قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ ۟قَالَ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡكَرُوۡنَ
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
He said, "Indeed, you are people unknown."
— Saheeh International
Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz
قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ ۟قَالَ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡكَرُوۡنَ
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
He said, "Indeed, you are people unknown."
— Saheeh International
Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Hijr
تو اُس نے کہا "آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں"
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو
تو لوط نے کہا : آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔
کہا تم تو کچھ بیگانہ لوگ ہو، ف۶۷)
لوط ؑ نے کہا: بیشک تم اجنبی لوگ (معلوم ہوتے) ہو،
تو اس نے کہا تم تو ایسے لوگ ہو جن کی جان پہچان نہیں۔
تو لوط نے انھیں کہا : تم تو کچھ اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہو
تو اس نے کہا آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں
تو اس نے کہا کہ آپ لوگ تو بالکل اجنبی لگتے ہیں،
کہا کہ تم تو اجنبی قوم کے لوگ (معلوم ہوتے) ہو۔
اس (لو ط) نے کہا کہ یقیناً تم اجنبی لوگ ہو
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا (غیر) سے لوگ ہو۔
he said: "Surely you are an unknown folk."
he said, :You are an unfamiliar people.
he said, :You are an unfamiliar people.
He (Lut) said: "Verily, you are people unknown to me."
He said: Lo! ye are folk unknown (to me).
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
He said, "Indeed, you are people unknown."
he said, "You seem to be strangers".
He said: Surely you are an unknown people.
He said: verily ye are a people stranger.
He said: "Ye appear to be uncommon folk."
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 61–64
دو حسین لڑکے یہ فرشتے نوجوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط ؑ کے پاس گئے۔ تو حضرت لوط ؑ نے کہا تم بالکل ناشناس اور انجان لوگ ہو۔ تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
سورة الْحِجْر 36 یہاں بات مختصر بیان کی گئی ہے۔ سورة ہود میں اس کی تفصیل یہ دی گئی ہے کہ ان لوگوں کے آنے سے حضرت لوط بہت گھبرائے اور سخت دل تنگ ہوئے اور ان کو دیکھتے ہی اپنے دل میں کہنے لگے کہ آج بڑا سخت وقت آیا ہے۔ اس گھبراہٹ کی وجہ جو قرآن کے بیان سے اشارۃ اور روایات سے صراحۃ معلوم ہوتی ہے کہ یہ فرشتے نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط ؑ کے ہاں پہنچے تھے۔ اور حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بدمعاشی سے واقف تھے، اس لیے آپ سخت پریشان ہوئے کہ آئے ہوئے مہمانوں کو واپس بھی نہیں کیا جاسکتا، اور انہیں ان مدمعاشوں سے بچانا بھی مشکل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–71
خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
تفسیر آیات 61 تا 62: فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ (61) قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ (62)۔ حضرت ابراہیم کو بشارت دے کر یہ فرشتے حضرت لوط کے پاس پہنچے حضرت لوط نے ان کو دیکھا تو محسوس کیا کہ یہ لوگ اس علاقے کے تو ہیں نہیں تو آخر یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کس غرض سے آئے ہیں، بالآخر انہوں نے فرمایا کہ آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ لوگوں کو پہچان نہیں رہا ہوں۔ براہ کرم آپ لوگ اپنا تعارف کرائیے۔
Read the full tafseer →62۔ 1 یہ فرشتے حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اور حضرت لوط ؑ کے لئے بالکل انجان تھے، اس لئے انہوں نے ان سے اجنبیت اور بیگانگی کا اظہار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
21: حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
آیت نمبر 61 تا 66 یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔ قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
4 یا تو یہ مطلب تھا کہ تم مجھے غیر معمولی سے آدمی معلوم ہوتے ہو جنہیں دیکھ کر خواہ مخواہ دل کھٹکتا ہے۔ یہ شاید ویسا ہی کھٹکا ہوگا جو ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوا تھا یا یہ غرض ہو کہ تم اس شہر میں اجنبی ہو، تم کو یہاں کے لوگوں کی خوئے بدمعلوم نہیں، دیکھئے وہ تمہارے ساتھ کیسا سلوک کریں، یا یہ اس وقت فرمایا جب لوگوں نے فرشتوں کو حسین لڑکے سمجھ کر لوط کے مکان پر چڑھائی کی۔ لوط (علیہ السلام) انھیں مہمان سمجھتے ہوئے امکانی مدافعت کرتے رہے۔ حتٰی کہ آخر میں نہایت حسرت سے فرمایا (لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ ) 11 ۔ ہود :80) اس وقت تنگ ہو کر اور گھبرا کر…
