مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے وغیرہ کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، زید بن عبداللہ، عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق، نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی چاندی کے برتن میں پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں غٹا غٹ دوزخ کی آگ بھر رہا ہے۔
Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , said: He who drinks in the vessel of silver in fact drinks down in his belly the fire of Hell.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے وغیرہ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ بِإِسْنَادِهِ عَنْ نَافِعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ الَّذِي يَأْکُلُ أَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ذِکْرُ الْأَکْلِ وَالذَّهَبِ إِلَّا فِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ
قتیبہ، محمد بن رمح، لیث بن سعد، علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن علیہ، ایوب، ابن نمیر، محمد بن بشر، محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ولید بن شجاع، علی بن مسہر، عبیداللہ محمد بن ابی بکر مقدمی، فضیل بن سلیمان، موسیٰ بن عقبہ، شیبان بن فروخ، جریر، ابن حازم، عبدالرحمن، سراج، نافع، مالک بن انس، نافع، علی بن مسہر، عبیداللہ ان ساری سندوں کے ساتھ حضرت نافع ؓ سے روایت نقل کی گئی ہے اور حضرت علی بن مسہر کی روایت میں حضرت عبیداللہ ؓ سے یہ الفاظ زائد نقل کئے گئے ہیں کہ جو آدمی چاندی اور سونے کے برتنوں میں کھاتا ہو یا پیتا ہو اور ابن مسہر کی روایت کے علاوہ کھانے اور سونے کے برتنوں کا کسی بھی روایت میں ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah through other chains of transmitters: He who eats or drinks in the vessel of silver and gold, - but there is no mention in any one of them of the words pertaining to eating and gold.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے وغیرہ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَّاشِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ فِي إِنَائٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا مِنْ جَهَنَّمَ
زید بن یزید، ابومعن رقاشی، ابوعاصم، عثمان بن مرہ، حضرت سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں غٹا غٹ دوزخ کی آگ بھرتا ہے۔
Abdul Rahman reported on the authority of his mothers sister Umm Salamah who said that Allahs Messenger ﷺ said: He who drank in vessels of gold or silver he in fact drank down in his belly the fire of Hell.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوْ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِفْشَائِ السَّلَامِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ وَعَنْ الْمَيَاثِرِ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوخثیمہ، اشعث بن ابی شعشاء، احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، اشعث، حضرت معاویہ بن سوید بن مقرن ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت براء بن عازب ؓ کے پاس گیا تو میں نے ان سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم فرمایا اور سات چیزوں سے منع فرمایا جن سات چیزوں کے کرنے کا آپ ﷺ نے حکم فرمایا (وہ یہ ہیں) (1) بیمار کی عیادت کرنا (2) جنازہ کی ساتھ جانا (3) چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا (4) قسم پوری کرنا، (5) مظلوم کی مدد کرنا (6) دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنا (7) سلام کو پھیلانا۔ اور جن چیزوں سے آپ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا (وہ یہ ہیں) (1) سونے کی انگوٹھی پہننا (2) چاندی کے برتن میں پینا (3) ریشمی گدوں پر بیٹھنا (4) قسی کے کپڑے پہننا (ریشمی کیڑے کی ایک قسم ہے) (5) ریشمی کپڑا پہننا (6) استبرق پہننا (7) دیباج پہننا۔
Muawiyah bin Suwaid bin Muqarrin reporxed: I visited al-Bara bin Azib (RA) and heard him say: Allahs Messenger ﷺ commanded us to do seven things and forbade us to do seven (things). He commanded us to visit the sick, to follow the funeral procession, to answer the sneezer, to fulfil the vow, to help the poor, to accept the invitation and to greet everybody, and he forbade us to wear rings or gold rings, to drink in silver (vessels), and to use the saddle cloth made of red silk, and to wear garments made of Qassi material, or garments made of silk or brocade and velvet.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوْ الْمُقْسِمِ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَکَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ
ابوربیع عتکی، ابوعوانہ، اشعث بن سلیم، حضرت اشعث بن سلیم ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت ہے لیکن اس حدیث میں قسم پوری کرنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ گمشدہ چیز کو تلاش کروانے کا ذکر ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ashath bin Sulaim with the same chain of transmitters but with a slight change of wording that he made no mention of:" to fulfil the vows" but substituted these words:" finding of the lost articles".
