Al-Hijr 15:63

Al-Hijr · from ayah 63

15:63

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ ۟قَالُوۡا بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ

وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "But we have come to you with that about which they were disputing,

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:63

اُنہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وه چیز ﻻئے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: (ایسا نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ شک کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : بلکہ ہم تو تمہارے پاس وہ (عذاب) لائے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے باب میں یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے جواب دیا (کہ نہیں ہم آدمی نہیں) بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ کچھ لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے نہیں بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ لے کر آئے ہیں جس کے باب میں یہ شک کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ شے لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "Nay, we have brought to you that concerning which they have been in doubt.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :No, but we have brought to you that (scourge) in which they have been doubting,

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :No, but we have brought to you that (scourge) in which they have been doubting,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Nay, we have come to you with that (torment) which they have been doubting."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Nay, but we bring thee that concerning which they keep disputing,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "But we have come to you with that about which they were disputing,

— Saheeh International

They replied, "We have come to you about the matter which the (unbelievers) have rejected.

— Muhammad Sarwar

They said: Nay, we have come to you with that about which they disputed.

— Muhammad Habib Shakir

They said: nay! we have come to thee with that whereof they have been dubitating.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Yea, we have come to thee to accomplish that of which they doubt.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–64

دو حسین لڑکے یہ فرشتے نوجوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط ؑ کے پاس گئے۔ تو حضرت لوط ؑ نے کہا تم بالکل ناشناس اور انجان لوگ ہو۔ تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–64

سورة الْحِجْر 36 یہاں بات مختصر بیان کی گئی ہے۔ سورة ہود میں اس کی تفصیل یہ دی گئی ہے کہ ان لوگوں کے آنے سے حضرت لوط بہت گھبرائے اور سخت دل تنگ ہوئے اور ان کو دیکھتے ہی اپنے دل میں کہنے لگے کہ آج بڑا سخت وقت آیا ہے۔ اس گھبراہٹ کی وجہ جو قرآن کے بیان سے اشارۃ اور روایات سے صراحۃ معلوم ہوتی ہے کہ یہ فرشتے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط ؑ کے ہاں پہنچے تھے۔ اور حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بدمعاشی سے واقف تھے، اس لیے آپ سخت پریشان ہوئے کہ آئے ہوئے مہمانوں کو واپس بھی نہیں کیا جاسکتا، اور انہیں ان مدمعاشوں سے بچانا بھی مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

تفسیر آیت 63 تا 64: قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ (63) وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ (64)۔ فرشتوں نے کہا ہم آدمی نہیں ہیں، جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے بلکہ ہم وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراتے رہے ہو، لیکن وہ برابر شک ہی میں پڑے رہے، " حق " کے معنی یہاں، جیسا کہ آیت 8 میں گزر چکا ہے، عذاب اور شدنی کے ہیں۔ یہ ظاہر کردینے کے بعد کہ ہم عذاب کو لے کر آئے ہیں یہ ظاہر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ ہم فرشتے ہیں " وانا لصدقون " بطور تنبیہ و توثیق ہے کہ ہمیں بشر سمجھ کر کسی غلط فہمی میں نہ پڑنا۔ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ شدنی ہے تو اب جو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 63–65

22: حضرت لوط ؑ کو پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ آپ اپنے تمام ساتھیوں کی نگرانی کرسکیں، خاص طور پر ان سب کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ حضرت لوط ؑ کے پیچھے ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–66

آیت نمبر 61 تا 66 یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔ قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی گھبراؤ مت۔ ہم آدمی نہیں ہیں، ہم تو آسمان سے وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ تم سے جھگڑا کرتے تھے۔ یعنی مہلک عذاب جس کی تم دھمکی دیتے اور یہ انکار کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 63–64

آیت 63 قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ حضرت لوط جب اپنی قوم کو متنبہ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ شرک سے اور اس فعل خبیث سے باز نہیں آؤ گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا ‘ تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے تھے ‘ کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان پر واقعی عذاب آجائے گا۔ فرشتوں نے کہا کہ آج ہم وہی عذاب لے کر آگئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک میں تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–64

