قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَکَرَتَا کَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُولَئِکِ إِذَا کَانَ فِيهِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَی قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْکِ الصُّوَرَ أُولَئِکِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید قطان، ہشام، ان کے والد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس میں تصویریں لگی ہوئی تھیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا یہی حال تھا کہ جب ان میں کوئی نیک مرجاتا تھا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور وہیں تصویر بناتے یہی لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین مخلوق ہوں گے۔
Aisha reported: Umm Habiba and Umm Salamah made a mention before the Messenger of Allah ﷺ of a church which they had seen in Abyssinia and which had pictures in it. The Messenger of Allah ﷺ said: When a pious person amongst them (among the religious groups) dies they build a place of worship on his grave, and then decorate it with such pictures. They would be the worst of creatures on the Day of Judgment in the sight of Allah.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمْ تَذَاکَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَذَکَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ کَنِيسَةً ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، وکیع، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات میں آپ ﷺ کے پاس لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے تو حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت ام حبیبہ ؓ نے بھی ایک گرجا کا ذکر کیا پھر وہی حدیث ذکر فرمائی جو گزر چکی۔
Aisha reported: They (some Companions of the Holy Prophet) were conversing with one another in the presence of the Messenger of Allah ﷺ (during his last) illness. Umm Salamah and Umm Habiba made a mention of the church and then (the hadith was) narrated.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذَکَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، ان کے والد، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اسے ماریہ کہا جاتا ہے باقی حدیث وہی ہے جیسے گزر چکی۔
Aisha reported: The wives of the Apostle of Allah ﷺ (may peace be Upon him) made a mention of the church which they had seen in Abyssinia which was called Marya, and the rest of the hadith is the same.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْ فَلَوْلَا ذَاکَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَلَوْلَا ذَاکَ لَمْ يَذْکُرْ قَالَتْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ہاشم بن قاسم، شیبان، ہلال بن ابی حمید، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ ﷺ کھڑے نہیں ہوئے (یعنی دوبارہ تندرست نہیں ہوئے) اس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اگر آپ کو اس بات کا خیال نہ ہوتا تو آپ ﷺ اپنی قبر مبارک کو ظاہر کردیتے سوائے اس کے کہ آپ ﷺ کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں آپ ﷺ کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ said during his illness from which he never recovered: Allah cursed the Jews and the Christians that they took the graves of their prophets as mosques. She (Aisha) reported: Had it not been so, his (Prophets) grave would have been in an open place, but it could not be due to the fear that it may not be taken as a mosque.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَمَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، یونس، مالک، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ و برباد کر دے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Let Allah destroy the Jews for they have taken the graves of their apostles as places of worship.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
قتیبہ بن سعید، عبیداللہ بن اصم، یزید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہود و نصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Let there be curse of Allah upon the Jews and the Christians for they have taken the graves of their apostles as places of worship.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَی وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ کَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ وَهُوَ کَذَلِکَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَی الْيَهُودِ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مِثْلَ مَا صَنَعُوا
ہارون بن سعید ایلی حرملہ بن یحیی، ہارون بن وہب، یونس ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک پر چادر ڈال لی پھر جب گھبراہٹ ہوتی تو چہرہ مبارک سے چادر ہٹا دیتے اور فرماتے کہ یہود و نصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا آپ ﷺ ڈرتے تھے کہ کہیں آپ ﷺ کی امت کے لوگ بھی ایسا نہ کرنے لگ جائیں۔
Aisha andAbdullah reported: As the Messenger of Allah ﷺ was about to breathe his last, he drew his sheet upon his face and when he felt uneasy, he uncovered his face and said in that very state: Let there be curse upon the Jews and the Christians that they have taken the graves of their apostles as places of worship. He in fact warned (his men) against what they (the Jews and the Christians) did.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَی اللَّهِ أَنْ يَکُونَ لِي مِنْکُمْ خَلِيلٌ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَدْ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا کَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّي أَنْهَاکُمْ عَنْ ذَلِکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر، زکریا ابن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، عمرو بن مرہ، عبداللہ بن حارث، حضرت جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے وصال سے پانچ دن پہلے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا دوست بناؤں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا آگاہ ہوجاؤ کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے روکتا ہوں۔
Jundub reported: I heard from the Apostle of Allah ﷺ five days before his death and he said: I stand acquitted before Allah that I took any one of you as friend, for Allah has taken me as His friend, as he took Ibrahim as His friend. Had I taken any one of my Ummah as a friend, I would have taken Abu Bakr (RA) as a friend. Beware of those who preceded you and used to take the graves of their prophets and righteous men as places of worship, but you must not take graves as mosques; I forbid you to do that.
