) ان لوگوں کا دین جن پر تو نے دین عطا کرکے احسان کیا ہے وہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم ہے اور ان کا وہ وقت جب تک اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا تھا کہ ان پر وادی تیہ میں بادل نے سایہ کیے رکھا اور اس امت پر بطور نعمت من وسلوی آسمان سے اتارا گیا۔ اور یہ تفسیر بھی ہے کہ انعام والی جماعت سے نبیوں کی جماعت مراد ہے جو ان یہودیوں کے دن کی طلب گار نہیں جن پر تو نے اپنا غصہ کیا اور ان کو ذلیل ورسوا کیا اور ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے۔ اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے، اور نہ ان نصاری کے دین کے…
Read the full tafseer →اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ہدایت کا ایک معنی نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : (وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) [ الشوریٰ : 52 ] ”اور بیشک تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔“ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور دوسرے لوگ سبھی کرسکتے ہیں۔ ہدایت کا دوسرا معنی راستے پر چلنے کی توفیق دینا ہے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) [ القصص : 56 ] ”بیشک تو…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 27: اھدنا الصراط المستقیم اھدنا، مربوب کی، رب کی بارگاہ میں دعا اور رغبت ہے۔ معنی یہ ہے کہ ہماری سیدھے راستہ پر رہنمائی فرما اور سیدھے راستہ کی طرف ہمیں ہدایت عطا فرما اور ہمیں اپنی ہدایت کا وہ راستہ دکھا جو تیری عبادت اور تیرے قرب تک پہنچنے والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے دعا اور تمام چیزوں کو اس سورت میں رکھ دیا۔ اس کے نصف میں ثنا ہے اور نصف میں حاجات کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ اس سورت میں جو دعا ہے وہ اس دعا سے افضل ہے جو دعا کرنے والا خود مانگتا ہے کیونکہ یہ وہ کلام ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ اور حدیث میں ہے : “ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا سے زیادہ…
Read the full tafseer →اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ترجمہ : چلا ہم کو سیدھے راستے پر۔ (1) امام حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح بھی کہا اور ذہبی نے ان کا تعاقب کیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت ” اھدنا الصراط المستقیم “ صاد سے پڑھا۔ (2) سعید بن منصور، عبد بن حمید، بخاری نے التاریخ میں اور ابن الانباری (رح) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے لفظ آیت ” اھدنا السراط “ میں سین پڑھا۔ (3) ابن الانباری میں عبد اللہ بن کثیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ ” السراط “ سین سے پڑھتے تھے۔ (4) ابن الانباری نے فراء سے روایت کیا ہے کہ حمزہ نے ” الزراط “ زا کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء کہتے ہیں…
Read the full tafseer →[ اِہْدِ : تو ہدایت دے ][ نَا : ہم کو ][ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ : سیدھے راستے کی ] ھَدٰی یَھْدِیْ (ض) ھُدًی : راہنمائی کرنا۔ (1) راستہ سمجھانا۔ { وَھَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ } (البلد) ” اور ہم نے اس کو سمجھا دیئے دونوں راستے۔ “ (2) راستہ پر دل کو کھول دینا ‘ توفیق دینا۔ { مَنْ یُّـؤْمِنْ بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ } (التغابن :11) ” جو ایمان لاتا ہے اللہ پر تو وہ توفیق دیتا ہے اس کے دل کو۔ “ (3) منزل تک پہنچا دینا۔ { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا } (الاعراف :43) ” تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے پہنچادیا ہم کو یہاں تک۔ “ ھَادٍ (اسم الفاعل) : راہنمائی کرنے والا۔ { وَلِکُلِّ…
