عبادت کا مفہوم
ساتوں قاریوں اور جمہور نے اسے " ایاک " پڑھا ہے۔ عمرو بن فائد نے ایاک پڑھا ہے۔ لیکن یہ قراۃ شاذ اور مردود ہے۔ اس لئے کہ " ایا " کے معنی سورج کی روشنی کے ہیں اور بعض نے ایاک پڑھا ہے اور بعض نے ایاک پڑھا ہے اور بعض نے ھیاک پڑھا ہے۔ عرب شاعروں کے شعر میں بھی ھیاک ہے۔ نستعین کی یہی قرأت تمام کی ہے۔ سوائے یحییٰ بن وہاب اور اعمش کے۔ یہ دونوں پہلے نون کو زیر سے پڑھتے ہیں۔ قبیلہ بنو اسد، ربیعہ بنت تمیم کی لغت اسی طرح پر ہے۔ لغت میں عبادت کہتے ہیں ذلت اور پستی کو طریق معبد اس راستے کو کہتے ہیں جو ذلیل ہو۔ اسی طرح بغیر معبد اس اونٹ کو کہتے ہیں جو بہت دبا اور جھکا ہوا ہو اور شریعت میں…
Read the full tafseer →سورة الْفَاتِحَة 6
عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) پوجا اور پرستش (2) اطاعت اور فرمانبرداری (3) بندگی اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔ یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں۔ بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے۔ ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔
سورة الْفَاتِحَة 7
یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا رب…
Read the full tafseer →(آیت) اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اس آیت میں ایک پہلو حمد وثناء کا اور دوسرا دعاء و درخواست کا ہے، نَعْبُدُ عبادت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی کی انتہائی تعظیم و محبت کی وجہ سے اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی اور فرمانبرداری کا اظہار نَسْتَعِيْنُ استعانت سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی سے مدد مانگنا آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں انسان پر تین حالات گذرتے ہیں ماضی، حال مستقبل، پچھلی تین آیتوں میں سے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اور الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں انسان کو اس پر متنبہ کردیا گیا وہ اپنے ماضی اور حال میں صرف…
Read the full tafseer →’عبادت‘ کا مفہوم: عبادت کے اصلی معنی عربی لغت میں انتہائی خضوع اور انتہائی عاجزی و فروتنی کے اظہار کے ہیں۔ لیکن قرآن میں یہ لفظ اس خضوع و خشوع کی تعبیر کے لیے خاص ہو گیا ہے جو بندہ اپنے خالق و مالک کے لیے ظاہر کرتا ہے۔ پھر اطاعت کا مفہوم بھی اس لفظ کے لوازم میں داخل ہو گیاہے کیونکہ یہ بات بالبداہت غلط معلوم ہوتی ہے کہ انسان جس ذات کو اپنے انتہائی خضوع و خشوع کا واحد مستحق سمجھے زندگی کے معاملات میں اس کی اطاعت کو لازم نہ جانے۔ چنانچہ عبادت کی اس حقیقت کو قرآن مجید نے بعض جگہ کھول بھی دیا ہے۔ مثلاً:
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ.…
Read the full tafseer →1 عبادت کے معنی ہیں کسی کی رضا کے لیے انتہائی عاجزی اور کمال خشوع کا اظہار اور بقول ابن کثیر شریعت میں کمال محبت خضوع اور خوف کے مجموعے کا نام ہے، یعنی جس ذات کے ساتھ محبت بھی ہو اس کی ما فوق الاسباب ذرائع سے اس کی گرفت کا خوف بھی ہو۔ سیدھی عبارت ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ نہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کی جائز ہے اور نہ مدد مانگنا کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کردیا گیا لیکن جن کے دلوں میں شرک کا روگ راہ پا گیا ہے وہ ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب استعانت میں فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہوجاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(4) یہاں سے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جارہا ہے اور اسی کے ساتھ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی قسم کی عبادت کے لائق نہیں، نیز ہر کام میں حقیقی مدد اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنی چاہیے ؛ کیونکہ صحیح معنی میں کار ساز اس کے سوا کوئی نہیں، دنیا کے بہت سے کاموں میں بعض اوقات کسی انسان سے جو مدد مانگی جاتی ہے، وہ اسے کارساز سمجھ کر نہیں ؛ بلکہ ایک ظاہری سبب سمجھ کر مانگی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →اِیَّاکَ نَعبُدُ وَ اِیَّاکَ نَستَعِینُ ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں ۔ “ یہ بھی ایک اصولی عقیدہ ہے اور اس سے پہلے جن عقائد کا ذکر ہوا ہے انہی کا منطقی نتیجہ ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی بندگی اور عبادت کے قابل نہیں ہے ‘ اور نہ کوئی اس قابل ہے کہ اس سے مدد مانگی جائے ۔ یہ عقیدہ بھی اس میدان میں حق و باطل کے درمیان فرق کرکے رکھ دیتا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ ہر قسم کی غلامیوں سے مکمل آزادی کیا ہوتی ہے ‘ اور انسان کی جانب سے دوسرے انسانوں کی غلامی کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ اصول دراصل اس بات کا اہم اعلان عام ہے کہ انسان کو مکمل اور بھرپور آزادی ملنی چاہئے ۔ اوہام و خرافات…
Read the full tafseer →5 اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت الہٰی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت درحقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔
Read the full tafseer →اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ
ضمیر مخاطب ”کَ“ کو مقدمّ کرنے سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ پھر عربی میں فعل مضارع ‘ زمانۂ حال اور مستقبل دونوں کے لیے آتا ہے ‘ لہٰذا میں نے ترجمہ میں ان باتوں کا لحاظ رکھا ہے۔ یہ بندے کا اپنے پروردگار سے عہد و پیمان ہے جسے میں نے hand shake سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا صحیح تصور ایک حدیث قدسی کی روشنی میں سامنے آتا ہے جسے میں بعد میں پیش کروں گا۔ یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرلینا تو آسان ہے کہ اے اللہ ! میں تیری ہی بندگی کروں گا ‘ لیکن اس فیصلہ کو نبھانا بہت مشکل ہے
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا !
اللہ…
Read the full tafseer →10 عبادت : یہ لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ (1) پرستش (2) اطاعت و فرمانبرداری (3) ہمہ وقت کی بندگی اور غلامی۔ یہاں یہ لفظ اپنے تینوں معنوں میں مستعمل ہے۔
عبادت کا مفہوم :۔ عبادت تین قسم کی ہے جیسے ہم تشہد میں اس کا اقرار کرتے ہیں۔ (آیت التحیات للہ والصلوات والطیبات) یعنی ہماری تمام قلبی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں قلبی عبادات میں توکل، خوف ورجاء، محبت، تذلل اور خشوع و خضوع شامل ہیں۔ یعنی صرف اللہ پر بھروسہ کیا جائے، اسی سے امید وابستہ کی جائے۔ اسی سے ڈرا جائے اس سے محبت باقی سب چیزوں سے بڑھ کر ہو اور اس کے سامنے انتہائی عاجزی اور خشوع و خضوع کا اظہار کیا جائے۔ بدنی عبادات سے مراد…
Read the full tafseer →15 (نہ کہ کسی اور کی، اے اللہ ! ) ایاک لفظ ایا خود ہی حصر اور تخصیص کے لیے آتا ہے۔ اور پھر بحیثیت مفعول اس کی تقدیم فعل نعبد پر اس حصر و تخصیص کو اور زیادہ مؤکد کررہی ہے۔ یعنی ہم تیری عبادت میں شائبہ بھی کسی کی شرکت کا نہیں رکھتے۔ معناہ نعبدک ولا نعبد غیرک (ابن عباس) وقدم المفعول للتعظیم والا ھتمام بہ والدلالۃ علی الحصر (بیضاوی) اب یہاں سے دعا کی تعلیم ہے گویا بندے اپنی زبان سے دعا کررہے ہیں۔ اس سے پہلے صرف تمہید دعا تھی۔ صیغہ غائب سے صیغہ مخاطب، یا مخاطب سے غائب کی طرف دفعۃ انتقال کا نام صنعت التفات ہے۔ اور عربی ادب وانشا میں یہ عیب نہیں۔ اس کا شمار بہترین صنعتوں میں سے ہے۔ صاحب کشاف نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
تفسیر و تشریح
سورة الفاتحۃ مکیۃ سبع آیاتٍ بالبسملۃ۔
سورة فاتحہ مکی ہے، مع بسم اللہ سات آیتیں ہیں۔
قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ تسمیہ : سورة کے لفظی معنی بلندی یا بلند منزل کے ہیں، السُّوْرَۃُ : الرفیعۃ (لسان) السورۃ المنزلۃ الرفیعۃ (راغب) گویا ہر سورت بلند مرتبہ کا نام ہے، سورة کے ایک معنی فصیل (شہر پناہ) کے ہیں، کے ہیں، سورة المدینۃ، حَائطُھَا (راغب) قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے مضامین کا اسی طرح احاطہ کئے رہتی ہیں جس طرح فصیل شہر کا احاطہ کئے رہتی ہے۔
الفاتحۃ : فاتحۃ کے لفظی معنی ہیں ابتداء کرنے والی، قرآن مجید کی اس پہلی سورت کو بھی فاتحہ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے،…
Read the full tafseer →اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ( یعنی اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں) قراء نے نَسْتَعِیْنُ کے نون کو اور نہ صرف نستعین ہی کے نون کو بلکہ ہر مضموم حرف کو بحالت وقف روم اور اشمام دونوں طرح سے پڑھا ہے (آیۃ کے خلاصہ) معنی یہ ہیں کہ اے خدا جو صفات مذکورہ کے ساتھ متصف ہے ہم خاص کر تیری ہی بندگی کرتے اور تجھی سے توفیق اطاعت کے خواستگار ہیں اور نہ صرف عبادت میں ہی تجھ سے امداد کے طالب ہیں بلکہ اپنے سارے چھوٹے بڑے کاموں میں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں چونکہ سلسلۂ کلام میں ایک طرز سے دوسرے طرز کی طرف انتقال کرنا غیبت سے خطاب ‘ خطاب سے غیبت ‘ تکلم سے خطاب و غیبت اور…
Read the full tafseer →(4۔ 5) ہم تیری ہی توحید بیان کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور تجھ ہی سے تیری عبادت پر اور تیرے ان انعامات پر کہ جن کی وجہ سے ہم تیری فرمانبرداری پر قائم رہیں مدد مانگتے ہیں۔ قائم رہنے والے دین اسلام کی طرف ہماری رہنمائی فرما ایسی رہنمائی جس سے تو خوش ہے اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ہمیں ان دن پر ثابت قدم رکھ اور کتاب اللہ کے ساتھ بھی اس کی تفسیر کی گئی ہے یعنی اس قرآن کے حلال و حرام اور اسکے مفہوم سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔
Read the full tafseer →اِيَّاكَ نَعْبُدُ : سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمد غائب کے صیغے کے ساتھ کی گئی ہے، ”اِيَّاكَ نَعْبُدُ“ اور اس کے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرلیا گیا ہے، اسے التفات کہتے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اسے اس کا قرب اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوجاتا ہے، اب وہ براہ راست خطاب کے صیغے سے اپنی درخواست پیش کرتا ہے۔
2 عربی زبان میں جملہ فعلیہ کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے فعل، پھر فاعل اور اس کے بعد مفعول ہوتا ہے۔ اگر بعد والے لفظ کو پہلے لایا جائے تو اس سے کلام میں تخصیص یا حصر پیدا ہوجاتا ہے۔ ”اِيَّاكَ نَعْبُدُ“ اصل میں ”نَعْبُدُکَ“ (ہم تیری عبادت…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 23: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ایاک نعبد۔ اللہ تعالیٰ نے غائب کے صیغوں سے خطاب کے صیغہ کی طرف رجوع فرمایا کلام میں رنگینی پیدا کرنے کے لئے کیونکہ سورت کے آغاز سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کے متعلق خبر تھی اور اس کی ثنا تھی۔ جیسا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسقھم ربھم شرابا طھوراً (الدہر) (اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ شراب) ۔ پھر آگے مخاطب کی ضمیر ذکر فرمائی۔ فرمایا : ان ھذا کان لکم جزآءً (الدہر :22) ( انہیں کیا جائے گا) یہ تمہارا صلہ ہے۔ اسی طرح اس کا الٹ بھی قرآن میں ہے یعنی پہلے مخاطب کے صیغے اور پھر غائب کے صیغے ذکر فرمائے۔
حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم (یونس…
Read the full tafseer →اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ
ترجمہ : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ایاک نعبد “ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تجھے ایک مانتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے ڈرتے ہیں اے ہمارے رب ہم تجھ ہی سے امید رکھتے ہیں تو ہمارا رب ہے تیرے سوا کوئی نہیں لفظ آیت ” وایاک نستعین “ اور ہم تجھ ہی سے تیری اطاعت پر اور اپنے تمام کاموں پر مدد مانگتے ہیں۔
