کھیتی باڑی کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 24 · 178 hadiths · Page 2 of 9

3982Sahih Muslim

قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمر بن حارث، بکیر بن اشج اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Bukair bin al-Ashajj with the same chain of transmitters

3983Sahih Muslim

قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْئٍ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَی اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَهُ أَيُّ ذَلِکَ أَحَبَّ

اسماعیل بن ابی اویس، سلیمان ابن بلال، یحییٰ بن سعید، محمد بن عبدالرحمن، ام عمرہ بنت عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے میں جھگڑنے والوں کی آواز سنی اور دونوں کی آواز بلند تھی ان میں ایک دوسرے سے معافی اور کچھ نرمی کے لئے کہہ رہا تھا دوسرا کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ پر قسم کھا کر کہنے والا کہاں ہے جو کہتا ہے کہ وہ نیکی نہیں کرے گا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں ہوں اور اسی کو اختیار ہے جو اس کو پسند ہو کرے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ heard the voices of altercation of two disputants at the door; both the voices were quite loud. The one demanded some remission and desired that the other one should show leniency to him, whereupon the (other one) was saying: By Allah will not do that. Then there came Allahs Messenger ﷺ to them and said: Where is he who swears by Allah that he would not do good? He said: Massenger of Allah, it is I. He may do as he desires.

3984Sahih Muslim

قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا کَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّی سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَی کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ يَا کَعْبُ فَقَالَ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعْ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِکَ قَالَ کَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ فَاقْضِهِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن کعب بن مالک، حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اس نے ابوحدرد کے بیٹے سے اس قرض کا مطالبہ مسجد میں کیا جو اس پر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا اور ان کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر میں ان کی آوازوں کو سنا آپ ﷺ ان کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے حجرہ کا پردہ اٹھایا اور کعب بن مالک کو آواز دی اور فرمایا اے کعب! اس نے کہا حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض میں سے آدھا کم کردو کعب نے عرض کیا تحقیق میں نے ایسا کردیا اے اللہ کے رسول ﷺ، رسول اللہ ﷺ نے مقروض سے فرمایا اٹھو اور ان کا قرض ادا کردو۔

Abdullah bin Kaab bin Malik reported from his father that he pressed in the mosque Ibn Abu Hadrad for the payment of the debt that he owed to him during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . (In this altercation) their voices became loud, until Allahs Messenger ﷺ heard them, while he was in the house, so Allahs Messenger ﷺ came out towards them, and he lifted the curtain of his apartment and he called upon Kab bin Malik and said: O Kab. He said: At thy beck and call, Allahs Messenger. He pointed out with the help of his hand to remit half of the loan due to him. Kab said: Allahs Messenger, I am ready to do that, whereupon Allahs Messenger ﷺ said (to Ibn Abu Hadrad): Stand up and make him the payment (of the rest).

3985Sahih Muslim

قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَی دَيْنًا لَهُ عَلَی ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ

اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن عمر، یونس، زہری، حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ کعب ؓ نے اپنے قرض کا مطالبہ کیا جواب حدرد کے بیٹے پر تھا باقی حدیث گزر چکی۔

The above hadith is narrated through another chain with a slight variation of words at the begining and the rest is of the hadith is the same.

3986Sahih Muslim

قرض میں سے کچھ معاف کردینے کے استح کے بیان میں

قَالَ مُسْلِم وَرَوَی اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ کَانَ لَهُ مَالٌ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَکَلَّمَا حَتَّی ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا کَعْبُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ کَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَکَ نِصْفًا

مسلم، لیث ابن سعد، جعفر بن ربیعہ، عبدالرحمن بن ہرمز، عبداللہ بن کعب، حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابوحدرد اسلمی پر قرض تھا وہ اس سے ملے تو اسے پکڑ لیا اور دونوں میں گفتگو شروع ہوگئی یہاں تک کہ آوازیں بلند ہوگئیں رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا اے کعب اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا گویا کہ آپ ﷺ نصف کا فرما رہے ہیں میں نے اپنے قرض میں سے آدھا وصول کرلیا اور آدھا چھوڑ دیا۔

Kab bin Malik reported that he made a demand for the payment of the debt that Ibn Abu Hadrad owed to him. This hadith is narrated through another chain of transmitters and (the words are):" He had to get the loan fromAbdullah bin Hadrad al-Aslami. He met him and pressed him for payment. There was an altercation between them, until their voices became loud. There happened to pass by them Allahs Messenger ﷺ and he said: O Kab, and pointed out with his hand in such a way as he meant half. So he got half of what he (Ibn Abu Hadrad) owed to him and remitted the half."

