Al-Hijr 15:54

Al-Hijr · from ayah 54

15:54

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤی اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ ۟قَالَ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِىۡ عَلٰٓى اَنۡ مَّسَّنِىَ الۡكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ‏

بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Have you given me good tidings although old age has come upon me? Then of what [wonder] do you inform?"

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:54

ابراہیمؑ نے کہا "کیا تم اِس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہا، کیا اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے خوشخبری دیتے ہو! یہ خوشخبری تم کیسے دے رہے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابراہیم نے کہا : کیا تم مجھے اس حالت میں خوشخبری دے رہے ہو جبکہ مجھے پر بڑھاپا چھا چکا ہے ؟ پھر کس بنیاد پر مجھے خوشخبری دے رہے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا کیا اس پر مجھے بشارت دیتے ہو کہ مجھے بڑھاپا پہنچ گیا اب کاہے پر بشارت دیتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ابراہیم ؑ نے کہا: تم مجھے اس حال میں خوشخبری سنا رہے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے سو اب تم کس چیز کی خوشخبری سناتے ہو؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا کیا تم نے مجھے اس کے باوجود خوشخبری دی ہے کہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے، تو تم کس بات کی خوشخبری دیتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ابراہیم نے کہا، کیا مجھے اس حال میں (اولاد کی) خوشخبری دیتے ہو جبکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں پھر یہ کیسی بشارت دے رہے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولا کہ کیا جب کہ مجھ بڑھاپا آچکا آپ لوگوں نے یہ بشارت دی تو یہ کس بل پر بشارت دے رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ابراہیم نے کہا کیا تم مجھے اس بڑھاپے میں یہ خوشخبری سنا رہے ہو ؟ سو یہ کیسی خوشخبری تم مجھے سنا رہے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(فرشتے) بولے کہ آپ ڈرئیے نہیں ہم آپ کو بشارت ایک صاحب علم فرزند کی دیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ نے کہا کہ کیا تم مجھے خوشخبری دے رہے ہو باوجود اس کے کہ مجھ پر بڑھاپا طاری ہوچکا ہے تو تم مجھے یہ کیسی خوشخبری دے رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے جب میں بوڑھا ہوچکا تو تم مجھے خوشخبری دیتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Abraham said: "What, do you give me this tiding though old age has smitten me? Just consider what tiding do you give me!"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Do you give me the good news despite the old age has befallen me? So what good news you are giving to me?

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Do you give me the good news despite the old age has befallen me? So what good news you are giving to me?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Do you give me this good news while old age has overtaken me Of what then is your news about"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Bring ye me good tidings (of a son) when old age hath overtaken me? Of what then can ye bring good tidings?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Have you given me good tidings although old age has come upon me? Then of what [wonder] do you inform?"

— Saheeh International

Abraham asked, "Are you giving me the glad news of a son in my old age? What reason can you give for such glad news?"

— Muhammad Sarwar

He said: Do you give me good news (of a son) when old age has come upon me?-- Of what then do you give me good news!

— Muhammad Habib Shakir

He said: bear ye me glad tidings when old age hath touched me? of what then ye bear me glad tidings?

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Do ye give me glad tidings that old age has seized me? Of what, then, is your good news?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

فرشتے بصورت انسان لفظ ضعیف واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے زور اور سفر۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے حضرت خلیل اللہ ؑ کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورة ھود میں ہے۔ تو آپ نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہوگا ؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–56

سورة الْحِجْر 32 یعنی حضرت اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت، جیسا کہ سورة ہود میں بصراحت بیان ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ۔ حضرت ابراہیم کا حسن طلب : حضرت ابراہیم ایک ذی علم فرزند کی بشارت سن کر جس قدر خوش ہوئے ہوں گے وہ ظاہر ہے لیکن ظاہری حالات کے اعتبار سے اس بشارت کا ظہور میں آنا چونکہ نہایت مستبعد تھا اس وجہ سے آپ نے چاہا کہ اس کی مزید تصدیق کرالیں چناچہ انہوں نے نہایت خوب صورت پیرایہ میں فرمایا کہ کیا یہ بشارت آپ لوگ مجھے اس وقت دے رہے ہیں جب کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا ہے تو کس بل پر یہ بشارت دے رہے ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ بشارت من جانب اللہ ہے تو اس کی تصریح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–54

52۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کو ان فرشتوں سے ڈر اس لئے محسوس ہوا کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا تیار کردہ بھنا ہوا بچھڑا نہیں کھایا، جیسا کہ سورة ہود میں تفصیل گزری۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر کو بھی غیب کا علم نہیں ہوتا، اگر پیغمبر عالم الغیب ہوتے تو حضرت ابراہیم ؑ سمجھ جاتے کہ آنے والے مہمان فرشتے ہیں اور ان کے لئے کھانا تیار کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ فرشتے انسانوں کی طرح کھانے پینے کے محتاج نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–62

