مشترکہ غلام آزاد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَکَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَی شُرَکَائَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے مشترک غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے اور اس کے پاس اپنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس غلام کی اندازے کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی اور باقی شرکاء کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کی جائے گی اور اس کی طرف وہ غلام آزاد ہوجائے گا ورنہ جتنا اس نے اپنے حصہ کا غلام آزاد کیا اتنا ہی ہوگا یعنی پورا آزاد نہ ہوگا۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger may peace be upon him) as saying: If anyone emancipates his share in a slave and has enough money to pay the full price for him, a fair price for the slave should be fixed, his partners given their shares, and the slave be thus emancipated, otherwise he is emancipated only to the extent of the first mans share.
مشترکہ غلام آزاد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، ابوربیع، ابوکامل، حماد، ایوب، ابن نمیر، عبیداللہ، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، اسحاق بن منصور، عبدالرزاق، ابن جریج، اسماعیل بن امیہ، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب، نافع، ابن عمر اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوکِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا قَالَ يَضْمَنُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، نصر بن انس، بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس غلام کے بارے میں فرمایا جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے پھر ایک ان میں سے (اپنا حصہ) آزاد کر دے تو وہ دوسرے شریک کے حصے کا ضامن ہوگا۔ (اگر مالدار ہو)
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The slave who is jointly owned by two persons, and is emancipated by one of them, (this one) has liability (upon him to secure complete freedom for that slave).
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
عمرناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ابی عروبہ، قتادہ، نضر بن انس، بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کا چھڑانا دوسرے حصے کا آزاد کرنا بھی اس کے مال سے ہوگا اگر اس کے پاس مال ہو اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو اس پر جبر کئے بغیر غلام محنت و مزدوری کرے
Abu Hurairah (RA) (Allah be pleased witli him) reported Allahs Prophet ﷺ as saying: If anyone emancipates a share in a slave, he is to be completely emancipated if he has money; but if he has none, the slave will be required to work to pay for his freedom, but must not be over-burdened.
و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ إِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ يُسْتَسْعَی فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، حضرت سعید بن ابی عروبہ ؓ سے بھی انہی اسناد کے ساتھ حدیث مروی ہے اور زیاتی یہ ہے کہ اگر وہ آ زاد کرنے والا مالدار نہ ہو تو غلام اپنے غیر آزاد شدہ حصہ کے لئے محنت کرے مگر اس پر جبر نہ ہوگا
This hadith has been narrated on the authority of Said bin Abu Aruba with the same chain of transmitters but with the addition: "If he (one of the joint owners emancipating the slave) has not (enough) money (to secure freedom for the other half) a fair price for the slave should be fixed, and he will be required to work to pay for his freedom, but must not be over-burdened.
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَذَکَرَ فِي الْحَدِيثِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ
ہارون بن عبداللہ، وہب، بن جریر، قتادہ، ابی عروبہ، حضرت قتادہ سے بھی حضرت ابن ابی عروبہ ہی کی طرح حدیث منقول ہے۔ الفاظ کی تبدیلی ہے معنی و مفہوم وہی ہے۔
A hadith like this is reported on the authority of the same chain of transmitters but with a slight change of words.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُکِهَا عَلَی أَنَّ وَلَائَهَا لَنَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَمْنَعُکِ ذَلِکِ فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا لہذا باندی والوں نے کہا ہم باندی کو اس شرط پر فروخت کریں گے کہ اس کی ولاء ہمارے لئے ہو۔ میں نے اس بات کا رسول اللہ ﷺ سے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے یہ بات نہ منع کرے (خریدنے سے) ولاء صرف آزاد کرنے والے کا حق ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Aisha decided to buy a slave-girl and then set her free, but her masters said: We are prepared to sell her to you on the condition that her right of inheritance would vest with us. She (Hadrat Aisha) made a mention of that to Allahs Messenger ﷺ whereupon he said: This should not stand in your way. The right of inheritance vests in one who emancipates.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَائَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي کِتَابَتِهَا وَلَمْ تَکُنْ قَضَتْ مِنْ کِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَی أَهْلِکِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَيَکُونَ وَلَاؤُکِ لِي فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَائَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْکِ فَلْتَفْعَلْ وَيَکُونَ لَنَا وَلَاؤُکِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، عروبہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ ؓ عائشہ ؓ کے پاس اپنی مکاتبت میں مدد مانگنے کے لئے آئی اور اس نے اپنی مکاتبت میں سے کچھ ادا نہ کیا تھا۔ تو سیدہ عائشہ ؓ نے اس سے کہا اپنے مالکوں کے پاس واپس جاؤ۔ پس اگر وہ پسند کریں تو میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دوں گی اور تیرا حق ولاء میرے لئے ہوجائے گا۔ بریرہ ؓ نے اپنے مالکوں سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر عائشہ ؓ ثواب کی نیت سے تجھ پر (احسان) کرنا چاہیں تو تجھ کو آزاد کردیں لیکن تیرے ولاء پر ہمارا حق ہوگا۔ سید عائشہ ؓ نے اس بات کا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا تم خریدو اور آزاد کردو کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگا ہے کہ ایسی شرطیں باندھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں اور جو ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہیں تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں اگرچہ وہ ایسی شرط سو مرتبہ لگائے۔ اللہ کی طرف سے لگائی جانے والی شرط (فرمان) ہی پوری کرنے کے لئے زیادہ حقدار اور مضبوط ہے
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Barira came to her in order to seek her help in securing freedom, but she had (so far) paid nothing out of that sum stipulated in the contract. Aisha said to her. Go to your family (who owns you), and if they like that I should pay the amount (of the contract) on your behalf (for purchasing your freedom), then I shall have the right in your inheritance. If they accepted it, I am prepared to make this payment. Barira made a mention of that to the (members of) her family, but they refused and said: If she (Hadrat Aisha) wants to do good to you for the sake of Allah, she may do it, but the right of inheritance will be ours. She (Hadrat Aisha) made a mention of that to Allahs Messenger ﷺ , and he said to her: Buy her, and emancipate her, for the right of inheritance vests with one who emancipates (the slave). Allahs Messenger ﷺ then stood up and said: What has happened to the people that they lay down conditions which are not (found) in the Book of Allah? And he who laid down a condition not found in the Book of Allah, that is not valid, even if it is laid down hundred times. The condition laid down by Allah is the most weighty and the most valid.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ فَقَالَتْ يَا عَائِشَةُ إِنِّي کَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِي کُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فَقَالَ لَا يَمْنَعُکِ ذَلِکِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ ؓ میرے ہاں آئی اور کہا اے عائشہ میرے مالکوں نے مجھے نو اوقیہ پر مکاتب بنایا ہے کہ ہر سال میں ایک اوقیہ چالیس درہم ادا کروں باقی حدیث حضرت لیث کی حدیث کی طرح ہے اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس بات سے اپنے ارادہ کو ترک نہیں کردینا چاہئے تو اسے خرید اور آزاد کر اور فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے لوگوں میں پس اللہ کی تعریف اور ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اما بعد باقی حدیث گزر چکی۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported: Barira came to me and said: Aisha, I have entered into contract for securing freedom with my family (who owns me) for nine uqiyas (of silver), one uqiya every year. The rest of the hadith is the same (but with this addition): "This (the problem of the right of inheritance) should not stand in your way. Buy her, and set her free. He said in a hadith: Allahs Messenger ﷺ stood up among men, extolled Allah, praised Him, and then said: "for......"
