Ayah 1:1شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
یہ سورت مکی ہے بعض کا کہنا ہے کہ مدنی ہے، مگر صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہ مکی اور مدنی ہے، یہ مکہ ریف میں اس وقت اتاری گئی جبکہ نماز کا فریضہ لاگو ہوا، پھر دوبارہ نزول مدینہ میں اس وقت ہوا جب تحویل قبلہ کا معاملہ پیش آیا۔
اسمائے سورت اور ان کی وجوہ :
ام القرآن : حدیث میں اس کا نام یہ وارد ہوا ہے۔ لا صلاۃ لمن لم یقرء بام القران (مسلم) اس کی نماز کامل نہیں جس نے ام القرآن نہ پڑھی۔ یہ قرآن مجید کے مقاصد پر مشتمل ہے۔
وافیہ، کافیہ : یہ سورت مقاصد قرآن کو اپنے اندر سمیٹنے والی ہے۔
الکنز : حدیث قدسی میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب کنز من کنوز عرشی (ابن راہویہ) فاتحۃ الکتاب میرے عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
الشفاء الشافیہ : رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے : فاتحۃ الکتاب شفاء من کل داء الالسام (فیض القدیر) فاتحہ موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج (شفا) ہے۔
المثانی : سورة الصلوۃ : اس روایت کی بنا پر (لا صلوۃ من لم یقرء بام القرآن) کہ نماز کی تکمیل کا دارومدار اس پر ہے۔ اس لیے بھی کہ یہ نماز میں فرض ہے یا واجب (فقہاء کے اختلاف کے مطابق)
سورت الحمد والاساس : یہ قرآن کی اساس و بنیاد ہے، جیسا حضرت ابن عباس نے اپنے ارشاد میں ذکر فرمایا : اذا اعتللت او اشتکیت فعلیک بالاساس : کہ جب تو بیمار پڑجائے تو فاتحہ کو لازم پکڑ۔
تعداد آیات : اس سورت میں بالاتفاق سات آیات ہیں۔ واللہ اعلم۔
اختلاف قراء اور ان کے دلائل :
قراء مدینہ بصرہ اور شام رحمہم اللہ کا کہنا یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ فاتحہ کی آیت نہیں اور نہ ہی یہ کسی دوسری سورت کی ابتدائی آیت ہے (البتہ سورت نمل کی آیت کا حصہ ہے انہ بسم اللہ الرحمن الرحیم الایۃ)
ابتداء میں اس کو تبرک کے طور پر اور دو سورتوں کے مابین فاصلہ ظاہر کرنے کے لیے لایا جاتا ہے امام ابوحنیفہ اور ان کے متبعین کا یہی مسلک ہے، اسی بنا پر ان کے ہاں فاتحہ کے ساتھ اس کو جہرا نہیں پڑھا جاتا۔
دوسرا مسلک یہ قراء مکہ اور کوفہ کا ہے، کہ یہ نہ صرف سورت فاتحہ کی ایک آیت ہے، بلکہ ہر سورت کی (ابتدائی) آیت ہے اس قول کو امام شافعی اور ان کے احباب نے اختیار فرمایا، یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو فاتحہ کے ساتھ جہرا پڑھتے ہیں۔
دلائل شوافع :
سلف صالحین اس کو قرآن مجید میں لکھتے چلے آرہے ہیں حالانکہ غیر قرآن کو قرآن میں لکھنے کی شدت سے ممانعت تھی (پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ سورت فاتحہ کی آیت ہے)
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جس نے بسم اللہ کو چھوڑ دیا اس نے گویا کتاب اللہ کی ایک سو چودہ آیات کو چھوڑ دیا۔ (اس سے ثابت ہوا کہ یہ ہر سورت کی آیت ہے)
دلائل احناف رحمہم اللہ :
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے صلاۃ یعنی فاتحہ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیا ہے۔ میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔
جب بندہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔
جب بندہ کہتا ہے الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔
جب بندہ کہتا ہے مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔
جب بندہ کہتا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، میرے بندے نے جو طلب کیا میں نے اس کو دے دیا۔
