مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 6 · 408 hadiths · Page 1 of 21

1161Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَی قُلْتُ کَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً وَأَيْنَمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ وَفِي حَدِيثِ أَبِي کَامِلٍ ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ فَصَلِّهْ فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ

ابوکامل، عبدالواحد، اعمش، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ زمین میں سب سے پہلی کونسی مسجد بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد حرام میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد کونسی؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد اقصی میں نے عرض کیا ان دونوں مسجدوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا چالیس سال پھر جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لو وہی مسجد ہے۔

Abu Dharr (RA) reported: I said: Messenger of Allah, which mosque was set up first on the earth? He said: Al-Masjid al-Haram (the sacred). I (again) said: Then which next? He said: It was the Masjid Aqsa. I (again) said: How long the space of time (between their setting up)? He (the Holy Prophet) said: It was forty years. And whenever the time comes for prayer, pray there, for that is a mosque; and in the hadith transmitted by Abu Kamil (the words are): "Whenever time comes for prayer, pray, for that is a mosque (for you)."

1162Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ قَالَ کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَی أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَی قُلْتُ کَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الْأَرْضُ لَکَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ

علی بن حجر سعدی، علی بن مسہر، اعمش، حضرت ابراہیم بن یزید تیمی سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کو مسجد سے باہر سائبان میں قرآن سنایا کرتا تھا۔ جب میں سجدہ کی آیت پڑھتا تھا تو وہ سجدہ کرلیتے میں نے اپنے والد سے کہا اے ابا جان کیا آپ راستہ ہی میں سجدہ کرلیتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا زمین میں سب سے پہلی کونسی مسجد بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد حرام، میں نے عرض کیا پھر کونسی؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد اقصی، میں نے عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا چالیس سال کا، پھر ساری زمین تیرے لئے مسجد ہے جہاں تو نماز کا وقت پائے تو نماز پڑھ لے۔

Ibrahim bin Yazid al-Tayml reported: I used to read the Quran with my father in the vestibule (before the door of the mosque). When I recited the ayat (verses) concerning prostration, he prostrated himself. I said to him: Father, do you prostrate yourself in the path? He said: I heard Abu Dharr (RA) saying: I asked the Messenger of Allah ﷺ about the mosque that was first set up on the earth. He said: Masjid Haram. I said: Then which next? He said: The Masjid al-Aqsa. I said: How long is the space of time between the two? He said: Forty years. He (then) further said: The earth is a mosque for you, so wherever you are at the time of prayer, pray there.

1163Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي کَانَ کُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَی قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَی کُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّی حَيْثُ کَانَ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَيْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم، سیار، یزید فقیر، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں پہلے ہر نبی صرف خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں پہلے کسی نبی کے لئے مال غنیمت حلال نہیں ہوتا تھا وہ صرف میرے لئے حلال کردیا گیا ہے اور صرف میرے لئے تمام روئے زمین پاک اور مسجد بنادی گئی ہے لہذا جو آدمی جس جگہ بھی نماز کا وقت پائے وہاں نماز پڑھ لے اور میری ایسے رعب سے مدد کی گئی جو ایک ماہ کی مسافت سے طاری ہوجاتا ہے اور مجھ کو شفاعت عطا کی گئی۔

Jabir bin Abdullah al-Ansari reported: The Prophet ﷺ said: I have been conferred upon five (things) which were not granted to anyone before me (and these are): Every apostle was sent particularly to his own people, whereas I have been sent to all the red and the black. The spoils of war have been made lawful for me, and these were never made lawful to anyone before me, and the earth has been made sacred and pure and mosque for me, so whenever the time of prayer comes for any one of you he should pray whenever he is, and I have been supported by awe (by which the enemy is overwhelmed) from the distance (which one takes) one month to cover and I have been granted intercession.

1164Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، سیار، یزید فقیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔

Jabir bin Abdullah related that the Messenger of Allah ﷺ said, and he related like this.

1165Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوفِ الْمَلَائِکَةِ وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ کُلُّهَا مَسْجِدًا وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدْ الْمَائَ وَذَکَرَ خَصْلَةً أُخْرَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، ابی مالک اشجعی، ربعی، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیں اور لوگوں پر تین چیزوں کی بناء پر فضیلت دی گئی ہے ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنادی گئی ہیں اور ہمارے لئے ساری روئے زمین مسجد بنادی گئی ہے اور اس کی مٹی ( پانی نہ ملنے کے وقت) ہمارے لئے پاک کرنے والی بنادی گئی اور ایک اور خصلت بیان فرمائی۔

Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ﷺ said: We have been made to excel (other) people in three (things): Our rows have been made like the rows of the angels and the whole earth has been made a mosque for us, and its dust has been made a purifier for us in case water is not available. And he mentioned another characteristic too

1166Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوکریب، محمد بن علاء، ابن ابی زائدہ، سعد بن طارق، ربعی بن خراش، حضرت حذیفہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔

Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ﷺ said like this.

