Ayah 1:1(1) سورة الفاتحۃ مکیۃ
سورة : جس طرح دنیا کی دوسری کتابیں مختلف ابواب میں تقسیم ہوتی ہیں اسی طرح قرآن حکیم کو بھی مختلف حصوں یا ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ایک حصہ کو سورة کہتے ہیں اس صورت میں یہ سورة (مہموز العین) سے مشتق ہے جس کے معنی کسی شے کے بقیہ اور بچے ہوئے حصہ (ٹکڑہ) کے ہیں۔ اور سورة بھی قرآن کا ایک ٹکڑا اور حصہ ہے۔ اس صورت میں واؤؔ کو ہمزہ سے بدلا ہوا اقرار دیا جائے گا۔
2- السورۃ : کے معنی بلند مرتبہ کے ہیں۔ جیا کہ نابغہ کا ایک شعر ہے :
الم تران اللّٰہ اوطاک سورة تری کل ملک دونھا یتذبذب
(بےشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسا مرتبہ بخشا ہے جس کے بارے ہر بادشاہ متذبذب نظر آتا ہے) قرآن کی ہر سورت اپنی بلند مرتبت کی وجہ سے سورة کہلاتی ہے۔
3- یا سورة القرآن سورة المدینۃ سے مشتق ہے جس کے معنی شہر پناہ یا شہر کے گرد حفاظت کے لئے بنائی گئی فصیل کے ہیں اور ہر سورة القرآن بھی فصیل کی طرح اپنے مضامین کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (2) اور (3) کی صورت میں یہ سورے مشتق ہے اور اس کا واؤ اصلی ہے کسی سے بدلا ہوا نہیں ہے۔
قرآن حکیم کی سورتیں طویل، درمیانی ، اور مختصر ہیں، مختصر سے مختصر سورة تین آیات کی ہے۔ مثلاً سورة العصر (103) اور سورة الکوثر (108) ۔
الفاتحۃ : اسم فاعل واحد مؤنث، فتح مادہ سے مشتق ہے۔ الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں۔ یہ ازالہ دو قسم کا ہے ایک وہ جس کا آنکھ سے ادراک ہوسکے۔ جیسے فتح الباب (دروازہ کھولنا) مثلاً قرآن مجید میں ہے وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ (12:65) اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا۔
دوم : جس کا ادراک بصیرت سے ہو مثلاً فلما نسوا حظا مما ذکروا بہ فتحنا علیہم ابواب کل شیء (6:44) جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو دی گئی تھی فراموش کردیا۔ تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یعنی ہر چیز کی فروانی کردی۔ اس سورة کے کئی نام ہیں۔ الفاتحۃ کھولنے والی۔ اس لئے کہ قرآن حکیم کی سب سے پہلی سورت ہونے کے باعث باقی قرآن حکیم کے لئے مثل دروازہ کے ہے اور اس دروازہ کے کھلنے سے باقی قرآن حکیم آتا ہے (2) ہر چیز کے مبدا کو الفاتحۃ کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ اس کے مابعد کو شروع کیا جائے اسی لئے سورة فاتحہ کو فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے۔ (2) سبع مثانی (سات دوہرائی جانے والی آیتیں) کیونکہ بالاتفاق اس کی سات آیات ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔ (3) ام الکتاب وام القرآن : کہ قرآن حکیم کے جملہ مضامین کو مشتمل ہے۔ (4) سورة الصلوٰۃ : کہ اسی کا ہر نماز میں پڑھنا واجب ہے۔ (5) سورة الحمد : کہ لفظ الحمد سے شروع ہوتی ہے (6) سورة الشفاء کہ یہ سورة ہر مرض کی شفاء ہے۔ (7) سورة الرقیہ۔ یعنی پڑھ کر دم کرنے یا پھونک مارنے والی سورۃ۔
حضرت ابو سعید ؓ نے سانپ کے کاٹے ہوئے شخص کو یہ سورة پڑھ کر دم کیا اور وہ اچھا ہوگیا۔ (8) اساس القرآن۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سورت قرآن کی جڑ ہے اور نیو ہے۔ (9) سورة الکنز۔ کیونکہ یہ مطالب اور معارف کا خزانہ ہے۔ (10) سورة الوافیہ : کہ ہر قرآن میں اسے سالم ہی پڑھا جاتا ہے۔ توڑ کر نہیں پڑھا جاتا۔ جیسا کہ بعض دیگر سورتوں کو پڑھا جاسکتا ہے۔ (11) سورة الکافیہ : کہ نماز میں یہی سورة بدوں کسی دوسری سورة کے کافی تو ہوسکتی ہے لیکن کوئی دوسری سورت بدوں اس سورة کے کافی نہیں ہوسکتی۔ وغیرہ وغیرہ۔