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنَّ أَهْلِي کَاتَبُونِي عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي کُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شَائَ أَهْلُکِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَکِ وَيَکُونَ الْوَلَائُ لِي فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْوَلَائُ لَهُمْ فَأَتَتْنِي فَذَکَرَتْ ذَلِکَ قَالَتْ فَانْتَهَرْتُهَا فَقَالَتْ لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمْ الْوَلَائَ فَإِنَّ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْتَقَ فَفَعَلْتُ قَالَتْ ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَةَ شَرْطٍ کِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْکُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَائُ لِي إِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
ابوکریب، محمد بن العلاء ہمدانی، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے پاس حضرت بریرہ آئی اور کہا کہ میرے مالکوں نے مجھے نو اوقیہ نو سالوں میں ہر سال میں ایک اوقیہ ادا کرنے پر مکاتب بنایا ہے آپ ؓ میری مدد کریں تو میں نے اس سے کہا اگر تیرے مالک چاہیں تو میں ان کو یہ بدل کتابت ایک ہی دفعہ ادا کروں اور تجھے آزاد کر دوں اور ولاء میرے لئے ہوجائے گا تو بریرہ ؓ نے اس بات کا اپنے مالکوں سے ذکر کیا انہوں نے انکار کردیا سوائے اس کے کہ ولاء ان کے لئے ہو وہ میرے پاس آئیں اور اس کا ذکر کیا تو میں نے اسے جھڑکا تو اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ایسا نہیں جب اس نے یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے سنا اور مجھ سے پوچھا تو میں نے آپ ﷺ کو خبر دی آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کو خرید اور آزاد کر اور ولاء کی شرط انہیں کے لئے کرلے کیونکہ ولاء کا حق تو اس کو ملے گا جس نے آزاد کیا تو میں نے ایسا ہی کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے شام کو خطبہ دیا اللہ کی حمدوثناء بیان کی جیسے اس کے لائق ہے پھر اس کے بعد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ایسی شرائط باندھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل ہے اگرچہ سو شرائط ہوں تو بھی اللہ کی کتاب زیادہ حقدار ہے اور اللہ کی شرط ہی زیادہ مضبوط ہے تم میں سے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کوئی کہتا ہے کہ فلاں آزاد کرے اور ولاء کا حق میرے لئے ہو بیشک ولاء کا حق اسی کے لئے ہے جس نے آزاد کیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Barira came to me and said: My family (owners) have made contract with me (for granting freedom) for nine uqiyas (of silver) payable in nine years, one uqiya every year. Help me (in making this payment). I said to her: If your family so desires, I am prepared to make them the full payment in one instalment, and thus secure freedom for you, but the right of inheritance will vest in me, if I do so. She (Barira) made a mention of that to her family, but they refused (except) on the condition that the right of inheritance would vest in them. She came to me and made mention of if. She (Aisha) said: I scolded her. She (Barira) said: By Allah, it is not possible (they will never agree to it). And as she was saying it, Allahs Messenger ﷺ heard, and he asked me, I informed him and he said: Buy her and emancipate her, and let the right of inheritance vest in them, for they cannot claim it (rightfully) since the right of inherritance vests with one who emancipates (the slave; therefore, these people have no right to lay such false claims). And I did so. She (Aisha) said: Then Allahs Messenger ﷺ delivered a sermon in the evening. He extolled Allah and praised Him with what He deserves, and then said afterwards,: What has happened to the people that they lay down conditions which are not found in the Book of Allah? And the condition which is not found in the Book of Allah is invalid, even if its number is one hundred. The Book of Allah is more true (than any other deed) and the condition laid down by Allah is more binding (than any other condition). What has happened to the people among you that someone among you says: "Emancipate so and so, but the right of inheritance vests in me"? Verily, the right of inheritance vests in one who emancipates.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ وَکَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ کَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ أَمَّا بَعْدُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ابوکریب، وکیع، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کا خاوند غلام تھا بریرہ کو رسول اللہ ﷺ نے اختیار دیا نکاح میں رہنے یا نہ رہنے کا تو بریرہ ؓ نے اپنے نفس کو اختیار کیا یعنی نکاح میں رہنے کا فیصلہ کیا اور اگر وہ آزاد ہوتے تو اس کو اس بات کا اختیار نہ دیا جاتا باقی حدیث اوپر والی حدیث ہی کی طرح ہے۔