جب بندہ کہتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لیے خاص ہے۔
صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ ۥۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ ۔ میرے بندے نے جو مجھ سے سوال کیا وہ میں نے اسے دے دیا۔
(پس اگر بسم اللہ فاتحہ کا جز ہو تو الحمد کی بجائے اولا بسم اللہ کہا جاتا، اس سے ثابت ہوا کہ فاتحہ بسم اللہ کا جزو نہیں)
پس اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ سے سورت فاتحہ کی ابتدا کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بسم اللہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے، جب فاتحہ کا جزو نہ بنا تو دوسری سورتوں کا جزو نہ ہونا تو بالاتفاق خود ثابت ہوگیا، اور یہ روایت تو صحاح ستہ میں مذکور ہے۔
جواب روایت :
ان کی پیش کردہ روایت ہمارے مخالف نہیں کیونکہ بسم اللہ ہمارے نزدیک بھی قرآن مجید کی ایک آیت ہے، جو دو سورتوں کے درمیان فاصلہ کرنے اور سورتوں کے ابتدا میں تبرک حاصل کرنے کی غرض سے اتاری گئی۔ علامہ فخر الاسلام نے یہ بات المبسوط میں ذکر کی ہے، ہم پر یہ اعتراض اس روایت سے تب آتا جب اس کو ہم قرآن مجید کی آیت تسلیم نہ کرے۔ الکافی میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ من شاء فلیراجع۔ با کا تعلق محذوف سے ہے، جس کی تقدیر عبارت یہ ہے : بسم اللہ اقرائ والتوا کیونکہ جو شخص بسم اللہ کی تلاوت کرتا ہے تو وہ اس کا قاری ہے، جیسا کہ مسافر جب کسی جگہ خیمہ زین ہو یا وہاں سے کوچ کرے تو کہتا ہے باسم اللہ والبرکات یعنی (بسم اللہ احل و بسم اللہ ارتحل) کہ میں اللہ کے نام کی برکت سے اترتا اور اللہ کے نام کی برکت سے کوچ کرتا ہوں، اسی طرح ذبح کرنے والا (کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نام سے ذبح کرتا ہوں)
اصول : یہ فاعل جو بسم اللہ سے اپنے فعل کو شروع کرے گا تو وہی فعل مضمر ہوگا جس کی ابتدا بسم اللہ سے کی گئی ہے۔ البتہ فعل محذوف آخر میں مانا جائے گا کیونکہ فعل اور متعلق بہ سے زیادہ اہم متعلق یہ ہے کہ (کیونکہ مقصود وہی ہوتا ہے)
عادت مشرکین :
مشرکین اپنے معبودوں کے نام سے ابتدا کرتے ہوئے کہتے : باسم اللات وباسم العزی۔
(اسلام نے شرک کی جڑ کو اکھیڑا ہے) اس لیے مومن موحد کے لیے ضروری ٹھہرا کہ وہ اللہ کے نام کو ابتدا میں لائے تاکہ ہر چیز کی ابتدا کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام کا خاص ہونا ثابت ہوسکے اور یہ مقصد صرف اس صورت میں پورا ہوسکتا ہے جبکہ متعلق بہ کو پہلے لایا جائے اور فعل کو آخر میں ذکر کیا جائے۔
ایک اعتراض اور اس کا جواب :
سوال : اقرا باسم ربک میں فعل کو مقدم کیوں کیا گیا۔
جواب 1: ایک قول کے مطابق یہ سب سے پہلے اترنے والی سورت ہے، اس وقت قرات کا حکم زیادہ اہمیت والا تھا، اسی لیے فعل قرات کو مقدم کردیا گیا تاکہ حکم قرات دلوں میں خوب پختہ و جاگزین ہوجائے۔
جواب 2: یہ بھی درست ہے کہ قرات کو افعل القراۃ و حققھا (کہ تم قرات کرو اور خوب اچھی طرح کرو) کے معنی میں مان لیا جائے اور یہ اس محاورہ عرب کے مطابق ہوگا۔ فلان یعطی و یمنع پھر اس کا فعل الگ محذوف ہوگا، جس پر بسم اللہ پڑھا جائے گا، اس کی طرف متعدی نہ ہوگا۔
جواب 3: یہ بھی ممکن ہے کہ باسم ربک اس اقرار کا مفعول ہو جو بعد میں محذوف ہے، اور اسم اللہ کا تعلق قرات سے اسی طرح کا مانا جائے جو اس آیت میں تنبت بالدھن (المومنون : 20) میں دھن (تیل) کا انبات (اگنے) سے ہے۔ پس معنی یہ ہوگا متبرکا باسم اللہ اقرا میں اللہ تعالیٰ کے نام سے تبرک حاصل کرتے ہوئے پڑھتا ہوں۔
