Al-Faatiha 1:3

Al-Faatiha · from ayah 3

1:3

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۟ۙالرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بڑا مہربان نہایت رحم والا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Entirely Merciful, the Especially Merciful,

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Faatiha

All translations of 1:3

بڑا مہربان نہایت رحم والا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بہت مہربان رحمت والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

بہت رحم فرمانے والا نہایت مہربان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

The Merciful, the Compassionate

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the All-Merciful, the Very Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

the All-Merciful, the Very Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Ar-Rahman (the Most Gracious), Ar-Rahim (the Most Merciful).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Entirely Merciful, the Especially Merciful,

— Saheeh International

the Beneficent, the Merciful

— Muhammad Sarwar

The Beneficent, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

The Compassionate, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 1:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔ قرطبی فرماتے ہیں آیت (رب العلمین کے وصف کے بعد آیت (الرحمن الرحیم کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے۔ جیسے فرمایا آیت (نبی عبادی الخ یعنی میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی دردناک عذاب ہیں۔ اور فرمایا تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے۔ رب کے لفظ میں ڈراوا ہے اور رحمن اور رحیم کے لفظ میں امید ہے۔ صحیح مسلم شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَاتِحَة 4 انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتا ہے، اور اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا، تو پھر وہ اسی معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نقطہ پوشیدہ ہے۔ رحمان عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ لیکن خدا کی رحمت اور مہر بانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے، اس قدر وسیع ہے، ایسی بےحد و حساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے معنی یہ ہیں کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں یعنی دنیا میں جہاں کہیں کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے کیونکہ اس جہان رنگ و بو میں جہان ہزاروں حسین مناظر اور لاکھوں دل کش نظارے اور کڑوڑوں نفع بخش چیزیں انسان کے دامن دل کو ہر وقت اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں اور اپنی تعریف پر مجبور کرتی ہیں اگر ذرا نظر کو گہرا کیا جائے تو ان سب چیزوں کے پردے میں ایک ہی دست قدرت کار فرما نظر آتا ہے اور دنیا میں جہان کہیں کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے اس کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں جیسے کسی نقش و نگار یا تصویر کی یا کسی صنعت کی تعریف کی جائے کہ یہ سب تعریفیں درحقیقت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اسم رحمان، غضبَان اور سَکران کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اور اسم رحیم، علیم اور کریم کے وزن پر صفت کا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رحیم کے مقابل میں رحمان میں زیادہ مبالغہ ہے اس وجہ سے رحمان کے بعد رحیم کا لفظ ان کے خیال میں ایک زائد لفظ ہے جس کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی لیکن یہ تاکید مزید کے طور پر آ گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ عربی زبان کے استعمالات کے لحاظ سے فَعۡلان کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اور فعیل کا وزن دوام و استمرار اور پائیداری و استواری پر۔ اس وجہ سے ان دونوں صفتوں میں سے کوئی صفت بھی برائے بیت نہیں ہے بلکہ ان میں سے ایک خدا کی رحمت کے جوش و خروش کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 رحمن بروز فعلان اور رحیم بر وزن فعیل ہے۔ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ جن میں کثرت اور دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں رحمٰن میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے اسی لیے رحمٰن الدنیا والآخرہ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت جس میں بلا تخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہو رہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہوگا۔ یعنی اس کی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔ اللھم اجعلنا منھم۔ آمین