3987Sahih Muslim

جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز خریدار مفلس کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَکَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، یحییٰ بن سعید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، عمر بن عبدالعزیز، ابابکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس آدمی نے اپنا مال بعینہ اس آدمی کے پاس پایا جو غریب ہوگیا ہے یا اس انسان کے پاس جو غریب ہوگیا ہے تو وہ دوسروں سے زیادہ اس مال کا حقدار ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who found his property intact with a person (who bought it but who later on) became insolvent (or a person who became insolvent), he (the seller) is entitled to get it more than anyone else.

3988Sahih Muslim

جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز خریدار مفلس کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَيَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ زُهَيْرٍ و قَالَ ابْنُ رُمْحٍ مِنْ بَيْنِهِمْ فِي رِوَايَتِهِ أَيُّمَا امْرِئٍ فُلِّسَ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم، قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، ابوربیع، یحییٰ بن حبیب حارثی، حماد بن زید، ابوبکر بن ابی شیبہ، سفییان بن عیینہ، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، حفص بن غیاث، یحییٰ بن سعید اس حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں اس میں ہے جس آدمی کو غریب قرار دے دیا گیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Yahya bin Said with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words and these are)" Whenever a man becomes poor."

3989Sahih Muslim

جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز خریدار مفلس کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ عِکْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ عَنْ حَدِيثِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي يُعْدِمُ إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ وَلَمْ يُفَرِّقْهُ أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ

ابن ابی عمر، ہشام بن سلیمان، ابن عکرمہ بن خالد مخزومی، ابن جریج، ابن ابی حسین، ابابکربن محمد بن عمرو بن حزم، عمر بن عبدالعزیز، ابی بکربن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جو نادار مفلس ہوگیا ہو اگر اس کے پاس بائع (بچنے والا) اپنی متاع و اسباب اسی طرح پاس پائے جس میں اس نے تصرف نہ کیا ہو تو وہ اسی کے لئے ہے جس نے اس کو بیچا تھا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ saying about a person who becomes insolvent and (the thing bought by him) is found intact with him, that belongs to one who sold it.

3990Sahih Muslim

جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز خریدار مفلس کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، قتادہ، نضر بن انس، بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی آدمی مفلس ونادار ہوجائے اور بائع (بچنے والا) اس کے پاس اپنا مال بعینہ پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When a man becomes insolvent (and the other) man (the seller) finds his commodity intact with him, he is more entitled to get it (than anyone else)

3991Sahih Muslim

جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز خریدار مفلس کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَيْضًا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ الْغُرَمَائِ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، سعید، زہیر بن حرب، معاذ بن ہشام، حضرت قتادہ ؓ سے بھی ان اسناد کے ساتھ روایات ہے اس میں یہ ہے کہ وہی اور قرض خواہوں سے اس کا زیادہ حقدار ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters (but with a change of these words):" He is more entitled to get it than any other creditor."

3992Sahih Muslim

جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز خریدار مفلس کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ حَجَّاجٌ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا

محمد بن احمد بن ابی خلف، حجاج، منصور بن سلمہ، سلیمان بن بلال، خثیم بن عراک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی آدمی مفلس ونادار ہوجائے اور قرض خواہ آدمی اپنا مال و سامان اس کے پاس بعنیہ پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When a inan becomes insolvent, and the other person (seller) finds his goods intact with him, he is more entitled to get them than anyone else.