Read the full tafseer →صراط مستقیم کی دعا : راہِ حق کو دکھانا اور مطلوب حق تک پہنچانا یہ سب کچھ ہدایت کے مفہوم میں داخل ہے۔ مدد مانگنے کے ذیل میں جہاں اور باتیں ہیں وہاں ہدایت کی طلب بھی ہے اور در حقیقت ہدایت ہی مخلوق کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ اگر سب کچھ موجود ہو اور بندہ ہدایت پر نہ ہو عقیدہ اور عمل سے گمراہ ہو تو دنیاوی چیزوں سے تھوڑا بہت فائدہ اٹھا کر عذاب دوزخ میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ اس اعتبار سے حقیقی نعمت ہدایت ہی ہوئی۔ لہٰذا یہ کہہ کر کہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں فوراً ہدایت کا سوال کیا گیا۔ یعنی صحیح راستہ پر چلانے کی دعا کرلی گئی۔ صحیح راستہ کون سا ہے اس کی تعیین کے لیے (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ…
Read the full tafseer →اھدنا الصراط المستقیم ہم کو راہ راست دکھا اور اس پر چلا اور منزل مقصود تک پہنچا 1 ۔ ہدایت کے معنی لطف اور مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنے کے ہیں اسی وجہ سے یہ لفظ حقیقۃً ہمیشہ غیر ہی کے موقعہ پر مستعمل ہوتا ہے۔ اور فاھدوھم الی صراط الجحیم۔ میں بطور تہکم اور بطریق استہزاء آیا ہے۔ 2 ۔ ہدایت کا استعمال تین طرح سے ہوتا ہے اگر ہدایت سے کسی شیئ کی نشان دہی اور رہنمائی مراد ہو تو لفظ الی کے ساتھ متعدی ہوگا۔ اور اگر ہدایت سے منزل مقصود تک پہنچنا مراد ہو تو لام کے ذریعے سے متعدی ہوگا۔ اور اگر راستہ کا قطع کرانا اور منزل مقصود تک پہنچانا مراد ہو تو بلا واسطہ متعدی ہوگا جیسا کہ اس آیت میں بلا واسطہ متعدی…
Read the full tafseer →ف 8: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۔ پہلی آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ سب کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور پھر ہر چیز اور ہر جاندار کو رفتہ رفتہ حد کمال تک پہنچانے والا بھی وہی ہے۔ سارے عالم کا نظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی متصرف ومختار ہے اور پھر محاسبۂ اعمال کے دن یعنی قیامت کے دن کا مالک بھی وہی ہے۔ جب انسان ان چاروں حقیقتوں کا اعتراف کرلے اور ان پر پختہ ایمان لے آئے تو وہ بلا ساختہ پکار اٹھے گا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۔ یہ در اصل بندوں کا اپنے خدا سے عہد ہے کہ اے اللہ ہم صرف تیری ہی بندگی کریں گے۔ صرف تجھے ہی حاجات ومشکلات میں مدد کے لیے پکاریں گے۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →سورة الفاتحۃ 1 اھدنا الصراط المستقیم درس پانزدہم 15 دکھلاھم کو سید ھا راستہ (اللہ کی شرط) گذشتہ دروس میں عبادت و استعانت کا بیان تھا اور میں نے ان کا مفہوم عرض کردیا تھا کہ عبادت کا تعلق تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے اور اس کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو عبادت کے لائق ہو ۔ جہاں تک استعانت کا تعلق ہے تو ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی شرط ہے ۔ مدد کرنا اسی ذات وحد ہ لاشریک کا کام ہے اس کے علاوہ مافوق الا سباب مدد کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔ امام رازی نے اپنی اپنی تفسیر (ب 1 تفسیر کبیر ص 249 ج 1) میں ایک واقعہ قلمبند کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ اونٹ پر سوار ایک دیہاتی مسجد نبوی میں میں آیا ۔ اونٹ کو باہر…
Read the full tafseer →اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ 5 ۙ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ…