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–3

(2) اگر آپ کسی عمارت کی تعریف کریں تو در حقیقت وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے، لہذا اس کائنات میں جس کسی چیز کی تعریف کی جائے وہ بالآخر اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے ؛ کیونکہ وہ چیز اسی کی بنائی ہوئی ہے، تمام جہانوں کا پروردگار کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انسانوں کا جہان ہو یا جانوروں کا، سب کی تخلیق اور پرورش اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور ان جہانوں میں جو کوئی چیز قابل تعریف ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور شان ربوبیت کی وجہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الرحمن الرحیم کی صفت کو یہاں وسط سورت میں بطور ایک مستقل آیت پھر دہرایا جارہا ہے ۔ یہ رحمت و شفقت کے تمام معانی ‘ تمام حالات اور تمام وسعتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ اور یہاں دوبارہ لانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عالمگیر ربوبیت کی ان صفات کے ایک نہایت ہی ممتاز پہلو کو نمایاں کیا جائے اور خالق و مخلوق اور اللہ اور اس کے پروردہ بندوں کے درمیان ربط وتعلق کو حمد وثناپر ابھارتا ہے اور یہ وہ تعلق ہے جو اطمینان قلب کی اساس پر قائم ہے اور اس کی تاریں محبت کے ساتھ بھرے ہوئے دل میں جڑی ہوئی ہیں ۔ لہٰذا الحمد للہ درحقیقت انسانی فطرت کی وہ آواز ہے جو وہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کے جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 3–4

4 اس کے خاص کرنے کی اول وجہ تو یہی ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور پیش آئیں گے ایسا خوفناک روز جو نہ پہلے ہوا نہ آگے کو ہوگا دوسرے اس روز بجز ذات پاک حق تعالیٰ کے کسی کو ملک و حکومت ظاہری بھی تو نصیب نہ ہوگی لمن الملک الیوم للّٰہ الواحد القھار۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ رحمت کے مادہ سے یہ اللہ کے دو اسماء ہیں۔ ان دونوں میں فرق کیا ہے ؟ رَحْمٰن ‘ فَعْلَان کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ چناچہ اس کے اندر مبالغہ کی کیفیت ہے ‘ یعنی انتہائی رحم کرنے والا۔ اس لیے کہ عرب جو اس وزن پر کوئی لفظ لاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نہایت شدت ہے۔ مثلاً غَضْبان ”غصہ میں لال بھبھوکا شخص“۔ سورة الاعراف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے الفاظ آئے ہیں : غَضْبَانَ اَسِفًا ”غصہ اور رنج میں بھرا ہوا“۔ عرب کہے گا : اَنَا عَطْشَانُ : میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں۔ اَنَا جَوْعَانُ : میں بھوک سے مرا جا رہا ہوں۔ تو رحمن وہ ہستی ہے جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 رحمن اور رحیم کا فرق پہلی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم میں بتایا جاچکا ہے۔ ان الفاظ کو یہاں دوبارہ لانے کا مقصد صرف اس بات کا اظہار ہے کہ تمام جہانوں کی ربوبیت عامہ کے تقاضے صرف اسی صورت میں پورے ہوسکتے ہیں جب ان عالمین کا پروردگار رحمن بھی ہو اور رحیم بھی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ رحمن اور رحیم نہ ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی بلکہ کب کی فنا ہوچکی ہوتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12 (جو دنیا میں سب کو رزق دے رہا ہے، سب کو راحت پہنچا رہا ہے۔ نفع رسانی کا دروازہ سب کے لیے کھولے ہوئے ہے) الرحمن العاطف علی البر والفاجر بالرزق لھم ودفع الافات عنہم (ابن عباس ؓ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 9 ۔13 (جو آخرت میں مومنین کو اجر ان کے استحقاق سے بہت زائد دے گا) الرحیم خاصۃ علی ال مومنین بالمغفرۃ وادخالھم بالجنۃ (ابن عباس ؓ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 9 ۔ صفات کے بیان میں صفت ربوبیت کو سب سے پہلے لانا اور اس کے معا بعد صفات رحمانیت ورحیمیت پر زور دینا خود اس امر کی ایک واضح شہادت ہے کہ عقائد اسلام میں ان صفات کا مرتبہ کتنا بلند اور ان کا درجہ کیسا اہم ہے۔ ان تصریحات کی موجودگی میں اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–5

