1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsسراج البیان

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (ف 1)

ام ال کتاب کے فضائل ونکات : قرآن مجید میں اس کا نام ” سبع مثانی ہے ۔ احادیث میں فاتحہ ، کافیہ ‘ ام ال کتاب اور کنز وغیرہ کے ناموں سے موسوم ہے ۔ اس لئے کہ نماز میں اسے بار بار پڑھا جاتا ہے ہے : سبع مثانی “ ہے اس لئے کہ قرآن حکیم کی ابتدا اس سے ہوتی ہے : ” فاتحہ “ ہے اس لئے کہ معارف کا گنج گراں مایہ اس میں پوشیدہ ہے ۔ : کنز “ کہلاتی ہے اس لئے کہ تمام اس لئے کہ تمام اساسی وضروری اصول اس میں مذکور ہیں ۔ ام ال کتاب یا کافیہ کے نام سے یاد کی جاتی ہے یہ سارے قرآن ذی شان کا عطر سمجھئے ، تمام باتیں بالاجمال اس میں آگئی ہیں ۔ (لا) : رب کائنات کی حمد و ستائش جس کی رحمتیں وسیع اور ہمہ گیر ہیں جو فیصلے کے دن کا تنہا مالک ہے ۔ (ب) : ایک خدا کی پرستش کا اعتراف اور ہر کام میں اسی سے استعانت کا اقرار ۔ (ج) : صراط مستقیم یا جادہ ہدایت کی طلب جس پر چل کر تمام برگزیدہ لوگوں نے انعام حاصل کئے اور جس سے ہٹ کر چاہ غضب وضلالت میں گر گئے ۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ یہ قرآن میں عظیم ترین سورة ہے ۔ (ی) : امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ جو مفسر امت اور پہلے مفسر قرآن صحابی ہیں ‘ فرماتے ہیں فاتحہ دو ثلث تقریبا آجاتے ہیں یعنی دو تہائی مضامین (ف 1) بسم اللہ سے قرآن کا آغاز ہوتا ہے اور یہ ہر نوع کے آغاز کے لئے اس درجہ موزوں ہے کہ بسم اللہ کے معنی ہی آغاز یا شروع کے ہوگئے ۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ کل امر ذی بال لم یبدا باسم اللہ فھو ابتر “۔ یعنی ہر کام کا آغاز بسم اللہ سے ہو ‘ ورنہ ناکامی ہوگی ۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر کام میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جائے جو بسم اللہ میں بتائے گئے ہیں ۔ بسم اللہ ایک پیغام عمل ہے جسے غلطی سے ایک فسوں سمجھ لیا گیا ہے ۔ (1) کام کا مقصد نیک ہو اللہ کی رضا اس میں مستتر ہو (2) خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون کے ماتحت شروع کیا جائے یعنی بتدرئھ استقلال اور رجا کو ہاتھ سے دیا جائے ۔ (3) مایوسی اور قنوط طبیعت پر نہ چھا جائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ رحمن ورحیم ہے ۔ وہ کسی طرح بھی ہمارے نیک اعمال ضائع ہونے نہیں دیتا ۔ یہ سہ گانہ اصول ہیں جو بسم اللہ میں بتائے گئے ۔ ظاہر ہے انہیں ہر وقت ملحوظ رکھنا ہر کام میں کامیابی حاصل کرنے کے مترادف ہے ۔
Ayahs 1:2–3

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

سب تعریف اللہ کیلئے ہے جو کل جہان کا پروردگار ہے ۔2۔

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔

(ف 2) خدا کے متعلق قرآنی تخیل یہ ہے کہ وہ ساری کائنات کا رب ہے ۔ اس کی خدائی زمان ومکان کی قیود سے بالا و بلند ہے ۔ حل لغات : الحمد ، مصدر تعریف و ستائش اس صورت میں جبکہ ممدوح مختار اور فعل جمیل وخیر ہو ۔ رب : اسم صفت جو تخلیق واختراع کے بعد کائنات کا ہر منزل میں خیال رکھے یعنی ایجاد و تصویر سے لیکر تکمیل و تزئین تک ہر مرحلے میں اس کا التفات کرم فرما رہے ۔ العلمین : جمع عالم اسم آلہ خلاف قیاس ، دنیا یا کائنات ، ہر شے ہر جگہ ، ہر چیز ، الرحمن ، رحم رحمنہ سے اسم صفت رحم سے مطلق ہے یعنی ماورانہ شفقت کی انتہائی تنزیہی صورت ، مہرومحبت کا پاکیزہ ترین پیکر ، اھد ۔ مصدر ہدایت ، صیغہ امر لطف و محبت سے رہنمائی کرتا ۔ دھیرے دھیرے پیار سے منزل مقصود تک پہنچانا ۔ الصراط المستقیم : سیدھی ، قریب ترین اور بےخوف ومضطرراء ۔
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

انصاف کے دن کا مالک ہے :3۔

(ف 3) مکافات عمل کی آخر صورت فیصلے کا دن ہے جس میں کسی کو مداخلت کا حق نہیں ۔ تمام جھگڑوں کو نپٹائے گا ۔ والامر یومئذ للہ
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں :4۔

(ف 4) قرآن کا یہ احسان ہے ساری دنیائے انسانیت پر کہ اس نے بندہ و خدا کے درمیان جتنے پردے حائل تھے چاک کر دئے ، اب ہر شخص براہ راست اسے پکار سکتا ہے ، نہ عبادت کے لئے کسی وسیلے کی ضرورت ہے نہ استعانت کے لئے کسی شفیع کی حاجت
Ayah 1:6

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہمیں سیدھی راہ پر چلا :5۔

(ف 5) اللہ نے راہ طلب کی وسعتوں کو غیر محدود بنایا ہے مسلمان عرفان و سلوک کے ہر منصب کے بعد بھی ” طالب “ کے درجہ سے آگے نہیں بڑھتا یعنی خدا کا انعام وفضل بےپایاں و بیحد ہے ‘ اس لئے ایک عاصی سے لیکر حضور ﷺ تک یہی دعا مانگتے چلے آئے ہیں کہ اے خدا ہمیں صراط مستقیم پرچلا ۔ راہ اکرام وافضال کے دروازے بند نہ ہوں ۔
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان کی راہ جن پر تو نے اپنا فضل کیا نہ ان کی راہ جن پر غصہ ہوا اور نہ بھٹکنے والوں کی :6۔

(ف 6) ضال ومغضوب سے وہ لوگ مراد ہیں جو صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں اور پھر تمرود سرکشی کی وجہ سے کسی نہ کسی طرح عذاب میں گرفتار ہیں ۔