Ayah 1:11 ۔ سورة فاتحہ کی وجہ تسمیہ اور اس کی عظمت شان : " فاتحہ " کا لفظ " فتح " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ آغاز اور شروع کرنے کے ہیں۔ چونکہ اس سورة کریمہ سے قرآن حکیم کا آغاز ہوتا ہے، اس کی تلاوت بھی اسی سے شروع ہوتی ہے اور کتابت میں بھی اس کا آغاز اسی سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو " سورة فاتحہ " کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ سورة کریمہ جس سے قرآن حکیم کا آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کی " تاء " نقل کی ہے یعنی " اَلنَّقْلُ مِنَ الْوَصْفِیّۃ اِلَی الْعَلَمِیّۃ " یعنی " اس کے ذریعے اس کو وصفیت کے معنی سے نقل کر کے علم بنایا گیا "۔ لیکن وصف کا معنی بہرحال ملحوظ ہے۔ ( محاسن التاویل للقاسمی، فتح القدیر للشوکانی وغیرہ) مگر واضح رہے کہ اس کی یہ حیثیت محض ذکر و کتابت کے اعتبار سے ہے نہ کہ اس کے نزول کے اعتبار سے۔ کیونکہ اس اعتبار سے اس سورت کے بارے میں حضرات اہل علم کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کیونکہ قول مشہور کی بنا پر ترتیب نزولی کے اعتبار سے یہ سورت پانچویں نمبر پر ہے۔ اور یہ قرآن حکیم کی ایک بڑی ہی عظیم الشان سورة کریمہ ہے۔ اور یوں تو قرآن پاک کی ہر سورت ہی عظیم الشان ہے مگر بعض وجوہ کے اعتبار سے کسی کو خاص اہمیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اسی لئے اس سورة کریمہ کے نام بھی بہت سے ہیں جو اس کی اس عظمت و اہمیت پر دلالت کرتے ہیں۔ چناچہ اس کو " فَاتِحۃُ الکتاب " کے علاوہ " اُمُّ الکتاب " بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ خلاصہ اور اجمال ہے قرآن حکیم کے جملہ مطالب و مضامین کا۔ اور قرآن حکیم خلاصہ و اجمال ہے اس سے پہلے نازل ہونے والی تمام آسمانی کتابوں کے مطالب و مضامین کا۔ اور اسی بنا پر اس کو " مہیمن " بھی کہا گیا ہے کہ یہ کتاب حکیم آسمانی کتابوں کے علوم و معارف کی امین اور آئینہ دار ہے۔ اسی طرح سورة فاتحہ کا ایک نام " اَلْکَنْزُ " یعنی خزانہ بھی ہے۔ کیونکہ یہ آسمانی علوم و معارف کا ایک عظیم الشان خزانہ اور گنجینہ رحمت ہے۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ یہ سورة کریمہ عرش عظیم کے نیچے کے ایک خزانہ سے نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح اس کا ایک نام " تعلیم المسئلہ " بھی ہے۔ کیونکہ اس میں حضرت حق جَلَّ جَلَالُہ کے حضور عرض و درخواست کا طریقہ تعلیم فرمایا گیا ہے۔ ورنہ انسان کے بس میں نہ تھا کہ وہ مشت خاک ہوتے ہوئے حضرت حق جَلَّ جَلَالُہ کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں از خود عرض داشت پیش کرسکتا۔ کیونکہ وہ انسان ضعیف البنیان جو کے فہم و ادراک سے وراء الوراء ہے۔ اسی طرح اس سورة مبارکہ کا نام " شفاء " اور " شافیہ " بھی ہے۔ کیونکہ اس میں ہر درد کی دوا اور ہر مرض کی شفا کا سامان ودیعت فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح اس کو " کافیہ " اور " وافیہ " بھی فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ طالب ہدایت کی راہنمائی اور اس کے ذخیرہ خیر و برکت کے لیے یہ سورة کریمہ کافی و وافی ہے۔ اسی طرح اس کو " الصَّلوٰۃ " یا " سورة الصلوۃ " بھی فرمایا گیا ہے کیونکہ قراءت صلوٰۃ میں اس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ بہرکیف یہ سورة کریمہ قرآن حکیم کی فاتحہ اور اس کا آغاز اور ایک عظیم الشان اور بےمثل سورت ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذِہ السُّوْرَۃِ -
