منافقین کی صفات اور ان کے احکام کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 53 · 106 hadiths · Page 1 of 6

7024Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوا عَلَی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّی يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَائَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِکَ فَأَرْسَلَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ فَقَالَ کَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوهُ شِدَّةٌ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقِي إِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالَ ثُمَّ دَعَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ فَلَوَّوْا رُئُوسَهُمْ و قَوْله کَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ وَقَالَ کَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْئٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسیٰ زہیر بن معاویہ ابواسحاق حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں نکلے جس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے پاس سے جدا اور دور ہوجائیں زہیر نے کہا یہ قرأت اس کی قرأت ہے جس نے حولہ پڑھا ہے اور عبداللہ بن ابی نے یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو عزت والے مدینہ سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے پس میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس بات کی خبر دی پس آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو بلانے کے لئے بھیجا پھر اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھا کر کہا میں نے ایسا نہیں کہا اور کہنے لگا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ کہا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی اس بات سے میرے دل میں بہت رنج اور دکھ واقع ہوا یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے میری تصدیق کے لئے یہ آیت نازل کی (اِذَا جَا ءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ) 63۔ المنافقون: 1) کہ جب آپ ﷺ کے پاس منافقین آئیں پھر نبی ﷺ نے انہیں بلوایا تاکہ ان کے لئے مغفرت طلب کریں لیکن انہوں نے اپنے سروں کر موڑ لیا (نہ آئے) اور پھر اللہ عزوجل کا قول (کَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ) گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں دیوار پر لگائی ہوئی انہیں کے بارے میں نازل ہوا حضرت زید نے کہا یہ لوگ بظاہر بہت اچھے اور خوبصورت معلوم ہوتے تھے۔

Zaid bin Arqam reported: We set out on a journey along with Allahs Messenger ﷺ in which we faced many hardships. Abdullah bin Ubayy said to his friends: Do not give what you have in your possession to those who are with Allahs Messenger ﷺ until they desert him. Zubair said: That is the reciting of that person who recited as min haulahu (from around him) and the other reciting is man haulahu (who are around him). And in this case when we would return to Madinah the honourable would drive out the meaner therefrom (lxiv. 8). I came to Allahs Apostle ﷺ and informed him about that and he sent someone to Abdullah bin Ubayy and he asked him whether he had said that or not. He took an oath to the fact that he had not done that and told that it was Zaid who had stated a lie to Allahs Messenger ﷺ . Zaid said: I was much perturbed because of this until this verse was revealed attesting my truth: "When the hypocrites come" (lxiii. 1). Allahs Apostle ﷺ then called them in order to seek forgiveness for them, but they turned away their heads as if they were hooks of wood fixed in the wall (lxiii. 4), and they were in fact apparently good-looking persons.

7025Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا أَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ فَوَضَعَهُ عَلَی رُکْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، احمد بن عبدہ ضبی ابن ابی شیبہ ابن عبدہ سفیان بن عیینہ، عمرو، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لے گئے اور اسے اس کی قبر سے نکلوایا پھر اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنا لعاب مبارک اس پر تھوکا اور اپنی قمیض اسے پہنائی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

Jabir reported Allahs Apostle ﷺ came to the grave of Abdullah bin Ubayy, brought him out from that, placed him on his knee and put his saliva in his mouth and shrouded him in his own shirt and Allah knows best.

7026Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا جَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ

احمد بن یوسف ازدی عبدالرزاق، ابن جریج، عمرو بن دینار، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ روایت ہے کہ نبی ﷺ عبداللہ بن ابی کی قبر کی طرف اس کے دفن کئے جانے کے بعد تشریف لائے باقی حدیث سفیان کی حدیث کی طرح ہے۔

Jabir bin Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ came to the grave of Abdullah bin Ubayy as he was placed in that. The rest of the hadith is the same.