نکتہ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تعلیم دی کہ وہ اس کے نام سے کس طرح تبرک حاصل کریں اور اس کی کس طرح تعظیم بجا لائیں۔
بسم اللہ کی باکسرہ پر مبنی ہے کیونکہ وہ کسرہ حرفیت اور جر کا لازمہ ہے، اسی لیے با کو مکسور رکھا تاکہ اس کی حرکت اس کے عمل کے مشابہ ہو۔
لفظ اسم کی تحقیق :
اسم : یہ لفظ ان اسما میں سے ہے جن کا حرف اول مبنی بالسکون ہے، جیسا کہ ابن اور ابنۃ وغیرہ۔ جب ان سے ابتدا کر کے پڑھنا چاہیں تو ہمزہ لگا دیا جاتا ہے، کیونکہ ساکن سے ابتدا نہیں کی جاسکتی، البتہ درمیان کلام میں جب یہ الفاظ آجائیں گے تو پھر ہمزہ کی ضرورت سے مستغنی ہوجاتے ہیں۔
بعض علما : ہمزہ کا اضافہ نہیں کرتے بلکہ صرف ساکن کو حرکت دینے پر اکتفا کرتے ہیں، چناچہ وہ اس کو سم اور سم پڑھتے ہیں۔
یہ ان اسما میں سے ہے، جس کا آخری حرف حذف کردیا گیا جس طرح کہ ید اصل میں یدی اور دم اسل میں دمو ہے۔ اسی طرح اس کی اصل سمو ہے، جس کی دلیل وہ تبدیلی ہے جو اسماء، سمی، سمیت میں نظر آرہی ہے۔ یہ سمو یعنی بلندی سے مشتق ہے، کیونکہ نام مسمی کی تعریف کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے تذکرے کو پھیلانے والا ہے۔
بسم اللہ : میں الف کتابت سے حذف کردیا گیا۔ اور اقرا باسم ربک (العلق :1) میں ذکر کردیا کیونکہ اس میں بھی دونوں جمع ہوسکتے ہیں مگر بسم اللہ میں تو کثرت استعمال کی وجہ سے تلفظ سے ساقط کردیا گیا (اور اقرا باسم میں کثرت استعمال نہیں اس لیے کتابہ حذف نہیں کیا گیا) بسم اللہ کی با کو حذف کے بدلے میں لمبا لکھا جائے گا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے کاتب کو حکم دیا کہ ب کو لمبا لکھو، س کو ظاہر کرو اور م کو گول لکھا کرو۔ (اس میں کتاب اللہ کی تعظیم ہے)
لفظ اللہ کی تحقیق :
اللہ : اس کی اصل الالہ ہے اس کی نظیر الناس کا لفظ ہے جس کی اصل اناس ہے ہمزہ کو حذف کر کے ابتدا میں الف لام کا اضافہ کردیا الہ کا لفظ اسماء جنس میں سے ہے۔ ہر حق و باطل پر بولا جات ہے، پھر معبود حقیقی کے لیے اس کا استعمال غالب آگیا۔ جیسا کہ النجم کا لفظ ہر ستارے پر بولا جاتا ہے، پھر ثریا (کہکشاں) کے لیے اس کا استعمال غالب ہوگیا۔ اللہ کا لفظ حذف ہمزہ کے ساتھ فقط معبود برحق ہی بولا جاتا ہے، غیر پر اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا یہ اسم ہے، صفت نہیں۔
دلیل 1: کیونکہ اس کو بطور موصوف لاتے ہیں خود اس کو بطور صفت استعمال نہیں کرتے، اس طرح یہ نہیں کہا جاتا شیئ الہ، جس طرح کہ شی رجل نہیں کہتے، بلکہ کہتے ہیں الہ واحد صمد الہ جو اکیلا بےنیاز ہے۔
دلیل 2: اللہ تعالیٰ کی صفت کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا موصوف ہو جس پر وہ صفات بولی جائیں، پھر اگر تمام کو صفات قرار دیا جائے تو کہنا پڑے گا کہ یہ صفات تو ہیں مگر ان کا موصوف کوئی نہیں، اور یہ بات درست نہیں۔
علماء نحو کا اختلاف :
جلیل القدر علماء نحو خلیل، زجاج، محمد بن لحسین، حسین بن الفضل رحمہم اللہ نے اس کو مشتق نہیں مانا بلکہ اشتقاق کا انکار کیا۔
اشتقاق کا معنی :
بعض نے کہا اشتقاق کا معنی یہ ہے کہ ترکیب اور معنی میں دو یا زیادہ لفظ مشترک ہوجائیں، اس اسم کا لفظ الہ یا لہ (حیران ہونا) ہو۔ یہ لفظ حیرانی اور دہشت کو اپنے اندر شامل کرنے والے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ معبود کی پہچان میں وہم و گمان حیران ہیں، اور بڑے تیز عقل والے دہشت زدہ ہیں، اسی وجہ سے گمراہی کثرت سے ہے، اور باطل پھیل رہا ہے، اور صحیح سوچ و فکر کی کمی ہے۔