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ ب حرف جار ہے۔ جو مصاحبت یا استعانت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اگر مصاحبت کے لئے ہو تو ترجمہ ہوگا۔ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ برکت حاصل کرتے ہوئے۔ اور اگر استعانت کے لئے ہو تو ترجمہ ہوگا۔ اللہ کے نام کے ساتھ مدد حاصل کرتے ہوئے (گویا اس کے معنی ہیں ساتھ، مدد کے ساتھ، اسم۔ نام۔ مادہ س۔ م۔ و سے مشتق ہے۔ سما یسمو (باب نصر) سمو، بمعنی بلند ہونا جیسے عربی میں کہتے ہیں سموات الیہ بصری۔ میں نے اس کی طرف نظر اٹھائی۔ جب کسی کا نام لیا جاتا ہے تو گویا اس کو بلند و بالا کرتے ہیں تاکہ وہ آنکھوں میں جچ جائے۔ اسم کی جمع اسماء ہے بعض کے نزدیک اس کا مادہ وسم ہے جس کے معنی علامت کے ہیں اور واؤ ہمزہ سے بدل گئی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، عربی زبان کا عام ضابطہ ہے کہ کسی لفظ کے مادہ کے اصلی حروف تصغیر میں ظاہر کردیئے جاتے ہیں اس قاعدہ کے موافق اگر اسم مادہ وسم سے قرار دیا جائے تو اس کا اسم تصغیر وسم اور جمع اوسام ہوگی مگر ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی تصغیر سمی اور جمع اسماء ہے جو قاعدہ کے موافق ہے۔ لہذا اسم سمو سے مشتق ہے کہ نہ کہ وسم سے۔
بسم۔ میں اسم کا الف کثرت استعمال کے باعث ساقط ہوگیا ہے اور اس کے بدلے میں ب لمبی لکھی جاتی ہے۔ بسم اللّٰہ میں ب کا تعلق فعل سے ہے یا اسم سے جو ہر دو یہاں محذوف ہیں۔ قرآن مجید میں اس کا ستعمال دونوں طرح کیا ہے۔ متعلق اسم ہونے کی صورت میں عبارت کچھ یوں ہوگی بسم اللّٰہ ابتدائی (اللہ کے نام سے تیری ابتداء ہے) ۔ قرآن مجید میں اس کی مثال۔ وقال ارکبوا فیہا بسم اللّٰہ مجرمھا ومرسھا (11:41) سوار ہوجاؤ کشتی میں اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور اللہ کے نام سے اس کا ٹھیرنا ہے۔ متعلق فعل کی صورت میں عبارت یوں ہوگی۔ ابدا بسم اللّٰہ (میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ قرآن مجید میں اس کی مثال اقرا باسم ربک۔ (96:1) پڑھ اپنے رب کے نام سے۔
اللّٰہ۔ اللہ کا لفظ خداوند تعالیٰ کے لئے بطور اسم ذات آیا ہے یہ کسی خاص صفت کے لئے نہیں بولا جاتا۔ باقی تمام صفات خداوندی اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ نزول قرآن سے پہلے بھی اللہ کا لفظ خداوند تعالیٰ کے لئے بطور اسم ذات کے مستعمل تھا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ترجمان القرآن (از مولانا آزاد) ۔
الرحمن الرحیم ط : یہ دونوں نام رحمۃ سے مشتق ہیں، دونوں میں مبالغہ ہے رحمن کے معنی میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے اس میں رحیم کی نسبت ایک حرف زائد ہے اور زیادۃ اللفظ تدل علی زیادۃ المعنی یعنی زائد حروف زیادۃ معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ رحمن کا لفظ اللّٰہ کی طرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے اور اس کی دلیل یہ آیت شریفہ ہے : قل ادعوا اللّٰہ ادادعوا الرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسمآء الحسنی (17:11) کہہ دو تم (خدا کو) اللہ (کے نام سے) پکارو یا رحمن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ بخلاف اس کے رحیم کا لفظ ماسوی اللہ کے لئے بھی مستعمل ہے مثلاً رسول کریم ﷺ کو رؤف رحیم، کہا گیا ہے آیۃ شریفہ ہے لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم باالمومنین رء وف الرحیم ۔ (6:128) (لوگو) تمہارے پاس تمہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں جو چیز تمہیں مضرت پہنچاتی ہے انہیں بہت گراں گزرتی ہے تمہاری (بھلائی) کے حریص ہیں ایمان والوں کے حق میں تو بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔
بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ دنیا میں رحمن اور آخرت میں رحیم ہے کہ دنیا میں مومن اور کافر سب اس کی رحمت سے متمتع ہوتے ہیں اور آخرت میں رحمت سے فائدہ اٹھانے والے صرف مومن ہوں گے۔ اس بارے میں اور بھی بہت سے اقوال ہیں ۔ گرامر کے لحاظ سے الرحمن الرحیم ۔ کی دو صورتیں ہیں (1) یہ اللہ کی صفت ہیں اس صورت میں ترجمہ ہوگا اللہ کے نام سے جو کہ رحمن اور رحیم ہے (2) یہ اللہ کا بدل ہے اور ترجمہ ہے اللہ رحمن و رحیم کے نام سے جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے۔
بسم اللّٰہ کی بؔ کا تعلق اسم (محذوف) سے ہے یا فعل (محذوف) سے۔ اول الذکر کی صورت میں یہ جملہ اسمیہ ہوگا اور مؤخر الذکر کی صورت میں جملہ فعلیہ اس کی ترکیب نحوی کچھ یوں ہوگی۔
ب۔۔ حرف جار
اسم ۔۔ مضاف
اللہ ۔۔ مضاف الیہ موصوف موصوف صفت مل کر مضاف مضاف الیہ مل کر جار مجرور مل کر متعلق
الرحمن ۔۔ صفت اول صفت مضاف الیہ مجرور فعل
الرحیم۔۔ صفت تانی
ابدا ۔۔ فعل (محذوف)
انا۔۔ ضمیر فاعل مستتر ورفعل محذوف) پس فعل اپنے فاعل اور تعلق فعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔
کیا بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ مکہ اور کوفہ کے قاری اسے قرآن مجید کا حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء کا کہنا ہے کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں (شوکانی زیر آیت 1:1) مؤخر الذکر قراء کے ایک گروہ کا خٰال ہے کہ یہ آیت سورة فاتحہ کا حصہ ہے باقی سورتوں کا نہیں۔
جو اس کو سورة فاتحہ کا حصہ سمجھتے ہیں ان کے نزدیک یہ ایک مکمل آیت ہے لہذا اس کو علیحدہ نمبر دیتے ہیں اور باقی آیات کی تعداد چھ شمار کرکے کل سات آیات (سبع مثانی) مکمل کرتے ہیں اور جو اسے سورة فاتحہ کا حصہ شمار نہیں کرتے ہو آیت صراط الذین انعمت علیہم 5 غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ۔ میں انعمت علیہم پر وقف کرکے علیحدہ آیت نمبر 6 شمار کرتے ہیں ۔ جبکہ اول الذکر گروہ اسے ایک ہی آیت شمار کرتا ہے۔
Ayah 1:2اَلْحَمْدُ : حَمِدَ یَحْمَدُ : (باب سمع) سے مصدر ہے۔ ثناء کرنا، تعریف کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی فضیلت اور ثناء کو حمد کہتے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو کہ انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدائشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح مال کے خرچ کرنے اور علم و سخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اسی طرح اس کی درازی قدرو قامت اور چہرہ کی خوبصورت پر بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے نہ کہ اوصاف اضطراریہ پر۔ اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں۔ لہذا ہر شکر حمد ہے مگر ہر حمد شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد فرماتے ہیں، عربی میں حمد کے معنی ثناء جمیل کے ہیں یعنی اچھی صفتیں بیان کرنے کے۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں ۔ تو یہ حمد نہ ہوگی۔