1167Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِيَائِ بِسِتٍّ أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھ وجوہ سے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم عطا فرمائے گئے، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا اور میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ بنادی گئی اور مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت ختم کردی گئی۔ (یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں)

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been given superiority over the other prophets in six respects: I have been given words which are concise but comprehensive in meaning; I have been helped by terror (in the hearts of enemies): spoils have been made lawful to me: the earth has been made for me clean and a place of worship; I have been sent to all mankind and the line of prophets is closed with me.

1168Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا

ابوطاہر، حرملہ ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جَوَامِعِ الْکَلِمِ کے ساتھ مبعوث کیا گیا، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی، خواب میں زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں، حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تو دنیا سے تشریف لے گئے اور تم وہ خزانے نکال رہے ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I have been commissioned with words which are concise but comprehensive in meaning; I have been helped by terror (in the hearts of enemies): and while I was asleep I was brought the keys of the treasures of the earth which were placed in my hand. And Abi Hurairah added: The Messenger of Allah ﷺ has left (for his heavenly home) and you are now busy in getting them.

1169Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ حَدَّثَنَا

حاجب بن ولید، محمد بن حرب، زبیدی، زہری، سعید بن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔

This hadith has been narratted by Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.

1170Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا۔

This hadith has been narratted by Abu Huraira by another chain of transmitters.

1171Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَی الْعَدُوِّ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ

ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس مولیٰ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دشمن کے مقابلہ میں رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جَوَامِعِ الْکَلِمِ عطا فرمائے گئے اور سونے کی حالت میں زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئی ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I have been helped by terror (in the heart of the enemy); I have been given words which are concise but comprehensive in meaning; and while I was asleep I was brought the keys of the treasures of the earth which were placed in my hand.

1172Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس حدیث کا ذکر کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جَوَامِعِ الْکَلِمِ عطا فرمائے گئے ہیں۔

Hammam bin Munabbih reported: That is what Abu Hurairah (RA) reported to us from the Messenger of Allah ﷺ and he narrated (some) ahadith one of which is that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been helped by terror (in the hearts of enemies) and I have been given words which are concise but comprehensive in meaning.

1173Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ قَالَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّی أَلْقَی بِفِنَائِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَکَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِکُمْ هَذَا قَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَی اللَّهِ قَالَ أَنَسٌ فَکَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ کَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِکِينَ وَخِرَبٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِکِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ فَکَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْفَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

یحییٰ بن یحیی، شیبان بن فروخ، عبدالوارث، یحیی، عبدالوارث ابن سعید، ابی تیاح، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ پہنچے اور شہر کے بالائی علاقہ کے ایک محلہ میں تشریف لے گئے آپ ﷺ نے وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا پھر آپ ﷺ نے قبیلہ بنو نجار کو بلوایا وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے حضرت انس ؓ کہتے ہیں یہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا تھا آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور بنو نجار آپ کے ارد گرد تھے آپ ﷺ حضرت ابوایوب کے گھر کے صحن میں اترے حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ جہاں نماز کا وقت پاتے وہیں نماز پڑھ لیتے تھے یہاں تک کہ بکریوں کے باڑہ میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا اور بنو نجار کو بلوایا جب وہ آئے تو فرمایا تم اپنا باغ مجھے فروخت کردو انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم تو آپ ﷺ سے اس باغ کی قیمت نہیں لیں گے ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ اس باغ میں جو چیزیں تھیں انہیں میں بتاتا ہوں اس میں کچھ کھجوروں کے درخت، مشرکین کی قبریں اور کھنڈرات تھے پس رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے درختوں کے کاٹنے کا حکم دیا وہ کاٹ دئے گئے مشرکین کی قبریں اکھاڑ کر پھینک دی گئیں اور کھنڈرات ہموار کر دئیے گئے اور کھجور کی لکڑیاں قبلہ کی طرف گاڑھ دی گئیں اور اس کے دونوں طرف پتھر لگا دئیے گئے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رجزیہ کلمات پڑھ رہے تھے۔ اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ came to Madinah and stayed in the upper part of Madinah for fourteen nights with a tribe called Banu Amr b Auf. He then sent for the chiefs of Banu al-Najir, and they came with swords around their necks. He (the narrator) said: I perceive as if I am seeing the Messenger of Allah ﷺ on his ride with Abu Bakr (RA) behind him and the chiefs of Banu al-Najjar around him till he alighted in the courtyard of Abu Ayyub. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ﷺ said prayer when the time came for prayer, and he prayed in the fold of goats and sheep. He then ordered mosques to be built and sent for the chiefs of Banu al-Najjar, and they came (to him). He (the Holy Prophet) said to them: O Banu al-Najjar, sell these lands of yours to me. They said: No, by Allah. we would not demand their price, but (reward) from the Lord. Anas said: There (in these lands) were trees and graves of the polytheists, and ruins. The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) ordered that the trees should be cut, and the graves should be dug out, and the ruins should be leveled. The trees (were thus) placed in rows towards the qibla and the stones were set on both sides of the door, and (while building the mosque) they (the Companions) sang rajaz verses along with the Messenger of Allah ﷺ : O Allah: there is no good but the good of the next world, So help the Ansar and the Muhajirin.