3993Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّتْ الْمَلَائِکَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ مِنْ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ لَا قَالُوا تَذَکَّرْ قَالَ کُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ وَيَتَجَوَّزُوا عَنْ الْمُوسِرِ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَوَّزُوا عَنْهُ

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، منصور ربعی بن حراش، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح سے فرشتوں نے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کیا تو نے کوئی نیک عمل کیا ہے اس نے کہا نہیں انہوں نے کہا یاد کر اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیتا تو اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ تنگ دست کو مہلت دو اور مالدار سے درگزر کرو اللہ تبارک وتعالی نے فرشتوں سے فرمایا تم بھی اس سے درگزر کرو۔

Hudhaifa reported Allahs Messenger ﷺ as saying The angels took away the soul of a person who had lived among people who were before you. They (the angels) said: Did you do anything good? He said: No. they said: Try to recall. He said: I used to lend to people and order my servants to give respite to one in straitened circumstances and give allowance to the solvent, for Allah, the Exalted and Majestic, said (to the angels): You should ignore (his failing).

3994Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ رَجُلٌ لَقِيَ رَبَّهُ فَقَالَ مَا عَمِلْتَ قَالَ مَا عَمِلْتُ مِنْ الْخَيْرِ إِلَّا أَنِّي کُنْتُ رَجُلًا ذَا مَالٍ فَکُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ فَکُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ وَأَتَجَاوَزُ عَنْ الْمَعْسُورِ فَقَالَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَکَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ

علی بن حجر، اسحاق بن ابراہیم، ابن حجر، جریر، مغیرہ، نعیم بن ابی ہند، حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ اور ابومسعود ؓ جمع ہوئے تو حذیفہ ؓ نے کہا ایک آدمی کی اپنے رب سے ملاقات ہوئی تو اللہ نے فرمایا تو نے کیا عمل کیا اس نے کہا میں نے کوئی عمل نیکی سے نہیں کیا سوائے اس کے کہ میں مالدار آدمی تھا اور میں لوگوں سے اپنے مال کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے وصول کرلیتا اور تنگ دست سے درگزر کرتا تو اللہ نے فرمایا تم میرے بندے سے درگزر کرو ابومسعود نے فرمایا میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنا۔

Hudhaifa reported: A person met his Lord (after death) and He said: What (good) did you do? He said: I did no good except this that I was a rich man, and I demanded from the people (the repayment of debt that I advanced to them). I, however, accepted that which the solvent gave and remitted (the debt) of the insolvent, whereupon He (the Lord) said: You should ignore (the faults) of My servant. Abu Masud (RA) said: This is what I heard Allahs Messenger ﷺ as saying.

3995Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَقِيلَ لَهُ مَا کُنْتَ تَعْمَلُ قَالَ فَإِمَّا ذَکَرَ وَإِمَّا ذُکِّرَ فَقَالَ إِنِّي کُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَکُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّکَّةِ أَوْ فِي النَّقْدِ فَغُفِرَ لَهُ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر، ربعی بن حراش، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی مرگیا اور جنت میں داخل ہوا تو اسے کہا گیا تو کیا عمل کیا کرتا تھا اسے یاد آیا یا یاد کرایا گیا تو اس نے کہا میں لوگوں کو مال فروخت کرتا تھا اور میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکوں کے پر کھنے یا نقد میں درگزر کرتا تھا تو اس کی مغفرت کردی گئی حضرت ابومسعود ؓ نے فرمایا میں نے بھی یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا۔

Hudhaifa (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A person died and he entered Paradise. It was said to him What (act) did you do? (Either he recalled it himself or he was made to recall), he said I used to enter into transactions with people and I gave respite to the insolvent and did not show any strictness in case of accepting a coin or demanding cash payment. (For these acts of his) he was granted pardon. Abu Masud said: I heard this from Allahs Messenger ﷺ .