دوسرا قول :
بعض نے کہا یہ الہ یا لہ الاھا، اس نے عبادت کی، سے ماخوذ ہے یہ مصدر ہے جو مالوہ بعمنی معبود کے مستعمل ہے، جیس کہ آیت : (ھذا خلق اللہ) لقمان :11 ۔ میں خلق کا لفظ بمعنی مخلوق استعمال ہوا ہے۔
اختلاف قرات :
جب اس میں لام سے قبل ضمہ یا فتحہ ہو تو لام کو تفخیم پڑھا جائے گا، اور اگر لام سے پہلے کسرہ ہو تو ترقیق ہوگی بعض قرا نے ہرحال میں ترقیق کی ہے جبکہ دوسروں نے ہرحال میں تفخیم مگر جمہور کا قول وہی ہے جو ہم نے پہلے نقل کردیا۔
لفظ رحمن و رحیم کی تحقیق :
الرحمن : یہ رحم سے بروزن فعلان ہے، اس ذات کو کہتے ہیں جس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، اس کی نظیر غضبان کا لفظ ہے جو غضب سے ہے۔ غضبان اس شخص کو کہتے ہیں جو غصے سے بھرا ہوا ہو۔ اسی طرح الرحیم رحم سے فعیل کا وزن ہے جیسا مرض سے مریض، لفظ رحمان میں مبالغہ رحیم کی بہ نسبت زیادہ ہے۔
Ayah 1:2وجہ اول : کیونکہ رحیم میں ایک لفظ زائد ہے، اور رحمان میں دو لفظ ہیں اور الفاظ کا اضافہ معنی کے اضافہ پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے دعا میں یا رحمن الدنیا کے الفاظ آئے ہیں، کیونکہ رحمن کی رحمت سے مومن و کافر ہر دو فائدہ اٹھا رہے ہیں اور رحیم الاخرۃ کے لفظ آئے ہیں، کیونکہ وہ رحمت ایمان والوں کے لیے مخصوص ہے۔
وجہ دوم : علماء نے فرمایا رحمن اللہ تعلای کا نام ہونے کی وجہ سے خاص سے اس سے غیر اللہ کی صفت نہیں کی جاسکتی، اور معنی کے اعتبار سے عام ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا، الرحیم اس کے برعکس غیر کی صفت بن سکتا ہے اور اس کی رحمت ایمان والوں کے لیے خاص ہوگی، اسی لیے رحمن کو مقدم کیا گیا۔
سوال : اگرچہ زیادہ بلیغ رحمن کا مقدم کرنا ہے، اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ ادنی سے اعلی کی طرف ترقی ہو جیسے کہا جاتا ہے۔ فلان عالم نحریر فلاں زبردست عالم ہے۔
جواب : یہ غیر اللہ کی صفت نہیں بنتا اس لیے یہ بمنزلہ علم کے ہوا۔ (اور علم صفت سے مقدم لایا جاتا ہے)
رحمت کا مطلب :
اللہ کی رحمت سے مراد بندوں پر اس کا انعام و احسان کرنا ہے اصل میں رحمت کا معنی شفقت ہے۔ (اللہ تعالیٰ کے اسماء صفات میں مبادی کا لحاظ نہیں بلکہ غایات کا لحاظ ہے، انسانون کے لیے بعض صفات کا استعمال مبادی کے لحاظ سے ہے۔ فافہم و تدبر : مترجم)
مسیلمہ کذاب کے بارے میں شاعر کا قول :
وانت غیث الوری لازلت رحمانا، اس میں مسیلمہ کے لیے رحمان کا لفظ استعمال کیا گیا، درحقیقت یہ کفر پر محض ضد بازی کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ (حالانکہ محاورہ عرب اس کا ساتھ نہیں دیتا کیونکہ ان کے ہاں یہ لفظ استعمال میں ہی نہ تھا۔ قالوا وما الرحمن۔
نحوی اختلاف : رحمان : نمبر 1 :
غیر منصرف ہے ان علماء کے ہاں جو فعلانۃ مونث کا وزن نہ آنے کی وجہ سے فعلان کو غیر منصرف مانتے ہیں۔ یہ منصرف ہے کیونکہ اس کی مونث فعلی کے وزن پر نہیں بنتی ان دونوں میں اول قول راجح ہے۔
حمد کی تشریح :
الحمد : فضیلت کے انداز سے کسی خوبی پر تعریف کرنا، یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، اصل میں یہ منصوب ہے فعل مضمر کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس کی تفصیل اس طرح ہے۔ فعل مضمر جو خبر کے معنی میں ہو اس کا منصوب مصدر اس کو مانا گیا۔ جیسا کہ عرب کا قول : شکرا و کفرا ای شکرت شکرا۔
مرفوع کی وجہ :
منصوب سے مرفوع کی طرف عدول کرنے کی وجہ معنی میں پختگی و ثبوت ظاہر کرنا ہے۔
