ساتوں قاری الحمد کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور الحمد للہ کو مبتدا خبر مانتے ہیں۔
سفیان بن عینیہ اور روبہ بن عجاج کا قول ہے کہ دال پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے۔ ابن ابی عبلہ الحمد کی دال کو اور اللہ کے پہلے لام دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس لام کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے مگر اس کی شہادت زبان عرب سے ملتی ہے شاذ ہے۔ حسن اور زید بن علی ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور لام کے تابع دال کو کرتے ہیں۔ ابن جریر فرماتے ہیں " الحمد للہ کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو…
Read the full tafseer →سورة الْفَاتِحَة 2
جیسا کہ ہم دیباچہ میں بیان کرچکے ہیں سورة فاتحہ اصل میں تو ایک دعا ہے، لیکن دعا کی ابتدا اس ہستی کی تعریف سے کی جا رہی ہے جس سے ہم دعا مانگنا چاہتے ہیں۔ یہ گویا اس امر کی تعلیم ہے کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقہ سے مانگو۔ یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کردیا۔ تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے دعا کر رہے ہو، پہلے اس کی خوبی کا، اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو۔
تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں، دو وجوہ سے کیا کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو، قطع نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے معنی یہ ہیں کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں یعنی دنیا میں جہاں کہیں کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے کیونکہ اس جہان رنگ و بو میں جہان ہزاروں حسین مناظر اور لاکھوں دل کش نظارے اور کڑوڑوں نفع بخش چیزیں انسان کے دامن دل کو ہر وقت اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں اور اپنی تعریف پر مجبور کرتی ہیں اگر ذرا نظر کو گہرا کیا جائے تو ان سب چیزوں کے پردے میں ایک ہی دست قدرت کار فرما نظر آتا ہے اور دنیا میں جہان کہیں کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے اس کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں جیسے کسی نقش و نگار یا تصویر کی یا کسی صنعت کی تعریف کی جائے کہ یہ سب تعریفیں درحقیقت…
Read the full tafseer →حمد: حمد کا ترجمہ عام طور پر قرآن مجید کے مترجموں نے تعریف کیا ہے۔ لیکن میں نے اس کا ترجمہ شکر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ اس ترکیب کے ساتھ استعمال ہوا ہے اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے جس مفہوم کو ہم شکر کے لفظ سے ادا کرتے ہیں مثلاً وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہٰذَا۔۔۴۳ : اعراف۔ انہوں نے کہا شکر کا سزا وار ہے اللہ جس نے ہمیں اس کی ہدایت بخشی۔ وَاٰخِرُ دَعْوَاہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔۔۱۰ : یونس۔ اور ان کی آخری صدا یہ ہو گی کہ شکر ہے اللہ کے لئے جو عالم کا رب ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَہَبَ لِیْ…
Read the full tafseer →1 اَلْحَمْدُ میں ' ال ' مخصوص کے لئے ہے یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یا اس کے لئے خاص ہیں کیونکہ تعریف کا اصل مستحق اور سزاوار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے اندر کوئی خوبی، حسن یا کمال ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے اس لئے حمد (تعریف) کا مستحق بھی وہی ہے۔ اللہ یہ اللہ کا ذاتی نام ہے اس کا استعمال کسی اور کے لئے جائز نہیں لَا اِلٰہَ افضل الذکر اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کو افضل دعا کہا گیا ہے۔ (ترمذی، نسائی وغیرہ) صحیح مسلم اور نسائی کی روایت میں ہے اَلْحَمْدُ لِلّہِ میزان کو بھر دیتا ہے اسی لئے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ ہر کھانے پر اور پینے پر بندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2) اگر آپ کسی عمارت کی تعریف کریں تو در حقیقت وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے، لہذا اس کائنات میں جس کسی چیز کی تعریف کی جائے وہ بالآخر اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے ؛ کیونکہ وہ چیز اسی کی بنائی ہوئی ہے، تمام جہانوں کا پروردگار کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انسانوں کا جہان ہو یا جانوروں کا، سب کی تخلیق اور پرورش اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور ان جہانوں میں جو کوئی چیز قابل تعریف ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور شان ربوبیت کی وجہ سے ہے۔
