مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۟ؕمٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ
انصاف کے دن کا حاکم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Sovereign of the Day of Recompense.
— Saheeh International
Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۟ؕمٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ
انصاف کے دن کا حاکم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Sovereign of the Day of Recompense.
— Saheeh International
Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Faatiha
روز جزا کا مالک ہے
انصاف کے دن کا حاکم
بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے
جو روز جزاء کا مالک ہے
روز جزا کا مالک،
روزِ جزا کا مالک ہے
بدلے کے دن کا مالک ہے۔
روز ِ جزا و سزا کا مالک ہے
جزا و سزا کے دن کا مالک
جو مالک ہے، بدلے کے دن کا، (مالک !)
(وہ) مالک روز جزا کا
جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔
وہ بدلہ کے دن کا مالک ہے۔
The Master of the Day of Recompense.
the Master of the Day of Requital.
the Master of the Day of Requital.
The Owner of the Day of Recompense.
Master of the Day of Judgment,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Sovereign of the Day of Recompense.
and Master of the Day of Judgment
Master of the Day of Judgment.
Sovereign of the Day of Requital.
Master of the Day of Judgment.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
حقیقی وارث مالک کون ہے ؟ بعض قاریوں نے ملک پڑھا ہے اور باقی سب نے مالک اور دونوں قرأتیں صحیح اور متواتر ہیں اور سات قرأتوں میں سے ہیں اور مالک نے لام کے زیر اور اس کے سکون کے ساتھ۔ اور ملیک اور ملکی بھی پڑھا گیا ہے پہلے کی دونوں قرأتیں معانی کی رو ترجیح ہیں اور دونوں صحیح ہیں اور اچھی بھی۔ زمخشری نے ملک کو ترجیح دی ہے اس لئے کہ حرمین والوں کی یہ قرأت ہے۔ اور قرآن میں بھی آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ) 40۔ غافر :16) اور (قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ) 6۔ الانعام :73) ہے۔ امام ابوحنیفہ سے بھی حکایت بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے ملک پڑھا اس بنا پر کہ فعل اور فاعل اور مفعول آتا ہے لیکن یہ…
Read the full tafseer →سورة الْفَاتِحَة 5 یعنی اس دن کا مالک جبکہ تمام اگلی پچھلی نسلوں کو جمع کرکے ان کے کارنامہٴ زندگی کا حساب لیا جائیگا اور ہر انسان کو اس کے عمل کا پورا صلہ مل جائے گا۔ اللہ کی تعریف میں رحمان اور رحیم کہنے کے بعد مالک روزجزا کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ نرا مہربان ہی نہیں ہے بلکہ منصف بھی ہے، اور منصف بھی ایسا بااختیار منصف کہ آخری فیصلے کے روز وہی پورے اقتدار کا مالک ہوگا، نہ اس کی سزا میں کوئی مزاحم ہوسکے گا اور نہ جزا میں مانع۔ لہٰذا ہم اس کی ربوبیت اور رحمت کی بناء پر اس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے انصاف کی بنا پر اس سے ڈرتے بھی ہیں اور یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کی بھلائی…
Read the full tafseer →(آیت) مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ لفظ مالک ملک سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز پر ایسا قبضہ کہ وہ اس میں تصرف کرنے کی جائز قدرت رکھتا ہو (قاموس) لفظ دین کے معنی جزاء دینا۔ ملک یوم الدین کا لفظی ترجمہ ہوا مالک روز جزاء کا یعنی روز جزاء میں ملکیت رکھنے والا وہ ملکیت کس چیز پر ہوگی ؟ اس کا ذکر نہیں کیا گیا تفسیر کشاف میں ہے کہ اس میں اشارہ عموم کی طرف ہے یعنی روز جزاء میں تمام کائنات اور تمام امور کی ملکیت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی (کشاف) روز جزاء کی حقیقت اور عقلاً اس کی ضرورت اب یہاں چند با تیں قابل غور ہیں اول یہ کہ روز جزا کس دن کا نام ہے، اور اس کی کیا حقیقت ہے ؟ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →لفظ دین کے معانی: دین کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ 1۔ مذہب و شریعت کے معنی کے لیے مثلاً ’اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ‘ 83۔ آل عمران (کیا خدا کے اتارے ہوئے مذہب کے سوا وہ کسی اور مذہب کے طالب ہیں)۔ 2۔ قانون ملکی کے لیے مثلاً ’مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ‘ 76۔ یوسف (اس کو بادشاہ کے قانون کی رو سے یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ اپنے بھائی کو روک سکے)۔ 3۔ اطاعت کے معنی کے لیے مثلاً ’وَلَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہُ الدِّیْنُ وَاصِبًا‘ 52۔ نحل (اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہمیشہ لازم ہے)۔ 4۔ جزا کے معنی…
