مدعی علیہ پر قسم لازم ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَی نَاسٌ دِمَائَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَکِنَّ الْيَمِينَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَيْهِ
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم لوگوں کو ان کے دعوی کے مطابق دے دیا جائے تو لوگ آدمیوں کے خون اور اموال کا دعوی کریں گے لیکن مدعی علیہ پر قسم ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If the people were given according to their claims, they would claim the lives of persons and their properties, but the oath must be taken by the defendant.
مدعی علیہ پر قسم لازم ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالْيَمِينِ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَيْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، نافع بن عمر، ابی ملیکہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کا فیصلہ مدعی علیہ پر کیا۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger ﷺ pronounced judgment on the basis of oath by the defendant.
ایک قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ کرنے کا بیان
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ حُبَابٍ حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، زید، ابن حباب، سیف بن سلیمان، قیس بن سعد، عمرو بن دینار، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قسم اور ایک گواہ کے ذریعے فیصلہ فرمایا
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger ﷺ pronounced judgment on the basis of oath by the defendant.
حاکم کے فیصلے کا حقیقت کو تبدیل نہ کرسکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ يَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَی نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، زینب بنت ابی سلمہ، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنا جھگڑا میرے پاس لاتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی دلیل کو دوسرے سے عمدہ طریقے سے بیان کرنے والا ہو اور میں اس کے لئے فیصلہ کردوں اس بات پر جو میں نے اس سے سنی پھر میں جس کے لئے اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لئے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں
Umm Salamah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You bring to me, for (judgment) your disputes, some of you perhaps being more eloquent in their plea than others, so I give judgment on their behalf according to what I hear from them. (Bear in mind, in my judgment) if I slice off anything for him from the right of his brother, he should not accept that, for I sliced off for him a portion from the Hell.
حاکم کے فیصلے کا حقیقت کو تبدیل نہ کرسکنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام اسی طرح یہ حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
حاکم کے فیصلے کا حقیقت کو تبدیل نہ کرسکنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنْ النَّارِ فَلْيَحْمِلْهَا أَوْ يَذَرْهَا
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، زینب بنت ابی سلمہ، حضرت ام سلمہ ام المومینن نبی کریم ﷺ کی زوجہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھگڑے والے کا شور اپنے حجرہ کے دروازے پر سنا تو ان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا میں بشر ہوں اور بیشک میرے پاس ایک مقدمہ والا آتا ہے اور ہوسکتا ہے ان میں سے ایک دوسرے سے اپنی بات اچھے انداز سے پہنچانے والا ہو۔ تو میں یہ گمان کروں کہ وہ سچا ہے اور میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں پس میں جس کے حق میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کروں تو وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے پس وہ اسے اٹھا لے یا چھوڑ دے۔
Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that Allahs Messenger ﷺ heard the clamour of contenders at the door of his apartment. He went to them, and said: I am a human being and the claimants bring to me (the dispute) and perhaps some of them are more eloquent than the others. I judge him to be on the right, and thus decide in his favour. So he whom I, by my judgment, (give the undue share) out of the right of a Muslim, I give him a portion of Fire; he may burden himself with it or abandon it.
حاکم کے فیصلے کا حقیقت کو تبدیل نہ کرسکنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ أُمِّ سَلَمَةَ
عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم ابن سعد، صالح، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت ام سلمہ ؓ سے ہی روایت ہے اس میں الفاظ ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ام سلمہ ؓ کے دروازے کے پاس جھگڑنے والوں کا شور سنا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Mamar with a slight variation of words.
ہند (زوجہ ابوسفیان) کے فیصلہ کا بیان
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مِنْ النَّفَقَةِ مَا يَکْفِينِي وَيَکْفِي بَنِيَّ إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِکَ مِنْ جُنَاحٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَکْفِيکِ وَيَکْفِي بَنِيکِ
علی بن حجر سعدی، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ زوجہ ابوسفیان ہند بنت عتبہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابوسفیان بخیل آدمی ہیں وہ مجھے میری اور میری اولاد کے بقدر کفایت خرچہ نہیں دیتے ہاں یہ کہ جو میں اس کے مال میں سے اس کو بتائے بغیر لے لوں کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے مال میں اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے بقدر کفایت دستور کے مطابق حاصل کرلیں
Aisha reported: Hind, the daughter of Utba, wife of Abu Sufyan (RA) , came to Allahs Messenger ﷺ and said: Abu Sufyan (RA) is a miserly person. He does not give adequate maintenance for me and my children, but (I am constrained) to take from his wealth (some part of it) without his knowledge. Is there any sin for me? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Take from his property what is customary which may suffice you and your children.
