منافقین کی صفات اور ان کے احکام کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 53 · 106 hadiths · Page 4 of 6

7084Sahih Muslim

کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا أُدْخِلَکَ النَّارَ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْکُرْهُ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوعمر انس بن مالک ؓ اسی طرح حدیث روایت کرتے ہیں البتہ اس حدیث میں تجھ کو جہنم میں داخل نہ کروں گا مذکور نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters, but with a slight variation of wording (and the words are): "I shall cause him to enter Hell." (The words subsequent to these) have not been mentioned.

7085Sahih Muslim

کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِلْکَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَ لَکَ مِلْئُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَکُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِکَ

عبیداللہ بن عمر قواریری اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، ابن بشار اسحاق معاذ بن ہشام ؓ قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا اگر تیرے لئے زمین بھر کے برابر سونا ہوتا تو کیا تو اسے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ کردیتا تو وہ کہے گا جی ہاں تو اس سے کہا جائے گا تجھ سے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: It would be said to the non-believers on the Day of Resurrection: If you were to possess gold, filling the whole earth, would you like to secure your freedom by paying that? He would say: Yes. Thereupon it would be said to him: Something easier (than this) was demanded from you (but you paid no heed to it).

7086Sahih Muslim

کافروں سے زمین بھر کے برابر فدیہ طلب کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَائٍ کِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ کَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِکَ

عبد بن حمید روح بن عبادہ عمرو بن زرارہ عبدالوہاب ابن عطاء، سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اسے کہا جائے گا تو نے جھوٹ کہا حالانکہ تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

Anas reported this hadlth through another chain of transmitters and the words are: "It would be said to him: You have told a lie; what had been demanded from you was quite easier than this (the belief in the Oneness of Allah)."

7087Sahih Muslim

کافر کو چہرے کے بل جمع کئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ يُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلَی وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَی رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَی أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَی وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَتَادَةُ بَلَی وَعِزَّةِ رَبِّنَا

زہیر بن حرب، عبد بن حمید زہیر یونس بن محمد شیبان قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قیامت کے دن کفار کو کیسے چہرے کے بل جمع کیا جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا کیا وہ جو دنیا میں اسے پاؤں کے بل چلاتا ہے وہ قیامت کے دن اسے چہرے کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے یہ حدیث سن کر قتادہ نے کہا کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی عزت کی قسم۔

Anas bin Malik (RA) reported that a person said: Allahs Messenger, how the non-believers would be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet is not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord.

7088Sahih Muslim

جہنم میں اہل دنیا کی نعمتوں کے اثر اور جنت میں دنیا کی سختیوں اور تکلیفوں کے اثر کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ

عمرو ناقد یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت، حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جہنم والوں میں سے اس آدمی کو لایا جائے گا جو اہل دنیا میں سے بہت نعمتوں والا تھا پھر اس سے کہا جائے گا اے ابن آدم کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی بھی دیکھی تھی کیا تجھے کبھی کوئی نعمت بھی ملی تھی وہ کہے گا اے میرے رب اللہ کی قسم نہیں اور اہل جنت میں سے اس آدمی کو پیش کیا جائے گا جسے دنیا میں لوگوں سے سب سے زیادہ تکلیفیں آئی ہوں گی پھر اسے جنت میں ایک دفعہ غوطہ دے کو پوچھا جائے گا اے ابن آدم کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف بھی دیکھی کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی بھی گزری وہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار اللہ کی قسم نہیں کبھی کوئی تکلیف میرے پاس سے نہ گزری اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی شدت و سختی دیکھی۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said that one amongst the denizens of Hell who had led a life of ease and plenty amongst the people of the world would be made to dip in Fire only once on the Day of Resurrection and then it would be said to him: O, son of Adam, did you find any comfort, did you happen to get any material blessing? He would say: By Allah, no, my Lord. And then that person from amongst the persons of the world be brought who had led the most miserable life (in the world) from amongst the inmates of Paradise. and he would be made to dip once in Paradise and it would be said to him. 0, son of Adam, did you face, any hardship? Or had any distress fallen to your lot? And he would say: By Allah, no,O my Lord, never did I face any hardship or experience any distress.

7089Sahih Muslim

مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں اور آخرت میں ملنے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ صرف دنیا میں دیے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَی بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَی بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْکَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّی إِذَا أَفْضَی إِلَی الْآخِرَةِ لَمْ تَکُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَی بِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، زہیر یزید بن ہارون، ہمام یحییٰ قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کسی مومن سے ایک نیکی کا بھی ظلم نہیں کرے گا دنیا میں اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور آخرت میں بھی اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور کافر کو دنیا میں ہی بدلہ عطا کردیا جاتا ہے جو وہ نیکیاں اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت میں فیصلہ ہوگا تو اس کے لئے کوئی نیکی نہ ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جاتا۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Verily, Allah does not treat a believer unjustly in regard to his virtues. He would confer upon him (His blessing) in this world and would give him reward in the Hereafter. And as regards to a non-believer, he would be made to taste the reward (of virtue in this world) what he has done for himself so much that when it would be the Hereafter, he would find no virtue for which he should be rewarded.

