گری پڑی چیز کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 33 · 21 hadiths · Page 1 of 2

4498Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَکَ بِهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا قَالَ يَحْيَی أَحْسِبُ قَرَأْتُ عِفَاصَهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک، ربیعہ بن عبدالرحمن، یزید مولیٰ منبعث، حضرت زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان رکھ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر تو اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ورنہ اسے تو رکھ لے اس نے عرض کیا گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ تیرے لئے یا تیرے بھائی کے لئے یا بھیڑئے کے لئے ہے اس نے عرض کیا گمشدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس سے کیا ہے اس کے ساتھ اس کی مشک ہے اور اس کا جوتا بھی اس کے ساتھ ہے وہ پانی کے گھاٹ پر جائے گا اور درختوں کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پکڑ لے گا۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported: A man came to Allahs Apostle ﷺ and asked him about picking up of stray articles. He said: Recognise (well) its bag and the strap (by which it is tied) then make announcement of that for a year. If its owner comes (within this time return that to him), otherwise it is yours. He (again) said: (What about) the lost goat? Thereupon he (the Holy Prophet ﷺ) said: It is yours or for your brother, or for the wolf. He said: (What about) the lost camel? Thereupon he said: You have nothing to do with it; it has a leather bag along with it, and its shoes also. It comes to the watering-place, eats (the leaves of the) trees until its master finds him.

4499Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِکَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَائَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید مولیٰ منبعث حضرت زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اعلان کر پھر اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان کو یاد رکھ پھر اسے خرچ کرلے تو اگر اس کا مالک آجائے تو اسے اس کو لوٹا دے اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول گمشدہ بکری کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا اسے پکڑ لو کیونکہ وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے ہے اس نے عرض کیا گمشدہ اونٹ کے بارے میں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غصہ میں آگئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے یا پھر آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس اونٹ سے کیا ہے اس اونٹ کے ساتھ اس کا جوتا ہے اور اس کا مشک ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پکڑ لے گا۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported that a person asked Allahs Apostle ﷺ about picking up of stray articles, whereupon he said: Make announcement about it for a year, and recognise well the strap and the bag (containing that); then spend that; and if its owner comes, make him the payment of that. He (the inquirer) said: Messenger of Allah, what about the lost goat? he said: Take it, for that is yours or for your brother, or for the wolf. He (again) said: (What about) the lost camel? The Messenger of Allah ﷺ was enraged until his cheeks became red (or his face became red) and then said: You have nothing to do about that; it has feet and a leather bag (to quench its thirst) until its owner finds it.

4500Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُمْ أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ قَالَ أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنْ اللُّقَطَةِ قَالَ وَقَالَ عَمْرٌو فِي الْحَدِيثِ فَإِذَا لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا

ابوالطاہر، عبداللہ بن وہب سفیان الثوری، مالک بن انس، و عمر بن حارث ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ان سندوں سے بھی یہ حدیث اسی طرح منقول ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ زائد ہے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ ساتھ تھا اس نے لقطہ (گری ہوئی گمشدہ چیز) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اور عمرو کی حدیث میں ہے کہ جب اس کا طلب کرنے والا نہ آئے تو تم اسے خرچ کر ڈالو۔

This hadith has been narrated on the authority of Rabia bin Abu Abdul Rahman with the same chain of transmitters but with this addition: "There came a person to Allahs Messenger ﷺ while I was with him, and he asked him about picking up of a stray article, and he said: When none comes to demand it, then spend that."

4501Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُا أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا کَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَکَ

احمد بن عثمان، ابن حکیم الاودی، خالد بن مخلد، سلیمان ابن بلال، ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن، یزید مولیٰ منبعث حضرت زید بن جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا پھر آگے اسی طرح حدیث نقل کی سوائے اس کے اس میں ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اور آپ ﷺ کی پیشانی سرخ ہوگئی اور آپ ﷺ غصہ میں آگئے اور آپ ﷺ کے اس فرمان کے بعد یہ بھی زائد ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر ایک سال تک اعلان کرو اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو پھر وہ چیز تیرے پاس امانت ہوگی۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported. There came to Allahs Messenger ﷺ a person, the rest of the hadith is the same but with the variation (of these words): His face became red, his forehead too, and he felt annoyed; and made an addition after the words: He should make announcement of that for a year, and if its owner does not turn up, then it is a trust with you.

