اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْتُ عَلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاکِينُ وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ إِلَّا أَصْحَابَ النَّارِ فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَی النَّارِ وَقُمْتُ عَلَی بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَائُ
ہداب بن خالد حماد بن سلمہ زہیر بن حرب، معاذ بن معاذ عنبری محمد بن عبدالاعلی معتمر اسحاق بن ابراہیم جریر، سلیمان تیمی ابوکامل فضیل بن حسین یزید بن زریع تیمی ابی عثمان حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والے مساکین تھے اور مال و عظمت والوں کو روک دیا گیا البتہ دوزخ والوں کے لئے دوزخ میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والی عورتیں تھیں۔
Usama bin Zaid reported that Allahs Messenger ﷺ said: I stood at the door of Paradise and I found that the overwhelming majority of those who entered therein was that of poor persons and the wealthy persons were detained to get into that. The denizens of Hell were commanded to get into Hell, and I stood upon the door of Fire and the majority amongst them who entered there were women.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي رَجَائٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَائَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَائَ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب ابی رجاء عطاردی حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا میں جنت پر مطلع ہوا تو میں نے وہاں اکثریت فقیر لوگوں کی دیکھی اور جب جہنم پر مطلع ہوا تو وہاں اکثریت میں نے عورتوں کی دیکھی۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: I had a chance to look into the Paradise and I found that majority of the people were the poor and I looked into the Fire and there I found the majority constituted by women.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، ثقفی ایوب اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abbas through another chain of transmitters.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعَ فِي النَّارِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَيُّوبَ
شیبان بن فروخ ابوالاشہب ابورجاء حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو جہنم کے بارے میں مطلع کیا گیا باقی حدیث ایوب کی طرح ذکر کی۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger ﷺ stated like this: He looked into the Fire of Hell. The rest of the hadith is the same.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ سَمِعَ أَبَا رَجَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
ابوکریب ابواسامہ سعید ابن ابی عروہ ابورجاء حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اسی طرح حدیث روایت کی۔
Imran bin Husain reported that Allahs Messenger ﷺ said: Amongst the inmates of Paradise the women would form a minority.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ کَانَ لِمُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَتَانِ فَجَائَ مِنْ عِنْدِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ الْأُخْرَی جِئْتَ مِنْ عِنْدِ فُلَانَةَ فَقَالَ جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَقَلَّ سَاکِنِي الْجَنَّةِ النِّسَائُ
عبیداللہ معاذ ابی شعبہ، حضرت ابوالتیاح سے روایت ہے کہ مطرف بن عبداللہ کی دو بیویاں تھیں وہ اس میں سے ایک کے پاس آئے تو دوسری نے کہا تو فلانے کے پاس سے آیا ہے انہوں نے کہا میں عمران بن حصین کے پاس سے آیا ہوں انہوں نے ہمیں یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں رہنے والوں میں سب سے کم عورتیں ہوں گی۔
This hadith has been narrated on the authority of Mutarrif through another chain of transmitters.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْکَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ مِنْ دُعَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِکَ وَفُجَائَةِ نِقْمَتِکَ وَجَمِيعِ سَخَطِکَ
عبیداللہ بن عبدالکریم ابوزرعہ ابن بکیر یعقوب بن عبدالرحمن موسیٰ بن عقبہ عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِکَ وَفُجَائَةِ نِقْمَتِکَ وَجَمِيعِ سَخَطِکَ ) اے اللہ میں تجھ سے تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت اور صحت کے پلٹ جانے سے اور اچانک مصیبت آجانے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ supplicated in these words: "O Allah, I seek refuge in Thee from the withdrawal of Thine blessing and the change of Thine protection (from me) and from the sudden wrath of Thine, and from every displeasure of Thine."
