اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْکَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنْ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ احرام باندھنے والا کپڑوں میں سے کیا پہنے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کرتا نہ پہنو اور نہ ہی عمامہ باندھو اور نہ ہی شلواریں اور نہ ہی موزے پہنو سوائے اس کے کہ جس کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزے پہن لے اور ان کو اتنا کاٹ لے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوجائیں اور ایسے کپڑے نہ پہنو کہ جس میں زعفران اور ورس ہو
Ibn Umar (RA) reported that a person asked the Messenger of Allah ﷺ what a Muhrim should put on as dress. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Do not put on a shirt or a turban, or trousers or a cap, or leather stockings except one who does not find shoes; he may put on stockings but he should trim them below the ankles. And do not wear clothes to which saffron or wars is applied.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ قَالَ لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّی يَکُونَا أَسْفَلَ مِنْ الْکَعْبَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری، سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ احرام باندھنے والا کیا پہنے؟ آپ ﷺ نے فرمایا احرام والا نہ قمیض پہنے اور نہ عمامہ باندھے اور نہ ٹوپی اور نہ ہی شلوار اور نہ ہی کپڑا کہ جس کو ورس لگی ہو اور نہ ہی وہ کپڑا جسے زعفران لگی ہو اور نہ ہی موزے سوائے اس کے کہ اگر کوئی جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے مگر ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔
Salim reported on the authority of his father (Abdullah bin Umar) that the Apostle of Allah ﷺ was asked what a Muhrim should wear, whereupon he said: A Muhrim should not wear a shirt, or a turban, or a cap, or trousers, or a cloth touched with wars or with saffron, nor (should he wear) stockings, but in case he does not find shoes, but (before wearing stockings) be should trim them (in such a way) that these should become lower than the ankles.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ وَقَالَ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْکَعْبَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھنے والے کو زعفران یا ورس رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا اور فرمایا جو آدمی جو تیاں نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور ان موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade the Muhrim to put on a cloth dyed in saffron or wars and he further said: One who does not find shoes (to wear) he may wear stockings, but (only) after trimming them below the ankles.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدْ الْإِزَارَ وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدْ النَّعْلَيْنِ يَعْنِي الْمُحْرِمَ
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، حماد، یحیی، حماد بن زید، عمرو، جابر بن زید، حضرب ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس آدمی کے لئے شلوار ہے جو چادر نہ پائے اور جو آدمی جوتیاں نہ پائے وہ موزے پہن لے یعنی احرام والا آدمی
Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ say as he was delivering an address: So far as the trousers are concerned, one who does not find lower garment, he may wear them; as also socks, he may wear them who does not find shoes. It concerns the Muhrim.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ فَذَکَرَ هَذَا الْحَدِيثَ
محمد بن بشار، محمد یعنی ابن جعفر، ابوغسان رازی، بہز، شعبہ، عمرو بن دینار، حضرت عمرو بن دینار ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا اور پھر یہ حدیث ذکر فرمائی۔
Amr bin Dinar narrated with the same chain of transmitters that he heard the Messenger of Allah ﷺ delivering sermon at Arafat, and he made a mention of this hadith (as quoted above).