7090Sahih Muslim

مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں اور آخرت میں ملنے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ صرف دنیا میں دیے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْکَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنْ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَی طَاعَتِهِ

عاصم بن نضر تیمی معتمر ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کافر کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کی وجہ سے دنیا سے ہی اسے لقمہ کھلا دیا جاتا ہے اور مومن کے لئے اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو آخرت کے لئے ذخیرہ کرتا رہتا ہے اور دنیا میں اپنی اطاعت پر اسے رزق عطا کرتا ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ thus told him: When a non-believer does good he is made to taste its reward in this world. And so far as the believer is concerned, Allah stores (the reward) of his virtues for the Hereafter and provides him sustenance in accordance with his obedience to Him.

7091Sahih Muslim

مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں اور آخرت میں ملنے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ صرف دنیا میں دیے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمَا

محمد بن عبداللہ رزی عبدالوہاب بن عطاء، سعید قتادہ، حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.

7092Sahih Muslim

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَائُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّی تَسْتَحْصِدَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، معمر، زہری، سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ اسے ہمیشہ ہوا جھکاتی رہتی ہے اور مومن کو بھی مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو حرکت نہیں کرتا یہاں تک کہ جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of a believer is that of (a standing) crop which the air continues to toss from one side to another; in the same way a believer always (receives the strokes) of misfortune. The similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which does not move until it is uprooted.

7093Sahih Muslim

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَکَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ

محمد بن رافع عبد بن حمید معمر، زہری، عبدالرزاق، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.

7094Sahih Muslim

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَی حَتَّی تَهِيجَ وَمَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَی أَصْلِهَا لَا يُفِيئُهَا شَيْئٌ حَتَّی يَکُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر محمد بن بشر زکریاء بن ابی زائدہ سعد بن ابراہیم، حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیتی کے سر کنڈے کی طرح ہے ہوا اسے جھونکے دیتی ہے ایک مرتبہ اسے گرا دیتی ہے اور ایک مرتبہ اسے سیدھا کردیتی ہے یہاں تک کہ خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے اس درخت کی ہے جو اپنے تنے پر کھڑا رہتا ہے اسے کوئی بھی (ہوا) نہیں گراتی یہاں تک کہ ایک ہی دفعہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔

Kab reported that Allahs Messenger ﷺ said that the similitude of a believer is that of a standing crop in a field which is shaken by wind and then it comes to its original position but it stands at its roots. The similitude of a non-believer is that of a cypress tree which stands on its roots and nothing shakes it but it is uprooted (with) one (violent stroke).

7095Sahih Muslim

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّی يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْئٌ حَتَّی يَکُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً

زہیر بن حرب، بشر بن سری عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، عیینہ سعد بن ابراہیم، حضرت عبدالرحمن بن کعب ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیتی کے سر کنڈے کی طرح ہے ہوا اسے جھونکے دیتی رہتی ہے کبھی اسے گرا دیتی اور کبھی سیدھا کردیتی ہے یہاں تک کہ اس کا مقررہ وقت آجاتا ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی ہے جو اپنے اس تنے پر کھڑا رہتا ہے جسے کوئی آفت نہیں پہنچتی یہاں تک کہ ایک ہی دفعہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔

Kab bin Malik reported on the authority of his father that the similitude of a believer is that of a standing crop. The wind sometimes shakes it and sometimes raises it up and then it comes to its destined end. And the similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which is not affected by anything but is uprooted once for all.

7096Sahih Muslim

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ مَحْمُودًا قَالَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ بِشْرٍ وَمَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الْأَرْزَةِ وَأَمَّا ابْنُ حَاتِمٍ فَقَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَا قَالَ زُهَيْرٌ

محمد بن حاتم، محمود بن غیلان بشر بن سری سفیان، سعد بن ابراہیم، حضرت عبداللہ بن کعب ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا البتہ محمود نے بشر سے اپنی روایت میں کہا کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے اور ابن حاتم نے منافق کی مثال کہا ہے جیسا کہ زہیر نے کہا۔

This hadith has been narrated through another chain, of transmitters also.Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allahs Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palm tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allahs Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palm tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.

