مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَی الْبَحْرِ فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ابلیس کا تخت سمندر پر ہوتا ہے پس وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو فتنہ میں ڈالیں پس ان لشکر والوں میں سے اس کے نزدیک بڑے مقام والا وہی ہوتا ہے جو ان میں سب سے زیادہ فتنہ ڈالنے والا ہو۔
Jabir reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The throne of Iblis is upon the ocean and he sends detachments (to different parts) in order to put people to trial and the most important figure in his eyes is one who is most notorious in sowing the seed of dissension.
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَی الْمَائِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيئُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيئُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَکْتُهُ حَتَّی فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ الْأَعْمَشُ أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ
ابوکریب محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہیم، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے پس اس کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہی مقرب ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں ان سے بڑا ہو ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس اس طرح کیا تو شیطان کہتا ہے تو نے کوئی (بڑا کام) سر انجام نہیں دیا پھر ان میں سے ایک (اور) آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے (فلاں آدمی) کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈلوا دی شیطان اسے اپنے قریب کر کے کہتا ہے ہاں! تو ہے (جس نے بڑا کام کیا ہے) اعمش نے کہا میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا وہ اسے اپنے سے چمٹا لیتا ہے۔
Jabir reported that Allahs Messenger ﷺ said: Iblis places his throne upon water; he then sends detachments (for creating dissension) ; the nearer to him in rank are those who are most notorious in creating dissension. One of them comes and says: I did so and so. And he says: You have done nothing. Then one amongst them comes and says: I did not spare so and so until I sowed the seed of discord between a husband and a wife. The Satan goes near him and says: You have done well. Amash said: He then embraces him.
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے شیطان اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں میں فتنہ ڈالتے ہیں پس ان میں سے مرتبہ کے اعتبار سے وہی زیادہ بڑا ہوتا ہے جو ان میں سے فتنہ ڈالنے کے اعتبار سے بڑا ہو۔
Jabir reported that Allahs Apostle ﷺ (may peace be upqn him) said: The Satan sends detachments of his own in order to put people to trial and the highest in rank, in his eyes, is one who is most notorious in sowing the seed of dissension.
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ قَالُوا وَإِيَّاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، منصور سالم بن ابی جعد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ اس کا جن ساتھی مقرر کیا گیا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا آپ ﷺ کے ساتھ بھی اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا اور میرے ساتھ بھی مگر اللہ نے مجھے اس پر مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہوگیا پس وہ مجھے نیکی ہی کا حکم کرتا ہے۔
Abdullah bin Masud reported that Allahs Messenger ﷺ said: There is none amongst you with whom is not an attached from amongst the jinn (devil). They (the Companions) said: Allahs Messenger, with you too? Thereupon he said: Yes, but Allah helps me against him and so I am safe from his hand and he does not command me but for good.
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَقَدْ وُکِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِکَةِ
ابن مثنی ابن بشار عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم عمار بن رزیق منصور جریر، عمران سفیان، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ سفیان کی حدیث میں ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ اس کا ساتھی جن اور ایک ساتھی فرشتہ مقرر کیا گیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Mansiir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَائَ فَرَأَی مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَکِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ فَقُلْتُ وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَی مِثْلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَدْ جَائَکِ شَيْطَانُکِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ کُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَکِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّی أَسْلَمَ
ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، ابوصخر، ابن قسیط عروہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے جب مجھے اس پر غیرت آئی پس آپ تشریف لائے تو دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ تجھے کیا ہوا کیا تجھے غیرت آئی میں نے عرض کیا مجھے کیا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو آپ ﷺ جیسے مرد پر غیرت نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس تیرا شیطان آیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا میرے ساتھ شیطان ہے آپ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ کے ساتھ بھی ہے آپ نے فرمایا ہاں لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد کی یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا۔
Aisha the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that one day Allahs Messenger ﷺ came out of her (apartment) during the night and she felt jealous. Then he came and he saw me (in what agitated state of mind) I was. He said: Aisha, what has happened to you? Do you feel jealous? Thereupon she said: How can it be (that a woman like me) should not feel jealous in regard to a husband like you. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: It was your devil who had come to you, and she said: Allahs Messenger, is there along with me a devil? He said: Yes. I said: Is devil attached to everyone? He said: Yes. I (Aisha) again said: Allahs Messenger, is it with you also? He said: Yes, but my Lord has helped me against him and as such I am absolutely safe from his mischief.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُهُ قَالَ رَجُلٌ وَلَا إِيَّاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَلَکِنْ سَدِّدُوا
قتیبہ بن سعید، لیث، بکیر بسر بن سعید حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات نہ دے گا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے گا لیکن تم سیدھی راہ پر گامزن رہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: None amongst you would attain salvation purely because of his deeds. A person said: Allahs Messenger, even you also. Thereupon he said: Yes. Not even I, but that Allah wraps me in Mercy, but you should act with moderation. This hadith has been transmitted on the authority of Bukair bin al-Ashajj with a slight variation of wording.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَلَمْ يَذْکُرْ وَلَکِنْ سَدِّدُوا