21: حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–56

آیت نمبر 51 تا 56 جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا تم پر سلامتی ہو ، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں آپ نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ تذکرہ بھی نہیں ہے کہ آپ بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا جیسا کہ سورة ہود میں بیان یوں ہے : فلما رای ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم واوجس منھم خیفۃ ” مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے ، پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا “۔ یہاں یہ تفصیلات اس لیے نہیں دی گئیں کہ وہاں مقصود قصہ یہ ہے کہ اللہ جب اپنے رسول کے ذریعے کسی قوم سے رحمتوں کا وعدہ کرتا ہے تو وہ رحمت آکر رہتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 چونکہ غیر متوقع اور غیر معمولی طور پر خوشخبری سنی، تو پیرانہ سالی کو دیکھتے ہوئے کچھ عجیب سی معلوم ہوئی۔ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ جب آدمی کوئی مسرت انگیز خبر خلاف توقع غیر معمولی طریقہ سے اچانک سنے تو باوجود یقین آجانے کے اسے خوب کھود کرید کر دریافت کرتا اور لہجہ تعجب کا اختیار کرلیتا ہے، تاخبر دینے والا پوری تاکید و تصریح سے خوشخبری کو دہرائے جس میں نہ کسی قسم کی غلط فہمی کا احتمال رہے نہ تاویل و التباس کا۔ گویا اظہار تعجب سے بشارت کو خوب واضح اور پختہ کرانا اور تکرار سماع سے لذت حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی طرز میں حضرت ابراہیم نے اظہار تعجب فرمایا۔ ابن کثیر کے الفاظ یہ ہیں۔ " قال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰٓي اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ عَلٰی یہاں پر ”علی الرغم“ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ میرے بڑھاپے کے باوجود تم مجھے جو بیٹے کی خوشخبری دے رہے ہو تو کہیں تم لوگوں کو کوئی مغالطہ تو نہیں ہو رہا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 51–54

28 سیدنا ابراہیم کے مہمان فرشتے :۔ یہ مہمان فرشتے تھے جو اصل میں تو لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے جارہے تھے کہ ان کی بستی کو تباہ کر ڈالیں۔ پہلے وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف آئے اور انھیں مہمان اس لیے کہا گیا کہ وہ اجنبی صورت میں آئے تھے وہ انھیں ایک بیٹے یعنی سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دینے آئے تھے۔ یہ واقعہ پہلے سورة ہود کی آیت نمبر 69 تا 74 میں بھی گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

45۔ مراد حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں، آپ نبی تھے اور اس لئے ؔ ظاہر ہے کہ بڑے صاحب علم بھی تھے۔ (آیت) ” لا تو جل “۔ یعنی ہم سے پریشان نہ ہوجیے۔ ہم انسان نہیں فرشتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ابشر تمونی علی ان مسنی الکبر فبم تبشرون کہا : میرا تو بڑھاپا آگیا ہے اس کے باوجود تم بشارت دے رہے ہو ‘ کس سبب سے بشارت دے رہے ہو ؟ یعنی ایسی بات کی خوشخبری دے رہے ہو جس کا معمولاً واقع ہونا ناقابل فہم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) کہنے لگے اب بڑھا پے میں مجھے فرزند کی بشارت دیتے ہو تو اس وقت کس چیز کی بشارت دیتے ہو ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 52–55

اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ : ”وَجِلُوْنَ“ ”وَجِلَ یَوْجَلُ (س) سے ”وَجِلٌ“ (صفت مشبہ) کی جمع ہے، بمعنی ڈرنے والے۔ ڈرنے کی وجہ، مکمل واقعہ اور اس کے فوائد کے لیے دیکھیے سورة ہود (69) سے واقعہ کے آخر تک۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–54