(2) امام وکیع اور الفریابی نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ حرف اس طرح پڑھتے ہوئے سنا اور وہ قریشی عربی ہیں اور فصیح زبان…
Read the full tafseer →[ اِیَّاکَ : صرف تیری ہی ][ نَعْبُدُ : ہم تیری عبادت کرتے ہیں ][ وَاِیَّاکَ : اور صرف تجھ سے ہی ][ نَسْتَعِیْنُ : ہم مدد مانگتے ہیں ]
ع ب د
عَبَدَیَعْبُدُ (ن) عِبَادَۃً : احسان مندی کے احساس کے ساتھ محسن کی مکمل اطاعت کرنا ‘ غلامی کرنا ‘ بندگی کرنا۔
عَبْدٌ جمع عِبَادٌ اور عَبِیْدٌ : جس کی کوئی چیز اپنی نہ ہو ‘ جس کی زندگی ‘ خواہش ‘ غرضیکہ ہر چیز اس کے آقا کی ملکیت ہو ‘ غلام ‘ بندہ۔
عِبَادَۃً : غلامی ‘ بندگی۔ { وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖ اَحَدًا } (الکہف :110) ” اور اسے چاہیے کہ وہ شریک نہ کرے اپنے رب کی غلامی میں کسی ایک کو بھی۔ “
ع و ن
عَوَنَ یَعُوْنُ (ن) عَوْنًا : پشت پناہ ہونا ‘…
Read the full tafseer →معبود اور مستعان صرف اللہ کی ذات ہے :
شروع سورت سے (مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ) تک اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کا بیان تھا۔ اس بیان میں اگرچہ غیبت کا عنوان تھا لیکن جب بندہ نے مستحق حمد کی حمد بیان کرنے میں صفات کمال اور مظاہرہ جلال و جمال کا یقینی طور پر تصور کرلیا تو اس مستحق حمد سے خطاب کرنے اور مراد مانگنے کے لیے جذبہ میں آکر خطاب کرنے لگا، اول مخاطب ہو کر یہ اعلان کیا کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں، اور پھر اپنی سب سے بڑی ضرورت کا سوال کیا کہ ہم کو صراط مستقیم دکھا دے اور بتادے، کاضمیر خطاب نَعْبُدُ اور نَسْتَعِیْنُ کا مفعول ہے اس کو ضمیر منفصل بنا کر فعل سے…
Read the full tafseer →ایک نعبد وایاک نستعین
خاص تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور خاص تجھ ہی سے ہر کام میں مدد چاہتے ہیں۔
یعنی اجسام علویہ اور سفلیہ اور کواکب اور نجوم اور نور اور ظلمت کسی کو تیرا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں ہر خیر وشر اور سعادت ونحوست کا تجھے ہی مالک سمجھتے ہیں پہلی آیت میں حق تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمت کو بیان کیا اور معرفت ربوبیت کے بعد معرفت عبودیت کا درجہ ہے۔ اس لیے اس کے بعد عبادت کا ذکر کیا گیا۔
1 ۔ کسی کی نہایت درجہ تعظیم کے لیے دل جان سے غایت درجہ کا تذلل اختیار کرنا اس کا نام عبادت ہے لہذا جو تذلل اختیاری نہ ہو بلکہ اضطراری یعنی بلا اختیار کے ہو وہ عبادت نہیں کہلائے گا اور اسی طرح جو تذلل کسی کے جبر…
Read the full tafseer →ف 7: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ سورۂ فاتحہ میں یہ آیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں اِيَّاكَ مفعول کو نَعْبُدُفعل پر مقدم کیا گیا ہے۔ تاکہ حصر کا فائدہ دے اور مطلب یہ ہو کہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ اور اس کے سوا کسی پیغمبر، فرشتہ یا ولی کی عبادت اور پکار نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ وہ سارے خود اللہ کے حکم سے اسی ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ اسی طرح اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُمیں فائدہ حصر کے لیے مفعول بہ کو فعل پر مقدم کیا ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ مدد صرف اللہ ہی سے مانگنی چاہیے۔ اور اس کے سوا کسی پیر یا پیگمبر سے اور کسی فرشتہ یا ولی سے مافوق الاسباب امور میں مدد نہیں…
Read the full tafseer →(عبادت و استعانت میں تخصیص )
