مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 6 · 408 hadiths · Page 3 of 21

1201Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْکَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابوسعید اشج، ابن فضیل، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں نماز کی حالت میں سلام کرلیا کرتے تھے اور آپ ﷺ ہمیں سلام کا جواب بھی دیا کرتے تھے پھر جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے تو ہم نے آپ ﷺ پر سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نماز میں آپ ﷺ پر سلام کرتے تھے تو آپ ﷺ ہمیں سلام کا جواب بھی دیتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز ہی میں مشغول رہنا چاہئے۔ (نماز میں تسبیحات اور قرأت کے علاوہ کوئی بات نہیں کرنی چاہئے)

Abdullah (b. Masud) reported: We used to greet the Messenger of Allah ﷺ while he was engaged in prayer and he would respond to our greeting. But when we returned from the Negus we greeted him and he did not respond to us; so we said: Messenger of Allah. we used to greet you when you were engaged in prayer and you would respond to us. He replied: Prayer demands whole attention.

1202Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابن نمیر، اسحاق بن منصور سلوالی، ہریم بن سفیان، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ اس طرح کی ایک اور روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been reported by Amash with the same chain of transmitters.

1203Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ کُنَّا نَتَکَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُکَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَی جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّی نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ وَنُهِينَا عَنْ الْکَلَامِ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم، اسماعیل بن ابی خالد، حارث بن شبیل، ابوعمرو شیبانی، زید بن حارث بن شبیل، ابوعمرو شیبانی، حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نماز میں باتیں کیا کرتے تھے ہر آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے باتیں کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اللہ کے سامنے خاموش کھڑے ہوجاؤ پھر آپ ﷺ نے ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا اور نماز میں بات کرنے سے روک دیا۔

Zaid bin Arqam reported: "We used to talk while engaged in prayer and a person talked with a companion on his side in prayer till (this verse) was revealed:" And stand before Allah in devout obedience" (ii, 238) and we were commanded to observe silence (in prayer) and were forbidden to speak.

1204Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَوَکِيعٌ قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اسماعیل بن خالد، اس سند کے ساتھ اسی طرح کی ایک اور روایت نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been transmitted by Ismail bin Abu Khalid.

1205Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَکْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ قَالَ قُتَيْبَةُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ إِنَّکَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا پھر میں واپس آیا تو آپ ﷺ چل رہے تھے راوی قتیبہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے آپ ﷺ پر سلام کیا آپ نے مجھے اشارہ سے جواب دیا جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور پھر مجھے فرمایا کہ تو نے مجھے نماز کی حالت میں سلام کیا تھا اس وقت آپ ﷺ کا چہرہ مبارک مشرق کی طرف تھا۔

Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ sent me on an errand. I (having done the business assigned to me came back and) joined him as he was going (on a ride). Qutaiba said that he was saying prayer while he rode. I greeted him. He gestured to me. When he completed the prayer. he called me and said: You greeted me just now while I was engaged in prayer. (Qutaiba said): His (Prophets face) was towards the east, as he was praying.

1206Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَی بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَی بَعِيرِهِ فَکَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَکَذَا وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ ثُمَّ کَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي هَکَذَا فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الْأَرْضِ وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُکَ لَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُکَلِّمَکَ إِلَّا أَنِّي کُنْتُ أُصَلِّي قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْکَعْبَةِ فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ إِلَی بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَقَالَ بِيَدِهِ إِلَی غَيْرِ الْکَعْبَةِ

احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا اور آپ ﷺ بنی مصطلق کی طرف جا رہے تھے جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے پھر میں نے بات کی تو آپ ﷺ نے اس طرح اشارہ کیا زہیر راوی کہتے ہیں کہ جس طرح آپ ﷺ نے اشارہ کیا اسی طرح اشارہ کر کے میں نے بتایا میں نے پھر بات کی تو آپ نے مجھ سے اشارہ اس طرح فرمایا۔ راوی زہیر نے اس کو بھی زمین کی طرف اشارہ کر کے کے بتایا اور میں سن رہا تھا کہ آپ ﷺ قرآن مجید پڑھ رہے ہیں اپنے سر سے اشارہ کر رہے ہیں پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کام کے لئے میں نے تجھے بھیجا تھا اس کام کا کیا کیا؟ اور میں نماز میں تھا جس کی وجہ سے میں تجھ سے بات نہیں کرسکا راوی زہیر کہتے ہیں کہ ابوالزبیر قبلہ کی طرف رخ کئے ہوئے بیٹھے تھے تو ابوالزبیر نے اپنے ہاتھ کے ساتھ بنی مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور اپنے ہاتھ (کے اشارہ) سے بتایا کہ وہ کعبہ کی طرف نہیں تھے۔

Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ sent me (on an errand) while he was going to Banu Mustaliq. I came to him and he was engaged in prayer on the back of his camel. I talked to him and he gestured to me With his hand, and Zuhair gestured with his hand. I then again talked and he again (gestured to me with his hand). Zuhair pointed with his hand towards the ground. I heard him (the Holy Prophet) reciting the Quran and making a sign with his head. When he completed the prayer he said: What have you done (with regard to that business) for which I sent you? I could not talk with you but for the fact that I was engaged in prayer. Zuhair told that Abu Zubair was sitting with his face turned towards Qibla (as he transmitted this hadith). Abu Zuhair pointed towards Banu Mustaliq with his hand and the direction to which he pointed with his hand was not towards the Ka’bah.

1207Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ کَثِيرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ عَلَی غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْکَ إِلَّا أَنِّي کُنْتُ أُصَلِّي

ابوکامل، جحدری، حماد بن زید، کثیر بن عطاء، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ ﷺ نے مجھے ایک کام سے بھیجا جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک قبلہ کی طرف بھی نہیں تھا میں نے آپ ﷺ پر سلام کیا تو آپ ﷺ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا پھر جب نماز سے فارغ ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نماز میں تھا جس کی وجہ سے میں تمہارے سلام کا جواب نہ دے سکا۔

Jabir reported: We were in the company of the Messenger of Allah ﷺ , and he sent me on an errand, and when I came back (I saw him) saying prayer on his ride and his face was not turned towards Qibla. I greeted him but he did not respond to me. As he completed the prayer, he said: Nothing prevented me from responding to your greeting but the fact that I was praying.

1208Sahih Muslim

نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادٍ

محمد بن حاتم، معلی بن منصور، عبدالوارث بن سعید، کثیر بن شنظیر، عطاء، حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک کام کے لئے بھیجا باقی حدیث وہی ہے جو گزر چکی ہے۔

This hadith that the Messenger of Allah ﷺ sent Jabir on an errand has been reported by him through another chain of transmitters.

1209Sahih Muslim

دوران نماز شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور نماز میں عمل قلیل کرنے کے جواز میں۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِکُ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمْکَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَی جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّی تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ أَوْ کُلُّکُمْ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا و قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ

اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک بڑا جن میری نماز توڑنے کے لئے میری طرف بڑھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قبضہ میں کردیا میں نے اس کا گلا دبا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ جب صبح ہو تو سب لوگ اسے دیکھ لیں پھر مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان کی یہ دعا یاد آگئی اے پروردگار مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے پھر اللہ تعالیٰ نے اس جن کو ذلیل ورسوا کرتے ہوئے بھگا دیا۔

Abu Hurairah (RA) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: A highly wicked one amongst the Jinn escaped yester night to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman: "My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Quran, xxxvii. 35).

1210Sahih Muslim

دوران نماز شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور نماز میں عمل قلیل کرنے کے جواز میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَوْلُهُ فَذَعَتُّهُ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ فَدَعَتُّهُ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، شعبہ، ابن جعفر، حضرت شیبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted by Ibn Abi Shaiba.

1211Sahih Muslim

دوران نماز شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور نماز میں عمل قلیل کرنے کے جواز میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ثُمَّ قَالَ أَلْعَنُکَ بِلَعْنَة اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ کَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ الصَّلَاةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَمِعْنَاکَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْکَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِکَ وَرَأَيْنَاکَ بَسَطْتَ يَدَکَ قَالَ إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَائَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ أَلْعَنُکَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ

محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، معاویہ بن صالح، ربیعہ بن یزید، ابی ادریس خولانی، ابودرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ( أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ) آپ ﷺ فرماتے تھے میں اللہ تعالیٰ کی تجھ سے پناہ مانگتا ہوں پھر فرمایا کہ میں تجھ پر تین مرتبہ اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا جیسے کوئی چیز لے رہے ہوں جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نے آپ ﷺ سے نماز میں کچھ کہتے ہوئے سنا جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنا اور ہم نے آپ ﷺ کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے بھی دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ میرا منہ جلائے تو میں نے ( أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ) تین مرتبہ کہا پھر میں نے کہا کہ میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی پوری لعنت بھیجتا ہوں وہ تین مرتبہ تک پیچھے نہیں ہٹا پھر میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا اللہ کی قسم اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک بندھا رہتا اور مدینہ والوں کے لڑکے اس کے ساتھ کھیلتے۔