Hisham bin Urwa narrated a hadith like this with the same chain of trans mitters except (with this change) that in the hadith transmitted on the authority of jarir (the words are): Her (Bariras) husband was a slave, so Allahs Messenger ﷺ gave her the option (either to retain her matrimonial relation with her husband or sever it off). She opted to break off (and secure freedom for her even from the matrimonial alliance). And if he were free he would not have given her the option. In the hadith narrated on the authority (of this chain of transmitters) these words are not found: Amma badu.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَائَهَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَتْ وَعَتَقَتْ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَتْ وَکَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَکُمْ هَدِيَّةٌ فَکُلُوهُ
زہیر بن حرب، محمد بن العلاء، ابومعاویہ، ہاشم بن عروہ، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کے بارے میں تین مسائل پیدا ہوئے ایک تو یہ کہ اس کے مالکوں نے اس کے بیچنے کا تو ارادہ کیا لیکن اس کی ولاء کی شرط رکھی میں نے اس بات کا نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کو خرید لے اور آزاد کر دے بیشک ولاء کا حق اسی کو ہے جس نے آزاد کیا دوسرا یہ کہ وہ آزاد کردی گئیں رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے نفس کو یعنی علیحدگی کو پسند کیا تیسرا یہ کہ لوگ بریرہ کو صدقہ دیا کرتے تھے اور وہ ہمارے لئے ہدیہ کرتی تھیں میں نے اس بات کو نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہے اور تمہارے لئے ہدیہ ہے اس کو کھاؤ۔
Abdul Rahman bin al. Qasim reported on the authority of his father: Aisha (Allah be pleased with her) said: There were three issues which were clarified in case of Barira: her owners had decided to sell her on the condition that the right of her inheritance would vest with them. She (Aisha) said: I made a mention of that to Allahs Apostle ﷺ and he said: Buy her and emancipate her, for verily the right of inheritance vests with one who emancipates. She said that she emancipated (her) and Allahs Messenger ﷺ gave her the option (either to retain her matrimonial alliance or break it after emancipation). She (taking advantage of the option) opted for herself (the severing of matrimonial alliance). Aisha said: The people used to give her charity and she gave us that as gift. I made a mention of it to Allahs Apostle ﷺ , whereupon he said: That is charity for her but gift for you, so take that.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلَائَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَائُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ قَالَتْ عَائِشَةُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، سماک، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے انصاریوں سے بریرہ ؓ کو خرید لیا اور انہوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ولاء اس کا حق ہے جو نعمت کا والی ہو اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو خیار آزادی دیا اور اس کا خاوند غلام تھا اور اس نے سیدہ عائشہ ؓ کے لئے گوشت ہدیہ بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کاش تم اس گوشت میں سے ہمارے لئے بھی پکاتیں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا کہ یہ بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
Aisha (Allahs be pleased with her) reported that she had bought Barira from the people of Ansar, but they laid down the condition that the right of inheritance (would vest in them), whereupon Allahs Messenger ﷺ said: The right of inheritance vests with one who shows favour (who emancipates) and Allahs Messenger ﷺ gave her the choice (either to retain) her matrimonial alliance or break it). Her husband was a slave. She (Barira also) gave Aisha some meat as gift. Allahs Messenger ﷺ said: I wish you could prepare (cook) for us out of this meat. Aisha said, It has been given as charity to Barira, whereupon he said: That is charity for her and gift for us.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ فَاشْتَرَطُوا وَلَائَهَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ وَخُيِّرَتْ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَکَانَ زَوْجُهَا حُرًّا قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا فَقَالَ لَا أَدْرِي
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکوں نے اس کے ولاء کی شرط رکھی سیدہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اس کو خرید اور آزاد کر کیونکہ ولاء کا حق اسی کو ہے جس نے آزاد کیا اور رسول اللہ ﷺ کو گوشت ہدیہ کیا گیا تو صحابہ ؓ نے کہا کہ یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے اور اس کو خیار دیا گیا عبدالرحمن نے کہا: خاوند آزاد تھا۔ شعبہ نے کہا پھر میں نے عبدالرحمن ؓ اس کے خاوند کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: She wanted to buy Barira with a view to emancipating her. They (the sellers) laid down the condition that the right of inheritance would vest (with them). She (Hadrat Aisha) made a mention of that to Allahs Messenger ﷺ , whereupon he said: Buy her and emancipate her for the right of inheritance vests with one who emancipates. Allahs Messenger ﷺ was given meat as gift. They (his Companions) said to Allahs Apostle ﷺ : This was given as charity to Barira, whereupon he said: That is charity for her but gift for us. And she was given option (to retain her matrimonial alliance or to break it). Abdul Rahman said: Her husband was a free man. Shubah said: I then asked him (one of the narrators) about Bariras husband (whether he had been a free mart or a slave), whereupon he said: I do not know.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