حمد : پر الف لام (ال) تعریف کا ہے یہ یا تو جنس کے لئے ہے اور حمد کے اس مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے جسے ہر شخص جانتا ہے یا یہ استغراق کے لئے ہے۔
لِلّٰهِ میں لام اختصاص کا ہے جیسا کہ کہتے ہیں الدارلزید۔ پس اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے معنی یہ ہوئے کہ حمد وثناء میں جو کچھ اور جیسا کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب اللہ کے لئے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالوں میں سے جو کچھ بھی ہے سب اسی سے ہے اور اسی میں ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ جملہ خبریہ اسمیہ ہے اور استحقاق حمد کے استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ اس جملہ سے ثناء کرنا مقصود ہے اور بندوں کو حمد کی تعلیم دی گئی ہے تقدیر جملہ یہ ہے قولوا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ (لوگو ! اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ! کہا کرو) اس تقدیر کی ضرورت اس لئے ہے کہ آیت ایاک نعبد سے مناسبت پیدا ہوجائے کیونکہ نعبد کے قائل بندے ہیں۔
رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ مضاف مضاف الیہ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے رب یرب (باب نصر) سے۔ استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے مطلق صورت میں یعنی اضافت اور تعریف سے خالی ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولاجاتا ہے اور دوسروں پر بھی جیسے رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ کی صفت : تمام جہانوں کا پالنے والا) ۔ رب الدار (ماسوی اللہ کے لئے : گھر کا مالک) رب بمعنی کسی پر سیاست رالی کرنا مثلاً رب القوم۔ کسی کا کام درست کرنا ۔ جیسے رب الامر۔ کسی کو پالنا جیسے رب الولد۔
رب : تربیت کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ تربیت دینا۔ یعنی کسی چیز کو اس کی ازلی استعداد اور فطری صلاحیت کے مطابق آہستہ آہستہ مرتبہ کمال کو پہنچانا۔ اس پرورش میں محبت شفقت، حفاظت، نگہداشت، اور امانے کا عنصر موجود ہوتا ہے، جیسے ماں کا بچے کو پالنا۔ یا ماں باپ کا بچے کی نشو و نما میں اس کی نگہداشت کرنا۔ اور ہر ضرورت کو ہر وقت اور حسب موقع اس کی استعداد کے مطابق پورا کرنا۔ اس سے رب بمعنی پروردگار، پالنہار، پالنے والا آتا ہے۔
عالمین۔ عالم کی جمع ہے (استعمال میں اس کے لفظ سے اس کا واحد نہیں پایا جاتا۔ یعنی قرآن مجید میں لفظ عالم بصیغہ مفرد استعمال نہیں کیا گیا) ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے کو عالم کہتے ہیں اس میں تمام وہ مخلوق شامل ہے خواہ وہ زمین پر ہو یا آسمانوں میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (سب کا) مالک و پروردگار ہے۔ عالم نام ہے اس چیز کا جس کے ذریعہ سے کسی چیز کا علم ہو پھر استعمال ہونے لگا ا ان چیزوں میں جن کے ذریعہ صانع یعنی باری تعالیٰ کا علم حاصل ہو۔ چونکہ عالم کے تحت میں اجناس مختلف موجود ہیں اس لئے عالمین بصیغہ جمع لایا گیا ہے۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ بدل ہے اللہ کا یا اس کی صفت ہے بدیں وجہ مجرور ہے۔
Ayah 1:3(2:2) الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ : ہر دو کی وضاحت اوپر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے بیان میں ہوچکی ہے اللہ کی صفت دوم، سوم یا اللہ کا بدل ہیں۔