7027Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ جَائَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُکَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاکَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُهُ عَلَی سَبْعِينَ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ

ابوبکر بن ابی شبہ ابواسامہ، عبیداللہ بن عمر ؓ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی سلول فوت ہوگیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ ﷺ سے آپ ﷺ کی قمیض مانگنے کے لئے آیا جس میں اس کے باپ کو کفن دیا جائے پس آپ ﷺ نے قمیض اسے عطا کردی پھر اس نے عرض کیا آپ ﷺ اس پر نماز جنازہ پڑھیں پس رسول اللہ ﷺ اس کا جنازہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھنا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ ﷺ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ نے اختیار دیا ہے اللہ عزوجل نے فرمایا ہے آپ ﷺ ان کے لئے مغفرت مانگیں یا استغفار نہ کریں اگر آپ ﷺ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی مغفرت طلب کریں گے اور میں اس کے لئے ستر سے بھی زیادہ دفعہ مغفرت طلب کروں گا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا وہ تو منافق ہے پس رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت مبارکہ نازل کی (وَلَا تُصَلِّ عَلٰ ي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِه) 9۔ التوبہ: 84) ان میں سے کوئی بھی آدمی مرجائے تو اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھائیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔

Ibn Umar reported that when Abdullah bin Ubayy bin Salul died, his son Abdullah bin Abdullah (b. Ubayy) came to Allahs Messenger ﷺ and begged him that he should give him his shirt which he would use as a coffin for his father, he gave him that. He then begged that he should conduct funeral prayer for him. Allahs Messenger ﷺ had hardly got up to observe the prayer for him that Umar stood up and caught hold of the garment of Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, are you going to conduct prayer for this man, whereas Allah has forbidden you to offer prayer for him? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Allah has given me an option as He has said: "You may beg pardon for them or you may not beg pardon for them, and even if you beg pardon for them, seventy times" (ix. 80), and I am going to make an addition to the seventy. He was a hypocrite and Allahs Messenger ﷺ offered prayer for him and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "Do not offer prayer for any one of them at all and do not stand upon their graves for (offering prayer over them)" (ix. 84).

7028Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ قَالَ فَتَرَکَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ

محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ قطان عبیداللہ یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے منافقوں پر نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دی۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah with the same chain of transmitters but with this addition: "He then abandoned offering (funeral) prayer for them."

7029Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ کَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتُرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ وَقَالَ الْآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الْآخَرُ إِنْ کَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَهُوَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُودُکُمْ الْآيَةَ

محمد بن ابی عمر مکی، سفیان، منصور مجاہد ابی معمر، حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بیت اللہ کے پاس تین آدمی جمع ہوئے دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی، ان کے دلوں میں سمجھ بوجھ کم تھی ان کے پیٹوں میں چربی زیادہ تھی پس ان میں سے ایک نے کہا تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ ہماری بات کو سنتا ہے اور دوسرے نے کہا اگر ہم بلند آواز سے بولیں تو سنتا ہے اور اگر آہستہ بولیں تو نہیں سنتا تیسرے نے کہا اگر وہ ہماری بلند آواز کو سنتا ہے تو وہ ہماری آہستہ آواز کو بھی سنتا ہے تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (وَمَا كُنْتُمْ تَسْ تَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ ) 41۔ فصلت: 22) تم (اپنے گناہ) اس لئے نہیں چھپاتے تھے کہ تمہارے کان اور آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گے بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو نہیں جانتا جو تم کرتے ہو۔

Ibn Masud reported that there gathered near the House three persons amongst whom two were Quraishi and one was a Thaqafi or two were Thaqafis and one was a Quraishi. They lacked understanding but wore more flesh. One of them said: Do you think that Allah hears as we speak? The other one said: He does hear when we speak loudly and He does not hear when we speak in undertones, and still the other one said: If He listens when we speak loudly, He also listens when we speak in undertones. It was on this occasion that this verse was revealed: "You did not conceal yourselves lest your ears, your eyes and your skins would stand witness against you" (xli. 22).

7030Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ح و قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ

ابوبکر بن خلاد باہلی ابن سعید سفیان، سلیمان عمیر وہب بن ربیعہ عبداللہ یحیی، منصور مجاہد ابی معمر، عبداللہ ؓ ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah through another chain of transmitters.

7031Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ فَرَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ قَالَ بَعْضُهُمْ نَقْتُلُهُمْ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا فَنَزَلَتْ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ

عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، عدی ابن ثابت عبداللہ بن یزید حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ غزوہ کے لئے نکلے پس آپ ﷺ کے ساتھ جانے والوں میں کچھ لوگ واپس آگئے پس اصحاب النبی ﷺ واپس جانے والوں کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ان میں بعض نے کہا ہم انہیں قتل کریں گے اور بعض نے کہا نہیں تو اللہ رب العزت نے (فَمَالَکُم فِی المَنَافِقِینَ فِئَتَینِ ) نازل کی تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تم دو گرہوں میں تقسیم ہوگئے۔

Zaid bin Thabit reported that Allahs Apostle ﷺ set out for Uhud. Some of those persons who were with them came back. The Companions of Allahs Apostle ﷺ were divided in two groups. One group said: We would kill them, and the other one said: No, this should not be done, and it was on this occasion that this verse was revealed: "Why should you, then, be two parties in relation to hypocrites?" (iv. 88).