7097Sahih Muslim

مومن اور کافر کی مثال کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ عَنْ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَی وَمَثَلُ الْکَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ

محمد بن بشار، عبداللہ بن ہاشم یحییٰ قطان سفیان، سعد بن ابراہیم، ابن ہاشم عبداللہ بن بشار ابن کعب ابن مالک اس سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ ان سب اسناد سے یہ مروی ہے کہ کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Kab through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7098Sahih Muslim

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ هِيَ النَّخْلَةُ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعُمَرَ قَالَ لَأَنْ تَکُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر سعدی یحییٰ اسماعیل ابن جعفر عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے پس تم مجھے بیان کرو کہ وہ کونسا درخت ہے پس لوگوں کا خیال جنت کے درختوں کی طرف گردش کرنے لگا حضرت عبداللہ نے کہا میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے پس میں نے شرم محسوس کی پھر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہی ہمیں بتادیں وہ کون سا درخت ہے تو آپ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے کہتے ہیں پھر میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عمر ؓ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تو کہہ دیتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو یہ میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allahs Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to Umar, whereupon he said: Had you said that it meant the date-palm tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.

7099Sahih Muslim

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْکُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ فَأَهَابُ أَنْ أَتَکَلَّمَ فَلَمَّا سَکَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ

محمد بن عبید عنبری حماد بن زید ایوب ابی خلیل مجاہد حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کرام سے فرمایا مجھے اس درخت کی خبر دو جس کی مثال مومن کی طرح ہے پس صحابہ نے جنگل کے درختوں کا ذکر کرنا شروع کردیا ابن عمر ؓ نے کہا میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے پس میں نے اسے کہنے کا ارادہ کیا لیکن میں وہاں بڑے لوگوں کی وجہ سے بات کرنے سے ڈر گیا جب وہ سب خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ one day said to his Companions: Tell me about a tree which has resemblance with a believer. The people began to mention (different) trees of the forest. Ibn Umar said: It was instilled in my mind or in my heart and it stuck therein that it implied the date-palm tree. I made up my mind to make a mention of that but could not do that because of the presence of the elderly people there. When there was a hush amongst them (after they had expressed their views), Allahs Messenger ﷺ said: It is the date-palm tree.

7100Sahih Muslim

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَذَکَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح حضرت مجاہد ؓ سے روایت ہے کہ میں مدینہ تک حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ رہا پس میں نے ان سے ایک حدیث کے سوا کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے نہیں سنی انہوں نے کہا ہم نبی ﷺ کے پاس حاضر تھے آپ ﷺ کی خدمت میں کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Mujahid said: (I have had the privilege) of accompanying Ibn Umar up to Madinah but I did not hear him narrate anything from Allahs Messenger ﷺ except one hadith. And he said: We were in the presence of Allahs Messenger ﷺ that there was brought to him the kernel of a date. The rest of the hadith is the same.

7101Sahih Muslim

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

ابن نمیر، ابی سفیف مجاہد حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Mujahid reported: I heard Ibn Umar as saying: There was brought to Allahs Messenger ﷺ the kernel. The rest of the hadith is the same.

7102Sahih Muslim

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ کَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَعَلَّ مُسْلِمًا قَالَ وَتُؤْتِي أُکُلَهَا وَکَذَا وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُکُلَهَا کُلَّ حِينٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَرَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَکَلَّمَانِ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَکُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا

ابوبکر بن ابی شبہ ابواسامہ عبیداللہ بن عمر نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے ایسے درخت کی خبر دو جو مشابہ ہوتا ہے یا فرمایا مسلمان مرد کے مشابہ ہوتا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے ابراہیم نے کہا شاید کہ وہ مسلمان ہو امام مسلم نے کہا انہوں نے شاید یہ کہا وہ پھل دیتا ہے اور اسی طرح میں نے اپنے سے علاوہ کی روایات میں یہ پایا ہے کہ وہ ہر وقت پھل نہیں دیتا ابن عمر ؓ نے کہا پس میرے دل میں یہ بات واقع ہوگئی کہ وہ کھجور کا درخت ہوگا اور میں نے ابوبکر وعمر ؓ کو دیکھا کہ وہ نہیں بول رہے تو میں نے اس بارے میں کوئی بات کرنا پسند نہ کیا تو عمر ؓ نے فرمایا اگر تم بتا دیتے تو یہ فلاں فلاں چیز سے زیادہ (میرے نزدیک) پسندیدہ ہوتا۔

Ibn Umar (RA) reported: We were in the company of Allahs Messenger ﷺ that he said: Tell me of a tree which has resemblance to a Muslim and the leaves of which do not wither. Ibrahim said that perhaps Imam Muslim had stated like this: It constantly bears fruit but I have, however, seen [It does not bear fruit constantly]. Ibn Umar (RA) said: It crossed my mind that it could be the date-palm tree, but as I saw Aba Bakr and Umar observe silence, I did not deem it fit that I should speak or I should say something. Umar said: Had you said so, it would have been dearer to me than such and such thing.

7103Sahih Muslim

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَکِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک شیطان تحقیق مایوس ہوچکا ہے اس بات سے کہ نمازی حضرات اس کی جزیرہ عرب میں عبادت کریں لیکن وہ ان میں لڑائی اور فساد کرا دے گا۔

Jabir reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying: Verily, the Satan has lost all hopes that the worshippers would ever worship (him) in the peninsula of Arabia, but he (is hopeful) that he would sow the seed of dissension amongst them.