للہ : یہ مبتدا کی خبر ہے، لام کا تعلق محذوف واجب یا ثابت سے ہے۔
حمد و مدح و شکر میں فرق :
کسی اختیاری خوبی پر زبان سے تعریف کرنا خواہ مقابلہ میں نعمت ہو یا نہ حمد کہلاتا ہے۔ حمد و مدح دونوں ہم معنی ہیں۔ مثلا تم کہو گے : حمدت الرجل علی انعامہ، حمدتہ علی شجاعتہ وحسبہ۔ پہلی مثال میں مقابلے میں نعمت ہے اور دوسری مثال میں نعمت وغیرہ کچھ نہیں، شکر خاص طور پر نعمت کیا جاتا ہے، البتہ شکر دل، زبان اعضا تمام سے ہی کیا جاتا ہے۔ جیسا شاعر کا یہ قول : افادتکم النعماء منی ثلاثۃ۔ ید و لسانی والضمیر المحبا۔
نعمتوں کا فائدہ تمہیں میری طرف سے تین طرح پہنچا، میرے، ہاتھ، زبان اور مخفی ضمیر سے۔ (یہاں شکر کے بالمقابل زبا، ہاتھ اور ضمیر تینوں کا ذکر کیا)
حمد : صرف زبان سے ہوتی ہے وہ شکر کا ایک شعبہ ہے اور اس حدیث میں یہی معنی ہے۔ الحمد راس الشکر ما شکر اللہ عبد لم یحمدہ (حمد شکر کی چوٹی ہے اور اس بندے نے شکر ادا نہیں کیا جس نے اللہ کی تعریف نہیں کی) اس ارشاد میں حمد کو شکر کی چوٹی قرار دیا گیا، کیونکہ زبان سے نعمت کا تذکرہ کرنے سے زیادہ پھیلتا ہے، بہ نسبت اعتقاد اور اعمال جوارح کے۔ کیونکہ دل کا عمل مخفی ہے اور اعضا کے عمل میں احتمال ہے، حمد کی نقیض ذم ہے اور شکر کی نقیض کفران ہے۔
شکر و مدح کا فرق :
یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدح اوصاف کمال پر کسی کی تعریف کرنا مثلا باقی رہنا، قادر، عالم، ابدی، ازلی ہونا۔
شکر : جس کی طرف سے قسما قسم کی مہربانیاں ہوں ان پر اس کی تعریف کرنا اور حمد کا لفظ شکر و مدح دونوں کو شامل ہے۔ الحمد کا الف لام ہمارے نزدیک استغراق کے لیے ہے بخلاف معتزلہ کے، اسی لیے اس کو اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ملایا جو اسم ذات ہے اور تمام صفات کمال کو جامع ہے، اور یہی بنیاد ہے مسئلہ خلق افعال کی جس کی تحقیق کئی مقام پر میں نے کردی ہے۔
رب اور عالمین کا معنی :
رب العالمین : الرب، مالک حضرت ابو سفیان کو صفوان نے جو بات کہی : لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن، اگر میرا مالک قریش کا کوئی آدمی ہو وہ بہتر ہے اس بات سے کہ ہوازن کا کوئی آدمی میرا مالک ہو۔ اس طرح بولتے ہیں رب یرب یربہ فھو رب۔ یہ اسم فاعل کے معنی میں ہے۔
دوسرا قول : یہ بھی درست ہے کہ یہ مصدر ہو جو مبالغہ کے لیے لایا گیا ہو، جیسا کہ کسی عادل کو عدل کہتے ہیں۔
طریق استعمال :
مطلقا لفظ رب اللہ وحدہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور بندوں کے لیے اس کا استعمال قید و سنبت کے ساتھ ہوتا ہے جیسا ان آیات میں (انہ ربی احسن مثوای) یوسف :23 ۔ (ارجع الی ربک) یوسف :50 ۔
واسطی نے کہا وہ ابتدا کرنے والا ہونے کے لحاظ سے خالق ہے اور غذا دینے کے لحاظ سے مربی اور انتہا کے لحاظ سے غافر ہے۔ یہ اللہ کا اسم اعظم ہے۔
العالم 1: جس چیز سے خالق کا علم ہو خواہ جواہر کی قسم سے ہو یا اعراض یا اجسام میں سے ہو۔ 2 ہر موجود ماسوی اللہ کو کہتے ہیں، اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ یہ اس کے وجود کی علامت ہے۔
سوال : اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ لائی گئی ہے، حالانکہ واؤ نون والی جمع تو عقلاء کے ساتھ خاص ہے یا ان اعلام میں آتی ہے جو جمع عاقل کے حکم میں ہیں۔
جواب : اس میں وصفیت کے معنی ہیں جو کہ علم کے معنی کے لیے دلالت ہے۔ (پس جمع لانا درست ثابت ہوگیا)