Read the full tafseer →بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ آغاز کرنے کے بعد ‘ اب انسان اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اس کی تعریف کرتا ہے اور پوری کائنات کے لئے اس کی عالمگیر ربوبیت کا اعلان کرتا ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے “۔ اللہ کی تعریف وہ شعور ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتے ہی قلب مومن میں موجزن ہوتا ہے اور مومن کا دل اس سے سرشار ہوجاتا ہے کیونکہ وجود انسانی اپنے آغاز ہی میں بےپایاں نعمتوں اور فیوض میں سے ایک فیض ہے ‘ جو قلب مومن میں اللہ کی حمد وثناکے جذبات کے مہمیز کا کام کرتا ہے۔
اللہ کی نعمتیں قدم قدم پر ‘ لمحہ لمحہ ‘ مسلسل اور جوق درجوق آتی ہیں…
Read the full tafseer →2 یعنی سب تعریفیں عمدہ سے عمدہ اول سے آخر تک جو ہوئی ہیں اور جو ہوں گی خدا ہی کو لائق ہیں۔ کیونکہ ہر نعمت اور ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور عطا کرنے والا وہی ہے خواہ بلاواسطہ عطا فرمائے یا بواسطہ جیسے دھوپ کی وجہ سے اگر کسی کو حرارت یا نور پہنچے تو حقیقت میں آفتاب کا فیض ہے۔ (حمد رابا تو نسبتے ست درست بردر ہر کہ رفت بردر تست) تو اب اس کا یہ ترجمہ کرنا کہ (ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے) بڑی کوتاہی کی بات ہے جس کو اہل فہم خوب سمجھتے ہیں۔
3 مجموعہ مخلوقات کو عالم کہتے ہیں اور اسی لئے اس کی جمع نہیں لاتے۔ مگر آیت میں عالم سے مراد ہر ہر جنس (مثلاً عالم جن، عالم ملائکہ، عالم انس وغیرہ وغیرہ)…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اَلْحَمْدُ مبتدأ ‘ لِلّٰہِ خبر۔ ”کل تعریف کل حمد و ثنا اور کل شکر اللہ کے لیے ہے“۔ اب وہ اللہ کون ہے ؟ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”جو تمام جہانوں کا مالک ہے پروردگار ہے ‘ پرورش کنندہ ہے“۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”جو رحمن اور رحیم ہے“۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ میں لام حرف جر ہے لہٰذا ”اللّٰہ“ مجرور ہے۔ اس کے بعد آنے والے کلمات رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ‘ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اور مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ”اللّٰہ“ کا بدل ہونے کے باعث مجرور ہیں۔ یہ گویا ایک جملہ چلا آ رہا ہے : کل حمد ‘ کل ثنا ‘ کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے ‘ مختار ہے ‘ آقا ہے ‘ پروردگار ہے ‘ رحمن ہے اور…
Read the full tafseer →4 حمد اور شکر میں لغوی فرق :۔ حمد کا معنی تعریف بھی ہوسکتا ہے اور شکر بھی۔ تعریف (حمد) عام ہے اور شکر خاص۔ حمد کا تعلق قابل تعریف کارناموں سے ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان، شمس و قمر اور ستاروں کی حرکت غرض تمام کائنات کا اس قدر مربوط اور منظم نظام بنادیا ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس پر اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اور شکر کا تعلق ان خاص انعامات سے ہوتا ہے جو کسی خاص ذات سے متعلق ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا انسان کو احسن تقویم پر پیدا کرنا۔ کسی کو صحت اور رزق کی فراوانیوں سے مالا مال کرنا۔ ایسی نعمتوں کے اعتراف کو شکر کہا جاتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ ہی ہر طرح کی حمد اور شکر…
Read the full tafseer →9 اللہ اللہ کے لئے اسم ذات ہے۔ کسی اور ہستی پر اس کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔ فارسی کے خدا یا انگریزی کے گاڈ کی طرح اسم نکرہ نہیں کہ معبود واحد کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی بولا جاسکے۔ اس کی نہ جمع آئی ہے، نہ یہ کسی لفظ سے مشتق ہے اور نہ اس کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں ممکن ہے۔ علم للذات واجب الوجود المستجمع بجمیع صفات الکمال غیر مشتق (تاج) لم یسم بہ غیرہ تبارک وتعالی ولھذا الا یعرف فی الکلام العرب لہ اشتقاق من فعل یفعل (ابن کثیر) رحمن کا صحیح ترجمہ دشوار ہے۔ مصدر رحمۃ سے صیغہ مبالغہ ہے فعلان کے وزن پر، زیادتی صفت کے لیے۔ جس کے بعد زیادتی کا کوئی درجہ نہ ہو۔ معناہ عند اھل اللغۃ ذوالرحمۃ التی لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