Read the full tafseer →ترکیب : اِھْدِ امر حاضر معروف انت اس کا فاعل اور نَا مفعول اول۔ اور الصِّرَاط موصوف الْمُسْتَقِیْمَ صفت دونوں مل کے مفعول ثانی۔ فعل اپنے فاعل اور دونوں مفعولوں سے ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا اور معنًا یہ نستعین میں جو اعانت مطلوب تھی اس کا بیان ہے کہ ہم آپ سے یہ استعانت چاہتے ہیں کہ آپ ہم کو ہر امر میں خواہ دینی ہو یا دنیوی سیدھے راستے پر چلائیں۔ افراط وتفریط یعنی کمی زیادتی سے بچائیں۔ پس پہلے جملے سے ربط اس طور سے ہوا۔ معانی الفاظ : ہدایت : زبان عرب میں مقصود کا رستہ دکھانا یا مطلوب تک پہنچانا ہے اور ہدیہ (تحفہ) سے چونکہ تحفہ دینے والوں کی محبت معلوم ہوتی ہے اس لیے اس کو ہدیہ کہتے ہیں اور…
Read the full tafseer →پچھلی آیت کی بقیہ تفسیر دوسری حقیقت جس نے انسان کو شرافت و فضیلت کے تخت پر فائز کیا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر مخلوق نے صرف عبادت کی ہے یعنی احکام کی اطاعت کی ہے۔ زندگی بھر اس سے انحراف نہیں کیا۔ سجدہ و قیام اور رکوع و قعود میں رہ کر بندگی کا حق ادا کیا ہے اور یہ بھی بلاشبہ متاع بےبہا ہے مگر انسان نے صرف بندگی نہیں کی بلکہ کچھ اور بھی کیا ہے۔ اس نے صرف اطاعت و بندگی میں میں سر ہی نہیں جھکا یا بلکہ برگشتہ سروں اور تنی ہوئی گردنوں کو اپنے مالک کے سامنے جھکنے پر مجبور بھی کیا ہے۔ اس کے لیے وطن چھوڑا ہے گھر سے بےگھر ہوا ہے اولاد کی قربانی دی ہے۔ دنیا بھر سے لڑائی لڑی ہے۔ دنیا کے ہر خطے کو اپنی…
Read the full tafseer →فہم القرآن اہل علم نے ہدایت کے مدارج کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی چار اقسام ہیں : 1 طبعی اور فطری ہدایت 2 الہامی ہدایت 3 توفیقی ہدایت 4 ہدایت وحی۔ طبعی اور فطری ہدایت : چاند، سورج اور سیارے طبعی رہنمائی کے مطابق اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اسی اصول کی روشنی میں رخ بدلتی اور چلتی ہیں۔ بادل فطری رہنمائی سے ہی راستے تبدیل کرتے اور برستے ہیں حتیٰ کہ اسی اصول کے تحت درخت روشنی کی تلاش میں ایک دوسرے سے اوپر نکلتے ہیں۔ فطری ہدایت کے مطابق ہی مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی ماں کے قدموں میں پڑجاتا ہے، بطخ کا بچہ خود بخود پانی کی طرف چلتا اور انسان کا نومولود ماں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ : ایا : خلیل او سیبویہ کے نزدیک یہ اسم ضمیر ہے پھر سیبویہ کہتے ہیں کاف حرف خطاب ہے اور اس کا محل اعراب کوئی نہیں، مگر خلیل کہتے ہیں، کاف اسم ضمیر ہے، جس کی طرف ایا کے لفظ مضاف کردیا۔ کیونکہ فعل و فاعل سے مقدم آنے کی وجہ سے یہ ام ظاہر کے مشابہ ہے۔ کوفی علماء : ایاک ایک مکمل اسم ہے۔ آیت میں فعل سے پہلے مفعول کو اس لیے لائے تاکہ تخصیص ہوجائے، اب معنی یہ ہوگا ہم تجھے ہی عبادت کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ عبادت کا معنی : عبادت : خضوع و عاجزی کی آخری حد کو کہتے ہیں۔ (ایاک نستعین) ہم امداد کی طلب میں تجھے ہی خاص کرتے ہیں۔ غائب سے خطاب : صنعت التفات کی وجہ سے غائب…
Read the full tafseer →(آیت)” اھدنا الصراط المستقیم “ ” اھدنا بمعنی ارشدنا کے ہے یعنی ہماری رہنمائی فرما ۔ حضرت علی ؓ اور ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ” اھدنا “ کا معنی ہے ہمیں ثابت قدم رکھ (یعنی اسی ہدایت پر جمائے رکھ) جس طرح کھڑے ہونے والے کو کہا جاتا ہے ، کھڑے رہو ۔ یہاں تک کہ میں تیری طرف لوٹ کر آجاؤں ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنی کھڑے ہونے والی حالت پر دائم رہ ۔ ایمان والوں کی طرف سے یہ دعا باوجودیکہ وہ ہدایۃ پر ہیں بمعنی ہدایۃ پر ثابت رہنے کے ہوگی اور بمعنی مزید ہدایۃ طلب کرنے کے ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلسلہ عنایات و ہدایات کی انتہا اہل السنۃ والجماعۃ کے ہاں نہیں ہے ۔ ” الصراط “ صراط کو سین کے ساتھ (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اھدنا الصراً المستقیم) یعنی سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی فرما اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق سے ہمیں نواز۔ (صراط مستقیم) سے مراد وہ واضح راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔ یہ معرفت حق اور اس پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔ پس اس راستے کی طرف راہنمائی فرما اور اس راستے میں ہمیں اپنی راہ نمائی سے نوازا۔ صرف مستقیم کی طرف راہنمائی کا مطلب، دین اسلام کو اختیار کرنا اور اسلام کے سوا دیگر تمام ادیان کا ترک کردینا ہے اور صراط مستقیم میں راہنمائی سے نوازن کے معنی یہ ہیں کہ تمام دینی معاملات میں علم و عمل کے اعتبار سے ہماری صحیح اور مکمل راہنمائی فرما،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
سورة فاتحہ نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت کے اندر سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورة کی قرأت کی جائے گی۔ اگر نمازی ان رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قرأت ترک کر کے اس کے بجائے کوئی اور سورت پڑھ لے تو یہ بری حرکت ہوگی۔ تاہم نماز ہوجائے گی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر نمازی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ کفایت کرنے والی قرأت کی کم سے کم مقدار سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ اگر نمازی سورة فاتحہ کا ایک حرف بھی چھوڑ دے اور نماز سے باہر ہوجائے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا…
Read the full tafseer →7 سیدھی راہ سے مراد ؟ اور اس کی عظمت شان : یعنی راہ حق کو سمجھنے کی اور اس کو اپنانے کی توفیق وسعادت بھی عطا فرما دے اور اس پر چلنا بھی نصیب فرمادے۔ اس طرح اس ترجمہ کے عموم میں ہدایت کے دونوں مفہوم آجاتے ہیں۔ یعنی " اِرَاءَۃُ الطَّرِیْقِ "، " راستہ دکھا دینا " بھی اور " اِیْصال الی المطلوب "، " مطلوب تک پہنچا دینا " بھی۔ اور سیدھی راہ سے مراد دین حق کی وہ عظیم الشان راہ ہے جس پر چلنے سے انسان کو اس دنیا میں بھی حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " نصیب ہوتی ہے اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی وہ دائمی کامیابی سے مشرف ہوتا ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہدایت کی…
Read the full tafseer →تشریح : اس آیت میں دعا ہے انسان اللہ سے التجا کرتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحہ میں، ہر قدم پر ہمیں وہ طریقے بتا جو ہماری فلاح اور ہماری نجات کا ذریعہ بنیں کیونکہ تجھ سے بڑا نہ کوئی رہبر ہے اور نہ ہی ہمدرد و مہربان، تو بہترین رہبر و راہنما ہے۔ ہمیں ان بہترین لوگوں کی راہوں پر چلنے کی توفیق اور ہدایت کر کہ جنہوں نے دنیا و آخرت میں نجات حاصل کی جن کا ذکر اگلی آیت میں موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 7 دعا مانگنے کا طریقہ : اللہ کریم نے نوع انسانی کو ایک جامع اور مکمل دعا تعلیم فرمائی ، ایک ایسی دعا جس میں اللہ کی تعریف اقرار عبودیت کے ساتھ استعانت و امداد کی درخواست اور پھر ہر دو عالم کی بھلائی اور اچھائی کا سوال ہے یہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے ، پہلے اللہ کی تعریف پھر اپنا اقرار عجز ، وعدہ بندگی اور پھر اپنی آرزو تمنا۔ تعوذ و تسمیہ کے بعد انسان سب سے پہلے یہ اقرار کرتا ہے کہ جو کمالات اور ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ، حسن و جمال ہو یا جاہ و جلال قوت و طاقت ہو یا علم و ہنر جہاں بھی جس چیز کی خوبی بیان ہوگی وہ دراصل تصویر کی…
