فیصلوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 32 · 28 hadiths · Page 2 of 2

4490Sahih Muslim

غصہ کی حالت میں قاضی کے فیصلہ کرنے کی کر اہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ کَتَبَ أَبِي وَکَتَبْتُ لَهُ إِلَی عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ أَنْ لَا تَحْکُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحْکُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، حضرت عبدالر حمن بن ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے والد نے لکھوایا اور میں نے لکھا قاضی سجستان عبیداللہ ابوبکرہ کی طرف کہ تو دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کوئی بھی دو آدمیوں کے درمیان حالت غصہ میں فیصلہ نہ کرے۔

Abdul Rahman bin Abu Bakra (RA) reported: My father dictated (and I wrote for him) to Ubaidullah bin Abu Bakr (RA) while he was the Judge of Sijistan: Do not Judge between two persons when you are angry, for I have heard Allahs Messenger ﷺ as saying: None of you should Judge between two persons when he is angry.

4491Sahih Muslim

غصہ کی حالت میں قاضی کے فیصلہ کرنے کی کر اہت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم، شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، ابوکریب، حسین بن علی، زائدہ، عبدالملک بن عمیر، عبدالرحمن بن ابی بکرہ اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Abu Bakra (RA) through another chain of transmitters.

4492Sahih Muslim

احکام باطلہ کو ختم کرنے اور رسومات و بدعات کو رد کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ

ابوجعفر محمد بن صباح، عبداللہ بن عون ہلالی، ابراہیم بن سعد، ابن صباح، ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف، قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے احکام میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس سے نہ ہو تو وہ مردود و نامقبول ہے۔

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who innovates things in our affairs for which there is no valid (reason) (commits sin) and these are to be rejected.

4493Sahih Muslim

احکام باطلہ کو ختم کرنے اور رسومات و بدعات کو رد کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَامِرٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ مَسَاکِنَ فَأَوْصَی بِثُلُثِ کُلِّ مَسْکَنٍ مِنْهَا قَالَ يُجْمَعُ ذَلِکَ کُلُّهُ فِي مَسْکَنٍ وَاحِدٍ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، ابی عامر، عبدالملک بن عمرو، عبداللہ بن جعفر زہری، حضرت سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا اس آدمی کے بارے میں جس کے تین مکان ہوں اور وہ ہر مکان سے تہائی حصہ کی وصیت کر دے۔ انہوں نے کہا مجھے عائشہ صدیقہ ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ نامقبول ہے۔

Sad bin Ibrahim reported: I asked Qasim bin Muhammad about a person who had three dwelling houses and he willed away the third part of every one of these houses; he (Qasim bin Muhammad) said: All of them could be combined in one house; and then said: Aisha informed me that Allahs Messenger ﷺ said: He who did any act for which there is no sanction from our behalf, that is to be rejected.

4494Sahih Muslim

بہترین گواہوں کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَائِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عبداللہ بن عمرو بن عثمان، ابن ابی عمرہ انصاری، حضرت زید بن خالد الجہنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں۔ یہ وہ ہے جو گواہی کے طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دے دے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Should I not tell you of the best witnesses? He is the one who produces his evidence before he is asked for it.

4495Sahih Muslim

مجہتدین کے اختلاف کے میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَائَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِکِ أَنْتِ وَقَالَتْ الْأُخْرَی إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِکِ فَتَحَاکَمَتَا إِلَی دَاوُدَ فَقَضَی بِهِ لِلْکُبْرَی فَخَرَجَتَا عَلَی سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّکِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَکُمَا فَقَالَتْ الصُّغْرَی لَا يَرْحَمُکَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَی بِهِ لِلصُّغْرَی قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّکِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا کُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ

زہیر بن حرب، شبابہ، ورقاء، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو عورتیں جارہی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے اپنے اپنے بیٹے تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک عورت کے بیٹے کو اٹھا کرلے گیا۔ تو اس دوسری نے کہا کہ وہ تیرے بیٹے کو اٹھا کرلے گیا ہے۔ پس ان دونوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس اپنا مقدمہ پیش کیا تو آپ نے بڑی کے لئے فیصلہ کردیا۔ وہ نکلیں اور سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ کو اس کی خبر دی آپ نے فرمایا میرے پاس چھری لے آؤ تاکہ میں اسے تمہارے درمیان کاٹ دوں تو چھوٹی نے کہا ایسا نہ کرو۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے وہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو آپ نے چھوٹی ہی کے لئے اس بچے کا فیصلہ کردیا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم! میں نے آج تک سکین سنا ہی نہیں ہم تو اسے مدیہ کہتے ہیں

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: While two women had been going along with their two sons, a wolf came and made away with the child of one of them. One of them said to her companion: It is with your child that it (the wolf) has run away. The other one said: It has run away with your child. They brought the matter to (Hadrat) Dawud علیہ السلام (David) for decision and he made a decision in favour of the elder one. They then went to Sulaiman bin Dawud (may there be peace upon both of them) and told them (the story). He said: Bring me a knife so that I may cut him (the child) (into two parts) for you. The younger one said: No, it cant be, may Allah have mercy upon you, he (the child) belongs to her (the elder). So he gave a decision in favour of the younger one. Abu Hurairah (RA) said: If ever I heard of the word as-sikin at all, it was that day. We called it by no other name but al-Mudya.

4496Sahih Muslim

مجہتدین کے اختلاف کے میں

و حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَی حَدِيثِ وَرْقَائَ

سوید بن سعید، حفص یعنی ابن میسرہ صنعانی، موسیٰ بن عقبہ، امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح ابن قاسم، محمد بن عجلان، ابی زناد اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu az-Zinad with the same chain of transmitters.

4497Sahih Muslim

حاکم کا جھگڑ نے والوں کے درمیاں صلح کر انے کے استح بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَی رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَی الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَی الْعَقَارَ خُذْ ذَهَبَکَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْکَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْکَ الذَّهَبَ فَقَالَ الَّذِي شَرَی الْأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُکَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا قَالَ فَتَحَاکَمَا إِلَی رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاکَمَا إِلَيْهِ أَلَکُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ وَقَالَ الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ قَالَ أَنْکِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَی أَنْفُسِکُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی مروی احادیث میں سے ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خریدی۔ پس اس آدمی نے جس نے زمین خریدی تھی اس کی زمین میں سونے کے ایک گھڑے کو پایا۔ تو اس آدمی سے کہا جس سے زمین خریدی تھی۔ مجھ سے اپنا سونا لے لو میں نے تو تجھ سے صرف زمین ہی خریدی تھی میں نے تجھ سے سونا طلب نہیں کیا تھا۔ تو اس آدمی نے کہا جس نے زمین فروخت کی تھی کہ میں نے یہ زمین بمع جو کچھ اس میں ہو تجھے فروخت کردی ہے چناچہ انہوں نے اپنا یہ مقدمہ ایک آدمی کے سامنے پیش کیا۔ جس کے سامنے مقدمہ پیش کیا گیا اس نے کہا کیا تمہارے دونوں کی اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا میرا لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میری لڑکی ہے۔ اس نے کہا کہ لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کردو اور یہ مال ان پر خرچ کردو اور انہیں دے دو۔

Hammim bin Munabbih said: Abu Hurairah (RA) reported (so many) ahadith of Allahs Messenger ﷺ, and one of them is this: A person bought from another person a piece of land, and the person who had bought that land found in it an earthen ware which contained gold. The person who had bought the land said (to the seller of the land): Take your gold from me, for I bought only the land from you and not the gold. The man who had sold the land said: I sold the land to you and whatever was in it. They referred the matter to a person. One who was made as a Judge said to them: Have you any issue? One of them said: I have a boy, and the other said: I have a young daughter. He (the Judge) said: Marry this young boy with the girl, and spend something on yourselves and also give (some) charity out of it.