تفسیر و تشریح سورة الفاتحۃ مکیۃ سبع آیاتٍ بالبسملۃ۔ سورة فاتحہ مکی ہے، مع بسم اللہ سات آیتیں ہیں۔ قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ تسمیہ : سورة کے لفظی معنی بلندی یا بلند منزل کے ہیں، السُّوْرَۃُ : الرفیعۃ (لسان) السورۃ المنزلۃ الرفیعۃ (راغب) گویا ہر سورت بلند مرتبہ کا نام ہے، سورة کے ایک معنی فصیل (شہر پناہ) کے ہیں، کے ہیں، سورة المدینۃ، حَائطُھَا (راغب) قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے مضامین کا اسی طرح احاطہ کئے رہتی ہیں جس طرح فصیل شہر کا احاطہ کئے رہتی ہے۔ الفاتحۃ : فاتحۃ کے لفظی معنی ہیں ابتداء کرنے والی، قرآن مجید کی اس پہلی سورت کو بھی فاتحہ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ( بہت مہربان ‘ نہایت رحم والا) قراء اس میں بحالت وقف بلکہ ہر حرف مکسور میں روم 2 ؂ کو جائز رکھتے ہیں۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة فاتحہ کا جز نہیں ہے ورنہ لفظ الرحمن الرحیم کی تکرار 3 ؂ لازم آتی ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ الفاظ رب العٰلمین کی تعلیل کے لیے مکرر ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. یہ دوسری اور تیسری صفت ہے۔ جب سارے جہانوں کی ربوبیت کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی اللہ کی بیحد و حساب رحمت کا ذکر ہوا، کیونکہ رحمت کے بغیر ربوبیت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ دونوں رحم میں سے مبالغے کے صیغے ہیں۔ معنی دونوں کا بہت زیادہ رحم والا ہے، مگر اس پر اتفاق ہے کہ ”الرَّحْمٰنِ“ میں مبالغہ زیادہ ہے، کیونکہ اس کے حروف ”الرَّحِيْمِ“ سے زیادہ ہیں (اور حروف کی زیادتی سے معنی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے) اور اس لیے بھی کہ لفظ ”اللہ“ کی طرح ”رحمان“ بھی صرف باری تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے، جب کہ ”رحیم“ بعض اوقات مخلوق پر بھی آجاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق فرمایا : (بِالْمُؤْمِنِيْنَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر 13: الرحمن الرحیم۔ رب العلمین سے اپنی صفت بیان کرنے کے بعد اپنی تعریف ان کلمات سے فرمائی کہ وہ بہت مہربان اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے، چونکہ رب العلمین کی صفت سے متصف ہونے میں ترہیب تھی اس لئے ساتھ ہی الرحمن الرحیم ذکر فرما دیا کیوں کہ اس میں ترغیب تھی تاکہ اس کا خوف اور اس کی طرف رغبت دونوں کو اپنی صفات میں جمع کرلے، پس یہ اس کی طاعت اور نافرمانی سے اجتناب میں مددگار ثابت ہوں گی جیسا کہ ارشاد فرمایا : نبئ عبادی ای انا الغفور الرحیم وان عذابی ھو العذاب الالیم (الحجر) (بتا دوسرے بندوں کو کہ میں بلاشبہ بہت بخشنے والا از حد رحم کرنے والا ہوں (اور یہ بھی بتا دو کہ) میرا عذاب بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ترجمہ : بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (2) (1) امام عبد ابن حمید نے مطر الوراق کے واسطے سے حضرت قتادہ ؓ اللہ تبارک و تعالیٰ کے قول لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ مخلوق میں سے کسی نے یہ وصف بیان نہیں کیا اور لفظ آیت الرحمن الرحیم میں اپنی ذات کی تعریف فرمائی لفظ آیت ملک یوم الدین اس دن سے وہ دن مراد ہے کہ جس دن لوگوں کو جزا دی جائے گی پھر فرمایا اس طرح تم کہو لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین ہم خاص کر تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور خاص کر تجھ سے مدد مانگتے ہیں یعنی اس میں اپنی ذات پر دلالت فرمائی ہے کہ میرے لئے ہی عبادت کرو اور مجھ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ : یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں رحم سے مشتق ہیں، بعض علماء کا قول ہے کہ دونوں کا ایک معنی ہے اور اکثر علماء یہ فرماتے ہیں کہ رحمن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے چونکہ دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں۔ اس لیے ہر ایک کے ترجمہ میں معنی مبالغہ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ رَحْمٰن اللہ پاک کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور رحیم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کی مخلوق کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ کما قال تبارک و تعالیٰ فی شان نبیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام (بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ط) اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ کا برابر مظاہرہ ہوتا رہتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

