1. Surah Al-Faatiha

الفاتحةThe Opening · 7 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 1:1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ Open ayah 1:1 in the Quran reader

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

[ بِسْمِ اللّٰہِ : اللہ کے نام سے ][الرَّحمٰنِ : جو انتہائی رحمت والا ہے ] [ الرَّحِیْمِ : جو ہمیشہ رحمت کرنے والا ہے ] س م و سَمَوَ یَسموا (ن) سُمُوًّا : بلند ہونا ‘ نمایاں ہونا۔ (تفعیل) تَسْمِیَۃً : کسی کو نمایاں کرنا ‘ کسی کا نام رکھنا۔ { وَاِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ } (آل عمران :3) ” اور میں نے اس کا نام رکھا مریم۔ “ مُسَمّٰی (باب تفعلیل سے اسم المفعول) : نام رکھا ہوا ‘ نمایاں کیا ہوا ‘ کوئی معین چیز۔ { وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلُّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمّٰی } (الرعد :2) ” اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ہر ایک تیر رہا ہے ایک معین وقت تک کے لیے ۔ “ اِسْمٌ : کسی چیز کی علامت جو اسے نمایاں کرے ‘ نام۔ سَمِیٌّ : ہم نام۔ { ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا } (مریم :65) ” کیا تم جانتے ہو اس کا کوئی ہم نام ؟ “ سَمَائٌ جمع سَمَوٰتٌ : بلندی ‘ آسمان۔ ء ل ھـ (ف) اُلُوْھَۃٌ : غلامی کرنا ‘ عبادت کرنا۔ اِلٰـہٌ جمع اٰلِھَۃٌ : عبادت کیا ہوا جس کی عبادت کی گئی ۔ ر ح م رَحِمَ یَرْحَمُ (س) رَحْمَۃً : مہربانی کرنا ‘ رحم دل ہونا۔ رَحِمٌ جمع اَرْحَامٌ : بچہ دانی ‘ رشتہ داری۔ { وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ } (لقمٰن :34) ” اور وہ جانتا ہے جو بچہ دانیوں میں ہے۔ “{ وَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ } (محمد :22) ” اور اگر تم لوگوں کو اقتدار ملے تو تم لوگ حقوق و فرائض کا توازن بگاڑو زمین میں اور تم لوگ کاٹ دو اپنی رشتہ داریوں کو۔ “ بِسْمِ اللّٰہِ : اسم کا مادہ س م و ہے اور اس کے شروع میں ہمزۃ الوصل ہے۔ اس لیے قاعدہ کے لحاظ سے اس کا املا باسم اللہ ہونا چاہیے تھا لیکن صرف بسم اللہ کا یہ مخصوص املا ہے کہ اس میں ہمزۃ الوصل لکھا بھی نہیں جاتا۔ باقی ہر جگہ قاعدہ کے مطابق لکھا جاتا ہے البتہ پڑھا نہیں جاتا مثلاً : { وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ ص } (المائدۃ :4) ”۔ “ اَللّٰہُ : لفظ اِلٰــہٌ پر لام تعریف داخل کرنے سے قاعدے کے مطابق لفظ اَلْاِلٰہُ بنتا ہے ‘ لیکن خلاف قاعدہ مادہ کا ہمزہ گرا کر اَلْ لٰــہُ بولتے ہیں اور اس طرح لکھتے ہیں اَللّٰہُ ۔ اِلٰـــہٌ : فِعَالٌ کا وزن اسم المفعول کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کِتَابٌ یعنی لکھا ہوا یا جس پر لکھا گیا۔ اس طرح اِلٰــہٌ میں مفعول کا مفہوم ہے۔ جس کی عبادت کی گئی۔ رَحْمٰنُ : فَعْلَانُ مبالغہ کا وزن ہے اور اس میں انتہائی شدت کا مفہوم پایاجاتا ہے جیسے عَطْشَانُ یعنی انتہائی پیاسا۔ اسی طرح رَحْمٰن کا مطلب ہے انتہائی رحمت والا ۔ نوٹ (1): اَلرَّحْمٰنُ اور اَلرَّحِیْمُ کو اگر اللہ کا بدل مانا جائے تو ترجمہ اس طرح ہوگا جو اوپر دیا ہوا ہے لیکن اگر انہیں صفت مانا جائے تو ترجمہ ہوگا ” رحمن اور رحیم اللہ کے نام سے “۔ دونوں ترجمے درست مانیں جائیں گے۔ نوٹ (2): یہ پورا فقرہ مرکب جاری ہے جملہ نہیں ہے۔ اس لیے اس سے قبل کچھ محذوف ماننا ضروری ہے۔ اگر اسے جملہ اسمیہ مانا جائے تو اس سے قبل کوئی مبتدأ محذوف مانا جائے گا جیسے اِبْتِدَائِی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (میری ابتداء اللہ کے نام سے جو رحمن ہے رحیم ہے) اگر جملہ فعلیہ مانیں تو اس سے قبل کوئی فعل محذوف مانا جائے گا جیسے اَبْتَدِئُ (میں ابتدا کرتا ہوں) ۔ ایک رائے یہ ہے کہ جو کام کر رہے ہیں اس کا فعل محذوف مانیں جیسے اَکْتُبْ (میں لکھتا ہوں) ۔ اَرْکَبُ (میں سوار ہوتا ہوں) ۔ نوٹ (3): اِلٰــہٌ کا لفظ عام ہے۔ یہ معبودبرحق اور معبود باطل دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن لفظ اللہ ہمیشہ سے صرف ذات باری تعالیٰ کے لیے مخصوص رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی اہل عرب نے کبھی اس لفظ کو کسی معبود باری کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اسی لیے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سوال کیا کہ کیا تم اس کے کسی ہم نام کو جانتے ہو۔
Ayah 1:2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 1:2 in the Quran reader

