1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

شروع اللہ نہایت رحم کرنے والے بار بار رحم کرنے والے کے نام سے8

سورة الفاتحۃ مکیۃ سورة 1 فاتحہ 2 مکہ 3 میں نازل ہوئی۔ آیات و رکوع : اس میں 7 آیتیں 5 اور ایک رکوع ہے 4 25 لفظ۔ 6۔ 123 حروف 7۔ سورة الفاتحۃ1 سورة کے لفظی معنی بلندی یا منزل کے ہیں۔ السورۃ الرفعۃ (لسان) السورۃ المنزلۃ الرفیعۃ (راغب) جس طرح دنیا کی دوسری کتابیں مختلف بابوں میں تقسیم ہوتی ہیں، قرآن کے ہر باب کو سورة کہتے۔ گویا ہر سورة ایک بلند منزل کا نام ہے۔ وبھا سمیت السورۃ من القران اے رافعتہ (لسان) بہ سمیت سورة القرآن لا جلال ورفعتہ (تاج) سورة کے دوسرے معنی شہر پناہ کی دیوار کے بھی ہیں سورالمدینۃ حائطھا (راغب) سورة قرآنی کو سورة اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ گویا وہ فصیل شہر کی طرح اپنے مضامین کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید کو مختلف سورتوں میں تقسیم وترتیب رسول اللہ ﷺ خود فرماگئے تھے۔ آنحضور ﷺ ہی کے ارشاد کے مطابق ایک سورة شروع کی جاتی تھی اور دوسری ختم۔ کل قرآنی سورتوں کی تعداد 114 ہے۔ 2 فاتحہ کے لفظی معنی ہیں ابتدا کرنے والی کے۔ قرآن مجید کی اس ابتدائی سورت کو بھی اسی لیے الفاتحہ کہتے ہیں۔ یہ گویا دیباچہ قرآن ہے۔ سورتوں کے نام بھی رسول اللہ ﷺ ہی کے رکھے ہوئے ہیں۔ اکثر ایک ایک سورت کے کئی کئی نام روایت ہوئے ہیں۔ اس فاتحۃ الکتاب کے بھی متعدد نام احادیث میں آئے ہیں۔ سورة ہ الشفاء سورة وافیہ، ام القرآن وغیرہ قرطبی نے 12 نام گنائے ہیں۔ مشہور ترین نام یہی الفاتحہ ہے۔ سورة کے فضائل سے احادیث لبریز ہیں۔ اہمیت خاص اسی سے ظاہر ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں اس کا پڑھنا واجب ہے۔ بلکہ شافعیہ کی تحقیق میں فرض ہے۔ کوئی نماز بغیر قرآن کے اس جزو کے مکمل نہیں ہوتی۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ شیطان چار مرتبہ خاص طور پر رویا چلایا ہے، اور ان چار میں سے ایک موقع نزول سورة فاتحہ کا ہے۔ سورة فاتحہ گو صورۃ مختصر ہے لیکن بلحاظ معنویت و جامعیت گویا دریا کوزہ میں بند ہے۔ منکرین و مخالفین تک اس کے ایجاز کے اعجاز قائل ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ہے۔ ” حمد باری کی یہ زبردست مناجات۔۔ سلیس اتنی کہ مزید تشریح سے بےنیاز۔ اس پر معنویت سے لبریز “۔ (جلد 15 صفحہ 903) طبع یازدہم)3 قرآنی سورتوں کی ایک اہم تقسیم بہ لحاظ زمانہ نزول کی گئی ہے۔ جو سورتیں قبل ہجرت نبوی یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ قیام مکہ میں نازل ہوئیں، خواہ ان کا نزول حدود شہر مکہ سے باہر ہی ہوا ہو مکی کہلاتی ہیں۔ اور جو سورتیں بعد ہجرت نبوی، یعنی زمانہ قیام مدینہ میں نازل ہوئیں، وہ مدنی کہلاتی ہیں، خواہ ان کا نزول حدود شہر مدینہ سے باہر ہی ہوا ہو۔ لیکن یہ تقسیم صرف عمومی حیثیت سے ہے۔ ورنہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدنی سورت کے اندر مکی آیتیں رکھا دی ہیں، یا اس کے برعکس۔ ربط مضمون ومناسبت مقام کا صحیح تر ولطیف تر احساس رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر اور کس کو ہوسکتا تھا ؟ اس لئے کسی کو متعین آیت کے باب میں اس کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ حزم کے ساتھ کرنا دشوار ہے۔ روایتیں جو اس باب میں وارد ہوئی ہیں، کوئی درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی نہیں ہیں۔ محض مفید ظن ہیں۔ مفید یقین نہیں۔ اور اس قسم کے عقلی وقیاسی معیار کی مثلا (آیت) یایھا الذین امنوا سے شروع ہونے والی آیتیں لازمی طور پر مدنی ہوں گی اور (آیت) یایھا الناس سے شروع ہونے والی لازمی طور پر مکی، محض اکثری وتخمینی ہیں۔ کلی اور قطعی نہیں۔ اور محض ان روایات ونظریات کے ماتحت کسی آیت پر جزم ووثوق کے ساتھ کوئی حکم لگا دینا، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ قرآن مجید کسی جدید ترتیب پر اسے ترتیب نزولی کا نام دے کر آمادہ ہوجانا بڑی ہی جسارت کا کام ہے۔ اصل میں یہ بلا مسیحیوں کے ہاں سے آئی ہے کہ انہیں نے اپنے ہاں کے قدیم وجدید دونوں صحیفوں کو اس قسم کی سرتاسر ظنی بلکہ وہمی ” تحقیقات “ کا تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ اور اس ایک رکوع ہے4 سورة کے اندر کی ایک بڑی تقسیم کا نام رکوع ہے۔ بڑی سورتوں میں اکثر رکوع دس دس آیتوں پر رکھے گئے ہیں۔ اور یہ اتنی مقدار ہے جو ایک رکعت میں بہ آسانی پڑھی جاسکتی ہے۔ سورة فاتحہ کے علاوہ پارہ 30 کی 34 چھوٹی سورتوں میں بھی کل ایک ہی رکوع ہے۔ اس میں 7 آیاتیں ہیں5 ایۃ کے لفظی معنی نشان کے ہیں۔ اصطلاح میں سورت کے اندر کی سب سی چھوٹی تقسیم کا نام ہے۔ ہر فقرہ جس میں کوئی حکم ہو یا وہ ایک مستقل عبارت ہو، ایک آیت ہے۔ وقیل لکل جملۃ من القرآن دالۃ علی حکم ایۃ (راغب) وقد یقال لکل کلام منہ منفصل بفصل لفظی ایۃ (راغب) قرآن مجید کی کل آیتیں شمار کرلی گئی ہیں اور ان کی میزان بقول اصح 6 16، 6 ہے (اتقان) 25 لفظ6 قرآن مجید کے کل الفاظ بھی شمار کرلیے گئے ہیں۔ اور ان کی میزان بقول اصح 93424977 ہے (اتقان) 123 حروف7 کل حروف قرآنی بھی شمار کرلیے گئے ہیں اور ان کی میزان بقول اصح 760249232493 ہے (اتقان) اللہ اللہ کلام الہی کے عاشق وشیدائی کیسی کیسی دیدہ ریزیاں اس کے واسطے کرگئے ہیں ! 8 قرآن مجید کا یہ افتتاحی فقرہ بجز ایک سورت ہے، ہر سورت کی ابتدا میں دہرایا گیا ہے، یعنی 1 13 اور سورة النمل کے اندر عبارت میں بہ طور آیت قرآنی بھی آیا ہے۔ اور اس لیے اس کے جزو قرآن ہونے نہ ہونے کی بابت تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ البتہ گفتگو اس میں ہوئی ہے کہ آیا ہر سورت کی ابتدا میں بھی اس کی حیثیت بطور ایک مستقل آیت کے ہے ؟ امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے کہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ سورتوں کے درمیان محض بطور علامت فرق وتمیز کے اور شروع میں بطور افتتاحی فقرہ کے ہے۔ امام مالک (رح) بھی اسی مسلک سے متفق ہیں۔ قال مالک وابوحنیفہ لیست فی اوائل السورۃ بایۃ وانماھی استفتاح لیعلم بھا مبدء ھا (ابن العربی) مفصل بحث جصاص رازی (رح) حنفی کی احکام القرآن میں موجود ہے۔ ہر جائز کام کی ابتدا بسم اللہ سے کرنے کی بڑی فضیلتیں حدیث میں وارد ہوئی ہیں۔ اور خود رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارک یہی تھی کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے، وضو کرتے، جانور ذبح کرتے، غرض اس قسم کے سارے کاموں کی ابتدا بسم اللہ ہی سے کرتے۔ اور ہے بھی یہی کہ جو شخص کسی کام کو خدائے رحمن ورحیم کا نام لے کر شروع کرتا ہے، وہ عملا اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ میرا ضمیر پاک ہے، میری نیت مخلصانہ ہے، میرا مقصد اعلی ہے اور میں توحید کا پرستار ہوں۔ ایک طرف شرک سے اور دوسری طرف الحاد سے بیزار۔ غرض بسم اللہ سے بڑھ کر قوت بخش اور اس سے زیادہ روح واخلاق کو بلند کرنے والا ذکر کوئی اور نہیں۔ بسم اللہ کی ب نحویوں کی اصطلاح میں باء الا ستعانت کہلاتی ہے، پڑھنے والا گویا یوں کہتا ہے کہ میں شروع کرتا ہوں اس کلام کو اللہ کے نام سے مدد چاہتے ہوئے، اور یہ کہہ کر بسم اللہ خواں اپنی اور سب کی طرف سے قطع نظر کرکے تکیہ کرلیتا ہے اللہ کی ذات اور اس کی صفات رحمانیت ورحمیت پر۔
Ayah 1:2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