Read the full tafseer →1 دنیا میں بھی اگرچہ کیئے کی سزا کا سلسلہ ایک حد تک جاری رہتا ہے تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق مکمل جزا یا سزا دے گا۔ اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا اللہ تعالیٰ اس روز فرمائے گا آج کس کی بادشاہی ہے ؟ پھر وہی جواب دے گا صرف ایک اللہ غالب کے لیے اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے اختیار نہیں رکھے گی سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا، یہ ہوگا جزا کا دن۔
Read the full tafseer →(3) روز جزاء کا مطلب ہے وہ دن جب تمام بندوں کو ان کے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یوں تو روز جزاء سے پہلے بھی کائنات کی ہر چیز کا اصلی مالک اللہ تعالیٰ ہے ؛ لیکن یہاں خاص طور پر روز جزاء کے مالک ہونے کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہی انسانوں کو بہت سی چیزوں کا مالک بنایا ہوا ہے، یہ ملکیت اگرچہ ناقص اور عارضی ہے تاہم ظاہری صورت کے لحاظ سے ملکیت ہی ہے، لیکن قیامت کے دن جب جزاء وسزا کا مرحلہ آئے گا تو یہ ناقص اور عارضی ملکیتیں بھی ختم ہوجائیں گی، اس وقت ظاہری ملکیت بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ ” روز جزاء کا مالک ہے۔ “ اس آیت میں اسلام کا وہ اصولی اور بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے ‘ جس کے اثرات پوری انسانی زندگی پر نہایت گہرے ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے روزجزاء کے بارے میں ملکیت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ جو قبضہ واستیلاء اور تصرف واختیار کے نہایت اعلیٰ درجے کو ظاہر کررہا ہے ۔ یوم الدین سے مراد قیامت کا روز جزاء ہے ۔ یاد رہے کہ نزول قرآن کے وقت بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کو الٰہ مانتے تھے ۔ اور اللہ کی صفت تخلیق پر بھی یقین رکھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ اللہ ہی اس دنیا کو عدم سے وجود میں لایا ‘ اس کے باوجود وہ یوم جزاء اور حساب کتاب کے قائل نہ تھے ۔ ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4 اس کے خاص کرنے کی اول وجہ تو یہی ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور پیش آئیں گے ایسا خوفناک روز جو نہ پہلے ہوا نہ آگے کو ہوگا دوسرے اس روز بجز ذات پاک حق تعالیٰ کے کسی کو ملک و حکومت ظاہری بھی تو نصیب نہ ہوگی لمن الملک الیوم للّٰہ الواحد القھار۔
Read the full tafseer →مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ”وہ جزا اور سزا کے دن کا مالک ہے“۔ وہ مختار مطلق ہے۔ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔ کسی کی وہاں کوئی سفارش نہیں چلے گی ‘ کسی کا وہاں زور نہیں چلے گا ‘ کوئی دے دلا کر چھوٹ نہیں سکے گا ‘ کسی کو کہیں سے مطلقاً کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اس روز کہا جائے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ”آج کس کے ہاتھ میں اختیار اور بادشاہی ہے ؟“ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ”اس اللہ کے ہاتھ میں ہے جو اکیلا ہے اور پوری کائنات پر چھایا ہوا ہے۔“ اب دیکھئے گر امر کی رو سے یہ ایک جملہ مکمل ہوا : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔…