Ayah 1:3الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ : ان کی تفصیل بسم اللہ کے بیان میں گزری، ان کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ تسمیہ فاتحہ کا حصہ نہیں کیونکہ اعادہ فائدہ سے خالی ہوتا ہے۔
Ayah 1:4مٰلِكِ : عاصم وعلی (رحمہما اللہ) ان دونوں کے علاہ ملک پڑھتے ہیں، بعض نے اسی کو اختیار کیا کیونکہ اس میں اضافت کی ضرورت نہیں اور قرآن مجید میں (لمن الملک الیوم) غافر :16 ۔ میں اس طرح ہے، اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک مالک ہوتا ہے مگر ہر مالک ملک نہیں ہوتا، اور دوسری وجہ یہ بھی ہے، ملک کا حکم مالک پر نافذ ہوتا ہے اس کا عکس نہیں۔
بعض نے کہا مالک کا ثواب زیادہ ہے، کیونکہ اس میں حروف زیادہ ہیں، امام ابوحنیفہ اور امام حسن نے ملک پڑھا ہے۔
قیامت کا دن کیا ہے ؟
يَوْمِ الدِّيْنِ ۔ بدلے کا دن، کہا جاتا ہے کما تدین تدان، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، یہاں اسم فاعل کو بطور توسع ظرف کی طرف مضاف کیا ہے، جیسا کہتے ہیں : یا سارق اللیلۃ اھل الدار (اے رات کو گھر میں چوری کرنے والے) اب معنی یہ ہوگا قیامت کے دن تمام اختیارات کا مالک۔
سوال : قیامت کے دن کے ساتھ ملکیت کی تخصیص کیوں کی گئی۔
جواب : کیونکہ اختیار اس دن فقط اللہ ہی کے لیے ہوگا۔
سوال : قیامت کے واقع ہونے کو معرفہ کی صفت کے طور پر ذکر کیا حالانکہ اسم فاعل کی اضافت تو غیر حقیقی ہے۔
جواب : کیونکہ اس سے مقصود استمرار ہے پس اضافت حقیقی بن گئی، اور اس کو اس طرح اس لئے لائے تاکہ معرفہ کی صفت بن سکے۔
سوال : یہ صفات جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال کی گئی ہیں، مثلا رب ہونا یعنی تمام جہانوں کا مالک ہونا اور تمام انعامات دینے والا ہونا، اور ثواب و عذاب کے دن تمام اختیارات کا مالک ہونا وغیرہ حالانکہ الحمدللہ سے ہی ثابت ہوچکا کہ حمد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات خاص ہے، کیا وجہ ہے ؟
جواب : درحقیقت یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ جس ذات کی یہ صفات ہوں اس سے بڑھ کر حمد و ثنا کا کوئی مستحق نہیں۔
Ayahs 1:5–6اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ :
ایا : خلیل او سیبویہ کے نزدیک یہ اسم ضمیر ہے پھر سیبویہ کہتے ہیں کاف حرف خطاب ہے اور اس کا محل اعراب کوئی نہیں، مگر خلیل کہتے ہیں، کاف اسم ضمیر ہے، جس کی طرف ایا کے لفظ مضاف کردیا۔ کیونکہ فعل و فاعل سے مقدم آنے کی وجہ سے یہ ام ظاہر کے مشابہ ہے۔
کوفی علماء : ایاک ایک مکمل اسم ہے۔
آیت میں فعل سے پہلے مفعول کو اس لیے لائے تاکہ تخصیص ہوجائے، اب معنی یہ ہوگا ہم تجھے ہی عبادت کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔
عبادت کا معنی :
عبادت : خضوع و عاجزی کی آخری حد کو کہتے ہیں۔ (ایاک نستعین) ہم امداد کی طلب میں تجھے ہی خاص کرتے ہیں۔
غائب سے خطاب :
صنعت التفات کی وجہ سے غائب سے مخاطب کی طرف رجوع کیا، یہ التفات کبھی غائب سے خطاب، کبھی خطاب سے غائب اور کبھی غائب سے متکلم کی طرف ہوتا ہے جیسا قرآن مجید کی اس آیت میں (حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبۃ) یونس :22 ۔ خطاب سے غائب کی طرف ہے اور آیت (واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا فسقنہ) فاطر :9 ۔ میں غائب سے متکلم کی طرف ہے۔
اسی طرح امر القیس کے ان اشعار میں :
تطاول لیلک بالاثمد۔۔۔۔۔ ونام الخلی ولم ترقد
بات و باتت لہ لیلۃ۔۔۔۔۔ کلیلۃ ذی العائر الارمد
وذلک من نبا جائنی۔۔۔۔۔۔ وخبرتہ عن ابی الاسود
ان اشعار میں لیلی، بت، جائک، نہیں کہا بلکہ اس کی بجائے لیلک، بات، جائنی کہا۔