Read the full tafseer →(8) طبعی اور فطری ہدایت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان اپنے منا فع و مضرات کا اندازہ کرسکتا ہے اور سب سے بڑی نعمت ہدایت دین ہے جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمروں کے ذریعہ نازل ہوئی۔ ہدایت کی ان جملہ انواع کا ذکر قرآن میں مذکور ہے اور پھر سب سے بڑے کر انبیاء اسؤہ حسنہ ہے جو ہدایت الہی کی عملی تعبیر ہے یہی وجہ ہے کہ دعا میں صراط مستقیم کی ہدایت کی بیان میں صراط الذین انعمت لایا گیا ہے، صراط مستقیم قرآن و حدیث کی اتباع کا نام ہے اجتہادی مسائل میں غلطیوں کا زیادہ امکان ہے اس لیے پانچ اوقات نماز میں یہ دعا اسی شعور کے ساتھ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی لغزشوں سے دور رکھے۔ (9) یعنی انبیاء صدقین،…
Read the full tafseer →(1:5) اِھْدِنَا۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ھدایۃ باب ضرب، مصدر سے، تو ہم کو راہ بتلا، تو ہماری رہنمائی کر، اصل میں فعل لازم ہے اور ل الیٰ کے ساتھ متعدی کے معنی دیتا ہے لیکن بغیر صلہ کے بھی بطور متعدی استعمال ہوتا ہے مثلاً ھدی الرجل آدمی کا ہدایت پانا۔ (فعل لازم) اور ھداہ الطریق کسی کو راہ بتانا۔ بمعنی ھداہ الی الطریق وللطریق۔ فعل متعدی ہے۔ ہدایت کے اصلی معنی لطف و مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنے اور راستہ بتانے کے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کا استعمال ہمیشہ خیر و نیکی میں ہوا کرتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو پھر مقصد تک پہنچانے کے معنی میں ہوتی…
Read the full tafseer →(اھدنا): ہمیں ہدایت دیجئے۔ ہمیں راستہ دکھائیے۔ ہمیں منزل تک پہنچا دیجئے۔ ہدایت کے معنی ہیں راستہ دکھانا۔ راستے پر چلانا۔ جو بھی منزل مقصود ہو اس تک پہنچا دینا۔ ایک مومن ہر وقت سیدھے اور سچے راستے تک پہنچنے کی درخواست کرتا ہے۔ کیونکہ کہ زندگی میں خطرناک موڑ آتے رہتے ہیں۔ اگر اللہ کی مدد شامل نہ ہو تو قدم قدم پر بہکنے اور پھسلنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ نفس اور شیطان انسان کو بہکانے اور ڈگمگادینے کے ہزاروں دلکش راستے دکھاتے رہتے ہیں۔ اس لئے اس ہدایت اور رہنمائی کی آرزو ہر دل میں ہر آن رہنی چاہئے جو صرف اللہ نے اپنے دست قدرت میں رکھی ہوئی ہے۔ (الصراط المستقیم): سیدھا سچا راستہ۔ صراط مستقیم۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
خواص سورة فاتحہ الحمد شریف چالیس بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے بخار والے کے منہ پر چھینٹا دیں انشاء اللہ تعالیٰ بخار جاتا رہے گا۔ سورة فاتحہ کو چینی کے پاک برتن پر مشک و زعفران سے لکھ کر اگر مریض کو پلا دیں تو ہر قسم کے جسمانی مرض انشاء اللہ تعالیٰ جاتے رہیں گے۔ چیچک کے واسطے گیارہ مرتبہ اس سورة کو پڑھ کر دم کرنا مجرب ہے۔ الحمد شریف ہر روز صبح کی سنتوں کے بعد اور فرضوں سے پہلے اکتالیس مرتبہ پڑھنا موجب برکت ہے اور ہر کام کے لیے مفید ہے۔ اس کو پڑھ کر جو دعا مانگے گا وہ انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔ فضائل القرآن۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے زیادہ عظمت سورة فاتحہ کی…
Read the full tafseer →[13] یعنی وہ راہ جس میں کوئی کجی نہیں، کوئی اونچ نیچ نہیں، کہیں ٹھوکر لگنے کا احتمال نہیں۔ اس سے مراد جادہ شریعت ہے کہ یہی زندگی کا مکمل نظام ہے۔