الرحمن الرحیم : بےحد مہربان۔ نہایت رحم والا۔ عجب نہیں کہ بسم اللہ میں وہ شان رحمت مراد ہو کہ جو تکوین اور تربیت عالم کے لیے باعث ہوئی اور الحمد میں الرحمن سے وہ رحمت مراد ہو جو خاص حالت تربیت میں مبذول ہوتی ہے اگر یہ رحمت روک لی جائے تو تربیت اور پرورشن ناممکن ہوجائے۔ اور الرحیم سے وہ رحمت مراد ہو کہ جو تربیت اور پرورش کے بعد جزاء اور سزا کی شکل میں ظاہر ہوگی۔ اس لیے کہ تربیت اور تکمیل کے بعد آثار اور ثمرات کا نہ مرتب ہونا اس تربیت کے ضائع کرنے کے مرادف ہے۔ کھیتی پک جانے کے بعد اگر اس پر درانتی نہ چلائی۔ گندم اور بھوسہ الگ الگ نہ کیا جائے تو کھیتی کو ضائع کرنا ہے۔ اسی طرح اگر اس عالم کی تربیت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 5: الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یہ دونوں صفت مشبہ کے صیغے ہیں اور دونوں میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اور دونوں رحم سے مشتق ہیں مفسرین کرام نے دونوں لفظوں کے مفہوم میں مختلف طریقوں سے فرق بیان فرمایا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ کہ رحمان دنیا کے اعتبار سے ہے اور رحیم آخرت کے اعتبار سے یعنی دنیا میں اس کی رحمت مومنوں اور کافروں کے لیے عام ہے۔ دنیا میں دنیوی فوائد سے مومن اور کافر یکساں طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ اس کی صفت رحمان کا اثر ہے اور آخرت میں اس کی رحمت مومنوں کے ساتھ مخصوص ہوگی اور کافر اس سے محروم رہیں گے۔ یہ اس کی صفت رحیم کا اثر ہوگا۔ جاء فی الدعاء یا رحمن الدنیا لانہ یعم المؤمن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(صفت رحمان اور رحیم ) فرمایا تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پرورش کنندہ ہے نیز الرحمن الرحیم وہ بیحد مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ یہاں پر رحمان اور رحیم دو صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں ، البتہ لفظ رحمان میں عمومیت پائی جاتی ہے ۔ امام (ب 2 تفسیر بیضادی ص 7 ج 1) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ رحمان کو رحمان الدنیا کہا جاتا ہے کیونکہ اس جہان میں اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت ہر کس وناکس کے لیے ہے اور اس میں مومن اور کا فر کا کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں بلا تخصیص ہر ایک کو میسر ہیں یہ اس کی صفت رحمانیت کا ظہور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ 2 ۙ یہ دونوں نام رحمۃ سے مشتق ہیں، دونوں میں مبالغہ ہے رحمن کے معنی میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے اس میں رحیم کی نسبت ایک حرف زائد ہے اور زیادۃ اللفظ تدل علی زیادۃ المعنی یعنی زائد حروف زیادۃ معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ رحمن کا لفظ اللّٰہ کی طرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے اور اس کی دلیل یہ آیت شریفہ ہے : قل ادعوا اللّٰہ ادادعوا الرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسمآء الحسنی (17:11) کہہ دو تم ( خدا کو) اللہ ( کے نام سے) پکارو یا رحمن ( کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ بخلاف اس کے رحیم کا لفظ ماسوی اللہ کے لئے بھی مستعمل ہے مثلاً رسول کریم ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–4

