منافقین کی خصلتون اور ان کے احکام کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ تَکِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری موسیٰ بن عقبہ نافع اس سند سے بھی حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں ہے کبھی وہ اس ریوڑ میں گھس آتی اور کبھی دوسرے ریوڑ میں۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ saying like this but with this change of words: "She sometimes finds a way in one flock and then in another flock."
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَئُوا فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا
ابوبکر بن اسحاق یحییٰ بن بکیر مغیرہ حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بہت موٹا آدمی لایا جائے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کی اہمیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگی پڑھو ( فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا) پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔
Abu Huraira reported Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as saying:
A bulky person would be brought on the Day of Judgment and he would not carry the weight to the eye of Allah equal even to that of a gnat. Nor shall We set up a balance for them on the Day of Resurrection" (xviii. 105).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَائَ حَبْرٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی يُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْمَائَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَی إِصْبَعٍ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا يُشْرِکُونَ
احمد بن عبداللہ بن یونس فضیل ابن عیاض منصور ابراہیم، عبیدہ سلمانی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد یا کہا اے ابوالقاسم بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور کیچڑ ایک انگلی پر اور باقی ساری مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر انہیں ہلا کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں، رسول اللہ ﷺ اس یہودی عالم کی بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے پھر وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا يُشْرِکُونَ تلاوت کی انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا اور قیامت کے دن ساری زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے اللہ پاک اور بلند ہے اس چیز سے جسے یہ مشرک شریک کرتے ہیں۔
Abdullah bin Masud reported that a Jew scholar came to Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) and said. Muhammad, or Abu al-Qasim, verify, Allah, the Exalted and Glorious. Would carry the Heavens on the Day of Judgment upon one finger and earths upon one finger and the mountains and trees upor one finger and the ocean and moist earth upon one finger-in fact the whole of the creation upon one finger, and then He would stir them and say: I am your Lord, I am your Lord. Thereupon Allahs Messenger ﷺ smiled testifying what that scholar had said. He then recited this verse:" And they honour not Allah with the honour due to Him; and the whole earth will be in His grip on the Day of Resurrection and the heavens will be rolled up up in His right hand. Glory be to Him and highly Exalted is He above what they associate (with Him)" (xxxix. 67).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ جَائَ حَبْرٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ وَلَمْ يَذْکُرْ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ وَقَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَتَلَا الْآيَةَ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ یہودیوں میں سے ایک عالم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث فضیل کی حدیث کیطرح ذکر کی لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ پھر انہیں حرکت دے گا اور یہ کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں اس کی بات پر تعجب اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت مبارکہ (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِه) 39۔ الزمر: 67) حق قدرہ تلاوت فرمائی۔
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters (and the words are): A Jew scholar came to Allahs Messenger ﷺ . The rest of the hadith is the same, but there is no mention of "then He would stir them." But there is this addition: "I saw Allahs Messengcr ﷺ smiling so much that his front teeth appeared and testifying him (the Jew scholar); then Allahs Messenger ﷺ recited the verse: "And they honour not Allah with the honour due to Him" (xxxix. 67).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ يَقُولُا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالْأَرْضِينَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَی إِصْبَعٍ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
عمر بن حفص ابن غیاث ابی اعمش، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے ابوقاسم بیشک اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور کیچڑ کو ایک انگلی پر اور باقی مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں میں بادشاہ ہوں میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک ظاہر ہوئیں پھر آپ ﷺ نے (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ) تلاوت کی۔
Abdullah reported that a person from the People of the Book came to Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) and said: Abu al-Qasim, verify, Allah would carry the Heavens upon one finger and the earths upon one finger and the trees and moist earth upon one finger and in fact the whole of the creation upon one finger and then say: I am your Lord. I am your Lord. And he (the narrator) further said: I saw Allahs Messenger ﷺ seeming so happy that his front teeth became visible and then he recited the Verse: "And they honour not Allah with the honour due to Him" (xxxix. 67).
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَی إِصْبَعٍ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَی إِصْبَعٍ وَلَکِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَی إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ
ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، عثمان بن ابی شبیہ جریر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ان میں یہ ہے کہ درخت ایک انگلی پر اور کیچڑ ایک انگلی پر اور جریر کی حدیث میں یہ نہیں کہ باقی مخلوقات ایک انگلی پر لیکن اس کی حدیث میں پہاڑ ایک انگلی پر اور جریر کی حدیث میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے اور اس کی بات پر تعجب کرتے ہوئے (آپ ﷺ ہنسے)۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کَانَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَائَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَيْنَ مُلُوکُ الْأَرْضِ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالی قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Allah, the Exalted and Glorious, will take in His grip the earth on the Day of Judgment and He would roll up the sky in His right hand and would say: I am the Lord; where are the sovereigns of the world?