Read the full tafseer →آیت 62 قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ حضرت لوط نے دیکھا کہ یہ بالکل اجنبی لوگ ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں اور کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
32 سیدنا لوط اور آل لوط کو نکل جانے کا حکم اور ہدایات :۔ یہ فرشتے جب لوط (علیہ السلام) کے ہاں آئے تو خوبصورت اور بےریش نوجوانوں کی صورت میں آئے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کے یہ مہمان بالکل اجنبی مہمان تھے۔ آپ کو بھی ان کی آمد سے خطرہ محسوس ہوا لیکن آپ کے خطرہ کی نوعیت بالکل الگ تھی۔ آپ اپنی قوم کا حال بھی جانتے تھے اور یہ نوجوان لڑکے بہت خوبصورت تھے لہذا دل ہی دل میں آپ پیش آنے والے حالات سے سخت خوفزدہ تھے۔ فرشتوں نے آپ کو اصل صورت حال بتلا کر آپ کے اس خوف کو دور کردیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اس مجرم قوم کے گناہوں کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے۔ لہذا ہم ان کے مکمل استیصال کے لیے بھیجے گئے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
52۔ (اور ہمارے ملک کا دستور ہے کہ بیرونیوں اور پردیسیوں سے ہر طرح کی شرارت وبدسلو کی کرتے رہتے ہیں) ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…
Read the full tafseer →قال انکم قوم منکرون تو لوط نے ان سے کہا : بلاشبہ تم اجنبی آدمی معلوم ہوتے ہو۔ یعنی میں نے تم کو نہیں پہنچانا ‘ تم سے مجھے اندیشہ ہے۔ نہ تو تم پر کوئی سفر کی علامت ہے کہ میں تم کو مسافر سمجھوں اور نہ تم اس بستی کے رہنے والے ہو۔ کہیں تمہاری طرف سے مجھے کوئی دکھ نہ پہنچ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(61۔ 62) چناچہ حضرت جبریل ؑ اور ان کے ساتھی خاندان لوط ؑ کے پاس آئے اور وہ کہنے لگے تم تو ہمارے اس شہر میں اجنبی آدمی معلوم ہوتے ہو۔
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ : جن کی جان پہچان نہ ہو، اجنبی، اُوپرے۔ ابراہیم ؑ کی طرح لوط ؑ بھی انھیں پہچان نہ سکے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ دوسری ساری مخلوق کی طرح یہ دونوں جلیل القدر انبیاء بھی عالم الغیب نہ تھے، ورنہ وہ ان کے آنے سے پہلے ہی انھیں جانتے ہوتے اور ان کے آنے سے باخبر ہوتے، بلکہ ابراہیم ؑ کو پہلے ہی معلوم ہوتا کہ مجھے اتنی عمر میں اسحاق عطا ہوں گے اور لوط ؑ کو پہلے ہی اپنی قوم کا انجام معلوم ہوتا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ابراہیم ؑ کا اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے پر صبر، آگ میں ڈالے جانے پر بھی استقامت کا اظہار، جبار مصر کی زیادتی کی آزمائش پر صبر، ہاجرہ اور اسماعیل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
آیت نمبر 61 تا 65 قولہ تعالیٰ : فلما جآء ال لوط المرسلون۔ قال انکم قوم منکرون یعنی میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ جواب تھے اور آپ نے جب حسن و جمال دیکھا تو ان کے بارے میں اپنی قوم کے فتنے کا آپ کو خوف لاحق ہوا، پس یہی وہ انکار اور اجنبیت ہے۔ قالوا بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون (فرشتوں نے کہا : (ہم اجنبی نہیں) بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لے آئیں گے جس میں وہ شک کیا کرتے تھے کہ وہ ان پر نازل ہوگی۔ اور وہ عذاب ہے واتینک بالحق اور ہم آپ کے پاس لے آئیں ہیں حق یعنی سچ۔ اور بعض نے کہا ہے : عذاب۔ وانا لصدقون اور بلاشبہ ہم ان کی ہلاکت کے بارے میں سچ کہہ رہے ہیں۔ فاسر باھلک بقطع من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[قَالَ : تو (لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] [ انكُمْ : بیشک تم لوگ ] [ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ : ایک اجنبی قوم ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–71
یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
22:۔ ” قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ “ تا ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ “ رکوع 5) ۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اپنی واقعی ترتیب کے ساتھ سورة ہود میں مذکور ہے یہاں قصہ کی مختلف کڑیوں میں تقدیم و تاخیر ہے ” فَلَمَّا جَاءَ اٰلَ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلُوْنَ “ یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے حذف ہے ای ماجئنٰک لضرک۔ یعنی ہم تیرے پاس تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ ہم تیری سرکش قوم کے لیے وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم ان کو ڈراتے رہے ہو اور جس کی آمد میں وہ شک کرتے رہے ہیں۔” فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ “ لہذا تم اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(ربط آیات) پہلے اللہ نے شیطان کا اتباع کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور پھر متقی لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا ، پھر اللہ کی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کی بات ہوئی ، ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے واقعہ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، ایک طرف ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے انہیں نئی نسل کے قیام کے لیے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ہو رہی ہے ۔ کل کے درس میں اللہ کے فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر بیٹے کی خوشخبری سنانے کا ذکر تھا اور ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ 62 قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] نكر الإِنْكَارُ : ضِدُّ العِرْفَانِ. يقال : أَنْكَرْتُ كذا، ونَكَرْتُ ، وأصلُه أن يَرِدَ علی القَلْبِ ما لا يتصوَّره، وذلک ضَرْبٌ من الجَهْلِ. قال تعالی: فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
تفسیر : پھر جب فرشتے لوط کے گھر پہنچے تو لوط نے ان کو نوجوانی کے عالم میں دیکھ کر اور اپنی قوم کی بدعادت پر خیال کر کے ان کو آنا مکروہ سمجھا چونکہ مہمان تھے گھر لے آئے، فرشتوں نے لوط سے بیان کردیا کہ ہم اس قوم ناپاک کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں، صبح ہوتے ہوتے یہ غارت ہو چکیں گے۔ تم اپنے خاندان کو لے کر بڑے سویرے چل دو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ان کی خبر بستی میں پہنچی۔ پھر کیا تھا ‘ بدمعاش شہوت پرستوں نے آ کر لوط (علیہ السلام) کا گھر گھیر لیا ‘ اس ارادے سے کہ ان لوگوں سے بدفعلی کریں۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے مہمان ہیں ان کی بےعزتی میری بےعزتی ہے خدا سے ڈرو، مجھے رسوا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
فَلَمَّا جَآئَ اٰلَ لُوْطِنِ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ قَالَ اِنُّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ ۔ قَالُوْا بَلْ جِئْنٰـکَ بِمَا کَانُوْا فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ ۔ وَاَتَیْنٰـک بِالْحَقِّ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 61۔ 62۔ 63۔ 64) (جب فرستادے آل لوط کے پاس پہنچے۔ تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ فرشتوں نے کہا ہم آپ ( علیہ السلام) کے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ شک کیا کرتے تھے۔ ہم آپ ( علیہ السلام) کے پاس حق لے کر آئے ہیں، اور ہم بلاشبہ سچ کہہ رہے ہیں۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) اور فرشتے جب یہ فرشتے قوم لوط کی بستی میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر پہنچے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کی زندہ مثال۔ ملائکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے الوداع ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ملائکہ کو پہچان نہ سکے۔ فرمانے لگے آپ لوگ تو بالکل اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس اس کام کے لیے آئے ہیں۔ جس کام کی آمد کے بارے میں آپ کی قوم بےیقینی کا شکار ہے۔ جس کام کے لیے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں وہ حقیقت اور ہو کر رہے گا۔ یقین جانیے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ سو فیصد سچ ہے۔ بس آپ جتنا جلدی ہو سکے رات کے آخری پہر اپنے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
لوط ( علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کی آمد : 61، 62: فَلَمَّا جَآئَ اٰلَ لُوْطِ نِالْمُرْسَلُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ (جب آل لوط کے پاس قاصد آئے تو (لوط (علیہ السلام) نے) کہا بیشک تم اجنبی آدمی معلوم ہوتے ہو) یعنی میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اس لئے کہ نہ تم مقیمی ہو اور نہ لباس سفر میں ہو کہ مسافر سمجھوں۔ مجھے خطرہ ہے کہ تمہارے سے مجھے دکھ نہ پہنچ جائے۔
Read the full tafseer →(62)” قال “ ان سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا ” انکم قوم منکرون “ میں تمہیں نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
57۔ 60۔ جب فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد کی خوشی سنادی اور ان کے دل سے خوف جاتا رہا تو انہوں نے فرشتوں سے پوچھا کہ اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتوں تمہارا ارادہ کس کام کا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ فقط بشارت ہی دینے کو نہیں آئے ہیں ان کا آنا کسی اور کام کی غرض سے ہوا ہے اگر خوشی صرف سنانی تھی تو ایک آتا ابراہیم (علیہ السلام) کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے سب لوگ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوجائیں گے اسی میں لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ہلاک ہوں گی یہ دل میں منافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–78
آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
50۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے کہا کہ لوط (علیہ السلام) کے آل اور ان کے متعلقین سب کو ہم بچا لیں گے، بجز لوط کی بیوی کے، کہ وہ بھی انہی کے ساتھ ہلاک ہو کر اپنے کیفر کردار کو پہنچے گی کہ وہ بھی ایمان نہیں لائی تھی۔ معلوم ہوا کہ جب تک اپنا عقیدہ و ایمان درست نہ ہو تو پھر پیغمبر کے ساتھ تعلق داری بھی کچھ کام نہیں آسکتی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ ہمارے دور اور ہمارے ملک کے کچھ کلمہ گو مشرکوں اور اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور نہ ہی ہدایت سے نوازکرراہ راست پر لے آنا اور دلوں کو بدل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 10 اس علاقے کے رہنے والے نہیں ہو اس لئے مجھے تم سے ڈر لگتا ہے۔
Read the full tafseer →(15:62) منکرون۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ نا آشناء اجنبی۔ قوم منکرون ۔ اجنبی لوگ یا ایسے لوگ جن سے شرکا خوف ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
قوم لوط کی تباہی کا حال یہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا کہ رشتے خدا کے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہوکر یک بیک حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں پہنچے۔ وہ ان کو نوعم خوبصورت لڑکے دیکھ کر ڈرے کہ یہ لوگ کسی اور شہر کے رہنے والے ہیں جس اس طرح آئے ہیں۔ بڑی قباحت کی بات ہے میری قوم کو لڑکوں سے بدفعلی کی عادت ہے۔ جس وقت ان لوگوں کو ان نوعمر لڑکوں کے آنے کی خبر ہوگی تو فورا یہاں آجائیں گے اور مجھ سے سخت جھگڑا ہوگا، دیکھئے کیونکر ان سے پیچھا چھؤٹتا ہے۔ اس خیال سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے آنے والوں سے کہا کہ تم کون لوگ ہو ہم تمہیں نہیں پہچانتے، ان فرشتوں نے کہا کہ ہم خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–62
[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–65
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص شیوہ بیان ہے کہ احکام کا ذکر کرتے ہوئے عبروبصائر کا انبار لگا دیتا ہے ، اور درمیان میں قوام وملل کے قصص بھی بیان کرتا جاتا ہے کہ حالات کا موازنہ ہوتا رہے ۔ اس سے قبل دعوت رسالت کا ذکر تھا ، پھر مکہ والوں کے تعصب کو بیان کیا ، پھر نوع انسانی کو اپنے ابتدائی حالات کی جانب توجہ دلائی ، تاکہ وہ اپنے اصلی مقام کو پہچانیں ، اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم لوط (علیہ السلام) کے حالات ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ کی تشریح ہے ، اور قوم لوط (علیہ السلام) کی داستان میں (آیت) ” وان عذابی وھو ال عذاب الالیم “۔ کی ۔ بات یہ…
Read the full tafseer →62 ۔ ان کو دیکھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا تم لوگ کچھ اوپری اور اجنبی سے ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 7۔ اور ان کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوگی۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو تم کو نہیں پہچانتا کہ تم کہاں سے آئے ہو ؟ : 62۔ فرستادگان الہی کو دیکھ کر لوط (علیہ السلام) پہچان بھی نہ سکے اور ان کو صاف صاف کہہ دیا کہ بھائیو ! میں تو تم کو دیکھ کر پہچان بھی نہیں سکا کہ تم کون ہو ؟ کیونکہ ہمارے قریب کے رہنے والے تو آپ نہیں ہیں ورنہ تم میرے تو واقف ہوتے اور تم مسافر بھی نظر نہیں آتے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ تم پر سفر کا کوئی اثر ونشان نظر نہیں آتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–71
From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
36. Here the story has been related in brief. But we learn from (Surah Houd, Ayats 77-83) that Prophet Lot (peace be upon him) was greatly perturbed and distressed at the visit of the angels. He said to himself,“This is a day of woe.”The reason why he was distressed, as implied in the Quran and explicitly expressed in the traditions, was that the angels had come to Prophet Lot (peace be upon him) in the form of beautiful boys, and he knew how perverse and wicked his people were. He was distressed for he could not send them away because they were his guests, and because he did not know how to…
Read the full tafseer →