تفسیر و تشریح
سورة الفاتحۃ مکیۃ سبع آیاتٍ بالبسملۃ۔
سورة فاتحہ مکی ہے، مع بسم اللہ سات آیتیں ہیں۔
قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ تسمیہ : سورة کے لفظی معنی بلندی یا بلند منزل کے ہیں، السُّوْرَۃُ : الرفیعۃ (لسان) السورۃ المنزلۃ الرفیعۃ (راغب) گویا ہر سورت بلند مرتبہ کا نام ہے، سورة کے ایک معنی فصیل (شہر پناہ) کے ہیں، کے ہیں، سورة المدینۃ، حَائطُھَا (راغب) قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے مضامین کا اسی طرح احاطہ کئے رہتی ہیں جس طرح فصیل شہر کا احاطہ کئے رہتی ہے۔
الفاتحۃ : فاتحۃ کے لفظی معنی ہیں ابتداء کرنے والی، قرآن مجید کی اس پہلی سورت کو بھی فاتحہ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے،…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ ( سب تعریف) کسی اختیاری خوبی پر زبان سے تعریف کرنے کو حمد کہتے ہیں۔ خواہ ( اس میں) نعمت
کی خصوصیت ہو یا نہ ہو۔ اس لیے حمد با عتبار متعلق شکر کی نسبت عام ہے کیونکہ شکر نعمت کے ساتھ مخصوص ہے اور باعتبار مورد کے خاص ہے (ادائیگی کے اعتبار سے شکر سے خاص ہے ‘ 12) کیونکہ شکر زبان و دل اور دیگر تمام اعضاء سے صادر ہوسکتا ہے ( اور حمد صرف زبان سے خصوصیت رکھتی ہے) اسی لیے رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے : (الحمد رأس الشکر بما شکر اللہ عبد لا یحمدہ ‘ 12) کہ حمد شکر کی اصل ہے جس شخص نے خدا کی حمد نہ کی اس نے ذرا بھی شکر نہ کیا۔ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بروایت قتادہ اور انہوں نے بروایت عبد اللہ بن عمر…
Read the full tafseer →(1) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمام شکر اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات پر انعام کرتا ہے اور مخلوق اس کی حمد وثنا کرتی ہے۔ ایک یہ تفسیر بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں پر شکر ہے جو اس نے اپنے مومن بندوں پر کیں اور ان کو ایمان کی ہدایت عطا فرما کر سب سے بڑا انعام دیا، یہ تفسیر بھی ہے کہ شکر وحدانیت اور الوہیت اس اکیلے اللہ کے لیے ہے جس کا کوئی معاون اور وزیر نہیں ہے اور وہ ہر ہر جاندار کا پالنے والا ہے جو زمین اور آسمان پر ہے اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ وہ جنوں اور انسانوں کا مالک اور سردار ہے، یہ بھی تفسیر ہے کہ وہ مخلوق کو پیدا کرنے والا ان کو رزق…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : حمد کا معنی کسی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ اس پر الف لام استغراق کا ہے جس سے مراد حمد کے تمام افراد ہیں، یعنی جو تعریف بھی ہے اللہ ہی کی ہے، نہ کسی دوسرے خود ساختہ معبود کی نہ کسی مخلوق کی، کیونکہ مخلوق میں اگر تعریف کے لائق کوئی خوبی ہے تو وہ اسی کی پیدا کردہ ہے۔
لفظ ”اللہ“ چونکہ ذاتی نام ہے، اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات آجاتے ہیں، وہ ننانوے اسماء وصفات بھی جن کا ذکر حدیث میں ہے اور وہ بھی جو ان کے علاوہ ہیں، خواہ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں یا ان کا علم صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ جس طرح محمد ﷺ سے مراد وہ ذات گرامی ہے جو نبی بھی ہے…
Read the full tafseer →پس الحمد للہ رب العلمین کا مطلب یہ ہے کہ میں نے خود اپنی حمد کی ہے اس سے پہلے کہ عالمین میں سے کوئی میری حمد کرتا اور میں نے اپنی خود حمد ازل میں بغیر کسی علت کے کی تھی اور مخلوق جو میری حمد کرتی ہے وہ علل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : مخلوق جس کو کمال کلی عطا نہیں کیا گیا اس کا اپنی تعریف کرنا اچھا نہیں تاکہ وہ اپنے لئے منافع حاصل کرے اور اپنے آپ سے نقصان دور کرے۔
بعض علماء نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کے بندے اس کی حمد سے عاجز ہیں تو اس نے اپنی حمد ازل میں خود ہی کی۔ پس اس کے بندوں نے انتہائی کوشش کی اس کی حمد سے عاجزی کا اظہار ہے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ
ترجمہ : سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔
(1) امام عبد الرزاق نے المصنف میں اور حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں الخطابی نے الغریب میں بیہقی نے الادب میں دیلمی نے مسند الفردوس میں اور ثعلبی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ الحمدللہ شکر کی اصل ہے اس بندے نے شکر ادا نہیں کیا جس نے اس کی حمد بیان نہیں کی۔
Read the full tafseer →[ اَلْحَمْدُ : تمام حمد ][ لِلّٰهِ : اللہ کے لیے ہے ][ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ : جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے ]
ح م د
حَمِدَ یَحْمَدُ (س) حَمْدًا : محسن کی تعریف کرنا۔
حَامِدٌ (اسم الفاعل) : حمد کرنے والا ۔ { اَلتَّائِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحَامِدُوْنَ } (التوبۃ :112) ” توبہ کرنے والے ‘ عبادت کرنے والے ‘ حمد کرنے والے۔ “
مَحْمُوْدٌ (اسم المفعول) : حمد کیا ہوا۔ { عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا } (بنی اسرائیل ) ” قریب ہے کہ آپ کو پہنچا دے ‘ آپ کا رب ‘ حمد کیے ہوئے مقام پر۔ “
حَمَّدَ یُحَمِّدُ (تفعیل) تَحْمِیْدًا : محسن کی کثرت سے حمد کرنا۔
مُحَمَّدٌ (اسم المفعول) :…
Read the full tafseer →سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں
اوّل کی تین آیات میں اللہ پاک کی تعریف اور اسم ذات اور اللہ پاک کی بڑی بڑی صفات ذکر کی گئی ہیں جو دیگر صفات کمالیہ کو بھی شامل ہیں۔
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ اس دعویٰ کو واضح اور ثابت کرنے میں مذکورہ صفات کو بڑا دخل ہے یعنی جو ذات پاک ایسی ایسی صفات سے متصف ہے ظاہر ہے کہ ہر تعریف کی مستحق ہے۔ جتنی تعریفیں آج تک ہوئی ہیں یا آئندہ دنیا و آخرت میں ہوں گی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تعریف کسی نے کی ہے یا آئندہ کوئی کرے گا اس کا اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہونا تو ظاہر ہے اور جو تعریفیں اس کی مخلوق کی کی جاتی ہیں یا آئندہ کی جائیں…
Read the full tafseer →حقیقی 1 ستائش اللہ ہی کے لیے مخصوص 2 ہے جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے
(1 قولہ حقیقی ستائش اشارۃ الی ان الاولی ان یکون لام التعریف فی الحمد للجنس والحقیقۃ کما اختارہ جار اللہ العلامۃ وھوابلغ من الاستغراق کما لایخفی علی ارباب الذوق فافھم ذلک واستقم۔
2 ۔ قولہ مخصوص ہے۔ ھذہ ترجمۃ لام الاختصاص فی اللہ)
1 ۔ جو فعل علم اور اختیار اور قدرت اور ارادہ سے صادر ہو اس کی واقعی خوبی بیان کرنے کو حمد کہتے ہیں۔ مدح کہتے ہیں۔ مدح میں نہ فعل کا اختیار ہونا ضروری ہے اور نہ اس خوبی کا واقعی ہونا لازمی ہے اسی وجہ سے مدح کسی وقت ممنوع بھی ہوجاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔
احثوا التراب وجوہ المداحین
مدح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
بسم اللہ الرحمن الرحیم
1 سورة الفاتحہ
خلاصہ : سورة فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے ” اُمُّ الْقُرْاٰنْ “ سب سے زیادہ جامع اور مشہور ہے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ امّ کے معنی یہاں مغز اور خلاصہ کے ہیں یہ سورت چونکہ ان تمام مضامین کا خلاصہ ہے جو سارے قرآن میں بالتفصیل مذکور ہیں اس لیے یہ سورة مبارکہ ام القرآن کے نام سے موسوم کی گئی۔ اس کی دو تقریریں ہیں۔
پہلی تقریر : مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے اس کی تقریر یہ فرمائی کہ قرآن مجید میں چھ مضامین بیان کیے گئے ہیں۔
1 ۔ توحید 2 ۔ رسالت 3 ۔ احکام 4 ۔ قیامت 5 ۔ ماننے والوں کے احوال 6 ۔ نہ ماننے والوں کے احوال۔
اور سورة فاتحہ میں یہ تمام…
Read the full tafseer →سورة الفاتحۃ 1 فضائل قرآن اور اصول تفسیر درس ششم 6
قرآن کریم کے بارے میں چند ضروری مسائل کل عرض کیے تھے ۔ اب قرآن پاک کی فضیلت بحیثیت مجموعی اور اس کے طریقہ تفسیر کے متعلق کچھ باتیں عرض کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد سورة فاتحہ کی فضیلت اور اس کے الفاظ کی تشریح وغیرہ بیان ہوگی۔
(اشرف کتاب)
امام ابن کثیر آٹھویں صدی ہجری کے بڑے پائے کے مفسر قرآن ہوئے ہیں ۔ آپ نے بخاری شریف کی شرح بھی لکھی ہے اس کے علاوہ آپ نے تاریخ کی بڑی مستند کتاب لکھی ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آٹھویں صدی تک کی تاریخی روایات سند کے ساتھ بیان کی ہیں ۔ قرآن پاک کی تفسیر کے ضمن میں فرماتے ہیں (1 تفسیر ابن کثیرص) کہ قرآن…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 1 ۙ