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن یحیی، ہشیم، ابوکریب، وکیع، سفیان، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، علی بن حجر، اسماعیل، ایوب، حضرت عمر بن دینار سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور ان راویوں میں سے کسی نے بھی عرفات کے خطبہ کا ذکر نہیں کیا سوائے اکیلے شعبہ کے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Dinar with the same chain of transmitters, but none of them (the narrators) made a mention that he (the Holy Prophet) was delivering address at Arafia except Sbuba.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ
احمد بن عبیداللہ بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی جو تیاں نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور جو آدمی چادر نہ پائے تو وہ شلوار پہن لے۔
Jabir (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who does not find shoes to wear may wear socks, and he who does not find lower garment to wear may put on trousers.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ أَوْ قَالَ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ کَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي قَالَ وَأُنْزِلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَکَانَ يَعْلَی يَقُولُ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ قَالَ فَقَالَ أَيَسُرُّکَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ قَالَ فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ کَغَطِيطِ الْبَکْرِ قَالَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْعُمْرَةِ اغْسِلْ عَنْکَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ أَوْ قَالَ أَثَرَ الْخَلُوقِ وَاخْلَعْ عَنْکَ جُبَّتَکَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِکَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّکَ
شیبان بن فروخ، ہمام، عطاء بن ابی رباح، حضرت صفوان بن یعلی بن منبہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جعرانہ کے مقام میں تھے کہ ایک آدمی آیا وہ خلوق لگا ہوا جبہ پہنے ہوئے تھا یا کچھ زردی کا نشان تھا اس نے عرض کیا اللہ کے رسول آپ ﷺ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں عمرہ میں کیا کروں؟ اور نبی ﷺ پر اس وقت وحی نازل ہونا شروع ہوئی اور آپ کے چاروں طرف سے پردہ کیا گیا اور یعلی کہتے ہیں کہ میں چاہتا تھا کہ میں دیکھوں کہ نبی ﷺ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے اور حضرت عمر ؓ نے بھی فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تم نبی ﷺ کی وحی نازل ہونے کی کیفیت دیکھو یہ فرما کر حضرت عمر ؓ نے کپڑے کا ایک کنارہ ہٹا دیا تو میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا کہ آپ ﷺ خراٹے لے رہے ہیں راوی کہتا ہے کہ میر اگمان ہے کہ وہ آواز اونٹ کی طرح ہانپنے کی تھی جب وحی جاتی رہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عمرہ کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ وہ حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ خوشبو کے نشان دھو ڈالو اور جبہ اتار دو اور اپنے عمرہ کے اعمال کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔
Yala bin Umayya reported on the authority of his father (RA) that a person came to the Apostle of Allah ﷺ as he was at Jirana and he (the person) had been putting on a cloak which was perfumed, or he (the narrator) said: There was a trace of yellowness on it. He said (to the Holy Prophet): What do you command me to do during my Umrah? (It was at this juncture) that the revelation came to the Apostle of Allah ﷺ and he was covered with a cloth, and Yala said: Would that I see revelation coming to the Apostle of Allah ﷺ . He (Hadrat Umar) said: Would it please you to see the Apostle of Allah ﷺ receiving the revelations Umar lifted a corner of the cloth and I looked at him and he was emitting a sound of snorting. He (the narrator) said: I thought it was the sound of a camel. When he was relieved of this he said: Where is he who asked about Umrah? When the person came, the Holy Prophet ﷺ said: Wash out the trace of yellowness, or he said: the trace of perfume and put off the cloak and do in your Umrah what you do in your Hajj.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ يَعْنِي جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا کُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّکَ قَالَ أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا کُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّکَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِکَ
ابن ابی عمر، سفیان، عمرو، عطاء، حضرت صفوان بن یعلی ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ جعرانہ میں تھے اور میں بھی نبی ﷺ کے پاس تھا اور اس آدمی کے اوپر ایک جبہ تھا اور اس کو خوشبو لگی ہوئی تھی اس آدمی نے عرض کیا کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر جبہ ہے اور اس پر خوشبو بھی لگی ہوئی ہے تو نبی ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا کہ تو وہ کر جو تو اپنے حج میں کرتا تھا اس نے عرض کیا کہ میں کیا یہ کپڑے اتار دوں اور ان سے خوشبو دھو ڈالو! تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ جو تو اپنے حج میں کرتا تھا وہی اپنے عمر میں بھی کر۔
