Al-Hijr 15:55

Al-Hijr · from ayah 55

15:55

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ ۟قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ‏

(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "We have given you good tidings in truth, so do not be of the despairing."

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:55

اُنہوں نے جواب دیا "ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوشخبری سناتے ہیں آپ مایوس لوگوں میں شامل نہ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ بولے : ہم نے آپ کو سچی خوشخبری دی ہے، لہذا آپ ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو ناامید ہوجاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا ہم نے آپ کو سچی بشارت دی ہے آپ ناامید نہ ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: ہم آپ کو سچی بشارت دے رہے ہیں سو آپ نا امید نہ ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہم نے تجھے حق کی خوشخبری دی ہے، سو تو ناامید ہونے والوں سے نہ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : ہم تجھے سچی بشارت دے رہے ہیں لہذا مایوس نہ ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا ہم نے آپ کو ایک امر واقعی کی بشارت دی ہے تو آپ ناامید ہونے والوں میں سے نہ ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو آپ کو سچی خوشخبری سنا دی ہے، لہذا آپ ناامید نہ ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

(ابراہیم ؑ نے) کہا کیا تم مجھے بشارت اس حال میں دیتے ہو کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا سو بشارت کس چیز کی دیتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو حق کے ساتھ بشارت دے رہے ہیں تو آپ ناامید لوگوں میں سے نہ ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "The good tiding we give you is of truth. Do not, therefore, be of those who despair."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :We have given to you the good news of a fact. So do not be one of those who lose hope.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :We have given to you the good news of a fact. So do not be one of those who lose hope.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "We give you good news in truth. So do not be of those who despair."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: We bring thee good tidings in truth. So be not thou of the despairing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "We have given you good tidings in truth, so do not be of the despairing."

— Saheeh International

They said, "We have given you the glad news for a true reason so do not despair".

— Muhammad Sarwar

They said: We give you good news with truth, therefore be not of the despairing.

— Muhammad Habib Shakir

They said: we bear tidings of a truth; be then thou not of the desponding.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "We give thee glad tidings in truth: be not then in despair!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–56

سورة الْحِجْر 32 یعنی حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت، جیسا کہ سورة ہود میں بصراحت بیان ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوا بَشَّرْنَاكَ بِالْحَقِّ فَلا تَكُنْ مِنَ الْقَانِطِينَ۔ " حق " کے معنی امر واقعی اور ہو کے رہنے والی بات کے ہیں۔ فرشتوں کی اطمینان دہانی : فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو اطمینان دلایا کہ آپ ظاہری حالات کی نامساعدت سے بد دل اور مایوشس نہ ہوں، ہم نے آپ کو جو بشارت دی ہے ایک امر واقعی کی بشارت دی ہے اور حالات ظاہر خواہ کتنے ہی ناموافق و نامساعد ہوں لیکن یہ بات ہو کے رہے گی۔ فرشتوں کے اس جواب میں یہ بات مضمر ہے کہ یہ بشارت من جانب اللہ ہے اور جو بات من جانب اللہ ہے اس میں حالات کی مساعدت و نامساعدت کا سوال پیدا نہیں ہوتا اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55۔ 1 کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں وہ ہر بات پر قادر ہے، کوئی بات اس کے لئے ناممکن نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–62

21: حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–56

آیت نمبر 51 تا 56 جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے : فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 55–56