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [ هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ترکیب : اَلْحَمْدُ مبتدا لِلّٰہِ ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر ہوئی۔ رَبّْ الْعَالَمِیْنَ اس کی صفت اول (گو یہ نکرہ ہے مگر معنی کے لحاظ سے معرفہ ہے کیونکہ رب العالمین سوائے خدا کے اور کسی پر صادق نہیں آتا) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ صفت و موصوف اس کی صفت دوم۔ مَالِکِ یَوْمْ الدِّیْنَ مضاف و مضاف الیہ مل کر اس کی صفت سوم۔ یہ موصوف اپنی تینوں صفات سے مل کر ثابت کے متعلق ہو کر مبتدا کی خبر ہوئی اور خبر و مبتدا مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ گو مقام انشاء حمد جملہ فعلیہ چاہتا ہے مگر چونکہ خبر حمد بھی انشاء حمد ہے۔ دوام و ثبات کے لیے جملہ اسمیہ لایا گیا۔
تفسیر : ان تینوں آیتوں میں خدائے تعالیٰ بہت سی حکمتیں…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
” اَلحَمدُ “ حمد پر الف لام استغراق کا ہے یا جنس کا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام تعریفیں اور ہر طرح کی تعریفیں، یعنی تعریف کے جتنے انداز ہوسکتے ہیں اور تعریف جتنے پہلوؤں سے ممکن ہے اور تعریف کی جتنی اقسام تصور کی جاسکتی ہیں اور تعریف کے لیے جتنے خوبصورت الفاظ اہل لغت نے وضع کیے ہیں اور تعریف کی جتنی کیفیتیں آج تک اہل دل نے محسوس کی ہیں۔ اہل لغت اہل درد اور اہل دل کا یہ سارا سرمایہ صرف اللہ کی بارگاہ کے لیے ہے۔ اس وسعت کے ساتھ کوئی اس میں شریک نہیں ہے۔
” حمد “ کا معنی جس طرح تعریف کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شکر بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن شکر حمد کے مقابلے میں معنویت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
اللہ کائنات کے رب نے اپنی مخلوق کی پرورش کا بندوبست ایسے مضبوط نظام کے ساتھ فرمایا ہے کہ ہر چیز کو زندگی اور اس کی بقا کے لیے جو کچھ اور جس قد رچاہیے اسے اسی حالت اور مقام پر پہنچایا جارہا ہے۔ پتھر کا کیڑا چاروں طرف بند چٹان کے اندر اپنی خوراک لے رہا ہے، مرغی کا بچہ انڈے میں پل رہا ہے، مچھلیاں دریا میں، پرندے فضا میں اور درندے صحرا میں اپنی اپنی خوراک لے رہے ہیں اور اپنے ماحول میں مطمئن اور خوش وخرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر دانہ اپنی آغوش میں زندگی اور ہر بیج اپنے سینے میں نشوونما کا سامان لیے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ پھول کی کلی کو جس ہوا اور فضا کی ضرورت ہے اسے مہیا کی جارہی ہے۔ زندگی کے…
Read the full tafseer →وجہ اول : کیونکہ رحیم میں ایک لفظ زائد ہے، اور رحمان میں دو لفظ ہیں اور الفاظ کا اضافہ معنی کے اضافہ پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے دعا میں یا رحمن الدنیا کے الفاظ آئے ہیں، کیونکہ رحمن کی رحمت سے مومن و کافر ہر دو فائدہ اٹھا رہے ہیں اور رحیم الاخرۃ کے لفظ آئے ہیں، کیونکہ وہ رحمت ایمان والوں کے لیے مخصوص ہے۔
وجہ دوم : علماء نے فرمایا رحمن اللہ تعلای کا نام ہونے کی وجہ سے خاص سے اس سے غیر اللہ کی صفت نہیں کی جاسکتی، اور معنی کے اعتبار سے عام ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا، الرحیم اس کے برعکس غیر کی صفت بن سکتا ہے اور اس کی رحمت ایمان والوں کے لیے خاص ہوگی، اسی لیے رحمن کو مقدم کیا گیا۔
سوال : اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2) (الحمد للہ) یہ جملہ لفظا خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ مستحق حمد کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جو کہ ذات باری تعالیٰ ہے اور اس میں مخلوق کو تعلیم دی گئی ہے ، تقدیری عبارۃ یوں ہوگی ، قولوا الحمد للہ یعنی الحمد للہ “ کہو ، حمد کبھی نعمۃ کا شکر ادا کرنے کے معنی میں ہوتی ہے اور کبھی خصال حمیدہ یعنی اچھے اوصاف کی تعریف کرنے کے معنی میں ہوتی ہے چناچہ کہا جاتا ہے ” حمدت فلانا علی ما اسدی الی من نعمۃ “ کہ میں نے فلاں کی نعمت عطا کرنے پر تعریف کی اور یوں بھی کہا جاتا ہے ” حمدتہ علی علمہ وشجاعتہ “ کہ میں نے فلاں کی تعریف اس کے علم اور دلیری پر کی اور شکر سوائے عطاء نعمۃ کے ادا نہیں کیا جاتا اور حمد شکر سے عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