یونس بن عبدالاعلی صدفی عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ اللہ اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے گا اور تم سیدھی راہ پر گامزن رہو مذکور نہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is none whose deeds alone would entitle him to get into Paradise. It was said to him: And, Allahs Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that my Lord wraps me in Mercy.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ فَقِيلَ وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ
قتیبہ بن سعید، حماد ابن زید ایوب محمد حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی بھی آدمی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہ کرائے گا آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is none amongst you whose deeds alone would attain salvation for him. They (the Companions) said: Allahs Messenger, not even you? He (the Holy Prophet) said: Not even I, but that Allah wraps me in Mercy and He grants me pardon. Ibn Aun pointed towards his head with his hand saying: Not even I, but that Allah wraps me in His Forgiveness and Mercy.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْکُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ بِيَدِهِ هَکَذَا وَأَشَارَ عَلَی رَأْسِهِ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون محمد حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے اس کا عمل نجات دلوا دے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ مجھے اللہ مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے گا ابن عون نے کہا اس طرح اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر پر اشارہ کر کے بتایا اور مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنی مغفرت کے ساتھ ڈھانپ لے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is none amongst you whose deeds alone would attain salvation for him. They (the Companions) said: Allahs Messenger, not even you? He (the Holy Prophet) said: Not even I, but that Allah wraps me in Mercy and He grants me pardon. Ibn Aun pointed towards his head with his hand saying: Not even I, but that Allah wraps me in His Forgiveness and Mercy.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَدَارَکَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال نجات دیں صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت میں لے لے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is none whose deeds alone can secure salvation for him. They said: Allahs Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that, the Mercy of Allah should take hold of me.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَی بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ
محمد بن حاتم، ابوعباد یحییٰ بن عباد ابراہیم بن سعد ابن شہاب ابی عبید مولیٰ عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں کسی کو بھی اس کے اعمال جنت میں داخل نہ کرائیں گے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allahs Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْکُمْ بِعَمَلِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْتَ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میانہ روی اختیار کرو اور سیدھی راہ پر گامزن رہو اور جان رکھو کہ تم میں کوئی بھی اپنے اعمال سے نجات حاصل نہ کرے گا صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Observe moderation in deeds (and if it is not possible, try to be near moderation) and understand that none amongst you can attain salvation because of his deeds alone. They said: Allahs Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Mercy and Grace.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابن نمیر، ابی اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ نے بھی نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا کَرِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Amash through two other chains of transmitters. The wording is, however, the same.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَأَبْشِرُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے البتہ اضافہ یہ ہے کہ خوش ہوجاؤ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters with this addition: "Give them glad tidings".
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَلَا يُجِيرُهُ مِنْ النَّارِ وَلَا أَنَا إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنْ اللَّهِ
سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں داخل نہ کریں گے اور نہ ہی اسے جہنم سے بچائیں گے اور نہ مجھے مگر یہ کہ اللہ کی طرف سے رحمت کے ساتھ۔
Jabir reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying: None of you would get into Paradise because of his good deeds alone, and he would not be rescued from Fire, not even I, but because of the Mercy of Allah.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَی اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ
اسحاق بن ابراہیم، عبدالعزیز بن محمد محمد بن حاتم، بہز وہیب موسیٰ بن عقبہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سیدہ عائشہ ؓ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سیدھی راہ پر گامزن رہو اور میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری دو کیونکہ کسی کو اس کے عمل جنت میں داخل نہ کرائیں گے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو بھی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اور مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے گا اور جان لو اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ کم ہو۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that Allahs Messenger ﷺ used to say: Observe moderation (in doing deeds), and if you fail to observe it perfectly, try to do as much as you can do (to live up to this ideal of moderation) and be happy for none would be able to get into Paradise because of his deeds alone. They (the Companions of the Holy Prophet) said: Allahs Messenger, not even thou? Thereupon he said: Not even I, but that Allah wraps me in His Mercy, and bear this in mind that the deed loved most by Allah is one which is done constantly even though it is insignificant.
کوئی بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ وَأَبْشِرُوا
حسن حلوانی یعقوب بن ابراہیم بن سعد عبدالعزیز بن مطلب موسیٰ بن عقبہ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں خوشخبری دو مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Musa bin Uqba with the same chain of transmitters and he did not make a mention of: "Be happy".