Ayah 1:4(2:3) مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۔ مٰلِكِ مضاف يَوْمِ الدِّيْنِ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ، لہذا مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ صفت چہارم ہے اللہ کی۔ بعض کے نزدیک یہ اللہ کا بدل ہے صفت نہیں کیونکہ اللہ معرفہ ہے۔ اور یہ نکرہ۔ اس کے نکرہ ہونے کی وجہ سے یہ ہے کہ اسم فاعل جب حال یا مستقبل کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے تو مضاف الی المعرفہ بھی معرفہ نہیں بنتا۔ املائ، جزا و حساب کے دن کا مالک۔ يَوْمِ الدِّيْنِ کی قرآن مجید میں یوں وضاحت کی گئی ہے۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ 17 ۙثُمَّ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ 18ۭيَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ 19ۧ (82:17-19) جس دن کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا اور حکم تمام تر اس روز صرف اللہ ہی کا ہوگا۔
علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں : يَوْمِ الدِّيْنِ : قیامت کا دن ہے دین۔ جزاء اور بدلے کو کہتے ہیں اور کَمَا تُدِینُ تُدَانُ دین ہی سے مشتق ہے (یعنی جیسے تو فعل کرے گا ویسا ہی بدلہ لے گا۔۔ یا لفظ دین سے اسلام اور اطاعت مراد ہے کیونکہ وہ ایسا دن ہے کہ جس میں اسلام اور اطاعت کے سوا کوئی چیز نفع نہ دیگی۔
مجاہد کہتے ہیں کہ يَوْمِ الدِّيْنِ بمعنی يَوْمُ الحِسَاب ہے چناچہ قرآن مجید میں آیا ہے ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ یعنی یہ سید ھا حساب ہے۔
Ayah 1:5(1:4) اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ
نَعْبُدُ ۔۔ فعل فعل اپنے فاعل
نحن ۔۔ (ضمیر مستتر) فاعل اور مفعول سے مل کر معطوف علیہ
اِيَّاكَ ۔۔ مفعول۔ (جو تخصیص کے لئے مقدم کردیا گیا ہے) جملہ فعلیہ ہوا
وَ ۔۔ حرف عطف
نَسْتَعِيْنُ ۔۔ فعل فعل اپنے فاعل اور مفعول سے معطوف
نحن ۔۔ (ضمیر ستتر) فاعل مل کر جملہ فعلیہ ہوا
اِيَّاكَ ۔۔ مفعول (مقدم برائے تخصیص)
اِيَّاكَ ۔ اِيَّا۔ اور كَ سے مرکب ہے، یعنی تجھ ہی سے۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ یہ کلمہ ضمیر منصوب منفصل کے تلفظ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ جب ضمیر منصوب اپنے عامل پر مقدم ہو یا اس پر کسی کلمہ کا عطف ڈالا جائے یا الا کے بعد آئے تو اس کے ساتھ (یعنی ایا کے ساتھ) استعمال ہوتی ہے (1) مثلاً تقدیم کی صورت میں ہے ایاک نعبد (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں) (2) عطف کی صورت میں قرآن مجید میں ہے نحن نرزقھم وایاکم (17-31) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور (3) الا کے بعد : وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ (17-23) اور تیرے پروردگار نے قطعی طور پر ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو :
مفعول مقدم کی صورت میں تخصیص کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ گویا جب کہا جائے نعبدک تو اس کے معنی ہوں گے ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب کہا جائے ایاک نعبد تو اس کے معنی ہوں گے ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔
نَسْتَعِيْنُ : مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ استعانۃ (استفعال) سے عون۔ مادہ۔ ہم مدد چاہتے ہیں، ہم مدد مانگتے ہیں ایاک۔ صرف تجھی سے۔
