اللہ عزوجل کے قول اللہ انہیں آپ ﷺ کی موجودگی میں عذاب نہ دے گا کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ أَبُو جَهْلٍ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنْ السَّمَائِ أَوْ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ فَنَزَلَتْ وَمَا کَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا کَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمْ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری شعبہ، عبدالحمید زیاد حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو پھر ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا کوئی دردناک عذاب لے آ تو آیت مبارکہ (وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ) 8۔ الأنفال: 33) نازل ہوئی کہ جب تک آپ ﷺ ان میں موجود ہیں اللہ انہیں عذاب نہ دے گا اور نہ ہی اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے اس حال میں کہ وہ بخشش مانگتے ہوں اور کیا وجہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abu Jahl said: O Allah, if he is true, then shower upon us the volley of stones from the sky or inflict upon us a grievous torment, and it was on this occasion that this verse was revealed: "Allah would never torment them so long as you are amongst them. And Allah is not going to torment them as long as they seek forgiveness. And why is it that Allah should not torment them and they prevent people from coming to the sacred mosque...." (viii. 34) to the end.
اللہ رب العزت کے قول ہرگز نہیں بے شک انسان البتہ سر کشی کرتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّی لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِکَ لَأَطَأَنَّ عَلَی رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَی رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْکُصُ عَلَی عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ فَقِيلَ لَهُ مَا لَکَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِکَةُ عُضْوًا عُضْوًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْئٌ بَلَغَهُ کَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَی أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَی إِنَّ إِلَی رَبِّکَ الرُّجْعَی أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَی عَبْدًا إِذَا صَلَّی أَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ عَلَی الْهُدَی أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَی أَرَأَيْتَ إِنْ کَذَّبَ وَتَوَلَّی يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَی کَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ کَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ کَلَّا لَا تُطِعْهُ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ يَعْنِي قَوْمَهُ
عبیداللہ بن معاذ محمد بن عبدالاعلی معتمر ابی نعیم ابن ابی ہند ابی حازم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا کیا محمد تمہارے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں اسے کہا گیا ہاں تو اس نے کہا لات اور عزی کی قسم اگر میں نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کی گردن (معاذ اللہ) روند دوں گا یا ان کا چہرہ مٹی میں ملاؤں گا پس وہ رسول اللہ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نماز ادا کر رہے تھے اس ارادہ سے کہ وہ آپ ﷺ کی گردن کو روندے جب وہ آپ کے قریب ہونے لگا تو اچانک اپنی ایڑیوں پر واپس لوٹ آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے کسی چیز سے بچ رہا تھا پس اسے کہا گیا تجھے کیا ہوا تو اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق تھی ہول اور (فرشتوں کے) بازو تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ مجھ سے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو نوچ ڈالتے پس اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں راوی کہتا ہے ہم نہیں جانتے کہ یہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے یا ہمیں کسی اور طریقہ سے پہنچی ہے آیات (كَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰ ى اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى) 96۔ العلق: 6۔ 7۔ 8) ہرگز نہیں بیشک انسان البتہ سرکشی کرتا ہے اس نے اپنے آپ کو مستغنی سمجھ لیا ہے بیشک تیرے پروردگار کی طرف ہی لوٹنا ہے کیا آپ نے اس کو دیکھا ہے جو (ہمارے) بندے کو روکتا ہے جب وہ نماز پڑھتا ہے کیا خیال ہے کہ اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا تقوی اختیار کرنے کا حکم دیتا (تو یہ اچھا خیال نہ تھا) کیا خیال ہے اگر وہ جھٹلائے اور پیٹھ پھیرے (ابو جیل تو پھر کیسے گرفت سے بچ سکتا ہے) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہرگز نہیں اگر وہ باز نہ آیا تو ہم یقینا اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے ایسی پیشانی جو جھوٹی اور گناہ گار ہے پس چاہئے کہ وہ اپنے مددگاروں کو پکارے عنقریب ہم بھی فرشتوں کو بلائیں گے ہرگز نہیں آپ اس کی اطاعت نہ کریں۔ اور عبیداللہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اور اسے وہی حکم دیا جس کا انہیں حکم دیا ہے اور ابن عبدالاعلی نے اپنی حدیث میں أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ کا معنی بھی درج کیا کہ وہ اپنی قوم کو پکارے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Abu Jahl asked (people) whether Muhammad placed his face (on the ground) in their presence. It was said to him: Yes. He said: By Lat and Uzza. If I were to see him do that, I would trample his neck, or I would besmear his face with dust. He came to Allahs Messenger ﷺ as he was engaged in prayer and thought of trampling his neck and the people said that he came near him but turned upon his heels and tried to repulse something with his hands. It was said to him: What is the matter with you? He said: There is between me and him a ditch of fire and terror and wings. Thereupon Allahs Messenger (may peace he upon him) said: If he were to come near me the angels would have torn him to pieces. Then Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse- (the narrator) said: We do not whether it is the hadith transmitted to Abu Hurairah (RA) or something conveyed to him from another source: "Nay, man is surely inordinate, because he looks upon himself as self-sufficient. Surely to thy Lord is the return. Hast thou seen him who forbids a servant when he prays? Seest thou if he is on the right way, or enjoins observance of piety? Seest thou if he [Abu Jah]] denies and turns away? Knowest he not that Allah sees? Nay. if he desists not, We will seize him by the forelock-a lying, sinful forelock. Then let him summon his council. We will summon the guards of the Hell. Nay! Obey not thou him" (Icvi. 6-19). (Rather prostrate thyself.) Ubaidullah made this addition: It was after this that (prostration) was enjoined upon and Ibn Abdul Ala made this addition that by Nadia he meant his people.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ کِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيئُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْکُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ کَهَيْئَةِ الزُّکَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْکُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِکُمْ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَی مِنْ النَّاسِ إِدْبَارًا فَقَالَ اللَّهُمَّ سَبْعٌ کَسَبْعِ يُوسُفَ قَالَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی أَکَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنْ الْجُوعِ وَيَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ أَحَدُهُمْ فَيَرَی کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّکَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَکَ قَدْ هَلَکُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ إِلَی قَوْلِهِ إِنَّکُمْ عَائِدُونَ قَالَ أَفَيُکْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور ابی ضحی، عبداللہ حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان لیٹے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا اے ابوعبدالرحمن کندہ کے دروازوں کے پاس ایک قصہ گو بیان کر رہا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن میں جو دھوئیں کی آیت ہے وہ دھواں آنے والا ہے پس وہ کفار کی سانسوں کو روک لے گا اور مومنین کے ساتھ صرف زکام کی کیفیت پیش آئے گی حضرت عبداللہ غصہ سے اٹھ بیٹھے پھر فرمایا اے لوگو اللہ سے ڈرو تم میں سے جو کوئی بات جانتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق ہی بیان کرے اور جو بات نہیں جانتا تو کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ تم میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جو جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک اللہ رب العزت نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا آپ فرما دیں میں تم سے اس بات پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں سے بعضوں کی رو گردانی دیکھی تو فرمایا اللہ نے ان پر سات سالہ قحط نازل فرمایا جیسا کہ یوسف کے زمانہ میں سات سالہ قحط نازل ہوا تھا ابن مسعود ؓ نے کہا پس ان پر ایک سالہ قحط آیا جس نے ہر چیز کو ملیا میٹ کردیا یہاں تک کہ بھوک کی وجہ سے چمڑے اور مردار کھائے گئے اور ان میں سے جو کوئی آسمان کی طرف نظر کرتا تھا تو دھوئیں کی سی کیفیت دیکھتا تھا پس آپ ﷺ کے پاس ابوسفیان حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد بیشک آپ اللہ کی اطاعت کرنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں اور بیشک آپ ﷺ کی قوم و برادری تحقیق ہلاک ہوچکی آپ ﷺ اللہ سے ان کے لئے دعا مانگیں اللہ رب العزت نے فرمایا آپ ﷺ انتظار کریں اس دن کا جس دن کھلم کھلا دھواں ظاہر ہوگا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ دردناک عذاب ہے بیشک تم لوٹنے والے ہو تک نازل فرمائیں تو انہوں نے کہا کیا آخرت کا عذاب دور کیا جاسکتا ہے تو اللہ عزوجل نے فرمایا جس دن ہم پکڑیں گے بڑی گرفت کے ساتھ بیشک ہم بدلہ لینے والے ہوں گے پس اس پکڑ سے مراد بدر کے دن کی پکڑ ہے اور دھوئیں اور لزام (یعنی بدر کی دن کی گرفت و قتل) اور روم کی علامات کی نشانیاں گزر چکی ہیں۔
Masruq reported: We were sitting in the company of Abdullah and he was lying on the bed that a person came and said: Abd Abdul Rahmin, a story-teller at the gates of Kinda says that the verse (of the Quran) which deals with the "smoke" implies that which is about to come and it would hold the breath of the infidels and would inflict the believers with cold. Thereupon Abdullah got up and said in anger. O people, fear Allah and say only that which one knows amongst you and do not say which he does not know and he should simply say: Allah has the best knowledge for He has the best knowledge amongst all of you. It does not behoove him to say that which he does not know. Allah has the best knowledge of it. Verily Allah, the Exalted and Glorious, said to His Prophet ﷺ to state: "I do not ask from you any remuneration and I am not the one to put you in trouble," and when Allahs Messenger ﷺ saw people turning back (from religion) he said: O Allah, afflict them with seven famines as was done in the case of Yusuf, so they were afflicted with famine by which they were forced to eat everything until they were obliged to eat the hides and the dead bodies because of hunger, and every one of them looked towards the sky and he found a smoke. And Abu Sufyan (RA) came and he said: Muhammad, you have come to command us to obey Allah and cement the ties of blood-relation whereas your people are undone; supplicate Allah for them. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, said: "Wait for the day when there would be clear smoke from the sky which would envelop people and that would be grievous torment" up to the words: "you are going to return to (evil)." (if this verse implied the torment of the next life) could the chastisement of the next (life) be averted (as the Quran states): On the day when We seize (them) with the most violent seizing; surely We shall exact retribution" (xliv. 16)? The seizing (in the hadith) implies that of the Day of Badr. And so far as the sign of smoke, seizing, inevitability and signs of Rome are concerned, they have become things of the past now.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ فَقَالَ تَرَکْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ قَالَ يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّی يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ کَهَيْئَةِ الزُّکَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّمَا کَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ کَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّی جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ فَيَرَی بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجَهْدِ وَحَتَّی أَکَلُوا الْعِظَامَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَکُوا فَقَالَ لِمُضَرَ إِنَّکَ لَجَرِيئٌ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّکُمْ عَائِدُونَ قَالَ فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمْ الرَّفَاهِيَةُ قَالَ عَادُوا إِلَی مَا کَانُوا عَلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، ابوسعید اشج وکیع، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، یحییٰ بن یحیی، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، مسلم بن صبیح، عبداللہ حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا میں مسجد میں ایک ایسے آدمی کو چھوڑ آیا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرتا ہے وہ اس آیت (یوم نبطش البطشہ) کہ جس دن آسمان پر واضح دھواں ظاہر ہوگا کی تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت کے دن دھواں لوگوں کی سانسوں کو بند کر دے گا یہاں تک کہ ان کی زکام کی سی کیفیت ہوجائے گی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا جو آدمی کسی بات کا علم رکھتا ہو وہ وہی بات کہے اور جو نہ جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک آدمی کی عقلمندی یہ ہے کہ وہ جس بات کا علم نہ رکھتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ اعلم ان قریشیوں نے جب نبی ﷺ کی نافرمانی کی تو آپ ﷺ نے ان کے خلاف قحط پڑنے کی دعا کی جیسے کہ حضرت یوسف کے زمانہ کے لوگوں پر قحط اور مصیبت و تنگی آئی تھی یہاں تک کہ جب کوئی آدمی آسمان کی طرف نظر کرتا تو اپنے اور آسمان کے درمیان اپنی مصیبت کی وجہ سے دھواں دیکھتا تھا اور یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیوں کو کھایا پس ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول مضر (قبیلہ) کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں پس بیشک وہ ہلاک ہوچکے ہیں آپ نے فرمایا تو نے مضر کے لئے بڑی جرات کی ہے پھر آپ نے اللہ سے ان کے لئے دعا مانگی تو اللہ رب العزت نے (إِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّکُمْ عَائِدُونَ ) ہم چند دنوں کے لئے عذاب روکنے والے ہیں (لیکن) تم پھر وہی کام سر انجام دو گے نازل فرمائی کہتے ہیں پس ان پر بارش برسائی گئی پس جب وہ خوشحال ہوگئے تو پھر وہ اسی کی طرف لوٹ گئے جس پر پہلے قائم تھے تو اللہ رب العزت نے یہ آیات (فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ) نازل کی۔
Masruq reported that there came to Abdullah a person and said: I have left behind in the mosque a man who explains the Quran according to his personal discretion and he explained this verse: "So wait for the day when the Heaven brings a clear smoke." He says that a smoke would come to the people on the Day of Resurrection and it will withhold breath and they would be inflicted with cold. Abdullah said: He who has knowledge should say something and he who has no knowledge should simply say: Allah is best aware. This reflects the understanding of a person that he should say about that which he does not know that it is Allah who knows best. The fact is that when the Quraish disobeyed Allahs Apostle ﷺ he supplicated Allah that they should be afflicted with famine and starvation as was done in case of Yusuf. And they were so much hard pressed that a person would ace the sky and he would see between him and the sky something like smoke and they were so much hard pressed that they began to eat the bones, and a person came to Allahs Apostle ﷺ and said: Allahs Messenger, seek forgiveness for the tribe of Mudar for (its people) have been undone. The Messenger ﷺ said: For Mudar? You are overbold, but he supplicated Allah for them. It was upon this that this verse was revealed: "We shall remove the chastisement a little, but they will surely return to evil" (xliv. 15). He (the narrator) said: There was a downpour of rain upon them. When there was some relief for them they returned to the same position as they had been before, and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "So wait for the day when the heaven brings a clear smoke enveloping people. This is a grievous torment on the day when We seize them with the most violent seizing; surely, We shall exact retribution." And this (seizing) implied (Battle) of Badr.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَاللِّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ
قتیبہ بن سعید، جریر، اعمش، ابی ضحی مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جو کہ گزر چکی ہیں دھواں لزام (قیدوبند)، (غلبہ) روم بطشہ (جنگ بدر) اور (شق) قمر۔
Abdullah said that five signs have (become things) of the past (and have proved the truth of the Holy Prophet): (Enveloping) by the smoke, inevitable (punishment to the Makkahns at Badr), (the victory of) Rome, (violent) seizing (of the Makkahns at Badr) and (the splitting up of) the Moon.
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوسعید اشج وکیع، اعمش، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ قَالَ مَصَائِبُ الدُّنْيَا وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوْ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاکُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوْ الدُّخَانِ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، قتادہ، عزرہ حسن عرنی یحییٰ حزار عبدالرحمن ابن ابی لیلی حضرت ابی بن کعب ؓ سے اللہ عزوجل کے قول وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ ) ہم ضرور بالضرور بڑے عذاب سے پہلے انہیں چھوٹے عذاب دیں گے کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں (غلبہ) روم بطشہ (غزوہ بدر) یا دھواں ہے اور شعبہ کو بطشہ یا دخان میں شک ہے۔
Ubayy bin Kab reported that the words of Allah, the Exalted and Glorious: "We will, surely, make them taste the lesser punishment before the severer punishment (that they may return)" (xxxii. 21) imply the torments of the world. (victory of) Rome, seizing (of the Makkahns), or smoke. And Shalba was in doubt about seizing or smoke.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِقَّتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
عمرو ناقد زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح مجاہد ابی معمر، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گواہ ہوجاؤ۔
Abu Mamar reported on the authority of Abdullah that the moon was split up during lifetime by Allahs Messenger ﷺ in two parts and Allahs Messenger ﷺ said: Bear testimony to this.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًی إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ فَکَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَائَ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ دُونَهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق بن ابراہیم، ابی معاویہ، عمر بن حفص بن غیاث ابی اعمش، منجاب بن حارث تمیمی ابن مسہر اعمش، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے ہمراہ منیٰ میں تھے کہ چاند پھٹ گیا دو ٹکڑوں میں پس ایک ٹکڑا تو پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور دوسرا دوسری طرف تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا گواہ ہوجاؤ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abdullah bin Masud (who said): We were along with Allahs Messenger ﷺ at Mina, that moon was split up into two. One of its parts was behind the mountain and the other one was on this side of the mountain. Allahs Messenger ﷺ said to us: Bear witness to this.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً وَکَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، اعمش، ابراہیم، ابی معمر، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہ۔
Abdullah bin Masud reported that the moon was split up in two parts during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . The mountain covered one of its parts and one part of it was above the mountain and Allahs Messenger ﷺ said: Bear witness to this.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، اعمش، مجاہد حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے یہ حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with a slight variation of wording.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فَقَالَ اشْهَدُوا اشْهَدُوا
بشر بن خالد محمد بن جعفر، محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، ابن معاذ شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ابن ابی عدی کی حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے فرمایا تم گواہ ہوجاؤ تم گواہ ہوجاؤ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with a slight variation of wording.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ مَکَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ
زہیر بن حرب، عبد بن حمید یونس بن محمد شیبان قتادہ ؓ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ انہیں کوئی نشانی دکھائیں تو آپ ﷺ نے انہیں دو مرتبہ چاند کا پھٹنا دکھایا۔
Anas reported that the people of Makkah demanded from Allahs Messenger ﷺ that he should show them (some) signs (miracles) and he showed them the splitting of the moon twice.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمَعْنَی حَدِيثِ شَيْبَانَ
محمد بن رافع عبد الرزاق معمر، قتادہ، انس، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، ابوداؤد ابن بشار یحییٰ بن سعید محمد بن جعفر، ابوداؤد شعبہ ؓ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا اور ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹا۔
Anas reported that the moon was split up in two parts and in the hadith recorded in Abu Dawud, the words are: "The moon was split up into two parts during the life of Allahs Messenger ﷺ ."