ترکیب : اَلْحَمْدُ مبتدا لِلّٰہِ ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر ہوئی۔ رَبّْ الْعَالَمِیْنَ اس کی صفت اول (گو یہ نکرہ ہے مگر معنی کے لحاظ سے معرفہ ہے کیونکہ رب العالمین سوائے خدا کے اور کسی پر صادق نہیں آتا) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ صفت و موصوف اس کی صفت دوم۔ مَالِکِ یَوْمْ الدِّیْنَ مضاف و مضاف الیہ مل کر اس کی صفت سوم۔ یہ موصوف اپنی تینوں صفات سے مل کر ثابت کے متعلق ہو کر مبتدا کی خبر ہوئی اور خبر و مبتدا مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ گو مقام انشاء حمد جملہ فعلیہ چاہتا ہے مگر چونکہ خبر حمد بھی انشاء حمد ہے۔ دوام و ثبات کے لیے جملہ اسمیہ لایا گیا۔ تفسیر : ان تینوں آیتوں میں خدائے تعالیٰ بہت سی حکمتیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ رحمن اور رحیم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔ ان دونوں کا مادہ رحمت ہے۔ لیکن یہ رحمت کے دو مختلف پہلوئوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ رحمن عربی زبان میں فعلان کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے اور رحیم فعیل کے وزن پر صفت مشبہ ہے۔ فعلان میں تین باتیں نمایاں ہیں۔ 1 فعلان کا وزن صفات عارضہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے پیاسے کے لیے عطشان ٗ غضبناک کے لیے غضبان ٗ سراسیمہ کے لیے حیران ٗ مست کے لیے سکران ٗ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ 2 فعلان کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اس طرح رحمن کا لفظ جو رحمت سے اسم مبالغہ ہے کے معنی ہوں گے کہ رحمن وہ ذات ہے جس میں صفت رحمت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن رحمن فعلان کے وزن پر مبالغے یعنی سپر ڈگری (Super Degree) اور رحیم فعیل کے وزن پر اسم صفت مشبہ (۔۔ لکھنا ہے) کے صیغے ہیں۔ اہل علم کے نزدیک رحمن کی صفت سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کا رحیم ہونا صرف مومنوں کے لیے خاص ہے۔ الرحمن : لامتناہی اور رحمت مجسم کا ترجمان ہے اور لفظ ” الرحیم “ کائنات پر نازل ہونے والی مسلسل اور دائمی رحمت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے معنٰی یہ ہوا کہ وہ ” اللہ “ بےانتہا مہربان ‘ ہمہ وقت اور ہر حال میں رحم فرمانے والا ہے۔ فرق یہ ہے کہ رحیم کسی مشفق شخصیت کو کہا جاسکتا ہے مگر کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ” الرحمن “ کہنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ : ان کی تفصیل بسم اللہ کے بیان میں گزری، ان کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ تسمیہ فاتحہ کا حصہ نہیں کیونکہ اعادہ فائدہ سے خالی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 2–3

(2) (الحمد للہ) یہ جملہ لفظا خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ مستحق حمد کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جو کہ ذات باری تعالیٰ ہے اور اس میں مخلوق کو تعلیم دی گئی ہے ، تقدیری عبارۃ یوں ہوگی ، قولوا الحمد للہ یعنی الحمد للہ “ کہو ، حمد کبھی نعمۃ کا شکر ادا کرنے کے معنی میں ہوتی ہے اور کبھی خصال حمیدہ یعنی اچھے اوصاف کی تعریف کرنے کے معنی میں ہوتی ہے چناچہ کہا جاتا ہے ” حمدت فلانا علی ما اسدی الی من نعمۃ “ کہ میں نے فلاں کی نعمت عطا کرنے پر تعریف کی اور یوں بھی کہا جاتا ہے ” حمدتہ علی علمہ وشجاعتہ “ کہ میں نے فلاں کی تعریف اس کے علم اور دلیری پر کی اور شکر سوائے عطاء نعمۃ کے ادا نہیں کیا جاتا اور حمد شکر سے عام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 2–7

