1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے(سورة الفاتحہ۔ سورة نمبر 1۔ تعداد آیات 7)

ارحمٰن اور رحیم دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور رحمٰن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے ترجمہ میں ان سب باتوں کا لحاظ ہے۔
Ayah 1:2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں2 جو پالنے والا سارے جہان کا3

2 یعنی سب تعریفیں عمدہ سے عمدہ اول سے آخر تک جو ہوئی ہیں اور جو ہوں گی خدا ہی کو لائق ہیں۔ کیونکہ ہر نعمت اور ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور عطا کرنے والا وہی ہے خواہ بلاواسطہ عطا فرمائے یا بواسطہ جیسے دھوپ کی وجہ سے اگر کسی کو حرارت یا نور پہنچے تو حقیقت میں آفتاب کا فیض ہے۔ (حمد رابا تو نسبتے ست درست بردر ہر کہ رفت بردر تست) تو اب اس کا یہ ترجمہ کرنا کہ (ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے) بڑی کوتاہی کی بات ہے جس کو اہل فہم خوب سمجھتے ہیں۔ 3 مجموعہ مخلوقات کو عالم کہتے ہیں اور اسی لئے اس کی جمع نہیں لاتے۔ مگر آیت میں عالم سے مراد ہر ہر جنس (مثلاً عالم جن، عالم ملائکہ، عالم انس وغیرہ وغیرہ) ہیں۔ اس لیے جمع لائے تاکہ جملہ افراد عالم کا مخلوق جناب باری ہونا خوب ظاہر ہوجائے۔
Ayahs 1:3–4

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

بیحد مہربان نہایت رحم والا

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

مالک روز جزا کا4

4 اس کے خاص کرنے کی اول وجہ تو یہی ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور پیش آئیں گے ایسا خوفناک روز جو نہ پہلے ہوا نہ آگے کو ہوگا دوسرے اس روز بجز ذات پاک حق تعالیٰ کے کسی کو ملک و حکومت ظاہری بھی تو نصیب نہ ہوگی لمن الملک الیوم للّٰہ الواحد القھار۔
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

تیری ہی ہم بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں5

5 اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت الہٰی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت درحقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔
Ayahs 1:6–7

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

بتلا ہم کو راہ سیدھی

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے فضل فرمایا6 جن پر نہ تیرا غصّہ ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے7

6 جن پر انعام کیا گیا وہ چار فرقے ہیں نبیین و صدیقین و شہداء و صالحین کلام اللہ میں دوسرے موقع پر اس کی تصریح ہے اور المغضوب علیھم سے یہود اور ضالین سے نصاریٰ مراد ہیں۔ دیگر آیات و روایات اس پر شاہد ہیں اور صراط مستقیم سے محرومی کل دو طرح پر ہوتی ہے۔ عدم علم یا جان بوجھ کر کوئی فرقہ گمراہ اگلا پچھلا ان دو سے خارج نہیں ہوسکتا سو نصاریٰ تو وجہ اول میں اور یہود دوسری میں ممتاز ہیں۔ 7 یہ سورت خدا تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ جب ہمارے دربار میں حاضر ہو تو ہم سے یوں سوال کیا کرو اس لیے اس سورت کا ایک نام تعلیم مسئلہ بھی ہے۔ اس سورت کے ختم پر لفظ اٰمین کہنا مسنون ہے اور یہ لفظ قرآن شریف سے خارج ہے۔ معنی اس لفظ کے یہ ہیں کہ " الہٰی ایسا ہی ہو " یعنی مقبول بندوں کی پیروی اور نافرمانوں سے علیحدگی میسر ہو اس سورت کے اول نصف میں اللہ تعالیٰ کی ثنا و صفت اور دوسرے حصہ میں بندہ کے لیے دعا ہے۔ فائدہ : غیر المغضوب الخ الذین کا بدل ہے یا اس کی صفت ہے اس لیے اس کے مناسب ترجمہ کیا گیا۔ بعض تراجم دہلویہ میں جو اس کا ترجمہ کیا ہے خلاف ترکیب و خلاف مقصود ہے۔