1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم : تفسیر سورة الفاتحۃ سورة فاتحہ میں اختلاف ہے کہ یہ مدنی ہے یا مکی۔
Ayah 1:2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

(1) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمام شکر اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات پر انعام کرتا ہے اور مخلوق اس کی حمد وثنا کرتی ہے۔ ایک یہ تفسیر بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں پر شکر ہے جو اس نے اپنے مومن بندوں پر کیں اور ان کو ایمان کی ہدایت عطا فرما کر سب سے بڑا انعام دیا، یہ تفسیر بھی ہے کہ شکر وحدانیت اور الوہیت اس اکیلے اللہ کے لیے ہے جس کا کوئی معاون اور وزیر نہیں ہے اور وہ ہر ہر جاندار کا پالنے والا ہے جو زمین اور آسمان پر ہے اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ وہ جنوں اور انسانوں کا مالک اور سردار ہے، یہ بھی تفسیر ہے کہ وہ مخلوق کو پیدا کرنے والا ان کو رزق دینے والا اور ایک حالت کو دوسری حالت سے بدلنے والا ہے۔
Ayah 1:3

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

بڑا مہربان نہایت رحم والا

(2) لفظ رحمن میں رحیم سے زیادہ رقت و رحمت ہے اور رحیم بمعنی رقیق ہے۔
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

انصاف کے دن کا حاکم

(3) یوم الدین بدلہ کا وہ فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے جس میں مخلوق کے درمیان فیصلہ ہوگا ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا، اس دن اللہ کے علاوہ کسی کا فیصلہ نہیں ہوگا۔
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

اے پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں

(4۔ 5) ہم تیری ہی توحید بیان کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور تجھ ہی سے تیری عبادت پر اور تیرے ان انعامات پر کہ جن کی وجہ سے ہم تیری فرمانبرداری پر قائم رہیں مدد مانگتے ہیں۔ قائم رہنے والے دین اسلام کی طرف ہماری رہنمائی فرما ایسی رہنمائی جس سے تو خوش ہے اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ہمیں ان دن پر ثابت قدم رکھ اور کتاب اللہ کے ساتھ بھی اس کی تفسیر کی گئی ہے یعنی اس قرآن کے حلال و حرام اور اسکے مفہوم سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔
Ayahs 1:6–7

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہم کو سیدھے راستے چلا

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان لوگوں کے راستے جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا، اور نہ گمراہوں کے

(6۔ 7) ان لوگوں کا دین جن پر تو نے دین عطا کرکے احسان کیا ہے وہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم ہے اور ان کا وہ وقت جب تک اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتوں کو واپس نہیں لیا تھا کہ ان پر وادی تیہ میں بادل نے سایہ کیے رکھا اور اس امت پر بطور نعمت من وسلوی آسمان سے اتارا گیا۔ اور یہ تفسیر بھی ہے کہ انعام والی جماعت سے نبیوں کی جماعت مراد ہے جو ان یہودیوں کے دن کی طلب گار نہیں جن پر تو نے اپنا غصہ کیا اور ان کو ذلیل ورسوا کیا اور ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے۔ اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، ان کے دلوں کو مضبوط نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ یہودی بن گئے، اور نہ ان نصاری کے دین کے طلب گار ہیں، جو اسلام سے بےراہ ہوگئے، اس طرح ہماری یہ امیدیں بڑھتی رہیں اور اسی طرح ہوتا رہے یا یہ کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے جو تجھ سے دلی درخواست کی ہے، وہ وہی ہمیں عطا فرما، (اور ہماری ان جملہ دعاؤں کو قبول فرما)