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ
محمد بن ولید بن عبدالحمید محمد بن جعفر، شعبہ، ابوتیاح سعید بن منصور، سفیان، معتمر بن سلیمان تیمی ابی عثمان نہدی اسامہ بن زید، حضرت مطرف سے روایت ہے کہ اس کی دو بیویاں تھیں باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Mutarrif through another chain of transmitters.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَکْتُ بَعْدِي فِتْنَةً هِيَ أَضَرُّ عَلَی الرِّجَالِ مِنْ النِّسَائِ
سعید بن منصور، سفیان، معتمر بن سلیمان سلیمان تیمی ابی عثمان نہدی حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے بعد عورتوں سے بڑھ کر زیادہ نقصان دہ مردوں کے لئے اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔
Usama bin Zaid reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I have not left after me any (chance) of turmoil more injurious to men than the harm done to the men because of women.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی جَمِيعًا عَنْ الْمُعْتَمِرِ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّهُمَا حَدَّثَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا تَرَکْتُ بَعْدِي فِي النَّاسِ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنْ النِّسَائِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری سوید بن سعید محمد بن عبدالاعلی معمتر ابن معاذ معتمر بن سلیمان ابوعثمان حارثہ حضرت اسامہ بن زید اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا میں نے لوگوں میں اپنے بعد مردوں پر عورتوں سے بڑھ کر زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔
Usama bin Zaid bin Harith and Said bin Zaid bin Amr bin Naufal both reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I have not left after me turmoil for the people but the harm done to men by women.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوخالد احمر یحییٰ بن یحیی، ہشیم اسحاق بن ابراہیم، جریر، سلیمان ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters.
اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ کَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَائَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ کَانَتْ فِي النِّسَائِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ لِيَنْظُرَ کَيْفَ تَعْمَلُونَ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی مسلمہ ابونضرہ شعبہ، ابی مسلمہ ابا نضرہ حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ ونائب بنانے والا ہے پس وہ دیکھے گا کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو دنیا سے بچو اور عورتوں سے بھی ڈرتے رہو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں میں تھا۔
Abu Said Khudri reported that Allahs Messenger ﷺ said: The world is sweet and green (alluring) and verily Allah is going to install you as vicegerent in it in order to see how you act. So avoid the allurement of women: verily, the first trial for the people of Israll was caused by women. And in the hadith transmitted on the authority of Ibn Bashshar the words are: "So that He should see how you act."
تین اصحاب غار کا واقعہ اور اعمال صالحہ کو وسیلہ بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمْ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَی غَارٍ فِي جَبَلٍ فَانْحَطَّتْ عَلَی فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنْ الْجَبَلِ فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ تَعَالَی بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ يَفْرُجُهَا عَنْکُمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّهُ کَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ کَبِيرَانِ وَامْرَأَتِي وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَی عَلَيْهِمْ فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ وَأَنَّهُ نَأَی بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ فَلَمْ آتِ حَتَّی أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَحَلَبْتُ کَمَا کُنْتُ أَحْلُبُ فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُئُوسِهِمَا أَکْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا وَأَکْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِکَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً نَرَی مِنْهَا السَّمَائَ فَفَرَجَ اللَّهُ مِنْهَا فُرْجَةً فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَائَ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ کَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا کَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَائَ وَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا فَأَبَتْ حَتَّی آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَتَعِبْتُ حَتَّی جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ فَجِئْتُهَا بِهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً فَفَرَجَ لَهُمْ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنِّي کُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَی عَمَلَهُ قَالَ أَعْطِنِي حَقِّي فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَقَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّی جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَائَهَا فَجَائَنِي فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي حَقِّي قُلْتُ اذْهَبْ إِلَی تِلْکَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ خُذْ ذَلِکَ الْبَقَرَ وَرِعَائَهَا فَأَخَذَهُ فَذَهَبَ بِهِ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ لَنَا مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ مَا بَقِيَ