ہند (زوجہ ابوسفیان) کے فیصلہ کا بیان
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَوَکِيعٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، وکیع، یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن محمد، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک یعنی ابن عثمان ان مختلف اسناد سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
ہند (زوجہ ابوسفیان) کے فیصلہ کا بیان
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ هِنْدٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کَانَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُذِلَّهُمْ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِکَ وَمَا عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُعِزَّهُمْ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِکٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَی عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَرَجَ عَلَيْکِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ہند ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ کی قسم روئے زمین پر مجھے کسی گھر والے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سے زیادہ پسند نہ تھی اور آپ روئے زمین پر کسی گھرانے کی عزت مجھے آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ پسند و محبوب نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابھی اور زیادتی ہوگی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے پھر اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں اگر میں اس کے مال میں سے کچھ اس کی اجازت کے بغیر اس کے بچوں پر خرچ کروں تو کچھ گناہ ہوگا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تجھے گناہ نہیں ہے اگر تو ان پر دستور کے موافق خرچ کرے۔
Aisha reported that Hind came to Allahs Apostle ﷺ and said: Messenger of Allah, by Allah, there was no other household upon the surface of the earth than your household about which I cherished Allah bringing disgrace upon it, (and now) there is no other household upon the surface of the earth than your household about which I cherish Allah granting it honour. Allahs Apostle ﷺ said: It is so, by Him in Whose Hand is my life She said: Allahs Messenger, Abu Sufyan (RA) is a niggardly person. Is there any harm for me if I spend upon his children out of his wealth without his permission? Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: There is no harm for you if you spend upon them what is reasonable.
ہند (زوجہ ابوسفیان) کے فیصلہ کا بیان
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کَانَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَائٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِکَ وَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَائٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيکٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ مِنْ أَنْ أُطْعِمَ مِنْ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا فَقَالَ لَهَا لَا إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن اخی زہری، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ہند ؓ بنت عتبہ بن ربیعہ آئی اور عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ اللہ کی قسم آپ کے گھر والوں کی ذلت مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ پسند تھی اور آج ایسا دن آگیا ہے کہ آپ کے گھر والوں کی عزت دنیا کے تمام گھروں کی عزت سے زیادہ عزیز و پسند ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابھی اور زیادتی ہوگی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں تو کیا مجھے پر اس بات کا کوئی گناہ ہوگا کہ میں اپنی اولاد کو جو اسی سے ہے کچھ کھلاوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی گناہ نہیں ہاں دستور کے موافق ہو
Aisha reported that Hind, daughter of Utba h. Rabi, came to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, by Allah, there was no household upon the surface of the earth than your household about which I cherished that it should be disgraced. But today there is no household on the surface of the earth than your household about which I cherish that it be honoured. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said. It will increase, by Him in Whose Hand is my life. She then said: Messenger of Allah, Abu Sufyan (RA) is a niggardly person; is there any harm for me if I spend out of that which belongs to him on our children? He said to her: No, but only that what is reasonable.
بغیر ضرورت کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت اور باوجود دوسرے کا حق ادا نہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَرْضَی لَکُمْ ثَلَاثًا وَيَکْرَهُ لَکُمْ ثَلَاثًا فَيَرْضَی لَکُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَيَکْرَهُ لَکُمْ قِيلَ وَقَالَ وَکَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری تین باتوں سے راضی ہوتا ہے اور تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے جن باتوں سے راضی ہوتا ہے وہ یہ ہیں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور اللہ کی رسی کو مل کر تھامے رہو اور متفرق نہ ہو اور تم سے جن باتوں کو ناپسند کرتا ہے وہ فضول اور بیہودہ گفتگو اور سوال کی کثرت اور مال کو ضائع کرنا ہیں
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily Allah likes three things for you and He disapproves three things for you. He is pleased with you that you worship Him and associate not anything with Him, that you hold fast the rope of Allah, and be not scattered; and He disapproves for you irrelevant talk, persistent questioning and the wasting of wealth.
بغیر ضرورت کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت اور باوجود دوسرے کا حق ادا نہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَيَسْخَطُ لَکُمْ ثَلَاثًا وَلَمْ يَذْکُرْ وَلَا تَفَرَّقُوا
شیبان بن فروخ، ابوعوانہ، سہیل اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ہے اور تم پر تین باتوں میں ناراض ہوتا ہے اور اس میں اس کا ذکر نہیں کیا
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters, but with a slight variation of words.