Ayah 1:22 حمد و ثنا کا اصل حقدار اللہ تعالیٰ ہی ہے : حمد و ثنا کا اصل حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ کیونکہ دنیا میں جہاں بھی اور جس طرح کی بھی کوئی خوبی پائی جاتی ہے یا پائی جائے گی، وہ سب اسی کے کمال و جمال اور عطا و نوال ہی کا کوئی مظہر ہوگا۔ پس اصل اور حقیقی تعریف اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ نام ہی اس ذات اقدس و اعلیٰ کا ہے جو واجب الوجود ہے۔ یعنی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کیلئے رہے گی۔ نہ وہاں سبق عدم ہے اور نہ لحوق زوال و فنا کا کوئی سوال و احتمال۔ اور وہ ہر شائبہ نقص و عیب سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ اسی لئے حضرات اہل علم لفظ جلالہ یعنی " اللہ " جل جلالہ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں : " عَلَمٌ لِذَات الْوَاجِب الْوَجُوْد الْمُسْتَجْمِعُ لِجَمِیْع صِفَات الکَمَال "، " یعنی یہ اس ذات واجب الوجود کا نام ہے جو تمام صفات کمال سے موصوف و متصف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر تعریف اور ہر خوبی و کمال کا اہل اور حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ واجب الوجود بھی وہی ہے اور تمام صفات کمال سے موصوف و متصف بھی وہی۔ تو اس کا طبعی اور لازمی نتیجہ ہے کہ ہر تعریف اور حمد و ثنا کا حقدار بھی وہی وحدہ لا شریک ہوا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جب ہر چیز کا خالق ومالک وہی وحدہ لا شریک ہے اور ہر چیز کا وجود اور اس کی ہر خوبی و کمال اسی کی طرف سے ہے۔ اس لیے ہر حمد اور خوبی کا مستحق بھی وہی ہے اور اس کائنات میں اور خاص کر ہر انسان پر حکم و ارشاد بھی اسی وحدہ لا شریک کا چلتا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تنبیہ و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَ لَا لَہ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ، تَبَارَکَ اللّٰہ رَبُّ الْعٰالَمِیْنَ } ۔ (الاعراف : 54) کہ " خالق بھی وہی ہے اور حکم بھی اسی کا چلے گا "۔
Ayah 1:33 خداوند قدوس کی وسعت رحمت کا بیان : کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جس نے دنیا کے اس دار الامتحان میں اپنی عمومی رحمت سے مومن و کافر اور اپنی مطیع و سرکش سب ہی مخلوق کو نواز رکھا ہے جو کہ حدیث صحیح کی رو سے اس کی رحمت بےنہایت کے سوویں حصے میں سے ہے۔ اور وہی ہے جو آخرت کے اس حقیقی اور اَبَدی جہاں کے دار الجزاء میں اپنے نیک اور صالح بندوں کو اپنے فضل و کرم سے اپنی اس خصوصی رحمت سے نوازے گا جو خالص اہل ایمان کے لیے ہوگی۔ اور جو سو میں کے باقی ننانوے حصوں پر محیط و مشتمل ہوگی۔ اور جب اس کی رحمت بےپایاں کے سوویں حصے کا یہ عالم ہے کہ وہ اس پوری دنیا جہاں پر چھایا ہوا ہے تو پھر اس جہان کی رحمت کی عظمتوں اور وسعتوں کے کہنے ہی کیا جہاں بقیہ تمام ننانوے حصے سایہ فگن ہوں گے ــــــ ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ جَلَّتْ قُدرتُہ وعَمَّتْ رَحْمَتُہْ ۔ اسی لئے بعض آثار و روایات میں فرمایا گیا ہے " رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَرَحِیْمَ الآخِرَۃ " اور یوں لغت کے اعتبار سے بھی " فَعْلَانَ " کا صیغہ اپنی اصل کے لحاظ سے تجدّد و حدوث پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے " ذَعْلَانَ " " غصے والا " " سُکران "، " نشے والا " اور " عَطْشَانَ "، " پیاسا " وغیرہ۔ اور ظاہر ہے کہ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں ایک عارضی اور وقتی چیز ہی کی ہے اس لئے صفت رحمن کی مناسبت اس رحمت سے زیادہ ہے جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ اور صفت رحیم کی مناسبت اس رحمت بےپایاں سے زیادہ ہے جس کا تعلق آخرت کی حقیقی اور اَبَدی زندگی سے ہے۔ مگر چونکہ دنیاوی رحمت کا ایک اور خاص پہلو یہ بھی ہے کہ انسان کا باطن اگر درست ہو اور اسے ہدایت کا نور اگر نصیب ہوجائے تو دنیا کی اس عارضی زندگی کی یہ رحمت بھی اس کو آخرت کی حقیقی رحمت سے ہمکنار کر کے اس کے لیے ابدی رحمت بن جاتی ہے۔ اسی لیے بعض دوسری روایات میں یوں بھی فرمایا گیا ہے " رَحْمٰنَ الدُّنْیا والآخِرَۃ وَ رَحِیْمُہماَ " " اے وہ ذات اقدس و اعلیٰ جو کہ رحمن ہے دنیا و آخرت دونوں کی اور رحیم بھی " ۔ سُبْحَانَہ وَتَعَالیٰ ۔ سو جب اس کی رحمت بےپایاں کے عموم و شمول کا عالم یہ ہے تو ہر تعریف اور حمد و ثنا کا حقدار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور جب اس کی اس صفت و شان میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا۔ لہذا عبادت کی ہر شکل اور اس کی ہر قسم اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَلَا شَرِیَکَ لَہُ فِی شَیْئٍ مِنْ اَسْمَائِہ وَصِفَاتِہ جَلَّ وَعَلَا -
Ayah 1:44 قیامت کے دن اللہ کی بادشاہی کا کمال ظہور : یعنی قیامت کے دن کا۔ کیونکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا بدلہ اپنی اصل اور کامل شکل میں وہیں ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں اتنی گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں کہ کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا بدلہ اس میں مل سکے۔ تفصیل اپنی مفصل تفسیر میں انشاء اللہ اگر اللہ پاک کو منظور ہوا تو ۔ لفظ " دین " کے کئی معنی آتے ہیں۔ دین کا معنیٰ مذہب و شریعت جیسے۔ { اِنَ الدِّیْنَ عِنْدَ اللَّہ الْا سَلَامُ } ۔ (آل عمران : 19) یا جیسے { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ } (المائدۃ : 3) وغیرہ وغیرہ۔ اور " دین " بمعنی عبادت و بندگی جیسے { وَادْعُوُْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } (الاعراف : 29) یا جیسے ۔ { قُل اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہ دِیْنِیْ } ۔ (الزمر : 14) وغیرہ وغیرہ۔ اور " دین " بمعنی بدلہ و جزاء جیسے ۔ { وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْم الدِّیْن } ۔ (المعارج : 26) اور ۔ { وَکُناَّ نُکَذِّبُ بِیَوْم الدِّیْن } ۔ (المدثر : 46) وغیرہ وغیرہ۔ اور جہاں بھی لفظ " الدین " کا مضاف لفظ " یوم " ہوگا وہاں پر دین سے مراد بدلہ اور جزا ہی ہوگی۔ جیسا کہ آیت زیر بحث میں ہے۔ اور ۔ { یَوْمُ الدّیِن } ۔ یعنی بدلے کے دن کے مالک ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس روز اس کی ملکیت اور اس کی بادشاہی کا ظہور کامل طور پر اور اسطرح ہوگا کہ وہ تمام عارضی اور فانی مملکتیں اور بادشاہتیں اس روز یکسر ختم ہوچکی ہونگی جو اس سے پہلے اس دنیا میں موجود رہی تھیں۔ اور جنکی بنا پر دنیا کے اس دارالغرُور میں ظاہر بیں نگاہوں اور ظاہر پرست عقلوں کو دھوکہ لگتا تھا۔ اور اس روز یہ سماں ہوگا کہ فرمایا جائیگا ۔ { لِمَن الْمُلْکُ الْیَوْمُ ، لِلّٰہ الْوَاحِد الْقَہّٰار } ۔ " کس کی بادشاہی ہے آج کے دن ؟ اللہ ہی کی جو کہ یکتا اور سب پر غالب ہے " (المومن : 16) نیز جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہ، یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ } ۔ " بادشاہی اس روز اللہ ہی کی ہوگی، وہی فیصلہ فرمائیگا ان کے درمیان " (الحج : 56) نیز جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا { یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفُسُٗ لِنَفْسٍ شَیْئًا، وَّالْاَمْرُیَوْمَئِذٍ لِّلّٰہ } " اس روز کوئی شخص کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا اور حکم اس روز اللہ ہی کا ہوگا " (الانفطار :29) ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَب الْعٰالَمِیْنَ الَّذِیْ لَہُ الْحَمْدُ فِی الاُوْلٰی وَالآخِرَۃ -
Ayah 1:55 ہر قسم کی عبادت اللہ ہی کا حق ہے ؟ : یعنی " اِیَّاکَ " کی ضمیر منفصل اپنے عامل پر مقدم ہے جس سے اس میں حصر کا معنی پیدا ہوگیا۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ پس عبادت اور بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے لئے خاص ہے۔ اس کے سوا اور کسی کے لیے بھی کسی بھی طور پر جائز نہیں۔ پس دست بستہ قیام اسی کے لیے، رکوع و سجود اسی کے لیے، طواف اسی کے لیے، نذر و نیاز اسی کے لیے، غائبانہ پکارنا اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے بلانا اسی کے ساتھ خاص ہے کہ یہ عبادت کے مختلف مظاہر اور اس کی شکلیں ہیں۔ اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔ اس میں کسی بھی طرح کی عبادت کا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لیے بجا لانا شرک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر آج کتنے ہی جاہل مسلمان ہیں جو { اِیَّاکَ نَعْبُدُ } کے اس اعلان و اقرار اور اظہار و تکرار کے باوجود طرح طرح کی شرکیات میں مبتلا ہیں ۔ ــوَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور معبود برحق چونکہ وہی وحدہ لاشریک ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود برحق ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اور جنہوں نے اس کے سوا اور کسی کی عبادت و بندگی کی ہے یا کرتے ہیں وہ سراسر ظلم کرتے ہیں کہ وہ شرک کے مرتکب ہیں۔ اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ } (لقمن : 13) اور اللہ پاک نے حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرما دیا کہ بندگی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی بھی نہیں کرنی۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ } ۔ (بنی اسرائیل :23) اس لئے عبادت ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ اب بھی اسی کی ہے اور آئندہ بھی اسی کی ہوگی کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو اسی مفہوم کو ظاہر اور واضح کرنے کیلئے ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر بین القوسین کے الفاظ بڑھائے ہیں ۔ والحمد للہ جل و علا ۔