Read the full tafseer →8 دین کے مختلف معانی :۔ دین کا لفظ قرآن میں مندرجہ ذیل چار معنوں میں استعمال ہوا ہے : (1) اللہ تعالیٰ کی مکمل حاکمیت اور اسی کا دوسرا پہلو یا لازمی نتیجہ ہے۔ (2) انسان کی مکمل عبودیت جیسے ارشاد باری ہے : (فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ ۭ ) 39 ۔ الزمر :2) لہٰذا خالصتاً اسی کی عبادت کرو۔ سن لو مکمل حاکمیت خالصتہ اللہ ہی کے لئے ہے ان دونوں آیات میں دین کا لفظ مذکورہ بالا دونوں معنی دے رہا ہے۔ (3) قانون سزا و جزاء یا تعزیرات جیسے ارشاد باری ہے : (مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ 76) 12 ۔ یوسف :76) اس (سیدنا یوسف علیہ السلام) کی شان کے لائق نہ تھا۔ ممکن نہ تھا کہ…
Read the full tafseer →14، ملک۔ حاکم یا قاضی خواہ کیسے ہی واسیع اختیارات رکھتا ہو، بہرحال اس کے اختیارات محدود ہی ہوتے ہیں، اور وہ مجرم کو حسب ضابطہ سزا دینے پر مجبور ہوتا ہے۔ گویا خود حاکم پر حکومت ضابطہ یا قانون کی ہوتی ہے۔ بہ خلاف اس کے مالک وہ ہوتا ہے جسے پورے اختیارات حاصل ہوں۔ مجرم کو چاہے وہ بخش دے، چاہے سزادے۔ کوئی اس سے باز پرس کرنے والا اور کوئی اس پر حاکم نہیں۔ حدیث مسلم میں آچکا ہے کہ لامالک الا اللہ عزوجل (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی مالک نہیں) اور محققین کا قول بھی ایسا ہی ہے کہ بجز اللہ کے اور کسی کو مالک کہنا یا پکارنا جائز نہیں لا یجوزان یسمی احدبھذا الاسم ولا یدعی بہ الا اللہ تعالیٰ (قرطبی) لفظ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
تفسیر و تشریح سورة الفاتحۃ مکیۃ سبع آیاتٍ بالبسملۃ۔ سورة فاتحہ مکی ہے، مع بسم اللہ سات آیتیں ہیں۔ قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ تسمیہ : سورة کے لفظی معنی بلندی یا بلند منزل کے ہیں، السُّوْرَۃُ : الرفیعۃ (لسان) السورۃ المنزلۃ الرفیعۃ (راغب) گویا ہر سورت بلند مرتبہ کا نام ہے، سورة کے ایک معنی فصیل (شہر پناہ) کے ہیں، کے ہیں، سورة المدینۃ، حَائطُھَا (راغب) قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے مضامین کا اسی طرح احاطہ کئے رہتی ہیں جس طرح فصیل شہر کا احاطہ کئے رہتی ہے۔ الفاتحۃ : فاتحۃ کے لفظی معنی ہیں ابتداء کرنے والی، قرآن مجید کی اس پہلی سورت کو بھی فاتحہ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے،…
Read the full tafseer →مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ( مالک انصاف کے دن کا) عاصم و کسائی اور یعقوب کی قرأت میں مالک آیا ہے اور دیگر قاریوں نے مَلِکِ پڑھا ہے۔ ابو عمرو الرَّحِیْم مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْن پڑھتے ہیں یعنی میم کو میم میں ادغام کرتے ہیں۔ اسی طرح ان دو متحرک حرفوں میں ادغام ہوتا ہے جو ایک جنس یا ایک مخرج کے ہوں یا دونوں قریب المخرج ہوں اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب ایک جنس کے دو حرف دو کلموں میں واقع ہوں تو ایسے سترہ حرفوں میں باہم ادغام جائز ہے ( لیکن چند مواقع ادغام سے مستثنیٰ ہیں) وہ سترہ حروف ہیں با۔ تا۔ ثا۔ حائے حطی۔ رائے غیر منقوطہ۔ سین مہملہ ‘ عین مہملہ اور عین کے بعد والے دس حروف ( غین سے لے کر یائے تحتانی تک)…
Read the full tafseer →(3) یوم الدین بدلہ کا وہ فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے جس میں مخلوق کے درمیان فیصلہ ہوگا ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا، اس دن اللہ کے علاوہ کسی کا فیصلہ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ”الدِّيْنِ“ ”دَانَ یَدِیْنُ“ کا مصدر ہے، بدلہ دینا، جزا دینا۔ رحمن و رحیم کے بعد جزا کے دن کا مالک ہونے کی صفت بیان فرمائی۔ ایک قراءت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ) ہے یعنی روز جزا کا مالک اور دوسری ”مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ ہے، یعنی روز جزا کا بادشاہ۔ قرآن مجید کے رسم الخط میں ”مٰلِكِ“ لکھا ہے، اسے ”مَالِکِ“ اور ”مَلِکِ“ دونوں طرح پڑھا جاسکتا ہے اور دونوں قراءتیں متواتر طور پر رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک بھی ہے اور بادشاہ بھی۔ ”الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ کے ساتھ قیامت کے دن کے مالک اور بادشاہ ہونے کی مناسبت یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی بہت رحم کرنے…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 14: ملک یوم الدین۔ محمد بن سمیع نے مالک کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں چار لغات ہیں : 1۔ مالک، 2۔ ملک، 3۔ ملک۔۔۔ ملک سے مخففہ۔۔۔۔ 4۔ ملیک۔ شاعر نے کہا : وایام لنا غر طوال عصینا الملک فیھا ان ندینا ہمارے لئے روشن لمبے دن تھے۔ ان میں ہم نے بادشاہ کی اطاعت کرنے میں نافرمانی کی۔ اور ایک شاعر نے کہا : فاقنح بما قسم الملیک فانما قسم الخلائق بیننا علامھا میں اس پر قناعت کرتا ہوں جو مالک نے تقسیم فرمایا اور طباع کو ان کے جاننے والے نے ہمارے درمیان تقسیم فرمایا۔ اس شعر میں الخلائق سے مراد وہ فطرت ہے جس پر انسان پیدا کیا جاتا ہے، نافع سے ملک میں کسرہ کا اشباع مروی ہے۔ اس شخص کی لغت پر جو…
