1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

اس کا نام " الفاتحہ " اس کے مضمون کی مناسبت سے ہے۔ " فاتحہ " اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی مضمون یا کتاب یا کسی شے کا افتتاح ہو۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ یہ نام " دیباچہ " اور آغاز کلام کے ہم معنی ہے۔

زمانہ ٴنزول

یہ نبوت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالکل ابتدائی زمانہ کی سورت ہے۔ بلکہ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی مکمل سورت جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی وہ یہی ہے۔ اس سے پہلے صرف متفرق آیات نازل ہوئی تھیں جو سورة علق، سورة مزمل، اور سورة مدثر وغیرہ میں شامل ہیں۔

مضمون

دراصل یہ سورة ایک دعا ہے جو خدا نے ہر اس انسان کو سکھائی ہے جو اس کتاب کا مطالعہ شروع کر رہا ہو۔ کتاب کی ابتدا میں اس کو رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم واقعی اس ٢٢٢ کتاب سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو پہلے خداوند عالم سے یہ دعا کرو۔ انسان فطرةً دعا اسی چیز کی کیا کرتا ہے جس کی طلب اور خواہش اس کے دل میں ہوتی ہے، اور اسی صورت میں کرتا ہے جبکہ اسے یہ احساس ہو کہ اس کی مطلوب چیز اس ہستی کے اختیار میں ہے جس سے وہ دعا کر رہا ہے۔ پس قرآن کی ابتدا میں اس دعا کی تعلیم دے کر گویا انسان کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ اس کتاب کو راہ راست کی جستجو کے لیے پڑھے، طالب حق کی سی ذہنیت لے کر پڑھے، اور یہ جان لے کہ علم کا سرچشمہ خداوند عالم ہے، اس لیے اسی سے راہنمائی کی درخواست کرکے پڑھنے کا آغاز کرے۔ اس مضمون کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن اور سورة فاتحہ کے درمیان حقیقی تعلق کتاب اور اس کے مقدمے کا سا نہیں بلکہ دعا اور جواب دعا کا سا ہے۔ سورة فاتحہ ایک دعا ہے بندے کی جانب سے، اور قرآن اس کا جواب ہے خدا کی جانب سے۔ بندہ دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار ! میری رہنمائی کر۔ جواب میں پروردگار پورا قرآن اس کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہے وہ ہدایت و رہنمائی جس کی درخواست تو نے مجھ سے کی ہے۔

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

اللہ کےنام سے جو رحمان و رحیم ہے1

سورة الْفَاتِحَة 1 اسلام جو تہذیب انسان کو سکھاتاہے اس کے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر کام کی ابتداء خدا کے نام سے کرے۔اس قاعدے کی پابندی اگر شعور کے ساتھ کی جائے تو اس سے لازماً تین فائدے حاصل ہونگے۔ایک یہ کہ آدمی بہت سے برے کاموں سے بچ جائے گا، کیونکہ خدا کا نام لینے کی عادت اسے ہر کام شروع کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور کر دے گی کہ کیا واقعی میں اس کام پر خداکا نام لینے میں حق بجانب ہوں؟ دوسرے یہ کہ جائز اور صحیح اور نیک کاموں کی ابتداکرتے ہوئے خدا کا نام لینے سے آدمی کی ذہنیت بالکل ٹھیک سَمت اختیار کر لے گی اور وہ ہمیشہ صحیح ترین نقطہ سے اپنی حرکت کا آغاز کرے گا۔تیسرا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ خدا کے نام سے اپنا کام شروع کرے گا تو خدا کی تائید اور توفیق اس کے شاملِ حال ہوگی، اس کی سعی میں برکت ڈالی جائے گی اور شیطان کی فساد انگیزیوں سے اُس کو بچایا جائے گا۔خدا کا طریقہ یہ ہے کہ جب بندہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ بھی بندے کی طرف توجہ فرماتا ہے۔
Ayah 1:2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے 2 جو تمام کائنات کا رب 3 ہے

