مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ
احمد بن حنبل، زہیر بن حرب، یحیی، قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل خبیر سے زمین کی پیداوار پھل یا کھیتی سے نصف پر عمل کرایا۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ contracted with the people of Khaibar the (trees) on the condition that he would have half the produce in fruits and harvest.
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ فَکَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ کُلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَالْمَائَ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْأَوْسَاقَ کُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ الْأَرْضَ وَالْمَائَ وَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ الْأَوْسَاقَ کُلَّ عَامٍ فَکَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَائَ
علی بن حجر سعدی، علی ابن مسہر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین خیبر اس کی پیداوار پھل یا کھیتی سے نصف کے عوض دی اور آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات ؓ کو ہر سال سو وسق عطا کرتے تھے اسّی وسق کھجور اور بیس وسق جو جب حضرت عمر ؓ خلیفہ بنائے گئے اور اموال خیبر کو تقسیم کیا گیا تو ازواج نبی ﷺ کو اختیار دیا کہ وہ اپنی زمین اور پانی سے حصہ لے لیں یا ہر سال ان کے لئے اوساق مقرر کر دئیے جائیں ازواج مطہرات ؓ میں اختلاف ہوا بعض نے تو ہر سال اوساق کو اختیار کیا اور بعض نے زمین اور پانی کو پسند کیا سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ اور حفصہ ؓ ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو پسند کیا۔
Ibn Umar (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ handed over the land of Khaibar (on the condition) of the share of produce of fruits and harvest, and he also gave to his wives every year one hundred wasqs: eighty wasqs of dates and twenty wasqs of barley. When Umar became the caliph he distributed the (lands and trees) of Khaibar, and gave option to the wives of Allahs Apostle ﷺ to earmark for themselves the land and water or stick to the wasqs (that they got) every year. They differed in this matter. Some of them opted for land and water, and some of them opted for wasqs every year. Aisha and Hafsa were among those who opted for land and water.
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ ثَمَرٍ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فَکَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَائَ وَقَالَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَلَمْ يَذْکُرْ الْمَائَ
ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل خبیر کو زمین کی پیداوار کھیتی یا پھل کے نصف پر عامل بنایا باقی حدیث گزر چکی لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ اور حفصہ ؓ ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو پسند کیا اور کہا کہ ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا کہ ان کے لئے زمین قطع کردی جائے اور پانی کا ذکر نہیں کیا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ contracted with the people of Khaibar (land and trees on the condition that they should give) half of the yield from land and trees. The rest of the hadith is the same. In the hadith transmitted on the authority of AIi bin Mushir there is no mention of it, but that Aisha and Hafsa were those who opted for land and water, but he (the narrator) said: He (Hadrat Umar, gave option to the wives of Allahs Apostle ﷺ that land would be earmarked for them, but he made no mention of water.
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَی أَنْ يَعْمَلُوا عَلَی نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُقِرُّکُمْ فِيهَا عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَ فِيهِ وَکَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَی السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْسَ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، اسامہ بن زیدلیثی، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب خبیر فتح کیا گیا تو یہود نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ انہیں خبیر میں ہی زمین کی پیداوار پھل اور کھیتی میں سے نصف کے عوض کا شتکاری کرنے کے لئے رہنے دیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اس عمل پر اس وقت تک ٹھہرنے دوں گا جب تک ہم چاہیں گے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ خیبر کے نصف پھل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس میں سے خمس حاصل کرتے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that when Khaibar had been conquered, the Jews asked Allahs Messenger ﷺ to let them continue (cultivation in those lands) on half of the share of yield in fruits and crop, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: I will allow you to continue here, so long as we would desire. The rest of the hadith is the same, but with this addition:" The fruit would be distributed equal to the half of Khaibar. And out of hall of the produce of the land, Allahs Apostle ﷺ (may peace be be upon him) got the fifth part."
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَفَعَ إِلَی يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَی أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا
ابن رمح، لیث، محمد بن عبدالرحمن، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خبیر کے درخت اور اس کی زمین کو یہود خیبر کے سپرد اس بات پر کیا کہ وہ اپنے اموال سے اس کی خدمت کریں گے اور اللہ کے رسول ﷺ کے لئے اس کے پھل کا نصف ہوگا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ returned to the Jews of Khaibar the date-palms of Khaibar and its land on the condition that they should work upon them with their own wealth (seeds, implements), and give half of the yield to Allahs Messenger ﷺ .