Abu Darda reported: Allahs Messenger ﷺ stood up (to pray) and we heard him say: "I seek refuge in Allah from thee." Then said: "curse thee with Allahs curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allahs enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times: "I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times: "I curse thee with Allahs full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. Thereafter I meant to seize him. I swear by Allah that had it not been for the supplication of my brother Sulaiman he would have been bound, and made an object of sport for the children of Madinah.

1212Sahih Muslim

نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِکٌ نَعَمْ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، قتیبہ بن سعید، مالک بن عامر، عبداللہ بن زبیر، یحییٰ بن یحیی، مالک، عامر بن عبداللہ بن زبیر، عمرو بن سلیم زرقی، ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ امامہ (جو کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت زیبب ؓ کی بیٹی ہیں) کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے یہ حضرت ابوالعاص ؓ کی بیٹی تھیں جب آپ ﷺ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو اسے زمین پر بٹھا دیتے۔

Abu Qatadah (RA) reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ saying the prayer while he was carrying Umama, daughter of Zainab, daughter of the Messenger of Allah ﷺ . and Abul-As bin al-Rabi. When he stood up, he took her up and when he prostrated he put her down, Yahya said: Malik replied in the affirmative.

1213Sahih Muslim

نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَابْنِ عَجْلَانَ سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ وَهِيَ ابْنَةُ زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَاتِقِهِ فَإِذَا رَکَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنْ السُّجُودِ أَعَادَهَا

محمد بن ابی عمر، سفیان عثمان بن ابی سلیمان، ابن عجلان، عامر بن عبداللہ بن زبیر، عمرو بن سلیم زرقی ابوقتادہ انصاری سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کا امام بنے ہوئے اور امامہ حضرت ابوالعاص ؓ کی بیٹی اور آپ ﷺ کی (نواسی) آپ ﷺ کی بیٹی حضرت زینب ؓ کی بیٹی کو آپ ﷺ کے کندھے پر بیٹھا دیکھا اور جب آپ رکوع کرتے تو اسے آپ ﷺ نیچے بٹھا دیتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پھر اسے اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔

Abu Qatadah (RA) al-Ansari reported: I saw the Apostle ﷺ leading the people in prayer with Umama, daughter of Abul-As and Zainab, daughter of the Apostle of Allah ﷺ , on his shoulder. When he bowed, he put her down, and when he got up after prostration, he lifted her again.

1214Sahih Muslim

نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُکَيْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَی عُنُقِهِ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا

ابوطاہر، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، مخرمہ، عمرو بن سلیم، ابوقتادہ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور حضرت ابوالعاص ؓ کی بیٹی امامہ آپ ﷺ کی گردن پر تھیں پھر جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو اسے نیچے بٹھا دیتے۔

Abu Qatadah (RA) reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ leading the people in prayer with Umama daughter of Abul-As on his neck; and when he prostrated he put her down.

1215Sahih Muslim

نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُا بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ فِي تِلْکَ الصَّلَاةِ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی، عبدالحمید بن جعفر، سعید مقبری، عمرو بن سلیم، ابوقتادہ انصاری فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لے آئے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نماز میں لوگوں کے امام بنے۔

Abu Qatadah (RA) reported: As we were sitting in the mosque, the Messenger of Allah ﷺ came to us, and the rest of the hadith is the same except that he made no mention that he led people in this prayer.

1216Sahih Muslim

نماز میں ایک دو قدم چلنے اور کسی ضرورت کے وجہ سے امام کا مقتدیوں سے (نسبتاً) بلند جگہ پر ہونے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَفَرًا جَائُوا إِلَی سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ وَمَنْ عَمِلَهُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ فَحَدِّثْنَا قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی امْرَأَةٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ إِنَّهُ لَيُسَمِّهَا يَوْمَئِذٍ انْظُرِي غُلَامَکِ النَّجَّارَ يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أُکَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ فَهِيَ مِنْ طَرْفَائِ الْغَابَةِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ فَکَبَّرَ وَکَبَّرَ النَّاسُ وَرَائَهُ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَی حَتَّی سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ حَتَّی فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي

یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ؓ کے پاس آئے اور منبر کے بارے میں آپس میں جھگڑنے لگے کہ وہ کس لکڑی کا تھا انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ کس قسم کی لکڑی کا تھا اور کس نے اسے بنایا تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے دن اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا میں نے اس سے کہا اے ابوالعباس ہمیں بیان کرو۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی طرف اپنا قاصد بھیجا راوی ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ؓ اس دن اس عورت کا نام لے رہے تھے، کہ تو اپنے لڑکے کو جو کہ بڑھئی ہے کہہ دے کہ میرے لئے ایک منبر بنا دے کہ جس پر میں بیٹھ کر لوگوں سے بات کروں چناچہ اس لڑکے نے تین سیڑھیوں کا ایک منبر بنادیا پھر رسول اللہ ﷺ کے حکم پر وہ منبر اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور منبر کی لکڑی غابہ کے مقام کی جھاؤ کی لکڑی تھی اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور آپ ﷺ منبر پر تھے پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا الٹے پاؤں نیچے اتر کر منبر کی جڑ میں سجدہ کیا پھر آپ ﷺ لوٹے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوگئے پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگو میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتدا کرو اور تم میری طرح نماز پڑھنا سیکھ لو۔

Abu Hazim is reported on the authority of his father: Some people came to Sahl bin Sad and began to differ about the wood of which the (Prophets pulpit was made. He (Sahl bin Sad) said: By Allah, I know of which wood it is made and who made it, and the day when I saw the Messenger of Allah ﷺ seated himself on it on the first day. I said to him: O Abu Abbas (kunyah of Sabl bin Sad), narrate to us (all these facts), He said: The Messenger of Allah ﷺ sent a person to a woman asking her to allow her slave, a carpenter, to work on woods (to prepare a pulpit) so that I should talk to the people (sitting on it). Abu Hazim said: He (Sahl bin Sad) pointed out the name of (that lady) that day. So he (the carpenter) made (a pulpit) with these three steps. Then the Messenger of Allah ﷺ commanded it to be placed here (where it is lying now). It was fashioned out of the wood of al-Ghaba. And I saw the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) standing upon it and glorifying Allah and the people also glorified Allah after him, while he was on the pulpit. He then raised (his head from prostration) and stepped back (on his heels) till he prostrated himself at the base of pulpit, and then returned (to the former place and this movement of one or two steps continued) till the prayer was complete. He then turned towards the people and said: O people, I have done it so that you should follow me and learn (my mode of) prayer.

1217Sahih Muslim

نماز میں ایک دو قدم چلنے اور کسی ضرورت کے وجہ سے امام کا مقتدیوں سے (نسبتاً) بلند جگہ پر ہونے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ

قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد، عبداللہ بن عبدالقاری قرشی، ابوحازم، سہل بن سعد ساعدی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ابوحازم سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

Abu Hazim reported: They (the people) came to Sahl bin Sad and they asked him of what thing the pulpit of the Apostle of Allah ﷺ was made, and the rest of the hadith is the same.

1218Sahih Muslim

نماز کے دوران کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حکم بن موسی، عبداللہ بن مبارک، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد، ابواسامہ، ہشام، محمد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی نماز کی حالت میں کوکھ پر ہاتھ رکھے اور ابوبکر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported from the Apostle of Allah ﷺ that he forbade keeping ones hand on ones waist while praying, and in the narration of Abu Bakr (RA) (the words are): The Messenger of Allah ﷺ forbade to do so.

1219Sahih Muslim

نماز کی حالت میں کنکریاں صاف کرنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُعَيْقِيبٍ قَالَ ذَکَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحَ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَی قَالَ إِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام دستوائی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، معیقیب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سجدہ کی جگہ میں سے کنکریاں صاف کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی پڑجائے تو صرف ایک بار کرو۔

Muaiqib quoted the Apostle of Allah ﷺ mentioning the removal of pebbles from the ground where he prostrated himself. He (the Prophet) said: It you must do so, do it only once.

1220Sahih Muslim

نماز کی حالت میں کنکریاں صاف کرنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُعَيْقِيبٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَسْحِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ وَاحِدَةً

محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، معیقب فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے نماز میں کنکریاں صاف کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ۔

Muaiqib said: They asked the Apostle ﷺ about the removal of (pebbles) in prayer, whereupon he said: If you do it, do it only once.