(ساری) تعریف9 اللہ کے لئے ہے10 (وہ) سارے جہان کا مربی1 1

9 اللہ اللہ کے لئے اسم ذات ہے۔ کسی اور ہستی پر اس کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔ فارسی کے خدا یا انگریزی کے گاڈ کی طرح اسم نکرہ نہیں کہ معبود واحد کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی بولا جاسکے۔ اس کی نہ جمع آئی ہے، نہ یہ کسی لفظ سے مشتق ہے اور نہ اس کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں ممکن ہے۔ علم للذات واجب الوجود المستجمع بجمیع صفات الکمال غیر مشتق (تاج) لم یسم بہ غیرہ تبارک وتعالی ولھذا الا یعرف فی الکلام العرب لہ اشتقاق من فعل یفعل (ابن کثیر) رحمن کا صحیح ترجمہ دشوار ہے۔ مصدر رحمۃ سے صیغہ مبالغہ ہے فعلان کے وزن پر، زیادتی صفت کے لیے۔ جس کے بعد زیادتی کا کوئی درجہ نہ ہو۔ معناہ عند اھل اللغۃ ذوالرحمۃ التی لا غایۃ بعدھا فی الرحمۃ (تاج) مبالغۃ فعلان مثل غضبان وسکران من حیث الاستیلاء والغلبۃ (بحر) اسم ذات ” اللہ “ کی طرح اسم صفت، رحمن کا اطلاق بھی صرف ذات باری ہی پر ہوتا ہے، ولایطلق الرحمن الا الرحمن الا علی اللہ تعالیٰ (راغب) اسم مغصص باللہ لا یجوزان یسمی بہ غیرہ (تاج) یہ بات اتفاقی نہیں بہت پر معنی ہے کہ قرآن مجید میں اسم ذات کے بعد جو سب سے پہلا اسم صفاتی ارشاد ہوا ہے وہ صف رحمانیت کا مظہر ہے۔ لین پول (Lane poolw) انگریز اسی لیے اپنے ہم قوموں کو سنا کر کہتا ہے کہ ” لوگ یہ بات برابر بھول جاتے ہیں کہ قرآن کے اندر وصف رحمت پر کتنا زور دیا گیا ہے “۔ رحیم بھی اسم صفت صیغہ مبالغہ ہے۔ فعیل کے وزن پر۔ تکرار وتواتر کے اظہار کے لیے۔ مبالغہ الفعیل من حیث التکرار (بحر) گویا صفت رحمت و شفقت کی انتہائی قوت کا اظہار رحمن سے ہورہا ہے اور انتہائی کثرت کا رحیم سے۔ اس فرق کے اظہار کے لئے رحمن کا ترجمہ ” نہایت رحم کرنے والے “ اور رحیم کا ترجمہ ” بار بار رحم کرنے والے “ سے کیا گیا ہے۔ رحمن میں شان کرم کا عموم ہے مومن و کافر سب کے لئے۔ اور اسی لیے اس کا ظہور اسی دنیا میں بھی ہورہا ہے۔ رحیم میں تجلی مرحمت مغفرت کا خصوص ہے اہل ایمان کے ساتھ۔ اس لئے اس کا پورا ظہور آخرت ہی میں ہوگا۔ اور اسی معنی میں یہ حدیث صحیح مسلم میں صحابی ابن مسعود ؓ کے واسطہ سے آئی ہے کہ الرحمن رحمن الدنیا والرحیم ورحیم الاخرۃ۔ اور اسی معنی میں جعفر صادق ؓ کا بھی یہ قول نقل ہوا ہے۔ الرحمن اسم خاص لصفۃ عامۃ والرحیم اسم عام لصفۃ الخاصۃ (تاج) صوفیانہ مذاق پر ایک تشریح یہ بھی کی گئی ہے کہ رحمانیت وہ تربیت ہے جو ذرائع ووسائط کے ساتھ ہو، اور رحمیت وہ تربیت ہے جو براہ راست وبلاواسطہ ہو۔ رحمانیت وہ شفقت ہے جو طبیب مریض کے ساتھ رکھتا ہے۔ اور رحیمیت شفقت محض ہے (روح) اسلام کے اس خالص توحیدی کلام کے مقابلہ میں اب مسیحیت کا فقرہ افتتاحیہ ملاحظہ ہو : ” شروع باپ بیٹے اور روح القدس کے نام سے “ کوئی نسبت اس شرک جلی کو اسلام کی توحید خالص سے ہے ؟ راقم آثم کے خیال میں یہ بات آتی ہے کہ عجب نہیں جو خالق اکبر کی یہی صفات رحمانیت ورحیمیت ہی مسخ ہو کر مسیحیت میں بیٹا اور روح القدس بن گئی ہوں۔10، الحمد میں ال کلمہ استغراق ہے۔ یعنی جمیع حمد۔ کوئی سی بھی ہو۔ ، کسی قسم کی بھی ہو، بہ ظاہر کسی کے لیے بھی ہو۔ حمد کا درجہ لغوی اعتبار سے، مدح اور شکر دونوں سے بلند تر ہے۔ شکر تو کسی متعین ہی نعمت کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے اور مدح میں ممدوح کی خوبیوں کا ارادی واختیاری ہونا ضروری نہیں۔ صرف حمد ہی ایسی چیز ہے، جو محمود کی عام اختیاری خوبیوں اور فضیلتوں کی بنا پر کی جاتی ہے (راغب) فی کلام العرب معناہ الثناء الکامل (قرطبی) گویا قرآن مجید کی سب سے پہلی تعلیم توحید کے جملہ اصناف کی جامع ہے۔ مدح اور تعریف کسی کی بھی ہو، کسی کے نام سے بھی ہو، درحقیقت صرف اللہ ہی کی ہوتی ہے۔ اور اسی کو پہنچتی ہے۔ الالف واللام فی الحمد لا ستغراق جمیع اجناس الحمد للہ تعالیٰ (ابن کثیر) اور یہی معنی ہیں اس حدیث نبوی کی بھی کہ، اللہم لک الحمد کلہ ولک الملک کلہ وبیدک الخیر کلہ والیک یرجع الامر کلہ۔ حاکم اگر عادل ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے صفت عدل اس کے اندر رکھ دی ہے۔ طبیب اگر حاذق ہے تو اس کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ اللہ نے اسے یہ کمال عطا کردیا ہے کسی کی شکل جمیل ہے اور کسی کی سیرت پاکیزہ ہے تو، ہر موقع پر مدح وثنا، تعریف و ستائش کی اصل مستحق صرف ذات باری تعالیٰ ہے۔ ہر جاکنیم سجدہ بآں آستان رسد !1 1 رب، جو یہاں بہ طور اسم استعمال ہوا ہے، مصدر ہے تربیت کے معنی میں۔ اور تربیت کے معنی ہیں کسی شے کو ایک حال سے دوسری حالت کی طرف نشوونما دیتے رہنا، تاآنکہ وہ حد کمال تک پہنچ جائے۔ ھوانشاء الشی حالا فحالا الی حد التمام (راغب) وھی تبلیغ الشیء الی کمالہ شیئا فشیئا (بیضاوی) الرب المصلح والمدبر والجابر والقائم یقال لمن قام باصلاح شئی واتمامہ (قرطبی) اردو میں اس کا ترجمہ پروردگار سے بھی صحیح ہے۔ لیکن قریب ترین لفظ اس مفہوم کے لیے ” مربی “ کا ہے، اور یہی مترجم تھانوی مدظلہ نے اختیار کیا ہے۔ عربی میں اس کا اطلاق مطلق اور بلااضافت صورت میں صرف حق تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ ولا یقال الرب مطلقا الا اللہ تعالیٰ (راغب) ولا یستعمل الرب لغیر اللہ بل بالاضافۃ (ابن کثیر) صفات رحمانیت ورحیمیت کے معا بعد اب اللہ کی صفت ربوبیت کا اظہار ہے۔ مسیحیوں کے ” آسمانی باپ “ سے کہیں زیادہ شفقت، کہیں زیادہ قدرت، کہیں زیادہ حکمت لفظ رب سے عیاں ہے۔ عالمین عالم کا لفظ خود اسم جمع ہے کوئی اس کا واحد نہیں آتا۔ اور مرادف ہے خلقت یا موجودات کے۔ العالم الخلق کلہ (لسان) عالمون بہ صیغہ جمع کے معنی ہوئے ہر ہر صنف موجودات اور سارے سلسلہ کائنات کے۔ والعالمون اصناف الخلق (لسان) رب العلمین کا لفظ لا کر قرآن مجید نے گویا بتادیا کہ ہر صنف موجودات کا ایک مستقل نظام تربیت ہے۔ اور سب کا آخری سراسی قادر مطلق واحد ویکتا کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی بھی صنف موجودات اس کے ہمہ گیر نظام ربوبیت وتربیت سے آزادومشثنی نہیں۔ یہ تعلیم بھی اسی ایک لفظ سے مل گئی کہ اسلام کا خدا کسی مخصوص نسل، مخصوص قوم، مخصوص قبیلہ کا خدا نہیں۔ یہ حقیقت تاریخ مذاہب میں نہایت درجہ رکھتی ہے۔ اسلام سے قبل مذاہب جس صورت میں موجود تھے وہ اس وسیع تخیل ہی سے آشنا نہیں رہے تھے۔ ہر قوم خدا کو صرف اپنا خدا تسلیم کرتی تھی۔ گویا خدا کی حیثیت محض قومی خدا کی رہ گئی تھی۔ بابل، مصر ہند، یونان، رومہ، عرب وغیرہ کی مشرک قوموں کا ذکر نہیں، بنی اسرائیل جیسی موحد قوم بھی خدائے کائنات ہونے کی پوری طرح قائل نہیں رہی تھی۔ قرآن نے ایک لفظ رب العلمین لا کر ان سارے مشرکانہ وگمرہانہ عقائد کی تردیدکردی۔ مشرک قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکر صفت ربوبیت ہی کے سمجھنے میں لگی ہے۔ اسی لئے قرآن نے تصیح میں بھی اسی کو مقدم رکھا۔ علماء کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ کلمہ الحمد للہ رب العلمین تمام کلموں سے افضل و اشرف ہے۔ یہاں تک کہ لا الہ الا اللہ سے بھی۔ اس لیے کہ اس میں صرف توحید ہے، اور اس میں توحید کے ساتھ حمد بھی (قرطبی)
Ayah 1:3