1174Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَی الْمَسْجِدُ

عبیداللہ بن معاذ عبنری، شعبہ، ابوتیاح، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد بننے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔

Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ used to pray in the folds of the sheep and goats before the mosque was built.

1175Sahih Muslim

مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيْبٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن حارث، شعبہ، ابی تیاح، انس ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان اسی طرح نقل کیا ہے۔

Abu al-Tiyyah reported: I heard from Anas a narration like this from the Messenger of Allah ﷺ .

1176Sahih Muslim

بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا حَتَّی نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ وَحَيْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَکُمْ شَطْرَهُ فَنَزَلَتْ بَعْدَمَا صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَحَدَّثَهُمْ فَوَلَّوْا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، ابی اسحاق، حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سولہ مہینہ تک نماز پڑھی یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ جو سورت البقرہ میں نازل ہوئی اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلو یہ آیت کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب نبی ﷺ نے نماز پڑھ لی لوگوں میں سے ایک آدمی یہ حکم سن کر چلا راستہ میں انصار کی ایک جماعت کو نماز پڑھتے ہوئے پایا اس آدمی نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو وہ لوگ سنتے ہی بیت اللہ کی طرف پھرگئے۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported: I said prayer with the Apostle ﷺ turning towards Bait-ul-Maqdis for sixteen months till this verse of Surah Baqarah was revealed:" And wherever you are turn your faces towards it" (ii. 144). This verse was revealed when the Apostle ﷺ had said prayer. A person amongst his people passed by the people of Ansar as they were engaged in prayer. He narrated to them (this command of Allah) and they turned their faces towards the Ka’bah.

1177Sahih Muslim

بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفْنَا نَحْوَ الْکَعْبَةِ

محمد بن مثنی، ابوبکر بن خلاد، یحییٰ ابن مثنی، یحییٰ بن سعید، سفیان، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ مہینوں تک نماز پڑھی پھر ہمیں کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔

Abu Ishaq reported: I heard al-Bara saying: We prayed with the Messenger of Allah ﷺ (with our faces) towards Bait-ul-Maqdis for sixteen months or seventeen months. Then we were made to change (our direction) towards the Ka’bah.

1178Sahih Muslim

بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِقُبَائٍ إِذْ جَائَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَةَ فَاسْتَقْبَلُوهَا وَکَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَی الْکَعْبَةِ

شیبان بن فروخ، عبدالعزیز بن مسلم، عبداللہ بن دینار، ابن عمر، قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ صبح کی نماز قباء میں پڑھ رہے تھے اسی دوران ایک آنے والے نے آکر کہا کہ رات کو رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے اور بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پہلے ان کے منہ شام کی طرف تھے پھر کعبہ کی طرف گھوم گئے۔

Ibn Umar reported: As the people were praying at Quba a man came to them and said: It has been revealed to the Messenger of Allah ﷺ during the night and he has been directed to turn towards the Ka’bah. So turn towards it. Their faces were towards Syria and they turned round towards Ka’bah.

1179Sahih Muslim

بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِذْ جَائَهُمْ رَجُلٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ

سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، نافع ابن عمر، عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر ؓ سے ایک اور سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

Ibn Umar reported: As the people were engaged in the morning prayer a man came to them. The rest of the hadith is the same.

1180Sahih Muslim

بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَتْ قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِي السَّمَائِ فَلَنُوَلِّيَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُکُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَقَدْ صَلَّوْا رَکْعَةً فَنَادَی أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ فَمَالُوا کَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے پس یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی تحقیق ہم آپ ﷺ کا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوا دیکھ رہے ہیں ہم ضرور آپ ﷺ کو اس طرف پھیر دیں گے جس طرف کا آپ ﷺ قبلہ پسند کرتے ہیں پس آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے، بنو سلمہ میں سے ایک آدمی ادھر سے گزر رہا تھا وہ فجر کی نماز میں رکوع کی حالت میں تھے اور ایک رکعت بھی پڑھ لی تھی اس آدمی نے بلند آواز سے کہا کہ قبلہ بدل گیا ہے یہ سنتے ہی وہ لوگ اسی حالت میں قبلہ کی طرف پھرگئے۔

Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ used to pray towards Bait-ul-Maqdis, that it was revealed (to him):" Indeed We see the turning of the face to heaven, wherefore We shall assuredly cause thee to turn towards Qibla which shall please thee. So turn thy face towards the sacred Mosque (Ka’bah)" (ii. 144). A person from Banu Salama was going; (he found the people) in ruku (while) praying the dawn prayer and they had said one rakah. He said in a loud voice: Listen! the Qibla has been changed and they turned towards (the new) Qibla (Ka’bah) in that very state.