محمد بن مثنی، اسحاق مسیبی انس، ابن عیاض ابن ضمرہ موسیٰ بن عقبہ نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی چل رہے تھے کہ انہیں بارش نے گھیر لیا تو انہوں نے پہاڑ میں ایک غار کی طرف پناہ لی ان کے غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک پتھر آکر گرگیا جس سے اس غار کا منہ بند ہوگیا ان میں سے ایک نے کہا اپنے اپنے نیک اعمال کو دیکھو جو خالص اللہ کی رضا کے لئے کئے ہوں اور اس کے ذریعہ اللہ سے دعا مانگو شاید اللہ تم سے اس مصیبت کو ٹال دے تو ان میں سے ایک نے عرض کیا اے اللہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میری بیوی بھی تھی اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے اور میں (جنگل میں مویشی) چرایا کرتا تھا جب میں ان کے پاس شام کو واپس آتا تو دودھ نکالتا تو میں اپنے والدین سے ابتدا کرتا اور انہیں اپنے بچوں سے قبل پلاتا ایک دن جنگل کے دور ہونے کی وجہ سے مجھے تاخیر ہوگئی اور میں رات کو آیا تو میں نے اپنے والدین کو سویا ہوا پایا میں نے پہلے کی طرح دودھ دوہا اور دودھ کا برتن لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہوگیا میں انہیں ان کی نیند سے اٹھانا ناپسند کرتا تھا اور مجھے ان سے پہلے اپنے بچوں کو پلانا بھی پسند نہ تھا اور بچے میرے قدموں کے پاس چلا رہے تھے مگر میں نے انہیں دودھ نہیں دیا اور صبح ہونے تک میرا (اور میرے بچوں اور والدین) کا معاملہ یونہی رہا پس تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل صرف اور صرف تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہمارے لئے کچھ کشادگی فرما دے جس سے ہم آسمان کو دیکھ سکیں پس اللہ نے ان کی لئے اتنی کشادگی فرما دی کہ انہوں نے آسمان دیکھا اور دوسرے نے عرض کیا اے اللہ میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے میں محبت کرتا تھا جس طرح مردوں کو عورتوں سے سخت محبت ہوتی ہے میں نے اس سے اس کی ذات کو طلب کیا یعنی بدکاری کا اظہار کیا تو اس نے ایک سو دینار لانے تک انکار کردیا میں نے بڑی محنت کر کے سو دینار جمع کئے اور اس کے پاس لایا پس جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا اے اللہ کے بندے اللہ سے ڈر اور مہر کو اس کے حق (نکاح) کے بغیر نہ کھول میں اس سے کھڑا ہوگیا یا اللہ تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ عمل صرف تیری رضا کے لئے کیا ہے پس ہمارے لئے اس غار سے کچھ کشادگی فرما دے پس ان کے لئے (ذرا اور) کھول دیا گیا اور تیسرے نے عرض کیا اے اللہ میں نے ایک مزدور کو فرق چاول مزدوری پر رکھا جب اس نے اپنا کام پورا کرلیا تو کہا میرا حق مجھے دے دو میں نے اسے فرق دینا چاہا تو وہ منہ پھیر کر چلا گیا پس میں اس کے پیچھے زراعت کرتا رہا یہاں تک کہ اس سے گائے اور ان کے چرواہے میرے پاس جمع ہوگئے پس وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا اللہ سے ڈر اور میرے حق میں مجھ پر ظلم نہ کر میں نے کہا وہ گائیں اور ان کے چرواہے لے جاؤ اس نے کہا اللہ سے ڈر اور مجھ سے مذاق نہ کر میں نے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا وہ بیل اور ان کے چرواہے لے جاؤ اس نے انہیں لیا اور چلا گیا اگر تیرے علم میں (اے اللہ! ) میرا یہ عمل تیری رضا مندی کے لئے تھا تو ہمارے لئے باقی راستہ بھی کھول دے تو اللہ نے باقی راستہ بھی کھول دیا۔
Abdullah bin Umar reported that Allahs Messenger ﷺ said: Three persons set out on a journey. They were overtaken by rain and they had to find protection in a mountain cave where at its mouth there fell a rock of that mountain and thus blocked them altogether. One of them said to the others: Look to your good deeds that you performed for the sake of Allah and then supplicate Allah, the Exalted, that He might rescue you (from this trouble). One of them said: O Allah, I had my parents who were old and my wife and my small children also. I tended the flock and when I came back to them in the evening, I milked them (the sheep, goats, cows, etc.) and first served that milk to my parents. One day I was obliged to go out to a distant place in search of fodder and I could not come back before evening and found them (the parents) asleep. I milked the animals as I used to milk and brought milk to them and stood by their heads avoiding to disturb them from sleep and I did not deem it advisable to serve milk to my children before serving them. My children wept near my feet. I remained there in that very state and my parents too until it was morning. And (O Allah) if Thou art aware that I did this in order to seek Thine pleasure, grant us riddance from this trouble. (The rock slipped a bit) that they could see the sky. The second one said: O Allah, I had a female cousin whom I loved more than the men love the women. I wanted to have sexual intercourse with her; she refused but on the condition of getting one hundred dinars. It was with very great difficulty that I could collect one hundred dinars and then paid them to her and when I was going to have sexual intercourse with her, that she said: Servant of Allah, fear Allah and do not break the seal (of chastity) but by lawful means. I got up. O Allah, if Thou art aware that I did this in order to seek Thine pleasure, rid us from this trouble. The situation was somewhat eased for them. The third one said: Allah, I employed a workman for a measure of rice. After he had finished his work I gave him his dues (in the form of) a measure of rice, but he did not accept them. I used these rice as seeds, and that gave a bumper crop and I became rich enough to have cows and flocks (in my possession). He came to me and said: Fear Allah, and commit no crueltv upon me in regard to my dues. I said to him: Takeaway this flock of cows and sheep. He said: Fear Allah and do not make a fun of me. I said: I am not making a fun of you. You take the cows and the flocks. So he took them. O Allah, if Thou art aware that I did it for Thine pleasure, case the situation for us. And Allah relieved them from the rest of the trouble.
