تلیبہ پڑھنے اور اس کا طریقہ اور اس کے پڑھنے کے وقت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْکَ لَبَّيْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَيْکَ وَالْعَمَلُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ پڑھا (لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ ) میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں، بیشک ساری تعریفیں اور نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور حضرت ابن عمر ؓ تلبیہ کے ان کلمات میں یہ زیادہ کرتے تھے میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اور تیرے احکام کی فرمانبرداری کے لئے حاضر ہوں ساری بھلائیاں تیرے قبضہ وقدرت میں ہیں میں حاضر ہوں اور رغبت اور عمل تیری طرف ہے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that the Talbiya of the Messenger of Allah ﷺ was this: Here I am at Thy service. O Allah, here I am at Thy service, here I am at Thy service. There is no associate with Thee; here I am at Thy service. Verily all praise and grace is due to Thee, and the sovereignty (too). There is no associate with Thee. He (the narrator) further said that Abdullah bin Umar (RA) made this addition to it: Here I am at Thy service; here I am at Thy service; ready to obey Thee, and good is in Thy Hand; here I am at Thy service; unto Thee is the petition, and deed (is also for Thee).
تلیبہ پڑھنے اور اس کا طریقہ اور اس کے پڑھنے کے وقت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَنَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ فَقَالَ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ قَالُوا وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَافِعٌ کَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَزِيدُ مَعَ هَذَا لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْکَ لَبَّيْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَيْکَ وَالْعَمَلُ
محمد بن عباد، حاتم یعنی ابن اسماعیل، موسیٰ بن عقبہ، سالم بن عبداللہ بن عمر، نافع مولیٰ عبداللہ، حمزہ بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺ نے احرام باندھا اور فرمایا (تلبیہ کا ترجمہ) میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بیشک ساری تعریفیں اور نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لئے ہیں تیرا کوئی شریک نہیں حضرت ابن عمر ؓ فرماتے تھے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ ہے حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ تلبیہ کے ساتھ ان کلمات کا اضافہ کرتے تھے (لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْکَ لَبَّيْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَيْکَ وَالْعَمَلُ )
Abdullah bin Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon the state of Ihram near the mosque at Dhul-Hulaifa as his camel stood by it and he said: Here I am at Thy service, O Lord; here I am at Thy service: here I am at Thy service. There is no associate with Thee. Here I am at Thy service. All praise and grace is due to Thee and the sovereignty (too). There is no associate with Thee. They (the people) said that Abdullah bin Umar said that that was the Talbiya of the Messenger of Allah ﷺ . Nafi said: Abdullah (RA) made this addition to it: Here I am at Thy service; here I am at Thy service; ready to obey Thee. The Good is in Thy Hand. Here I am at Thy service. Unto Thee is the petition and deed (is also for Thee).
تلیبہ پڑھنے اور اس کا طریقہ اور اس کے پڑھنے کے وقت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
محمد بن مثنی، یحییٰ یعنی ابن سعید، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح تلبیہ سیکھا ہے پھر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
Ibn Umar (RA) reported: I immediately learnt Talbiya from the Messenger of Allah ﷺ , and he then narrated the hadith.
