توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْکُرُنِي وَاللَّهِ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِکُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِذَا أَقْبَلَ إِلَيَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ إِلَيْهِ أُهَرْوِلُ
سوید بن سعید حفص بن میسرہ زید بن اسلم ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا میں اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جس کا وہ میرے ساتھ گمان کرتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اللہ کی قسم اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی اپنی گمشدہ سواری کو جنگل میں پالینے سے خوش ہوتا ہے اور جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے میں دو ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو میرے طرف چل کر آتا ہے میری رحمت اس کی طرف دوڑ کر آتی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: I live in the thought of My servant and I am with him as he remembers Me. (The Holy Prophet) further said: By Allah, Allah is more pleased wth the repentance of His servant than what one of you would do on finding the lost camel in the waterless desert. When he draws near Me by the span of his hand, I draw near him by the length of a cubit and when he draws near Me by the length of a cubit, I draw near him by the length of a fathom and when he draws near Me walking I draw close to him hurriedly.
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِکُمْ مِنْ أَحَدِکُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تم میں سے کسی کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی گمشدہ سواری کو پالینے کے وقت خوش ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah is more pleased with the repentance of His servant when he turns penitently towards Him than one of you would be on finding the lost camel.
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اس معنی کی حدیث مبارکہ روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ حَدِيثًا عَنْ نَفْسِهِ وَحَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِکَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ فَطَلَبَهَا حَتَّی أَدْرَکَهُ الْعَطَشُ ثُمَّ قَالَ أَرْجِعُ إِلَی مَکَانِيَ الَّذِي کُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتَّی أَمُوتَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَی سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان اسحاق عثمان جریر، اعمش، عمارہ بن عمر حضرت حارث بن سوید ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوا اور وہ بیمار تھے تو انہوں نے ہمیں دو حدیثیں بیان کیں ایک حدیث اپنی طرف سے اور ایک حدیث رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایک سنسان اور ہلاکت خیز میدان میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی سواری وہ جس پر اس کا کھانا پینا ہو اور پھر وہ سو جائے جب بیدار ہو تو دیکھے کہ اس کی سواری جا چکی ہے وہ اس کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ اسے سخت پیاس لگے پھر وہ کہے میں اپنی جگہ پر سو جاؤں گا یہاں تک کہ مرجاؤں پس اس نے اپنے سر کو اپنی کلائی پر مرنے کے لئے رکھا پھر بیدار ہوا تو اس کی سواری اس کے پاس ہی کھڑی ہو اور اس پر اس کا زاد راہ اور کھانا پینا ہو تو اللہ تعالیٰ مومن بندے کی توبہ پر اس آدمی کی سواری اور زاد راہ ملنے کی خوشی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔
Harith bin Suwaid said: I went to see Abdullah to inquire about his health as he was sick and he narrated to us a hadith of Allahs Messenger ﷺ . He heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah is more pleased with the repentance of His believing servant than a person who loses his riding beast carrying food and drink. He sleeps (being disappointed of its recovery) and then gets up and goes in search for that, until he is stricken with thirst. Then comes back to the place where he had been before and goes to sleep completely exhausted placing his head upon his hands waiting for death. And when he gets up, lot there is before him his riding beast and his provisions of food and drink. Allah is more pleased with the repentance of His servant than the recovery of this riding beast along with the provisions (of food and drink).
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ مِنْ رَجُلٍ بِدَاوِيَّةٍ مِنْ الْأَرْضِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ ابن آدم قطبہ بن عبدالعزیز اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ آدمی جنگل کی زمین میں ہو۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash through another chain of transmitters.
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ
اسحاق بن منصور ابواسامہ اعمش، عمارہ بن عمیر حضرت حارث بن سوید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ نے مجھ سے دو احادیث روایت کیں ان میں ایک رسول اللہ ﷺ سے اور دوسری اپنے پاس سے تو کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندہ کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے باقی حدیث جریر کی حدیث کی طرح ہی ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah is more pleased with the repentance of a believing man. The rest of the hadith is the same.