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

(وہ) رحمن12 (وہ) رحیم13

12 (جو دنیا میں سب کو رزق دے رہا ہے، سب کو راحت پہنچا رہا ہے۔ نفع رسانی کا دروازہ سب کے لیے کھولے ہوئے ہے) الرحمن العاطف علی البر والفاجر بالرزق لھم ودفع الافات عنہم (ابن عباس ؓ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 9 ۔13 (جو آخرت میں مومنین کو اجر ان کے استحقاق سے بہت زائد دے گا) الرحیم خاصۃ علی ال مومنین بالمغفرۃ وادخالھم بالجنۃ (ابن عباس ؓ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 9 ۔ صفات کے بیان میں صفت ربوبیت کو سب سے پہلے لانا اور اس کے معا بعد صفات رحمانیت ورحیمیت پر زور دینا خود اس امر کی ایک واضح شہادت ہے کہ عقائد اسلام میں ان صفات کا مرتبہ کتنا بلند اور ان کا درجہ کیسا اہم ہے۔ ان تصریحات کی موجودگی میں اور ان کی تکرار کے باوجود مسیحی پادریوں کا یہ کہے جانا کہ اسلام کا خدا صرف قوت اور قہرمانی کا خدا ہے، حقیقت پر کیسا ظلم کرنا ہے۔
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