سورۃ الفاتحہ کی پہلی تین آیات میں غائبانہ طریقے پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی گئی تھی اور اب چو تھی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے براہ راست خطاب ہے ، بندہ اپنے مالک حقیقی سے مخاطب ہوتا ہے کہ اے پروردگار ! جس کا ذاتی نام اللہ ہے اور جس کی صفات رب رحمان رحیم اور مالک ہیں ، بندہ اس کے حضور عرض کرتا ہے ایاک نعبد ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں وایاک نستعین اور خاص تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں ۔ امام زمخشری اور امام بیضاوی اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں (1 تفسیر بیضاوی ص 8 ج 1 تفسیر کثاف ص 14 ج 1) نخصک بالعبادۃ والا ستعانۃ یعنی ہم خاص کرتے ہیں تجھ عبادت اور استعانت کے ساتھ ۔…
Read the full tafseer →اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ 4 ۭ
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا…
Read the full tafseer →ترکیب : نعبد فعل اور ضمیر نحن فاعل، ایاک مفعول ہے کہ جو تخصیص کے لیے مقدم کردیا گیا ہے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ واؤ حرف عطف نستعین فعل با فاعل ایاک مفعول مقدم برائے تخصیص فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر معطوف ہوا جملہ سابقہ پر۔
1 ؎ چونکہ دین پر جزا ملتی ہے اس لیے اس کو دین کہتے ہیں اور اس کو اس لحاظ سے کہ وہ ایک راہ خدا کی ہے اس پر خلق کو چلنا چاہیے مذہب اور شریعت کہتے ہیں اور چونکہ وہ لکھنے کے قابل ہوتا ہے اس لحاظ سے اس کو ملت کہتے ہیں۔ بات ایک ہے مگر ہر اعتبار سے ایک جدا نام ہے۔ 12 منہ
2 ؎ اس نبی اخیر کی تعلیم خدا سے ملانے میں اپنا نظیر نہیں رکھتی…
Read the full tafseer →بقیہ تفسیر پچھلی آیت کی۔
نفخ ثانیہ کے بعد کی تفصیلات
گزشتہ معروضات میں آپ نے قیامت کے احوال کی تفصیل اور اس کے واقع ہونے کے دلائل ملاحظہ فرمائے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ قیامت کے دوسرے مرحلے کے وقوع پذیر ہونے کے بعد جب از سر نو زندگی کی ہماہمی شروع ہوگی اس وقت کی کیفیت اور اس کی تفصیلات کا ذکر کروں۔ آپ نے یہ سنا ہوگا کہ انسان اپنی قبروں سے جسموں سمیت اٹھائے جائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کے یہ جسم جن کے ساتھ وہ میدان حشر میں پہنچیں گے وہی ہوں گے، جو انھیں دنیا میں دیئے گئے تھے یا یہ اجسام اور ہوں گے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اجسام وہ نہیں ہوں گے، جو دنیا میں انھیں دیئے گئے تھے۔ بلکہ یہ اجسام ان کے اعمال…
Read the full tafseer →فہم القرآن
” اللہ “ کے حضور نمازی غلامانہ انداز میں ہاتھ باندھ کر اور سراپا عجزو انکساری کے ساتھ اس بات کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ اے اللہ ! تو ہی میرا معبود ہے اس لیے میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔ اس میں نہ کسی کو سہیم سمجھتا ہوں اور نہ کسی کو آپ کے ساتھ شریک کرتا ہوں۔ نمازی یہ عہد و اقرار ابتداءً قیام کی حالت میں اور آخر میں تشہد میں بیٹھ کر کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ابتدا میں اس نے جامع الفاظ میں اقرار کیا تھا اور تشہد میں فقیروں کی طرح دامن پھیلا کر عرض کرتا ہے کہ میری تمام مناجات و عبادات اور نذرو نیاز اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ہیں۔
(اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ :
ایا : خلیل او سیبویہ کے نزدیک یہ اسم ضمیر ہے پھر سیبویہ کہتے ہیں کاف حرف خطاب ہے اور اس کا محل اعراب کوئی نہیں، مگر خلیل کہتے ہیں، کاف اسم ضمیر ہے، جس کی طرف ایا کے لفظ مضاف کردیا۔ کیونکہ فعل و فاعل سے مقدم آنے کی وجہ سے یہ ام ظاہر کے مشابہ ہے۔
کوفی علماء : ایاک ایک مکمل اسم ہے۔
آیت میں فعل سے پہلے مفعول کو اس لیے لائے تاکہ تخصیص ہوجائے، اب معنی یہ ہوگا ہم تجھے ہی عبادت کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔
عبادت کا معنی :
عبادت : خضوع و عاجزی کی آخری حد کو کہتے ہیں۔ (ایاک نستعین) ہم امداد کی طلب میں تجھے ہی خاص کرتے ہیں۔
غائب سے خطاب :
صنعت التفات کی وجہ سے غائب…