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے

[ اَلْحَمْدُ : تمام حمد ][ لِلّٰهِ : اللہ کے لیے ہے ][ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ : جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے ] ح م د حَمِدَ یَحْمَدُ (س) حَمْدًا : محسن کی تعریف کرنا۔ حَامِدٌ (اسم الفاعل) : حمد کرنے والا ۔ { اَلتَّائِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحَامِدُوْنَ } (التوبۃ :112) ” توبہ کرنے والے ‘ عبادت کرنے والے ‘ حمد کرنے والے۔ “ مَحْمُوْدٌ (اسم المفعول) : حمد کیا ہوا۔ { عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا } (بنی اسرائیل ) ” قریب ہے کہ آپ کو پہنچا دے ‘ آپ کا رب ‘ حمد کیے ہوئے مقام پر۔ “ حَمَّدَ یُحَمِّدُ (تفعیل) تَحْمِیْدًا : محسن کی کثرت سے حمد کرنا۔ مُحَمَّدٌ (اسم المفعول) : کثرت سے حمد کیا ہوا ‘ حضور ﷺ کا نام۔ اَحْمَدُ (افعل التفضیل) : دوسروں یا سب سے بڑھ کر زیادہ حمد کرنے والا۔ { وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ } (الصف :6) ” اور بشارت دینے والا ایک رسول کی ‘ وہ آئیں گے میرے بعد ‘ ان کا نام احمد ہوگا ۔ “ حَمِیْدٌ(فعیل کا وزن اسم المفعول کے معنی میں) : ہمیشہ ہمیشہ سے حمد کیا ہوا۔ { اِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ} (البقرۃ) ” بیشک اللہ تعالیٰ غنی ہے ‘ حمید ہے۔ “ حَمْدٌ : حمد دراصل ایسی تعریف کو کہتے ہیں جو شکر کے جذبے کے ساتھ ہو۔ کوئی کام یا کوئی چیز جتنی زیادہ نقص اور عیب سے پاک ہوگی اتنی ہی زیادہ اس کی تعریف ہوگی۔ اس کے ساتھ اگر یہ احساس ہوجائے کہ وہ کام یا چیز ہمارے فائدے کے لیے ہے تو اب دل کی گہرائی سے ابلنے والا شکر کا جذبہ اس تعریف کے ساتھ شامل ہوجائے گا۔ یہ حمد ہے۔ اس کا پورا مفہوم ادا کرنے کے لیے اردو میں کوئی مناسب لفظ نہیں ہے۔ اس لیے اس کا مفہوم سمجھنے کے بعد لفظ حمد ہی استعمال کیا جائے اور اس کا ترجمہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اَلْحَمْدُ : اس پر لام تعریف نہیں بلکہ لام جنس لگا ہوا ہے۔ تمام جنس حمد یعنی حمد کی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں وہ سب اس لفظ میں شامل ہیں۔ اس لیے الحمد کا ترجمہ ہوگا تمام حمد۔ ترکیب :” اَلْحَمْدُ “ مبتدأہے۔ اس کی خبر ” ثَابِتٌ“ (ثابت ہے) یا واجب (واجب ہے) محذوف ہے۔ ” لِلّٰہِ “ مرکب جاری ہے اور قائم مقام خبر ہے۔ ترجمہ : نوٹ (1) : قرآن مجید میں سورتوں کے نام مرکب اضافی کی ترکیب میں لکھے ہیں۔ چناچہ سورة الفاتحۃ بھی مرکب اضافی ہے۔ فَتَحَ سے اسم الفاعل مؤنث فَاتِحَۃٌ بنتا ہے۔ اس لیے اس کا لفظی ترجمہ ہوگا ” کھولنے والی کی سورة “ لیکن اردو محاورہ کے لحاظ سے ہم کہیں گے ” کھولنے والی سورة “ نوٹ (2) : عربی میں ال بطور لام تعریف اور لام جنس دونوں طرح استعمال ہوتا ہے انہیں پہچاننے یعنی ان کے درمیان فرق کرنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہے۔ غالباً اس کی و جہ یہ ہے کہ جملہ پر غور کرنے سے ان کا فرق از خود واضح ہوجاتا ہے اور ان کو پہچاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ مثلاً اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ پر لام تعریف مان کر ترجمہ کریں تو مطلب ہوگا کہ ایک مخصوص حمد اللہ کے لیے ہے تو باقی حمد کس کے لیے ہے ؟ جملہ بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ میں انسان پر لام تعریف مانیں تو مطلب ہوگا کہ ایک مخصوص انسان خسارے میں ہے۔ ایسی صورت میں آگے اِلَّا الَّذِیْنَ جمع کا صیغہ بےمعنی ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوگیا کہ یہ بھی لام جنس ہے۔ نوٹ (3) : اوپر بات ہوئی کہ اَلْحَمْدُ کی خبر محذوف ہے۔ اس ضمن میں یہ بات سمجھ لیں کہ ہر زبان میں کسی جملے میں سے کچھ الفاظ حذف کردینے کا رواج ہے مثلاً ہم کہتے ہیں ” کون ہے ؟ “ ۔ یہاں لفظ ” آیا “ محذوف ہے۔ پورا جملہ ” کون آیا ہے ؟ “ کسی کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہاں ؟ اس میں الفاظ ” جا رہے ہو “ محذوف ہے۔ اسی طرح عربی میں بھی اور قرآن مجید میں بھی محذوفات ملیں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جہاں جی چاہے اور جو جی چاہے محذوف مان لیا جائے۔ محذوفات کا فیصلہ زبان کے محاورہ اور جملہ کے سیاق وسباق کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔ مثلاً کون ہے ؟ میں اگر لفظ ” گیا “ محذوف مان کر مطلب نکالیں گے کہ کون گیا ہے ؟ تو یہ اردو محاورے کے خلاف ہوگا۔ نوٹ (4) : عربی میں مرکب جاری اور ظرف جملہ اسمیہ میں متعلق خبر بن کر آتے ہیں یعنی خبر کی وضاحت اور تشریح کرتے ہیں لیکن خود خبر نہیں بنتے۔ جملہ میں خبر اگر محذوف ہو تو پھر یہ قائم مقام خبر کہلاتے ہیں۔ مثلاً اَلرَّجُلُ مَوْجُوْدٌ فِی الْبَیْتِ میں فِی الْبَیْتِ متعلق خبر ہے۔ اور اَلرَّجُلُ فِی الْبَیْتِ میں فِی الْبَیْتِ قائم مقام خبر ہے۔ رَبَّ یَرُبُّ (ن) رَبًّـا : تربیت کرنا ‘ پرورش کرنا ‘ مالک ہونا۔ رَبٌّ جمع اَرْبَابٌ : تربیت کرنے والا (یہ مصدر ہے لیکن بطور اسم الفاعل بھی استعمال ہوتا ہے) ۔ رَبَّانِیٌّ جمع رَبَّانِیُّوْنَ : رب والا ‘ اللہ والا۔ { لَوْلَا یَنْھَاھُمُ الرَّبَّانِیُّوْنَ } (المائدۃ :63) ” کیوں نہیں منع کرتے ان کو اللہ والے لوگ۔ “ رَبِیْبَۃٌ جمع رَبَائِبُ : زیر تربیت سوتیلی بیٹی۔ { وَرَبَائِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ } (النسائ :23) ” اور تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری گودوں میں ہیں۔ “
Ayah 1:3