(1 ۔ 7) ۔ الحمد للہ حمد کے معنی زبان سے تعریف کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اس طرح کیا کریں رب العالمین رب اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے جس کے معنی مربی کے ہیں یہ لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کی شان میں بغیر نسبت واضافت کے نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ یا مخلوق کی شان میں اضافت کے ساتھ استعمال ہوسکتا ہے۔ مثلاً رب الدار کہہ سکتے ہیں جس کے معنی گھر کے مالک کے ہوں گے العالمین عالم کی جمع ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب مخلوقات کو عالم کہتے ہیں۔ آسمان و زمین کی آبادی جنگل و دریا میں اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی مخلوقات ہے جن سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(الحمد للہ) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کے ان افعال کی ثنا ہے جو فضل و عدل کے درمیان دائر ہیں۔ پس ہر پہلو سے کامل حمد کا مالک وہی ہے۔ (رب العلمین) ” جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ (رب) وہ ہستی ہے جو تمام جہانوں کی مربی ہے۔ (العالمین) سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق ہے۔ اس نے ان کو پیدا کیا، ان کے لئے ان کی زندگی کا سروسامان مہیا کیا اور پھر انہیں اپنی ان عظیم نعمتوں سے نوازا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا۔ پس مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔
مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کی تربیت (پرورش کرنے) کی دو قسمیں ہیں۔ (1) تربیت عامہ (2) تربیت خاصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
سورة فاتحہ
نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت
ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت کے اندر سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورة کی قرأت کی جائے گی۔ اگر نمازی ان رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قرأت ترک کر کے اس کے بجائے کوئی اور سورت پڑھ لے تو یہ بری حرکت ہوگی۔ تاہم نماز ہوجائے گی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر نمازی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ کفایت کرنے والی قرأت کی کم سے کم مقدار سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ اگر نمازی سورة فاتحہ کا ایک حرف بھی چھوڑ دے اور نماز سے باہر ہوجائے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا…
Read the full tafseer →2 حمد و ثنا کا اصل حقدار اللہ تعالیٰ ہی ہے : حمد و ثنا کا اصل حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ کیونکہ دنیا میں جہاں بھی اور جس طرح کی بھی کوئی خوبی پائی جاتی ہے یا پائی جائے گی، وہ سب اسی کے کمال و جمال اور عطا و نوال ہی کا کوئی مظہر ہوگا۔ پس اصل اور حقیقی تعریف اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ نام ہی اس ذات اقدس و اعلیٰ کا ہے جو واجب الوجود ہے۔ یعنی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کیلئے رہے گی۔ نہ وہاں سبق عدم ہے اور نہ لحوق زوال و فنا کا کوئی سوال و احتمال۔ اور وہ ہر شائبہ نقص و عیب سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ اسی لئے حضرات اہل علم لفظ جلالہ یعنی " اللہ " جل جلالہ کی تشریح…
Read the full tafseer →سورة الفاتحہ
سورۃ الفاتحہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یعنی کھولنے والی مراد رشد و ہدایت کی کتاب قرآن مجید کو کھولنے والی سورت۔ اس سورت کو ام القرآن، الدعاء، الشفاء اور الحمد کے نام بھی دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ سورة دعا بھی ہے انسان کی صحت یابی کے لئے بھی پڑھی جاتی ہے۔ خدا کی تعریف اور پھر قرآن پاک کی پہلی سورت بھی ہے یہ سورت ایک ہی وقت میں پوری نازل کی گئی ہے اس میں کل سات آیات ہیں اور یہ نبوت کے شروع میں مکہ میں نازل ہوئی تھی۔
تشریح : اس آیت میں حمد و ثنا کے ساتھ ساتھ دعا مانگنے کا سلیقہ بھی سکھایا گیا ہے کہ جس سے کچھ مانگنا ہے تو سب سے پہلے اس کی تعریف بیان کی جائے۔ اسی لئے بندہ اپنے اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
رکوع نمبر 1
آیات 1 تا 7
دعا مانگنے کا طریقہ :