7032Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید ابوبکر بن نافع غندر شعبہ ؓ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.

7033Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رِجَالًا مِنْ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنْ الْعَذَابِ

حسن بن علی حلوانی محمد بن سہل تمیمی ابن ابی مریم محمد بن جعفر، زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں منافقین میں سے بعض ایسے تھے جو جب نبی ﷺ غزوہ کے لئے نکلے تو وہ پیچھے رہ گئے اور نبی ﷺ کے خلاف بیٹھ جانے سے خوش ہوئے جب نبی ﷺ واپس تشریف لائے تو انہوں نے آپ ﷺ سے معذرت کی اور قسم اٹھائی اور انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ ان کی تعریف کی جائے اس کام پر جو انہوں نے سر انجام نہیں دیئے تو آیت (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ) 3۔ ال عمران: 188) نازل ہوئی اپنے کئے پر خوش ہونے والے لوگوں کو مت گمان کرو جو پسند کرتے ہیں اس بات کو کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے اعمال پر جو انہوں نے سر انجام نہیں دئے پس آپ ﷺ ان کے بارے میں عذاب سے نجات کا گمان نہ کریں۔

Abu Said Khudri reported that during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ the hypocrites behaved in this way that when Allahs Apostle ﷺ set out for a battle, they kept themselves behind, and they became happy that they had managed to sit in the house contrary to (the act of) Allahs Messenger ﷺ , and when Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) came back, they put forward excuses and took oath and wished that people should laud them for the deeds which they had not done. It was on this occasion that this verse was revealed: "Think not that those who exult in what they have done, and love to be praised for what they have not done-think not them to be safe from the chastisement; and for them is a painful chastisement" (iii. 18).

7034Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَئِنْ کَانَ کُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أَتَی وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا لَکُمْ وَلِهَذِهِ الْآيَةِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ الْکِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُونَهُ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ فَکَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِکَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ کِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ

زہیر بن حرب، ہارون بن عبداللہ زہیر حجاج بن محمد ابن جریج، ابن ابی ملیکہ حمید بن عبدالرحمن بن عوف مروان حضرت حمید بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ابن عباس کے پاس جاؤ اور کہو کہ اگر ہم میں سے ہر آدمی اپنے کئے ہوئے عمل پر خوش ہو اور وہ اس بات کو پسند کرے کہ اس کی تعریف ایسے عمل میں کی جائے جو اس نے سر انجام نہیں دیا تو اسے عذاب دیا جائے گا پھر تو ہم سب کو ہی عذاب دیا جائے گا تو ابن عباس ؓ نے کہ تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے حالانکہ یہ آیت تو اہل کتاب کے بارے میں نازل کی گئی تھی پھر ابن عباس ؓ نے (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّه لِلنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَه) 3۔ آل عمران: 187) تلاوت کی اور جب اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ لیا جنہیں کتاب دی گئی کہ تم ضرور بضرور اسے لوگوں کے لئے بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں اور ابن عباس ؓ نے (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ) 3۔ آل عمران: 188) تلاوت کی ان کو ہرگز نہ گمان کرنا (مومن) جو اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں اس بات کو کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں پر جو انہوں نے سر انجام نہیں دیئے ابن عباس ؓ نے فرمایا نبی ﷺ نے ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس چیز کو آپ سے چھپایا اور اس کے علاوہ دوسری بات کی خبر دی پھر نکلے اس حال میں خوش ہوتے ہوئے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اس بات کی اطلاع دے دی ہے جو آپ ﷺ نے ان سے پوچھی تھی پس انہوں نے آپ ﷺ سے اس بات پر تعریف کو طلب کیا اور جو بات بتائی اور آپ نے ان سے جو بات پوچھی اسے آپ ﷺ سے چھپانے کی وجہ سے خوش ہوئے۔