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 1:3 in the Quran reader

رحمان اور رحیم ہے

[ الرَّحْمٰنِ : جو رحمن ہے ][ الرَّحِیْمِ : جو رحیم ہے ]
Ayah 1:4

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 1:4 in the Quran reader

روز جزا کا مالک ہے

[ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ : جو بدلے کے دن کا مالک ہے ] م ل ک [ مَلَکَ یَمْلِکُ (ض) مِلْکًا : مالک ہونا ‘ غالب ہونا ‘ اختیار رکھنا۔ { قُلْ لاَّ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا } (الاعراف :188) ” آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں اختیار نہیں رکھتا اپنے نفس کے لیے کسی نفع کا اور نہ ہی کسی نقصان کا۔ “ مُلْکٌ : ملکیت ‘ جس پر اختیار و اقتدار حاصل ہو۔ { قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ } (آل عمران :26) ” آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اے اللہ ملک کے مالک تو ملک دیتا ہے جس کو تو چاہتا ہے اور تو ملک چھین لیتا ہے جس سے تو چاہتا ہے۔ “ مَلِکٌ جمع مُلُوْکٌ : بادشاہ۔ { وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖ } (یوسف :54) ” اور بادشاہ نے کہا کہ اسے لے آئو میرے پاس۔ “{ اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً اَفْسَدُوْھَا } (النمل :34) ” بیشک بادشاہ جب داخل ہوتے ہیں کسی بستی میں تو اس میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ “ مَلَکٌ ج مَلَائِکَۃٌ : فرشتہ۔ { قُلْ لاَّ اَقُوْلُ لَـکُمْ عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ وَلَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَا اَقُوْلُ لَـکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ} (الانعام :50) ” آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور میں نہیں جانتا غیب کو اور میں نہیں کہتا کہ تم سے کہ میں فرشتہ ہوں۔ “ مَلَکُوْتٌ : بادشاہت (یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے لیے مخصوص ہے) { اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } (الاعراف :185) ” تو کیا یہ لوگ نظر نہیں کرتے زمین اور آسمانوں کی بادشاہت میں۔ “ د ی ن دَیَنَ یدین (ض) دَیْنًا : قرض دینا۔ دَیْنٌ : قرض۔ (قرض مصدر ہے۔ عربی میں اکثر مصدر بطور اسم الذات بھی استعمال ہوتے ہیں) ۔ { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِھَا اَوْدَیْنٍ } (النسائ :11) ” وصیت کے بعد جو اس نے وصیت کی یا قرضہ کے بعد۔ “ دِیْنٌ : بدلہ ‘ ضابطہ ۔ { وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ} (النسائ :125) ” اور اس سے زیادہ اچھا کون ہے ‘ ضابطہ کے لحاظ سے ‘ جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ اللہ کے لیے اور وہ احسان کرنے والا ہے۔ “ اَلدِّیْنُ : اسلام کا ضابطہ حیات۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامِ } (آل عمران :19) ” بیشک اصل ضابطہ اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔ “ مَدِیْنٗ : مقروض۔ جس سے حساب لیا جانا ہے۔{ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرٰبًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ } (الصّٰفٰت :53) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم حساب لیے جانے والے ہوں گے۔ “ تَدَایَنَ یَتَدَایَنُ (تفاعل) تَدَایَنًا : باہم ادھار پر لین دین کرنا۔ { اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُـبُوْہُ } (البقرۃ :282) ” جب تم لوگ قرض کا لین دین کرو ایک مقررہ مدت کے لیے تو اسے لکھ لو۔ “ دِیْنٌ : قرضہ میں واپسی کا مفہوم از خود شامل ہے۔ ہر عمل کی جزا عمل کرنے والے کے لیے ہوتی ہے جو اس کو واپس ملنی ہے۔ اس طرح اس میں بدلہ کا مفہوم شامل ہوا لیکن بدلہ کے لیے دین کے بجائے دین کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ پھر بدلہ کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ کوئی ضابطہ یا قانون ہو جس کے مطابق بدلہ ملے۔ اس طرح دِیْنٌ کا لفظ ضابطہ کے معنی بھی دیتا ہے۔ ترکیب :” مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ “ مرکب اضافی ہے۔ اس کے مضاف ” مٰلِکِ “ کی جر بتارہی ہے کہ یہ پورا مرکب ” اَللّٰہِ “ کی صفت یا بدل ہے۔ نوٹ (1): انسان جب اپنے ماحول پر غور کرتا ہے تو زمین کی ایک گردش کی وجہ سے وہ چاند اور سورج کو نکلتے ڈوبتے اور چاند کو گھٹتے بڑھتے دیکھتا ہے۔ زمین کی دوسری گردش کی وجہ سے موسم کو تبدیل ہوتے دیکھتا ہے۔ ہوا ‘ بادل اور بارش کا نظام دیکھتا ہے۔ پودوں کے اگنے ‘ بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا نظام دیکھتا ‘ اور ہر ایک نظام اپنی جگہ اتنا بےعیب اور پر فیکٹ نظر آتا ہے کہ وہ تعریف کیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ پھر جب وہ ان کی تخلیق کے مقصد پر غور کرتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ یہ پور انظام شمسی اس کی زندگی کی بقا ‘ اس کی ضروریات کی بہم رسانی اور اس کی خدمت کے لیے تخلیق کیا گیا ہے تو اس کے دل کی گہرائیوں سے شکر کا جذبہ ابلتا ہے اور وہ بےساختہ پکار اٹھتا ہے کہ تمام حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا ہے۔ اس پہلو سے پوری سورة الفاتحہ دراصل انسان کی فطرت کا پکار ہے۔ نوٹ (2): ان آیات سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انسان اگر اپنے ماحول کا مشاہدہ کرے اور غور و فکر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی صفات کمال اور آخرت کے تصور تک اس کی عقل از خود رسائی حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے لیے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔
Ayah 1:5

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ Open ayah 1:5 in the Quran reader