فائدہ اول :
یہاں ایاک جو کہ بطور مفعول مستعمل ہے اسے فعل سے قبل لانے اور پھر اسے دوہرانے سے مقصود اس کی اہمیت کو ذہن نشین کرانا ہے اور عبادت اور طلب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص کرنا ہے یعنی ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنے اور تیرے سوا کسی سے امداد طلب نہیں کرتے۔ اس حصرو تخصیص کے مدنظر اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا یا اس سے مدد مانگنا قطعاً ممنوع اور حرام ہے، خواہ وہ کرئی انسان ہو، جن ہو، فرشتہ ہو، حیوانات سے ہو بناتات سے ہو یا جمادات سے ہو، استعانت (مدد طلب کرنا) سے یہاں اعانت کے بنیادی معنی مراد ہیں جس میں اس کے جملہ پہلو شامل ہوں، ورنہ اس عالم اسباب میں بعض قسم امداد ماسوی اللہ سے طلب کرنا منع نہیں ہے مثلاً آپ کمزوری کے باعث اٹھ نہیں سکتے اور کسی اور کو اٹھنے میں مدد دینے کو کہتے ہیں، آپ طلب علم ہیں اور استاد سے یا کسی عالم سے اپنے علم کی تحصیل کے لئے امدا کے طالب ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس۔ حالانکہ آپ کا فی الواقع اٹھنے کے قابل ہونا۔ یا مرض سے شفا پانا، یا علم کا حاصل کرنا بالآخر قبضہ قدرت میں ہے آپ صرف دنیاوی اسباب سے استفادہ چاہتے ہیں اور حقیقۃً ان اسباب کے مہیا کرنے کا مسبب وہی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ کامل اطاعت اور پورے دین کا حاصل یہی دو چیزیں ہیں (عبادت اور استعانت) بعض سلف کا قول ہے کہ سارے قرآن کا راز سورة الفاتحہ میں ہے۔ اور پوری سورة کا راز اس آیت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں ہے۔
فائدہ دوم :
خداوند تعالیٰ کی حمد ہوچکی، اس کی ربوبیت اس کی رحمانیت اور اس کی رحیمیت اس کا روز جزاء و سزا کا مالک مطلق ہونا بیان ہوچکا اس کی حقیقت دل کی گہرائیوں میں اتر چکی اس کا اثر جسم کے روئیں میں بس گیا۔ تو بندہ بصد عجزو انکسار عبادت میں اس ذات و حدہٗ لاشریک کے آگے جھک گیا۔ اور صرف اور صرف اسی کو حامی و ناصر جانتے اور مانتے ہوئے پکار اٹھا۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۔ اس یک لخت غیب کے درجہ سے مرتبہ خطاب کی جانب عدول کے متعلق تفسیر مظہری میں یوں تحریر ہے :۔
” اگر کسی چیز کے احوال وصفات ناقابل اشتراک اور مخصوص ہوں اور وہ صفات ذکر کردی جائیں تو اس چیز کی ذہن میں ایسی تعیین ہوجاتی ہے کہ گویا وہ سامنے آگئی، شدت تخیل غیر محسوس کو محسوس کرکے دکھا دیتی ہے علم غائبانہ شہود سے بدل جاتا ہے، حضور ذہنی وجود خارجی کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ علم حصولی معائنہ میں تبدیل ہوجاتا ہے پس جب ذات الوہیت کا نام ذکر کردیا اور مخصوص صفات کو بھی بیان کردیا تو ذات غائب شدت استحضار کی وجہ سے عارف کی نظر کے سامنے آگئی۔ اس لئے اس نے غائبانہ طرز کلام سے انتقال کرکے تخاطب کا اسلوب اختیار کیا۔ جس ذات کا وہ غائبانہ ذکر کر رہا تھا۔ وہ اس کے سامنے حاضر ہوگئی اور اس نے حاضر ذہنی سے اس طرح بات کرنی شروع کردی جیسے حاضر مرئی خارجی سے کی جاتی ہے “۔