6 اللہ ہی سے مدد مانگنے کا مطلب ؟ اور بعض لوگوں کے ایک مغالطے کا جواب : یعنی فی الحال بھی ایسے ہی کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے ہی کریں گے۔ کیونکہ معبود اور مستعان بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ " نَعْبُدُ " اور " نَسْتَعِیْنُ " دونوں مضارع کے صیغے ہیں جو کہ حال اور مستقبل دونوں کے لیے آتا ہے۔ اس لئے ترجمہ میں بھی اس کا لحاظ و اظہار کیا گیا ہے۔ پھر اس " استعانت " یعنی عون و مدد کی دو صورتیں ہیں۔ " مَا تَحتَ الَاسباب "، اور " مَا فَوْقَ اْلاَسْبَابِ " پہلی قسم یعنی تحت الاسباب سے مراد ہر ایسی مدد ہے جو کہ عام قواعد و ضوابط اور اسباب و وسائل کے درجے میں ہوتی ہے۔ جیسے ڈاکٹر سے دوا لینا، درزی سے کپڑا بنوانا اور مزدور سے کام کروانا وغیرہ۔ سو استمداد و استعانت کی یہ قسم مخلوق سے نہ صرف جائز ہے بلکہ روز مرہ کی زندگی کا عام معمول و دستور ہے۔ اور شریعت مطہرہ نے نہ صرف یہ کہ اس کی اجازت دی ہے بلکہ اس کے بارے میں ترغیب وتحریض سے بھی کام لیا ہے۔ کہ اس طرح کے امور میں ایک دوسرے کے کام آنا چاہئے کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب۔ جبکہ استمداد و استعانت کی دوسری قسم جو کہ فوق الاسباب یعنی عام اسباب و وسائل سے ہٹ کر ہو وہ مخلوق سے مانگنا شرک ہے۔ جیسے کسی ایسے انسان سے سوال کرنا جو کہ انتقال کرچکا ہو۔ یا جو کہ کہیں دور دراز دوسرے ملک یا شہر میں ہو، اس کو کسی ظاہری سبب اور ذریعہ و وسیلہ کے بغیر بلانا اور پکارنا، اور اس سے مدد مانگنا، سو یہ جائز نہیں بلکہ یہ شرک کے زمرے میں آئے گا ـ ـــوَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ جیسا کہ متعدد دوسری نصوص میں بتکرار اور بتاکید اس کی تصریح فرمائی گئی ہے مثلاً سنن ترمذی وغیرہ کی مشہور اور طویل حدیث میں آنحضرت ﷺ نے حضرت ابن عباس ؓ کے واسطے سے اپنی امت کو صاف اور صریح طور پر تعلیم دی ہی " اذَا سَاَلْتَ فَاسْاَل اللّٰہَ وَ اِذَا اسْتَعَنْتَ فَا سْتَعِنْ باللّٰہ " یعنی جب تمہیں سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے کرو، اور جب تمہیں مدد مانگنا ہو تو اللہ ہی سے مانگو، اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہی سوال و استعانت ہے جو کہ اسباب سے بالا ہو، ورنہ اسباب کے دائرہ میں تو آنحضرت ﷺ نے خود اپنے عمل اور اسوہ حسنہ سے اس کے جواز کی تعلیم دی ہے، پس اہل بدعت کے جن لوگوں نے اس موقع پر اس طرح کہا کہ " مقربان حق کی امداد امداد الٰہی ہے استعانت بالغیر نہیں، اور اگر اس آیت کے وہ معنی ہوتے جو وہابّیہ نے سمجھے تو قرآن پاک میں { اَعِینُونِیْ بقُوّۃٍ } اور { اِسْتَعِیْنُوا بالصَّبرٰ وَالصَّلوٰۃِ } کیوں وارد ہوتا، اور احادیث میں اھل اللہ سے استعانت کی تعلیم کیوں دی جاتی ؟ " تو ان اہل بدعت نے نری جہالت کا ثبوت دیا، یا تجاہل عارفانہ سے کام لیا، سو یہ ایک ایسی مغالطہ آفرینی ہے جو تحریف کے زمرے میں آتی ہے ـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ کیونکہ ۔ { اَعِیْنْوْنِیْ بقُوَّۃٍ } ۔ میں خطاب نہ مردوں سے ہے اور نہ غائب اور غیر حاضر لوگوں سے۔ بلکہ یہ خطاب اور حکم ان لوگوں سے ہے جو بالفعل وہاں پر سامنے موجود اور حاضر تھے۔ جیسا کہ کوئی بھی شخص اپنے سامنے موجود کچھ لوگوں سے کہے کہ تم فلاں کام میں میری مدد کرو تو اس پر غائبانہ استعانت اور استمداد کو قیاس کرنے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ اور اسی طرح۔ { اِسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ } ۔ میں غیر اللہ سے استعانت کا سرے سے کوئی سوال اور احتمال ہی نہیں بلکہ اس میں تو نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ چناچہ " بِالصَّبْر " پر جو حرف " با " موجود ہے وہ اس کا صاف اور صریح قرینہ ہے۔ اور یہ کہنا کہ احادیث میں اہل اللہ سے استعانت کی تعلیم دی گئی، نِرا جھوٹ اور افترا ہے۔ کیونکہ احادیث تو درکنار کسی ایک صحیح حدیث میں بھی مافوق الاسباب کے طور پر غیر اللہ سے استعانت کی تعلیم نہیں دی گئی۔ بلکہ ایسے امور میں اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنے اور سوال کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر سنن ترمذی وغیرہ کی حدیث میں گزرا کہ مافوق الاسباب مدد فرمانا اللہ تعالیٰ ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 1:67 سیدھی راہ سے مراد ؟ اور اس کی عظمت شان : یعنی راہ حق کو سمجھنے کی اور اس کو اپنانے کی توفیق وسعادت بھی عطا فرما دے اور اس پر چلنا بھی نصیب فرمادے۔ اس طرح اس ترجمہ کے عموم میں ہدایت کے دونوں مفہوم آجاتے ہیں۔ یعنی " اِرَاءَۃُ الطَّرِیْقِ "، " راستہ دکھا دینا " بھی اور " اِیْصال الی المطلوب "، " مطلوب تک پہنچا دینا " بھی۔ اور سیدھی راہ سے مراد دین حق کی وہ عظیم الشان راہ ہے جس پر چلنے سے انسان کو اس دنیا میں بھی حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " نصیب ہوتی ہے اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی وہ دائمی کامیابی سے مشرف ہوتا ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہدایت کی نعمت دنیا کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ اسی لئے یہاں اسی کیلئے سوال کرنے اور درخواست گزارنے کی تعلیم دی گئی ہے کہ اس سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ـاور حق و ہدایت کی یہ راہ جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی راہ ہے دین اور وحی کی روشنی کے بغیر ملنا ممکن نہیں۔ اور دین و وحی کی یہ روشنی اب اپنی کامل اور آخری شکل میں دین حنیف اسلام کی صورت میں قیامت تک کے لیے متعین فرما دی گئی۔ پس اب جو لوگ دین حنیف کی اس راہ حق و صواب سے محروم ہیں وہ قطعی طور پر صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ سے محروم ہیں، اگرچہ وہ چاند پر کمندیں ڈالنے کی تگ و دو میں مصروف ہوں۔ اگرچہ وہ سمندروں کی تہوں میں اترنے اور ان کو کھنگال ڈالنے کے وسائل کے مالک ہوں، وہ بہرحال گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مبتلا ہیں۔ نہ ان کو اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل ہے اور نہ ہی اس کے حق عبادت و بندگی کا کوئی اتہ پتہ۔ نہ وہ اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہیں اور نہ ہی ان کو اپنے مستقبل اور آگے پیش آنے والے انتہائی ہولناک انجام کی کچھ خبر ہے۔ وہ حیات انسانی کے ایسے تمام اہم اور بنیادی تقاضوں سے غافل و بیخبر ، اندھیروں میں ڈوبے مادہ اور معدہ کے تقاضوں کے پورا کرنے اور بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل کیلئے جی رہے ہیں اور بس۔ اور یہی ہے سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ ـ ذلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْن ـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم اور یہ زندگی خالص حیوانی زندگی ہے۔ عقل و شعور کی دولت رکھنے والا انسان اگر خواہشات نفس کے پیچھے لگ کر اور اندھا بہرہ بن کر رہ جائے تو اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل زَیْغٍ وَ ضَلَالٍ وَ سُوْئٍ وَّاِنْحِرَاف ـ سو صراط مستقیم سے سرفرازی سعادت دارین کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔
Ayah 1:78 انعام یافتہ حضرات سے مقصود و مراد ؟ : اور ان انعام یافتہ حضرات سے مراد وہ چار گروہ ہیں جن کا ذکر سورة نساء کی آیت نمبر 69 میں آیا ہے۔ یعنی انبیاء کرام، صدیقین اور شہداء و صالحین۔ (ابن کثیر، معارف، محاسن، جامع وغیرہ ) ۔ سو اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ راہ ہدایت وہی ہے جس کو ان حضرات نے اختیار کیا اور جس کی تعلیم و تلقین ان کی طرف سے فرمائی گئی ہے۔ اور جو راستہ ان حضرات کے طریق و ارشاد کے خلاف ہوگا وہ راہ حق نہیں ہو سکتاـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ یہاں سے صراط مستقیم کی اہمیت اور اس کی عظمت شان بھی مزید واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے سلسلے میں صرف اتنی ہی ہدایت نہیں فرمائی گئی کہ ہمیں صراط مستقیم سے سرفراز فرما دے بلکہ اس کو مثبت اور منفی دونوں پہلووں سے مزید اس طرح آشکارا فرما دیا گیا کہ کوئی اشتباہ باقی نہ رہ جائے۔ مثبت پہلو یہ کہ یہ راستہ ان حضرات کا راستہ ہے جن پر تیرا انعام ہوا۔ اور وہ چار گروہ ہیں جن کا ذکر ابھی اوپر ہوا ہے۔ اور منفی پہلو یہ کہ وہ راستہ ان لوگوں کا نہ ہو جن پر تیرا غضب ہوا اور جو راہ حق و ہدایت سے بھٹک گئے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ محروم اور اندھے اور اوندھے ہیں۔ اور نور حق و ہدایت سے محروم ہونے کے بعد ایسے لوگ ہلاکت اور تباہی کی راہ پر چل رہے ہیں مگر ان کو اپنے اس ہولناک خسارہ و نقصان کا احساس و شعور ہی نہیں ـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ
9 { مغضوب علیہم } سے مراد ؟ : کہ انہوں نے حق کو اس کے واضح ہوجانے کے باوجود اپنی دنیاوی اغراض اور خواہشات نفس کی پیروی وغیرہ امور کے باعث اس سے منہ موڑ لیا۔ اور اس کو اس طرح پس پشت ڈال دیا کہ گویا وہ اس کو جانتے ہی نہیں۔ جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 100 اور نمبر 10 1 اور آل عمران کی آیت نمبر 187 میں اہل کتاب کے قبائح کے بیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اس طرح " مغضوب علیہم " کا نمایاں مصداق اگرچہ یہود بےبہبود ہیں، جیسا کہ بعض روایات میں بھی ایسا وارد ہوا ہے اور خود قرآن حکیم کی دوسری آیات کریمہ سے بھی اس کی تائیدو تصدیق ہوتی ہے، مگر اس کے عموم میں دراصل ایسے تمام لوگ داخل و شامل ہیں جو کہ انکار اور نبذ حق کے اس جرم کے مرتکب ہیں۔ اسی لئے یہاں پر ان کا ذکر " یہود " کے اسم صریح کی بجائے " مغضوب علیہم " کے وصف عام سے کیا گیا ہے جو کہ سب کو عام اور شامل ہے۔ پس اس کی تعیین کے ضمن میں جو تفسیر کی عام کتابوں میں یہود کا ذکر آتا ہے وہ بطور مثال اور اس وصف کے ایک اہم اور واضح مصداق کے طور پر آتا ہے نہ کہ بطور تحدید و تعیین۔ (تفسیر المراغی، القاسمی وغیرہ) ۔ اور یہی مراد ہے ابن ابی حاتم کے اس قول کی کہ مفسرین کرام کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ " مغضوب علیہم " سے مراد یہود ہیں اور ضالّین سے مراد نصاریٰ ۔ ( محاسن التاویل وغیرہ) یعنی یہ دونوں گروہ ان دونوں لفظوں کے بڑے اہم اور واضح مصداق ہیں والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ