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں

[ اِیَّاکَ : صرف تیری ہی ][ نَعْبُدُ : ہم تیری عبادت کرتے ہیں ][ وَاِیَّاکَ : اور صرف تجھ سے ہی ][ نَسْتَعِیْنُ : ہم مدد مانگتے ہیں ] ع ب د عَبَدَیَعْبُدُ (ن) عِبَادَۃً : احسان مندی کے احساس کے ساتھ محسن کی مکمل اطاعت کرنا ‘ غلامی کرنا ‘ بندگی کرنا۔ عَبْدٌ جمع عِبَادٌ اور عَبِیْدٌ : جس کی کوئی چیز اپنی نہ ہو ‘ جس کی زندگی ‘ خواہش ‘ غرضیکہ ہر چیز اس کے آقا کی ملکیت ہو ‘ غلام ‘ بندہ۔ عِبَادَۃً : غلامی ‘ بندگی۔ { وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖ اَحَدًا } (الکہف :110) ” اور اسے چاہیے کہ وہ شریک نہ کرے اپنے رب کی غلامی میں کسی ایک کو بھی۔ “ ع و ن عَوَنَ یَعُوْنُ (ن) عَوْنًا : پشت پناہ ہونا ‘ درمیان میں ہونا۔ اَعْوَنَ یَعْوَنُ (افعال) اِعَانَۃً : پشت پناہی کرنا ‘ مدد کرنا۔ { فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ } (الکہف :95) ” پس میری مدد کرو قوت سے۔ “ تَعَاوَنَ یَتَعَاوَنُ (تفاعل) تَعَاوُنًا : ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ { وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی } (المائدۃ :2) ” باہم مدد کرو نیکی اور تقویٰ پر۔ “ اِسْتَعْوَنَ یَسْتَعْوِنُ (استفعال) اِسْتِعَانَۃً : مدد مانگنا ‘ مددچاہنا۔ مُسْتَعَانٌ (اسم المفعول) : جس کی مدد چاہی جائے۔{ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ } (یوسف :18) ” اور اللہ ہی مدد چاہے جانے والا ہے اس پر جو تم لوگ بناتے ہو۔ “ عَوَانٌ : درمیان ‘ ادھیڑ عمر۔ { اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لاَّ فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌ عَوَانٌ بَیْنَ ذٰلِکَ } (البقرۃ :68) ” بیشک وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی ہے اور نہ کنواری ہے ‘ ادھیڑ عمر ہے ان کے مابین۔ “ اِیًّـا : یہ کلمہ ضمائر منصوبہ متصلہ یعنی ضمیر مفعولی کو منفصل لکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بالعموم حصر کا مفہوم پیدا کرتا ہے مثلاً ضَرَبْتُہٗ ۔ اس میں ضمیر مفعولی فعل کے ساتھ ملا کر یعنی متصل لکھی ہے اور اس کے معنی ہیں ” میں نے اس کو مارا “۔ اس میں کسی اور کو مارنے کی نفی نہیں ہے۔ اب اگر ہم کہیں ضربت ایاہ تو اس کے معنی ہیں ” میں نے اس کو ہی مارا “۔ اس میں کسی اور کو مارنے کی نفی شامل ہے۔ اس کو حصر کا مفہوم کہتے ہیں۔ اب اگر ہم کہیں اِیَّاہُ ضَرَبْتُ تو معنی وہی رہیں گے البتہ حصر میں مزید زور اور تاکید پیدا ہوجائے گی جیسے He Must Come میں جب مزید زور پیدا کرنا ہو تو ہم کہتے ہیں ComeHeMust !۔ اب یہ نوٹ کرلیں کہ بات سمجھانے کی غرض سے ہم نے صرف ضَرَبْتُ اِیَّاہُ استعمال کیا ہے ورنہ عربی میں اس کا رواج نہیں ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ ضمیر مفعولی جب اِیَّاکے ذریعہ منفصل کی جائے گی تو وہ فعل سے پہلے آئے گی۔ یعنی اِیَّاہُ ضَرَبْتُ کہا جائے گا ۔ مثلاً { وَاشْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔ }(النحل)” اور تم لوگ شکر کرو اللہ کی نعمت کا اگر تم لوگ صرف اور صرف اس کی ہی عبادت کرتے ہو۔ “ اس قاعدہ کے دواستثناء ہیں۔ پہلا استثناء یہ ہے کہ کسی فعل کے بعد اگر اِلاَّ آئے تو اِیَّا اور ضمیر مفعولی فعل کے بعد آسکتی ہے جیسے { وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیَّاہُ }(بنی اسرائیل :23) ” اور فیصلہ کردیا تیرے رب نے کہ تم لوگ عبادت مت کرو مگر صرف اس کی ہی۔ “ نوٹ کرلیں کہ ایسی صورت میں حصرکا مفہوم اِیَّاکی وجہ سے نہیں بلکہ جملہ کی ساخت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ دوسرا استثناء یہ ہے کہ کسی فعل کے بعد اگر دو ضمیر مفعولی لانا ہو تو ان کے درمیان اِیَّا لگاتے ہیں۔ یعنی ضَرَبْتُ ھُمْ وَکُمْکہنا درست نہیں ہے۔ بلکہ ضَرَبْتُھُمْ وَاِیَّاکُمْ کہا جائے گا۔ جیسے { نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ } (بنی اسرائیل :31)” ہم رزق دیتے ہیں ان کو اور تم کو بھی “ ۔ ایسی صورت میں بھی اِیَّا میں حصر کا مفہوم باقی نہیں رہتا۔ عبادت : عبادت میں بنیادی مفہوم اطاعت کا ہے لیکن اطاعت کبھی جزوی بھی ہوتی ہے اور کبھی بادل نخواستہ بھی ہوتی ہے۔ ایسی اطاعت ‘ عبادت نہیں کہلائے گی۔ جب کسی کے احسانات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی محبت میں ڈوب کر اطاعت کی جائے اور زندگی کے ہر معاملہ اور ہر لمحہ میں کی جائے تو ایسی اطاعت ‘ عبادت کہلاتی ہے۔ نوٹ (1) : یہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ اس آیت میں حصر کا مفہوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کی نفی شامل ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ والدین ‘ اساتذہ ‘ افسران ‘ حکام وغیرہ کی اطاعت نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی تمام اطاعتیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرہ کے اندر اندر ہوں گی۔ نوٹ (2) : اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اسباب و علل (Cause and effect) کا جو نظام تخلیق کیا ہے اس کے تحت ایک دوسرے کی مدد کرنا اور ایک دوسرے سے مدد مانگنا مطلوب بھی ہے اور محمود بھی ہے۔ البتہ اس نظام کے باہر غیب میں مدد اللہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں مانگی جائے گی۔
Ayah 1:6

