حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَکَ قَالَ اللَّهُ سَمَّاکَ لِي قَالَ فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْکِي
ہداب بن خالد ہمام قتادہ حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی سے فرمایا اللہ رب العزت نے مجھے حکم دیا ہے کہ تیرے سامنے قرآن مجید پڑھوں انہوں نے عرض کیا اللہ نے آپ ﷺ سے میرا نام لے کر فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تیرا نام لے کر مجھ سے فرمایا ہے تو ابیحضرت ابی سے (خوشی سے) رونے لگے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said to Ubayy: Verily Allah, the Exalted and Glorious, has commanded me to recite the Quran to you, whereupon he said: (Has) Allah mentioned my name to you? He said: Allah has mentioned your name to me. Thereupon he began to shed tears (of joy)
حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبَکَی
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے (لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا) پڑھوں انہوں نے عرض کیا (اللہ نے) میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں راوی کہتے ہیں پھر وہ (ابی بن کعب) رو دئیے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said to Ubayy bin Kab: I have been commanded to recite to you the Sura (al- Bayyinah) which opens with these words (Lam Yakunil-ladhiyna Kafaruu) He said: Has he mentioned to you my name? He said: Yes; thereupon he shed tears of joy.
حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی سے فرمایا۔ باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ
عبد بن حمید عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حال میں فرمایا کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ ان کے سامنے تھا کہ ان کی (موت کی) وجہ سے اللہ کے عرش کو بھی حرکت آگئی ہے۔
Jabir bin Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying while the bier of Sad bin Muadh was placed before them: The Throne of the most Gracious shook at the death of Sad bin Muadh.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ
عمرو ناقد عبداللہ بن ادریس اودی اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت سعد بن معاذ ؓ کی وجہ سے رحمن کا عرش بھی لرزہ براندام ہے۔
Jabir reported that the Throne of the most Compassionate shook because of the death of Sad bin Muadh.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ الْخَفَّافُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَنَازَتُهُ مَوْضُوعَةٌ يَعْنِي سَعْدًا اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ
محمد بن عبداللہ رزی عبدالوہاب بن عطاء، سعید قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جبکہ سعد کا جنازہ رکھا ہوا تھا کہ اس کی (موت) وجہ سے اللہ کا عرش بھی حرکت میں آگیا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as say- ing: That his bier (that of Sad) was placed (before them) and the Throne of the most Compassionate shook.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمِسُونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَلْيَنُ
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ریشم کا ایک جوڑا ہدیہ کیا گیا تو آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے اسے چھونا شروع کردیا اور اس کی نرمی کی وجہ سے تعجب کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس کی نرمی کی وجہ سے تعجب کر رہے ہو حالانکہ سعد بن معاذ کے رومال جنت میں اس سے بہتر اور نرم ہوں گے۔
Al-Bara reported that a garment of silk was presented to Allahs Messenger ﷺ . His Companions touched it and admired its softness; there- upon he said: Do you admire the softness of this (cloth)? The handkerchiefs of Sad bin Muadh in Paradise are better than this.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِ حَرِيرٍ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا أَوْ بِمِثْلِهِ
احمد بن عبدہ ضبی ابوداؤد شعبہ، ابواسحاق براء، بن عازب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا کَرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ
محمد بن عمرو بن جبلہ امیہ بن خالد شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah combining the two chains of transmitters.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ وَکَانَ يَنْهَی عَنْ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا
زہیر بن حرب، یونس بن محمد شیبان قتادہ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سندس ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کیا گیا اور آپ ﷺ ریشم سے منع فرماتے تھے پس لوگوں نے (اس کی خوبصورتی پر) کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے بیشک سعد بن معاذ کا رومال جنت میں اس سے بھی خوبصورت ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah combining the two chains of transmitters. Anas b Malik reported that Allahs Messenger ﷺ was presented a garment of sundus and he prohibited the use of silk. The persons admired it, whereupon he said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, the kerchiefs of Sad bin Muadh in Paradise are better than this.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُکَيْدِرَ دُومَةِ الْجَنْدَلِ أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ وَکَانَ يَنْهَی عَنْ الْحَرِيرِ
محمد بن بشار، سالم بن نوح عمر بن عامر قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اکیدر دومہ الجندل کے حاکم نے رسول اللہ ﷺ کو ایک حلہ ہدیہ کیا باقی حدیث اسی طرح مذکور ہے اور اس حدیث میں یہ نہیں کہ آپ ﷺ ریشم سے منع کرتے تھے۔
Anas reported the king of Dumat al-Jandal presented to Allahs Messenger ﷺ the garment and lie made no mention (of the fact) that he prohibited the use of silk.