Read the full tafseer →مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ترجمہ : مالک ہے روزجزا کا۔ (2) (1) امام ترمذی، ابن الانباری اور ابن بی الدنیا نے کتاب المصاحف میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ لفظ آیت ملک یوم الدین بغیر الف پڑھتے تھے۔ (2) ابن ابی الانباری نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر، عمر، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف اور معاذ بن جبل ؓ نے لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ کو بغیر الف کے پڑھا۔ (3) امام احمد نے الزہد میں، ترمذی، اور ابن ابی داؤد ابن الانباری نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر و عمر اور عثمان ؓ لفظ آیت ” ملک یوم الدین “ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ (4) امام سعید بن منصور اور…
Read the full tafseer →[ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ : جو بدلے کے دن کا مالک ہے ] م ل ک [ مَلَکَ یَمْلِکُ (ض) مِلْکًا : مالک ہونا ‘ غالب ہونا ‘ اختیار رکھنا۔ { قُلْ لاَّ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا } (الاعراف :188) ” آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں اختیار نہیں رکھتا اپنے نفس کے لیے کسی نفع کا اور نہ ہی کسی نقصان کا۔ “ مُلْکٌ : ملکیت ‘ جس پر اختیار و اقتدار حاصل ہو۔ { قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ } (آل عمران :26) ” آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اے اللہ ملک کے مالک تو ملک دیتا ہے جس کو تو چاہتا ہے اور تو ملک چھین لیتا ہے جس سے تو چاہتا ہے۔ “ مَلِکٌ جمع…
Read the full tafseer →مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ دین جزا اور بدلہ کو کہتے ہیں یَوْمِ الدِّیْنِ بدلہ کا دن۔ اس سے قیامت کا روز مراد ہے۔ اس روز خیر وشر کے بدلوں کا فیصلہ ہوگا ہر شخص اپنے اپنے عمل کا نتیجہ پائے گا۔ اللہ پاک کے رحم و کرم کے سوا کوئی راستہ جان چھوٹنے کا نہ ہوگا اگر کوئی سفارش کرنا چاہے گا تو بغیر اجازت مالک یوم الدین جل مجدہ، سفارش نہیں کرسکے گا۔ اس روز کسی کی مجازی حکومت و حاکمیت بھی نہ ہوگی۔ قال اللّٰہ تعالیٰ شانہٗ (اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذِ ط نِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۔ و قال جل جلالہ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ۔ وقال عزاسمہ یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْءًا وَّ…
Read the full tafseer →ملک یوم الدین : روز جزاء کا مالک یعنی اللہ تعالیٰ قیامت اور جزاء کے دن کا مالک ہے جس میں فرمانبرداروں اور نافرمانوں کی جزاء کا فیصلہ فرمائیگا۔ اس لیے کہ نیکی اور بدی اور فرمانبردار اور نافرمان اور موافق اور مخالف میں فرق کرنا عقلاً ونقلاً ضروری ہے۔ کما قال تعالی۔ ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصالحات کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار۔ وقال تعالیٰ لیجزی الذین اساؤا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی وقال تعالیٰ ۔ ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا لتجزی کل نفس بما تسعی۔ نیز دنیا میں کوئی ظالم ہے اور کوئی مظلوم اور مظلوم کا ظالم سے انتقام عین عدل اور عین حکمت ہے اور دنیا میں یہ انتقام نہیں لیا…