تین اصحاب غار کا واقعہ اور اعمال صالحہ کو وسیلہ بنانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَرَقَبَةُ بْنُ مَسْقَلَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي ضَمْرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ وَزَادُوا فِي حَدِيثِهِمْ وَخَرَجُوا يَمْشُونَ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ يَتَمَاشَوْنَ إِلَّا عُبَيْدَ اللَّهِ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ وَخَرَجُوا وَلَمْ يَذْکُرْ بَعْدَهَا شَيْئًا
اسحاق بن منصور عبد بن حمید ابوعاصم، ابن جریر، موسیٰ بن عقبہ سوید بن سعید علی بن مسہر، عبیداللہ ابوکریب محمد بن طریف بجلی ابن فضیل ابی رقبہ بن مسقلہ زہیر بن حرب، حسن حلوانی عبد بن حمید یعقوب ابن ابراہیم بن سعد ابوصالح کیسان نافع ابن عمر ؓ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے البتہ موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ غار سے نکل کر چل دیئے اور صالح کی حدیث میں يَتَمَاشَوْنَ ہے اور عبیداللہ کی حدیث میں وَخَرَجُوا کا لفظ ہے معنی ایک ہی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Musa bin Uqba but with a slight variation of wording.
تین اصحاب غار کا واقعہ اور اعمال صالحہ کو وسیلہ بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ ابْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَتَّی آوَاهُمْ الْمَبِيتُ إِلَی غَارٍ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ اللَّهُمَّ کَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ کَبِيرَانِ فَکُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا وَقَالَ فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّی أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنْ السِّنِينَ فَجَائَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ وَقَالَ فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّی کَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ فَارْتَعَجَتْ وَقَالَ فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ
محمد بن سہل تمیمی عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہزام ابوبکر بن اسحاق ابن سہل ابوالیمان شعیب زہری، سالم بن حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگوں میں تین آدمی چلے یہاں تک کہ انہوں نے رات گزارنے کے لئے ایک غار میں پناہ لی باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزر چکی البتہ اس میں یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میں ان سے پہلے اپنے اہل و عیال اور غلاموں کو دودھ نہ پلاتا تھا اور دوسرے نے کہا اس عورت نے مجھ سے انکار کیا یہاں تک کہ ایک سال تک قحط میں مبتلا ہوئی پھر میرے پاس آئی تو میں نے اسے ایک سو بیس دینار عطا کئے اور تیسرے نے عرض کیا میں نے اس کی مزدوری سے پھل بو دیا یہاں تک کہ اس سے اموال بہت بڑھ گئے اور وہ مال لہریں مارنے لگے اور فرمایا کہ وہ غار سے نکل کر چل دیئے۔
Abdullah b Umar reported: I heard Allahs Alessenger ﷺ as saying: Three persons belonging to the earlier Ummahs set out on a journey until they had to spend a night in a cave. The rest of the hadith is the same and the additional words are: "A person amongst them said: O Allah, I had my aged parents and I served them milk before I (served that) to my wife, children and my servants." And in case of the second one, the words are: "She avoided me until she was hard pressed because of famine and she came to me and I gave her one hundred and twenty dinars." And in case of the third one (the words are): "I invested his wages, and it brought profit and, as a result thereof, the merchandise increased and there was abundance of goods." And he (the narrator said) that they got out of the cave and began to walk.