Ayah 1:6(1:5) اِھْدِنَا۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ھدایۃ باب ضرب، مصدر سے، تو ہم کو راہ بتلا، تو ہماری رہنمائی کر، اصل میں فعل لازم ہے اور ل الیٰ کے ساتھ متعدی کے معنی دیتا ہے لیکن بغیر صلہ کے بھی بطور متعدی استعمال ہوتا ہے مثلاً ھدی الرجل آدمی کا ہدایت پانا۔ (فعل لازم) اور ھداہ الطریق کسی کو راہ بتانا۔ بمعنی ھداہ الی الطریق وللطریق۔ فعل متعدی ہے۔ ہدایت کے اصلی معنی لطف و مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنے اور راستہ بتانے کے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کا استعمال ہمیشہ خیر و نیکی میں ہوا کرتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو پھر مقصد تک پہنچانے کے معنی میں ہوتی ہے۔
الصِّرَاطَ ۔ راہ۔ راستہ، سیدھے اور آساں راستے کو صراط کہتے ہیں اس کی جمع صرط ہے۔ الصِّرَاطَ یہاں موصوف ہے اس کی صفت المستقیم آگے آتی ہے۔
الْمُسْتَـقِيْمَ ۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر منصوب۔ استقامۃ (استفعال) قوم۔ مادہ بمعنی سیدھا۔ صحیح، الصِّرَاطَ کی صفت ہے۔ ااِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ، کی ترکیب یوں ہوگی۔
اِھْدِ ۔۔ فعل فعل اپنے فاعل اور دو مفعولوں سے
انت۔ ضمیر مستتر فاعل مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔
نَا ۔۔ مفعول ول
الصِّرَاطَ ۔۔ موصوف موصوف وصفت مل کر
الْمُسْتَـقِيْمَ ۔۔ صفت مفعول ثانی
Ayah 1:7(1:6) صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ یہ جملہ بدل کل ہے الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ سے۔ ترکیب یوں ہوگی۔
صِرَاطَ ۔ مضاف مضاف ، مضاف الیہ مل کر
الَّذِيْنَ ۔ موصول موصول و صلہ بدل کل الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ سے
اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ فعل بافاعل وضمیر مفعول مل کر مضاف الیہ
عامد الی الذین مل کر جملہ صلہ
فعلیہ ہوکر
یعنی الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ سے مقصود وہ سیدھا راستہ ہے جس کی طرف رہنمائی کی دعا کی گئی ہے جو انعام یافتہ لوگوں کا ہے۔ یہ انعام یافتہ کون لوگ ہیں ؟ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا 69ۭ (4:69) اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے انعام کیا یعنی انبیاء صدیقین ، شہدا، اور نیک لوگ۔ انعام کے معنی ہیں وہ کیفیت جسے انسان لذیذ پاتا ہے پھر اس کا ستعمال ان اشیاء پر ہونے لگا جو اس لذت کا سبب بنتی ہیں۔
7 ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ یہ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے بدل ہے (یعنی تیرے انعام یاقتہ بندے وہ ہیں) جو (تیرے) غضب اور گمراہی سے سالم اور محفوظ ہیں یعنی جن پر نہ تیرا غضب نازل ہوا اور وہ گمراہ ہوئے۔
فائدہ : نعمتوں کی قسمیں، دنیاوی، اخروی۔ وہبی۔ کسبی۔ جسمانی۔ روحانی۔
وہبی ، بمعنی خداداد۔ جیسے روح۔ عقل، بینائی، قوت شنوائی، قوت گویائی وغیرہ۔
کسبی۔ جو اپنی محنت سے حاصل ہو۔ جیسے نفس کو رذائل سے پاک کرنا، اور عمدہ اخلاق سے آراستہ کرنا اور بدن کو خوبصورت کپڑوں اور زیورات سے زینت دینا۔ اور مال و جائداد و عہدہ حاصل کرنا۔
اخروی۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی کوتاہیوں کو معاف کر دے اور راضی ہو کر اعلیٰ علیین میں ملائکہ مقربین کے ساتھ ٹھکانہ دے۔