Read the full tafseer →ف 6: مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۔ لفظ دین قرآن مجید میں کئی معنون میں استعمال ہوا ہے۔ چناچہ بعض مقامات میں پوری شریعت کو دین کہا گیا ہے۔ مثلاً ارشاد ہے وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ (آل عمران 85) (یعنی جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو پسند کرلیا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اکثر جگہوں میں الدین اللہ کی توحید، اس کی خالص عبادت اور پکار کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ سورة یوسف (علیہ السلام) نے قیدیوں کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا۔ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ۔ نہیں حکم مگر…
Read the full tafseer →(روز جزا) آگے ارشاد ہے ملک یوم الدین جو جزا کے دن کا مالک ہے ۔ دین کا معنی اطاعت بھی ہوتا ہے اور ملت بھی اسی لیے دین الانبیاء سے مراد انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ دین کا معنی بدلہ اور جزا بھی ہوتا ہے اور اس کا معنی انصاف بھی ہوتا ہے اس مقام پر یہی معنی مراد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر بیحد مہربانیاں کی ہیں ، ان پر بڑے انعامات فرمائے ہیں ان کے لیے ہدایت کے راستے متعین کے ہیں مگر یہ پھر ی دنیا میں ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں ایک دوسرے کا حق غصب کرتے ہیں جس کا ازالہ بسا اوقات اس دنیا میں نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ چونکہ احکم الحاکمین ہے ، وہ اپنے بندوں پر ظلم و زیادتی کو…
Read the full tafseer →مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ 3 ۭ ملك ( مالک) فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] وفي غيرها من الآیات ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر بذیعہ حکم کنٹرول کرنے کے ہیں اور ملک بمنزلہ جنس کے ہیں لہذا ہر ملک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ترکیب : اَلْحَمْدُ مبتدا لِلّٰہِ ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر ہوئی۔ رَبّْ الْعَالَمِیْنَ اس کی صفت اول (گو یہ نکرہ ہے مگر معنی کے لحاظ سے معرفہ ہے کیونکہ رب العالمین سوائے خدا کے اور کسی پر صادق نہیں آتا) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ صفت و موصوف اس کی صفت دوم۔ مَالِکِ یَوْمْ الدِّیْنَ مضاف و مضاف الیہ مل کر اس کی صفت سوم۔ یہ موصوف اپنی تینوں صفات سے مل کر ثابت کے متعلق ہو کر مبتدا کی خبر ہوئی اور خبر و مبتدا مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ گو مقام انشاء حمد جملہ فعلیہ چاہتا ہے مگر چونکہ خبر حمد بھی انشاء حمد ہے۔ دوام و ثبات کے لیے جملہ اسمیہ لایا گیا۔ تفسیر : ان تینوں آیتوں میں خدائے تعالیٰ بہت سی حکمتیں…
Read the full tafseer →مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ (جزا اور سزا کے دن کا مالک) امام بیضاوی نے " مالک " کا معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا المتصرف فی اعیان المملوکۃ کیف شاء ” وہ ذات جو اپنی مملوکہ چیزوں میں جس طرح چاہے تصرف کرنے کی قدرت رکھتی ہو “ یعنی اسے ایسا قبضہ حاصل ہو کہ اس کے تصرف کو نہ کوئی روک سکے اور نہ اسے ناجائز کہہ سکے اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اپنے آپ کو جزا اور سزا کے دن کا مالک قرار دیا ہے۔ حالانکہ اس دنیا اور دنیا کی ہر چیز اور پھر آنے والی دنیا اور اس کی ہر چیز کا بھی اللہ ہی مالک ہے تو پھر بطور خاص اپنے آپ کو روز جزا کا مالک کہنے سے کیا مراد ہے ؟ بات یہ ہے کہ یوں تو پروردگار کائنات کے ذرے ذرے کا مالک ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت جو بیان ہورہی ہے وہ قرآن مجید کا تیسرا مرکزی مضمون ہے۔ اللہ جزاء وسزا کے دن کا مالک ہے۔ قیامت کے دن پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی عقائد اور اس کی ابتدائی تعلیم میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یعنی اس کی ان گنت نعمتوں اور بےپایاں رحمتوں کے تذکرے کے بعد ” مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ “ کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ کہیں انسان اس کی رحمت و شفقت دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائے کہ مجھے میرے کیے دھرے پر پوچھا ہی نہیں جائے گا اور انسان کو دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ اس فرمان میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اے انسان ! ناصرف تجھے موت آنی ہے بلکہ موت کے…