ابو دجانہ سماک بن خرشہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ أَنَا أَنَا قَالَ فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ قَالَ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ سِمَاکُ بْنُ خَرَشَةَ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ قَالَ فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِکِينَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان حماد بن سلمہ ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن ایک تلوار لے کر فرمایا مجھ سے یہ تلوار کون لے گا پس صحابہ ؓ میں سے ہر انسان نے اپنے ہاتھوں کو یہ کہتے ہوئے دراز کیا میں آپ ﷺ نے فرمایا اسے اس کا حق ادا کرنے کی شرط پر کون لیتا ہے لوگ پیچھے ہٹ گئے تو حضرت سماک بن خرشہ ابودجانہ ؓ نے عرض کیا میں اسے اس کا حق ادا کرنے کی شرط پر لیتا ہوں پس انہوں نے یہ تلوار لے لی اور اس کے ساتھ مشرکین کی کھوپڑیاں پھوڑیں۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ took hold of his sword on the Day of Uhud and said: Who would take it from me? All the persons stretched their hands saying: I would do it, I would do it. He (Allahs Apostle) ﷺ said: Who would take it in order to fulfil its rights? Then the people withdrew their hands. Simak bin Kharasha Abu Dujana said: I am here to take it and fulfil its rights. He took it and struck the heads of the polytheists.
سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا لَمَّا کَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيئَ بِأَبِي مُسَجًّی وَقَدْ مُثِلَ بِهِ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ بَاکِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالُوا بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو فَقَالَ وَلِمَ تَبْکِي فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِکَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّی رُفِعَ
عبیداللہ بن عمر قواریری عمر ناقد سفیان، عبیداللہ سفیان بن عیینہ، ابن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ جب غزوہ احد کے دن میرے باپ کو کپڑے سے ڈھکا ہوا لایا گیا اس حال میں کہ ان کے اعضاء کاٹے گئے تھے پس میں نے کپڑا اٹھانے کا ارادہ کیا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا میں نے پھر کپڑا اٹھانے کا ارادہ کیا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا پس رسول اللہ ﷺ نے خود اٹھا دیا یا حکم دیاتو اسے اٹھا دیا گیا پس آپ ﷺ نے ایک رونے چلانے والی عورت کی آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے لوگوں نے عرض کیا عمرو کی بیٹی یا عمرو کی بہن ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں روتی ہے حالانکہ فرشتے برابر اس پر اپنے پروں سے سایہ کئے ہوئے ہیں یہاں تک کہ (جنازہ) اٹھا لیا جائے۔
Jabir bin Abdullah reported: The dead body of my father was brought and he was covered (with cloth) and it had been mutilated. I made an attempt to lift the cloth, but my people prohibited me to do so. I again made an attempt to lift the cloth, but my people prohibited me. Thereupon Allahs Messenger ﷺ lifted it or he commanded it to be lifted. He heard the noise (of a loud) weeping, or the noise of a woman mourner. He inquired who she was. They said: The daughter of Amr or the sister of Amr, whereupon he said: Why does she weep? The Angels provide him shade with the help of their Wings until he would be lifted (to his heavenly abode)
سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُصِيبَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَکْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ وَأَبْکِي وَجَعَلُوا يَنْهَوْنَنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي قَالَ وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْکِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْکِيهِ أَوْ لَا تَبْکِيهِ مَا زَالَتْ الْمَلَائِکَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّی رَفَعْتُمُوهُ
محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، محمد بن منکدر حضرت جابر ؓ بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے والد غزوہ احد کے دن شہید کئے گئے پس میں ان کے چہرہ سے کپڑا اٹھایا اور رونے لگا اور لوگوں نے مجھے روکنا شروع کردیا اور رسول اللہ ﷺ مجھے روک نہیں رہے تھے اور فاطمہ بنت عمر نے بھی رونا شروع کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس پر رؤ یا نہ رؤ فرشتے برابر اس پر اپنے پروں سے سایہ کر رہے ہیں یہاں تک کہ تم ان کا جنازہ اٹھالو۔
Jabir bin Abdullah reported: My father fell as a martyr on the Day of Uhud and I attempted to uncover his face and weep, but they (the Companions of the Holy Prophet) forbade me to do this, whereas Allahs Messenger ﷺ did not forbid me and Fatima bint Amr, the sister of my father, was also weeping There- upon Allahs Messenger ﷺ said: You may weep or you may not weep; the Angels provide him shade with the help of their wings until you lift him (to be buried in the grave).
سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ الْمَلَائِکَةِ وَبُکَائُ الْبَاکِيَةِ
عبد بن حمید روح بن عبادہ، ابن جریج، اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، محمد بن منکدر جابر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ابن جریج کی حدیث میں حالانکہ اور رونے والے کے رونے کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters, but with this difference that there is no mention of the Angels and the weeping of a female mourner.
سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جِيئَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مُجَدَّعًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
محمد بن احمد بن ابی خلف زکریا، بن عدی عبیداللہ بن عمرو عبدالکریم محمد بن منکدر حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن میرے باپ کو ناک اور کان کٹے ہوئے لایا گیا پس انہیں نبی ﷺ کے سامنے رکھا گیا باقی حدیث مبارکہ انہیں کی طرح ہے۔
Jabir reported: My father was brought in a state that his ears had been cut off and (his dead body) was placed before Allahs Apostle ﷺ , the rest of the hadith is the same.
حضرت جلیبیب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ فِي مَغْزًی لَهُ فَأَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَعَمْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَعَمْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا لَا قَالَ لَکِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَی فَوَجَدُوهُ إِلَی جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ فَأَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ قَالَ فَوَضَعَهُ عَلَی سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحُفِرَ لَهُ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ غَسْلًا
اسحاق بن عمرو بن سلیط حماد سلیمہ ثابت کنانہ بن نعیم حضرت ابوبرزہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک جہاد میں تھے کہ اللہ نے آپ ﷺ کو مال عطا کیا تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کیا تمہیں کوئی ایک غائب معلوم ہوتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں فلاں فلاں اور فلاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں فلاں فلاں اور فلاں غائب ہیں آپ ﷺ نے پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا لیکن میں تو جلیبیب کو گم پاتا ہوں پس اسے تلاش کرو پس انہیں شہداء میں تلاش کیا گیا تو انہوں نے انہیں ان ہی سات آدمیوں کے پہلو میں پایا جنہیں انہوں نے انہیں سات آدمیوں کے پہلو میں پایا جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا پھر کافروں نے انہیں شہید کردیا پس نبی ﷺ ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے پھر فرمایا اس نے سات کو قتل کیا پھر انہوں نے انہیں شہید کردیا یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں پھر آپ ﷺ نے اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا اور اس طرح کہ نبی ﷺ کے علاوہ کسی اور نے اٹھایا ہوا نہ تھا پھر ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں دفن کردیا گیا اور غسل کا ذکر نہیں کیا۔
Abu Barza reported that Allahs Apostle ﷺ was there in a battlefield that Allah conferred upon him the spoils of war. He said to his Companions: Is anyone missing amongst you? They said: So and so and so. He again said: Is there anyone missing amongst you? They said: So and so and so. He then said: Is there anyone missing amongst you? They said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: But I am missing Julaibib. They (his Companions) searched him amongst those who had been killed and they found him by the side of seven (dead bodies) whom he had killed and he had been killed (by the oppoments). Allahs Apostle ﷺ came there and stood (by his side) and said: He killed seven (persons). Then (his opponents) killed him. He is mine and I am his. He then placed him upon his hands and there was none else to lift but Allahs Apostle ﷺ . Then the grave was dug for him and he was placed in the grave and no mention is made of a bath.
ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَکَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَی خَالٍ لَنَا فَأَکْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّکَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِکَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَائَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ أَمَّا مَا مَضَی مِنْ مَعْرُوفِکَ فَقَدْ کَدَّرْتَهُ وَلَا جِمَاعَ لَکَ فِيمَا بَعْدُ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّی خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْکِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّی نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَکَّةَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْکَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا قَالَ وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ سِنِينَ قُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهُ قَالَ أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عِشَائً حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ کَأَنِّي خِفَائٌ حَتَّی تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَکَّةَ فَاکْفِنِي فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّی أَتَی مَکَّةَ فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ جَائَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا بِمَکَّةَ عَلَی دِينِکَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ قُلْتُ فَمَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ يَقُولُونَ شَاعِرٌ کَاهِنٌ سَاحِرٌ وَکَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَائِ قَالَ أُنَيْسٌ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَهَنَةِ فَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَی أَقْرَائِ الشِّعْرِ فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَی لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ قَالَ قُلْتُ فَاکْفِنِي حَتَّی أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ قَالَ فَأَتَيْتُ مَکَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقَالَ الصَّابِئَ فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِکُلٍّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّی خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ قَالَ فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ کَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ قَالَ فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَائَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا کَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ فَبَيْنَا أَهْلِ مَکَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَائَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَی أَسْمِخَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ قَالَ فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ أَنْکِحَا أَحَدَهُمَا الْأُخْرَی قَالَ فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا قَالَ فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَا أَکْنِي فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوْ کَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ قَالَ مَا لَکُمَا قَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْکَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَ مَا قَالَ لَکُمَا قَالَتَا إِنَّهُ قَالَ لَنَا کَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّی فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَکُنْتُ أَنَا أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَعَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَی بِيَدِهِ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَی جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي کَرِهَ أَنْ انْتَمَيْتُ إِلَی غِفَارٍ فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ وَکَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ مَتَی کُنْتَ هَاهُنَا قَالَ قُلْتُ قَدْ کُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ فَمَنْ کَانَ يُطْعِمُکَ قَالَ قُلْتُ مَا کَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَی کَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ إِنَّهَا مُبَارَکَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُو بَکْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ وَکَانَ ذَلِکَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَکَلْتُهُ بِهَا ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ لَا أُرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَکَ عَسَی اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِکَ وَيَأْجُرَکَ فِيهِمْ فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِکَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِکُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَاحْتَمَلْنَا حَتَّی أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَکَانَ يَؤُمُّهُمْ أَيْمَائُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَکَانَ سَيِّدَهُمْ وَقَالَ نِصْفُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ الْبَاقِي وَجَائَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَتُنَا نُسْلِمُ عَلَی الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ
ہداب بن خالد ازدی سلیمان بن مغیرہ حمید بن ہلال عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینے کو بھی حلال جانتے تھے پس میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ نکلے پس ہم اپنے ماموں کے ہاں اترے پس ہمارے ماموں نے اعزازو اکرام کیا اور خوب خاطر مدارت کی جس کی وجہ سے ان کی قوم نے ہم پر حسد کیا تو انہوں نے کہا (ماموں سے) کہ جب تو اپنے اہل سے نکل کرجاتا ہے تو انیس ان سے بدکاری کرتا ہے پس ہمارے ماموں آئے اور انہیں جو کچھ کہا گیا تھا وہ الزام ہم پر لگا میں نے کہا تو نے ہمارے ساتھ جو احسان و نیکی کی تھی اسے تو نے اس الزام کے وجہ سے خراب کردیا ہے پس اب اس کے بعد ہمارا آپ سے تعلق اور نبھاؤ نہیں ہوسکتا پس ہم اپنے اونٹوں کے قریب آئے اور ان پر اپنا سامان سوار کیا اور ہمارے ماموں نے کپڑا ڈال کر رونا شروع کردیا پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ مکہ کے قریب پہنچے پس انیس نے ہمارے اونٹوں اور اتنے ہی اور اونٹوں پر شرط لگائی (شاعری میں) کہ کس کے اونٹ عمدہ ہیں پس وہ دونوں کاہن کے پاس گئے تو اس نے انہیں کے اونٹوں کو پسند کیا پس انیس ہمارے پاس ہمارے اونٹوں کو اور اتنے ہی اور اونٹوں کو لے کر آیا اور میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات سے تین سال پہلے ہی اے میرے بھیجتے نماز پڑھا کرتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کس کی رضا کے لئے انہوں نے کہا اللہ کی رضا کے لئے میں نے کہا تو اپنا رخ کس طرف کرتا تھا انہوں نے کہا جہاں میرا رب رخ کردیتا اسی طرف میں عشاء کی نماز ادا کرلیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو اس طرح ڈال لیتا گویا کہ میں چادر ہی ہوں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا انیس نے کہا مجھے مکہ میں ایک کام ہے تو میرے معاملات کی دیکھ بھال کرنا پس انیس چلا یہاں تک کہ مکہ آیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس آیا تو میں نے کہا تو نے کیا کیا اس نے کہا میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اسے (رسول بنا کر) بھیجا ہے میں نے کہا لوگ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا لوگ اسے شاعر، کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود شاعروں میں سے تھا انیس نے کہا میں کاہنوں کی باتیں سن چکا ہوں پس اس کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے اور تحقیق میں نے اس کے اقوال کا شعراء کے اشعار سے بھی موزانہ کیا لیکن کسی شخص کی زبان پر ایسے شعر بھی مناسب نہیں۔ اللہ کی قسم! وہ سچا ہے اور دوسرے لوگ جھوٹے ہیں میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جاتا ہوں اور دیکھتا ہوں پس میں مکہ میں آیا اور ان میں سے ایک کمزور آدمی کو مل کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو؟ پس اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ دین بدلنے والا ہے پس وادی والوں میں سے ہر ایک سنتے ہی مجھ پر ڈھیلوں اور ہڈیوں کے ساتھ ٹوٹ پڑا یہاں تک کہ میں بےہوش ہو کر گرپڑا پس جب میں بےہوشی سے ہوش میں آ کر اٹھا تو میں گویا سرخ بت (خون میں لت پت) تھا میں زمزم کے پاس آیا اور اپنا خون دھویا پھر اس کا پانی پیا اور میں اے بھتیجے تین رات اور دن وہاں ٹھہرا رہا اور میرے لئے زمزم کے پانی کے سوا کوئی خوراک نہ تھی پس میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں اور نہ ہی میں نے اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی محسوس کی پس اس دوران ایک چاندنی رات میں جب اہل مکہ سو گئے اور اس وقت کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا تھا اور ان میں سے دو عورتیں اساف اور نائلہ (بتوں) کو پکار رہی تھیں پس وہ جب اپنے طواف کے دوران میری طرف آئیں تو میں نے کہا ان میں سے ایک (بت) کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو (اساف مرد اور نائلہ عورت تھی اور باعتقاد مشرکین مکہ کے مطابق یہ دونوں زنا کرتے وقت مسخ ہو کر بت ہوگئے تھے) لیکن وہ اپنی بات سے باز نہیں آئیں پس جب وہ میرے قریب آئیں تو میں نے بغیر کنایہ اور اشارہ کے فلاں کہہ دیا کہ فلاں کے (فرج میں) لکڑی۔ پس وہ چلاتی اور یہ کہتی ہوئی گئیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی موجود ہوتا راستہ میں انہیں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ پہاڑی سے اترتے ہوئے ملے آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے انہوں نے کہا کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک دین کو بدلنے والا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس نے کیا کہا ہے انہوں نے کہا اس نے ہمیں ایسی بات کہی ہے جو منہ کو بھر دیتی ہے پس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ حجر اسود کا بوسہ لیا اور بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز ادا کی حضرت ابوذر ؓ نے کہا میں وہ پہلا آدمی ہوں جس نے اسلام کے طریقہ کے مطابق آپ ﷺ کو سلام کیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو آپ ﷺ نے فرمایا تو کون ہے؟ میں نے عرض کیا میں قبیلہ غفار سے ہوں آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ ﷺ کو میرا قبیلہ غفار سے ہونا ناپسند ہوا ہے پس میں آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ ﷺ کے ساتھی نے مجھے پکڑ لیا اور وہ مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کے بارے میں واقفیت رکھتا تھا کہ آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا تو یہاں کب سے ہے میں نے عرض کیا میں یہاں تین دن رات سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کھانا کون کھلاتا ہے میں نے عرض کیا میرے لئے زمزم کے پانی کے علاوہ کوئی کھانا نہیں ہے پس اس سے موٹا ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بل مڑ گئے ہیں اور میں اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی بھی محسوس نہیں کرتا آپ ﷺ نے فرمایا یہ پانی بابرکت ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھی بھر دیتا ہے حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اس کے رات کے کھانے کی اجازت دے دیں پس رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ چلے اور میں بھی ان کے ساتھ ساتھ چلا پس ابوبکر ؓ نے دروازہ کھولا اور میرے لئے طائف کی کشمش نکالنے لگے اور یہ میرا پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا پھر میں رہا جب تک رہا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے کھجوروں والی زمین دکھائی گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ یثرب کے علاوہ کوئی اور علاقہ نہیں ہے کیا تو میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کرے گا عنقریب اللہ انہیں تیری وجہ سے فائدہ عطا کرے گا اور تمہیں ثواب عطا کیا جائے گا پھر میں انیس کے پاس آیا تو اس نے کہا تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا میں اسلام قبول کرچکا ہوں اور تصدیق کرچکا ہوں اس نے کہا مجھے بھی تجھ سے نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتا ہوں اور تصدیق کرتا ہوں پھر ہم اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے کہا مجھے تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں میں بھی اسلام قبول کرتی اور تصدیق کرتی ہوں پھر ہم نے اپنا سامان لادا اور اپنی قوم غفار کے پاس آئے تو ان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے اور ان کی امامت ان کے سرادر ایماء بن رحضہ انصاری کراتے تھے اور باقی آدھے لوگوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے پس جب رسول اللہ مدینہ تشریف لائے تو باقی آدھے لوگ بھی مسلمان ہوگئے اور قبیلہ اسلام کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم بھی اس بات پر اسلام قبول کرتے ہیں جس پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے ہیں پس وہ بھی مسلمان ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبیلہ غفار کو اللہ نے معاف فرما دیا اور قبیلہ کی اللہ نے حفاظت کی (قتل اور قید سے)
Abdullah bin Samit reported that Abu Dharr (RA) said: We set out from our tribe Ghafir who look upon the prohibited months as permissible months. I and my brother Unais and our mother stayed with our maternal uncle who treated us well. The men of his tribe fell jealous and they said: When you are anay from your house, Unais commits adultery with your wife. Our -naternal uncle came and he accused us of the sin which was conveyed to him. I said: You have undone the good you did to us. We cannot stay with you after this. We came to our camels and loaded (our) luggage. Our maternal uncle began to weep covering himself with (a piece of) cloth. We proceeded on until we encamped by the side of Makkah. Unais cast lot on the camels (we had) and an equal number (above that). They both went to a Kahin and he made Unais win and Unais came with our camels and an equal number along with them. He (Abu Dharr) said: My nephew, I used to observe prayer three years before my meeting with Allahs Messenger ﷺ . I said: For whom did you say prayer? He said: For Allah. I said: To which direction did you turn your face (for observing prayer)? He said: I used to turn my face as Allah has directed me to turn my face. I used to observe the night prayer at the time of the end of night and I fell down in prostration like the mantle until the sun rose over me. Unais said: I have a work in Makkah, so you better stay here.
