اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْئٍ فَأَمْسَکَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْئًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِکَ الْجُزْئِ تَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتَّی تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ رحمت کے سو (100) اجزا بتائے پھر ان میں سے ننانوے حصوں کو اپنے پاس رکھا اور زمین میں صرف ایک حصہ نازل کیا پس اسی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرتی ہے یہاں تک کہ جانور اپنے بچہ سے اپنے پاؤں کو ہٹا لیتا ہے اسے تکلیف پہنچنے کے خوف کی وجہ سے۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah created mercy in one hundred parts and He retained with Him ninety-nine parts, and He has sent down upon the earth one part, and it is because of this one part that there is mutual love among the creation so much so that the animal lifts up its hoof from its young one, fearing that it might harm it.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ وَخَبَأَ عِنْدَهُ مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ارشاد فرمایا اللہ عزوجل نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں ان میں سے ایک کو اپنی مخلوق میں رکھ دیا اور ایک کم سو (یعنی ننانوے) اپنے پاس رکھیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah created one hundred parts of mercy and He distributed one amongst His creation and kept this one hundred excepting one with Himself (for the Day of Resurrection).
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوعبدالملک عطاء، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ کے لئے سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک جنات انسانوں چوپاؤں اور کیڑوں مکوڑوں کے لئے نازل کی جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت و مہربانی اور رحم کرتے ہیں اور اسی کی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچہ پر شفقت کرتا ہے اور اللہ نے ننانوے رحمتیں بچا کر رکھی ہیں جن سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحمت فرمائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There are one hundred (parts of) mercy for Allah and He has sent down out of these one part of mercy upon the jinn and human beings and the insects and it is because of this (one part) that they love one another, show kindness to one another and even the beast treats its young one with affection, and Allah has reserved ninety-nine parts of mercy with which He would treat His servants on the Day of Resurrection.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ
حکم بن موسیٰ معاذ بن معاذ سلیمان تیمی ابوعثمان نہدی حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے لئے سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک رحمت کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتی ہے اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے ہیں۔
Salman Farisi reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily, there are one hundred (parts of) mercy for Allah, and it is one part of this mercy by virtue of which there is mutual love between the people and ninety-nine reserved for the Day of Resurrection.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن عبدالاعلی معتمر اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Mutamir, reported on the authority of his father.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ کُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْأَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَی وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَی بَعْضٍ فَإِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَکْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ
ابن نمیر، ابومعاویہ داؤد ابن ابی ہند ابی عثمان حضرت سلمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدائش کے دن سو رحمتوں کو پیدا فرمایا ہر رحمت آسمان و زمین کی درمیانی خلاء کے برابر ہے ان میں سے زمین میں ایک رحمت مقرر فرمائی ہے جس کی وجہ سے والدہ اپنے بچہ سے شفقت و محبت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ اس رحمت کے ساتھ اپنی رحمتوں کو مکمل فرمائے گا۔
Salman reported that Allahs Messenger ﷺ said: Verily, Allah created, on the same very day when He created the heavens and the earth, one hundred parts of mercy. Every part of mercy is coextensive with the space between the heavens and the earth and He out of this mercy endowed one part to the earth and it is because of this that the mother shows affection to her child and even the beasts and birds show kindness to one another and when there would be the Day of Resurrection, Allah would make full use of Mercy.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لِحَسَنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ السَّبْيِ تَبْتَغِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ قُلْنَا لَا وَاللَّهِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَی أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا
حسن بن علی حلوانی محمد بن سہل تمیم حسن ابن ابی مریم ابوغسان زید بن اسلم حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے اور قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی اس نے قیدیوں میں اپنے بچے کو پایا اس نے اسے اٹھا کر اپنے پیٹ سے لگایا اور اسے دودھ پلانا شروع کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم جہاں تک اس کی قدرت ہوئی اسے نہ پھینکے گی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس عورت کے اپنے بچہ پر رحم کرنے سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے۔