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَی ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَکَبِّرُونَ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَکَبِّرُونَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عمر بن حمزہ سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ رب العزت آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، زور والے (جابر) بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں زور والے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں؟
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger ﷺ saying: Allah, the Exalted and Glorious, would fold the Heavens on the Day of Judgment and then He would place them on His right hand and say: I am the Lord; where are the haughty and where are the proud (today)? He would fold the earth (placing it) on the left hand and say: I am the Lord; where are the haughty and where are the proud (today)?
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ أَنَّهُ نَظَرَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ کَيْفَ يَحْکِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ فَيَقُولُ أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا أَنَا الْمَلِکُ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّکُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْئٍ مِنْهُ حَتَّی إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سعید بن منصور، یعقوب ابن عبدالرحمن ابوحازم، حضرت عبیداللہ بن مقسم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ کی طرف دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے کیسے حدیث روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑے گا تو فرمائے گا میں اللہ ہوں اور آپ اپنی انگلیوں کو بند کرتے اور کھولتے تھے (پھر اللہ فرمائے گا) میں بادشاہ ہوں یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا تو اس کے نیچے کی طرف کوئی چیز حرکت کر رہی تھی یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ (منبر) رسول اللہ ﷺ کو لے کر گرپڑے گا۔
Abdullah bin Miqsam reported that he saw Abdullah bin Umar (RA) as he narrated Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Exalted and Glorious, would take in His hand His Heavens and His Earth, and would say: I am Allah. And He would clench His fingers and then would open them (and say): I am your Lord. I saw the pulpit in commotion from underneath because of something (vibrating) there. And (I felt this commotion so much) that I said (to myself): It may not fall with Allahs Messenger ﷺ upon it.
قیامت جنت اور جہنم کے احوال کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
سعید بن منصور، عبدالعزیزبن ابی حازم، ابی عبیداللہ بن مقسم حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ جبار رب العزت اپنے آسمانوں اور زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے گا باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
Abdullah bin Miqsam reported that Abdullah bin Umar reported: I saw Allahs Messenger ﷺ upon the pulpit and he was saying that the Mighty Lord, the Exalted and Glorious would take hold of the Heavens and earth in His hand. The rest of the hadith is the same.
مخلوق کی پیدائش کی ابتداء اور حضرت آدم کی پیدائش کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَکْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَائِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَائِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَی اللَّيْلِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ
سریج بن یونس ہارون بن عبداللہ حجاج بن محمد ابن جریج، اسماعیل بن امیہ ایوب بن خالد عبداللہ بن رافع مولیٰ ام سلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھ کو پکڑ کر ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑ اتوار کے دن پیدا کئے اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور مکروہات منگل کے دن پیدا کئے اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جمعرات کے دن زمین میں چوپائے پھیلائے اور آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد مخلوق میں سب سے آخر میں جمعہ کی ساعات میں سے آخری ساعت عصر اور رات کے درمیان پیدا فرمایا آگے اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
Abu Haraira reported that Allahs Messenger ﷺ took hold of my hands and said: Allah, the Exalted and Glorious, created the clay on Saturday and He created the mountains on Sunday and He created the trees on Monday and He created the things entailing labour on Tuesday and created light on Wednesday and He caused the animals to spread on Thursday and created Adam علیہ السلام(peace be upon him) after Asr on Friday; the last creation at the last hour of the hours of Friday, i. e. between afternoon and night.
دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن زمین کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی أَرْضٍ بَيْضَائَ عَفْرَائَ کَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد محمد بن جعفر بن ابی کثیر ابوحازم، دینار حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو سرخی مائل سفیدی پر اٹھایا جائے گا جو میدے کی روٹی کی طرح ہوگی اس (زمین) میں کسی کے لئے علامت ونشان نہ ہوگا۔
Sahl bin Sad reported that Allahs Messenger ﷺ said: The people will be assembled on the Day of Resurrection on a white plain with a reddish tinge like the loaf of white bread with no marks set up for anyone.
دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کے دن زمین کیفیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ فَأَيْنَ يَکُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ عَلَی الصِّرَاطِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، داؤد شعبی، مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ رب العزت کے قول َوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ اس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان (بھی بدل دئے جائیں گے) کے متعلق پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول اس دن لوگ کہاں ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا پل صرا پر۔
Aisha reported: I asked Allahs Messenger ﷺ about the words of Allah, the Exalted and Glorious: "The day when the earth would be changed for another earth and Heaven would be changed for another Heaven (XiV. 48), (and inquired:) (Allahs Messenger), where would the people be on that day? He said: They would be on the Sirat.
اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَکُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَکْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ کَمَا يَکْفَأُ أَحَدُکُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَأَتَی رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَکَ الرَّحْمَنُ عَلَيْکَ أَبَا الْقَاسِمِ أَلَا أُخْبِرُکَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ بَلَی قَالَ تَکُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ بَلَی قَالَ إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْکُلُ مِنْ زَائِدَةِ کَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا
عبدالملک بن شعیب بن لیث، خالد بن یزید سعید بن ابی ہلال زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہوجائے گی اللہ رب العزت اسے اپنے دست قدرت سے اوپر نیچے کر دے گا اہل جنت کی مہمانی کے لئے جیسا کہ تم میں سے کوئی سفر میں اپنی روٹی کو الٹ پلٹ لیتا ہے اتنے میں یہود میں سے ایک آدمی نے عرض کیا آپ ﷺ پر اللہ کی برکتیں ہوں اے ابوالقاسم کیا میں آپ ﷺ کو قیامت کے دن اہل جنت کی مہمانی کے بارے میں خبر نہ دوں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے عرض کیا زمین ایک روٹی ہوجائے گی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا پھر رسول اللہ ﷺ ہماری طرف دیکھ کر ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں اس نے کہا میں آپ کو (اہل جنت کے) سالن کی خبر نہ دوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے عرض کیا ان کا سالن با، لام اور نون ہوگا صحابہ نے کہا یہ کیا ہے اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کے کلیجے کے ٹکڑے میں سے ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔
Abu al-Said Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying that the earth would turn to be one single bread on the Day of Resurrection and the Almighty would turn it in His hand as one of you turns a loaf while on a journey. It would be a feast arranged in the honour of the people of Paradise. He (the narrator) further narrated that a person from among the Jews came and he said: Abu al-Qasim, may the Compassionate Lord be pleased with you! May I inform you about the feast arranged in honour of the people of Paradise on the Day of Resurrection? He said: Do it, of course. He said: The earth would become one single bread. Then Allahs Messenger ﷺ looked towards us and laughed until his molar teeth became visible. He then again said: May I inform you about that with which they would season it? He said: Do it, of course. He said: Their seasoning would be balim and fish. The Companions of the Holy Prophet ﷺ said: What is this balam? He said: Ox and fish from whose excessive livers seventy thousand people would be able to eat.
اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَابَعَنِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ لَمْ يَبْقَ عَلَی ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، قرہ محمد بن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہود میں سے دس (عالم) میری اتباع کرلیتے تو زمین پر کوئی یہودی بھی مسلمان ہوئے بغیر نہ رہتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If ten scholars of the Jews would follow me, no Jew would be left upon the surface of the earth who would not embrace Islam.
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَقَالُوا مَا رَابَکُمْ إِلَيْهِ لَا يَسْتَقْبِلُکُمْ بِشَيْئٍ تَکْرَهُونَهُ فَقَالُوا سَلُوهُ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ فَسَأَلَهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ فَأَسْکَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَی إِلَيْهِ قَالَ فَقُمْتُ مَکَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ قَالَ وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
عمر بن حفص ابن غیاث ابی اعمش، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک کھیت میں چل رہا تھا اور آپ ﷺ ایک لکڑی سے سہارا لیتے ہوئے چل رہے تھے کہ آپ ﷺ کا ایک یہودی کی جماعت کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھو انہوں نے کہا تمہیں اس بارے میں کیا شبہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ﷺ تم کو ایسا جواب دیں جو تمہیں ناگوار گزرے انہوں نے کہا آپ ﷺ سے پوچھو ان میں سے کچھ نے کھڑے ہو کر آپ سے روح کے بارے میں سوال کیا پس نبی ﷺ خاموش ہوگئے اور انہیں اس بارے میں کوئی جواب نہ دیا پس مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ کی طرف وحی کی جا رہی ہے پس میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا جب وحی نازل ہوچکی تو آپ نے فرمایا ( وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا) وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرما دیں روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں کم علم عطا کیا گیا ہے۔
Abdullah (b. Masud) reported: As I was going along with Allahs Apostle ﷺ in a cultivable land and he (the Holy Prophet) was walking with the support of a wood, a group of Jews happened to meet him. Some of them said to the others: Ask him about the Soul. They said: What is your doubt about it? There is a possibility that you may ask him about anything (the answer of) which you may not like. They said: Ask him. So one amongst them asked him about the Soul. Allahs Messenger ﷺ kept quiet and he gave no reply and I came to know that revelation was being sent to him, so I stood at my place and thus this revelation descended upon him: "They ask thee about Soul. Say: The Soul is by the Commandment of my Lord, and of Knowledge you are given but a little" (xvii. 58).