Safwan bin Yala reported on the authority of his father (who said): A person came to the Apostle of Allah ﷺ as he was staying at Jirana and I (the narrators father) was at that time in the apostles ﷺ company and (the person) was donning a cloak having the marks of perfume on it, and he said: I am in a state of Ihram for the sake of Umrah, and it (this cloak) is upon me and I am perfumed. The Apostle of Allah ﷺ said to him: What would you do in your Hajj? He said: I would take off the clothes and would wash from me this perfume. Thereupon the Apostle of Allah ﷺ said: What you do in your Hajj do it in your Umrah.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَی کَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْتَنِي أَرَی نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَلَمَّا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَکَتَ فَجَائَهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَی يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ فَجَائَ يَعْلَی فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْ الْعُمْرَةِ آنِفًا فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيئَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِکَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِکَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّکَ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، علی بن خشرم، حضرت عیسیٰ بن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے عطاء ؓ نے خبر دی کہ صفوان بن یعلی بن امیہ ؓ انہیں خبر دیتے ہیں کہ یعلی نے حضرت عمر ؓ سے کہا تھا کہ کاش کہ میں نبی ﷺ کو دیکھوں جس وقت کہ آپ ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا ہے تو جب نبی ﷺ جعرانہ کے مقام میں تھے اور نبی ﷺ پر ایک کپڑے سے سایہ کردیا گیا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے بھی کچھ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ تھے ان میں حضرت عمر ؓ بھی تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس پر خوشبو سے آلودہ جبہ تھا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ایسے آدمی کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا حکم ہے کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور اس نے ایسا جبہ بھی پہنا ہوا ہو کہ خوشبو سے آلودہ ہو تو نبی ﷺ نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا پھر آپ ﷺ خاموش رہے تو پھر آپ ﷺ پر وحی آنا شروع ہوگئی حضرت عمر ؓ نے اپنے ہاتھ سے یعلی بن امیہ کی طرف اشارہ کیا یعلی فورا آگئے اور کپڑے میں سر ڈال کر دیکھا کہ نبی ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا ہے اور آپ ﷺ زور زور سے سانس لے رہے ہیں کچھ دیر بعد جب وحی کی کیفیت جاتی رہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ کہاں ہے جس نے مجھ سے عمرہ کے بارے میں پوچھا تھا؟ تو اس آدمی کو تلاش کیا گیا اور وہ آپ ﷺ کے پاس آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو خوشبو تیرے ساتھ لگی ہے اسے تین مرتبہ دھو ڈال اور جبہ اتارے دے اور پھر اپنے عمرہ میں وہی اعمال کر جو تو اپنے حج میں کرتا ہے۔
Safwan bin Yala bin Umayya reported that Yala used to say to Umar bin Khattab (RA) : Would that I see revelation descending upon the Apostle of Allah ﷺ . (Once) when the Apostle of Allah ﷺ was in Jirana and there was a cloth which provided shade over him, and there were his Companions with him. Umar being one of them, there came a person with a cloak of wool on him daubed with perfume and he said: Messenger of Allah, what about the person who entered upon the state of Ihram with a cloak after daubing it with perfume? The Apostle of Allah ﷺ looked at him for a short while, and then became quiet, and revelation began descending upon him, and Umar gestured (with his hand) to Yala b Umayya to come. Yala came and he entered his head beneath the cloth and saw the Apostle of Allah ﷺ with his face red, and breathing with a snore. Then he felt relieved (of that burden) and he said: Where is the man who was just asking me about Umrah? The man was searched for and he was brought, and the Apostle of Allah ﷺ said: So far as the perfume is concerned, wash it three times, and remove the cloak too (as it was sewn) and do in Umrah as you do in Hajj.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا کَمَا تَرَی فَقَالَ انْزِعْ عَنْکَ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْکَ الصُّفْرَةَ وَمَا کُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّکَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِکَ
عقبہ بن مکرم، محمد بن رافع، ابن رافع، وہب بن جریر بن حازم، عطاء، حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ جعرانہ کے مقام میں تھے اور اس آدمی نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس کی داڑھی اور اس کے سر کے بال ذرد آلود اور اس کے جسم پر ایک جبہ تھا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور جیسا کہ آپ ﷺ مجھے دیکھ رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنے جسم سے جبہ اتارے دے اور اپنے سر اور داڑھی کے بالوں سے زرد رنگ دھو ڈال اور جو تو اپنے حج میں کرتا تھا اپنے عمرہ میں بھی اسی طرح کر۔
Yala bin Umayya (RA) reported that a person came to the Apostle of Allah ﷺ as he was staying at Jirana and he had put on Ihram for Umrah and he had dyed his beard and his head with yellow colour and there was a cloak on him. He said: I put on Ihram for Umrah and I am in this state as you see (with dyed beard and head and a cloak over me). He (the Holy Prophet) said: Take off the cloak and wash the yellowness and do in your Umrah what you do in Hajj.