تلیبہ پڑھنے اور اس کا طریقہ اور اس کے پڑھنے کے وقت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَا يَزِيدُ عَلَی هَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْکَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ بِإِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ وَيَقُولُ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ لَبَّيْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَيْکَ وَالْعَمَلُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دیتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بالوں کو جمائے ہوئے تلبیہ کہہ رہے تھے (لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ ) اور آپ ﷺ نے ان کلمات پر اضافہ نہیں فرمایا اور حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں پھر جب اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس آکر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺ نے تلبیہ کے یہ کلمات پڑھ کر احرام باندھا حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ پڑھتے تھے اور کہتے تھے (لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ لَبَّيْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَيْکَ وَالْعَمَلُ )
Abdullah bin Umar (RA) reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ pronouncing Talbiya with compacted hair: Here I am at Thy service. O Allah: here I am at Thy service; here I am at Thy service. There is no associate with Thee; here I am at Thy service. Verily all praise and grace is due to Thee and the Sovereignty (too). There is no associate with Thee; and he did not make any addition to these words. Abdullah bin Umar (RA) (further) said: The Messenger of Allah ﷺ used to offer two rakahs of prayer at Dhul-Hulaifa and then when his camel stood up with him on its back near the mosque at Dhul-Hulaifa, he pronounced these words (of Talbiya). And Abdullah bin Umar (RA) said that Umar bin Khattab (RA) pronounced, the Talbiya of the Messenger of Allah ﷺ in these words of his (Prophets words) and said: Here I am at Thy service, O Lord; here I am at Thy service, ready to obey Thee, and good is in Thy Hand, Here I am at Thy service. Unto Thee is the petition and deed (is also for Thee).
تلیبہ پڑھنے اور اس کا طریقہ اور اس کے پڑھنے کے وقت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ الْمُشْرِکُونَ يَقُولُونَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ قَالَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلَکُمْ قَدْ قَدْ فَيَقُولُونَ إِلَّا شَرِيکًا هُوَ لَکَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَکَ يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ
عباس بن عبدالعظیم، نضر بن محمد یمامی، عکرمہ یعنی ابن عمار، ابوزمیل، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے لیبک لا شریک تو رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہلاکت ہو تمہارے لئے اس سے آگے نہ کہو مگر مشرکین کہتے اے اللہ تو اس کا مالک ہے لیکن اس کے مملوک کا تو مالک نہیں ہے یہ کہتے اور بیت اللہ کا طواف کرتے۔
Ibn Abbas (RA) reported that the polytheists also pronounced (Talbiya) as: Here I am at Thy service, there is no associate with Thee. The Messenger of Allah ﷺ said: Woe be upon them, as they also said: But one associate with Thee, you possess mastery over him, but he does not possess mastery (over you). They used to say this and circumambulate the Ka’bah.
مدینہ والوں کے لئے ذی الحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا بَيْدَاؤُکُمْ هَذِهِ الَّتِي تَکْذِبُونَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، موسیٰ بن عقبہ، حضرت سالم بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ یہ تمہارا بیداء ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہ پر جھوٹ بولتے ہو رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ نہیں پڑھا سوائے ذی الحلیفہ کی مسجد کے۔
Salim bin Abdullah (RA) reported that he heard his father saying: This place Baida is for you that about which you attribute lie to the Messenger of Allah ﷺ . And the Messenger of Allah ﷺ did not enter upon the state of Ihram but near the mosque at Dhul- Hulaifah.
مدینہ والوں کے لئے ذی الحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قِيلَ لَهُ الْإِحْرَامُ مِنْ الْبَيْدَائِ قَالَ الْبَيْدَائُ الَّتِي تَکْذِبُونَ فِيهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ
قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، موسیٰ بن عقبہ، حضرت سالم سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ سے جب کہا جاتا کہ احرام تو بیداء سے ہے تو آپ فرماتے کہ بیداء تو وہ ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولتے ہو رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ نہیں پڑھا سوائے اس درخت کے پاس جس جگہ آپ ﷺ کا اونٹ آپ ﷺ کو لے کر کھڑا ہوگیا۔
Salim reported that when it was said to Ibn Umar (RA) that the state of Ihram (commences from) al-Baida he said: Al-Baida, you attribute lie about it to the Messenger of Allah ﷺ . And the Messenger of Allah ﷺ did not enter upon the state of Ihram but near the-tree when his camel stood up with him.