(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–3

(الحمد للہ) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کے ان افعال کی ثنا ہے جو فضل و عدل کے درمیان دائر ہیں۔ پس ہر پہلو سے کامل حمد کا مالک وہی ہے۔ (رب العلمین) ” جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ (رب) وہ ہستی ہے جو تمام جہانوں کی مربی ہے۔ (العالمین) سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق ہے۔ اس نے ان کو پیدا کیا، ان کے لئے ان کی زندگی کا سروسامان مہیا کیا اور پھر انہیں اپنی ان عظیم نعمتوں سے نوازا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا۔ پس مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔ مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کی تربیت (پرورش کرنے) کی دو قسمیں ہیں۔ (1) تربیت عامہ (2) تربیت خاصہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 2–7

سورة فاتحہ نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت کے اندر سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورة کی قرأت کی جائے گی۔ اگر نمازی ان رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قرأت ترک کر کے اس کے بجائے کوئی اور سورت پڑھ لے تو یہ بری حرکت ہوگی۔ تاہم نماز ہوجائے گی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر نمازی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ کفایت کرنے والی قرأت کی کم سے کم مقدار سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ اگر نمازی سورة فاتحہ کا ایک حرف بھی چھوڑ دے اور نماز سے باہر ہوجائے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 خداوند قدوس کی وسعت رحمت کا بیان : کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جس نے دنیا کے اس دار الامتحان میں اپنی عمومی رحمت سے مومن و کافر اور اپنی مطیع و سرکش سب ہی مخلوق کو نواز رکھا ہے جو کہ حدیث صحیح کی رو سے اس کی رحمت بےنہایت کے سوویں حصے میں سے ہے۔ اور وہی ہے جو آخرت کے اس حقیقی اور اَبَدی جہاں کے دار الجزاء میں اپنے نیک اور صالح بندوں کو اپنے فضل و کرم سے اپنی اس خصوصی رحمت سے نوازے گا جو خالص اہل ایمان کے لیے ہوگی۔ اور جو سو میں کے باقی ننانوے حصوں پر محیط و مشتمل ہوگی۔ اور جب اس کی رحمت بےپایاں کے سوویں حصے کا یہ عالم ہے کہ وہ اس پوری دنیا جہاں پر چھایا ہوا ہے تو پھر اس جہان کی رحمت کی عظمتوں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

تشریح : اس آیت میں اقرار ربوبیت کے ساتھ ساتھ بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ اللہ رب العالمین ہی نہیں بلکہ انتہائی محبت اور شفقت کرنے والی ایسی ہستی ہے کہ جس کا رحم و کرم بےحد و حساب ہے۔ ماں کی محبت، اللہ کی محبت کا ایک بڑا ہی معمولی نمونہ ہے۔ وہ نہ صرف رحم کرنے والا ہے، بلکہ اس کی رحمت، محبت اور شفقت اتنی زیادہ ہے کہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ بغیر قیمت کے ہمیں زندگی دیتا ہے۔ ہوا، پانی، پھل، پھول اور مختلف اقسام کے اناج دیتا ہے، انسان کو جب اللہ نے بنایا تو ان تمام چیزوں کے نام اور استعمال کے طریقے سکھا دیئے اسی علم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ (جو سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے) نے حضرت آدم کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 2–7

رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 7 دعا مانگنے کا طریقہ : اللہ کریم نے نوع انسانی کو ایک جامع اور مکمل دعا تعلیم فرمائی ، ایک ایسی دعا جس میں اللہ کی تعریف اقرار عبودیت کے ساتھ استعانت و امداد کی درخواست اور پھر ہر دو عالم کی بھلائی اور اچھائی کا سوال ہے یہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے ، پہلے اللہ کی تعریف پھر اپنا اقرار عجز ، وعدہ بندگی اور پھر اپنی آرزو تمنا۔ تعوذ و تسمیہ کے بعد انسان سب سے پہلے یہ اقرار کرتا ہے کہ جو کمالات اور ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ، حسن و جمال ہو یا جاہ و جلال قوت و طاقت ہو یا علم و ہنر جہاں بھی جس چیز کی خوبی بیان ہوگی وہ دراصل تصویر کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

(5) یہ اسمائے حسنی میں سے ہیں۔ رحمان بروزن نعملان ہے جس میں کسی کی کثرت پائی جاتی ہے اور رحیم بروزن فعیل ہے جس میں دوام کے معنی پائے جاتے ہیں گو یا اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے اور ہمیشہ رحم کرنے والا بھی ہے بعض نے کہا ہے کہ دنیا میں عموم رحمت کے اعبات سے رحمن ہے جو ہر مومن اور ہر کافر کا شامل ہے اور آخرت میں خاص طور پر اپنے فرما نبردار بندوں پر رحمت کے اعتبار سے رحیم ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:2) الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ : ہر دو کی وضاحت اوپر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے بیان میں ہوچکی ہے اللہ کی صفت دوم، سوم یا اللہ کا بدل ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

(الرحمٰن الرحیم) : رحمٰن اور رحیم یہ دونوں الفاظ مبالغہ والے ہیں۔ مبالغہ یعنی کسی بات یا حقیقت کے اظہار کے لئے اس کو اہمیت دینے کے لئے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا ۔ ” رحمۃ “ کے لفظ سے یہ رحمٰن اور رحیم بنائے گئے ہیں۔ ان کے معنی ہیں ہر مخلوق پر بےانتہا مہربانیاں کرنے والا اللہ جس کے فضل و کرم سے یہ دنیا قائم ہے۔ جس نے اس دنیا کو پھیلا کر اس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے روحانی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا اور پھر ان پیغمبروں نے ساری دنیا کے انسانوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دی۔ رحمٰن و رحیم وہ ذات ہے جو دنیا اور آخرت میں کام آنے والی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ لفظ رحمٰن کا تعلق دنیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–7

خواص سورة فاتحہ الحمد شریف چالیس بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے بخار والے کے منہ پر چھینٹا دیں انشاء اللہ تعالیٰ بخار جاتا رہے گا۔ سورة فاتحہ کو چینی کے پاک برتن پر مشک و زعفران سے لکھ کر اگر مریض کو پلا دیں تو ہر قسم کے جسمانی مرض انشاء اللہ تعالیٰ جاتے رہیں گے۔ چیچک کے واسطے گیارہ مرتبہ اس سورة کو پڑھ کر دم کرنا مجرب ہے۔ الحمد شریف ہر روز صبح کی سنتوں کے بعد اور فرضوں سے پہلے اکتالیس مرتبہ پڑھنا موجب برکت ہے اور ہر کام کے لیے مفید ہے۔ اس کو پڑھ کر جو دعا مانگے گا وہ انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔ فضائل القرآن۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے زیادہ عظمت سورة فاتحہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] رحمن مبالغہ کا صیغہ ہے اور رحیم صفت کا۔ رحمن اللہ کی رحمت کے جوش و خروش کو ظاہر کرتا ہے اور رحیم اس کے دوام و تسلسل کو، اللہ کی رحمت میں صرف جوش ہی نہیں ہے بلکہ پائداری اور استقلال بھی ہے۔ اس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا تو پیدا کردی اور پھر پیدا کرکے اس کی خبرگیری اور نگہداشت سے غافل ہوگیا ہو بلکہ اس کو پیدا کر کے وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے۔ پھر اس کی رحمتیں اس چند روزہ زندگی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ جو لوگ اس کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے رہیں گے ان پر اس کی رحمت ایک ایسی لازوال اور ابدی زندگی میں بھی ہوگی جو کبھی ختم ہونے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) خدا کے متعلق قرآنی تخیل یہ ہے کہ وہ ساری کائنات کا رب ہے ۔ اس کی خدائی زمان ومکان کی قیود سے بالا و بلند ہے ۔ حل لغات : الحمد ، مصدر تعریف و ستائش اس صورت میں جبکہ ممدوح مختار اور فعل جمیل وخیر ہو ۔ رب : اسم صفت جو تخلیق واختراع کے بعد کائنات کا ہر منزل میں خیال رکھے یعنی ایجاد و تصویر سے لیکر تکمیل و تزئین تک ہر مرحلے میں اس کا التفات کرم فرما رہے ۔ العلمین : جمع عالم اسم آلہ خلاف قیاس ، دنیا یا کائنات ، ہر شے ہر جگہ ، ہر چیز ، الرحمن ، رحم رحمنہ سے اسم صفت رحم سے مطلق ہے یعنی ماورانہ شفقت کی انتہائی تنزیہی صورت ، مہرومحبت کا پاکیزہ ترین پیکر ، اھد ۔ مصدر ہدایت ، صیغہ امر لطف و محبت سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 1–3