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ مِنْ غَيْرِ شَکٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَعَنْ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، شیبانی، اشعث بن ابی شعثاء، زہیر، حضرت اشعث بن شعثاء ؓ سے اس سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں انہوں نے قسم پوری کرنے کا بغیر شک کے کہا ہے اور اس حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ چاندی کے برتنوں میں پینے سے منع فرمایا ہے کیونکہ جو آدمی دنیا میں چاندی کے برتنوں میں (کوئی چیز) پیتا ہے وہ آدمی آخرت میں چاندی کے برتنوں میں کوئی چیز نہیں پی سکے گا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ashath bin Abu ashShatha with the same chain of transmitters (and with these words): There is no doubt about the words: To fulfil the vows were mentioned and this addition had been made in the. hadith: (The Holy Prophet) forbade drinking in silver vessels, for one who drinks (in them) in this world would not drink (in them) in the Hereafter.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ بِإِسْنَادِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ و
ابوکریب، ابن ادریس، ابواسحاق شیبانی، لیث بن ابی سلیم، اشعث بن ابی شعثاء، جریر، ابن مسہر، حضرت اشعث ؓ بن شعثاء سے ان ہی سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں جریر اور ابن مسہر کے روایت کردہ زائد الفاظ کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ashath bin Abu ashShatha with the same chain of transmitters (and with these words): There is no doubt about the words: To fulfil the vows were mentioned and this addition had been made in the. hadith: (The Holy Prophet) forbade drinking in silver vessels, for one who drinks (in them) in this world would not drink (in them) in the Hereafter.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنِي بَهْزٌ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَی حَدِيثِهِمْ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِفْشَائِ السَّلَامِ فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلَامِ وَقَالَ نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، عبیداللہ بن معاذ، ابواسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، عبدالرحمن بن بشر، بہز، شعبہ، حضرت اشعث بن سلیم ؓ سے انہی سندوں کے ساتھ اور انہیں احایث کے معنی کے مطابق روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں سلام پھیلانے کے الفاظ کے بدلہ میں سلام کا جواب دینے کا ذکر نہیں اور یہ بھی نہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں سونے یا چاندی کے چھلے کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ashath bin Sulaim with the same chain of transmitters but with this difference that instead of the words: Ifsha as-Salam (spreading the salutations), he substituted the words Radd as-Salam (i. e. responding to the words of salutation) and he said: He forbade (the use of) gold ring.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ بِإِسْنَادِهِمْ وَقَالَ وَإِفْشَائِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ مِنْ غَيْرِ شَکٍّ
اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن آدم، عمرو بن محمد، سفیان، حضرت اشعث بن شعثاء ؓ سے انہی سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں سلام کے پھیلانے اور چاندی کی انگوٹھی کے الفاظ بغیر شک کے ذکر کئے گئے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Ashath bin Sulaim with the same chain of transmitters but the words (pertaining to) Ifsha as-Salam and the (use) of silver ring have been reported without doubt.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ سَمِعْتُهُ يَذْکُرُهُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُکَيْمٍ قَالَ کُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَی حُذَيْفَةُ فَجَائَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَائٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنِّي أُخْبِرُکُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَائِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَکُمْ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحاق بن محمد بن اشعث بن قیس، سفیان بن عیینہ، ابی فروہ، حضرت عبداللہ بن عکیم ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ ؓ کے ساتھ علاقہ مدائن میں تھے تو حضرت حذیفہ ؓ نے پانی طلب کیا اس علاقہ کا ایک آدمی چاندی کے برتن میں پانی لے آیا حضرت حذیفہ نے وہ پانی پھینک دیا اور فرمایا کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ میں تمہیں حکم دے چکا تھا کہ مجھے چاندی کے برتن میں نہ پلانا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی دبیاج اور ریشم کا کپڑا پہنو کیونکہ یہ کافروں کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں قیامت کے دن۔