Humaid bin Abdul Rahman bin Auf reported that Marwan said to Rafi, his chamberlain, that he should go to Ibn Abbas and ask him: If every one of us be punished for his being happy upon his deed and for his being praised for what he has not done, nobody would be saved from the torment. Ibn Abbas said: What you have to do with this verse? It has been in fact revealed in connection with the people of the Book." Then Ibn Abbas (RA) recited this verse: "When Allah took a covenant from those who had been given the Book: You shall explain it to people and shall not conceal this" (iii. 186), and then Ibn Abbas recited this verse: "Think not that those who exult in what they have done and love to be praised for what they have not done" (iii. 186). Ibn Abbas (further) said: Allahs Apostle ﷺ asked them about something and then they concealed that and they told him something else and they went out and they thought that they had informed him as he had asked them and they felt happy of what they had concealed.

7035Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَکُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً وَلَکِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّی يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَکْفِيکَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسود بن عامر شعبہ بن حجاج قتاہ ابی نضرہ حضرت قیس سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمار ؓ سے کہا آپ اپنے اس عمل کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں جو آپ نے حضرت علی ؓ کے معاملہ میں اختیار کیا؟ (انکا ساتھ دیا) کیا وہ تمہاری اپنی رائے تھی جسے تم نے اختیار کیا یا کوئی ایسی چیز تھی جس کا وعدہ تم سے رسول اللہ ﷺ نے لیا تھا انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کوئی ایسا وعدہ نہیں لیا تھا جس کا وعدہ آپ ﷺ نے تمام لوگوں سے نہ لیا ہو لیکن حذیفہ نے مجھے نبی ﷺ سے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کی طرف منسوب لوگوں میں سے بارہ آدمی منافق ہیں ان میں سے آٹھ آدمی جنت میں داخل نہ ہوں گے اور یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے آگ کا شعلہ ان میں سے آٹھ کے لئے کافی ہوگا اور چار کے بارے میں مجھے یاد نہیں رہا کہ شعبہ نے ان کے بارے میں کیا کہا۔

Qais reported: I said to Ammar: What is your opinion about that which you have done in case (of your siding with Hadrat Ali)? Is it your personal opinion or something you got from Allahs Messenger ﷺ ? Ammar said: We have got nothing from Allahs Messenger ﷺ which people at large did not get, but Hudhaifa told me that Allahs Apostle ﷺ had especially told him amongst his Companion, that there would be twelve hypocrites out of whom eight would not get into Paradise, until a camel would be able to pass through the needle hole. The ulcer would be itself sufficient (to kill) eight. So far as four are concerned, I do not remember what Shubah said about them.

7036Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ قُلْنَا لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتَ قِتَالَکُمْ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي أُمَّتِي قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ وَقَالَ غُنْدَرٌ أُرَاهُ قَالَ فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّی يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَکْفِيکَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَکْتَافِهِمْ حَتَّی يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ ابی نضرہ حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ ہم نے عمار سے عرض کیا کیا تم نے اپنے قتال (معاویہ و علی کے درمیان جنگ) میں اپنی رائے سے شرکت کی تھی حالانکہ رائے میں خطاء بھی ہوتی ہے اور درستگی بھی یا یہ کوئی وعدہ تھا جس کا تم سے رسول اللہ ﷺ نے عہد لیا ہو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کوئی ایسا وعدہ نہیں لیا جس کا وعدہ آپ ﷺ نے تمام لوگوں سے نہ لیا ہو اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک میری امت میں شعبہ نے کہا راوی نے کہا کہ حضرت حذیفہ نے حدیث بیان کی اور غندر نے کہا میں بھی یہی خیال کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں بارہ منافق ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے ان میں سے آٹھ کے لئے دبیلہ (آگ کا شعلہ) کافی ہوگا جو ان کے کندھوں سے ظاہر ہوگا یہاں تک کہ ان کی چھاتیاں توڑ کر نکل جائے گا۔

Qais bin Ubad reported: We said to Ammar: Was your fighting (on the side of Ali in the Battle of Siffin) a matter of your own choice or you got its hints from Allahs Messenger ﷺ for it is likely for one to err in ones own discretion or was it because of any covenant that Allahs Messenger ﷺ got from you? He said: It was not because of any covenant that Allahs Messenger ﷺ got from us which he did get from other people, and he further said that Allahs Messenger ﷺ said: "In my Ummah." And I think that Hudhaifa reported to me and according to Ghundar (the words are) that he said: In my Ummah, there would be twelve hypocrites and they would not be admitted to Paradise and they would not smell its odour, until the camel would pass through a needles hole. Dubaila (ulcer) would be enough to (torment them) -a kind of flame of Fire which would appear in their shoulders and it would protrude from their chest.