آیت نمبر 51 تا 54 قولہ تعالیٰ : ونبئھم عن ضیف ابراھیم ضیف ابراہیم سے مراد وہ ملائکہ ہیں جنہوں نے آپ کو بچے کے ہونے اور قوم لوط کی ہلاکت کی بشارت دی۔ ان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کنیت ابو الضیفان تھی، اور آپ کے محل کے چار دروازے تھے تاکہ کوئی بھی (اس میں داخل ہونے سے) رہ نہ جائے۔ اور ضیف کو ضیف کا نام آپ کی طرف اس کی اضافت اور آپ کے پاس اس کے اترنے کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ اور ضیف کا حکم سورة ہود میں گزر چکا ہے جو کافی ہے۔ والحمدللہ۔ اذ دخلوا علیہ خبر جمع لائی گئی ہے کیونکہ لفظ لاضیف واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مونث کی مصدر کی طرح صلاحیت رکھتا ہے۔ ضافہ اور اضافہ،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ اَ : کیا ] [ بَشَّرْتموْنِيْ : تم لوگوں نے خوشخبری دی مجھ کو ] [ عَلٰٓي ان : اس کے باوجود کہ ] [ مَّسَّنِيَ : چھوا مجھ کو ] [ الْكِبَرُ : بڑھاپے نے ] [ فَبِمَ : تو کس چیز کی ] [ تُبَشِّرُوْنَ : تم لوگ خوشخبری دیتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا تذکرہ، ان سے خوفزدہ ہونا اور ان کو بیٹے کی بشارت دینا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر ہے، یہ مہمان اللہ جل شانہٗ کے بھیجے ہوئے فرشتے تھے جو اس لیے بھیجے گئے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دیں اور اس پر بھی مامور تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں، اس کا مفصل تذکرہ سورة ھود (ع 7) میں گزر چکا ہے اور سورة ذاریات میں بھی مذکور ہے، اور سورة عنکبوت رکوع 4 میں بھی ہے جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور اندر داخل ہوگئے تو انہوں نے سلام کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–56

21:۔ یہ ابتداء سورت کے ساتھ متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں فرمایا مسئلہ مان لو ورنہ میرا عذاب آجائے گا اور معاندین امم سابقہ کی طرح پچھتاؤ گے اب یہاں سے تخویف دنیوی کے پانچ نمونے بیان کیے جا رہے ہیں تین امم سابقہ سے اور دو مشرکین مکہ سے۔ یہ نمونہ اول کی تمہید ہے۔ ” قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ “ سے پہلے ادماج ہے یعنی فرشتوں نے آکر سلام کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فوراً اٹھ کر اندر چلے گئے اور مہمانوں کے لیے بچھڑا ذبح کر کے اور تل کرلے آئے جب دیکھا کہ کھانے کے لیے وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو فرمایا ہم تو تم سے ڈر رہے ہیں الخ جیسا کہ مسلسل قصہ سورة اور ذاریات وگیرہ میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–60

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰٓي اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ 54؀ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–60

ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰٓی اَنْ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُفَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 54) (آپ نے کہا کہ کیا تم مجھے اس وقت خوشخبری دے رہے ہو جبکہ بڑھاپا مجھے لاحق ہوچکا ہے۔ تو کس بل پر بشارت دے رہے ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حُسنِ طلب بیٹے کی خوشخبری سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت مسرور ہوئے لیکن ساتھ ہی متعجب بھی، کہ کیا اس عمر میں مجھے اس نعمت سے نوازا جائے گا جبکہ میں بڈھا کھوسٹ ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہیں۔ بظاہر اسباب تو اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن آپ کہتے ہیں تو یقینا صحیح ہوگا لیکن یہ آپ کس بل پر کہہ رہے ہیں ؟ ایک طرف خوشی اور دوسری طرف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–56

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ آیت میں رحمت کا بیان ہوا۔ اب اللہ کی رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانان گرامی کے ذکر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عذاب کا ذکر کیا۔ یہاں رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے جس کا پس منظر یہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری دینے والے ملائکہ حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے معمولی توقف کے بعد ان کی خدمت میں بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا۔ جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بڑھاپے میں بیٹے کی بشارت : 54: قَالَ اَبَشَّرْ تُمُوْنِیْ عَلٰٓی اَنْ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ (کیا تم مجھے بشارت دیتے ہو باوجودیکہ مجھے بڑھاپا آگیا) یعنی بڑھاپے کے باوجود مجھے خوشخبری دیتے ہو کہ میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے میں اولاد عادۃً ایک عجیب بات ہے فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ (تم کس سبب سے بشارت دے رہے ہو) ما استفہامیہ ہے جس میں تعجب کا معنی پیدا ہوگیا۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ فبای اعجوبۃ تبشرون۔ پس کو نسی عجیب بات کی تم بشارت دیتے ہو ؟ قراءت : نون کے کسرہ اور تشدید کے ساتھ مکی نے پڑھا ہے اور اصل تبشروننی نون جمع کو نون وقایہ میں ادغام کردیا پھر یاؔ ء کو حذف کر کے کسرہ کو بطور دلیل باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(54) ” قال ابشر تمونی “ ہم آپ کو لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ ” علی ان مسی الکبیر “ ہمارے بڑھاپے کی حالت میں ہمیں خوشخبری دیتے ہو۔ ” فم تبشرون “ کس چیز سے خوشخبری دیتے ہو۔ نافع نے نون کے کسرہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” بشرون “ اور ابن کثیر کے نزدیک کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ” تبشرونی ، نون کو نون میں مدغم کرکے پڑھا اور دوسرے قراء نے نون کے فتحہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–56