اللہ کریم نے نوع انسانی کو ایک جامع اور مکمل دعا تعلیم فرمائی ، ایک ایسی دعا جس میں اللہ کی تعریف اقرار عبودیت کے ساتھ استعانت و امداد کی درخواست اور پھر ہر دو عالم کی بھلائی اور اچھائی کا سوال ہے یہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے ، پہلے اللہ کی تعریف پھر اپنا اقرار عجز ، وعدہ بندگی اور پھر اپنی آرزو تمنا۔
تعوذ و تسمیہ کے بعد انسان سب سے پہلے یہ اقرار کرتا ہے کہ جو کمالات اور ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ، حسن و جمال ہو یا جاہ و جلال قوت و طاقت ہو یا علم و ہنر جہاں بھی جس چیز کی خوبی بیان ہوگی وہ دراصل تصویر کی…
Read the full tafseer →(4) یہ کلمہ اظہار عبودیت اور اعتراف نعمت کے معنی پر مشتمل ہے اور شکر الہی کے اظہار کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی کلمہ نہیں ہے حدیث میں ہے الحمد راس الشکر فما شکر اللہ عبدا یحمدہ ” رب “ یہ اسمائے حسنی سے ہے اور اضافت کے بغیر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر اس کا اطلاق جائز نہیں ہے العا لمین یہ علم کی جمع ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمام کائنات پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ( قرطبی، حضرت ابن عباس ؓ رب العالمین کی تفسیر میں فرماتے ہیں ان الخلق کلہ تمام مخلوقات کا معبود۔
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ : حَمِدَ یَحْمَدُ : (باب سمع) سے مصدر ہے۔ ثناء کرنا، تعریف کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی فضیلت اور ثناء کو حمد کہتے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو کہ انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدائشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح مال کے خرچ کرنے اور علم و سخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اسی طرح اس کی درازی قدرو قامت اور چہرہ کی خوبصورت پر بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے نہ کہ اوصاف اضطراریہ پر۔ اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں۔ لہذا ہر شکر حمد ہے مگر ہر حمد شکر…
Read the full tafseer →(حمد): حمد کے معنی تعریف کرنا، شکر ادا کرنا، حمد وثنا کرنے کے آتے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” جس نے اللہ کی حمد نہ کی اس نے اس کا ذرا بھی شکر ادا نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ کی حمدو ثنا کرتا ہے درحقیقت اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے چاروں طرف اپنی اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے کہ ان کو شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ بس اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی ہزاروں نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ کا شکر ادا کرتا رہے گا تو اللہ کی نعمتوں میں اضافہ ہی کرتا چلا جائے گا لیکن اگر اس نے نعمتیں پانے کے باوجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
خواص سورة فاتحہ
الحمد شریف چالیس بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے بخار والے کے منہ پر چھینٹا دیں انشاء اللہ تعالیٰ بخار جاتا رہے گا۔ سورة فاتحہ کو چینی کے پاک برتن پر مشک و زعفران سے لکھ کر اگر مریض کو پلا دیں تو ہر قسم کے جسمانی مرض انشاء اللہ تعالیٰ جاتے رہیں گے۔ چیچک کے واسطے گیارہ مرتبہ اس سورة کو پڑھ کر دم کرنا مجرب ہے۔ الحمد شریف ہر روز صبح کی سنتوں کے بعد اور فرضوں سے پہلے اکتالیس مرتبہ پڑھنا موجب برکت ہے اور ہر کام کے لیے مفید ہے۔ اس کو پڑھ کر جو دعا مانگے گا وہ انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔
فضائل القرآن۔
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے زیادہ عظمت سورة فاتحہ کی…
Read the full tafseer →سورة فاتحہ کے مضمون پر ایک اجمالی نظر۔
سورة فاتحہ ایک دعا ہے جو اللہ نے ہر اس انسان کو سکھا دی ہے جو اس کتاب کا مطالعہ کر رہا ہو۔ کتاب کی ابتدا میں اس کو رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان واقعی اس کتاب سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے۔ اس سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن اور سورة فاتحہ کے درمیان حقیقی تعلق کتاب اور اس کے مقدمہ کا سا نہیں بلکہ دعا اور جواب دعا کا سا ہے۔ بندہ دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار میری رہنمائی فرما اور جواب میں پروردگار پورا قرآن اس کے آگے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہے وہ ہدایت و رہنمائی جس کی دعا تو نے مجھ سے کی ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(ف 2) خدا کے متعلق قرآنی تخیل یہ ہے کہ وہ ساری کائنات کا رب ہے ۔ اس کی خدائی زمان ومکان کی قیود سے بالا و بلند ہے ۔