4502Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ فَقَالَ اعْرِفْ وِکَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَکُنْ وَدِيعَةً عِنْدَکَ فَإِنْ جَائَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنْ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ مَا لَکَ وَلَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَائَهَا وَسِقَائَهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی يَجِدَهَا رَبُّهَا وَسَأَلَهُ عَنْ الشَّاةِ فَقَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان ابن بلال، یحییٰ بن سعید، یزید مولیٰ منعبث حضرت زید بن خالد جہنی ؓ صحابی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سونے یا چاندی کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس تھیلی کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان کو یاد رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر اگر کوئی اسے نہ پہچانے تو تو اس کو خرچ کر ڈال لیکن یہ تیرے پاس امانت ہوگی پھر اگر کسی زمانے کے کسی دن اس کا متلاشی آجائے تو تو اسے اس کو واپس کر دے اور اس آدمی نے آپ ﷺ سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس اونٹ سے کیا غرض اسے چھوڑ کیونکہ اس کی جوتی اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جائے گا اور درخت کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا اور پھر اس آدمی نے آپ ﷺ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اسے پکڑ لے کیونکہ وہ بکری تیرے لئے یا تیرے بھائی کے لئے ہے یا بھیڑیے کے لئے ہے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani, the Companion ot Allahs Messenger ﷺ , said that Allahs Messenger ﷺ was asked about the picking up of stray gold or silver, whereupon he said: Recognise well the strap and the bag (containing) that and then make an announcement regarding that for one year, but if none recognises it, then spend that and it would be a trust with you; and if someone comes one day to make demand of that, then pay that to him. He (the inquirer) asked about the lost camel, whereupon he said: You have nothing to do with that. Leave that alone, for it has feet and also a leather bag, it drinks water, and eats (the leaves) of the trees. He asked him about sheep, whereupon he said: Take it, it is for you, or for your brother, or for the wolf.

4503Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ زَادَ رَبِيعَةُ فَغَضِبَ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا وَوِکَائَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلَّا فَهِيَ لَکَ

اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، حماد بن سلمہ، یحییٰ بن سعید، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا ربیعہ کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ آپ ﷺ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے اور اس میں یہ بھی زائد ہے کہ اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے تھیلے کو اور اس کے عدد کو پہچان لے (نشانی بتادے) تو وہ اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لئے ہے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported: A person asked Allahs Apostle ﷺ about a lost camel; Rabia made this addition: "He (the Holy Prophet) was so much annoyed that his cheeks became red." The rest of the hadith is the same. He (the narrator) made this addition: "If its (that of the article) owner comes and he recognises the bag (which contained it) and its number, and the strap, then give that to them, but if not, then it is for you."

4504Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا ثُمَّ کُلْهَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ

ابوالطاہر احمد بن عمرو بن سرح، عبداللہ بن وہب، ضحاک بن عثمان بن ابی النضر، بسر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کر پھر اگر وہ چیز نہ پہچانی جائے تو اس تھیلے اور اس کے باندھنے کی ڈوری کو یاد رکھ پھر اس کو کھالے اگر اس کا مالک آجائے تو اسے وہ چیز ادا کردو۔

Asked about picking up of stray things, whereupon he said: Make announcement of that Zaid bin Khalid al-Juhani reported that Allahs Messenger ﷺ was for one year, but if it is not recognised (by the owner), then recognise its bag and strap, then eat it; and if its owner comes, then give that to him. This hadith has been narrated on the authority of Al-Dahhak bin Uthman with the same chain of transmitters but with a slight variation of words.

4505Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا وَعَدَدَهَا

اسحاق بن منصور، ابوبکر الحنفی، حضرت ضحاک بن عثمان ان سندوں کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس میں فرماتے ہیں کہ اگر وہ چیز پہچان لی جائے تو اسے ادا کر ورنہ اس تھیلے اور اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس کے عدد کو یاد رکھو۔

This Arabic text is part of previous Hadeeth and not translated there.