فائدہ : اگر مضمون کی خاطر غیر کی تکرار مطلوب ہو تو دوسری دفعہ غیر کی بجائے دلاتے ہیں جس کا مابعد مجرور ہوگا ۔ مثلاً من غیر اب ولا ام۔ بغیر باپ کے اور بغیر ماں کے۔ یا وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ ۙ (31:20) اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے، یا آیت زیر غور صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 9 غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام و فضل ہوا۔ جن پر تیرا غضب نہ ہوا اور جو نہ گمراہ ہوئے، بعض کے نزدیک وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ میں لا زائد تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ بمعنی غير صراط الذین غضب علیہم وغیر الضالین عن الھدی بھی ہوسکتا ہے : نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ راستہ ان لوگوں کا جو ہدایت کے راستہ سے گمراہ ہوگئے۔
فائدہ : بعض کے نزدیک مَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ سے مراد اہل یہود ہیں اور الضَّاۗلِّيْنَ سے نصاری۔
ترمذی نے عدی بن حاتم سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا الیھود مغضوب علیہم و النصاری ضلال۔ لیکن علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں : میں کہتا ہوں کہ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ۔ ایسے دو عام لفظ ہیں جس کے تحت تمام کفار اور خدا کے نافرمان اور بدعتی سب لوگ داخل ہوسکتے ہیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے حق میں جو کسی ممنوع القتل کو عمداً قتل کردے غضب اللہ علیہ : 4:93) فرمایا ہے اور کفار اور بدعتیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ (10:32) اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا) اور اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۔ (18:104) (وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی) ۔
الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ ۔ غضب یغضب (باب سمع) فعل لازم ہے بمعنی غضبناک ہونا۔ علی کا صلہ لگا کر مغضوب علی اسم مفعول بنایا گیا ہے وہ جس پر غضب نازل ہوا۔ الغضب کے اصل معنی ہیں انتقام کے لئے دل میں خون کا جوش مارنا ۔ لیکن غضب الٰہی سے مراد سزا اور عذاب ہوتا ہے غضب اللہ علیہ (4ـ93) اور خدا اس پر غضبناک ہوگا ، غیر المغضوب علیہم میں غیر نفی کے لئے ہے جملہ کا مطلب ہے جن پر غضب نازل نہیں ہوا۔
وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ وعاطفہ ہے لا۔ غیر کی جگہ تکرار کی خاطر لایا گیا ہے ولا الضالین کا عطف جملہ سابقہ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ پر ہے۔ الضالین اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے ضال واحد بحالت رفع، بہکے ہوئے، گمراہ، راہ بھولے ہوئے۔ الضلال کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانے کے ہیں اور یہ ھدایۃ بالمقابل استعمال ہوتا ہے۔
فائدہ : سورة فاتحہ کے ختم پر قدرے فصل کے ساتھ آمین کہنا مسنون ہے، صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (لوگو ! ) جب امام وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ تک پہنچ جائے تو آمین کہا کرو ۔ کیونکہ اس وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ اور جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق پڑجائے گی اس کے تمام گذشتہ گناہوں پر قلم عفو کھینچ دیا جائیگا۔
امین کے معنی ہیں : اسمع واستجب : (یعنی خداوندا ہماری دعا سن اور قبول فرم۔ (حضرت ابن عباس ؓ یا افعل : (یا اللہ ایسا ہی کر) ۔
یاد رہے کہ آمین قرآن مجید کا حصہ نہیں، اور اسی لئے اسے لکھا نہیں جاتا، بعض کے نزدیک من قال ان امین من القران کفر : جس نے کہا کہ آمین قرآن کا حصہ ہے اس نے کفر کیا۔ (روح المعانی) ۔