کلام عرب میں صنعت التفات عام استعمال ہوتی ہے، اس کی وجہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ جب کلام کا اسلوب بدل جائے تو سامع کے دل کو زیادہ متاثر کرتا ہے، اور یہ اسلوب مخاطب کے لیے نشاط طبع کے اضافہ کا باعث بنتا ہے، اور اس کی توجہ کو اور زیادہ مائل و مبذول کرتا ہے۔
اگرچہ بعض اوقات اس سے مزید خصوصی فوائد و لطائف بھی حاصل ہوتے ہیں مگر ایسی باتیں مخصوص ماہرین کلام اور بڑے علماء کے سامنے ذکر کرنا مناسب ہیں۔ اور ایسے لوگوں کی تعداد اقل قلیل ہے۔
Ayah 1:7خاص نکتہ :
مگر اس جگہ مخصوص بات یہ ہے کہ جب حمد و ثنا کے لائق ذات کا تذکرہ کیا اور اس پر ان عظیم صفات کو جاری کیا تو اب علم ایک عظیم الشان ذات سے متعلق ہوا جو کہ تعریف کے لائق اور مہمات و مشکلات میں مدد کے قابل اور اس لائق ہے کہ اپنی اتنہائی عاجزی اس کے سامنے پیش کی جائے۔ پس اسی معلوم اور جانی پہچانی ذات کو خطاب کر کے کہا جو ان صفات سے ممتاز ہے، اے وہ ذات ہے جس کی یہ صفات ہیں ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں تیرے سوا اور کسی سے نہیں۔
نکتہ :
عبادت کو استعانت پر اس وجہ سے مقدم کیا گیا، کیونکہ طلب حاجت سے پہلے ذریعہ طلب کو لانا قبولیت کے زیادہ قریب ہے یا نظم عبارت کا لحاظ کرتے ہوئے عبادت کو استعانت پر اسی طرح مقدم کردیا جیسا رحمن کو رحیم پر اگرچہ بلیغ تر بعد میں لایا جاتا ہے۔
استعانت کو بلا کسی قید کے ذکر کیا تاکہ ہر ہر چیز جس میں استعانت کی ضرورت ہے ان سب کو شامل ہو۔
اور یہ بھی درست ہے کہ یہ مراد لی جائے کہ ادئے عبادت میں اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق مانگی گئی ہے (اس طرح) اھدنا مطلوبہ معونت کا بیان بن جائے گا۔ گویا اس طرح کہا گیا (اے میرے بندو) میں کیسے تمہاری امداد کروں ؟ تو بندوں نے عرض کیا (تو ہمیں سیدھے راستے پر ثابت قدم فرما)
ہدایت و صراط کا مطلب :
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۔ یعنی ہمیں واضح راستے پر قائم فرما، جیسا کھڑے کو کہا جاتا ہے قم حتی اعود الیک یعنی اپنی اسی حالت پر میرے لوٹنے تک ثابت و قائم رہو۔
تو ہمیں مستقبل میں بھی اسی طرح ہدایت دے جس طرح حال میں ہدایت دے رکھی ہے۔
ھدی : ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے دو مفعول کی طرف اس کا متعدی ہونا بھی بغیر صلہ کے اس آیت میں آیا ہے، اور الی اور لام کے صلہ کے ساتھ بھی متعدی ہونا قرآن مجید کی ان آیات (ھدنا لھذا) الاعراف :43 ۔ (ھدانی ربی الی صراط مستقیم) الانعام :162 ۔ میں وارد ہے۔
الصراط : راستہ، یہ شرط الشیئ سے لیا گیا، اس نے اس چیز کو نگل لیا، گویا چلنے والا اپنے پا افتاد کو چلتے ہوئے نگلتا جاتا ہے۔
اختلاف قرات : السرط کی سین کو صاد سے بدل دیا گیا۔ کیونکہ حروف اطباق ہونے میں میں یہ طا کا ہم جنس ہے، ص، ض، ط، ظ یہ حروف اطباق میں سے ہیں۔
کبھی ص کوز کی آواز کا اشمام دے کر پڑھتے ہیں، کیونکہ ز، ط کے قریب تر ہے، کیونکہ وہ دونوں حروف مجہورہ میں سے ہیں۔ یہ امام حمزہ کی قرات ہے۔
امام ابن کثیر تمام قرآن میں س پڑھتے ہیں، اور کلمہ کی اصل یہی ہے۔
باقی قراء خالص ص پڑھتے ہیں اور لغت قریش یہی ہے اور مصحف امام میں ص ہی ثابت ہے۔
صراط کا لفظ مذکر و مونث استعمال ہوتا ہے جیسا کہ طریق اور سبیل کا لفظ، صراط مستقیم سے مراد حق کا راستہ ہے اور وہ ملت اسلام ہے۔
فائدہ تاکید :
صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : یہ صراط کا لفظ پہلے صراط سے بدل ہے اور اس کو دوبارہ لانے کا حکم وہی ہے جو عامل کو دوبارہ لانے کا ہے، دوبارہ لانے میں تاکید کا فائدہ حاصل ہوا اور یہ بھی بتلا دیا کہ صراط مستقیم کی تفسیر صراط المسلمین (مسلمانوں کا راستہ) ہے۔ تاکہ مسلمانوں کے راستہ پر استقامت اختیار کرنے کی انتہائی بلیغ دلیل بن جائے، اور موکد شہادت ثابت ہو۔ (انعمت علیھم) وہ مومن ہیں یا انبیاء (علیہم السلام) یا تبدیلی سے پہلے بنی اسرائیل جو قوم موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ۔
تفسیر اول : یہ الذین انعمت علیھم سے بدل ہے، یعنی انعام یافتہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے غضب اور گمراہی سے محفوظ رہے۔
تفسیر ثانی : الذین کی صفت ہے، اب معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے عمومی نعمت یعنی ایمان اور غضب الہی اور گمراہی میں سے سلامتی والی نعمتوں کو جمع کرلیا ہے۔
معروف اشکال :
اشکال : یہ الذین کی صفت کیسے بن سکتی ہے جبکہ وہ معرفہ ہے۔
جواب اول : یہ الذین کی صفت بن سکتی ہے، اگرچہ وہ معرفہ ہے اور غیر کا لفظ اضافت سے معرفہ بھی نہیں بنتا، اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں وہ دو متضاد معرفوں کے درمیان واقع ہے، پس غیر کا لفظ اضافت سے معرفہ بن گیا، جیسا اس مثال میں عجبت من الحرکۃ غیر السکون (الحرکۃ والسکون تو متضاد معرفے ہیں پس غیر اضافت کی وجہ سے معرفہ بن کر الحرکۃ کی صفت ہوا) اسی طرح آیت میں منعم علیھم اور مغضوب علیھم دو متضاد معرفے ہیں۔ (اس لیے غیر المغضوب معرفہ ہو کر صفت بن گیا)
جواب ثانی : الذین نکرہ کے قریب ہے اور اس سے مراد کوئی معین و مخصوص قوم نہیں اور غیر المغضوب علیھم یہ معرفہ کے قریب ہے۔ اس تخصیص کی وجہ سے جو اضافت کی وجہ سے اس کو حاصل ہوئی۔
پس حاصل یہ ہے کہ ایک ایک لحاظ سے دونوں میں ابہام ہے، اور ایک ایک وجہ سے تخصیص ہے، پس دونوں حیثیت میں برابر ہوئے۔ (صفت بننے میں اشکال نہ رہا)
اول علیھم : یہ مفعولیت کی وجہ سے محلا منصوب ہے، دوسرا علیھم : فاعلیت کی وجہ سے محلا مرفوع ہے۔
مراد غضب اللہ :
غضب اللہ : سے مراد جھٹلانے والوں سے انتقام کا ارادہ کرنا اور ان پر سزا کا اتارنا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو بادشاہ اپنے ماتحتوں سے کرتے ہیں جبکہ وہ ان پر غضبناک ہوں۔
بعض علماء نے کہا : مغضوب علیھم سے مراد یہود ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (من لعنہ اللہ وغضب علیہ) المائدہ :60 ۔ اور الضالون سے مراد نصرانی ہیں کیونکہ ارشاد الہی ہے : (قد ضلوا من قبل) المائدہ :77 ۔
لا : بصریین کے ہاں لا زائدہ ہے جو تاکید کے لیے لایا گیا، کو فیین کے نزدیک یہ غیر کے معنی میں ہے۔
امین : یہ اسم صورت ہے جو فعل استجب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جس طرح کہ روید اسم ہے۔ امھل فعل کے معنی میں آتا ہے۔
معنی آمین قول ابن عباس :
میں نے رسول اللہ سے آمین کا معنی دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔ افعل (ایسا کردے)
تحقیق لفظ :
یہ مبنی ہے اس میں دو لغتیں ہیں مد اور قصر، قصر اصل ہے، جبکہ مد اشباع ہمزہ کی وجہ سے ہے، جیسا کہ شاعر کا قول و یرحم اللہ عبدا قال امینا۔
دوسرے شاعر کا قول :
امین فزاد اللہ ما بیننا بعدا۔
پہلے شعر میں مد ہے جبکہ دوسرے میں قصر ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا : جبریل امین نے مجھے قرات فاتحہ کے وقت آمین کی تلقین فرمائی اور کہا کہ یہ خط کے آخر میں مہر کی طرح ہے۔
البتہ آمین قرآن میں سے نہیں اسی لیے اس کو مصاحف میں لکھا نہیں جاتا۔