اس بات کے بیان میں کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کونسا لباس پہننا جائز ہے اور کونسا نا جائز ہے ؟
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَی عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ فَکَيْفَ أَفْعَلُ فَسَکَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ وَکَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يُظِلُّهُ فَقُلْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنْ الْعُمْرَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ انْزِعْ عَنْکَ جُبَّتَکَ وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِکَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِکَ مَا کُنْتَ فَاعِلًا فِي حَجِّکَ
اسحاق بن منصور، ابوعلی، عبیداللہ بن عبدالمجید، رباح بن ابی معروف، عطاء، حضرت صفوان بن یعلی اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی خلوق خوشبو سے آلودہ جبہ پہنے ہوئے آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے تو میں کس طرح کروں؟ آپ ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا اور حضرت عمر کا معمول تھا کہ جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو خود ایک کپڑے سے آڑ کرلیتے تھے اور میں نے حضرت عمر سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے تو میں کپڑے میں سر ڈال کر دیکھنا چاہتا ہوں تو جب آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو معمول کے مطابق حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ کو کپڑے میں چھپالیا اور جب وحی کی کیفیت جاتی رہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عمرہ کے بارے میں مجھ سے پوچھنے والا کہاں ہے؟ تو وہ آدمی کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبہ اتار دو اور تیرے ساتھ جو خوشبو کا نشان لگا ہے اسے دھو ڈال اور پھر اپنے عمرے میں وہی اعمال کر جو تو اپنے حج میں کرتا ہے۔
Yala reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ that a person came to him with a cloak on him having the traces of scent. He said, Messenger of Allah, I put on Ihram for Umrah: what should I do? He (the Holy Prophet) kept quiet and did not make him any reply. And Umar screened him and it was (usual) with Umar that when the revelation descended upon him, he provided him shade (with the help of a piece of cloth). I (the person who came to the Holy Prophet) said: I said to Umar I wish to project my head into the cloth (to see how the Holy Prophet ﷺ receives revelation). So when the revelation began to descend upon him Umar wrapped him (the Holy Prophet) with cloth I came to him and projected my head with him into the cloth, and saw him (the Holy Prophet) receiving the revelation. When he (the Holy Prophet) was relieved (of its burden), he said: Where is the inquirer who was just inquiring about Umrah? That man came to him. Thereupon he (the Apostle of Allah ﷺ ) said: Take off the cloak from (your body) and wash the traces of perfume which were upon you, and do in Umrah what you did in Hajj.
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ قَالَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَی عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ کَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ وَکَذَا فَکَذَلِکَ حَتَّی أَهْلُ مَکَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا
یحییٰ بن یحیی، خلف بن ہشام، ابوربیع، قتیبہ، حماد، یحیی، حمد بن زید، عمر بن دینار، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ میقات مقرر فرمایا اور شام والوں کے لئے جحفہ اور نجد والوں کے لئے قرن اور یمن والوں کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ مواقیت ان لوگوں کے لئے بھی ہیں جو دوسرے علاقوں میں سے ان مواقیت کی حدود میں آئیں چاہے ان میں سے کسی کا ارادہ حج کا ہو یا عمرہ کا اور جو ان کے علاوہ اپنے علاقوں میں رہنے والوں میں سے ہوں تو وہ اپنی حدود سے احرام باندھیں گے یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
Ibn Abbas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ specified Dhul-Hulaifa, for the people of Madinah; Juhfa for the people of Syria; Qarn al-Manazil, for the people of Najd; Yalamlam for the people of Yemen (the Mawaqit) and those (Mawaqit) are also meant for those who live at these (places) and for those too who come from without towards them for the sake of Hajj or Umrah. And those who live within them (within the bounds of these places) or in the suburbs of Makkah or within Makkah, they should enter upon the state of Ihram at these very places.
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ وَقَالَ هُنَّ لَهُمْ وَلِکُلِّ آتٍ أَتَی عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّی أَهْلُ مَکَّةَ مِنْ مَکَّةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی آدم، وہیب، عبداللہ بن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لئے جحفہ اور نجد والوں کے لئے قرن المنازل اور یمن والوں کے لئے یلملم میقات مقرر فرمایا اور ان لوگوں کے لئے بھی ہیں جو حج اور عمر کے ارادے سے دوسرے علاقوں سے ان میقات والے علاقوں میں آئیں اور جو لوگ ان میقات والی جگہ کے اندر ہوں تو وہ اسی جگہ سے احرام باندھیں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ مکرمہ ہی سے احرام باندھ لیں۔
Ibn Abbas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ specified Dhul-Hulaifa for the people of Madinah; Juhfa for the people of Syria, Qarn al-Manazil for the people of Najd, Yalamlam for the people of Yemen (as their respective Mawaqit), and he also said: These are (Mawaqit) of them too (who live there) and everyone who comes from outside (through) their (directions) for the sake of Hajj and Umrah and for those who live within (those bounds their Miqat is that) from which they commenced (their journey), and for the people of Makkah, Makkah itself is (the Miqat).