Read the full tafseer →مٰلِكِ : عاصم وعلی (رحمہما اللہ) ان دونوں کے علاہ ملک پڑھتے ہیں، بعض نے اسی کو اختیار کیا کیونکہ اس میں اضافت کی ضرورت نہیں اور قرآن مجید میں (لمن الملک الیوم) غافر :16 ۔ میں اس طرح ہے، اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک مالک ہوتا ہے مگر ہر مالک ملک نہیں ہوتا، اور دوسری وجہ یہ بھی ہے، ملک کا حکم مالک پر نافذ ہوتا ہے اس کا عکس نہیں۔ بعض نے کہا مالک کا ثواب زیادہ ہے، کیونکہ اس میں حروف زیادہ ہیں، امام ابوحنیفہ اور امام حسن نے ملک پڑھا ہے۔ قیامت کا دن کیا ہے ؟ يَوْمِ الدِّيْنِ ۔ بدلے کا دن، کہا جاتا ہے کما تدین تدان، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، یہاں اسم فاعل کو بطور توسع ظرف کی طرف مضاف کیا ہے، جیسا…
Read the full tafseer →(آیت)” مالک یوم الدین “ حضرت عاصم (رح) اور کسائی (رح) اور یعقوب (رح) نے (مالک) پڑھا اور باقیوں نے ” ملک “ پڑھا ، ایک قوم نے کہا دونوں کا معنی ایک ہے جیسے فرھین اور فارھین ، حذرین اور حاذرین۔ لہذا مالک اور ملک دونوں کا معنی الرب ہے ، چناچہ رب الدار اور مالک الدار کا معنی ایک ہوگا بعض نے کہا مالک وہ ہے جو ایشاء کے عدم سے وجود کی طرف لانے کی اختراع پر قادر ہو اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں ہے ، ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ لفظ مالک میں جامعیت اور وسعت زیادہ ہے ، چناچہ غلاموں ، پرندوں اور جانوروں کا مالک تو کہا جاسکتا ہے مگر ان چیزوں کا مالک نہیں کہا جاسکتا ، نیز مالک جن چیزوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب…
Read the full tafseer →(ملک یوم الدین) ” وہ جزا کے دن کا مالک ہے “ (المالک) وہ ہستی ہے جو ملک کی صفت سے متصف ہو۔ جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ ہستی حکم دیتی ہے اور روکتی ہے، نیکی پر ثواب عطا کرتی ہے اور گناہوں پر سزا دیتی ہے، وہ اپنی مملوکات میں ہر قسم کا تصرف کرتی ہے اور اس کی ملکیت کی اقسام میں سے ایک جزا کا دن بھی ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جس دن لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس لئے اس روز اللہ تعالیٰ کی ملکیت کاملہ اور اس کا عدل اور حکمت مخلوق پر بالکل ظاہر ہوجائے گی اور یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ مخلوق کے اختیارات میں کچھ نہیں ہے، حتی کہ اس دن بادشاہ اور رعایا، غلام اور آزاد سب برابر ہوں گے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
سورة فاتحہ نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت کے اندر سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورة کی قرأت کی جائے گی۔ اگر نمازی ان رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قرأت ترک کر کے اس کے بجائے کوئی اور سورت پڑھ لے تو یہ بری حرکت ہوگی۔ تاہم نماز ہوجائے گی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر نمازی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ کفایت کرنے والی قرأت کی کم سے کم مقدار سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ اگر نمازی سورة فاتحہ کا ایک حرف بھی چھوڑ دے اور نماز سے باہر ہوجائے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا…
Read the full tafseer →4 قیامت کے دن اللہ کی بادشاہی کا کمال ظہور : یعنی قیامت کے دن کا۔ کیونکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا بدلہ اپنی اصل اور کامل شکل میں وہیں ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں اتنی گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں کہ کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا بدلہ اس میں مل سکے۔ تفصیل اپنی مفصل تفسیر میں انشاء اللہ اگر اللہ پاک کو منظور ہوا تو ۔ لفظ " دین " کے کئی معنی آتے ہیں۔ دین کا معنیٰ مذہب و شریعت جیسے۔ { اِنَ الدِّیْنَ عِنْدَ اللَّہ الْا سَلَامُ } ۔ (آل عمران : 19) یا جیسے { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ } (المائدۃ : 3) وغیرہ وغیرہ۔ اور " دین " بمعنی عبادت و بندگی جیسے { وَادْعُوُْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ…