Read the full tafseer →” ایاک “ ایا کلمہ ضمیر کی طرف اضافۃ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے اس کا استعمال فعل سے پہلے ہوتا ہے ، چناچہ کہا جاتا ہے ” ایاک اعنی “ میں خاص تجھے مراد لیتا ہوں اور ” ایاک اسئل “ میں خاص تجھ سے پوچھتا ہوں ، فعل کے بعد اس کا استعمال منفصلا یعنی فعل جدا ہوتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ” ماعنیت الا ایاک “ کہ میں نے کسی کو مراد نہیں لیا مگر تجھ ” نعبد “ یعنی ہم تجھے وحدہ لاشریک سمجھتے ہیں اور تیری اطاعت کرتے ہیں ، اس حال میں کہ ہم عاجزی کرنے والے ہیں ، عبادۃ کے معنی عاجزی و انکساری کے ساتھ فرمانبرداری کرنے کے ہیں عبد کو اس کی عاجزی اور فرمانبرداری کے باعث عبد کہا جاتا ہے ، اسی طرح کہا جاتا ہے طریق معبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب…
Read the full tafseer →(ایاک نعبد وایاک نستعین) ” ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں “ یعنی تجھ اکیلے ہی کو ہم عبادت اور استغانت کے لئے مخصوص کرتے ہیں کیونکہ (نحوی قاعدے کے مطابق) معمول کا اپنے عامل سے پہلے آنا حصر کے معنی پیدا کرتا ہے اور حصر سے مراد صرف مذکور کے لئے حکم کا اثبات اور اس کے سوا کسی اور کے لئے اس حکم کی نفی کرنا ہے۔ گویا بندہ کہتا ہے :
” ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تیرے سوا کسی سے مدد کے طلب گار نہیں ہوتے۔ “
عبادت کو استغانت پر مقدم کرنا عام کو خاص پر مقدم کرنے کی نوع میں سے ہے نیز اللہ تعالیٰ کے حق کو بندے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
سورة فاتحہ
نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت
ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت کے اندر سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورة کی قرأت کی جائے گی۔ اگر نمازی ان رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قرأت ترک کر کے اس کے بجائے کوئی اور سورت پڑھ لے تو یہ بری حرکت ہوگی۔ تاہم نماز ہوجائے گی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر نمازی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ کفایت کرنے والی قرأت کی کم سے کم مقدار سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ اگر نمازی سورة فاتحہ کا ایک حرف بھی چھوڑ دے اور نماز سے باہر ہوجائے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا…
Read the full tafseer →5 ہر قسم کی عبادت اللہ ہی کا حق ہے ؟ : یعنی " اِیَّاکَ " کی ضمیر منفصل اپنے عامل پر مقدم ہے جس سے اس میں حصر کا معنی پیدا ہوگیا۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ پس عبادت اور بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے لئے خاص ہے۔ اس کے سوا اور کسی کے لیے بھی کسی بھی طور پر جائز نہیں۔ پس دست بستہ قیام اسی کے لیے، رکوع و سجود اسی کے لیے، طواف اسی کے لیے، نذر و نیاز اسی کے لیے، غائبانہ پکارنا اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے بلانا اسی کے ساتھ خاص ہے کہ یہ عبادت کے مختلف مظاہر اور اس کی شکلیں ہیں۔ اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔ اس میں…
Read the full tafseer →تشریح : اس آیت میں اقرار توحید، اللہ کی حمد اور دعا کا پہلو ظاہر ہوتا ہے۔ مسلمان اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے اسی لئے اقرار کرتا ہے کہ میں صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اللہ کی وحدانیت، بڑائی اور طاقت کا اقرار کرتے ہوئے اسی سے مدد کا طلب گار بھی ہوں۔ یعنی یہ آیت اقرار توحید کی بہترین صورت ہے اگلی آیت میں عاجزی و انکساری سے دعا کی جارہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
رکوع نمبر 1
آیات 1 تا 7
دعا مانگنے کا طریقہ :
اللہ کریم نے نوع انسانی کو ایک جامع اور مکمل دعا تعلیم فرمائی ، ایک ایسی دعا جس میں اللہ کی تعریف اقرار عبودیت کے ساتھ استعانت و امداد کی درخواست اور پھر ہر دو عالم کی بھلائی اور اچھائی کا سوال ہے یہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے ، پہلے اللہ کی تعریف پھر اپنا اقرار عجز ، وعدہ بندگی اور پھر اپنی آرزو تمنا۔