بغیر ضرورت کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت اور باوجود دوسرے کا حق ادا نہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَی الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيْکُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَمَنْعًا وَهَاتِ وَکَرِهَ لَکُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَکَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، شعبی، وراد مولیٰ مغیرہ بن شعبہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے ماؤں کی نافرمانی اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا اور باوجود قدرت دوسرے کا حق ادا نہ کرنے اور بغیر حق سوال کرنے کو حرام کیا ہے اور تین باتوں کو تمہارے لئے ناپسند کیا ہے فضول گفتگو سوال کی کثرت اور مال کو ضائع کرنا۔
Mughira bin Shubahh reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily Allah, the Glorious and Majestic, has forbidden for you: disobedience to mothers, and burying alive daughters, withholding the right of others in spite of having the power to return that to them and demanding that (which is not ones legitimate right). And He disapproved three things for you; irrelevant talk, persistent questioning and wasting of wealth.
بغیر ضرورت کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت اور باوجود دوسرے کا حق ادا نہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَحَرَّمَ عَلَيْکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْکُمْ
قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، منصور اسی حدیث کی دوسری سند ہے لیکن اس میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم پر حرام کیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ اللہ نے تم پر حرام کیا ہے
A hadith like this has been trransmitted on the authority of Mansur with a slight vairiation of words.
بغیر ضرورت کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت اور باوجود دوسرے کا حق ادا نہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ عَنْ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي کَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ کَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَی الْمُغِيرَةِ اکْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْئٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ کَرِهَ لَکُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَکَثْرَةَ السُّؤَالِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، خالد حذاء، ابن اشوع، حضرت شعبی ؓ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت مغیرہ بن شعبہ نے بیان کیا کہ معاویہ ؓ نے مغیرہ کی طرف لکھا کہ میری طرف وہ چیز لکھ بھیجو جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ مغیرہ نے ان کی طرف لکھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ فرماتے تھے اللہ تم سے تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے فضول گفتگو اور مال کو ضائع کرنا اور سوال کی کثرت۔
Shabi reported that the scribe of al-Mughirah bin Shubah said: Muawiyah wrote to Mughira: Write for me something which you heard from Allahs Messenger ﷺ; and he wrote: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying. Verily Allah disapproves three things for you: irrelevant talk, wasting of wealth and persistent questioning.
بغیر ضرورت کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت اور باوجود دوسرے کا حق ادا نہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ وَرَّادٍ قَالَ کَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَی مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْکَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا وَنَهَی عَنْ ثَلَاثٍ حَرَّمَ عُقُوقَ الْوَالِدِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَلَا وَهَاتِ وَنَهَی عَنْ ثَلَاثٍ قِيلَ وَقَالَ وَکَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ
ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ فزاری، محمد بن سوقہ، محمد بن عبیداللہ ثفقی، حضرت وراد سے روایت ہے کہ مغیرہ ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کی طرف لکھا آپ ؓ پر سلامتی ہو۔ اما بعد میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ اللہ نے والد کی نافرمانی اور بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا حق کو روکنا اور ناحق کو طلب کرنا حرام کیا ہے اور تین باتوں فضول گفتگو، سوال کی کثرت اور مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا۔
Warrad reported that al-Mughirah wrote to Muawiyah: Peace be upon you, and then coming to the point (I should say) that I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily Allah has Prohibited three things and has forbidden three things. He has declared absolutely haram the disobedience of father, burying of daughters alive, and withholding that which you have power to return, and has forbidden three things: irrelevant talk, persistent questioning, and wasting of wealth.
حاکم جب اجہتاد کرے خواہ درست ہو یا خطا کرے اس کے لئے ثواب متحقق ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبدالعزیز بن محمد، یزید ابن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد، محمد بن ابراہیم، بشربن سعید، ابی قیس مولیٰ عمر بن عاص، حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جب حاکم فیصلہ کرے اجہتاد سے پھر وہ فیصلہ درست ہو تو اس کے لئے دوھرا اجر ہے اور جب اس نے اجتہاد سے فیصلہ کیا لیکن غلطی کی تو اس کے لئے ایک اجر ہے۔
Amr bin al-As reported that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: When a judge gives a decision, having tried his best to decide correctly and is right, there are two rewards for him; and if he gave a judgment after having tried his best (to arrive at a correct decision) but erred, there is one reward for him.
حاکم جب اجہتاد کرے خواہ درست ہو یا خطا کرے اس کے لئے ثواب متحقق ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي عَقِبِ الْحَدِيثِ قَالَ يَزِيدُ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَکَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن ابی عمر، عبدالعزیز بن محمد، ابابکر بن محمد عمرو بن حزم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح حدیث روایت کی ہے
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) with another chain of transmitters.
حاکم جب اجہتاد کرے خواہ درست ہو یا خطا کرے اس کے لئے ثواب متحقق ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، مروان یعنی ابن محمد دمشقی، لیث بن سعد، یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد، لیث، عبدالعزیز بن محمد اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Usama bin al-Had al-Laithi.