51۔ 56۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے یہ قصہ سورت ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف جب نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر چلے ہیں اور تمہیں اولاد کی خوشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–56

آیت 51 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (ونبءھم عن ضیف ابراہیم) ” ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں “ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے، کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہوگی اور وہ ان کی پیروی کریں گے۔۔۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔ (اد دخلوا علیہ فقالوا سلماً ) ” جب وہ آئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 53–55

46۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے خوشخبری در خوشخبری : سو انہوں نے آنجناب کو بیٹے سے سرفرازی کی خوشخبری دی، اور وہ بھی ایسے عظیم الشان بیٹے سے سرفرازی کی جو علیم ہوگا۔ اور وہ بھی اس پیرانہ سالی میں۔ سو کتنی بڑی خوشخبری ہے یہ جو کئی خوشخبریوں پر مشتمل ہے۔ سو انہوں نے کہا کہ یہی خوشخبری ہم آپ کو سنانے آئے ہیں۔ اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند نے اپنی تحریفانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے یہاں پر تکلا چلایا ہے کہ " اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو رب نے علوم خمسہ دئیے ہیں کہ باعلام الہی معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہاں بیٹا ہوگا " حالانکہ یہاں پر اس بارے نصوص صریحہ موجود ہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔ (مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو) گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–56

ف 7 یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔ (قرطبی شو کانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:54) ابشر تمونی۔ بشرتم۔ ماضی بمعنی حال جمع مذکر حاضر۔ وائو اشباع کی ہے۔ (حرف میم مضموم کی حرکت کو پوری طرح ادا کرنے کے لئے) ن وقایہ ہے اور ی ضمیر واحد متکلم ہے۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ کیا تم مجھے بشارت دیتے ہو۔ علی ۔ یہاں بمعنی مع کے ہے (یعنی باوجودیکہ) جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمہم۔ (13:6) بیشک تیرا پروردگار صاحب مغفرت ہے لوگوں کے لئے باوجود ان کی زیادتیوں کے۔ ابشرتمونی علی ان مسنی الکبر۔ کیا تم مجھے بشارت دیتے ہو باوجودیکہ (درآں حالیکہ) مجھے بڑھاپا لاحق ہوچکا ہے۔ بم ۔ کس چیز کے ساتھ ب حرف ِجر اور ما استفہامیہ ہے۔ حرف جر کے آنے کی وجہ سے اس کے آخر سے الف حذف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ جب اس کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے۔ مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قو لوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–62

[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–54

خدا اصل میں غفور ورحیم ہے ! (ف 1) ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا ہے کہ صفات میں حقیقتا عفو ومغفرت ہے ، اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہی ہیں کہ اس کے بندے ہمیشہ اس کے انعامات سے متمتع رہیں ، اور اس کی رحمتیں ابدا اس کے بندوں پر چھائی ہیں ، مگر جب بندے دائرہ عبودیت سے نکل جائیں ، اور اللہ کے کرم وعفو سے استفادہ نہ کریں تو پھر اس کے غضب میں جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کا غصہ نافرمانوں پر بھڑکتا ہے ، یہ غصہ اور غضب بھی درحقیقت غفران ورحمت کا نتیجہ ہے ، جس طرح والدین ناراض ہوتے ہیں اور ان کی ناراضگی میں بھی شفقت کا ایک رنگ ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ جو والدین سے زیادہ رحیم ہے ، جب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

54 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم مجھ کو ایسے وقت بشارت دیتے ہو جب کہ مجھ کو بڑھاپا پہنچ چکا تو اب کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو اور کا ہے پر خوشی سناتے ہو۔ یعنی عادتا ً اس عمر میں اولاد کہاں ہوتی ہے گو قدرت سے بعید نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ کامل بھی اسباب پر نظر رکھتے ہیں ۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) نے انکی خوشخبری سن کر کہا کہ یہ کیسی خوشخبری دے رہے ہو ؟ : 54۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ ایک بڑی مدت کے بعد تو اللہ تعالیٰ نے اسمعیل دیا تھا اور اب تو اس کو پیدا ہوئے بھی ایک عرصہ گزر گیا اور میں اگرچہ اس وقت بھی بوڑھا تھا لیکن اب تو پہلے سے بھی زیادہ بوڑھا ہوگیا اب یہ خوشخبری کیسے ؟ پھر یہ جو تم سارہ کے بطن سے بیٹے کی خوشخبری سنا رہے ہو تو یہ بات مزید حیران کن ہے کہ وہ تو بظاہر سن یاس کو پہنچ چکی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–56

32.“A boy possessing knowledge”, Prophet Isaac (peace be upon him). His name has been mentioned in connection with this good news in Surah Houd, Ayat 71.

Read the full tafseer →