1 یعنی رحمت الٰہیہ سے ناامید تو عام مسلمان بھی نہیں ہوسکتے۔ چہ جائیکہ انبیاء (علیہم السلام) کو معاذ اللہ یہ نوبت آئے محض اسباب عادیہ اور اپنی حالت موجودہ کے اعتبار سے ایک چیز عجیب معلوم ہوئی، اس پر میں نے اظہار تعجب کیا ہے کہ خدا کی قدرت اب بڑھاپے میں مجھے اولاد ملے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " عذاب سے نڈر ہونا اور فضل سے ناامید ہونا دونوں کفر کی باتیں ہیں یعنی آگے کی خبر اللہ کو ہے۔ ایک بات پر دعویٰ کرنا یقین کر کے یوں نہیں ہوسکتا یہ ہی کفر کی بات ہے باقی محض دل کے خیال و تصور پر پکڑ نہیں جب منہ سے دعویٰ کرے تب گناہ ہوتا ہے۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ انہوں نے بتایا کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور یہ جو بشارت ہم نے آپ کو دی ہے یہ حقیقی اور قطعی بات ہے ‘ بالکل ایسا ہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 55–56

29 سورة ہود میں اور اس مقام میں قدرے اختلاف ہے سورة ہود کے مطابق فرشتوں نے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ کو دی تھی جو پاس ہی کھڑی فرشتوں اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا مکالمہ سن رہی تھی۔ اس نے بھی اس بڑھاپے کی عمر میں بچہ پیدا ہونے کی بشارت پر تعجب کا اظہار کیا تھا اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی از راہ تعجب فرشتوں سے یہی بات پوچھی کہ یہ کیا خوشخبری دے رہے ہو ؟ 30 سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ تعجب اس لیے نہ تھا کہ وہ اس بات کو ناممکن سمجھتے تھے یا اللہ کی رحمت سے مایوس ہوچکے تھے بلکہ اس لیے تھا کہ وہ اس تکرار سے تاکید مزید اور اسی نسبت سے اپنی مسرت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

46۔ آپ (علیہ السلام) کا مطلب تھا کہ یہ امر آثار و علامات ظاہری اور اسباب عادی کے لحاظ سے تو مستعبد ہے۔ یہ مطلب نہ تھا کہ اللہ کی قدرت سے بعید ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا ابشرنک بالحق فرشتوں نے کہا : ہم نے آپ کو سچی (یا یقین کے ساتھ یا سچے طریقے سے) خوشخبری دی ہے۔ حق سے مراد ہے : اللہ کا قول اور حکم جس کو ٹالنے والا کوئی نہیں ‘ کسی طرح اس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ فلا تکن من القانطین پس آپ آس توڑنے والوں میں سے نہ ہوں (یقینی امید رکھیں) اللہ بغیر ماں باپ کے بھی پیدا کرسکتا ہے تو کوئی تعجب نہیں کہ بوڑھے ماں باپ کو بچہ عطا فرما دے۔ حضرت ابراہیم کو قدرت خدا کا انکار نہ تھا بلکہ ایسا ہونا چونکہ معمولی خداوندی کے خلاف تھا ‘ اسلئے آپ کو تعجب ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) فرشتے کہنے لگے ہم آپ کو فرزند کی بشارت دیتے ہیں، آپ بڑھاپے میں فرزند سے ناامید نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 52–55

اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ : ”وَجِلُوْنَ“ ”وَجِلَ یَوْجَلُ (س) سے ”وَجِلٌ“ (صفت مشبہ) کی جمع ہے، بمعنی ڈرنے والے۔ ڈرنے کی وجہ، مکمل واقعہ اور اس کے فوائد کے لیے دیکھیے سورة ہود (69) سے واقعہ کے آخر تک۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 55 قولہ تعالیٰ : قالوا بشرنک بالحق یعنی ہم نھے ایسی سچی خوشخبری دی ہے جس میں کوئی خلاف نہیں، اور یہ کہ بچے کا ہونا لازم اور ضروری ہے۔ فلا تکن من القنطین پس آپ اولاد سے مایوس ہونے والوں سے نہ ہوجائیے، حالانکہ آپ بڑھاپے کی زیادتی کی وجہ سے بچے سے مایوس ہوچکے تھے۔ من القنطین میں عام قرأت الف کے ساتھ ہے۔ اور اعمش اور یحییٰ بن وثاب نے من القنطین بغیر الف کے پڑھا ہے، اور یہی ابو عمرو سے مروی ہے۔ اور یہ القانطین میں قصر کی گئی ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ان کی لغت کے مطابق ہو جنہوں نے کہا ہے : قنط یقنط ؛ جیسا کہ حذر یحذر۔ اور یقنط کے نون کو فتحہ اور کسرہ دونوں دئیے ہیں، ان دونوں لغات کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ بَشَّرْنٰكَ : ہم نے خوشخبری دی آپ (علیہ السلام) کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ فَلَا تَكُنْ : تو آپ (علیہ السلام) مت ہوں ] [ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ : مایوس ہونے والوں میں سے ] [ قَنُوْطٌ فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بےانتہا مایوس ہونے والا۔ انتہائی مایوس۔ وَاِنْ مَّسُّہُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ (اور اگر چُھوئے اس کو برائی تو انتہائی ناامید انتہائی مایوس ہے) 41:49]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ، ان سے خوفزدہ ہونا اور ان کو بیٹے کی بشارت دینا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر ہے، یہ مہمان اللہ جل شانہٗ کے بھیجے ہوئے فرشتے تھے جو اس لیے بھیجے گئے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دیں اور اس پر بھی مامور تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں، اس کا مفصل تذکرہ سورة ھود (ع 7) میں گزر چکا ہے اور سورة ذاریات میں بھی مذکور ہے، اور سورة عنکبوت رکوع 4 میں بھی ہے جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوگئے تو انہوں نے سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–56

21:۔ یہ ابتداء سورت کے ساتھ متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں فرمایا مسئلہ مان لو ورنہ میرا عذاب آجائے گا اور معاندین امم سابقہ کی طرح پچھتاؤ گے اب یہاں سے تخویف دنیوی کے پانچ نمونے بیان کیے جا رہے ہیں تین امم سابقہ سے اور دو مشرکین مکہ سے۔ یہ نمونہ اول کی تمہید ہے۔ ” قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ “ سے پہلے ادماج ہے یعنی فرشتوں نے آکر سلام کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فوراً اٹھ کر اندر چلے گئے اور مہمانوں کے لیے بچھڑا ذبح کر کے اور تل کرلے آئے جب دیکھا کہ کھانے کے لیے وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو فرمایا ہم تو تم سے ڈر رہے ہیں الخ جیسا کہ مسلسل قصہ سورة اور ذاریات وگیرہ میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–60

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ 55؀ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–60

ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا بَشَّرْنٰـکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 55) (انھوں نے کہا ہم نے آپ کو ایک امرواقعی کی بشارت دی ہے تو آپ ناامید ہونے والوں میں سے نہ ہوں۔ ) فرشتوں کی یقین دہانی فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہارتعجب کو بھی مایوسی پر محمول کیا۔ اس لیے کہ فرشتوں کے یہاں یقین اور اطاعت کے سوا اور کسی جذبے کا گزر نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نبی وہ کامل ہوتے ہوئے بھی اسباب کی دنیا سے یکسر لاتعلق نہیں ہوسکتے۔ شاہ عبدالقادر صاحب ( رح) نے ٹھیک فرمایا کہ کاملین بھی اسباب کی کسی نہ کسی حد تک پرواہ کرتے ہیں تو فرشتوں نے کہا کہ ہم نے آپ ( علیہ السلام) کو جس بات کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–56

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ آیت میں رحمت کا بیان ہوا۔ اب اللہ کی رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانان گرامی کے ذکر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عذاب کا ذکر کیا۔ یہاں رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے جس کا پس منظر یہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری دینے والے ملائکہ حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے معمولی توقف کے بعد ان کی خدمت میں بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا۔ جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

55: قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بِالْحَقِّ (انہوں نے کہا ہم تمہیں سچی بات کی خوشخبری دیتے ہیں) ایسے یقین کی جسمیں التباس نہیں۔ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ (پس تم امید توڑنے والوں میں سے نہ بنو) اس سے مایوس ہونے والے مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–56