ف 1 اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بےحد مہربان ہے اور بےانتہا رحم کرنے والا ہے ۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس بڑی رحمت والی ہے اور اسکی رحمت و مہربانی بڑی ہی عام ہے ۔ میں اس سورت کو اسی کے نام کی برکت حاصل کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں تا کہ آداب تلاوت میں اگر کوئی کوتاہی یا سہو ہوجائے یا کسی آیت کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوجائے تو خدائے تعالیٰ اپنی عام رحمت و مہربانی سے اس کو در گزر فرما دے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جن اہم اور ذی شان کام کو شروع کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی جائے اس کام میں کامیابی اور برکت نہیں ہوتی۔ (تسہیل)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–6

ف 2۔ مخلوقات کی الگ الگ جنس ایک ایک عالم کہلاتا ہے مثلا عالم ملائکہ عالم انسان، عالم پر ند، عالم حیوانات، عالم جن۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رحمت الٰہی کی وسعت ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے : 15: ” الرحمٰن “ اور ” الرحیم “ اگرچہ دونوں اسم رحمت سے ہیں لیکن یہ رحمت کے دو مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔ رحمت کا ایک پہلو رحمت عامہ سے تعلق رکھتا ہے جس کو ” الرحمٰن “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی وہ رحمت جو محض صفت عارضہ ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کے لئے یکساں کام کرتی ہے۔ ” الرحیم “ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات جس میں نہ صرف رحمت ہے بلکہ جس سے ہمیشہ رحمت کا ظہور ہوتا ہی رہتا ہے اور ہر آن اور ہر لمحہ تمام کائنات خلقت اسی سے فیضیاب ہورہی ہے۔ اگر اس کی صفت ” الرحیم “ نہ ہوتی تو ہر ظالم اور زیادتی کرنے والا ظلم اور زیادتی کرتے ہی اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second verse speaks of the Divine quality of mercy, employing two adjectives Rahman and Rahim of which are hyperbolic terms in Arabic, and respectively connote the superabundance and perfection of Divine mercy. The reference to this particular attribute in this situation is perhaps intended to be a reminder of the fact that it is not through any external compulsion or inner need or any kind of necessity whatsoever that Allah has assumed the responsibility of nurturing the whole of His creation, but in response to the demand of His own quality of mercy. If this whole universe did not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4. Whenever we are deeply impressed by the greatness of something we try to express our feelings by using superlatives. If the use of one superlative does not do full justice to our feelings, we tend to re-emphasize the extraordinary excellence of the object of our admiration by adding a second superlative of nearly equivalent meaning. This would seem to explain the use of the word Rahim following Rahman. The form of the word Rahman connotes intensity. Yet God's mercy and beneficence towards His creatures is so great, so extensive and of such an infinite nature that no one word, however…

Read the full tafseer →