حل لغات :
الحمد ، مصدر تعریف و ستائش اس صورت میں جبکہ ممدوح مختار اور فعل جمیل وخیر ہو ۔ رب : اسم صفت جو تخلیق واختراع کے بعد کائنات کا ہر منزل میں خیال رکھے یعنی ایجاد و تصویر سے لیکر تکمیل و تزئین تک ہر مرحلے میں اس کا التفات کرم فرما رہے ۔ العلمین : جمع عالم اسم آلہ خلاف قیاس ، دنیا یا کائنات ، ہر شے ہر جگہ ، ہر چیز ، الرحمن ، رحم رحمنہ سے اسم صفت رحم سے مطلق ہے یعنی ماورانہ شفقت کی انتہائی تنزیہی صورت ، مہرومحبت کا پاکیزہ ترین پیکر ، اھد ۔ مصدر ہدایت ، صیغہ امر لطف و محبت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1 اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بےحد مہربان ہے اور بےانتہا رحم کرنے والا ہے ۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس بڑی رحمت والی ہے اور اسکی رحمت و مہربانی بڑی ہی عام ہے ۔ میں اس سورت کو اسی کے نام کی برکت حاصل کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں تا کہ آداب تلاوت میں اگر کوئی کوتاہی یا سہو ہوجائے یا کسی آیت کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوجائے تو خدائے تعالیٰ اپنی عام رحمت و مہربانی سے اس کو در گزر فرما دے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جن اہم اور ذی شان کام کو شروع کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی جائے اس کام میں کامیابی اور برکت نہیں ہوتی۔ (تسہیل)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ف 2۔ مخلوقات کی الگ الگ جنس ایک ایک عالم کہلاتا ہے مثلا عالم ملائکہ عالم انسان، عالم پر ند، عالم حیوانات، عالم جن۔
Read the full tafseer →تمام خوبیوں کا مالک صرف اللہ ہی ہے :
11: ” الحمد “ کی ” اصل “ ح م د ہے۔ الحمد للہ کے معنی اللہ تعالیٰ کی فضلیت کے ساتھ اس کی ثناء بیان کرنے کے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ سب خوبیاں اور ستائشیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔
” الحمد “ کا لفظ قرآن مجید میں 28 بار اور ” الحمد للہ “ 23 بار آیا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین کا پورا جملہ (فاتحہ 1 : 2) (الانعام 6 : 45) (یونس (10 : 10) (الصافات 37 : 182) (الزم 39 : 75) (ال مومن 40 : 65) یعنی کل چھ بار استعمال ہوا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین فاتحہ کی دوسری آیت ہے۔
لفظ عالمین کی تحقیق لغت میں :
12: ” العالمین “ کی ” اصل “ ع ل م ہے۔ امام راغب مفردات القرآن میں…
Read the full tafseer →This Surah comprises seven verses. Of these, the first three are in praise of Allah, while the last three contain a request or a prayer on the part of man, which Allah himself has, in His infinite mercy, taught him. The verse in between the two sets has both the features -- there is an aspect of praise, and another of prayer.
The Sahih of Muslim reports from the blessed Companion Abu Hurayrah a hadith (Tradition) of the Holy Prophet (peace be upon him): "Allah has said, 'The salah (i.e., the Surah al-Fatihah) is equally divided between Me and My servant. And My servant shall be given what he…
Read the full tafseer →2. As we have already explained, the character of this surah is that of a prayer. The prayer begins with praise of the One to whom our prayer is addressed. This indicates that whenever one prays one ought to pray in a dignified manner. It does not become a cultivated person to blurt out his petition. Refinement demands that our requests should be preceded by a wholehearted acknowledgement of the unique position, infinite benevolence and unmatched excellence of the One to Whom we pray. Whenever we praise someone, we do so for two reasons. First, because excellence calls for praise,…
Read the full tafseer →