4506Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالَا لِي دَعْهُ فَقُلْتُ لَا وَلَکِنِّي أُعَرِّفُهُ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ قَالَ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا قَالَ فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا فَقَالَ احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَائَهَا وَوِکَائَهَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِکَ بِمَکَّةَ فَقَالَ لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، سلمہ بن کہیل، حضرت سوید ؓ بن غفلہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت زید بن صوحان ؓ اور سلمان بن ربیعہ ؓ جہاد کرنے کی غرض سے نکلے تو میں نے ایک چابک پڑا ہوا پایا تو میں نے اسے پکڑ لیا مجھ سے کہا کہ اسے چھوڑ دو میں نے کہا لیکن میں اس کا اعلان کروں گا تو اگر اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ورنہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا حضرت سوید ؓ بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں کی بات کا انکار کردیا اور جب ہم جہاد سے واپس لوٹے تو میرے لئے فیصلہ کیا گیا کہ میں حج کروں اور پھر میں مدینہ آیا تو میری ملاقات حضرت ابی بن کعب ؓ سے ہوئی میں نے ان کو چابک اٹھانے کی خبر دی اور میں نے ان کو اپنے ساتھیوں کی بات سے آگاہ کیا تو حضرت ابی ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں سو دینار تھے میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو تو جب اس کا پہچاننے والا کوئی نہ آیا تو میں پھر آپ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو تو جب میں نے اس کا پہچاننے والا کوئی نہ پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کی گنتی کر اور اس تھیلی اور اس باندھنے کی ڈوری کی پہچان کو یاد رکھو تو اگر اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ورنہ تم اس سے فائدہ حاصل کرنا پھر میں نے اس سے فائدہ حاصل کیا پھر اس کے بعد مکہ میں میں حضرت ابی بن کعب ؓ سے ملا تو انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ تین سال یا ایک سال تھا۔

Salama bin Kuhail reported: I heard Sowaid bin Ghafala say: I went out, and also Zaid bin Suhan and Salman bin Rabia for Jihad, and I found a whip and took it up. They said to me: Leave it. I said: No, but I will make announcement of it and if its owner comes (then I will return that), otherwise I will use it, and I refused them. When we returned from Jihad, by a good fortune for me, I performed Pilgrimage. I came to Madinah and met Ubayy bin Kab, and related to him the affair of the whip and their opinion (the opinion of Zaid bin Suhan and Salman bin Rabia) about it (i. e. I should throw it). Thereupon he said: I found a money bag during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ which contained one hundred dinars. I came to him along with it, and he said: Make an announcement of it for one year; so I announced it, but did not find anyone who could (claim it after) recognising it. I again came to him and he said: Make announcement for one year. So I made announcement of it, but I found none who could recognise it. I came to him he said: Make announcement of it for one year. I made announcement of that but did not find one who could recognise it, whereupon he said: Preserve (in your mind) its number, its bag and its strap, and if its owner comes (then return that to him), otherwise make use of it. So I made use of that. I (Shubah) met him (Salama bin Kuhail) after this in Makkah, and he said: I do not know whether he said three years or one year.

4507Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ کُهَيْلٍ أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَی قَوْلِهِ فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا قَالَ شُعْبَةُ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا

عبدالرحمن بن بشر، بہز، شعبہ، سلمہ بن کہیل، حضرت سوید بن غفلہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ ؓ کے ساتھ نکلا تو میں نے ایک چابک پایا باقی حدیث اسی طرح ہے شعبہ کہتے ہیں کہ دس سال کے بعد میں نے ان سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔

Shubah reported: Salama bin Kuhail informed me or he informed people and I was among them. He said: I heard Sawaid bin Ghafala who reported: I went out along with Zaid bin Suhan and Salman bin Rabia, and found a whip, the rest of the hadith is the same up to the words: "I made use of that." Shubah said: I heard him say after ten years, that he made an announcement of it for one year.