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ خَطَبَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ فَقَالَ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ حَمَلَ زَادَهُ وَمَزَادَهُ عَلَی بَعِيرٍ ثُمَّ سَارَ حَتَّی کَانَ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَأَدْرَکَتْهُ الْقَائِلَةُ فَنَزَلَ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَانْسَلَّ بَعِيرُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَسَعَی شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَی شَرَفًا ثَانِيًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ سَعَی شَرَفًا ثَالِثًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَأَقْبَلَ حَتَّی أَتَی مَکَانَهُ الَّذِي قَالَ فِيهِ فَبَيْنَمَا هُوَ قَاعِدٌ إِذْ جَائَهُ بَعِيرُهُ يَمْشِي حَتَّی وَضَعَ خِطَامَهُ فِي يَدِهِ فَلَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ مِنْ هَذَا حِينَ وَجَدَ بَعِيرَهُ عَلَی حَالِهِ قَالَ سِمَاکٌ فَزَعَمَ الشَّعْبِيُّ أَنَّ النُّعْمَانَ رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا أَنَا فَلَمْ أَسْمَعْهُ
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابویونس حضرت سماک سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر نے خطبہ دیا تو کہا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ پر اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے اپنا زاد راہ اور مشکیزہ اونٹ پر لادا ہو پھر چل دیا یہاں تک کہ کسی جنگل کی زمین میں آیا اور اسے دوپہر کی نیند گھیر لے اور وہ اتر کر ایک درخت کے نیچے سو جائے اس کی آنکھ مغلوب ہوجائے اور اس کا اونٹ کسی طرف چلا جائے وہ بیدار ہو کر ٹیلہ پر چڑھ کر دیکھے لیکن کچھ بھی نظر نہ آئے پھر دوسری مرتبہ ٹیلہ پر چڑھے لیکن کچھ بھی نہ دیکھے پھر تیسری مرتبہ ٹیلہ پر چڑھے لیکن کچھ بھی نظر نہ آئے پھر وہ اسی جگہ واپس آجائے جہاں وہ سویا تھا پھر جس جگہ وہ بیٹھا ہوا ہو اچانک وہیں پر اونٹ چلتے چلتے پہنچ جائے یہاں تک کہ اپنی مہار لا کر اس آدمی کے ہاتھ میں رکھ دے تو اللہ تعالیٰ کو بندے کی توبہ پر اس آدمی کی اس وقت کی خوشی سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جب وہ اپنے بندے کو نا امیدی کے عالم میں پالے سماک نے کہا حضرت شعبی کا گمان ہے کہ حضرت نعمان نے یہ حدیث نبی ﷺ سے مرفوعاً روایت کی تھی لیکن میں نے ان سے مر فوعا نہیں سنا۔
Numan bin Bashir reported: Allah is more pleased with the repentance of a believing servant than of a person who set out on a journey with a provision of food and drink on the back of his camel. He went on until he came to a waterless desert and he felt like sleeping. So he got down under the shade of a tree and was overcome by sleep and his camel ran away. As he got up he tried to see (the camel) standing upon a mound but did not find it. He then got upon the other mound, but could not see anything. He then climbed upon the third mound but did not see anything until he came back to the place where he had been previously. And as he was sitting (in utter disappointment) there came to him the camel, till that (camel) placed its nosestring in his hand. Allah is more pleased with the repentance of His servant than the person who found (his lost camel) in this very state. Simak reported that Shabi was of the opinion that Numin traced it to Allahs Apostle ﷺ . Simak, however, did not hear that himself.
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَجَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ إِيَادٍ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ وَعَلَيْهَا لَهُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ فَطَلَبَهَا حَتَّی شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُتَعَلِّقَةً بِهِ قُلْنَا شَدِيدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ قَالَ جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ عَنْ أَبِيهِ
یحییٰ بن یحیی، جعفر بن حمیر جعفر یحییٰ عبیداللہ بن ایاد بن لقیط حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس آدمی کی خوشی کے بارے میں کیا کہتے ہو جس سے اس کی سواری سنسان جنگل میں نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی بھاگ جائے اور اس زمین میں کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو اور اس سواری پر اس کا کھانا پینا بھی ہو اور وہ اسے تلاش کرتے کرتے تھک جائے پھر وہ سواری ایک درخت کے تنے کے پاس سے گزرے جس سے اس کی لگام اٹک جائے اور اس آدمی کو وہاں اٹکی ہوئی مل جائے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول بہت زیادہ خوشی ہوگی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی کی سواری مل جانے کی خوشی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allahs Messenger ﷺ said: What is your opinion about the delight of a person whose camel loaded with the provisions of food and drink is lost and that moves about with its nosestring trailing upon the waterless desert in which there is neither food nor drink, and he wanders about in search of that until he is completely exhausted and then accidentally it happens to pass by the trunk of a tree and its nosestring gets entangled in that and he finds it entangled therein? He (in response to the question of the Holy Prophet) said: Allahs Messenger, he would feel highly delighted. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said. By Allah, Allah is more delighted at the repentance of His servant than that person (as he finds his lost camel).