(وہ) مالک روز جزا کا14

14، ملک۔ حاکم یا قاضی خواہ کیسے ہی واسیع اختیارات رکھتا ہو، بہرحال اس کے اختیارات محدود ہی ہوتے ہیں، اور وہ مجرم کو حسب ضابطہ سزا دینے پر مجبور ہوتا ہے۔ گویا خود حاکم پر حکومت ضابطہ یا قانون کی ہوتی ہے۔ بہ خلاف اس کے مالک وہ ہوتا ہے جسے پورے اختیارات حاصل ہوں۔ مجرم کو چاہے وہ بخش دے، چاہے سزادے۔ کوئی اس سے باز پرس کرنے والا اور کوئی اس پر حاکم نہیں۔ حدیث مسلم میں آچکا ہے کہ لامالک الا اللہ عزوجل (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی مالک نہیں) اور محققین کا قول بھی ایسا ہی ہے کہ بجز اللہ کے اور کسی کو مالک کہنا یا پکارنا جائز نہیں لا یجوزان یسمی احدبھذا الاسم ولا یدعی بہ الا اللہ تعالیٰ (قرطبی) لفظ کا فارسی ترجمہ بھی اسی لیے سفیان تابعی (رح) سے ” شہنشاہ “ مروی ہے قال سفیان مثل شاھان شاہ (قرطبی) اور مفسرین نے بھی معنی مطلق الاختیار کے لیے ہیں۔ المالک ھو المتصرف فی الاعیان المملوکۃ کیف یشآء من الملک (بیضاوی) ہندوستان کی بعض مشہور مشرک قوموں کا عقیدہ ہے کہ قانون مکافات عمل (ہندی اصطلاح میں ” کرم “ ) کے خلاف خدا بھی نہیں جاسکتا۔ اور کسی خطا وار کو معاف نہیں کرسکتا مسیحیوں کا بھی عقیدہ ہے کہ خدا انصاف کرنے پر مجبور ہے۔ اور اسی لیے صفت عفو ورحم کے اظہار کے لیے اسے اپنے اکلوتے ” بیٹے “ کو بطور کفارہ کے سب گنہگار مخلوق کی طرف سے پیش کرنا پڑا۔ قرآن مجید کے ایک لفظ مالک میں ان سب باطل عقائد کی تردید آگئی۔ یوم الدین۔ دین کے لفظی معنی جزا یا بدلہ کے ہیں۔ الدین الجزآء۔ اور قیامت کو بھی روز جزا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ پورے حساب اور ہر عمل کے بدلہ کا دن ہوگا۔ یہاں بھی یوم الدین سے مراد روزحشر ہے۔ اے یوم حساب الخلائق وھو یوم القیمۃ یدینھم باعمالھم (ابن جریر۔ عن ابن عباس) اے یوم البعث والجزاء (کبیر) اللہ تعالیٰ مالک تو آج بھی ہے۔ روز جزا کے ساتھ تخصیص کا مطلب یہ ہے کہ اس روز اس کی صفت مالکیت کا مشاہدہ وتحقیق بڑے سے بڑے منکر کو بھی ہو کر رہے گا
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

ہم بس تیری ہی عبادت کرتے ہیں15، اور بس تجھی سے مدد چاہتے ہیں16 ،

15 (نہ کہ کسی اور کی، اے اللہ ! ) ایاک لفظ ایا خود ہی حصر اور تخصیص کے لیے آتا ہے۔ اور پھر بحیثیت مفعول اس کی تقدیم فعل نعبد پر اس حصر و تخصیص کو اور زیادہ مؤکد کررہی ہے۔ یعنی ہم تیری عبادت میں شائبہ بھی کسی کی شرکت کا نہیں رکھتے۔ معناہ نعبدک ولا نعبد غیرک (ابن عباس) وقدم المفعول للتعظیم والا ھتمام بہ والدلالۃ علی الحصر (بیضاوی) اب یہاں سے دعا کی تعلیم ہے گویا بندے اپنی زبان سے دعا کررہے ہیں۔ اس سے پہلے صرف تمہید دعا تھی۔ صیغہ غائب سے صیغہ مخاطب، یا مخاطب سے غائب کی طرف دفعۃ انتقال کا نام صنعت التفات ہے۔ اور عربی ادب وانشا میں یہ عیب نہیں۔ اس کا شمار بہترین صنعتوں میں سے ہے۔ صاحب کشاف نے اس موقع پر امر القیس جاہلی کے تین شعر شہادۃ نقل کیے ہیں، تنیوں میں یہ صنعت موجود ہے۔ بزرگوں سے منقول ہے کہ قرآن مجید کا لب لباب سورة فاتحہ ہے، اور سورة فاتحہ کا لب لباب یہ آیت ہے۔ قال بعض السلف الفاتحۃ سرالقرآن وسرھا ھذہ الکلمۃ (ابن کثیر) نعبد۔ عبادت نام ہے تذلل، انکسار وافتقار کے آخری مرتبہ کا۔ انھا غایۃ التذلل (راغب) العبادۃ اقصی غایۃ الخضوع والتذلل (کشاف) اور اسی لیے اس کا مستحق بجز ذات باری تعالیٰ کے اور کوئی نہیں، لم تستعمل الافی الخضوع للہ تعالیٰ (کشاف) ولا یستحقھا الا من لہ غایۃ الافضال وھواللہ تعالیٰ (راغب) مشرک قومیں خدا معلوم چھوٹے بڑے کتنے دیوی دیوتاؤں کو عبادت میں شریک کرتی رہتی ہیں۔ بلکہ ان کی عبادتوں میں تو خدا کی شرکت رہنے بھی نہیں پاتی معبود تمامتراگنی دیوتا اور سورج دیوتا اور کالی مائی اور لچھمی جی وغیرہا بن جاتی ہیں۔ مسیحیوں کے ہاں بھی نماز جیسی اور جب کبھی بھی ہوتی ہے، اس میں برابر خدا کے ساتھ فرزند خدا کی شرکت رہتی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ آیت کے ایک لفظ ایاک سے تردید ہوگئی سارے مذہبوں کے مشرکانہ طرز عبادت کی۔ ن نعبد کا صیغہ جمع بھی قابل لحاظ ہے۔ دعاء تنہا ایک ایک فرد نہیں کررہا ہے۔ ساری ملت اسلامیہ مل کر اجتماعی رنگ میں کررہی ہے۔ اور یہ اجتماعیت کی اہمیت قرآن و حدیث دونوں کی دعاؤں میں کثرت سے جلوہ گر ہے۔ مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ یہ نسبت عبودیت سالک کے مقام کی انتہا ہے۔ کوئی مقام اس سے مافوق نہیں۔16 (نہ کہ کسی اور سے، اسے حاجت روا سمجھ کر، اے اللہ) آیت کے جزو اول میں بیزاری اور تبری ہے شرک سے۔ اس آخری جزو میں بندہ کی زبان سے اقرار ہے اپنی بےبساطی، بےقدرتی کا۔ اور اقرار ہے اپنے کو حفاظت اور نصرت کے لیے ہر طرح اللہ کے ہاتھ میں سپرد کردینے کا۔ فالاول تبرء من الشرک والثانی تبرء من الحول والقوۃ وتفویض الی اللہ عزوجل (ابن کثیر) نعبد کے معا بعد نستعین لانا گویا بندوں کی زبان سے یہ کہلانا ہے کہ ہم عبادت تک میں تیری ہی توفیق، تیری ہی اعانت، تیری ہی دستگیری کے محتاج ہیں۔ ایاک کی تکرار توحید اور رد شرک کی اہمیت کو اور دو بالا کررہی ہے۔ کرر للاھتمام والحصر (ابن کثیر) کرر الضمیر للتنصیص علی انہ المستعان بہ لا غیر (بیضاوی) آیت نے جڑ کاٹ دی ہے ہر قسم کی مظہر پرستی اور مخلوق پرستی کی۔ شرک کی خفی سے خفی بھی راہیں بند کردی ہیں، اور کوئی خفیف سی بھی گنجائش پیرپرستی، پیمبر پرستی، فرشتہ پرستی وغیرہ کی باقی نہیں چھوڑی ہے۔ مرشدد تھانوی نے فرمایا کہ سالک کا مقام ایاک نعبد پر تمام ہوجاتا ہے۔ ایاک نستعین سے وہ طالب تمکین ورسوخ کا ہوتا ہے۔
Ayah 1:6