مسجد بنانے کی فضیلت اور اسکی ترغیب دینے کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلَانِيَّ يَذْکُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَی مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ قَدْ أَکْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا لِلَّهِ تَعَالَی قَالَ بُکَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ابْنُ عِيسَی فِي رِوَايَتِهِ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ
ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو، بکیر، عاصم بن عمر بن قتادہ، حضرت عبیداللہ خولانی فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ جس وقت رسول اللہ ﷺ کی مسجد بنانے لگے تو انہوں نے لوگوں کو اس میں باتیں کرتے سنا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ تم نے مجھ پر بہت زیادتی کی ہے حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اللہ کے لئے مسجد بنائے گا راوی بکیر نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا ابن عیسیٰ نے اپنی روایت میں کہا کہ اس جیسا جنت میں ایک مکان بنائے گا۔
Ubaidullah al-Khaulini reported: Uthman bin Affan listened to the opinion of the people (which was not favourable) when he rebuilt the mosque of the Messenger of Allah ﷺ . Thereupon he said: You have not been fair to me for I have heard from the Messenger of Allah ﷺ saying: He who built a mosque for Allah, the Exalted, Allah would build for him a house in Paradise. Bukair said: I think he (the Holy Prophet) said: While he seeks the pleasure of Allah (by building the mosque). And in the narration of Ibn Isa (the words are):" (a house) like that (mosque) in Paradise."
مسجد بنانے کی فضیلت اور اسکی ترغیب دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَرَادَ بِنَائَ الْمَسْجِدِ فَکَرِهَ النَّاسُ ذَلِکَ فَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَی هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَی اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ضحاک بن مخلد، عبدالحمید بن جعفر، محمود بن لبید، حضرت محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس چیز کو برا سمجھا اور اس بات کو پسند کرنے لگے کہ اسے اسی حالت پر چھوڑ دیں تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو اللہ کے لئے مسجد بنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اس جیسا گھر بنائیں گے۔
Mahmud bin Labid reported: When Uthman bin Affan intended to build the mosque (of the Prophet) the people did not approve of it. They liked that it should be kept in the same state. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who built a mosque for Allah, Allah would build a house for him like it in Paradise.