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَفْصٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا وَفِي حَدِيثِ عِيسَی بْنِ يُونُسَ وَمَا أُوتُوا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ خَشْرَمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج وکیع، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابراہیم، علقمہ ؓ حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی ایک کھیتی میں نبی ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا باقی حدیث حفص کی حدیث کی طرح ہے البتہ وکیع کی حدیث میں إِلَّا قَلِيلًا اور عیسیٰ بن یونس کی حدیث میں وَمَا أُوتُوا ہے۔
Abdullah reported: I was walking along with Allahs Apostle ﷺ in a field of Madinah. The rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording.
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ يَقُولُ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَکَّأُ عَلَی عَسِيبٍ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ عَنْ الْأَعْمَشِ وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
ابوسعید اشج عبداللہ بن ادریس اعمش، عبداللہ بن مروہ مسروق، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کھجوروں کے باغ میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے باقی حدیث اسی طرح ہے البتہ اس میں بھی (وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا) ہے۔
Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ was reclining against a tree in the garden. The rest of the hadith is the same but there is a slight variation of wording
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ کَانَ لِي عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لِي لَنْ أَقْضِيَکَ حَتَّی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي لَنْ أَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّی تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ فَسَوْفَ أَقْضِيکَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَی مَالٍ وَوَلَدٍ قَالَ وَکِيعٌ کَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي کَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا إِلَی قَوْلِهِ وَيَأْتِينَا فَرْدًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن سعید اشج، عبداللہ، وکیع، اعمش، ابی ضحی، مسروق، حضرت خباب ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل پر میرا قرض تھا پس میں اس کے پاس آیا اور اس سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا میں ہرگز تمہارا قرض ادا نہیں کروں گا یہاں تک کہ تم محمد کا انکار کرو تو میں نے اس سے کہا ہرگز نہیں میں محمد کے ساتھ کفر نہ کروں گا یہاں تک کہ تو مرجائے پھر دوبارہ زندہ کیا جائے اس نے کہا میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا تو تیرا قرض ادا کر دوں گا جب میں مال اور اولاد کی طرف لوٹوں گا وکیع نے کہا اعمش نے بھی اسی طرح کہا ہے پس یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا) 19۔ مریم: 77) سے وَيَأْتِينَا فَرْدًا کیا آپ ﷺ نے اس آدمی کو دیکھا ہے جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے ضرور بالضرور مال اور اولاد عطا کی جائے گی کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیا ہے یا اس نے رحمن کے پاس سے کوئی وعدہ لے لیا ہے ہرگز نہیں عنقریب ہم لکھ لیں گے جو وہ کہتا ہے اور ہم اس کے لئے عذاب کو طویل کردیں گے اور ہم اس کے قول کے وارث ہیں اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔
Khabbab reported that al-As bin Wail owed debt to me. I came to him in order to demand that. He said: I will never repay you unless you belie Muhammad. I said: I would never belie Mubammad until you die and you are again raised up. He said: When I would be raised up after death, I would repay your debt when I would get my property and children back. Waki said: This is how Almash has narrated and it was on this occasion that this verse was revealed: "Hast thou seen him who disbelieves in Our message and says: I shall certainly be given wealth and children (xis, 77) up to "he would come to Us alone" (xiX. 80).
یہودیوں کا نبی ﷺ سے روح کے بارے میں سوال اور اللہ عزوجل کے قوم آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وَکِيعٍ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ کُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ
ابوکریب ابومعاویہ ابن نمیر، ابواسحاق بن ابراہیم جریر، ابن ابی عمر ؓ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت خباب کہتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا پس میں عاص بن وائل کے لئے کام کیا کرتا تھا پھر میں اس کے پاس تقاضا کرنے کے لئے آیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Khabbib through another chain of transmitters and the words are. I, in the pre-Islamic days used to work as an iron-smith. I did some work for As bin Wail and came to him for getting the remuneration of my wages.