Abdullah bin Ukaim reported: While we were with Hudhaifa in Madain he asked for water. A villager brought a drink for him in a silver vessel. He (Hudhaifa) threw it away saying: I inform you that I have already conveyed to him that he should not serve me drink in it (silver vessel) for Allahs Messenger ﷺ had said: Do not drink in gold and silver vessels, and do not wear brocade or silk, for these are meant for them (the non-believers) in this world, but they are meant for you in the Hereafter on the Day, of Resurrection.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُکَيْمٍ يَقُولُا کُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابن ابی عمر، سفیان، ابی فروہ جہنی، عبداللہ بن عکیم ؓ فرماتے ہیں کہ ہم علاقہ مدائن میں حضرت حذیفہ ؓ کے پاس تھے اور پھر باقی حدیث مذکورہ حدیث کی طرح نقل کی اور اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Abdullah bin Ukaim with a slight variation of wording.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوَّلًا عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ حُذَيْفَةَ ثُمَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ حُذَيْفَةَ ثُمَّ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُکَيْمٍ فَظَنَنْتُ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَی إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ عُکَيْمٍ قَالَ کُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عبدالجبار بن علاء، سفیان، ابن ابی نجیح، مجاہد ابن ابی لیلی، حذیفہ، یزید، ابوفروہ، عبداللہ بن عکیم، ابی لیلی، حضرت ابن عکیم ؓ فرماتے ہیں کہ ہم مدائن کے علاقہ میں حضرت حذیفہ ؓ کے ساتھ تھے اور پھر اسی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of ibn Ukaim through another chain of transmitters, but in this hadith no mention is made of the words:, On the Day of Resurrection"
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَی قَالَ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَی بِالْمَدَائِنِ فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَائٍ مِنْ فِضَّةٍ فَذَکَرَهُ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُکَيْمٍ عَنْ حُذَيْفَةَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابی شعبہ، حکم، عبدالرحمن ابن ابی لیلی، حضرت عبدالرحمن ؓ بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ ؓ کے ساتھ علاقہ مدائن میں موجود تھا کہ انہوں نے پانی طلب کیا تو ایک آدمی چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا پھر آگے ابن عکیم عن حذیفہ ؓ کی طرح حدیث ذکر کی۔
Shubah reported from al-Hakam that he heard Abdul Rahmin (i. e. Ibn Abu Laila) as saying: I personally saw Hudhaifa asking for water in Madain and a man giving it to him in a silver vessel. The rest of the hadith is the same.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَإِسْنَادِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ غَيْرُ مُعَاذٍ وَحْدَهُ إِنَّمَا قَالُوا إِنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، عبدالرحمن بن بشر، بہز، شعبہ، معاذ، حضرت شعبہ ؓ سے حضرت معاذ ؓ کی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے اور حضرت معاذ کے علاوہ کسی نے بھی اپنی روایت میں یہ بیان نہیں کیا کہ میں حضرت حذیفہ کے ساتھ موجود تھا بلکہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے پانی طلب کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah through another chain of transmitters. but there is no mention of the fact: , I personally saw him" in this hadith.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ کِلَاهُمَا عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَنْ ذَکَرْنَا
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت حذیفہ ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیثوں کی طرح ذکر کیا۔
This hadith has been reported on the authority of Hudhaila with the same chain of transmitters.
مردوں اور عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کی حرمت اور مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم کی حرمت اور عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی اور ریشم پہننے کے جواز میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَی قَالَ اسْتَسْقَی حُذَيْفَةُ فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فِي إِنَائٍ مِنْ فِضَّةٍ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْکُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، سیف، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ؓ نے پانی طلب کیا تو ایک مجوسی آدمی چاندی کے برتن میں پانی لے آیا تو تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم ریشم نہ پہنو اور نہ ہی دیباج پہنو اور تم سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافر کے لئے ہیں۔
Abdul Rahmin bin Abu Laili reported that Hudhaifa asked for water and a Magian gave him water in a silver vessel, whereupon he said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not wear silk or brocade and do not drink ifi vessels of gold and silver, and do not eat in the dishes made of them (i. e. gold and silver), for these are for them (the non-believers) in this world.