Read the full tafseer →تشریح : اس آیت میں اقرار حاکمیت ہے، اور دو لفظوں میں عقیدہ قیامت و آخرت دلیل کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ بدلہ کا دن کیا ہے ؟ اللہ نے تمام نعمتیں، برکتیں اور آسائشیں انسان کو دے کر کھلا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کے امتحان کا دن بھی مقرر کردیا ہے۔ انسان کو نیکی اور بدی کے راستے بتا دیئے ہیں اور پھر ہمارے تمام اعمال، خیالات اور نیتوں کے اوپر ریکارڈنگ کا نظام قائم کردیا ہے کہ جو ہمارا ہر لمحہ محفوظ کئے جارہا ہے۔ اس لئے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ جب ہم سب انسان اپنے ٹیپ کئے ہوئے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کئے جائیں گے اور وہی دن جزاء کا دن کہلاتا ہے۔ انسان فیصلہ کرتے ہوئے بھول چوک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 7 دعا مانگنے کا طریقہ : اللہ کریم نے نوع انسانی کو ایک جامع اور مکمل دعا تعلیم فرمائی ، ایک ایسی دعا جس میں اللہ کی تعریف اقرار عبودیت کے ساتھ استعانت و امداد کی درخواست اور پھر ہر دو عالم کی بھلائی اور اچھائی کا سوال ہے یہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے ، پہلے اللہ کی تعریف پھر اپنا اقرار عجز ، وعدہ بندگی اور پھر اپنی آرزو تمنا۔ تعوذ و تسمیہ کے بعد انسان سب سے پہلے یہ اقرار کرتا ہے کہ جو کمالات اور ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ، حسن و جمال ہو یا جاہ و جلال قوت و طاقت ہو یا علم و ہنر جہاں بھی جس چیز کی خوبی بیان ہوگی وہ دراصل تصویر کی…
Read the full tafseer →(6) یوم الدین کے معنی یوم جزاء کے ہیں اس دنیا میں بھی مکافات یعنی جزائے اعمال کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر اس جزا کا مکمل ظہور چونکہ قیامت کے دن ہوگا اس لیے قیامت کے دن کو خا ص طور پر یوم الدین کہا گیا ہے ( رازی) اور اللہ تعالیٰ کے اس دن کا مالک ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس روز ظاہری طور پر بھی مالکیت اور ملوکیت کا یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا اور مخلوقات سے جملا اختیارات ظاہری بھی سلب کرلیے جائیں گے ( قرطبی )
Read the full tafseer →(2:3) مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۔ مٰلِكِ مضاف يَوْمِ الدِّيْنِ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ، لہذا مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ صفت چہارم ہے اللہ کی۔ بعض کے نزدیک یہ اللہ کا بدل ہے صفت نہیں کیونکہ اللہ معرفہ ہے۔ اور یہ نکرہ۔ اس کے نکرہ ہونے کی وجہ سے یہ ہے کہ اسم فاعل جب حال یا مستقبل کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے تو مضاف الی المعرفہ بھی معرفہ نہیں بنتا۔ املائ، جزا و حساب کے دن کا مالک۔ يَوْمِ الدِّيْنِ کی قرآن مجید میں یوں وضاحت کی گئی ہے۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ 17 ۙثُمَّ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ 18ۭيَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ…
Read the full tafseer →(یوم الدین ): جزا اور سزا کا دن، بدلہ کا دن، حسان کا دن، اس کے ایک دوسرے معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دین سے مراد ” اسلام اور اطاعت کے ہیں “ یعنی قیامت کا دن وہ ہوگا جس میں اسلام اور اطاعت کے سوا کوئی چیز نفع نہ دے گی۔ درحقیقت ” یوم الدین “ کہہ کر سارے معانی کو ان دو لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
خواص سورة فاتحہ الحمد شریف چالیس بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے بخار والے کے منہ پر چھینٹا دیں انشاء اللہ تعالیٰ بخار جاتا رہے گا۔ سورة فاتحہ کو چینی کے پاک برتن پر مشک و زعفران سے لکھ کر اگر مریض کو پلا دیں تو ہر قسم کے جسمانی مرض انشاء اللہ تعالیٰ جاتے رہیں گے۔ چیچک کے واسطے گیارہ مرتبہ اس سورة کو پڑھ کر دم کرنا مجرب ہے۔ الحمد شریف ہر روز صبح کی سنتوں کے بعد اور فرضوں سے پہلے اکتالیس مرتبہ پڑھنا موجب برکت ہے اور ہر کام کے لیے مفید ہے۔ اس کو پڑھ کر جو دعا مانگے گا وہ انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔ فضائل القرآن۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے زیادہ عظمت سورة فاتحہ کی…