4508Sahih Muslim

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ يُخْبِرُکَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِکَائِهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَزَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَةِ وَکِيعٍ وَإِلَّا فَهِيَ کَسَبِيلِ مَالِکَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا

قتیبہ بن سعید، جریر، اعمش، ابوبکر ابن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، ابی جمیعا، سفیان، محمد بن حاتم، عبداللہ بن جعفر رقی، صاحب مسلم ؓ نے اسی حدیث کی مختلف سندیں بیان کی ہیں حماد بن سلمہ کی روایت ہے کہ دو سال یا تین سال تک اعلان کا ذکر ہے اور اس کے علاوہ باقی روایات میں تین سال تک اعلان کرنے کا ذکر ہے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح سے ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Salama bin Kuhail through different chains of transmitters. In their ahadith, it is three years, except in the hadith of Hammid bin Salama it is two years or three years. In the hadith transmitted on the authority of Sufyan and Zaid bin Abu Unaisa and Hammid bin Salama (the words are): "If someone comes and informs you about the number (of articles) of the bag and the straps, then give that to him." Sufyan has made this addition in the narration of Waki: "Otherwise it is like your property." And in the narration of Ibn Numair the words are: "Otherwise make use of that."

4509Sahih Muslim

حاجیوں کی گمشدہ چیزوں کا بیان

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ

ابوالطاہر، یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن عبداللہ بن اشج، یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب، عبدالرحمن بن عثمان التیمی حضرت عبدالرحمن بن عثمانی تیمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاجیوں کی گمشدہ چیز اٹھانے سے منع فرمایا۔

Abdul Rahman bin Uthman al-Taimi reported that Allahs Messenger ﷺ forbade taking into custody the stray thing of the pilgrims.

4510Sahih Muslim

حاجیوں کی گمشدہ چیزوں کا بیان

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ آوَی ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا

ابوطاہر یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکع ابن سوادہ ابی سالم جیستانی، زید بن خالد الجہنی حضرت زیدہ بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے گمشدہ چیز کو اٹھایا تو وہ گمراہ ہے جب تک کہ اس گمشدہ چیز کا اعلان نہ کرے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported Allahs Messenger ﷺ as sayin.: He who found a stray article is himself led astray if he does not advertise it.

4511Sahih Muslim

جانور کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا دودھ دوہنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُهُ فَتُکْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ

یحییٰ بن یحیی، مالک بن انس، نافع، ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی کسی جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہے (آپ ﷺ نے فرمایا) کیا تم سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کی کوٹھڑی میں گھسا جائے اس کے خزانہ کو توڑا جائے اور اس کا کھانا (غلہ وغیرہ) نکال لیا جائے کیونکہ جانوروں کے تھنوں میں (ان کے مالکوں کے لئے) ان کا کھانا جمع کیا جاتا ہے تو کوئی آدمی کسی جانور کا دودھ (اس کے مالک) کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ having said this: None (of you) should milk the animal of another, but with his permission. Does any one of you like that his chamber be raided, and his vaults be broken, and his foodstuff be removed? Verily the treasures for them (those who keep animals) are the udders of the animals which feed them. So none of you should milk the animal of another but with his permission.

4512Sahih Muslim

جانور کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا دودھ دوہنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَی کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَيُنْتَثَلَ إِلَّا اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ کَرِوَايَةِ مَالِکٍ

قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن نمیر عبیداللہ، ابوالربیع، ابوکامل، زہیر بن اس حدیث کی سات سندیں ذکر کی گئی ہیں لیث بن سعد کی حدیث کے علاوہ باقی روایتوں میں فَيُنْتَقَلَ کا لفظ مذکور ہے اور اس لیث بن سعد کی حدیث میں فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ کے الفاظ مذکور ہیں۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.

4513Sahih Muslim

مہمان نوازی کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالُوا وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا کَانَ وَرَائَ ذَلِکَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ وَقَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ

قتیبہ، سعید، لیث، سعید، ابی سعید، حضرت ابوشریح عدوی ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جس وقت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور اس کی خاطر تواضع کرے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مہمان کی خاطر تواضع کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات اور تین دنوں تک اس کی مہمان نوازی کرے اس کے بعد وہ اس پر صدقہ ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ پر آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ خیر کی بات کہے یا وہ خاموش رہے۔

Abd Shuraib al-Adawi reported: My ear listened and my eye saw when Allahs Messenger ﷺ spoke and said: He who believes In Allah and the Hereafter should show respect to the guest even with utmost kindness and courtesy. They said: Messenger of Allah, what is this utmost kindness and courtesy? He replied: It is for a day and a night. Hospitality extends for three days, and what is beyond that is a Sadaqa for him; and he who believes in Allah and the Hereafter should say something good or keep quiet.