شق قمر کے معجزے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَی زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
موسیٰ بن قریش تمیمی اسحاق بن ابکر بن مضر ابی جعفر بن ربیعہ عراک بن مالک عبیداللہ بن عبداللہ عتبہ بن مسعود ؓ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا تھا۔
Ibn Abbas reported that the moon was split up during the lifetime of Allahs Messenger (may peace he upon him).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَی أَذًی يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَکُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ ابواسامہ اعمش، سعید بن جبیر ابوعبدالرحمن سلمی حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بھی اللہ رب العزت سے بڑھ کر تکلیفوں پر صبر کرنے والا نہیں ہے کہ اس سے شریک کیا جاتا ہے اور اس کے لئے اولاد ثابت کی جاتی ہے پھر بھی وہ انہیں عافیت اور رزق عطا کرتا ہے۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger ﷺ said: There is none to show more patience at listening to the most irksome things than Allah, the Exalted and Glorious. Partnership is associated to Him (polytheism) and (fatherhood) of a child is attributed to Him, but in spite of this He protects them (people) and provides them sustenance.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْکُرْهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوسعید اشج وکیع، اعمش، سعید بن جبیر ابوعبدالرحمن سلمی حضرت ابوموسی ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ اللہ کے لئے اولاد ثابت کی جاتی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa with a slight variation of wording.
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَی أَذًی يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَی إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ مَعَ ذَلِکَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ
عبیداللہ بن سعید ابواسامہ اعمش، سعید بن جبیر ابوعبدالرحمن حضرت عبداللہ بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی تکلیف دہ باتوں کو سن کر ان پر صبر کرنے والا نہیں ہے کافر اللہ کے لئے ہمسر بناتے ہیں اور اس کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں پھر بھی وہ اس کے باوجود انہیں رزق اور عافیت اور (دوسری چیزیں) عطا کرتا ہے۔
Abdullah bin Qais (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ that none is more forbearing in listening to the most irksome things than Allah, the Exalted. They associate rivals with him, attribute sonhood to Him, but in spite of this He provides them sustenance, grants them safety, confers upon them so many things.
کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا أَکُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِکَ أَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْکَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، ابوعمران جونی حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم والوں میں سے کم عذاب والوں سے فرمائے گا اگر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے تیرے لئے ہو تو کیا تو اس عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لئے وہ دے دے گا وہ کہے گا جی ہاں اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے اس سے بھی کم ترین چیز کا مطالبہ اس وقت کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ تو شرک نہ کرنا میرا گمان ہے کہ اللہ فرمائے گا کہ میں تجھ کو جہنم میں نہ ڈالوں گا لیکن تو نے شرک کے سوا (باقی سب باتوں کا) انکار کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Exalted and High, would say to one who shall have to undergo the least torture (on the Day of Resurrection): Would you like to go as ransom if you had all worldly riches; he would say: Yes. Allah would say to him: When you were in the loins of Adam, I demanded from you something easier than this that you should not associate anything with Me. (The narrator says): I think He also said: I would not cause you to enter Hell-Fire but you defied and attributed Divinity (to others besides Me).