سورة الْفَاتِحَة 2 جیسا کہ ہم دیباچہ میں بیان کرچکے ہیں سورة فاتحہ اصل میں تو ایک دعا ہے، لیکن دعا کی ابتدا اس ہستی کی تعریف سے کی جا رہی ہے جس سے ہم دعا مانگنا چاہتے ہیں۔ یہ گویا اس امر کی تعلیم ہے کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقہ سے مانگو۔ یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کردیا۔ تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے دعا کر رہے ہو، پہلے اس کی خوبی کا، اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو۔ تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں، دو وجوہ سے کیا کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو، قطع نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن ہو اور ہم اعتراف نعمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اس کی خوبیاں بیان کریں۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف ان دونوں حیثیتوں سے ہے۔ یہ ہماری قدر شناسی کا تقاضہ بھی ہے اور احسان شناسی کا بھی کہ ہم اس کی تعریف میں رطب اللّسان ہوں۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ " تعریف اللہ ہی " کے لیے ہے۔ یہ بات کہہ کر ایک بڑی حقیقت پر سے پردہ اٹھا یا گیا ہے، اور وہ حقیقت ایسی ہے جس کی پہلی ہی ضرب سے مخلوق پرستی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ دنیا میں جہاں، جس چیز اور جس شکل میں بھی کوئی حسن، کوئی خوبی، کوئی کمال ہے، اس کا سر چشمہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ کسی انسان، کسی فرشتے، کسی سیارے، غرض کسی مخلوق کا کمال بھی ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا عطیہ ہے۔ پس اگر کوئی اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کے گرویدہ اور پرستار، احسان مند اور شکر گزار، نیاز مند اور خدمت گار بنیں تو وہ خالق کمال ہے نہ کہ صاحب کمال۔ سورة الْفَاتِحَة 3 رب کا لفظ عربی زبان میں تین معنوں میں بولا جاتا ہے۔(1) مالک اور آقا۔(2) مربیّ ، پرورش کرنے والا، خبر گیری اور نگہبانی کرنے والا۔(3) فرمانروا، حاکم، مدبر اور منتظم۔ اللہ تعالیٰ ان سب معنوں میں کائنات کا رب ہے۔
Ayah 1:3

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

رحمان اور رحیم ہے 4

سورة الْفَاتِحَة 4 انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتا ہے، اور اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا، تو پھر وہ اسی معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نقطہ پوشیدہ ہے۔ رحمان عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ لیکن خدا کی رحمت اور مہر بانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے، اس قدر وسیع ہے، ایسی بےحد و حساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ کا لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا۔ اس لیے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیا گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں " سخی " کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اس پر " داتا " کا اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ کی تعریف میں جب " گورے " کو کافی نہیں پاتے تو اس پر " چٹے ّ " کا لفظ اور بڑھا دیتے ہیں۔ درازیِ قد کے ذکر میں جب " لمبا " کہنے سے تسلّی نہیں ہوتی تو اس کے بعد " تڑنگا " بھی کہتے ہیں۔
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

روزِ جزا کا مالک 5ہے

سورة الْفَاتِحَة 5 یعنی اس دن کا مالک جبکہ تمام اگلی پچھلی نسلوں کو جمع کرکے ان کے کارنامہٴ زندگی کا حساب لیا جائیگا اور ہر انسان کو اس کے عمل کا پورا صلہ مل جائے گا۔ اللہ کی تعریف میں رحمان اور رحیم کہنے کے بعد مالک روزجزا کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ نرا مہربان ہی نہیں ہے بلکہ منصف بھی ہے، اور منصف بھی ایسا بااختیار منصف کہ آخری فیصلے کے روز وہی پورے اقتدار کا مالک ہوگا، نہ اس کی سزا میں کوئی مزاحم ہوسکے گا اور نہ جزا میں مانع۔ لہٰذا ہم اس کی ربوبیت اور رحمت کی بناء پر اس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے انصاف کی بنا پر اس سے ڈرتے بھی ہیں اور یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کی بھلائی اور برائی بالکُلّیہ اسی کے اختیار میں ہے۔
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

ہم تیری ہی عبادت6 کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں 7

سورة الْفَاتِحَة 6 عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) پوجا اور پرستش (2) اطاعت اور فرمانبرداری (3) بندگی اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔ یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے۔ ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔ سورة الْفَاتِحَة 7 یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا رب تو ہی ہے، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد پر ہمارا اعتماد ہے۔ اسی بنا پر ہم اپنی درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں۔
Ayah 1:6

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہمیں سیدھا راستہ دکھا 8

سورة الْفَاتِحَة 8 یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خیال اور عمل اور برتاؤ کا وہ طریقہ ہمیں بتا جو بالکل صحیح ہو، جس میں غلط بینی اور غلط کاری اور بدنامی کا خطرہ نہ ہو، جس پر چل کہ ہم سچی فلاح وسعادت حاصل کرسکیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ درخواست جو قرآن شروع کرتے ہوئے بندہ اپنے خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔ اس کی گزارش یہ ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ قیاسی فلسفوں کی اس بھول بھلیاں میں حقیقت نفس الامری کیا ہے، اخلاق کے ان مختلف نظریات میں صحیح نظام اخلاق کونسا ہے، زندگی کی ان بیشمار پگڈنڈیوں کے درمیان فکر و عمل کی سیدھی اور صاف شاہراہ کونسی ہے۔
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان لوگوں کاراستہ جن پر تو نے انعام فرمایا 9 ، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں 10

سورة الْفَاتِحَة 9 یہ اس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔ یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظور نظر لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ بےخطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر رہا۔ سورة الْفَاتِحَة 10 یعنی " انعام " پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ " انعام " سے ہماری مراد حقیقی اور پائیدار انعامات ہیں جو راست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجے میں ملا کرتے ہیں، نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں اور بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں۔