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَهُوَ عَمُّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِکُمْ کَانَ عَلَی رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَی شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ کَذَلِکَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّکَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ
محمد بن صباح زہیر بن حرب، عمر بن یونس عکرمہ بن عمار اسحاق بن عبداللہ ابی طلحہ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندہ اللہ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ کو تمہارے اس آدمی سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو سنسان زمین میں اپنی سواری پر ہو وہ اس سے گم ہوجائے اور اس کا کھانا پینا بھی اسی سواری پر ہو وہ اس سے ناامید ہو کر ایک درخت کے سایہ میں آکر لیٹ جائے جس وقت وہ اپنی سواری سے ناامید ہو کر لیٹے اچانک اس کی سواری اس کے پاس آکر کھڑی ہوجائے اور اس کی لگام پکڑ لے پھر زیادہ خوشی کی وجہ سے کہے اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں یعنی شدت خوشی کی وجہ سے الفاظ میں غلطی کر جائے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Allah is more pleased with the repentance of a servant as he turns towards Him for repentance than this that one amongst you is upon the camel in a waterless desert and there is upon (that camel) his provision of food and drink also and it is lost by him, and he having lost all hope (to get that) lies down in the shadow and is disappointed about his camel and there he finds that camel standing before him. He takes hold of his nosestring and then out of boundless joy says: O Lord, Thou art my servant and I am Thine Lord. He commits this mistake out of extreme delight.
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِکُمْ إِذَا اسْتَيْقَظَ عَلَی بَعِيرِهِ قَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ
ہداب بن خالد ہمام قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر تم میں سے جب کوئی بیدار ہونے پر سنسان زمین میں اپنے گمشدہ اونٹ کو پالے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Allah is more pleased with the repentance of His servant than if one of you gets up and he finds his camel missing in a waterless desert (and then he accidentally finds it).
توبہ کرنے کی ترغیب اور اس سے خوش لونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
احمد بن سعید دارمی ہمام قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.
استغفار اور توبہ سے گناہوں کے ساقط ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي صِرْمَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ کُنْتُ کَتَمْتُ عَنْکُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّکُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن قیس قاص عمر بن عبدالعزیز ابی صرمہ حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی موت کے وقت کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے چھپائے رکھی تھی میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا فرماتا جو گناہ کرتی اور اللہ انہیں معاف فرماتا۔
Abu Sirma reported that when the time of the death of Abu Ayyub Ansari drew near, he said: I used to conceal from you a thing which I heard from Allahs Messenger ﷺ and I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Had you not committed sins, Allah would have brought into existence a creation that would have committed sin (and Allah) would have forgiven them.
استغفار اور توبہ سے گناہوں کے ساقط ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عِيَاضٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ أَبِي صِرْمَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ أَنَّکُمْ لَمْ تَکُنْ لَکُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَکُمْ لَجَائَ اللَّهُ بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ
ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، عیاض ابن عبداللہ فہری ابراہیم، بن عبید بن رفاعہ محمد بن کعب قرظی ابوصرمہ حضرت ابوایوب انصاری رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا اگر تمہارے بخشنے کے لئے تمہارے پاس گناہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آتا جن کے گناہ ہوتے اور ان کے گناہوں کو معاف کیا جاتا۔
Abu Ayyub Ansari reported that Allahs Messenger ﷺ said: If you were not to commit sins, Allah would have swept you out of existence and would have replaced you by another people who have committed sin, and then asked forgiveness from Allah, and He would have granted them pardon.