32 سیدنا لوط اور آل لوط کو نکل جانے کا حکم اور ہدایات :۔ یہ فرشتے جب لوط (علیہ السلام) کے ہاں آئے تو خوبصورت اور بےریش نوجوانوں کی صورت میں آئے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کے یہ مہمان بالکل اجنبی مہمان تھے۔ آپ کو بھی ان کی آمد سے خطرہ محسوس ہوا لیکن آپ کے خطرہ کی نوعیت بالکل الگ تھی۔ آپ اپنی قوم کا حال بھی جانتے تھے اور یہ نوجوان لڑکے بہت خوبصورت تھے لہذا دل ہی دل میں آپ پیش آنے والے حالات سے سخت خوفزدہ تھے۔ فرشتوں نے آپ کو اصل صورت حال بتلا کر آپ کے اس خوف کو دور کردیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اس مجرم قوم کے گناہوں کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے۔ لہذا ہم ان کے مکمل استیصال کے لیے بھیجے گئے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ یعنی عذاب وہلاکت بل میں یہ سارا مضمون آگیا کہ ہم انسان ہیں ہی نہیں، بلکہ فرشتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–79

آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون فرشتوں نے کہا : ہم آپ کے پاس (کافروں کیلئے) وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں ان کو شک رہتا تھا۔ یعنی آپ کو دکھ پہنچانے والی کوئی چیز لے کر نہیں آئے ‘ بلکہ آپ کیلئے خوش کن بات لائے ہیں۔ جس عذاب سے آپ ان کو ڈراتے تھے اور وہ شک میں پڑے ہوئے تھے ‘ ان کو عذاب کا خوف ہی نہ تھا ‘ وہی عذاب ان کیلئے لائے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 63–64

(63۔ 64) ہم تم اور تمہارے سلام کو نہیں پہنچانتے (پریشان ہوئے کہ قوم ان کے ساتھ کیا کرے کیوں کہ یہ صورت آدمی تھے) اس لیے فرمایا کہ تم اجنبی معلوم ہوتے ہو، فرشتے بولے ہم آپ کے پاس عذاب لے کر آئے ہیں، جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے اور ہم آپ کے پاس عذاب کی خبر لائے ہیں، اور ہم اپنی اس بات میں بالکل سچے ہیں کہ عذاب ان پر نازل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 63–64

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ۔۔ : ”اِمْتِرَاءٌ“ سے مضارع معلوم ہے، ایسا شک جو انسان کو ایسی بات پر جھگڑنے کے لیے آمادہ کرے جس کی حقیقت کچھ نہ ہو، بلکہ وہ صرف وہم و گمان پر مبنی ہو۔ (طنطاوی) اس لیے اس میں جھگڑے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ فرشتوں نے لوط ؑ کو تسلی دینے کے لیے یہ بات کہی کہ ہم تمہیں پریشان کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے اور جھگڑتے رہے ہیں اور واقعی ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ”بِالْحَقِّ“ سے مراد عذاب ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) [ الحجر : 8 ] ”ہم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 61–66

آیت نمبر 61 تا 65 قولہ تعالیٰ : فلما جآء ال لوط المرسلون۔ قال انکم قوم منکرون یعنی میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ جواب تھے اور آپ نے جب حسن و جمال دیکھا تو ان کے بارے میں اپنی قوم کے فتنے کا آپ کو خوف لاحق ہوا، پس یہی وہ انکار اور اجنبیت ہے۔ قالوا بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون (فرشتوں نے کہا : (ہم اجنبی نہیں) بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لے آئیں گے جس میں وہ شک کیا کرتے تھے کہ وہ ان پر نازل ہوگی۔ اور وہ عذاب ہے واتینک بالحق اور ہم آپ کے پاس لے آئیں ہیں حق یعنی سچ۔ اور بعض نے کہا ہے : عذاب۔ وانا لصدقون اور بلاشبہ ہم ان کی ہلاکت کے بارے میں سچ کہہ رہے ہیں۔ فاسر باھلک بقطع من…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ بَلْ؛بلکہ ] [ جِئْنٰكَ : ہم آئے آپ (علیہ السلام) کے پاس ] [ بِمَا؛اس کے ساتھ ] [ كَانوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ : جس میں یہ شک کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–71

یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–66

22:۔ ” قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ “ تا ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ “ رکوع 5) ۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اپنی واقعی ترتیب کے ساتھ سورة ہود میں مذکور ہے یہاں قصہ کی مختلف کڑیوں میں تقدیم و تاخیر ہے ” فَلَمَّا جَاءَ اٰلَ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلُوْنَ “ یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے حذف ہے ای ماجئنٰک لضرک۔ یعنی ہم تیرے پاس تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ ہم تیری سرکش قوم کے لیے وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم ان کو ڈراتے رہے ہو اور جس کی آمد میں وہ شک کرتے رہے ہیں۔” فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ “ لہذا تم اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–70

(ربط آیات) پہلے اللہ نے شیطان کا اتباع کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور پھر متقی لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا ، پھر اللہ کی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کی بات ہوئی ، ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے واقعہ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، ایک طرف ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے انہیں نئی نسل کے قیام کے لیے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ہو رہی ہے ۔ کل کے درس میں اللہ کے فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر بیٹے کی خوشخبری سنانے کا ذکر تھا اور ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ 63؀ مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] ( م ر ی) المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد ہوتا ہے ۔ کے ہیں اور یہ شک سے خاص قرآن میں ہے : وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے۔ الامتراء والمماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنا کے ہیں ۔ جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو ۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–69