51۔ 56۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے یہ قصہ سورت ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف جب نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر چلے ہیں اور تمہیں اولاد کی خوشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–56

آیت 51 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (ونبءھم عن ضیف ابراہیم) ” ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں “ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے، کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہوگی اور وہ ان کی پیروی کریں گے۔۔۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔ (اد دخلوا علیہ فقالوا سلماً ) ” جب وہ آئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 53–55

46۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے خوشخبری در خوشخبری : سو انہوں نے آنجناب کو بیٹے سے سرفرازی کی خوشخبری دی، اور وہ بھی ایسے عظیم الشان بیٹے سے سرفرازی کی جو علیم ہوگا۔ اور وہ بھی اس پیرانہ سالی میں۔ سو کتنی بڑی خوشخبری ہے یہ جو کئی خوشخبریوں پر مشتمل ہے۔ سو انہوں نے کہا کہ یہی خوشخبری ہم آپ کو سنانے آئے ہیں۔ اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند نے اپنی تحریفانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے یہاں پر تکلا چلایا ہے کہ " اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو رب نے علوم خمسہ دئیے ہیں کہ باعلام الہی معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہاں بیٹا ہوگا " حالانکہ یہاں پر اس بارے نصوص صریحہ موجود ہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔ (مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو) گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–56

ف 7 یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔ (قرطبی شو کانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:55) القنطین ۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ القانط واحد قنوط مصدر (باب ضرب وسمع) خیر سے ناامید ہونے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ جب اس کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے۔ مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قو لوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–62

[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–65

(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص شیوہ بیان ہے کہ احکام کا ذکر کرتے ہوئے عبروبصائر کا انبار لگا دیتا ہے ، اور درمیان میں قوام وملل کے قصص بھی بیان کرتا جاتا ہے کہ حالات کا موازنہ ہوتا رہے ۔ اس سے قبل دعوت رسالت کا ذکر تھا ، پھر مکہ والوں کے تعصب کو بیان کیا ، پھر نوع انسانی کو اپنے ابتدائی حالات کی جانب توجہ دلائی ، تاکہ وہ اپنے اصلی مقام کو پہچانیں ، اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم لوط (علیہ السلام) کے حالات ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ کی تشریح ہے ، اور قوم لوط (علیہ السلام) کی داستان میں (آیت) ” وان عذابی وھو ال عذاب الالیم “۔ کی ۔ بات یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

55 ۔ مہمان فرشتوں نے کہا ہم آپ کو صحیح اور امر واقعی کی بشارت دیتے ہیں لہٰذا آپ نا امیدوں اور آس توڑنے والوں میں سے نہ ہوں ۔ یعنی آپ کے ہاں اولاد ضرور ہوگی آپ ناامید نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی تولد فرزند یقینا ہونے والا ہے۔ 4۔ یعنی اپنے بوڑھاپے پر نظر نہ کیجئے کہ ایسے اسباب عادیہ پر نظر کرنے سے وساوس ناامیدی کے غالب ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم تو یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنا رہے ہیں اور آپ (علیہ السلام) مایوس ہو رہے ہیں : 55۔ یہ خوشخبری کسی ڈاکٹر یا طبیب کی طرف سے نہیں یہ تو اللہ عالم الغیب والشہادۃ کی طرف سے دی جارہی ہے کسی انسان کی طرف سے نہیں اور کیا اللہ کی دی گئی خبر سن کر بھی کوئی انسان (نبی (علیہ السلام) ورسول (علیہ السلام) ناامید ہوسکتا ہے کہ معلوم نہیں ایسا ہوگا بھی یا نہیں جب کہ وہ انسان کے ظاہری اور باطنی سارے قوی سے پوری طرح واقف ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–56

32.“A boy possessing knowledge”, Prophet Isaac (peace be upon him). His name has been mentioned in connection with this good news in Surah Houd, Ayat 71.

Read the full tafseer →