استغفار اور توبہ سے گناہوں کے ساقط ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِکُمْ وَلَجَائَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، جعفر جزری یزید بن اصم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمہیں لے جاتا اور ایسی قوم لے آتا جو گناہ کرتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے تو اللہ انہیں معاف فرما دیتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having said: By Him in Whose Hand is my life, if you were not to commit sin, Allah would sweep you out of existence and He would replace (you by) those people who would commit sin and seek forgiveness from Allah, and He would have pardoned them.
ذکر کی پانبدی اور امورا آخرت میں غور وفکر مراقبہ کی فضلیت اور بعض اوقات دنیا کی مشغولیت کی وجہ سے انہیں چھوڑ بیٹھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّيْمِيُّ وَقَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ قَالَ وَکَانَ مِنْ کُتَّابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيَنِي أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ کَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ قَالَ قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ قَالَ قُلْتُ نَکُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَکِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّی کَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ فَنَسِينَا کَثِيرًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَی مِثْلَ هَذَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاکَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَکُونُ عِنْدَکَ تُذَکِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّی کَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِکَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا کَثِيرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَی مَا تَکُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّکْرِ لَصَافَحَتْکُمْ الْمَلَائِکَةُ عَلَی فُرُشِکُمْ وَفِي طُرُقِکُمْ وَلَکِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
یحییٰ بن یحیی، قطن بن نسیر یحییٰ جعفر بن سلیمان سعید بن ایاس جریر، ابی عثمان نہدی حضرت حنظلہ اسیدی سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ کے کا تبوں میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوبکر کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا اے حنظلہ تم کیسے ہو میں نے کہا حنظلہ تو منافق ہوگیا انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ تم کیا کہہ رہے ہو میں نے کہا ہم رسول اللہ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ ﷺ ہمیں جنت و دوزخ کی یاد دلاتے رہتے ہیں گویا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جب ہم رسول اللہ کے پاس سے نکل جاتے ہیں تو ہم بیویوں اور اولاد اور زمینوں وغیرہ کے معاملات میں مشغول ہوجاتے ہیں اور ہم بہت ساری چیزوں کو بھول جاتے ہیں حضرت ابوبکر ؓ نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ساتھ بھی اسی طرح معاملہ پیش آتا ہے میں اور ابوبکر چلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول حنظلہ تو منافق ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا وجہ ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو آپ ﷺ ہمیں جنت و دوزخ کی یاد دلاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ آنکھوں دیکھے ہوجاتے ہیں جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ہم اپنی بیویوں اور اولاد اور زمین کے معاملات وغیرہ میں مشغول ہوجانے کی وجہ سے بہت ساری چیزوں کو بھول جاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم اسی کیفیت پر ہمیشہ رہو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہو، ذکر میں مشغول ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر تم سے مصافحہ کریں اور راستوں میں بھی لیکن اے حنظلہ ایک ساعت (یاد کی) ہوتی ہے اور دوسری (غفلت کی) اور آپ ﷺ نے تین بار فرمایا۔
Hanzala Usayyidi, who was amongst the scribes of Allahs Messenger ﷺ reported: I met Abu Bakr. He said: Who are you? He (Hanzala) said: Hanzala has turned to be a hypocrite. He (Abu Bakr) said: Hallowed be Allah, what are you saying? Thereupon he said: I say that when we are in the company of Allahs Messenger ﷺ we ponder over Hell-Fire and Paradise as if we are seeing them with our very eyes and when we are away from Allahs Messenger ﷺ we attend to our wives, our children, our business; most of these things (pertaining to After-life) slip out of our minds. Abu Bakr (RA) said: By Allah, I also experience the same. So I and Abu Bakr (RA) went to Allahs Messenger ﷺ and said to him: Allahs Messenger, Hanzala has turned to be a hypocrite. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: What has happened to you? I said: Allahs Messenger, when we are in your company, we are reminded of Hell-Fire and Paradise as if we are seeing them with our own eyes, but whenever we go away from you and attend to our wives, children and business, much of these things go out of our minds. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: By Him in Whose Hand is my life, if your state of mind remains the same as it is in my presence and you are always busy in remembrance (of Allah), the Angels will shake hands with you in your beds and in your paths but, Hanzala, time should be devoted (to the worldly affairs) and time (should be devoted to prayer and meditation). He (the Holy Prophet) said this thrice.