مساقات اور کھجور اور کھیتی کے حصہ پر معاملہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَی الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَی خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَکَانَتْ الْأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتْ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَی أَنْ يَکْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّکُمْ بِهَا عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّی أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَی تَيْمَائَ وَأَرِيحَائَ
محمد بن رافع، اسحاق بن منصور، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے یہود و نصاری کو سر زمین حجاز سے نکال دیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب خیبر پر غالب ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اس لئے کہ جب آپ ﷺ اس زمین پر غالب ہوگئے تو وہ زمین اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے لئے ہوگئی آپ ﷺ نے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہود نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر رہنے دینے کی درخواست کی کہ وہ اس زمین کی محنت کریں گے اور ان کے لئے آدھا پھل ہوگا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا ہم تمہیں اس بات پر جب تک چاہیں گے رہنے دیں گے وہ اس میں رہتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ نے انہیں تیماء یا اریحا کی طرف جلا وطن کردیا۔
Ibn Umar (RA) reported that Umar bin al-Khattab (RA) expelled the Jews and Christians from the land of Hijaz, and that when Allahs Messenger ﷺ conquered Khaibar he made up his mind to expel the Jews from it (the territory of Khaibar) because, when that land was conquered, it came under the sway of Allah, that of His Messenger ﷺ and that of the Muslims. The jews asked Allahs Messenger ﷺ to let them continue there on the condition that they would work on it, and would get in turn half of the fruit (of the trees), whereupon Allahs Messenger ﷺ said: We would let you continue there so long as we will desire. So they continued (to cultivate the lands) till Umar externed them to Taima ang Ariha (two villages in Arabia, but out of Hijaz).
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا کَانَ مَا أُکِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَکَلَتْ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلَّا کَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
ابن نمیر، عبدالملک، عطاء، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان نے کوئی پودا لگایا تو اس درخت سے جو کھایا گیا وہ اس کے لئے صدقہ ہے جو اس سے چوری کیا گیا وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے اور جو درندوں نے کھایا وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے اور کوئی اسے کم نہیں کرے گا مگر وہ اس پودا لگانے والے کے لئے صدقہ کا ثواب ہوگا۔
Jabir (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Never a Muslim plants a tree, but he has the reward of charity for him, for what is eaten out of that is charity; what is stolen out of that, what the beasts eat out of that, what the birds eat out of that is charity for him. (In short) none incurs a los! k to him but it becomes a charity on his part.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ کَافِرٌ فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ فَقَالَ لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْکُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْئٌ إِلَّا کَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ام مبشر انصاریہ ؓ کے پاس اس کے باغ میں تشریف لے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا یہ باغ مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے؟ تو اس نے کہا مسلمانوں نے تو آپ ﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کوئی پودا لگائے یا کھیتی کاشت کرے اور اس سے انسان یا جانور یا کوئی بھی کھائے تو اس کے لئے صدقہ کا ثواب ہوگا۔
Jabir (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ visited Umm Mubashshir al-Ansariya at her orchard of date-palms and said to her: Who has planted these trees of dates-a Muslim or a non-Musim? She said: A Muslim, of course, whereupon he said: Never a Muslim plants, or cultivates a land, and it out of that men eat, or the animals eat, or anything else eats, but that becomes charity on his (planters) behalf.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا زَرْعًا فَيَأْکُلَ مِنْهُ سَبُعٌ أَوْ طَائِرٌ أَوْ شَيْئٌ إِلَّا کَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ و قَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ طَائِرٌ شَيْئٌ
محمد بن حاتم، ابن ابی خلف، روح، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا پودا لگانے والا کوئی ایسا مسلمان نہیں اور کھیتی کرنے والا کہ اس سے درندے یا پرندے یا اور کوئی کھائے مگر یہ کہ اس میں اس لگانے والے کے لئے ثواب ہوگا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ saying: Never does a Muslim plant, or cultivate, but has reward for him for what the beasts eat, or the birds eat or anything else eats out of that.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا فَقَالَ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ کَافِرٌ فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ قَالَ فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا فَيَأْکُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا کَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
احمد بن سعید بن ابراہیم، روح بن عبادہ، زکریا بن اسحاق، عمر بن دینار، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ام معبد ؓ کے پاس باغ میں تشریف لے گئے تو فرمایا اے ام معبد! یہ کھجور کا درخت مسلمان نے لگایا ہے کافر نے۔ اس نے کہا مسلمان نے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان بھی کوئی پودا لگائے اور اس سے انسان اور چوپائے اور پرندے جو بھی کھائیں تو اس لگانے والے کے لئے قیامت کے دن تک صدقہ کا ثواب ہوگا۔
Jabir binAbdullah (RA) reported: Allahs Apostle ﷺ visited the orchard of Umm Masud and said: Umm Mabad. he who has planted this tree, is he a Muslim or a non-Muslim? She said: Of course, he is a Muslim, whereupon he (the Holy Prophet) said: No Muslim who plants (trees) and from their fruits the human beings or the beasts or birds eat, but that would be taken as an act of charity on the Day of Resurrection.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَمَّارٍ ح وَأَبُو کُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَا عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنْ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَقَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ رُبَّمَا قَالَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ وَکُلُّهُمْ قَالُوا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَائٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابی معاویہ، عمرو ناقد، عمار بن محمد، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل، اعمش، ابی سفیان، جابر، عمار، ابوکریب، ابی معاویہ، ام مبشر، ابن فضیل، امراہ زید بن حارثہ، اسحاق، ابی معاویہ، ام مبشر اوپر والی حدیث کی چار اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith is transmitted on the authority of Abu Muawiya (but With a slight change of words).