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے رہنے والے ذوالحلیفہ سے اور شام کے رہنے والے جحفہ سے اور نجد کے رہنے والے قرن سے احرام باندھیں حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یمن کے رہنے والے یلملم کے مقام سے احرام باندھیں۔
Ibn Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: The people of Madinah should enter upon the state of Ihram at Dhul-Hulaifa, and people of Syria at Juhfa, and people of Najd at Qarn (al-Manazil), and Abdullah (further) said: It has reached me that the Messenger of Allah ﷺ also said: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam.
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مَهْيَعَةُ وَهِيَ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِکَ مِنْهُ قَالَ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن ابن عمر ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مدینہ کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور شام کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ مھیعہ یعنی جحفہ ہے اور نجد کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے اور اس کو میں نے خود تو نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یمن کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔
Salim reported on the authority of his father (Abdullah bin Umar) that the Messenger of Allah ﷺ said: The people of Madinah should enter upon the state of Ihram at Dhul-Hulaifa; the people of Syria at Juhfa, the people of Najd at Qarn (al-Manazil). Ibn Umar (RA) said: It was mentioned to me but I did not myself hear it (directly) from the Messenger of Allah ﷺ having said this: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam.
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ قَالَ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، یحیی، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے رہنے والوں کو حکم فرمایا کہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور شام کے رہنے والوں کو حکم فرمایا کہ جحفہ سے اور نجد والے قرن سے احرام باندھیں اور حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یمن کے رہنے والے یلملم سے احرام باندھیں۔
Salim bin Abdullah bin Umar bin al-Khattab (RA) reported his father as saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying that the people of Madinah should enter upon the state of Ihram at Dhul- Hulaifa, the people of Syria at Mahyaa and that is Juhfa, and the people of Najd at Qarn (al-Manazil). Abdullah bin Umar (RA) said: (I did not hear it myself from him) but heard from them saying that the Messenger of Allah ﷺ had (also) said: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam.
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُسْأَلُ عَنْ الْمُهَلِّ فَقَالَ سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَی فَقَالَ أُرَاهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج، حضرت ابوزبیر ؓ خبر دیتے ہیں کہ حضرت جابربن عبداللہ ؓ سے احرام باندھنے کی جگہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے پھر آخر تک فرمایا راوی ابوزبیر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت جابر ؓ نے نبی ﷺ سے سنا ہے۔
Abu Zubair reported that he heard Jabir bin Abdullah (RA) saying that as he was asked about (the places for entering upon the) state of ihram, he said: I heard (and he then carried the narration directly, I think to) the Apostle of Allah ﷺ .
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَذُکِرَ لِي وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان، زہری، حضرت سالم ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے رہنے والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے اور شام کے رہنے والے جحفہ سے احرام باندھیں گے اور نجد کے رہنے والے قرن سے احرام باندھیں گے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ مجھے ذکر کیا گیا ہے اور میں نے خود نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یمن کے رہنے والے یلملم سے احرام باندھیں۔
Abu Zubair reported that he heard Jabir bin Abdullah (RA) saying that as he was asked about (the places for entering upon the) state of ihram, he said: I heard (and he then carried the narration directly, I think to) the Apostle of Allah ﷺ .00000
حج کی مواقیت حدود کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُسْأَلُ عَنْ الْمُهَلِّ فَقَالَ سَمِعْتُ أَحْسَبُهُ رَفَعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
محمد بن حاتم، عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کی جگہوں یعنی میقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ منورہ والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذی الحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے عراق والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے اور نجد والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے جبکہ یمن کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔
Abu Zubair heard Jabir bin Abdullah (RA) as saying as he was asked about (the place for entering upon the) state of Ihram: I heard (and I think he carried it directly to the Apostle of Allah ﷺ ) him saying: For the people of Madinah Dhul-Hulaifa is the place for entering upon the state of Ihram, and for (the people coming through the other way, i. e. Syria) it is Juhfa; for the people of Iraq it is Dbat al-Irq; for the people uf Najd it is Qarn (al-Manazil) and for the people of Yemen it is Yalamlam.