رکوع کی حالت میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنے اور تطبیق کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو کُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ قَالَا أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ فَقَالَ أَصَلَّی هَؤُلَائِ خَلْفَکُمْ فَقُلْنَا لَا قَالَ فَقُومُوا فَصَلُّوا فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قَالَ وَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ قَالَ فَلَمَّا رَکَعَ وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَی رُکَبِنَا قَالَ فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا وَطَبَّقَ بَيْنَ کَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ قَالَ فَلَمَّا صَلَّی قَالَ إِنَّهُ سَتَکُونُ عَلَيْکُمْ أُمَرَائُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا وَيَخْنُقُونَهَا إِلَی شَرَقِ الْمَوْتَی فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَکُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً وَإِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَصَلُّوا جَمِيعًا وَإِذَا کُنْتُمْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَلْيَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ وَإِذَا رَکَعَ أَحَدُکُمْ فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَی فَخِذَيْهِ وَلْيَجْنَأْ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ کَفَّيْهِ فَلَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَاهُمْ
محمد بن علاء ہمدانی، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، حضرت اسود اور حضرت علقمہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر میں آئے تو انہوں نے فرمایا کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھ لی ہے ہم نے کہا کہ نہیں انہوں نے فرمایا کہ اٹھو اور نماز پڑھو پھر ہمیں اذان کا اور اقامت کا حکم نہیں دیا ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو ہمارا ہاتھ پکڑ کر ایک کو دائیں طرف کردیا اور دوسرے کو بائیں طرف کردیا پھر جب رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور ہتھیلیوں کو جوڑ کر رکھ دیا جب نماز پڑھائی تو فرمایا کہ تمہارے اوپر ایسے حکام مقرر ہوں گے جو نمازوں کو اس کے وقت سے تاخیر میں پڑھیں گے اور عصر کی نماز کو اتنا تنگ کردیں گے کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوجائے گا لہذا جب تم ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھو تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھ لو اور پھر ان کے ساتھ دوبارہ نفل کے طور پر پڑھ لو اور جب تم تین آدمی ہو تو سب مل کر نماز پڑھ لو اور جب تین سے زیادہ ہو تو ایک آدمی امام بنے اور وہ آگے کھڑا ہو اور جب رکوع کرے تو اپنے ہاتھوں کو رانوں پر رکھے اور جھکے اور دونوں ہتھیلیاں جوڑ کر رانوں میں رکھ لے گویا کہ میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں۔
Mahmud bin Labid reported: When Uthman bin Affan intended to build the mosque (of the Prophet) the people did not approve of it. They liked that it should be kept in the same state. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who built a mosque for Allah, Allah would build a house for him like it in Paradise.
رکوع کی حالت میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنے اور تطبیق کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَجَرِيرٍ فَلَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاکِعٌ
منجاب بن حارث تیمی، ابن مسہر، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، اعمش، ابراہیم، علقمہ، اسود، عبداللہ، معاویہ، ابن مسہر، یہ روایت بھی ایک دوسری سند کے ساتھ الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Alqama and Aswad by another chain of transmitters and in the hadith transmitted by Ibn Mus-hir and Jabir the words are:
" I perceive as if I am seeing the gap between the fingers of the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as he was bowing."
رکوع کی حالت میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنے اور تطبیق کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَصَلَّی مَنْ خَلْفَکُمْ قَالَ نَعَمْ فَقَامَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ رَکَعْنَا فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَی رُکَبِنَا فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ جَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَلَمَّا صَلَّی قَالَ هَکَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، عبداللہ بن موسی، اسرائیل، منصور، ابراہیم، حضرت علقمہ ؓ اور حضرت اسود ؓ سے روایت ہے کہ یہ دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پیچھے والوں نے نماز پڑھی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں پھر حضرت عبداللہ ؓ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ایک کو دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کیا پھر رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا حضرت عبداللہ ؓ نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور دونوں ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھا پھر جب نماز پڑھ لی تو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا ہے۔
Al-Aswad and Alqama reported: We came to the house of Abdullah bin Masud. He said: Have these people said prayer behind you? We said: No. He said: Then stand up and say prayer. He neither ordered us to say Adhan nor Iqama. We went to stand behind him. He caught hold of our hands and made one of us stand on his right hand and the other on his left side. When we bowed, we placed our hands on our knees. He struck our hands and put his hands together, palm to palm, then put them between his thighs. When he completed the prayer he said. There would soon come your Amirs, who would defer prayers from their appointed time and would make such delay that a little time is left before sunset. So when you see them doing so, say prayer at its appointed time and then say prayer along with them as (Nafl), and when you are three, pray together (standing in one row), and when you are more than three, appoint one amongst you as your Imam. And when any one of you bows he must place his hands upon his thighs and kneel down. and putting his palms together place (them within his thighs). I perceive as if I am seeing the gap between the fingers of the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him).
