Explained with ayahs 66–70
شوق تعلیم و تعلم
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو حضرت موسیٰ ؑ کو نہ تھا۔ اور حضرت موسیٰ کے پاس وہ علم تھا جس سے حضرت خضر بیخبر تھے پس حضرت موسیٰ ؑ ادب سے اور اس لئے کہ حضرت خضر کو مہربان کرلیں ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہئے پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہوجائیں۔ حضرت خضر اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے میرے کام آپ کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
عالم شریعت کیلئے جائز نہیں کہ خلاف شرع امر پر صبر کرے
(آیت) اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلٰي مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا حضرت خضر ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے اور کیسے صبر کریں گے جب کہ آپ کو حقیقت امر کی اطلاع نہ ہو مطلب یہ تھا کہ مجھے جو علم عطا ہوا ہے اس کی نوعیت آپ کے علم سے مختلف ہے اس لئے آپ کو میرے معاملات قابل اعتراض نظر آئیں گے جب تک کہ میں ان کی حقیقت سے آپ کو مطلع نہ کر دوں آپ اپنے فرض منصبی کی بناء پر اس پر اعتراض کریں گے۔
حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس جانے اور ان سے علم سیکھنے کا حکم ہوا…
Read the full tafseer →قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا (69)۔ حضرت موسیٰ نے وعدہ کیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے ہر مرحلہ پر صابر پائیں گے اور میں ہرگز آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
68۔ 1 یعنی جس کا پورا علم نہ ہو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
37: صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ حضرت خضر ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے یہ بھی کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا علم دیا ہے جو آپ کے پاس نہیں (یعنی تکوینیات کا علم) اور آپ کو ایسا علم دیا ہے جو میرے پاس نہیں (یعنی شریعت کا علم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
عبدصالح اب بطور تاکید دوبارہ صبر کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ساتھ رہنے کی شرط یہ ہے کہ میرے تصرفات کی بابت آپ کوئی سوال نہ کریں گے ، یہاں تک کہ وہ خود ان تصرفات کی حقیقت بیان نہ کردوں۔
Read the full tafseer →5 یہ وعدہ کرتے وقت غالباً موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا تصور بھی نہ ہوسکتا تھا کہ ایسے مقرب و مقبول بندہ سے کوئی ایسی حرکت دیکھنے میں آئے گی جو اعلانیہ ان کی شریعت بلکہ عام شرائع و اخلاق کے خلاف ہو۔ غنیمت ہوا کہ انہوں نے " انشاء اللہ " کہہ لیا تھا۔ ورنہ ایک قطعی وعدہ کی خلاف ورزی کرنا اولوا العزم پیغمبر کی شان کے لائق نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →آیت 69 قَالَ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَآ اَعْصِيْ لَكَ اَمْرًا
یہاں پر ایک اہم نکتہ لائق توجہ ہے کہ جب صبر کرنے کی بات ہوئی تو اس کے ساتھ حضرت موسیٰ نے ان شاء اللہ کہا لیکن نافرمانی نہ کرنے کے وعدے کے ساتھ ان شاء اللہ نہیں کہا۔ چناچہ بعد میں ہم دیکھیں گے کہ اسی وعدے کی خلاف ورزی آپ سے ہوئی جس کے ساتھ ان شاء اللہ نہیں کہا گیا تھا۔ اس حوالے سے اسی سورت کا وہ حکم بھی ذہن میں رکھیے جس میں حضور کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے : وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا اِلَّآ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُز وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ وَقُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّہْدِیَنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–70
61 رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزل مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →102۔ یعنی نہ آپ کی نافرمانی کروں گا اور نہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ پر کوئی روک ٹوک کروں گا۔ (آیت) ” صابرا “۔ کا مفہوم یہاں ہے ضبط کرجانے والا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ایسے مقبول بزرگ کوئی حرکت خلاف شریعت کریں گے، اسی لئے انہوں نے مطیع رہنے کی حامی بھر لی گویا حالا ان کا وعدہ یہ تھا کہ امور مباح میں آپ کا ساتھ دیتا رہوں گا اس پر بھی اتنی احتیاط رکھی کہ لفظ انشاء اللہ ملائی جس سے اقرار عہد و پیمان پیدا نہیں ہونے پایا اور اس لئے ان دونوں باتوں کی بناء پر آیندہ نقض عہد کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آیت سے استنباط کیا گیا ہے کہ متعلم کے لئے پہلی چیز یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
آیت نمبر 66 تا 71