Read the full tafseer →(ف 5) اللہ نے راہ طلب کی وسعتوں کو غیر محدود بنایا ہے مسلمان عرفان و سلوک کے ہر منصب کے بعد بھی ” طالب “ کے درجہ سے آگے نہیں بڑھتا یعنی خدا کا انعام وفضل بےپایاں و بیحد ہے ‘ اس لئے ایک عاصی سے لیکر حضور ﷺ تک یہی دعا مانگتے چلے آئے ہیں کہ اے خدا ہمیں صراط مستقیم پرچلا ۔ راہ اکرام وافضال کے دروازے بند نہ ہوں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 3۔ اے پروردگار ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے امداد و اعانت کے خواستگار ہوتے ہیں۔ ( تیسیر) عبادت و استعانت یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہیں ۔ عبادت کے معنی ہیں انتہائی تذلل کے ساتھ کسی کی انتہائی تعظیم بجا لانا اور ظاہر ہے کہ ایسی تعظیم اس ہی کی جاسکتی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا محسن نہ ہو ، چونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے پر اس قدر احسانات ہیں کہ اس کے مقابلہ میں کسی اور کے احسان نہیں ہیں ۔ اس لئے عبادت کا صرف وہی مستحق ہے ۔ جس طرح کسی دوسرے کی عبادت حرام ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے سے استعانت بھی ناجائز ہے کیونکہ مدد اس ہی سے طلب کی جاسکتی ہے جس کی قوت اور طاقت غالب ہو ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ف 2۔ مخلوقات کی الگ الگ جنس ایک ایک عالم کہلاتا ہے مثلا عالم ملائکہ عالم انسان، عالم پر ند، عالم حیوانات، عالم جن۔
Read the full tafseer →ہدایت وہی ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو : 24: اے اللہ ! اھدنا تو ہم کو ہدایت دے۔ ” اھدنا “ کی اصل ھ د ی ہے۔ تو ہم کو راہ دکھا۔ تو ہم کو راہ بتلا۔ اھد ہدایتہ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ” نا “ ضمیر جمع متکلم۔ اھدنا کا لفظ صرف دو بار قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ ایک یہاں سورة فاتحہ میں اور ایک بار سورة ص کی آیت نمبر 22 میں وَ اہْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ 0022 اور کہیں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا۔ ” اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ005 “ فاتحہ کی چھٹی آیت ہے۔ راہ ہدایت ہی راہ ” المستقیم “ ہے : 25: المستقیم کیا ہے ؟ ” المستقیم “ کی اصل ق و م ہے۔ المستقیم۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب…
Read the full tafseer →The Prayer for Guidance The last three verses of the Surah consist of a prayer on the part of man. In other words, Allah Himself, in His great mercy, has taught man what to pray for: “Guide us in the straight path, the path of those on whom You have bestowed Your grace, not of those who have incurred Your wrath, nor of those who have gone astray.” The Implications of Guidance A problem of highest significance arises here. The teaching with regard to the prayer for being guided in the straight path is addressed equally to all men or all Muslims and to saints and prophets who have already…
Read the full tafseer →8. We beseech God to guide us in all walks of life to a way which is absolutely true, which provides us with a properly-based outlook and sound principles of behaviour, a way which will prevent our succumbing to false doctrines and adopting unsound principles of conduct, a way that will lead us to our true salvation and happiness. This is man's prayer to God as he begins the study of the Qur'an. It is, in short, to illuminate the truth which he often tends to lose in a labyrinth of philosophical speculation; to enlighten him as to which of the numerous ethical doctrines ensures a sound course…
Read the full tafseer →