مردوں کے لئے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَی حُلَّةً سِيَرَائَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَی عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أَکْسُکَهَا لِتَلْبَسَهَا فَکَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِکًا بِمَکَّةَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر، عمر بن خطاب، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے مسجد کے دراوزے کے پاس ایک ریشمی کپڑے کا جوڑا دیکھا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ کاش کہ آپ ﷺ یہ جوڑا خرید لیتے تاکہ آپ ﷺ اسے جمعہ کے دن پہنیں اور جب کوئی وفد باہر سے آپ ﷺ کے پاس آئے تو اس وقت یہ پہن لیا کریں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ریشمی جوڑا تو وہ آدمی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس اس طرح کے بہت سے ریشمی جوڑے آئے تو آپ ﷺ نے اس میں سے ایک جوڑا حضرت عمر ؓ کو عطا فرمایا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ ہی یہ جوڑا پہنا رہے ہیں اور آپ ﷺ ہی نے اس طرح کا جوڑا بیچنے والے کے بارے میں اس طرح فرمایا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تجھے یہ جوڑا اس کے لئے نہیں دیا تھا کہ تو اسے پہنے تو حضرت عمر ؓ نے وہ جوڑا اپنے مشرک بھائی کو جو کہ مکہ میں تھا دیا۔
Ibn Umar (RA) reported that Umar bin Khattab saw (some one selling) the garments of silk at the door of the mosque, whereupon he said: Allahs Messenger, would that you buy it and wear it for the people on Friday and for (receiving) the delegations when they come to you? Upon this. Allahs Messenger ﷺ said: go who wears it has no share (of reward) in the Hereafter. Then these garments were sent to Allah" s Messenger ﷺ , and he presented one of these silk garment to Umar. Thereupon Umar said: You make me wear (this silk garment) Whereas you said about the silk garment of Utarid (the person who had been busy selling this garment at the door of the mosque) what you had to say, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: I have not presented you this for wearing it (but to make use of its price) ; so Umar presented it to his polytheist brother in Makkah.
مردوں کے لئے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِکٍ
ابن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، محمد بن ابوبکر مقدمی، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ، سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے مالک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters.
مردوں کے لئے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَی عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَائَ وَکَانَ رَجُلًا يَغْشَی الْمُلُوکَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَائَ فَلَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْکَ وَأَظُنُّهُ قَالَ وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَائَ فَبَعَثَ إِلَی عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَی أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ وَأَعْطَی عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً وَقَالَ شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِکَ قَالَ فَجَائَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْکَ لِتَلْبَسَهَا وَلَکِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْکَ لِتُصِيبَ بِهَا وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْکَرَ مَا صَنَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْکَ لِتَلْبَسَهَا وَلَکِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْکَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِکَ
شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عطارد تمیمی کو بازار میں (کپڑوں کا) ایک ریشمی جوڑا رکھے ہوئے دیکھا وہ ایک ایسا آدمی تھا کہ جو بادشاہوں کے پاس جاتا اور ان سے (مال وغیرہ) وصول کرتا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے عطارد کو دیکھا کہ اس نے بازار میں ایک ریشمی جوڑا بیچنے کے لئے رکھا ہوا ہے اگر آپ ﷺ اس جوڑے کو خرید لیں اور جب عرب کا کوئی وفد آپ ﷺ کی خدمت میں آیا کرے تو آپ ﷺ وہ جوڑا پہن لیا کریں راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن بھی پہن لیا کریں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا دنیا میں ریشم کا کپڑا وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ریشمی کپڑے کے چند جوڑے لائے گئے آپ ﷺ نے ایک جوڑا حضرت عمر ؓ کی طرف بھیج دیا اور ایک جوڑا حضرت اسامہ بن زید ؓ کی طرف بھیج دیا اور ایک جوڑا حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو عطا فرمایا اور آپ ﷺ نے فرمایا ان جوڑوں کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کی اوڑھنیاں بنا لینا راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ اس جوڑے کو اٹھا کر آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے اس جوڑے کو میری طرف بھیجا ہے حالانکہ آپ نے گزشتہ روز عطارد کے جوڑے کے بارے میں اس طرح فرمایا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر میں نے یہ جوڑا تیری طرف اس لئے نہیں بھیجا تاکہ تو اسے پہنے بلکہ میں نے یہ جوڑا تیری طرف اس لئے بھیجا تھا تاکہ تو اس سے فائدہ حاصل کرے اور حضرت اسامہ وہی ریشمی جوڑا پہن کر آپ کی خدمت میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کی طرف بڑے غور سے دیکھا جس کی وجہ سے حضرت اسامہ ؓ نے پہچان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ جوڑا پہننا ناپسند لگا ہے حضرت اسامہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں حالانکہ آپ ﷺ نے ہی تو یہ جوڑا میری طرف بھیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے یہ جوڑا تیری طرف اس لئے نہیں بھیجا تاکہ تو اسے پہنے بلکہ میں نے یہ جوڑا تیری طرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ تو اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے لئے اوڑھنیاں بنائے۔
Ibn Umar (RA) reported that Umar saw Utarid al-Tamimi standing in the market (and selling) the silk garments, and he was the person who went to (courts of) kings and got (high prices) for these garments from them. Umar said: Allahs Messenger I saw Utarid standing in the market with a silk garment; would that you buy and wear it for (receiving) the delegations of Arabs when they visit you? I (the narrator) said: I think he (Umar) also said: You may wear it on Friday (also). Thereupon, Allahs Messenger ﷺ said: He who wears silk in this world has no share in the Hereafter. Later on when these silk garments were presented to Allahs Massenger ﷺ he presented one silk garment to Umar and presented one also to Usama bin Zaid and gave one to Ali bin Abu Talib. saying: Tear them and make head coverings for your ladies. Umar came carrying his garment and said: Allahs Messenger, you have sent it to me, whereas you had said yesterday about the (silk) garment of Utarid what you had to say. He (the Holy Prophet) said: I have not sent it to you that you wear it, but I have sent It to you so that you may derive benefit out of it; and Usama (donned) the garment (presented to him) and appeared to be brisk, whereupon Allahs Apostle ﷺ looked at him with a look by which he perceived that the Messenger of Allah ﷺ did not like what he had done. He said: Allahs Messenger. why is it that you look at me like this. Whereas you yourself presented it to me? He said: I never sent it to you to wear it, but I sent It to you so that you may tear it and make out head covering for your ladies.
مردوں کے لئے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا فَأَتَی بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ قَالَ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّی أَتَی بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَکَ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے بازار میں ایک جوڑا پایا حضرت عمر ؓ اس جوڑے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ اس جوڑے کو خرید لیں تاکہ آپ ﷺ عید کے دن اور وفود سے ملاقات کے وقت پہن لیا کریں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تو ایسے آدمی کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمر ؓ کو اللہ نے جتنا چاہا ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کی طرف دبیاج کا ایک جبہ بھیجا حضرت عمر ؓ اس جبے کو لے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے تو اس لباس کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ لباس اس آدمی کا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں یا جو آدمی یہ لباس پہنتا ہے اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر آپ ﷺ نے یہ لباس میری طرف کیوں بھیجا ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا تو اس لباس کو بیچ دے اور اس کی قیمت سے اپنی ضرورت پوری کرلے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: Umar bin at-Khattab found a silk garment being sold in the market; he purchased it and brought it to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, get it and adorn yourself (by wearing it) on the Id (days) and for the delegation. Thereupon, Allahs Messenger ﷺ said: That is the dress of one who has no share (in the Hereafter). Umar stayed there so long as Allah wished. Then Allahs Messenger ﷺ sent him a silk cloak. Umar came back with that to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger. you said that it is the dress of one who has no share in the Hereafter, but then you sent it to me. Thereupon, Allahs Messenger ﷺ said: You sell it and meet your need (with its proceeds).