تعوذ و تسمیہ کے بعد انسان سب سے پہلے یہ اقرار کرتا ہے کہ جو کمالات اور ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ، حسن و جمال ہو یا جاہ و جلال قوت و طاقت ہو یا علم و ہنر جہاں بھی جس چیز کی خوبی بیان ہوگی وہ دراصل تصویر کی…
Read the full tafseer →(7) عبادت کے معنی ذلت اور انکساری کا اظہار کرنے کے ہیں شرعا یہ ذلت اور انکساری اس صورت میں عبادت بنے گی جب اس ہستی کو ماورا الاسباب غیبی تسلط اور قدرت کا ما لک سمجھ کر کمال محبت کے ساتھ اس کے سامنے ذلت و انکساری کا اظہار کیا جائے گا جیسا کہ عبادت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خا ص ہے۔ اسی طرح کسی معاملہ میں ماورا الا سباب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مدد مانگنا بھی جائز نہیں ہے مشلا مرض کے علاج کے لے دواؤں کا ستعمال تا جائز ہے مگر دوا اور علاجھ کو چھوڑ کر محض غیبی شفا کسی اور سے طلب کرے تو یہ شرک ہوگا اس قسم کی استعانت کے متعلق فرمایا اذا ستفت فاستین باللہ۔ مسئلہ عموما دعاؤں میں بحر مت یا لطیف فلاں بزرگ (…
Read the full tafseer →(1:4) اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ
نَعْبُدُ ۔۔ فعل فعل اپنے فاعل
نحن ۔۔ (ضمیر مستتر) فاعل اور مفعول سے مل کر معطوف علیہ
اِيَّاكَ ۔۔ مفعول۔ (جو تخصیص کے لئے مقدم کردیا گیا ہے) جملہ فعلیہ ہوا
وَ ۔۔ حرف عطف
نَسْتَعِيْنُ ۔۔ فعل فعل اپنے فاعل اور مفعول سے معطوف
نحن ۔۔ (ضمیر ستتر) فاعل مل کر جملہ فعلیہ ہوا
اِيَّاكَ ۔۔ مفعول (مقدم برائے تخصیص)
اِيَّاكَ ۔ اِيَّا۔ اور كَ سے مرکب ہے، یعنی تجھ ہی سے۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ یہ کلمہ ضمیر منصوب منفصل کے تلفظ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ جب ضمیر منصوب اپنے عامل پر مقدم ہو یا اس پر کسی کلمہ کا عطف ڈالا جائے یا الا کے بعد آئے تو اس کے ساتھ…
Read the full tafseer →(ایاک): ” تیری ہی “ ، ” تجھ سے ہی “ اور ” تو نے ہی “ ۔ ” ایا “ کے معنی ” ہی “ ۔ ” ک “ کے معنی ” تیرا تو نے “ کے آتے ہیں۔ اصل میں ” ایا “ کلمہ حصر ہے۔ یعنی ایا جس لفظ پر آتا ہے تو اس لفظ کے تمام معنی کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ ” ایاک نعبد “ ہم آپ ہی کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں یعنی اے اللہ ہم صرف آپ کی ہی عبادت کرتے ہیں۔ آپ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتے ۔ اسی طرح ” ایاک نستعین “ کے معنی ہوں گے کہ ہم صرف آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ کسی دوسرے در پر جا کر مدد نہیں مانگتے ۔ اے اللہ ہم آپ کے سوا کسی دوسرے کو مشکل کشا نہیں مانتے۔ ہر مشکل گھڑی میں صرف آپ ہی ہماری مدد کرسکتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
خواص سورة فاتحہ
الحمد شریف چالیس بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے بخار والے کے منہ پر چھینٹا دیں انشاء اللہ تعالیٰ بخار جاتا رہے گا۔ سورة فاتحہ کو چینی کے پاک برتن پر مشک و زعفران سے لکھ کر اگر مریض کو پلا دیں تو ہر قسم کے جسمانی مرض انشاء اللہ تعالیٰ جاتے رہیں گے۔ چیچک کے واسطے گیارہ مرتبہ اس سورة کو پڑھ کر دم کرنا مجرب ہے۔ الحمد شریف ہر روز صبح کی سنتوں کے بعد اور فرضوں سے پہلے اکتالیس مرتبہ پڑھنا موجب برکت ہے اور ہر کام کے لیے مفید ہے۔ اس کو پڑھ کر جو دعا مانگے گا وہ انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔
فضائل القرآن۔
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے زیادہ عظمت سورة فاتحہ کی…
Read the full tafseer →[11] عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے : (1) پوجا اور پرستش۔ (2) اطاعت اور فرمانبرداری۔ (3) بندگی اور غلامی۔ یہاں بیک وقت تینوں معنی مراد ہیں۔ یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع اور فرمانبردار بھی اور بندہ و غلام بھی۔