7037Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ کَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَکُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ کَمْ کَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَکَ قَالَ کُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَإِنْ کُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ کَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً قَالُوا مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ وَقَدْ کَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَی فَقَالَ إِنَّ الْمَائَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ

زہیر بن حرب، ابواحمد کوفی ولید بن جمیع حضرت ابوطفیل سے روایت ہے کہ اہل عقبہ میں سے ایک آدمی اور حضرت حذیفہ ؓ کے درمیان عام لوگوں کی طرح جھگڑا ہوا تو انہوں نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ بتاؤ اصحاب عقبہ کتنے تھے (حضرت حذیفہ ؓ سے) لوگوں نے کہا آپ ان کے سوال کا جواب دیں جو انہوں نے آپ سے کیا ہے حضرت حذیفہ ؓ نے کہا ہم کو خبر دی جاتی تھی کہ وہ چودہ تھے اور اگر تم بھی انہیں میں سے ہو تو وہ پندرہ ہوجائیں گے میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ ایسے تھے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول کے رضامندی کے لئے جہاد کیا۔

Abu Tufail reported that there was a dispute between Hudhaifa and one from the people of Aqabah as it happens amongst people. He said: I adjure you by Allah to tell me as to how many people were from Aqabah. The people said to him (Hudhaifa) to inform him as he had asked. We have been informed that they were fourteen and If you are to be counted amongst them, then they would be fifteen and I state by Allah that twelve amongst them were the enemies of Allah and of His Messenger ﷺ in this world. The rest of the three put forward this excuse: We did not hear the announcement of Allahs Messenger ﷺ and we were not aware of the intention of the people as he (the Holy Prophet) had been in the hot atmosphere. He (the Holy Prophet) then said: The water is small in quantity (at the next station), so nobody should go ahead of me, but he found people who had gone ahead of him and he cursed them on that day.

7038Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُلُّکُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُکُمْ قَالَ وَکَانَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ

عبیداللہ بن معاذ عبنری ابی قرہ بن خالد ابی زبیر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو ثنیہ المرار گھاٹی پر چڑھے گا اس کے گناہ اس سے اسی طرح ختم ہوجائیں گے جس طرح بنی اسرائیل سے ان کے گناہ ختم ہوئے تھے پس سب سے پہلے اس پر چڑھنے والا ہمارا شہسوار یعنی بنو خزرج کے گھوڑے چڑھے پھر دوسرے لوگ یکے بعد دیگرے چڑھنا شروع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سب کے سب بخش دیئے گئے ہو سوائے سرخ اونٹ والے آدمی کے ہم اس کے پاس گئے اور اس سے کہا چلو رسول اللہ تیرے لئے مغفرت طلب کریں گے اس نے کہا اللہ کی قسم اگر میں اپنی گمشدہ چیز کو حاصل کروں تو یہ میرے نزدیک تمہارے ساتھی کی میرے لئے مغفرت مانگنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور وہ آدمی اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: He who climbed this hill, the hill of Murar, his sins would be obliterated as were obliterated the sins of Bani Israil. So the first to take their horses were the people of Banu Khazraj. Then there was a ceaseless flow of persons and Allahs Messenger ﷺ said to them: All of you are those who have been pardoned except the owner of a red camel. We came to him and said to him: You also come on, so that Allahs Messenger ﷺ may seek forgiveness for you. But he said: By Allah, so far as I am concerned, the finding of something lost is dearer to me than seeking of forgiveness for me by your companion (the Holy Prophet), and he remained busy in finding out his lost thing.

7039Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوْ الْمَرَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَائَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، قرہ ابوزبیر، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو ثنیہ المرار یا مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے اور اس میں یہ ہے کہ وہ دیہاتی آیا جو اپنی گمشدہ چیز کو تلاش کر رہا تھا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who would climb this hill of Murar. The rest of the hadith is the same but with this variation that it was a desert Arab who was finding out his lost thing.