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

چلا ہم کو سیدھا راستہ17

17 یعنی وہ راہ جس میں کوئی کجی نہیں، کوئی اونچ نیچ نہیں، کہیں ٹھوکر لگنے کا احتمال نہیں۔ مراد اس سے جادۂ شریعت ہے کہ یہی زندگی کا مکمل نظام ہے۔ زندگی کے ہر گوشہ اور ہر شعبہ کے باب میں ایک مکمل دستور ہدایت ہے۔ اور اسی پر چلتے رہنا فردو جماعت دونوں کے حق میں، دنیوی واخروی اعتبار سے فلاح ہی فلاح ہے۔ صحابہ، تابعین سب سے یہی معنی مروی ہیں، ھو دین اللہ الذی لا عوج لہ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ قال ابن عباس و جابر ھو الاسلام وھو قول مقاتل (معالم) یہ گویا بندوں کی زبان سے درخواست ہے کہ اے ہمارے ہادی برحق ورہنمائے حقیقی، اپنا سیدھا راستہ ہم پر کھول دے۔ اس پر چلنے کی ہمیں توفیق عطا فرما۔ اور اپنے فضل وکرم کو ہمارا دستگیر رکھ ! طلب ہدایت کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ راہر وبھٹکا ہوا ہے اور وہ راستہ دریافت کررہا ہے۔ دوسرے یہ کہ راہ تو مل چکی ہے، درخواست اسی پر قائم رہنے کی ہے۔ یہاں مراد یہی دوسری قسم کی دستگیری ہے۔ اے وفقنا الثبات علیہ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ اھدنا اے ثبتنا (کشاف۔ عن علی وابی ؓ جو پہلے ہی سے ہدایت یاب ہیں۔ ان کی طرف سے یہ درخواست ہدایت پر ثبات و استقامت اور مزید ہدایت کی ہے۔ اور چونکہ روحانی ترقیوں کی انتہا نہیں اس لیے جو جس مرتبہ پر ہے، اس کی دعا اس سے بھی بلند تر مرتبہ کی رہتی ہے۔ اور مومن کی ہوس ہدایت طلبی کبھی نہیں بجھتی۔ یہ اعتراض محض طفلانہ ہے کہ ہدایت یاب کو درخواست ہدایت کی ضرورت نہیں۔ نعبد نستعین، اھدنا سب میں ضمیر متکلم کا صیغہ جمع میں آنا بہت ہی پر معنی ہے۔ ظاہر ہے کہ اظہار عبودیت کرنے والا اپنی اپنی جگہ پر فرد واحد ہی ہوگا۔ اس پر بھی یہ التزام ہے کہ فرد کا ربط امت سے کسی حال میں بھی نہ چھوٹنے پائے عبادت کرتے ہیں تو ایک ” میں “ نہیں بلکہ ” ہم سب “ طلب اعانت کرتے ہیں تو ” ہم سب “۔ درخواست ہدایت کرتے ہیں تو ” ہم سب “۔ امت وملت کی یہ زبردست وہمہ وقتی شیرازہ بندی اسلام ہی کا حصہ ہے۔ مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ مطلوب ومقصود صراط مستقیم تشریعی ہے نہ کہ تکوینی جو ساری مخلوق کے لیے خود بخود عام ہے۔
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ہے18 نہ ان لوگوں کا (راستہ) جو زیر غضب آچکے ہیں19 اور نہ بھٹکے ہوؤں کا20 ۔