احمد بن عثمان نوفلی، ابوداود، حضرت شعبہ سے اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ أَبُو هِشَامٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن ہشام، مثنی، مغیرہ بن سلمہ مخزومی، ابوہشام، وہیب، عبیداللہ، یزید بن رومان، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ کا خاوند غلام تھا۔
Aisha reported that the husband of Barira was a slave.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ عَلَی زَوْجِهَا حِينَ عَتَقَتْ وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ عَلَی النَّارِ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدُمٍ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَی النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ فَقَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِکَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی بَرِيرَةَ فَکَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَکَ مِنْهُ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا إِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
ابوطاہر، ابن وہب، مالک بن انس، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ میں تین احکام تھے: ایک یہ کہ جب وہ آزاد کی گئی تو اسے اپنے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا اور اس کو یعنی عائشہ ؓ کو گوشت ہدیہ کیا گیا رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور دیگچی آگ پر رکھی ہوئی تھی آپ ﷺ نے کھانا منگوایا آپ ﷺ کو روٹی اور گھر کے سالن میں سے سالن پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں نے آگ پر رکھی دیگچی میں گوشت نہ دیکھا تھا قریب موجود صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ گوشت بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا ہے اور ہم نے آپ ﷺ کو اس میں سے کھلانا پسند نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) the wife of Allahs Apostle ﷺ (may Peace be upon him) said: Three are the Sunan (usages) (that we came to know in case of Barira). She was given option in regard to her husband when she was emancipated. Sbe was given meat as charity. Allahs Messenger ﷺ visited me when an earthen pot with meat in it was placed on the fire. He asked for food and he was given bread with ordinary meat (usually cooked in the house). Thereupon he (Allahs Messenger) said: Dont I see the earthen pot on fire with meat in it? They said: Yes. Allahs Messenger, there is meat in it which was given as charity to Barira. We did not deem it advisable that we should give you that to eat, whereupon he said: It is charity for her, but it is gift for us. Allahs Apostle ﷺ also said: The right of inheritance vests with one who emancipates.
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَأَبَی أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَکُونَ لَهُمْ الْوَلَائُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَمْنَعُکِ ذَلِکِ فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، سہیل بن ابی صالح، حضرت بریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکوں نے انکار کردیا الاّ یہ کہ ولاء ان کے لئے ہوگا عائشہ صدیقہ نے اس بات کا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ بات تجھے آزاد کرنے سے منع نہ کرے کیونکہ ولاء اسی کا حق جو آزاد کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Aisha (Allah be pleased with her) thought of buying a slave-girl and emancipating her, but her owners refused to (sell her but on the condition) that the right of inheritance would vest in them. She made a mention of that to Allahs Messenger ﷺ . whereupon he said: Let this (condition) not stand in your way for the right of inheritance vests with one who emancipates.
ولا کی بیع اور ہبہ کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الْوَلَائِ وَعَنْ هِبَتِهِ قَالَ مُسْلِم النَّاسُ کُلُّهُمْ عِيَالٌ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
یحییٰ بن یحیی، تمیمی، سلیمان بن بلال، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (may peace he upon him) forbade the selling and making a gift of the right of inheritance of a slave. Imam Muslim said: All the persons depend uponAbdullah bin Dinar in regard to this hadith.
ولا کی بیع اور ہبہ کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ الثَّقَفِيَّ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَّا الْبَيْعُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْهِبَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن جریر، اسماعیل بن جعفر، ابن نمیر، سفیان بن سعید، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابن مثنی، عبدالوہاب، عبیداللہ، ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک ابن عثمان، عبداللہ بن دینار، ابن عمر اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں لیکن ثقفی کی حدیث میں بیع کا ذکر ہے ہبہ کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters but with this change that in tbe hadith narrated by al-Thaqafi from Ubaidullah there is only a mention of selling (or right of inheritance, al-Wala) but not that of making a gift.