ایسے وقت احرام باند ھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جس وقت سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہوجائے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُکَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُکَ لَا تَمَسُّ مِنْ الْأَرْکَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُکَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُکَ إِذَا کُنْتَ بِمَکَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّی يَکُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الْأَرْکَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّی تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت عبید بن جریج ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے کہا اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کسی اور کو ایسے کرتے ہوئے نہیں دیکھا حضرت عبداللہ نے فرمایا اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا کہ ایک یہ کہ میں نے آپ کو کعبہ اللہ کے دو رکن یمانیوں کے سوا اور کسی کو نے کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا دوسرا یہ کہ میں نے آپ کو بغیر بالوں والے چمڑے کی جوتیاں پہنے دیکھا اور تیسرا یہ کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زرد رنگ سے رنگتے ہیں اور چوتھا یہ کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں تھے تو آپ نے آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھا جبکہ مکہ میں رہنے والے لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھتے ہیں حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ دو رکن یمانیوں کے چھونے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دو رکن یمانیوں کے علاوہ اور کسی رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور بالوں کے بغیر چمڑے کی جوتی کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ ایسے چمڑے کی جوتی پہنے ہوئے تھے کہ جس میں بال نہیں تھے اور اسی چمڑے میں وضو کرتے اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ ایسی جوتی پہنوں اور زرد رنگ کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ زرد رنگ کے ساتھ رنگا کرتے تھے اسی لئے میں بھی زرد رنگ کے رنگنے کو پسند کرتا ہوں اور باقی احرام باندھنے کا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ احرام باندھتے ہوں یہاں تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر ٹھہر جاتی تھی
Ubaid bin Juraij said to Ahdullah bin Umar (RA) : Abdul Rahman, I find you doing four things which I do not see anyone among your companions doing. He said: Son of Juraij, what are these? Thereupon he said: You (while circumambulating the Ka’bah) do not touch but the two pillars situated on the side of Yaman (south), and I find you wearing the sandals of tanned leather, and I find you with dyed beard and head, and I also found that, when you were at Makkah, the people pronounced Talbiya as they saw the new moon (Dhul-Hijja), but you did not do it till the 8th of Dhul-Hijja. Upon this Abdullab bin Umar said: So far as the touching of the pillars is concerned, I did not see the Messenger of Allah ﷺ touching them but only those situated on the side of Yaman. So far as the wearing of the shoes of tanned leather is concerned, I saw the Messenger of Allah ﷺ wearing shoes without hair on them, and he wore them with wet feet after performing ablution, and I like to wear them. So far as the yellowness is concerned, I saw the Messenger of Allah ﷺ dyeing (head, beard and cloth) with this colour and I love to dye (my head, beard or cloth) with this colour. And so far as the pronouncing of Talbiya is concerned, I did not see the Messenger of Allah ﷺ pronouncing it until his camel proceeded on (to Dhul-Hulaifa).
ایسے وقت احرام باند ھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جس وقت سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہوجائے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْکَ أَرْبَعَ خِصَالٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَی إِلَّا فِي قِصَّةِ الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ فَذَکَرَهُ بِمَعْنًی سِوَی ذِکْرِهِ إِيَّاهُ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، ابوصخر، ابن قسیط، حضرت عبید بن جریج ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ بارہ مرتبہ حج اور عمرہ کیا تو میں نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ سے چار خصلتیں دیکھی ہیں پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی سوائے ہلال کے واقعہ کے۔
Ubaid bin Juraij reported: I remained in the company of Abdullah bin Umar bin al-Khattab (RA) its twelve Hajjs and Umrahs and I said to him: I saw four characteristics (peculiar in you), and the rest of the hadith is the same except the case of Talbiya. There he offered the narration given by al-Maqburi and he stated the facts excepting the one given above.
ایسے وقت احرام باند ھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جس وقت سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہوجائے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب رکاب میں اپنا پاؤں رکھا اور سواری آپ ﷺ کو لے کر ذی الحلیفہ میں کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺ نے احرام باندھا تلبیہ پڑھا
Ibn Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ pronounced Talbiya in Dhul-Hulaifa as he put his feet in the stirrup and his camel stood up and proceeded.