10{ ضالّین } سے مقصود و مراد ؟ : یا تو اس لئے کہ ان کو راہ راست سے متعلق صحیح تعلیمات مل ہی نہیں سکیں یا ان کو یہ لوگ صحیح طور پر سمجھ نہیں سکے۔ (تفسیر المراغی، القاسمی وغیرہ) اس کا بھی نمایاں مصداق اگرچہ نصاریٰ ہیں مگر اس کے عموم میں اس طرح کے تمام لوگ داخل ہیں جیسا کہ اوپر گزرا۔ سو یہاں پر تین گروہوں کا ذکر فرمایا گیا۔ ایک " منعم علیہم " یعنی انعام یافتہ لوگ اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو ہدایت و شریعت کی نعمت سے نوازا گیا۔ جو کہ قدرت کی طرف سے ملنے والا سب سے بڑا انعام ہے کہ یہ انعام انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل اور ضامن ہے۔ سو انہوں نے اس نعمت خداوندی کو دل و جان سے قبول کیا اور اس کی پوری قدر کی۔ اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی کے اہل اور مستحق بن گئے۔ دوسرا گروہ ہے " مغضوب علیہم " لوگوں کا گروہ۔ اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان نعمت یعنی نعمت دین سے نوازا۔ مگر انہوں نے اس کی قدر کرنے اور اس کو صدق دل سے اپنانے کی بجائے اس کے پیش کرنے والوں ہی سے دشمنی کا طریقہ اپنایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ یا قبول کیا بھی تو دل سے نہیں قبول کیا جس کے نتیجے میں وہ جلد ہی خواہشات نفس کے ریلے میں بہہ گئے۔ اور اس حد تک بہہ گئے کہ دین کی سچی تعلیمات کو ہی اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی جسارت پر اتر آئے۔ اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے ـ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور تیسرا گروہ ہے " ضالین " کا جنہوں نے اپنے دین میں غلو سے کام لیا۔ اور انہوں نے اپنے پیغمبر کو خدا اور خدا کا شریک بنادیا۔ اور اس طرح انہوں نے دین توحید کو دین شرک بنانے کی ہولناک جسارت کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سورة فاتحہ کے اختتام پر " آمین " کہنا مسنون ہے۔ جیسا کہ احادیث و روایات میں وارد ہے۔ اور یہ اسم فعل ہے جس کے معنی ہیں " اِستَجِبْ " یعنی " اے اللہ تو ہماری اس دعا کو قبول فرما لے " مگر یہ لفظ چونکہ قرآن پاک کا حصہ نہیں اس لئے مصحف میں لکھا نہیں جاتا۔ اور نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبریل امین نے مجھے سورة فاتحہ کی قراءت مکمل کرنے پر " آمین " کہنے کی تلقین فرمائی۔ اور فرمایا کہ یہ مکتوب پر مہر لگانے کے مترادف ہے۔ (الکشاف وغیرہ) ۔ اَللّہُمَّ فَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا عَلَی صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیْمَ بِکُلّ حَال مِّنَ الأحْوَال وَ فِی کُل مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِن فِی الْحَیَاۃ یَا ذَا الْجَلَال والْاکْرَامِ ۔ بہرکیف سورة فاتحہ کے آخر میں " آمین " کہنا مسنون ہے۔ جیسا کہ بہت سی صحیح احادیث میں وارد و منقول ہے۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ اس موقع پر " آمین " کہا کرتے تھے جس کو پہلی صف والے لوگ سنتے تھے۔ ( رواہ ابوداؤد ) ۔ اور صحیحین وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب امام " آمین " کہے تو تم بھی " آمین " کہو۔ کیونکہ جس کی " آمین " فرشتوں کی " آمین " کے ساتھ مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ( بخاری : کتاب الآذان، باب جہر الامام بالتامین، مسلم : کتاب الصلاۃ ) ۔