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے کہا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ آپ اس علم مفید سے سکھائیں جس علم کی آپ کو تعلیم دی گئی ہے ؟ رَشَدًا ای صواباً جس کے ذریعہ میں درستگی حاصل کروں، اور ایک قرأۃ میں راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے (علم کا) اس لئے سوال کیا کہ علم میں زیادتی مطلوب ہے اس بندے نے جواب دیا آپ میرے ساتھ قطعاً صبر نہیں کرسکتے، اور ایسی باتوں پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جن کی حقیقت سے آپ پوری طرح واقف نہیں ؟ سابق میں مذکورہ حدیث میں اس آیت کے بعد یہ بھی ہے کہ اے موسیٰ اللہ نے مجھے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے…
Read the full tafseer →قال ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امرا موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا آپ ان شاء اللہ
مجھے آئندہ صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کے خلاف نہیں کروں گا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے صابر رہنے کا وعدہ کیا کیونکہ صحبت خضر اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتی تھی ‘ جب موسیٰ ( علیہ السلام) خضر کے فعل پر اعتراض نہ کرتے اور خضر کے ساتھ رہنے کا حکم اللہ سے مل چکا تھا لیکن ان کو اپنے صابر رہنے میں شک تھا کیونکہ حضرت خضر کے مسلک سے آپ کا مسلک جدا تھا اور اختلاف مسلک صابر نہ رہنے اور اعتراض کر بیٹھنے کا موجب تھا۔ اسی لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ان آیات اور گزشتہ آیات میں اپنے علم پر عجب سے پرہیز، طلب علم کے لیے سفر، آخری دم تک حصول علم کا عزم مصمم، استاذ کے سامنے طلب علم کے لیے درخواست کا طریقہ، استاد کا ادب، اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرنا، اپنے کسی بھی کام یا عہد میں اپنے آپ پر بھروسے کے بجائے ان شاء اللہ کہہ کر اسے اللہ کے سپرد کرنا سکھایا گیا ہے اور یہ کہ استاذ تعلیم کے لیے شاگرد پر بعض شرطیں عائد کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال ستجدنی ان شآ اللہ صابراً یعنی اللہ تعالیٰ نے چاہا تو صبر کروں گا۔ ولا اعصی لک امرا میں آپ کی اطاعت کروں گا۔ استشنا میں اختلاف ہے کیا ہے یہ ولا اعصی لک امرا کے قول کو شامل ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا : اس کو شامل ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذکرینن اللہ کثیراً ولذکرت (احزاب :35) بعض علماء نے فرمایا : صبر میں استشناء نہیں تھی کیونکہ صبر مستقل کا امر ہے۔ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں کیا حالت ہوگی اور معصیت کی نفی کا عزم کیا گیا تھا وہ فی الحال حاصل تھی، پس اس میں استشنا عزم کے منافی ہے۔ ان درمیان اس طرح فرق کرنا ممکن ہے کہ صبر ہمارے لیے مکتب نہیں ہے بخلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں :
10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔
11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔
12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [سَتَجِدُنِيْٓ: آپ پائیں گے مجھ کو ] [ان : اگر ] [شَاۗءَ : چاہا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [صَابِرًا : صبر کرنے والا ] [وَّلَآ اَعْصِيْ : اور میں نافرمانی نہیں کروں گا ] [لَكَ : آپ کی ] [اَمْرًا : کسی کام میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔
(ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
68:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے ان کا مخصوص علم حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ رہنے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ میرے علم کا تعلق تکوینیات سے ہے جس پر تم حاوی نہیں ہو اس لیے تم میرے ساتھ رہ کر میرے کاموں کو صبر و ضبط سے نہیں دیکھ سکو گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر و ضبط سے کام لینے اور ہر امر میں فرمانبرداری کرنے کا وعدہ کیا تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو میرے کسی کام پر اعتراض نہ کرنا جب تک کہ اس کی حقیقت میں خود بیان نہ کردوں۔ اس سے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غیب دان ہونے کی نفی ہوتی ہے، اس معلوم ہوتا ہے کہ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ربط آیات :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک معمولی سی لغزش ہوگئی تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ابتلا میں ڈال دیا اور فرمایا کہ ہمارے بندوں میں سے ایک ایسا بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ، مولا کریم ! میں تیرے اس بندے تک کیسے رسائی حاصل کرسکتا ہوں تاکہ اس سے کچھ حاصل کرسکوں اللہ نے حکم دیا کہ آپ فلاں سفر پر روانہ ہوجائیں اور ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ہمراہ لے لیں جب مقام پر وہ مچھلی گم ہوجائے گی ، میرا خاص بندہ تمہیں وہیں مل جائے گا ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ایک شاگرد اور خادم حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کو ہمراہ لیا اور سفر پر روانہ…
Read the full tafseer →قَالَ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ صَابِرًا وَّلَآ اَعْصِيْ لَكَ اَمْرًا 69
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه .
ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] .
( و ج د ) الو جود
( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
تفسیر : فرمایا اپنے تھیلے میں ایک تلی ہوئی مچھلی رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملیں گے۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی تھیلے میں ڈال کر یوشع بن نون کو ہمراہ لے کر چلے۔ چلتے چلتے ایک موقع پر (سمندر کے کنارے) پہنچے تو ایک پتھر پر سر رکھ کر سو گئے۔ مچھلی اس تھیلے میں سے تڑپ کر دریا میں جا گری اور جہاں تک وہ جاتی تھی پانی میں ایک سوراخ سا ہوتا جاتا تھا۔ حکمِ الٰہی سے پانی ادھر ادھر سے ملنے نہیں پاتا تھا۔ پھر بیدار ہوئے تو یوشع کو یاد دلانا یاد نہ رہا کہ اس مقام پر مچھلی گم ہوگئی ہے۔ اس سے رات دن تک چلا کئے یہاں تک کہ جب اگلے روز صبح کا وقت آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
قَالَ اِنَّـکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ خُبْرًا۔ قَالَ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَآاَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا۔ قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلاَ تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْ ئٍ حَتّٰیٓ اُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا۔ (الکہف : 67 تا 70)
(حضرت خضر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اور آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں اس بات پر جس کی آپ کو پوری طرح خبر نہیں۔ آپ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے، میں کسی معاملے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر نے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
فہم القرآن
ربط کلام : خضر (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے حوصلہ کرنے والا پائیں گے میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو میرے کسی کام کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود اس کی وضاحت کروں۔ یہ بات طے کرنے کے بعد دونوں چل پڑے ا وردریاعبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا ایک تختہ توڑدیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور فرمایا کیا آپ کشتی والوں کو ڈبو نا چاہتے ہیں ؟ آپ نے عجب کام کر دکھایا ہے۔ حضرت خضر (علیہ…
Read the full tafseer →اقرارِ موسوی :
69: قَالَ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآ ئَ اللّٰہُ صَابِرًا (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے) صابر کا معنی انکار اور اعتراض سے اپنے آپ کو روکنے والا۔ وَّلَآ اَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا (اور میں آپ کے کسی حکم کے خلاف نہیں کروں گا) ۔
نحو : یہ جملہ محل نصب میں صابرا پر عطف ہونے کیوجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی سَتَجِدُ نِیْ اِلٰی آخرہٖ صابرًا وغیرعاص۔ کہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا اور نافرمانی نہ کرنے والا پائیں گے۔ نمبر 2۔ یا اس کا عطف سَتَجِدُنی پر ہے اور اس صورت میں اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔
Read the full tafseer →(69)” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” ستجدنی ان شاء اللہ صابرا “ یہاں پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے استثاء فرمایا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ وہ منکربات پر صبر نہیں کرسکتے۔ ” ولا اعصی لک امرا “ اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا جس بات کا آپ حکم دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 70:۔ اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث جو گزری اس حدیث میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم تم کو دیا ہے میں بھی اس میں سے کچھ سیکھوں اس وقت اس کی مصلحت تم کو معلوم نہیں ہے اس واسطے تم میرے ساتھ رہ کر جو باتیں میں کروں گا۔ ان پر صبر نہ کرسکو گے کیونکہ ان باتوں کی پوری مصلحت تم کو معلوم نہیں ہے اس واسطے تم میرے ساتھ رہ کر جو باتیں میں کروں گا ان پر صبر نہ کرسکو گے کیونکہ ان خضر (علیہ السلام) کو کشتی کے توڑ ڈالنے اور لڑکے کے مار ڈالنے کا الہام ہوا اور باوجود اس کے وہ الہام ظاہرا شریف موسوی کے بر خلاف تھا مگر حضرت خضر نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–73
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
118۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے صبروبرداشت کا وعدہ :۔
سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ” آپ مجھے انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے “ اور میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا ان شاء اللہ۔ ہاں اگر کوئی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا۔ کیونکہ بھول چوک قابل گرفت چیز نہیں ہوتی بلکہ اس پر عفودرگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا آپ اس طرح کی کسی بھول چوک پر میری گرفت نہیں فرمانا اور میرے بارے میں سختی سے کام نہیں لینا۔ میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا اور آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کرونگا اور ایسے کاموں پر بھی کچھ نہیں کہوں گا جو بظاہر منکر ہوں گے۔ کیونکہ مجھے یہ اطمینان اور یقین ہے کہ جب مجھے میرے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں
تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔
تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ف 8 کیونکہ ہوسکتا ہے کہ میں کوئی ایسا کام کروں جو بظاہر آپ کو دی جانے والی شریعت کے خلاف ہو
Read the full tafseer →(18:69) لا اعصی۔ مضارع نفی واحد متکلم۔ میں نافرمانی نہیں کروں گا۔ میں حکم عدولی نہیں کروں گا معصیۃ سے (باب ضرب) لا اعصی لک امرا۔ اور میں تمہارے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 70
وجدا دونوں نے پایا۔ علمنا ہم نے سکھایا۔ علمت تجھے سکھایا گیا۔ رشد ہدایت۔ لن تستطیع تو ہرگز طاقت نہیں رکھتا۔ لم تحط گھیرتا نہیں ہے۔ لا اعصی میں نافرمانی نہیں کروں گا۔ لاتسئلنی مجھ سے نہ پوچھنا ۔ حتی احدث جب تک میں بیان نہ کردوں۔ ذکر ذکر، بات۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 70
جب حضرت موسیٰ اللہ کے حکم سے حضرت خضر (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے تو ان کی ملاقات ایک سنگم پر حضرت خضر سے ہوگئی۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے حضرت خضر سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کو جو خصوصی علوم و معارف عطا کئے ہیں میں آپ کے پاس رہ کر انہیں سیکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت خضر نے کہا اے موسیٰ آپ…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا :” انشاء اللہ میں برداشت کروں گا، اور کسی بات میں آپ سے اختلاف نہ کروں گا “۔ پھر خضر (علیہ السلام) نے کہا :” اچھا اگر تم میرے ساتح رہتے ہو تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا ، جب تک کہ میں خود ہی تم سے اس کا ذکر نہ کر دوں “۔ یعنی میرے کسی فعل پر اعتراض نہ کرنا، کہ تم نے یہ کیوں کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سب شرائط تسلیم کیں اور مع یوشع (علیہ السلام) کے حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ ہو لئے۔ پھر وہ چلے یہاں تک کہ دریا میں ان کو ایک کشتی ملی اس پر سوار ہوئے۔ اگرچہ ناخدا اول دہلہ میں ان کے سوار ہونے پر راضی نہ تھا۔ لیکن بعد معرفت حضرت خضر (علیہ السلام) کے ان کو بقدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–75
[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) !
(ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…
Read the full tafseer →-69 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا انشاء اللہ آپ مجھ کو صابر اور ضابطہ یعنی ضابطہ کا آدمی پائیں گے اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی اور نافرمانی نہ کروں گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کہہ کر وعدہ کیا اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہ کوئی بات ایسی کریں گے جو کبھی بھی شریعت موسوی کے خلاف ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
ف 4۔ یعنی مثلا اگر روک ٹوک سے منع کردیں گے تو میں روک ٹوک نہ کروں گ، اسی طرح اور کسی بات میں بھی خلاف نہ کروں گا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے صاحب کو جواب دیا میں انشاء اللہ صبر کروں گا اور خلاف ورزی نہیں کروں گا :
74۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے صاحب سے کہا کہ میں انشاء اللہ آپ کے کاموں کو دیکھ کر ہر ممکن صبر کروں گا اور آپ کے کسی کام کی خلاف ورزی نہیں کروں گا ، آپ اپنی مصاحبت میں مجھے ساتھ رہنے کی اجازت دیں اور یہیں سے میں اپنے اس ساتھی کو جو مصر سے میرے ساتھ آیا تھا واپس بھیجنا چاہتا ہوں اور اب آپ کی مصاحب میں میں اس وقت تک رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ کے علم میں ہمارا مل کر رہنا ایک دوسرے کے لئے مفید ہوگا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر وہ اپنی مصاحبت میں رکھنے کے لئے تیار ہوگیا تو موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
It is not permissible for an 'Alim’ of the 'Shari'ah' to patiently bear what is contrary to the Shari'ah
By saying: إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (You can never be able to keep patient while with me. And how would you keep patient over something your comprehension cannot grasp? - 67, 68), al-Khadir (علیہ السلام) was telling Sayyidna Musa (علیہ السلام) about the fact and the reason why he would be unable to keep patient with him. He knew nothing about the reality of the thing. What he meant was that the nature of knowledge given…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →