Explained with ayahs 103–106
عبادت واطاعت کا طریقہ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے ان کے صاحبزادے مصعب نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس حضرت سعد ؓ خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ حضرت علی ؓ وغیرہ فرماتے ہیں اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود و نصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے جو بھی اللہ کی عبادت واطاعت اس طریقے سے بجالائے جو طریقہ اللہ کو…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 76
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمے میں اختیار کیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ " جن کی ساری سعی و جہد دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی "۔ یعنی انہوں نے جو کچھ بھی کیا خدا سے بےنیاز اور اور آخرت سے بےفکر ہو کر صرف دنیا کے لیے کیا۔ دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھا۔ دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو اپنا مقصود بنایا۔ خدا کی ہستی کے اگر قائل ہوئے بھی تو اس بات کی کبھی فکر نہ کی کہ اس کی رضا کیا ہے اور ہمیں کبھی اس کے حضور جا کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے۔ اپنے آپ کو محض ایک خود مختار و غیر ذمہ دار حیوان عاقل سمجھتے رہے جس کے لیے دنیا کی اس چراگاہ سے تمتع کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(آیت) اَلْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا اس جگہ پہلی دو آیتیں اپنے مفہوم عام کے اعتبار سے ہر اس فرد یا جماعت کو شامل ہیں جو کچھ اعمال کو نیک سمجھ کر اس میں جدوجہد اور محنت کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک ان کی محنت برباد اور عمل ضائع ہے قرطبی نے فرمایا کہ یہ صورت دو چیزوں سے پیدا ہوتی ہے ایک فساد اعتقاد، دوسرے ریاء کاری یعنی جس شخص کا عقیدہ اور ایمان درست نہ ہو وہ عمل کتنے ہی اچھے کرے اور کتنی ہی محنت اٹھائے وہ آخرت میں بیکار اور ضائع ہے۔
اسی طرح جس کا عمل مخلوق کو خوش کرنے کے لئے ریاکاری سے ہو وہ بھی عمل کے ثواب سے محروم ہے اسی مفہوم عام کے اعتبار سے بعض حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین نے اس کا مصداق خوارج کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
تفسیر آیات 103 تا 106: قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالأخْسَرِينَ أَعْمَالا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا (104) أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (105) ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا (106)
مغروروں کے پندار پر ضرب : یہ ان مغرورین دنیا کے اصل پندر پر ضرب لگائی ہے کہ یہ تو سمجھتے ہیں کہ بڑی کامیاب بازی کھیل رہے ہیں اور بڑے اچھے کام کررہے ہیں لیکن ان کو بتا دو کہ آخرت میں سب…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی اعمال ان کے ایسے ہیں جو اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہیں، لیکن بزم خویش سمجھتے یہ ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔ اس سے مراد کون ہیں بعض کہتے ہیں، یہود و انصار ہیں، بعض کہتے ہیں مخالفین اور دیگر اہل بدعت ہیں، بعض کہتے ہیں کہ مشرکین ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جس میں ہر وہ فرد اور گروہ شامل ہے جس کے اندر مذکورہ صفات ہوں گی۔ آگے ایسے ہی لوگوں کی بابت مزید سزا دینے کے وعدے بیان کیے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
52: اس آیت کریمہ نے یہ بڑی حقیقت واضح فرمائی ہے کہ کسی عمل کے مقبول ہونے کے لئے صرف خلوص نیت کافی نہیں ہے، بلکہ راستے کا سیدھا ہونا بھی ضروری ہے، بہت سے کافر خلوص کے ساتھ ایک کام کو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں، لیکن چونکہ وہ کام انہوں نے خود اپنی طرف سے گھڑا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ یا اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی طرف اس کام کی کوئی سند نہیں ہوتی، اس لئے وہ ساری محنت اکارت ہو کر رہ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
اے نبی ﷺ لوگوں کو یہ بات سمجھائو کہ ناکام اور نامراد لوگ کون ہیں ؟ ایسے نامراد کہ ان سے بڑا نامراد اور خسارے میں پڑنے والا اور کوئی نہیں ہے۔ وہ لوگ جن کی سعی اور جدوجہد اس دنیا میں بھٹکی رہی ہے۔ ان کی یہ جدوجہد ان کو راہ راست پر نہ لا سکی اور اس پوری سعی کا کوئی ثمرہ اور نتیجہ برآمد نہ ہوا۔
وھم یحسبون انھم یحسبون صنعا (81 : 301) ” اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ “ وہ اس قدر غفلت میں پڑے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ ان کی یہ جدوجہد ضائع جا رہی ہے۔ اپنی جدوجہد میں غلط سمت پر بہت دور نکلے جا رہے ہیں اور اپنی پوری زنگدی کو اس میں کھپا کر ضائع کر رہے ہیں۔
ایسے لوگوں کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
3 یعنی قیامت کے دن سب سے زیادہ خسارہ میں وہ لوگ ہوں گے جن کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے لیے تھی آخرت کا کبھی خیال نہ آیا، محض دنیا کی ترقیات اور مادی کامیابیوں کو بڑی معراج سمجھتے رہے (کذایفہم من الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ دنیاوی زندگی میں جو کام انہوں نے اپنے نزدیک اچھے سمجھ کر کئے تھے خواہ واقع میں اچھے تھے یا نہیں وہ سب کفر کی نحوست سے وہاں بیکار ثابت ہوئے اور تمام محنت برباد گئی۔
Read the full tafseer →آیت 104 اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا
ایسے لوگ جنہیں آخرت مطلوب ہی نہیں ان کی ساری تگ و دو اور سوچ بچار دنیا کمانے کے لیے ہے۔ آخرت کے لیے انہوں نے نہ تو کبھی کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی کوئی محنت۔ بس برائے نام اور موروثی مسلمانی کا بھرم رکھنے کے لیے کبھی کوئی نیک کام کرلیا کبھی نماز بھی پڑھ لی اور کبھی روزہ بھی رکھ لیا۔ مگر اللہ کو اصل میں ان سے مقصود و مطلوب کیا ہے ؟ اس بارے میں انہوں نے کبھی سنجیدگی سے سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ ایسے لوگوں کو ان کی محنت کا صلہ حسب مشیت الٰہی دنیا ہی میں مل جاتا ہے جبکہ آخرت میں ان کے لیے سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔ اس مضمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
84 یہاں کچھ عبارت مخذوف ہے جسے مخاطب کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے یعنی کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنالیں تو وہ انھیں اللہ کی گرفت سے بچا سکیں گے بات یوں نہیں بلکہ ہم ایسے کافروں کی جہنم کی آگ سے مہمانی کریں گے جو ان کے وہاں پہنچتے ہی انھیں مل جائے گی۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے اس آیت میں عبادی کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ایسے کارساز مراد ہیں جو ذوی العقول ہوں جیسے فرشتے، جن، نیک یا بد ارواح، فوت شدہ انسان، پیغمبر یا پیران طریقت اور اصطلاحی اولیاء اللہ وغیرہم۔ کیونکہ بےجان اشیاء مثلاً بتوں اور حجرو شجر وغیرہ پر لفظ عبد کا اطلاق نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
155۔ (جو ان کی مستقل فلاح کے لیے کافی ہوجائیں گے) (آیت) ” الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا “۔ یعنی ایسے لوگ جن کی ساری جدوجہد، تگ ودو، کاوش و کوشش کا مدعا، اولا بھی اور آخر ا بھی یہی دنیا اور اس کے محظوظات رہتے ہیں ! بینک کے بڑے بڑے کھاتے، اونچے اونچے عہدہ اور خطابات، اونچی اونچی کوٹھیاں، نام ونمود، شہرت و اعزاز ،” علمی ترقیاں “ ، معاشی فلاح یابیان۔۔ رضائے الہی و فلاح آخرت کا خیال بھی کبھی نہیں آتا ! (آیت) ” ضل “۔ کا لفظ بہت قابل غور ہے۔ ایسے لوگوں کی ساری کوششیں بس اسی دنیا کے پیچھے ختم ہوجاتی، غارت جاتی ہیں ! (آیت) ” یحسبون “۔ یعنی محض اپنے پندار باطل اور ہوائے نفس کے موافق، بغیر کسی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
آیت نمبر 99 تا 110
ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…
Read the full tafseer →الذین ضل سعینہم فی الحیوۃ الدنیا وہم یحسبون انہم یحسنون صنعا۔ سب سے زیادہ خسارے میں وہ لوگ ہوں گے کہ دنیوی زندگی میں کی ہوئی ان کی ساری کوششیں اکارت (اور رائیگاں) جائیں گی اور وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا آیت میں سب سے زیادہ خسارہ پانے والوں سے مراد ہیں عیسائی اور یہودی جو اپنے گروہ کو حق پر سمجھتے ہیں حالانکہ ان کی شریعت منسوخ ہوچکی بعض کے نزدیک وہ تارک الدنیا خانقاہ نشین راہب مراد ہیں جو اپنے خیال میں آخرت کے طالب اور لذائذ دنیا سے روگرداں ہیں حالانکہ وہ شریعت اسلامیہ کے منکر ہیں ان کی یہ ساری کوششیں سراب اور ناکارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(103۔ 104) اے نبی کریم آپ ان سے فرمائیے کہ کیا ہم آپ کو ایسے لوگوں کے بارے میں بتائیں جو آخرت میں خسارہ میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں تمام محنت سب اکارت گئی، جیسا کہ خوارج اور گرجاؤں والے اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ۔۔ : یعنی جتنے نیک اعمال انھوں نے کیے سب کفر کی شامت سے رائگاں گئے۔ دیکھیے سورة ابراہیم (18) ، نور (39، 40) اور فرقان (23) یہ مطلب بھی درست ہے کہ ”جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی“ یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کی پروا نہ کی اور دنیا کی خوش حالیوں اور کامیابیوں کو اپنا اصل مقصد بنائے رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
(تفسیر آیت 99-110) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔ ترکنا من ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یعنی ہم جن و انس کو قیامت کے روز واگزار کردیں گے وہ (تند موجوں کی طرح) ایک دوسروں میں گھس جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہم یاجوج وماجوج کو واگزار کردیں گے۔ یومئذ اس دیوار کے کمال کے وقت وہ ایک دوسرے میں گھس جائیں گے۔ ان کے موج کا استعارہ حیرت سے عببارت ہے اور ان کے تردد سے عبارت ہے جیسے غم اور خوف کی وجہ سے نڈھال لوگ ہوتے ہیں انہیں دریا کی موج سے تشبیہ دی ہے جس کی موجیں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم یاجوج و ماجوج کو دیوار کے کھلنے کے دن دنیا میں دریا کی موجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
خوارج یہود و نصاری کے اعمال :
1:۔ عبدالرزاق، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے، حاکم اور ابن مردویہ نے مصعب بن سعد (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد سے (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ کے بارے میں پوچھا کیا (اس آیت میں) حروریہ (خوارج) مراد ہیں انہوں نے فرمایا نہیں وہ یہود و نصاری مراد ہیں یہودیوں نے محمد ﷺ کو جھٹلادیا اور نصاری نے جنت کو جھٹلادیا اور کہا نہ اس میں کھانا ہے نہ اس میں پینا ہے اور حرور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکا وعدہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں، اور حضرت سعدؓ ان کو فاسقین کا نام دیتے تھے۔
2:۔ عبدالرزاق، فریابی سعید بن منصور،…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : وہ لوگ ] [ضَلَّ : گم ہوئی ] [سَعْيُهُمْ : جن کی بھاگ دوڑ ] [فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی میں ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [يَحْسَبُوْنَ : گمان کرتے رہے ] [انهُمْ : کہ وہ ] [يُحْسِنُوْنَ : خوبصورت بناتے ہیں ] [صُنْعًا : صنعت گری کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
کافر سب سے بڑے خسارہ میں ہیں، ان کی سعی بیکار ہے، اعمال حبط ہیں اور بےوزن
سورة کہف ختم ہونے کے قریب ہے آیات بالا میں اولاً کافروں کو ان کے کفریہ اعمال پر تنبیہ فرمائی اور آخرت میں ان کے عذاب سے باخبر کیا۔ پھر اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرمایا۔
کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں پہلے سے بتادیا گیا ہے کہ کفر کا انجام برا ہے، ان کے لیے دوزخ ہے پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں اور شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔ میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے اور اس کو اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ کفر اور شرک کو بہتر سمجھنا حماقت اور جہالت ہے۔ کافروں کے لیے ہم نے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔ اسی سے ان کی مہمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
تتمہ قصۂ ذوالقرنین
و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور
قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔
اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
88:۔ یہ مشرکین کے انجام بد اور حال شر کا بیان ہے کہ آخرت میں وہ سب سے زیادہ خسارہ اور نقصان میں ہوں گے۔ ان کے تمام اعمال برباد اور رائیگاں ہیں۔ دنیا میں وہ مشرکانہ اعمال بجالاتے ہیں۔ غیر اللہ کو متصرف و کارساز سمجھ کر غائبانہ حاجات میں پکارتے اور ان کے نام کی نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ اور ان تمام اعمال و افعال کو عین کار ہائے ثواب اور اعمال صالحہ سمجھتے ہیں۔ ” اولئک الذین کفروا الخ “ یہ لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کی آیت توحید اور قیامت کے منکر ہیں۔ اس لیے ان کے تمام اعمال ضائع اور بےفائدہ ہیں۔ اور آخرت میں ان کے اعمال کو تولا تک نہیں جائے گا۔ کیونکہ وزن سے نیکیوں اور برائیوں کا اندازہ کرنا مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–108
(خدا کی رحمت کا ذکر)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اولیاء کا ذکر فرما کر ان کے ایک مشترکہ نظریہ کو بیان کیا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار تھے اور انہوں نے اپنی ہر کارگزاری کو رحمت خداوندی پر محمول کیا اس سورة میں پہلا واقعہ اصحاب کہف کا بیان ہوا ہے ، وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور اس کے دوست تھے جنہوں نے عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ لی ، انہوں نے اپنی قوم سے علیحدہ ہوتے وقت یہی کہا تھا کہ ہمارا تعلق صرف اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ہے (آیت) ” ینشرلکم ربکم من رحمتہ “۔ وہ تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُہُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَہُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا 104
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
تفسیر : ذوالقرنین کے قصہ کے خاتمے پر فرمایا تھا کہ کافر قابل جہنم وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں پر اور کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہیں نہ خدا تعالیٰ کو اس کے آیات قدرت دیکھ کر یاد کرتے ہیں نہ حق بات سنتے ہیں۔ اب یہاں سے ان پردوں کا اثر بیان فرماتا ہے فقال افحسب الذین الخ کہ کیا ان کافروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مجھے چھوڑ کر میری مخلوق کو کارساز ‘ حاجت روا بنانا ان کے لیے بس کرتا ہے حالانکہ یہ بڑی نادانی ہے اوّل تو یوں کہ مالک کے مقابلہ میں اس کے بندے اور مخلوق جنہیں حاجت روا سمجھ بیٹھے ہیں ان کے کام آئیں گے وہ کیا کام آسکتے ہیں جبکہ وہ خود ہی ہمارے محتاج اور دست نگر ہیں۔ دوم بڑا کام آنا اس جہاں کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً ۔ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۔ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَـآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلاَ نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا۔ (الکہف : 103 تا 105)
(اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ ناکام و نامراد کون لوگ ہیں۔ وہ تمام لوگ کہ بھٹکی رہی جن کی تمام سعی دنیا کی زندگی میں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کے اعمال کی دنیا اور آخرت میں حیثیت۔
اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے ساتھ اس قدر نفرت ہے کہ انھیں براہ راست مخاطب کرنے کی بجائے رسول معظم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ استفسار کرنے کی صورت میں انہیں بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے بندوں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھنے والو ! کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ فکر و عمل کے اعتبار سے کون لوگ سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں۔ ہاں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دنیا اور آخرت میں تمام اعمال ضائع ہوئے حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے نیکی کے کام کر رہے ہیں۔
ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جو ہمیں اچھی شہرت اور مال و…
Read the full tafseer →104: اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ (وہ لوگ جن کی کی ہوئی تمام کوششیں اکارت گئیں) ضائع اور باطل ہوگئیں وہ محل رفع میں ہے۔ ای ھم الذینَ ۔ فِی الْحَیٰوۃِالدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (دنیا کی زندگی میں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ ان کو کارکردگی کا بہترین بدلہ ملے گا)
Read the full tafseer →(104)” الذین “ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو عبادت گاہوں میں مقید کردیا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا حروراء والے۔ ” ضل سعیھم “ ان کے اعمال باطل اور ان کی کوشش رائیگاں چلی جائے گی۔ ” فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا “ ان کے اعمال کا بدلہ ان کو دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
103۔ 107 حضرت علی ؓ سے مستدرک حاکم اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں یہ جو روایت ہے کہ یہ آیت خارجی لوگوں کی شان میں ہے یا حضرت سعد بن ابی وقاص سے صحیح بخاری اور نسائی میں یہ جو روایت ہے کہ یہ آیت یہود و نصاری کی شان میں ہے ان روایتوں کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خارجیوں یا یہودو نصاری کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو نہ یہود و نصاری سے آپ کو کچھ واسطہ تھا نہ قرآن شریف یہود و نصاری کی شان میں نازل ہوتا تھا یہودو نصاری سے جو کچھ واسطہ آپ کو پیدا ہوا ہے وہ آپ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد پیدا ہوا ہے اور خارجی لوگ تو آنحضرت کے بعد حضرت علی ؓ کی خلافت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
آیت 103
اے محمد ! آ) لوگوں کو ڈرانے کے لئے کہہ دیجئے ! کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے ؟ (الذین ضل سعیھم فی الحیوٓ الدنیا) ” وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں۔ “ یعنی انہوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہوگا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے ؟ پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →149 سب سے بڑے خسارے والوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتادیں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں۔ سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش اور محنت اکارت چلی گئی دنیاوی زندگی میں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک کر رہے ہیں "۔ اور اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کی تمام تر کوشش و محنت اور ساری تگ و دو اسی دنیاوی زندگی کو سنوارنے بنانے اور جوڑنے جمع کرنے میں صرف ہوجائے کہ ان کے نزدیک سب کچھ یہ دنیا ہی دنیا ہے۔ جیسا کہ مادہ پرست لوگوں کا حال ہے کہ ان کا جینا مرنا سب کچھ اسی دنیائے دوں اور اس کے متاع فانی کے لئے ہے اور بس۔ آخرت کے لئے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
قیامت کی خبر اور کفار کا ٹھکانا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–110
(رکوع نمبر 13)
اسرارومعارف
یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔
(خلاف شریعت عمل خسارہ ہے)
یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ف 1 یعنی جتنے نیک اعمال انہوں نے کئے، سب کفر کی بدولت رائیگاں گئے یا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی۔ “ یعنی خدا اور آخرت کی پروا نہ کی اور دنیا کی خوش حالیوں اور کامیابیوں کو اپنا مطع نظر بنائے رکھا۔
Read the full tafseer →(18:104) الذین اسم موصول برائے اخسرین ہے۔ یحسنون مضارع جمع مذکر غائب احسان مصدر ( افعال) وہ اچھا (کام ، عمل ) کرتے ہیں ۔ صنعا۔ صنع یصنع کا مصدر ہے بمعنی کاریگری۔ اچھا کام کرنا۔ بنانا۔ صنع کے معنی کام کو عمدگی سے کرنا۔ اس لئے ہر صنع فعل ہوسکتا ہے لیکن ہر فعل صنع نہیں ہوسکتا۔ اسی سے ہے صانع کاریگر۔ مصنوع بنائی ہوئی چیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–108
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 108
اولیاء دوست، کام بنانے والے۔ نزل مہمان داری۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ صنع کام۔ حبطت ضائع ہوگئی۔ لانقیم ہم قائم نہ کریں گے۔ ھزو مذاق۔ الفردوس جنت ، بہشت۔ لایبغون وہ نہ چاہیں گے۔ حول تبدیل کرنا۔
تشریح :- آیت نمبر 102 تا 108
اللہ تعالیٰ نے کہف میں اصحاب کہف، حضرت موسیٰ خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اتنا کچھ بتانے اور سنانے کے باوجود کیا اس بات کی ذرا بھی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا حمایتی، مددگار اور رب بنا لیا جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بنیادی طور پر غلط سوچ کا نتیجہ ہے کہ قیامت کے ہولناک دن یہ جھوٹے معبود ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
اس آیت میں فرمایا کہ اے محمد ﷺ ! ان سے کہ دو :'' کیا ہم تمہیں بتادیں کہ کس کا کام بیہودہ اور کس کی کوشش نکمی ہے، اور کون زیادہ نقصان میں ہے۔ پس زیادہ نقصان میں وہ لوگ ہیں جن کی کوشش دنیا میں الٹی ہوئی، اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اچھے کام کئے یعنی اچھے عمل کئے، لیکن ان سب کے نیک اعمال اگر قیامت کے دن پہاڑ کے برابر بھی ہوں گے تو فسادعقیدہ کی وجہ سے ان کے سب عمل ایسے اکارت ہوجائیں گے جیسے ہوا میں ریت اڑجاتی ہے۔ اور ان کے عمل تولنے کے لئے ترازو بھی نہ کھڑی کی جاویگی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے دلائل قدرت کو نہیں مانتے اور اس کے ملنے کا انکار کرتے ہیں ''۔ اور پھر فرمایا کہ کفار کی سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
[37] یعنی دنیا میں کافر نہ تو دین حق کو دیکھتے تھے نہ دعوت حق کو سنتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
اعمال کے متعلق اسلام کا فلسفہ !:
(ف 1) خود فریبی کی انتہا ہے کہ انسان برائی کا ارتکاب کرے ، اور پھر یہ یقین رکھے کہ اس کا دامن عصمت قطعا گناہ سے آلودہ نہیں ہوا ، اور اپنے افعال میں حق بجانب ہے ، اس قسم کے لوگ غایت درجہ کے بدبخت اور شقی ہیں ، ان سے توبہ وانابت کی امید نہیں رکھی جاسکتی یہ مصیبت کو ثواب اور شر کو خیر سمجھتے ہیں ، ان کا زاویہ نگاہ بدل چکا ہے ، اور یہ صلاحیت کی استعداد کھو چکے ہیں ، اس لئے ان کے لئے اعمال اکارت جائیں گے ،
اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ اعمال کے مقدار اور افعال کے حجم کو نہیں دیکھتا ، بلکہ اس کی نظر نصب العین پر پڑتی ہے جو شخص بلند نصب العین کو اپنے اعمال وافعال کا…
Read the full tafseer →- 104 یہ وہ لوگ ہیں جن کی تمام دوڑ دھوپ اور کی کرائی محنت جو دنیوی زندگی میں انہوں نے کی تھی سب گئی گزری اور بےکار ہوگئی اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ کوئی بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یعنی وہ اپنے جہل کی وجہ سے برے کاموں کو اچھا سمجھ کر کرتے رہے اور اگر کوئی اچھا کام بھی کیا تو وہ کفر کی وجہ سے بیکار ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–108
ف 5۔ دعوت بطور تہکم کے فرمایا۔
Read the full tafseer →وہی لوگ جن کا کیا کرایا خراب ہوگیا انعام کی بجائے جوتے پڑے :
110۔ زیر نظر آیت کے دو مطلب بیان کئے جاسکتے ہیں اور دونوں ہی اس سے مراد ہو سکتے ہیں یا مراد لئے جاسکتے ہیں ایک تو وہی جن کا ذکر اوپر آچکا یعنی اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ونامراد وہی ہوئے جن کی دنیاوی زندگی میں ساری جدوجہد اور سعی و کوشش راہ راست سے بھٹکی ہی رہی اور انہوں نے جو قدم اٹھایا منزل مقصود سے دور ہی ہوتے چلے گئے ، بجائے اس کے کہ ان کے قدم رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق اٹھتے انہوں نے جو قدم اٹھایا بدعت وگمراہی کی طرف اٹھایا اور سنت سے منہ موڑے ہی رہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کی ساری سعی و کوشش دنیا کی زندگی ہی کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
Who are those referred to as: الْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (The greatest losers in respect of [ their ] deeds - 103)? At this place, the first two verses (101, 102) are, in terms of their general sense, inclusive of every individual or group that would put in a lot of effort in some deeds taking them to be good, but with Allah their effort is ruined and their deed, wasted. Al-Qurtubi said that this situation is caused due to two things. One: Corruption in Belief. Two: Hypocrisy. It means that a person whose very Belief and Faith is not correct - no matter how good he is in his deeds and how…
Read the full tafseer →76. This verse has two meanings. The one is the same that we have adopted in the translation. The other meaning is this: Those who confined all their endeavors to the worldly life. That is, whatever they did, they did for this world without paying any regard to God and the Hereafter. As they considered the worldly life to be the real life, they made the success and prosperity in this world their sole aim and object. Even if they professed the existence of Allah, they never paid any heed to the two implications of this profession: to lead their lives in a way to please Allah and to come out…
Read the full tafseer →