[12] یعنی ہم تجھ ہی کو حاجت روا سمجھ کر تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس آیت نے ہر قسم کی مظہر پرستی اور مخلوق پرستی کی جڑ کاٹ دی ہے اور خفیف سی گنجائش بھی پیر پرستی، پیغمبر پرستی، فرشتہ پرستی یا اولیاء پرستی کی باقی نہیں چھوڑی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 4) قرآن کا یہ احسان ہے ساری دنیائے انسانیت پر کہ اس نے بندہ و خدا کے درمیان جتنے پردے حائل تھے چاک کر دئے ، اب ہر شخص براہ راست اسے پکار سکتا ہے ، نہ عبادت کے لئے کسی وسیلے کی ضرورت ہے نہ استعانت کے لئے کسی شفیع کی حاجت
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 3۔ اے پروردگار ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے امداد و اعانت کے خواستگار ہوتے ہیں۔ ( تیسیر) عبادت و استعانت یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہیں ۔ عبادت کے معنی ہیں انتہائی تذلل کے ساتھ کسی کی انتہائی تعظیم بجا لانا اور ظاہر ہے کہ ایسی تعظیم اس ہی کی جاسکتی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا محسن نہ ہو ، چونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے پر اس قدر احسانات ہیں کہ اس کے مقابلہ میں کسی اور کے احسان نہیں ہیں ۔ اس لئے عبادت کا صرف وہی مستحق ہے ۔ جس طرح کسی دوسرے کی عبادت حرام ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے سے استعانت بھی ناجائز ہے کیونکہ مدد اس ہی سے طلب کی جاسکتی ہے جس کی قوت اور طاقت غالب ہو ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ف 2۔ مخلوقات کی الگ الگ جنس ایک ایک عالم کہلاتا ہے مثلا عالم ملائکہ عالم انسان، عالم پر ند، عالم حیوانات، عالم جن۔
Read the full tafseer →” ایاک “ کلمہ حصر ہے ، یعنی صرف تجھ ہی سے :
20: تجھ ہی سے تجھ ہی کو ” ایاک “۔ واحد مذکر حاضر کی ضمیر۔ منصوب منفصل۔ ” ایا “ کے ساتھ جب یاء متکلم کاف خطاب ہاء غائب اور دیگر فروع متکلم و مخاطب و غائب لاحق ہوتے ہیں تو اس وقت یہ ضمیر منصوب منفصل ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اسم ظاہر ہے جو ضمائر کی طرف مضاف ہوتا ہے مگر یہ صحیح نہیں اور اس میں مزید بحث بھی ہے۔
ایاک اور ایاکم یعنی جمع مذکر حاضر کی ضمیر منصوب منفصل قرآن مجید میں 8 بار استعمال ہوئی ہے۔ ” ایاک “ (فاتحہ 1 : 5) میں دو بار اور ایاکم 6 بار آیا ہے۔ ” اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُؕ004 “ فاتحہ کی پانچویں آیت ہے۔
عبادت وہ…
Read the full tafseer →The fourth verse اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ : “You alone we worship, and from You alone we seek help” has a double aspect, one of praise and another of prayer. A man's life is subject to three states of time -- past, present and future.
The first two verses of the Surah, اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (All Praise belongs to Allah) and الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ, (the All-Merciful, the Very-Merciful), remind man that, as far as his past and present are concerned, he owes everything to Allah alone, for it is Allah who created him out of nothing, endowed him with the best…
Read the full tafseer →6. The term ibadah is used in three sense: (i) worship and adoration; (ii) obedience and submission; and (iii) service and subjection. In this particular context the term carries all these meanings simultaneously. In other words, we say to God that we worship and adore Him, that we are obedient to Him and follow His will, and also that we are His servants. Moreover man is so bound to none save God, that none but He, may be the subject of man's worship and total devotion, of man's unreserved obedience, of man's absolute subjection and servitude.
7. Not only do we worship God, but our…
Read the full tafseer →