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 1:6 in the Quran reader

ہمیں سیدھا راستہ دکھا

[ اِہْدِ : تو ہدایت دے ][ نَا : ہم کو ][ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ : سیدھے راستے کی ] ھَدٰی یَھْدِیْ (ض) ھُدًی : راہنمائی کرنا۔ (1) راستہ سمجھانا۔ { وَھَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ } (البلد) ” اور ہم نے اس کو سمجھا دیئے دونوں راستے۔ “ (2) راستہ پر دل کو کھول دینا ‘ توفیق دینا۔ { مَنْ یُّـؤْمِنْ بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ } (التغابن :11) ” جو ایمان لاتا ہے اللہ پر تو وہ توفیق دیتا ہے اس کے دل کو۔ “ (3) منزل تک پہنچا دینا۔ { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا } (الاعراف :43) ” تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے پہنچادیا ہم کو یہاں تک۔ “ ھَادٍ (اسم الفاعل) : راہنمائی کرنے والا۔ { وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ } (الرعد :7) ” اور ہر قوم کے لیے ایک ہدایت دینے والا ہے ۔ “ ھدی یھدی (تفعیل) تَھْدِیَۃً : کسی چیز کو کسی چیز تک پہنچادینا ‘ تحفہ دینا ‘ ھَدِیَّـۃٌ تحفہ۔ { وَاِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ اِلَیْھِمْ بِھَدِیَّۃٍ } (النمل :35) ” اور میں بھیجنے والی ہوں ان کی طرف ایک تحفہ۔ “ ھَدْیٌ : وہ جانور جو خانہ کعبہ قربانی کے لیے بھیجا جائے۔ { فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ } (البقرۃ :192) ” تو جو قربانی میسر ہو۔ “ اِھْتَدٰی یَھْتَدِیْ (افتعال) اِھْتِدَائً : ہدایت پانا۔ { فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا } (آل عمران :20) ” پس اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو یہ لوگ یقینا ہدایت پائیں گے۔ “ مھتد (اسم الفاعل) : ہدایت پانے والا۔ { وَمِنْھُمْ مُّھْتَدٍ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ } (الحدید :26) ” اور ان میں کوئی ہدایت پانے والا ہے اور ان میں اکثر فاسق ہیں۔ “ س ر ط سَرَطَ یَسْرُطُ ۔ سَرِطَ یَسْرَطُ (ن۔ س) سَرْطًا۔ سَرْطَانًا : نگلنا۔ ق و م قَامَ یَقُوْمُ (ن) قِیَامًا : کھڑا ہونا ‘ ٹھہرنا ‘ نگرانی یا حفاظت کرنا۔ قِیَامَۃٌ : قبر سے اٹھ کھڑا ہونا۔ قَائِمٌ (اسم الفاعل) : کھڑا ہونے والا ‘ نگرانی کرنے والا ۔ { اَفَمَنْ ھُوَ قَائِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ } (الرعد :33) ” تو کیا وہ جو نگرانی کرنے والا ہے ہر نفس (کے عمل) کی جو اس نے کمایا۔ “ قَوَّامٌ (فعال کے وزن پر مبالغہ) : بہت زیادہ حفاظت کرنے والا ‘ ذمہ دار ‘ کفیل۔ { اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَائِ } (النسائ :34) ” مرد حفاظت کرنے والے ذمہ دار ہیں عورتوں پر۔ “ قَیَّوْمٌ (فَیْعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ) : وہ ذات جس کی ابتداء نہ ہو اور از خود قائم ہو۔ وہ ذات جو ہر شے کی ہر لمحہ نگران ‘ محافظ اور کفیل ہو۔ { اَللّٰہُ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ } (البقرۃ :255) ۔ قَـیِّمٌ (صفت) : قائم یا ثابت چیز ‘ سیدھی چیز۔ { ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ } (التوبۃ :36) ۔ مَقَامٌ (اسم الظرف ہے مَفْعَلٌ کے وزن پر) : کھڑے ہونے کی جگہ ‘ ٹھہرنے کی جگہ۔ { وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلّٰی } (البقرۃ :125) ” اور تم لوگ بنا لو ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے نماز کی جگہ۔ “ یہ بطور مصدر بھی استعمال ہوتا ہے۔ { اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ } (یونس :71) ” اگر تم لوگوں پر بھاری ہے میرا کھڑا ہونا اور میری نصیحت۔ “ قَوْمٌ : کسی جگہ یا کسی صفت پر قائم رہنے والے افراد کا گروہ۔{ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ } (البقرۃ :118) ” ہم واضح کرچکے ہیں نشانیوں کو یقین رکھنے والے گروہ کے لیے۔ “ اَقَامَ یُقَامُ (افعال) اِقَامَۃً : کھڑا ہونا ‘ کسی چیز کو قائم ود ائم رکھنا۔ { اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ } (المائدۃ :55) ” جو لوگ نماز کو قائم رکھنے والے ہیں۔ “ مُقِیْمٌ (اسم الفاعل جو بطور اسم الظرف بھی استعمال ہوتا ہے) : کھڑا کیا ہوا ‘ کھڑے کیے جانے کی جگہ ‘ ٹھہرائے جانے کی جگہ۔ { لَا مُقَامَ لَـکُمْ فَارْجِعُوْا } (الاحزاب :13) ” تمہیں ٹھہرائے جانے کی جگہ نہیں ہے پس واپس چلو۔ “ قَوَّمَ یُقَوِّمُ (تفعیل) تَقْوِیْمًا : ٹیڑھے پن کو سیدھا کرنا ‘ تعدیل کرنا۔ { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔ } (التین) ” یقینا ہم نے پیدا کیا انسان کو سب سے اچھے تناسب و تعدیل میں۔ “ اِسْتِقَامَ یَسْتَقِیْمُ (استفعال) اِسْتَقَامَۃً : اس طرح سیدھا کھڑا ہونا کہ کوئی کجی یا کسی طرف جھکائو نہ ہو۔ سیدھا ہونا۔ مُسْتَقِیْمٌ (اسم الفاعل) : ہر کجی اور جھکائو سے پاک ہو کر سیدھا ہونے والا۔ بطور صفت بھی استعمال ہوتا ہے یعنی ہر کجی اور جھکائو سے پاک ‘ سیدھا۔ صِرَاطٌ : اس کا مادہ س ر ط ہے ۔ لیکن یہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے کہ اسے سراط کے بجائے صراط لکھاجاتا ہے۔ ترکیب : ” اِھْدِ “ ثلاثی مجرد سے فعل امر ہے اور ” نَا “ اس کی ضمیر مفعولی ہے۔ ” اَلصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ “ مرکب توصیفی ہے اور ” اِھْدِ “ کا مفعول ثانی ہے۔ نوٹ : ” اِھْدِ “ یہاں ر ہدایت کے جامع مفہوم میں ہے۔ یعنی تو سیدھے راستے ہمیں سمجھا دے۔ اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور اس پر چلا کر ہمیں منزل تک پہنچا دے۔ علماء کرام اور بزرگانِ دین جب نماز میں یہ آیت پڑھتے ہیں تو ان کی دعا دراصل توفیق اور منزل تک پہنچنے کے لیے ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے معارف القرآن دیکھیں۔
Ayah 1:7