Read the full tafseer →[10] یعنی اس دن کا مالک جب تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کے کارنامہ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا صلہ اور بدلہ مل جائے گا۔ مالک وہ ہوتا ہے جسے پورے اختیارات حاصل ہوں۔ مجرم کو چاہے تو بخش دے چاہے تو سزا دے۔ کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں اور کوئی اس پر حاکم نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف میں رحمن اور رحیم کہنے کے بعد روز جزا کا مالک کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ صرف مہربان ہی نہیں بلکہ منصف بھی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 3) مکافات عمل کی آخر صورت فیصلے کا دن ہے جس میں کسی کو مداخلت کا حق نہیں ۔ تمام جھگڑوں کو نپٹائے گا ۔ والامر یومئذ للہ
Read the full tafseer →ف 2۔ سب تعریفیں اور حمد وثناء اس ہی اللہ تعالیٰ کو سزا دار اور لائق ہے جو ہر ایک کا مربی اور تربیت کرنے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ بےحد مہربان اور بےانتہا مہربانی کرنے والا ہے وہ جزاء و سزا کے دن کا مالک ہے۔ ( تیسیر) حاصل یہ ہے کہ جو تعریفیں اب تک ہو چکیں یا آئندہ ہوں گی ان سب کا حقیقی مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے ، کیونکہ مخلوق میں سے جس چیز کی بھی تعریف کی جائے وہ درحقیقت خدا ہی کی تعریف ہے اس لئے کہ مخلوق کی تمام خوبیاں بھی حضرت حق ہی کی مرہون منت ہیں وہی ہر ایک عالم کا خواہ وہ عالم ملائکہ یا عالم جنات و انسان ہو یا عالم نباتات و جمادات ہو سب کا وہی خالق اور وہی پرورش کنندہ ہے ۔ رب کے بہت سے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ف 2۔ مخلوقات کی الگ الگ جنس ایک ایک عالم کہلاتا ہے مثلا عالم ملائکہ عالم انسان، عالم پر ند، عالم حیوانات، عالم جن۔
Read the full tafseer →حقیقی مالک ہرچیز کا ” اللہ “ ہی ہے : 16: ” ملک “ کی ” اصل “ م ل ک ہے۔ الملک بادشاہ جو عوام پر حکمرانی کرتا ہے ” ملک “ کو اس جگہ ملک بھی پڑھا گیا ہے اور ” مالک “ بھی ۔ مفہوم دونوں طرح پڑھنے سے ایک ہی رہتا ہے۔ مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ003 قیامت کے روز اسی کی بادشاہت ہوگی۔ یہ اصل میں ملک الملک فی یوم الدین ہے اور دوسری جگہ فرمایا : لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ 1ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 0016 اور مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ003 قیامت کے روز کا مالک ہے۔ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ (3 : 26) ” مالک “ کا لفظ قرآن مجید میں 3 بار استعمال ہوا ہے۔ مٰلِكِ یَوْمِ…
Read the full tafseer →The third verse pays homage to Allah as 'the Master of the Day of Judgment or Requital'. The word Malik has been derived from the root, 'milk' (ملک) which signifies possessing a thing in such a manner that one has the right and power to dispose of it as one likes (See Qamus). The word Din signifies 'Requital'. So, the phrase 'Master of the Day of Requital' implies total mastery on the Day of Requital. But there is no mention of the thing or things to which this mastery or possession would apply. According to the commentary, 'al-Kashshaf, the phrase makes a general reference to cover…
Read the full tafseer →5. God will be the Lord of the Day when all generations of mankind gather together on order to render an account of their conduct, and when each person will be finally rewarded or punished for his deeds. The description of God as Lord of the Day of Judgement following the mention of his benevolence and compassion indicates that we ought to remember another aspect of God as well-namely, that He will judge us all, that He is so absolutely powerful, that on the Day of Judgement no one will have the power either to resist the enforcement of punishments that He decrees or to prevent anyone from…
Read the full tafseer →