تفسیر : پھر جب فرشتے لوط کے گھر پہنچے تو لوط نے ان کو نوجوانی کے عالم میں دیکھ کر اور اپنی قوم کی بدعادت پر خیال کر کے ان کو آنا مکروہ سمجھا چونکہ مہمان تھے گھر لے آئے، فرشتوں نے لوط سے بیان کردیا کہ ہم اس قوم ناپاک کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں، صبح ہوتے ہوتے یہ غارت ہو چکیں گے۔ تم اپنے خاندان کو لے کر بڑے سویرے چل دو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ان کی خبر بستی میں پہنچی۔ پھر کیا تھا ‘ بدمعاش شہوت پرستوں نے آ کر لوط (علیہ السلام) کا گھر گھیر لیا ‘ اس ارادے سے کہ ان لوگوں سے بدفعلی کریں۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے مہمان ہیں ان کی بےعزتی میری بےعزتی ہے خدا سے ڈرو، مجھے رسوا نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 61–64

فَلَمَّا جَآئَ اٰلَ لُوْطِنِ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ قَالَ اِنُّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ ۔ قَالُوْا بَلْ جِئْنٰـکَ بِمَا کَانُوْا فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ ۔ وَاَتَیْنٰـک بِالْحَقِّ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 61۔ 62۔ 63۔ 64) (جب فرستادے آل لوط کے پاس پہنچے۔ تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ فرشتوں نے کہا ہم آپ ( علیہ السلام) کے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ شک کیا کرتے تھے۔ ہم آپ ( علیہ السلام) کے پاس حق لے کر آئے ہیں، اور ہم بلاشبہ سچ کہہ رہے ہیں۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) اور فرشتے جب یہ فرشتے قوم لوط کی بستی میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر پہنچے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–66

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کی زندہ مثال۔ ملائکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے الوداع ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ملائکہ کو پہچان نہ سکے۔ فرمانے لگے آپ لوگ تو بالکل اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس اس کام کے لیے آئے ہیں۔ جس کام کی آمد کے بارے میں آپ کی قوم بےیقینی کا شکار ہے۔ جس کام کے لیے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں وہ حقیقت اور ہو کر رہے گا۔ یقین جانیے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ سو فیصد سچ ہے۔ بس آپ جتنا جلدی ہو سکے رات کے آخری پہر اپنے اہل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63: قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ بِمَاکَانُوْا فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ (انہوں نے کہا بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں وہ شک کرتے ہیں) ہم وہ چیز نہیں لائے جس کے سبب سے ہمیں اوپر اخیال کرتے ہو بلکہ وہ چیز لائے ہیں جسمیں تمہاری خوشی ہے اور اس سے تمہیں تمہارے دشمنوں کی طرف سے شفاء نصیب ہوگی اور وہ عذاب ہے جس کے اترنے سے تم ان کو ڈراتے تھے اور وہ اس کے نزول میں شک کرنے والے تھے۔ اور تمہاری تکذیب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(63)” قالوا بل جنناک بما کانو فیہ یمترون “ کہ آپ اس عذاب کے بارے میں شک کرتے تھے وہ عذاب لے کر آئے ہیں کیونکہ ان کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا اور آپ ان کو تصدیق نہیں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–64

63۔ 64۔ اب یہاں سے لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا فرشتے خدا کے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر یک بیک لوط (علیہ السلام) کے یہاں پہنچے وہ ان کو خوبصورت نو عمر لڑکے دیکھ کر ڈرے کہ یہ لوگ کسی اور شہر کے رہنے والے ہیں یہاں جو اس طرح آگئے ہیں بڑی قباحت کی بات ہے میری قوم کو لڑکوں سے بد فعلی کرنے کی عادت ہے جس وقت ان لوگوں کو ان نو عمر لڑکوں کے آنے کی خبر معلوم ہوگی تو فوراً یہاں آجائیں گے اور مجھ سے سخت جھگڑا ہوگا دیکھئے کیوں کر ان سے پیچھا چھوٹتا ہے اسی خیال سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان آنے والوں سے کہا کہ تم کون لوگ ہو ہم تمہیں نہیں پہچانتے ان فرشتوں نے کہا کہ ہم خدا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–78

آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–64

52۔ فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) سے اظہار حقیقت اور افشائے راز : سو جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تو فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے ان سے کہا کہ ہم انسان نہیں فرشتے ہیں۔ لہذا آپ ہماری وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ یہ لوگ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ہم تو آپ کے پاس وہ کچھ لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے تھے۔ اور جس کے لئے یہ جلدی مچایا کرتے تھے اور جس کو یہ لوگ ایسے ہی دھمکی قرار دیا کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اب اس عذاب کا وقت آچکا ہے اور ہم ان لوگوں کے لئے اسی عذاب کو واقع کرنے کے لیے آئے ہیں تاکہ یہ اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہیں جس کا مستحق انہوں نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–79

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 63–64

ف 1 جس کے ہونے میں کوئی شک نہیں اور وہ ہے حق تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا اٹل فیصلہ۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:63) بل۔ بلکہ۔ بل یہ لفظ اضراب کے لئے آتا ہے یعنی پہلی بات کی تکذیب اور اگلی بات کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ قالوا بل ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں (یعنی ہم اجنبی نہیں یا کسی شر سے نہیں آئے) بلکہ۔۔ یمترون۔ مضارع جمع مذکر غائب امتراء (افتعال) وہ شک کرتے ہیں وہ متردّد ہیں۔ مری مادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–79

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 61–64

قوم لوط کی تباہی کا حال یہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا کہ رشتے خدا کے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہوکر یک بیک حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں پہنچے۔ وہ ان کو نوعم خوبصورت لڑکے دیکھ کر ڈرے کہ یہ لوگ کسی اور شہر کے رہنے والے ہیں جس اس طرح آئے ہیں۔ بڑی قباحت کی بات ہے میری قوم کو لڑکوں سے بدفعلی کی عادت ہے۔ جس وقت ان لوگوں کو ان نوعمر لڑکوں کے آنے کی خبر ہوگی تو فورا یہاں آجائیں گے اور مجھ سے سخت جھگڑا ہوگا، دیکھئے کیونکر ان سے پیچھا چھؤٹتا ہے۔ اس خیال سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے آنے والوں سے کہا کہ تم کون لوگ ہو ہم تمہیں نہیں پہچانتے، ان فرشتوں نے کہا کہ ہم خدا کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–65

(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص شیوہ بیان ہے کہ احکام کا ذکر کرتے ہوئے عبروبصائر کا انبار لگا دیتا ہے ، اور درمیان میں قوام وملل کے قصص بھی بیان کرتا جاتا ہے کہ حالات کا موازنہ ہوتا رہے ۔ اس سے قبل دعوت رسالت کا ذکر تھا ، پھر مکہ والوں کے تعصب کو بیان کیا ، پھر نوع انسانی کو اپنے ابتدائی حالات کی جانب توجہ دلائی ، تاکہ وہ اپنے اصلی مقام کو پہچانیں ، اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم لوط (علیہ السلام) کے حالات ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ کی تشریح ہے ، اور قوم لوط (علیہ السلام) کی داستان میں (آیت) ” وان عذابی وھو ال عذاب الالیم “۔ کی ۔ بات یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

63 ۔ ان فرستادوں نے کہا یہ بات نہیں بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ عذاب لیکر آتے ہیں جس عذاب میں یہ آپ کی قوم کے لوگ شک کیا کرتے تھے اور آپ سے جھگڑا کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم اوپر آدمی نہیں فرشتے ہیں قوم پر عذاب لائے ہیں ۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرستادگان نے کہا کہ ہم تمہاری قوم کے لوگوں کا شک نکالنے کیلئے آئے ہیں : 63۔ فرستادگان نے لوط (علیہ السلام) سے عرض کی کہ دیکھو ہم وہ چیز لے کر آج تمہارے پاس آئے ہیں جس کے متعلق تم اپنی قوم کو بتاتے تھے اور وہ اسے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہ تھے بلکہ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ اس عذاب کو لے کیوں نہیں آتے ہو ؟ خالی دعو وں پر ہم کو ٹرخاتے رہو گے یعنی تم جب ان کو ڈراتے تھے تو وہ الٹا مذاق اڑاتے تھے ، اب وہ وقت آگیا ہے کہ عنقریب ان پر عذاب الہی نازل ہوگا اور انہیں تباہ وبرباد کردیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

36. Here the story has been related in brief. But we learn from (Surah Houd, Ayats 77-83) that Prophet Lot (peace be upon him) was greatly perturbed and distressed at the visit of the angels. He said to himself,“This is a day of woe.”The reason why he was distressed, as implied in the Quran and explicitly expressed in the traditions, was that the angels had come to Prophet Lot (peace be upon him) in the form of beautiful boys, and he knew how perverse and wicked his people were. He was distressed for he could not send them away because they were his guests, and because he did not know how to…

Read the full tafseer →