ایسے وقت احرام باند ھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جس وقت سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہوجائے۔
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ يُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، صالح بن کیسان، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے خبر دی کہ نبی ﷺ نے احرام باندھا جس وقت اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی۔
Ibn Umar (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ pronounced Talbiya as his camel stood up.
ایسے وقت احرام باند ھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جس وقت سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہوجائے۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ذی الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار دیکھا پھر جس وقت وہ سواری آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺ نے احرام باندھا
Abdullah bin Umar reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ riding on his camel at Dhul-Hulaifa and pronouncing Talbiya as it stood up with him.
ذی الحلیفہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ وَصَلَّی فِي مَسْجِدِهَا
حرملہ بن یحیی، احمد بن عیسی، احمد، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی الحلیفہ میں رات گزاری اور مناسک حج کی ابتداء یہیں سے کی اور اسی مسجد میں آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ spent the night at Dhul-Hulaifa while commencing (the rites of) Pilgrimage and he observed prayer in the mosque.
احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
محمد بن عباد، سفیان، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت احرام باندھا تو میں نے خوشبو لگائی اور بیت اللہ کے طواف سے پہلے جب آپ ﷺ حلال ہوئے احرام کھولا تو اس وقت بھی یہی خوشبو لگائی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I applied perfume to the Messenger of Allah ﷺ before he entered upon the state of lhram and (concluding) before circumambulating the (sacred) House.
احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، افلح بن حمید، قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت احرام باندھا تو میں نے احرام کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے آپ ﷺ کو خوشبو لگائی اور جس وقت آپ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف سے پہلے احرام کھولا تو اس وقت بھی خوشبو لگائی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I applied perfume to the Messenger of Allah ﷺ before he entered upon the state of lhram and (concluding) before circumambulating the (sacred) House.
احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ کُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو ان کے احرام کی وجہ سے اس سے پہلے کہ آپ ﷺ احرام باندھیں خوشبو لگایا کرتی تھی اور اس وقت جب آپ ﷺ طواف سے پہلے حلال ہوتے احرام کھولتے۔
Aisha (Allah be pleased with her), the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: I applied perfume to the Messenger of Allah ﷺ with my own hand before he entered upon the state of Ihram, and as he concluded it before-circumambulating the House (for Tawaf-i-lfada).
احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحُرْمِهِ
ابن نمیر، عبیداللہ بن عمر، قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو احرام کھولتے اور احرام باندھتے وقت خوشبو لگاتی تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I used to apply perfume to the Messenger of Allah ﷺ before his entering upon the state of Ihram and at the conclusion of it, before circumambulating the House (for Tawf-i-Ifada).
احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ
محمد بن حاتم، عبد بن حمید، ابن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عمر بن عبداللہ بن عروہ، قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو حجہ الوداع کے موقع پر احرام کھولتے اور احرام باندھتے وقت میں نے اپنے ہاتھوں سے زریرہ خوشبو لگائی۔
Aisha (Allah be pleased with her) said: I applied perfume of Dharira to the Messenger of Allah ﷺ with my hand (on the occasion of) the Farewell Pilgrimage on freeing from the state of Ihram and entering upon it.
احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْئٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُرْمِهِ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان، حضرت عثمان بن عروہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو آپ ﷺ کے احرام کے وقت کونسی خوشبو لگائی تھی؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا سب سے زیادہ پاکیزہ اور اچھی خوشبو۔
Uthman bin Urwa reported on the authority of his father that he said: I asked Aisha with what thing she perfumed the Messenger of Allah ﷺ at the time of entering upon the state of Ihram. She said: With the best of perfume.
احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ثُمَّ يُحْرِمُ
ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، عثمان بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس سے قبل کہ آپ ﷺ احرام باندھتے آپ کو جس قدر اچھی خوشبو لگا سکتی میں آپ کو خوشبو لگاتی پھر آپ ﷺ احرام باندھتے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I applied the best perfume, which I could get, to the Messenger of Allah ﷺ before entering upon the state of Ihram (and after this) he put on the Ihram.