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ Open ayah 1:7 in the Quran reader

اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں

[ صِرَاطَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کا راستہ ] [ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ : جن پر تو نے انعام کیا ] [ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ : جن پر غضب نہیں کیا گیا ] [ وَلَا الضَّآلِّیْنَ : اور جو گمراہ ہونے والے نہیں ہیں ] ن ع م نَعَمَ یَنْعَمُ ۔ نَعَمَ یَنْعُمُ (ف۔ ن) نَعْمَۃً : خوشحال ہونا ‘ نعمت پانا۔ نَعِمَ یَنْعَمُ (س) نَعَمًا : سرسبز ہونا ‘ تروتازہ ہونا۔ نَعْمَۃٌ اور نِعْمَۃٌ : نعمت ۔ { وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ } (المزمل :11) ” اور تو چھوڑ دے مجھ کو اور جھٹلانے والوں کو جو نعمت والے ہیں۔ “ { وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ } (البقرۃ :231) ” اور تم لوگ یاد کرو اللہ کی نعمت کو۔ “ نعماء ج انعم : آرام ‘ آسودگی۔ { لَئِنْ اَذَقْنَاہُ نَعْمَائَ بَعْدَ ضَرَّآئَ } (ھود :10) ” اور اگر ہم چکھائیں اس کو آرام تکلیف کے بعد۔ “ { فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ } (النحل :122) ” تو اس نے ناشکری کی اللہ کی (دی ہوئی) آسودگیوں کی) ۔ “ نَعِیْمٌ : ہمیشہ خوشحال ‘ ہمیشہ تروتازہ۔ { اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ } (الانفطار :13) ” بیشک نیکوکار ہمیشگی کی خوشحالی میں ہوں گے۔ “ { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمُ } (لقمٰن :8) ” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان کے لیے ہمیشہ سرسبز رہنے والے باغات ہیں۔ “ نَاعِمٌ : خوشحال ہونے والا ‘ تروتازہ ہونے والا ۔ { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَاعِمَۃٌ} (غاشیۃ :8) ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہونے والے ہیں۔ “ نَعَمٌج اَنْعَامٌ : مویشی ‘ چوپائے (یہ اللہ کی نعمت ہیں) ۔ { فَجَزَائٌ مِّثْلَ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ :95) ” تو بدلہ ہے ویسا ہی جو اس نے قتل کیا مویشی میں سے۔ “ نِعْمَ وَنَعِمًا : مدح یعنی تعریف کے الفاظ ہیں۔ کیسا اچھا ‘ کتنا عمدہ۔ { فَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰـکُمْ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ } (الانفال :40) ” پس تم لوگ جان لو کہ اللہ تمہارا مولا ہے تو کیسا اچھا مولیٰ ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے۔ “{ اِنْ تُبْدُوا الصَّدٰقٰتِ فَنِعِمَّاھِیَ } (البقرۃ :271) ” اگر تم علانیہ صدقہ دو تو کیسا اچھا ہے یہ۔ “ نَعَمْ : ہاں۔ { قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دٰخِرُوْنَ } (الصفت :18) ” آپ ﷺ کہیے ہاں اور تم لوگ ذلیل ہو گے۔ “ اَنْعَمَ یُنْعِمُ (افعال) اِنْعَامًا : خوشحال کرنا ‘ نعمت دینا۔ { اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ } (الفاتحۃ :6) ” تو نے نعمت دی جن کو ۔ “ اَلَّذِیْنَ : اَلَّذِیْ واحد اور اَلَّذِیْنَجمع ہے۔ یہ دونوں مبنی ہیں۔ لیکن اس کا تثنیہ قاعدہ کے مطابق اَللَّذَانِ ۔ اَللَّذَیْنِآتا ہے ۔ یہ بھی نوٹ کرلیں کہ اَلَّذِیْ اوراَلَّذِیْنَایک لام کے ساتھ لکھا جاتا ہے جبکہ اس کا تثنیہ عموماً دو لام کے ساتھ لکھا جاتا ہے ۔ البتہ قرآن مجید کے املاء پر غور کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ سورة النساء کی آیت 16 میں اَلَّذَانِایک لام کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ ترکیب :” صِرَاطَ الَّذِیْنَ “ میں ” صِرَاطَ “ مضاف ہے اور ” صِرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ “ کا بدل ہونے کی وجہ سے نصب میں ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ “ مضاف الیہ ہے اس لیے محلاً حالت جر میں ہے۔ اس بات کو نوٹ کرلیں اگلی آیت میں اس کی ضرورت پڑے گی۔ غ ض ب غَضِبَ یَغْضَبُ (س) غَضَبًا : غضب ناک ہونا ‘ غصہ میں ہونا (لازم ہے) ۔ غَضِبَ عَلَیْہِ کسی پر غضب کرنا ‘ کسی پر غصہ کرنا (متعدی ہے) ۔ غَضْبَانٌ (فَعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ) : بہت زیادہ غضب ناک { وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا } (الاعراف :150) ” اور جب واپس ہوئے موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف بہت غضبناک حالت میں جھنجھلائے ہوئے۔ “ مَغْضُوْبٌ عَلٰی (اسم المفعول) : غضب کیا ہوا ‘ غصہ کیا ہوا۔ ض ل ل ضَلَّ یَضِلُّ (ض) ضَلَالاً وَضَلَالَۃً : گمراہ ہونا ‘ راستہ کی تلاش میں سرگرداں ہونا ‘ کسی چیز کا ضائع ہونا۔ ضَالٌّ ج ضَالُّوْنَ (اسم الفاعل) : گمراہ ہونے والا ‘ راستہ کی تلاش میں سرگرداں ہونے والا۔ { وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الضَّالُّوْنَ } (آل عمران :90) ” اور وہ لوگ ہی گمراہ ہونے والے ہیں۔ “{ وَوَجَدَکَ ضَالًّا فَھَدٰی } (الضحی :7) ” اور اس نے پایا آپ ﷺ کو حق کی تلاش میں سرگرداں تو ہدایت دی۔ “ اَضَلَّ یَضِلُّ (افعال) اَضْلَالاً : گمراہ کرنا ‘ ضائع کرنا۔ { وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلاَّ اَنْفُسَھُمْ } (النسائ :113) ” اور یہ لوگ گمراہ نہیں کرتے مگر خود اپنے آپ کو۔ “ { فَلَنْ یُضِلَّ اَعْمَالَھُمْ سَیَھْدِیْھِمْ } (محمد :4 ۔ 5) ” تو وہ ہرگز ضائع نہیں کرے گا ان کے اعمال کو (بلکہ) وہ ان کو ہدایت دے گا) ۔ “ مُضِلٌّ (اسم الفاعل) : گمراہ کرنے والا۔ { وَمَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ مُّضِلٍّ } (الزمر :37) ” اور جس کو اللہ ہدایت دے تو اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ “ (تفعیل) تَضْلِیْلًا : ضائع کردینا ‘ برباد کردینا۔ { اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ } (الفیل :12) ” کیا اس نے نہیں کردیا ان کی خفیہ تدبیر کو برباد۔ “ ترکیب :” غَیْرِ “ کی جر بتارہی ہے کہ یہ ” اَلَّذِیْنَ “ پر عطف ہے جو محلاً حالت جر میں ہے۔ اس لیے ترجمہ ہوگا ” جن پر غضب نہیں کیا گیا “۔ اگر یہ ” غَیْرَ “ ہوتا تب یہ ” صِرَاطَ “ پر عطف ہوتا۔ پھر یہ ترجمہ ممکن ہوا ” نہ راستہ ان لوگوں کا “۔ لیکن ” غَیْرِ “ کی جر کی وجہ سے یہ ترجمہ ممکن نہیں ہے ۔ ” اَلضَّالِّیْنَ “ کی حالت جر بھی ” غَیْرِ “ پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے ۔ نوٹ (1) : مذکورہ ترجمہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو بھی اللہ کے غضب اور گمراہی سے بچ گیا وہ انعام یافتہ لوگوں یعنی صالحین میں شامل ہوگیا اس کے بعد درجات (status) کی بلندی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ہر کس بقدر ہمت اوست۔ نوٹ (2) : سورة الفاتحہ کے مطالعہ سے دعا مانگنے کا سلیقہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے سے پہلے اس کی حمد و ثنا کرنی چاہیے۔ حضور ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ پہلے تیسرا کلمہ پڑھو۔ پھر درود شریف پڑھو اور اس کے بعد دعا مانگو۔ نوٹ (3) : آمین غیر عربی لفظ ہے۔ اکثریت کی رائے ہے کہ یہ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” تو قبول کر “۔ یہ لفظ قرآن مجید میں کہیں استعمال نہیں ہوا لیکن اس کا پڑھنا سنت سے ثابت ہے۔