Unais went until he came to Makkah and he came to me late. I said: What did you do? He said: I met a person in Makkah who is on your religion and he claims that verily it is Allah Who has sent him. I said: What do the people say about him? He said: They say that he is a poet or a Kahin or a magician. Unais who was himself one of the poets said. I have heard the words of a Kahin but his words in no way resemble his (words). And 1 also compared his words to the verses of poets but such words cannot be uttered by any poet. By Allah, he is truthful and they are liars. Then I said: you stay here, until I go, so that I should see him. He said: I came to Makkah and I selected an insignificant person from amongst them and said to him: Where is he whom you call as-Sabi? He pointed out towards me saying: He is Sabi. Thereupon the people of the valley attacked me with sods and bows until I fell down unconscious. I stood up after havin. regained my consciousness and I found as if I was a red idol. I came to Zamzarn and washed blood from me and drank water from it and listen, O son of my brother, I stayed there for thirty nights or days and there was no food for me but the water of Zamzarn. And I became so bulky that there appeared wrinkles upon my stomach, and I did not feel any hunger in my stomach. It was during this time that the people of Makkah slept in the moonlit night and none was there to eircumambulate the House but only two women who had been invoking the name of Isafa, and Naila (the two idols).
They came to me while in their circuit and I said: Marry one with the other, but they did not dissuade from their invoking. They came to me and I said to them: Insert wood (in the idols private parts). (I said this to them in such plain words) as I could not express in metaphorical terms. These women went away crying and saying: Had there been one amongst our people (he would have taught a lesson to you for the obscene words used for our idols before us). These women met Allahs Messenger ﷺ and Abu Bakr (RA) who had also been coming down the hill. He asked them: What has happened to you? They said: There is Sabi, who has hidden himself between the Ka’bah and its curtain. He said: What did he say to you? They said: He uttered such words before us as we cannot express. Allahs Messenger ﷺ came and he kissed the Black Stone and circumambulated the House along with his Companion and then observed prayer, and when he had finished his prayer, Abu Dharr (RA) said: I was the first to greet him with the salutation of peace and uttered (these words) in this way; Allahs Messen- ger, may there be peace upon you, whereupon he said: It may be upon you too and the mercy of Allah. He then said: Who are you? I said: From the tribe of Ghifar. He leaned his hand and placed his finger on his forehead and I said to myself: Perhaps he has not liked it that I belong to the tribe of Ghifar.
I attempted to catch hold of his hand but his friend who knew about him more than I dissuaded me f rom doing so. He then lifted his head and said: Since how long have you been here? I said: I have been here for the last thirty nights or days. He said: Who has been feeding you? I said: There has been no food for me but the water of Zamzam. I have grown so bulky that there appear wrinkles upon my stomach and I do not feel any hunger. He said: It is blessed (water) and it also serves as food. Thereupon Abu Bakr (RA) said: Allahs Messenger, let me serve as a host to him for tonight, and then Allahs Messenger ﷺ proceeded forth and so did Abu Bakr (RA) and I went along with them. Abu Bakr (RA) opened the door and then he brought for us the raisins of Taif and that was the first food which I ate there. Then I stayed as long as I had to stay. I then came to Allahs Messenaer ﷺ and he said: I have been shown the land abound- ing in trees and I think it cannot be but that of Yathrib (that is the old name of Madinah). You are a preacher to your people on my behalf. I hope Allah would benefit them through you and He would reward you. I came to Unais and he said: What have you done? I said: I have done that I have embraced Islam and I have testified (to the prophethood of Allahs Messenger). He said: I have no aversion for your religion and I also embrace Islam and testify (to the prophethood of Muhammad). Then both of us came to our mother and she said: I have no aversion for your religion and I also embrace Islam and testify to the prophethood of Muhammad. We then loaded our camels and came to our tribe Ghifir and half of the tribe embraced Islam and their chief was Aimi bin Rahada Ghifirl and he was their leader and hall of the tribe said: We will embrace Islam when Allahs Messenger (may p,. ace be upon him) would come to Madinah, and when Allahs Messenger ﷺ came to Madinah the remaining half also embraced Islam. Then a tribe Aslam came to the Holy Prophet ﷺ and said: Allahs Messenger, we also embrace Islam like our brothers who have embraced Islam. And they also embraced Islam. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Allah granted pardon to the tribe of Ghifar and Allah saved (from destruction) the tribe of Aslam.
ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ قُلْتُ فَاکْفِنِي حَتَّی أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ قَالَ نَعَمْ وَکُنْ عَلَی حَذَرٍ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، نضر بن شمیل سلیمان بن مغیرہ حمید بن ہلال اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابوذر نے بیان کیا کہ میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جا کر دیکھ آؤں انیس نے کہا جی ہاں جاؤ لیکن اہل مکہ سے بچتے رہنا کیونکہ وہ اس آدمی کے دشمن ہیں اور برے طریقوں سے لڑتے ہیں۔
This hadlth has been narrated on the authority of Humaid bin Hilal with the same chain of transmitters but with this addition:" As I came to Makkah, Unais said: (Well), go but be on your guard against the Makkahns for they are his enemies and are annoyed with him."
ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا ابْنَ أَخِي صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ کُنْتَ تَوَجَّهُ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَتَنَافَرَا إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْکُهَّانِ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ أَخِي أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّی غَلَبَهُ قَالَ فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَی صِرْمَتِنَا وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَإِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ قُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَعَلَيْکَ السَّلَامُ مَنْ أَنْتَ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَقَالَ مُنْذُ کَمْ أَنْتَ هَاهُنَا قَالَ قُلْتُ مُنْذُ خَمْسَ عَشَرَةَ وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ
محمد بن مثنی عنزی ابن ابی عدی، ابن عون حمید بن ہلال حضرت عبداللہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا اے بھیجتے میں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھا کرتا تھا میں نے کہا تو اپنا رخ کس طرف کرتا تھا انہوں نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ میرا رخ فرما دیا کرتے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ دونوں کاہنوں میں سے ایک آدمی کے پاس گئے اور میرا بھائی برابر اس کی تعریف کرتا رہا یہاں تک کہ اس پر غالب آگیا پس ہم نے اس سے اونٹ لے لیا اور انہیں اپنے اونٹوں کے ساتھ ملا لیا اس حدیث میں اضافہ بھی ہے کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیھچے دو رکعتیں ادا کیں پس میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور میں لوگوں میں سب سے پہلے ہوں جس نے آپ ﷺ کو اسلام کے مطابق سلام کیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ پر سلامتی ہو آپ ﷺ نے فرمایا تجھ پر بھی سلامتی ہو تو کون ہے؟ اور یہ بھی اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم کب سے یہاں ہو؟ میں نے عرض کیا پندرہ دن سے اور مزید یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا انہیں رات کی مہمان نوازی کے لئے میرے ساتھ کردیں۔
Abdullah bin Samit reported that Abu Dharr (RA) said: Son of my brother, I used to observe prayer two years before the advent of Allahs Apostle ﷺ . I said: To which direction did you turn your face? He said: To which Allah directed me to turn my face. The rest of the hadith is the same but with this addition that they went to a Kahin and his brother Unais began to praise him until he (in verses declared) him (Unais) as winner (in the contest of poetry), and so we got his camels, mixed them with our camels, and there is in this hadith also these words that Allahs Apostle ﷺ came there and he circumambulated the House and observed two Rakahs of prayer behind the Station (of Ibrahim). I came to him and I was the first amongst persons to greet him with Assalam-o-Alaikum, and I said to Allahs Messenger Let there be peace upon you. And he said: Let there be peace upon you too; who are you? And in the hadith (these words are) also found: Since how long have you been here? And Abu Bakr (RA) said: Let him be my guest tonight.