3996Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَقَالَ لَهُ مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا قَالَ وَلَا يَکْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا قَالَ يَا رَبِّ آتَيْتَنِي مَالَکَ فَکُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَکَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ فَکُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَی الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْکَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ هَکَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوسعید اشج، ابوخالد احمر، سعد بن طارق، ربعی بن حراش، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اللہ کے بندوں میں سے ایک آدمی لایا گیا جسے اللہ نے مال عطاء کیا تھا اللہ نے اس سے کہا تو نے دنیا میں کیا عمل کیا اور بندے اللہ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے تو اس نے کہا اے میرے رب تو نے مجھے اپنا مال عطا کیا تو میں لوگوں کو بیچتا تھا اور درگزر کرنا میری عادت تھی اور میں مالدار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تو اللہ عز وجل نے فرمایا میں اس کا تجھ سے زیادہ حقدار ہوں اور میرے بندے سے درگزر کرو عقبہ بن عامر جہنی ؓ اور ابومسعود انصاری ؓ نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے اسی طرح سنا۔

Hudhaifa (RA) reported: A servant from amongst the servants of Allah was brought to Him whom Allah had endowed with riches. He (Allah) said to him: What (did you do) in the world? (They cannot conceal anything from Allah) He (the person) said: O my Lord, You endowed me with Your riches. I used to enter into transactions with people. It was my nature to be lenient to (my debtors). I showed leniency to the solvent and gave respite to the insolvent, whereupon Allah said: I have more right than you to do this to connive at My servant. Uqba bin Amir al-Juhani and Abu Masud said: This is what we heard from Allahs Messenger ﷺ

3997Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنْ الْخَيْرِ شَيْئٌ إِلَّا أَنَّهُ کَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَکَانَ مُوسِرًا فَکَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنْ الْمُعْسِرِ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِکَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے آدمیوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کے پاس لوگوں میں گھل مل کر رہنے کے سوا کوئی نیکی نہ پائی گئی اور وہ مالدار آدمی تھا اور اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں اور اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ہم اس بات کے اس سے زیادہ حقدار ہیں تم بھی اس سے درگزر کرو۔

Abu Masud (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A person from people who lived before you was called to account (by Allah at the Day of Judgment) and no good was found in his account except this that lie being a rich man had (financial) dealings with people and had commanded his servants to show leniency to the straitened ones. Upon this Allah, the Exalted and Majestic, said: We have more right to this, so overlook (his faults).

3998Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ و قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ فَکَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ

منصور بن بن ابی مزاحم، محمد بن جعفر بن زیاد، منصور، ابراہیم ابن سعد، زہری، ابن جعفر، ابراہیم ابن سعد، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک آدمی لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے ملازم سے کہتا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس جائے تو اس سے درگزر کرنا شاید اللہ ہم سے درگزر کرے وہ اللہ سے ملا بعد از وفات تو اللہ نے اس سے درگزر فرمایا اور بخش دیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There was a person who gave loans to the people and said to his men: When an insolvent comes to you show him leniency that Allah may overlook our (faults). So when he met Allah, He overlooked his faults (forgave him).

3999Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔

A hadith like this is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) .

4000Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الْهَيْثَمِ خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ بْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَی عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ فَقَالَ إِنِّي مُعْسِرٌ فَقَالَ آللَّهِ قَالَ آللَّهِ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ

ابوہثیم، خالد بن خداش بن عجلان، حماد بن زید، ایوب، یحییٰ بن ابی کثیر، حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوقتادہ ؓ نے اپنے ایک قرض دار سے قرض کا مطالبہ کیا تو وہ ان سے چھپ گیا پھر اسے ملے تو اس نے کہا میں تنگ دست ہوں اب قتادہ نے کہا اللہ کی قسم! اس نے کہا اللہ کی قسم! ابوقتادہ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس کو یہ پسند ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے تو چاہئے کہ وہ مفلس کو مہلت دے یا اسے معاف کر دے۔

Abdullah bin Abu Qatida reported that Abu Qatadah (RA) (RA) demanded (the payment of his debt) from his debtor but he disappeared; later on he found him and he said: I am hard up financially, whereupon he said: (Do you state it) by God? He said: By God. Upon this he (Qatada) said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who loves that Allah saves him from the torments of the Day of Resurrection should give respite to the insolvent or remit (his debt)

4001Sahih Muslim

تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوطاہر، ابن وہب، جریر بن حازم، ایوب اس حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.