7040Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَکَانَ يَکْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّی لَحِقَ بِأَهْلِ الْکِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوهُ قَالُوا هَذَا قَدْ کَانَ يَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ فَأُعْجِبُوا بِهِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَی وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَی وَجْهِهَا ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ فَوَارَوْهُ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَی وَجْهِهَا فَتَرَکُوهُ مَنْبُوذًا

محمد بن رافع ابونضر سلیمان ابن مغیرہ ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ہم بنی نجار میں سے ایک آدمی نے سورت البقرہ اور آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور وہ رسول اللہ ﷺ کے لئے لکھا کرتا تھا وہ بھاگ کر چلا گیا یہاں تک کہ اہل کتاب کے ساتھ جا کر مل گیا پس اہل کتاب نے اس کی بڑی قدر ومنزلت کی اور کہنے لگے کہ یہ وہ آدمی ہے جو محمد ﷺ کے لئے لکھا کرتا ہے وہ خوش ہوئے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن انہیں میں توڑ دی پس انہوں نے گڑھا کھود کر اسے چھپا دیا پس جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہے انہوں نے پھر اس کے لئے گڑھا کھودا اور اسے دفن کردیا لیکن صبح پھر زمین نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا انہوں نے دوبارہ اس کے لئے گڑھا کھودا اور اسے دفن کردیا پس صبح پھر زمین نے اسے نکال کر باہر پھینک دیا انہوں نے اسے اسی طرح باہر پھینکا ہوا چھوڑ دیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: There was a person amongst us who belonged to the tribe of Bani Najjar and he recited Sura al-Baqarah and Surat Al-Imran and he used to transcribe for Allahs Messenger ﷺ . He ran away as a rebel and joined the People of the Book. They gave it much importance and said: He is the person who used to transcribe for Muhammad and they were much pleased with him. Time rolled on that Allah caused his death. They dug the grave and buried him therein, but they found to their surprise that the earth had thrown him out over the surface. They again dug the grave for him and buried him but the earth again threw him out upon the surface. They again dug the grave for him and buried him but the earth again threw him out upon the surface. At last they left him unburied.

7041Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا کَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ تَکَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاکِبَ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ الْمُنَافِقِينَ قَدْ مَاتَ

ابوکریب محمد بن علاء، حفص ابن غیاث اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر سے آئے جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آندھی اتنے زور سے چلی قریب تھا کہ سوار زمین میں دھنس جائے پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لئے بھیجی گئی ہے جب آپ ﷺ مدینہ پہنچے تو منافقین میں سے ایک بہت بڑا منافق مرچکا تھا۔

Jabir reported that Allahs Messenger ﷺ came back from a journey and as he was near Madinah, there was such a violent gale that the mountain seemed to be pressed. Allahs Messenger ﷺ said: This wind has perhaps been made to blow for the death of a hypocrite, and as he reached Madinah a notorious hypocrite from amongst the hypocrites had died.

7042Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا قَالَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَشَدَّ حَرًّا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ

عباس بن عبدالعظیم عنبری ابومحمد نضر بن محمد بن موسیٰ یمامی عکرمہ حضرت ایاس ؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے میرے باپ نے حدیث روایت کی کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک بیمار کی عیادت کی جسے بخار ہو رہا تھا میں نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو میں نے کہا اللہ کی قسم میں نے آج تک کسی بھی آدمی کو اتنا تیز بخار نہیں دیکھا اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں قیامت کے دن اس سے زیادہ گرم جسم والے آدمی کے بارے میں خبر نہ دوں یہ دو آدمی ہیں جو سوار ہو کر منہ پھیر کر جا رہے ہیں ان دو آدمیوں کے بارے میں فرمایا جو اس وقت بظاہر آپ ﷺ کے اصحاب میں سے (سمجھے جاتے) تھے۔

Iyas reported on the authority of his father: We went along with Allahs Messenger ﷺ to visit a person suffering from fever. When I placed my hand upon him, I said: By Allah, I have never seen, till this day, a person running higher temperature than he. Thereupon Allahs Apostle ﷺ , turning his face to his companions, said: May I not inform you of a severer temperature than this which these two persons would run on the Day of Resurrection? And they were two hypocrites riding upon the camel turning their back towards (the Muslims).

7043Sahih Muslim

منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَی هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَی هَذِهِ مَرَّةً

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عبیداللہ محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی عبیداللہ بن نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ماری ماری پھرتی ہے کبھی اس ریوڑ میں چرتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The similitude of a hypocrite is that of a sheep which roams aimlessly between two flocks. She goes to one at one time and to the other at another time.