ذکر کی پانبدی اور امورا آخرت میں غور وفکر مراقبہ کی فضلیت اور بعض اوقات دنیا کی مشغولیت کی وجہ سے انہیں چھوڑ بیٹھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَعَظَنَا فَذَکَّرَ النَّارَ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَی الْبَيْتِ فَضَاحَکْتُ الصِّبْيَانَ وَلَاعَبْتُ الْمَرْأَةَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَکْرٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَذْکُرُ فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَافَقَ حَنْظَلَةُ فَقَالَ مَهْ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا فَعَلَ فَقَالَ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً وَلَوْ کَانَتْ تَکُونُ قُلُوبُکُمْ کَمَا تَکُونُ عِنْدَ الذِّکْرِ لَصَافَحَتْکُمْ الْمَلَائِکَةُ حَتَّی تُسَلِّمَ عَلَيْکُمْ فِي الطُّرُقِ
اسحاق بن منصور عبدالصمد ابوسعید جریر، ابی عثمان نہدی حضرت حنظلہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ ﷺ نے ہمیں نصیحت کی تو جہنم کی یاد دلائی پھر میں گھر کی طرف آیا تو میں نے بچوں سے ہنسی مذاق کیا اور بیوی سے دل لگی کی میں باہر نکلا تو ابوبکر سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے اس کا تذکرہ کیا پس ہم رسول اللہ ﷺ سے ملے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول حنظلہ تو منافق ہوگیا آپ ﷺ نے فرمایا ٹھہر جاؤ کیا بات ہے میں نے پوری بات ذکر کی پھر حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں نے بھی ایسے ہی کیا جیسے انہوں نے کہا تو آپ نے فرمایا اے حنظلہ یہ کیفیت کبھی کبھی ایسے ہوتی رہتی ہے اگر تمہارے دل ہر وقت اسی طرح رہیں جیسے نصیحت و ذکر کرتے وقت ہوتے ہیں تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں یہاں تک کہ وہ راستوں میں تم سے سلام کریں۔
Hanzala reported: We were in the company of Allahs Messenger ﷺ and he delivered to us a sermon and made a mention of Hell-Fire. Then I came to my house and began to laugh with my children and sport with my wife. (Hanzala) further reported: I went out and met Abu Bakr (RA) and made a mention of that to him. Thereupon he said: I have done the same as you have mentioned. So we went to see Allahs Messenger ﷺ and said to him: Allahs Messenger, Hanzala has turned to be a hypocrite. And he (the Holy Prophet) said show respite. And then I narrated to him the story, and Abu Bakr (RA) said: I have done the same as he has done. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Hanzala, there is a time for worldly affairs and a time for worship and devotion, and if your state of mind is always the same as it is at the time of remembrance of Allah, the Angels would shake hands with you and would greet you on the path by saying: As-Salamu-Alaikum.
ذکر کی پانبدی اور امورا آخرت میں غور وفکر مراقبہ کی فضلیت اور بعض اوقات دنیا کی مشغولیت کی وجہ سے انہیں چھوڑ بیٹھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ الْکَاتِبِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا
زہیر بن حرب، فضل بن دکین سفیان، سعید بن جریری ابی عثمان نہدی حضرت حنظلہ تمیمی ؓ اسیدی کاتب سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت و جہنم کی یاد دلاتے ہیں باقی حدیث اسیطرح ہے۔
Hanzala Taimi Ufayyidi, the scribe of Allahs Messenger ﷺ , reported: We were in the presence of Allahs Messenger ﷺ and he brought to our minds the problems pertaining to Paradise and Hell-Fire. The rest of the hadith is the same.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِي کِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي
قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے پاس موجود کتاب میں لکھ دیا میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہوگی۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: When Allah created the creation as He was upon the Throne, He put down in His Book: Verily, My mercy predominates My wrath.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے فرمایا میری رحمت میرے غصہ سے آگے بڑھ گئی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: My mercy excels My wrath.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِينَائَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَی اللَّهُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِي کِتَابِهِ عَلَی نَفْسِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ عِنْدَهُ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي
علی بن خشرم ابوضمرہ حارث بن عبدالرحمن عطاء بن میناء حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرچکے تو اپنے آپ پر اپنے پاس موجود کتاب میں لکھا میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہوگئی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When Allah created the creation, He ordained for Himself and this document is with Him: Verily, My mercy predominates My wrath.