18 (باب ہدایت میں) یہ مزید شرح و تفسیر ہے اسی سیدھے راستہ یا صراط مستقیم کی۔ تعلیمات وہدایات تو ساری کی ساری قرآن مجید کے لفظ وعبارت میں آگئیں۔ لیکن مشیت الہی نے مذید شفقت وکرم سے ان تعلیمات وہدایت کے عملی نمونے بھی انسانی روح و قالب میں بشری صورت و سیرت میں بہ کثرت بھیج دیئے کہ اس صراط مستقیم پر چلنا اور زیادہ آسان ہوجاوے۔ یہ انعام پائے ہوئے لوگ انبیاء ومرسلین ہیں۔ ان کی زندگی کے واقعات و حالات قرآن مجید میں بکثرت نقل ہوئے ہیں۔ اور ان میں بھی علی الخصوص اس پاکیزہ جماعت کے پاکیزہ تیرین سردار محمد رسول اللہ ﷺ ۔ آپ کی سیرت مبارکہ کا ایک ایک جز تک محفوظ ہے۔ پھر اس کے بعد آپ کے جو صحیح نائب و جانشین آپ کے معا بعد ہوئے ہیں، اور پھر ہر دور میں ہوتے آئے ہیں۔ یعنی اولیائے امت یا صدیقین، یا پھر شہید ان راہ حق اور عام صالحین، کہ یہ بھی اپنے اپنے درجہ میں نمونہ کا کام اپنے بعد آنے والوں کے لیے دے سکتے ہیں۔ خود قرآن ہی میں ایک دوسری جگہ ان انعام پائے ہوؤں کی فہرست کے خاص خاص عنوانات گنادیئے ہیں۔ ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین (سورۃ النساء) انعمت علیھم کے لفظ سے امام ابن جریر نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ جن لوگوں کو یہ مرتبہ نصیب ہوا ہے اس کی تہ میں اصل شے محض انعام الہی وفضل خداوندی ہے۔ وفی ھذہ الایۃ دلیل واضح علی ان طاعۃ اللہ جل ثناءہ لا ینالھا المطیعون الا بانعام اللہ بھا علیہم و توفیقہ ایاھم لھا۔ مرشد تھانوی مدظلہ نے فرمایا کہ الذین انعمت علیہم سے اشارہ اس طرف ہوگیا کہ صراط مستقیم میسر نہیں ہوتا بغیر اس کے کہ پیروی اہل صراط مستقیم کی کی جائے۔ اور اس کے لیے محض اوراق وکتب کافی نہیں۔ 19 (اپنی دانستہ وارادی کج روی کی بدولت) غیر المغضوب علیھم کی تقدیر کلام غیر صراط المغضوب علیھم ہے۔ صرف مضاف الیہ بیان کیا گیا، اور مضاف محذوف ہے۔ عربی ادب وانشا میں حذف موصوف، حذف مضاف کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں۔ صرف صفت یا صرف مضاف الیہ بول کر کام چلالیا جاتا ہے، اور ایساحذف قرنیہ مقام سے بےتکلف سمجھ لیا جاتا ہے۔ اکتفی بالمضاف الیہ عن ذکر المضاف وقد دل علیہ سیاق الکلام (ابن کثیر) ” زیر غضب “ سے مراد زیر غضب الہی ہے۔ انعام الہی کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے۔ وہاں صیغہ معروف استعمال ہوا تھا اور ضمیر فاعلی صریح تھی۔ یہاں غضب کے موقع پر صیغہ مجہول کردیا گیا ہے۔ اور فاعل کی کوئی صراحت نہیں، یہ اثر ہے غلبہ رحمت الہی کا۔ غضب الہی کا ذکر اگلے آسمانی نوشتوں میں صراحت کے ساتھ ہے۔ توریت میں بھی اور انجیل میں بھی، توریت میں ہے کہ :۔ ” اب تو مجھ کو چھوڑ کر میرا غضب ان پر بھڑکے اور میں انہیں بھسم کردوں “۔ (خروج۔ 32: 1 1) نیز خروج 32 ۔ 12 ۔ و 13 ۔ استثناء 9:20 و 2 1 وغیرہ۔ انجیل کو عام طور سرتا سر حلم ورأفت و شفقت کا صحیفہ سمجھا گیا ہے، وہ بھی اس ذکر سے خالی نہیں۔ ملاحظہ متی 3:8 و 10 ۔ مکاشفہ 19 ۔ 15 وغیرہ۔ حیرت ہے کہ بعض جدید اہل قلم نے مسیحی پادریوں کے دجل وتلبیس سے متاثر بلکہ مرعوب ہو کر اسلام میں غضب الہی کے وجود ہی سے انکار کردینا چاہا ہے۔ گویا حق سبحانہ، وتعالیٰ ان کم فہموں کے خیال میں ایک بڑے پیمانہ پر کوئی سادھو، سنیاسی مہاتما ہیں کہ جو بدبخت چاہے، ان کے بنائے اور اتارے ہوئے قوانین کو، جو سرتاسر بندوں ہی کے نفع ومصلحت۔ فلاح و بہبود کے لیے ہیں، آزادی وبے تکلفی سے توڑتا پھوڑتا، چیرتا پھاڑتا رہے، اور وہ اہمسا اور شانتی کے ساتھ، صبر وخاموشی کے ساتھ، جمود وتعطل کے ساتھ سارا تماشا دیکھتا رہے۔ اور اصلاح حال کے لیے نہ اپنی غیر محدود قوت اور نامتناہی توانائی کو حرکت میں لائے، اور نہ دفع فساد کے لیے کوئی عملی اقدام کرے ! پادریوں کے اعتراض کی اصل وبنیاد ہی غلط ہے۔ انہوں نے غضب الہی کو بھی قیاس کیا انسانی غصہ اور طیش پر، جو نتیجہ ہوتا ہے نفس کی ایک انفعالی کیفیت کا۔ حق تعالیٰ پاک ہے ہر قسم کے انفعال وتاثر سے۔ وہ صرف فاعل ہے۔ تمامتر مؤثر ہے۔ اس کے اصلاحی اقدام عمل، اس کی تعزیری حرکت ارادی کا نام بندوں کی زبان میں غضب الہی ہے۔ اس کی حاکمانہ قوت، مربیانہ شفقت دونوں کا عین مقتضی یہی ہے کہ وہ گنہ گاروں، باغیوں، مجرموں کو ان کے جرم وبغاوت کے آخری عملی نتائج تک پہنچائے۔ اس کا غیظ وغضب درحقیقت تتمہ اور ضمیمہ ہے اس کی رحمت بےحساب کا، اور لازمی نتیجہ ہے اس کی شفقت بےکراں کا۔ اہل تفسیر عموما اس طرف گئے ہیں کہ المغضوب علیھم سے مراد یہود ہیں۔ احادیث وآثار بھی اسی کی تائید میں ہیں۔ اور آیۃ کریمہ من لعنۃ اللہ وغضب علیہ کے لفظ سے بھی یہی استنباط کیا گیا ہے۔ لیکن ایک گروہ نے مشرکین مراد لی ہے۔ عجب نہیں کہ آیت ان سب کے حق میں عام ہو جو از راہ شرارت وخبث نفس حق کی مخالفت دیدہ و دانستہ کرتے رہتے ہیں۔ 20 یعنی ان کی راہ بھی نہیں جو اپنی غفلت، بےالتفاتی، نادانی کی بنا پر حق کی طرف رخ بھی نہیں کرتے، اہل تفسیر عموما اس طرف گئے ہیں کہ الضآلین سے مراد نصاری ہیں۔ حدیث وآثار بھی اسی کی تائید میں ہیں۔ اور آیۃ کریمہ قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرا کے لفظ سے بھی یہی استنباط کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغضوب علیھم اور ضآلین کے مصداقوں کا حصر انہیں دو مذہب والوں کے ساتھ کردینا مشکل ہے جو کھلے ہوئے مشرکین وملحدین ہیں، ظاہر ہے کہ وہ ضلالت میں ان سے بھی بڑھے ہوئے اور غضب الہی کے ان سے مستحق تر ہیں۔ محقق رازی کی رائے میں بہتر یہ ہے کہ کل عملی غلطیوں والوں کو زمرۂ مغضوب علیہم میں رکھا جائے اور کل اعتقادی غلطیوں والوں کا شمار طبقہ ضالین میں کیا جائے۔ فالاولی ان یحمل المغضوب علیہم علی کل من اخطا فی الاعمال الظاھرۃ وھم الفساق ویحمل الضالون علی کل من اخطافی الاعتقاد لان اللفظ العام والتقیید خلاف الاصل (کبیر) سورت کے خاتمہ پر امین کہنا مستحب ہے۔ آمین خود ایک دعا ہے۔ اس کے معنی ہیں استجب۔ یعنی اے رب قبول فرما ! یعنی امین عند اکثر اھل العلم اللھم استجب لنا (قرطبی) تذئیل یہ خوش عقیدگی نہیں اظہار حقیقت ہے کہ جس حیرت انگیز ایجازرجامعیت کے ساتھ سورة فاتحہ کی سات مختصر آیتوں میں توحید الہی اور صفات کمالیہ کا بیان آگیا ہے، اس کی نظیر سے مذاہب عالم کے دفتر خالی ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر تو کیا اس کے برابر کی بھی مثال پیش کرنے سے دنیائے مذاہب عاجز ہے۔ مسیحی دنیا کو بڑا ناز اپنی انجیلی دعا Lords prayer پر ہے۔ لیکن اول تو اس کا ضعف اسناد بھی خود مسیحی فاضلوں کو مسلم ہے۔ یعنی اسی کی تحقیق نہیں کہ الفاظ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہیں بھی۔ پھر چیز جہاں سے بھی آئی ہو یہاں اس کے الفاظ سورة فاتحہ کے بالمقابل درج کیے جاتے ہیں۔ ہر منصف مزاج خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ قرآن کی فاتحۃ الکتاب اور اس انجیلی دعا کے درمیان کیا نسبت ہے ! سورة الفاتحہ 1 (ساری) تعریف اللہ کے لئے ہے (وہ) سارے جہانوں کا مربی۔ 2 (وہ) نہایت رحم کرنے والا (وہ) بار بار رحم کرنے والا۔ 3 (وہ) مالک روز جزا کا۔ 4 ۔ ہم بس تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور بس تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ 5 ۔ چلا ہم کو سیدھا راستہ۔ 6 ۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ 7 ۔ نہ ان کا (راستہ) جو زیر غضب آچکے ہیں اور نہ بھٹکے ہوؤں کا۔ انجیلی دعا (متی 6:9 ۔ 14) 1 ۔ اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے، تیر نام پاک مانا جائے 2 ۔ تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ 3 ۔ ہماری روز کی روٹی ہمیں آج دے۔ اور 4 ۔ جس طرح ہم نے اپنے قرضداروں کو معاف کیا ہے تو ہمارے قرض ہم کو معاف کر۔ 5 ۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا بلکہ برائی سے بچا۔ ( 1) کہاں رب العالمین کی لامحدود وسعت وہمہ گیری اور کہاں آسمان پر بیٹھے رہنے والی بعید اور محدود، اور پھر باپ جیسی محض مادی تعلق رکھنے والی ہستی ! (2) ایک طرف اعلان ہورہا ہے ہمہ گیر صفات ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت ومالکیت کا۔ اور دوسری طرف ان کی بجائے ذکر ہے صرف زمین پر آسمانی بادشاہت کے آنے کا ! (3) توحید خالص پر جو زور قرآنی عبارت میں، منع عبادت غیر ومنع استعانت بالغیر میں ہے۔ انجیلی دعا میں کہیں اس کا پتہ تک نہیں (4) انجیلی دعا کی آیت نمبر 3 میں روٹی کی اس درجہ اہمیت مادیت کی انتہا ہے۔ (5) محض برائی سے بچنے کی دعا، صراط مستقیم پر قائم رہنے کی نسبت سے کہیں زیادہ ہلکی ہے۔