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْکُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا کَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، محمد بن عبیدالغبری، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی پودا لگائے یا کھیتی کاشت کرے اور اس سے پرندے یا انسان یا جانور کھائی تو یہ اس لگانے والے کے لئے صدقہ ہوگا۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying Never does a Muslim plant trees or cultivate land and birds or a man or a beast eat out of them but that is a charity on his behalf.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ کَافِرٌ قَالُوا مُسْلِمٌ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
عبد بن حمید، مسلم بن ابراہیم، ابن یزید، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ انصار میں سے ایک عورت ام مبشر ؓ کے باغ میں تشریف لے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس باغ کو مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے تو انہوں نے کہا مسلمان نے باقی حدیث گزر چکی۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ visited the date-palms of Umm Mubashshir (Allah be pleased with her), a lady from the Ansar, and said: Who planted this palm-a Muslim or an unbelievers The rest of the hadith is the same.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيکَ ثَمَرًا ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيکَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَکَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيکَ بِغَيْرِ حَقٍّ
ابوطاہر، ابن وہب، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو نے اپنے بھائی کو پھل فروخت کردیا اور اس پھل کو کوئی آسمانی آفت لاحق ہوگئی تو تیرے لئے اس سے کوئی بدلہ و عوض لینا جائز نہیں تو اپنے بھائی کا مال بغیر کسی حق کے کس چیز کے بدلے حاصل کرے گا؟
Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ saying: If You sell fruits to your brother (and Jabir bin Ahduthh reported through another chain of narrators: If you were to sell fruits to your brother) and these is a stricken with Calamity, it is not permissible for you to get anything from him. Why do you get the wealth of your brother, without jutification?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
حسن حلوانی، ابوعاصم، ابن جریج اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters.
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّی تَزْهُوَ فَقُلْنَا لِأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ أَرَأَيْتَکَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيکَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، حمید، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کھجور کی بیع سے منع کیا یہاں تک کہ رنگ نہ پکڑے راوی کہتے ہیں میں نے حضرت انس ؓ سے کہا رنگ آنے کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا اس کا سرخ یا زرد ہوجانا آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ پھل کو روک لے تو تو اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض حلال کرے گا۔
Anas (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ forbade the sale of the fruit of date-palms until it becomes mellow. We (some of the other narrators in the chain of transmitters) said: What does the word" mellow" mean? He said: (There the fruit) turns red or yellow. Dont you see if Allah had checked (the growth of) fruits; then what for the wealth of your brother would be permissible for you?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّی تُزْهِيَ قَالُوا وَمَا تُزْهِيَ قَالَ تَحْمَرُّ فَقَالَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيکَ
ابوطاہر، ابن وہب، مالک، حمید طویل، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کی بیع سے منع کیا یہاں تک کہ رنگ نہ آجائے صحابہ ؓ نے عرض کیا تز ہی کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کا سرخ ہوجانا اور فرمایا جب اللہ پھل کو روک لے تو پھر تو کس چیز کے بدلے اپنے بھائی کا مال حلال کرے گا؟
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade the sale of fruits until these are mellow. They (the companions of Anas) said: What is meant by" mellow"? He said: It implies that these became red. He said: When Allah hinders the growth of fruits, (then) what for the wealth of your brother would become permissible for you?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِيهِ
محمد بن عباد، عبدالعزیز بن محمد، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ اس درخت پر پھل نہ لگائے تو پھر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کیسے حلال کرے گا۔
Anas (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If Allah does not fructify them, then what is permissible for one of you to take the wealth of his brother?
درخت لگانے اور کھیتی باڑی کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ وَهُوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا
بشربن حکم، ابراہیم بن دینار، عبدالجبار بن العلاء، سفیان بن عیینہ، حمید اعرج، سلیمان بن عتیق، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آفات کی وجہ سے نقصان ہونے کو وضع کرنے کا حکم دیا۔
Jabir (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ commanded to make deductions in the payment of that stricken with a Calamity.
قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَکَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِکَ وَفَائَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَکُمْ إِلَّا ذَلِکَ
قتیبہ بن سعید، لیث، بکیر، عیاض بن عبداللہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک آدمی کو پھلوں میں نقصان ہوا جو اس نے خریدے تھے اور اس کا قرض زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن یہ رقم اس کے قرض کو پورا کرنے کے برابر نہ پہنچ سکی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو تم کو مل جائے وہ حاصل کرو اور تمہارے لئے صرف یہی ہے جو اس کے پاس تھا۔
Abu Said al-Khudri (Allah be pleeased with him) reported that in the time of Allahs Messenger ﷺ a man suffered loss in fruits he had bought and his debt increased; so Allahs Messenger ﷺ told (the people) to give him charity and they gave him charity, but that was not enough to pay the debt in full, whereupon Allahs Messenger ﷺ said to his creditors:" Take what you find, you will have nothing but alms.