رکوع کی حالت میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنے اور تطبیق کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَی جَنْبِ أَبِي قَالَ وَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُکْبَتَيَّ فَقَالَ لِي أَبِي اضْرِبْ بِکَفَّيْکَ عَلَی رُکْبَتَيْکَ قَالَ ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَضَرَبَ يَدَيَّ وَقَالَ إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَکُفِّ عَلَی الرُّکَبِ
قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، قتیبہ، ابوعوانہ، ابویعفور، حضرت مصعب بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنے ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھے تو میرے باپ نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ، وہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے دوسری مرتبہ اس طرح کیا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے اور ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
Alqama and Aswad reported that they went to Abdullah. He said: Have (people) behind you said prayer? They said: Yes. He stood between them (Alqama and Aswad). One was on his right aide and the other was on his left. We then bowed and placed our hands on our knees. He struck our hands and then putting his hands together, palm to palm, placed them between his thighs. When he completed the prayer he said: This is how the Messenger of Allah ﷺ used to do.
رکوع کی حالت میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنے اور تطبیق کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ فَنُهِينَا عَنْهُ وَلَمْ يَذْکُرَا مَا بَعْدَهُ
خلف بن ہشام، ابواحوص، ابن ابی عمر، سفیان، ابویعفور، اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Abu Yafur with the same chain of transmitters up to these words: We have been forbidden from it and no mention of that has been made what follows it.
رکوع کی حالت میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنے اور تطبیق کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ رَکَعْتُ فَقُلْتُ بِيَدَيَّ هَکَذَا يَعْنِي طَبَّقَ بِهِمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَقَالَ أَبِي قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِالرُّکَبِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل، ابوخالد، زبیر بن عدی، حضرت مصعب ؓ بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا پھر میں نے دونوں ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا میرے باپ نے کہا کہ پہلے ہم ایسے ہی کرتے تھے پھر ہمیں بعد میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔
Musab bin Sad reported: I said prayer by the side of my father and placed my hands between my knees. My father said to me: Place your hands on your knees. I repeated that (the previous act) for the second time, and he struck at my hands and said: We have been forbidden to do so and have been commanded to place our palms on the knees.
رکوع کی حالت میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنے اور تطبیق کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَی جَنْبِ أَبِي فَلَمَّا رَکَعْتُ شَبَّکْتُ أَصَابِعِي وَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُکْبَتَيَّ فَضَرَبَ يَدَيَّ فَلَمَّا صَلَّی قَالَ قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَی الرُّکَبِ
حکم بن موسی، عیسیٰ بن یونس، اسماعیل بن ابی خالد، زبیر ابن عدی، حضرت مصعب بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی پھر جب میں نے رکوع کیا تو میں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈال کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا پھر جب نماز پڑھ لی تو فرمایا کہ پہلے ہم اسی طرح کرتے تھے پھر ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔
Musab bin Sad bin Abu Waqqas reported: I said prayer by the side of my father. When I bowed I intertwined my fingers and placed them between my knees. He struck my hands. When he completed the prayer he said: We used to do that but then were commanded to lift (our palms) to the knees.
نماز میں ایڑیوں پر بیٹھنے کے جائز ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُا قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَائِ عَلَی الْقَدَمَيْنِ فَقَالَ هِيَ السُّنَّةُ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَائً بِالرَّجُلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، حسن حلوانی، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت طاؤس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو سنت ہے ہم نے عرض کیا کہ ہم تو اس طرح بیٹھنے میں مشقت کا سبب خیال کرتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرمانے لگے یہ تو تمہارے نبی ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔
Tawus reported: We asked Ibn Abbas (RA) about sitting on ones buttocks (in prayer). (ala alqadmein) He said: It is sunnah. We said to him: We find it a sort of cruelty to the foot. Ibn Abbas said: It is the sunnah of your Apostle ﷺ .
نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُکْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَی أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَکِنِّي سَکَتُّ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا کَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي قَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْئٌ مِنْ کَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّکْبِيرُ وَقِرَائَةُ الْقُرْآنِ أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَائَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْکُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتِهِمْ قَالَ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ قَالَ ذَاکَ شَيْئٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فَلَا يَصُدَّنَّکُمْ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ کَانَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاکَ قَالَ وَکَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَی غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ کَمَا يَأْسَفُونَ لَکِنِّي صَکَکْتُهَا صَکَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِکَ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا قَالَ ائْتِنِي بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا أَيْنَ اللَّهُ قَالَتْ فِي السَّمَائِ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ
ابوجعفر، محمد بن صباح، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن ابراہیم، حجاج صواف، یحییٰ بن ابی کثیر، ہلال بن ابی میمونہ، عطاء بن یسار، معاویہ ابن حکم سلمی ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے (یَرحَمُکَ اللہ) کہہ دیا تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا میں نے کہا کاش کہ میری ماں مجھ پر رو چکی ہوتی تم مجھے کیوں گھور رہے ہو یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے میرا باپ اور میری ماں آپ ﷺ پر قربان میں نے آپ ﷺ سے پہلے نہ ہی آپ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی سکھانے والا دیکھا اللہ کی قسم نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا اور نہ ہی مجھے گالی دی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں لوگوں سے باتیں کرنی درست نہیں بلکہ نماز میں تو تسبیح اور تکبیر اور قرآن کی تلاوت کرنی چاہئے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا ہے ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم ان کے پاس نہ جاؤ میں نے عرض کیا ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو وہ لوگ اپنیدل میں پاتے ہیں تم اسطرح نہ کرو پھر میں نے عرض کیا ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا انبیا کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھیچتے تھے تو جس آدمی کا لکیر کھینچھنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ (لیکن اس طرح لکیر کھینچنا کسی کو معلوم نہیں اس لئے حرام ہے) راوی معاویہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کرلے گیا ہے آخر میں بھی بنی آدم سے ہوں مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا مجھ پر یہ بڑا گراں گزرا اور میں نے عرض کیا کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں آپ ﷺ نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے اس لونڈی نے کہا آسمان میں آپ ﷺ نے اس سے پوچھا میں کون ہوں اس لونڈی نے کہا کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں آپ ﷺ نے اس لونڈی کے مالک سے فرمایا اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے۔
Muawiyah bin al-Hakam said: While I was praying with the Messenger of Allah ﷺ , a man in the company sneezed. I said: Allah have mercy on you! The people stared at me with disapproving looks, so I said: Woe be upon me, why is it that you stare at me? They began to strike their hands on their thighs, and when I saw them urging me to observe silence (I became angry) but I said nothing. When the Messenger of Allah ﷺ had said the prayer (and I declare that neither before him nor after him have I seen a leader who gave better instruction than he for whom I would give my father and mother as ransom). I swear that he did not scold, beat or revile me but said: Talking to persons is not fitting during the prayer, for it consists of glorifying Allah, declaring his Greatness. and recitation of the Quran or words to that effect. I said: Messenger of Allah. I was till recently a pagan, but Allah has brought Islam to us; among us there are men who have recourse to Kahins. He said, Do not have recourse to them. I said. There are men who take omens. That is something which they find in their breasts, but let it not turn their way (from freedom of action). I said: Among us there are men who draw lines. He said: There was a prophet who drew lines, so if they do it as they did, that is allowable. I had a maid-servant who tended goats by the side of Uhud and Jawwaniya. One day I happened to pass that way and found that a wolf had carried a goat from her flock. I am after all a man from the posterity of Adam. I felt sorry as they (human beings) feel sorry. So I slapped her. I came to the Messenger of Allah ﷺ and felt (this act of mine) as something grievous I said: Messenger of Allah, should I not grant her freedom? He (the Holy Prophet) said: Bring her to me. So I brought her to him. He said to her: Where is Allah? She said: He is in the heaven. He said: Who am I? She said: Thou art the Messenger of Allah. He said: Grant her freedom, she is a believing woman.
نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، حضرت یحییٰ بن کثیر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح ایک روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Yahya bin Abu Kathir with the same chain of transmitters.