4514Sahih Muslim

مہمان نوازی کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّی يُؤْثِمَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْئَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ

ابوکریب، محمد بن علاء، وکیع، عبدالحمید بن جعفر، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت ابوشریں خزاعی ؓ نے فرمایا مہمان نوازی تین دنوں تک ہے اور اس کی خاطر تواضع ایک دن اور ایک رات تک اور کسی مسلمان کے لئے آدمی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اتنی دیر قیام کرے کہ وہ اسے گناہ گار کر دے صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ اسے کیسے گناہ گار کر دے گا آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی اس کے پاس ٹھہرے کہ اس کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لئے کچھ نہ بچے۔

Abu Shuriah al-Khuzai reported Allahs Messenger ﷺ as saying: (The period of the entertainment of a guest is three days, and utmost kindness and courtesy is for a day and a night). It is not permissible for a Muslim to stay with his brother until he makes him sinful. They said: Messenger of Allah, how he would make him sinful? He (the Holy Prophet) said: He stays with him (so long) that nothing is left with him to entertain him.

4515Sahih Muslim

مہمان نوازی کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَبَصُرَ عَيْنِي وَوَعَاهُ قَلْبِي حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَذَکَرَ فِيهِ وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدِکُمْ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّی يُؤْثِمَهُ بِمِثْلِ مَا فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ

محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی، عبدالحمید بن جعفر، سعید مقبری حضرت ابوشریح خزاعی ؓ فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جس وقت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر لیث کی حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ذکر ہے کہ تم میں سے کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اتنی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ اسے گناہ گار کرے جیسا کہ وکیع کی حدیث میں ہے۔

Said al-Maqburi reported: I heard Abu Shuraih al-Khuzill saying: My ears heard and my eyes saw and my mind retained it, when Allahs Messenger ﷺ spoke this, and he then narrated the hadith and made mention of this: "It is not permissible for any one of you to stay with his brother until he makes him sinful."

4516Sahih Muslim

مہمان نوازی کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَی فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَکُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ

قتبیہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابی خیر، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ بیشک آپ ﷺ ہمیں بھیجتے ہیں تو ہم ایک ایسی قوم کے پاس جا کر اترتے ہیں جو کہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا حکم ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم کسی ایسی قوم کے پاس اترو تو اگر وہ تمہاری (اس طرح خدمت کریں) جس طرح کہ ایک مسلمان کی ضیافت کی جاتی ہے تو تم اسے قبول کرلو اور اگر وہ اس طرح نہ کریں تو پھر ان سے ضیافت کا اس قدر حق لے لو جتنا کہ ان پر ایک مہمان کا حق ہوتا ہے۔

Uqba bin Amir reported: We said to Allahs Messenger ﷺ : You send us out and we come to the people who do not give us hospitality, so what is your opinion? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: If you come to the people who order for you what is befitting a guest, accept it; but if they do not, take from them what befits them to give to a guest.

4517Sahih Muslim

بچا ہوا مال مسلمانوں کی خیر خواہی میں لگانے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَی رَاحِلَةٍ لَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَی مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ کَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَی مَنْ لَا زَادَ لَهُ قَالَ فَذَکَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَکَرَ حَتَّی رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ

شیبان بن فروح، ابوالاشہب، ابی نضرہ، ابی سعید خدری حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ایک شخص اپنی سواری پر آیا اور دائیں بائیں گھورنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس زائد سواری ہو تو وہ اسے دے دے اور جس کے پاس بچا ہوا زادراہ ہو تو وہ اس آدمی کو دے دے کہ جس کے پاس زادراہ نہ ہو پھر آپ ﷺ نے مال کی قسموں کو ذکر فرمایا یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کو اپنے زائد مال میں حق نہیں ہے۔

Abu Said al-Khudri reported: While we were with the Apostle of Allah ﷺ on a journey, a person came upon his mount and began to stare on the right and on the left, (it was at this moment) that Allahs Messenger ﷺ said: He who has an extra mount should give that to one who has no mount for him, and he who has surplus of provisions should give them to him who has no provisions, and he made mention of so many kinds of wealth until we were of the opinion that none of us has any right over the surplus.