Umar bin Khattab reported that there were brought some prisoners to Allahs Messenger ﷺ amongst whom there was also a woman, who was searching (for someone) and when she found a child amongst the prisoners, she took hold of it, pressed it against her chest and provided it suck. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Do you think this woman would ever afford to throw her child in the Fire? We said: By Allah, so far as it lies in her power, she would never throw the child in Fire. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Allah is more kind to His servants than this woman is to her child.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر ابن ایوب اسماعیل علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر مومن کو پورا علم ہوجاتا کہ اللہ کا عذاب کتنا ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کا لالچ نہ کرتا اور اگر کافر جان لیتا کہ اللہ کے پاس رحمت کتنی ہے تو کوئی جنت سے ناامید نہ ہوتا۔
Ala reported on the authority of his father who reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that Allahs Messenger ﷺ said: If a believer were to know the punishment (in Hell) none would have the audacity to aspire for Paradise (but he would earnestly desire to be rescued from Hell), and if a non-believer were to know what is there with Allah as a mercy, none would have been disappointed in regard to Paradise.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ بِنْتِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ مِنْ خَشْيَتِکَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ
محمد بن مرزوق ابن بنت مہدی بن میمون روح مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے ایک نیکی بھی نہ کی تھی جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا مجھے جلا کر میرا آدھا حصہ سمندر میں جبکہ آدھا حصہ فضا میں اڑا دینا اللہ کی قسم اگر اللہ اسے عذاب دے گا تو ایسا سخت عذاب دے گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو بھی ایسا عذاب نہ ہوا ہوگا پس جب وہ آدمی مرگیا تو اس کے گھر والوں نے وہی کیا جو انہیں حکم دیا گیا تھا پس اللہ نے فضا کو حکم دیا تو اس نے اس کے ذرات کو جمع کردیا اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے بھی اپنے اندرموجود سب کو جمع کردیا پھر فرمایا تو نے ایسا کیوں کیا اس نے کہا اے میرے رب تیرے خوف وڈر کی وجہ سے تو بہتر جانتا ہے پس اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that a person who had never done any good deed asked the members of his family to burn his dead body when he would die and to scatter half of its ashes over the land and half in the ocean. By Allah, if Allah finds him in His grip, He would torment him with a torment with which He did not afflict anyone amongst the people of the world; and when the person died, it was done to him as he had commanded (his family) to do. Allah commanded the land to collect (the ashes scattered on it) and He commanded the ocean and that collected (ashes) contained in it. Allah questioned him why he had done that He said: My Lord, it is out of Thine fear that I have done it and Thou art well aware of it, and Allah granted him pardon.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ أَلَا أُحَدِّثُکَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَی نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَی بَنِيهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِکَ بِهِ فَقَالَ لِلْأَرْضِ أَدِّي مَا أَخَذْتِ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ فَقَالَ خَشْيَتُکَ يَا رَبِّ أَوْ قَالَ مَخَافَتُکَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِکَ
محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے آپ پر (کثرت گناہ کی وجہ سے) زیادتی کی جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا پھر باریک پیس دینا پھر مجھے ہوا میں اور سمندر میں اڑا دینا اللہ کی قسم اگر میرے رب نے مجھے عذاب دینے کے لئے گرفت کی تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ اس جیسا عذاب کسی کو نہ دیا گیا ہوگا پس اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا پس (اللہ نے) زمین سے فرمایا تو نے جو کچھ لیا ہے وہ نکال دے پس فوراً وہ آدمی مجسم کھڑا ہوگیا تو (اللہ نے) اس سے فرمایا تجھے اس عمل پر کس چیز نے برانگیختہ کیا اس نے عرض کیا اے میرے رب تیرے خوف اور ڈر نے اللہ نے اسی وجہ سے اسے معاف فرما دیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that a person committed sin beyond measure and when he was going to die, he left this will: (When I die), burn my dead body and then cast them (the ashes) to the wind and in the ocean. By Allah, if my Lord takes hold of me, He would torment me as He has not tormented anyone else. They did as he had asked them to do. He (the Lord) said to the earth: Return what you have taken. And he was thus restored to his (original form). He (Allah) said to him: What prompted you to do this? He said: My Lord, it was Thine fear or Thine awe, and Allah pardoned him because of this.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ هَزْلًا قَالَ الزُّهْرِيُّ ذَلِکَ لِئَلَّا يَتَّکِلَ رَجُلٌ وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ
زہری، حمید حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ایک عورت بلی کو باندھنے کی وجہ سے جہنم میں ڈالی گئی جسے نہ وہ کھلاتی تھی اور نہ ہی چھوڑتی تھی کہ وہ کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی یہاں تک کہ کمزوری کی وجہ سے وہ مرگئی زہری نے کہا ان سے مراد یہ ہے کہ نہ تو رحمت پر بالکل اعتماد کرے (نیک اعمال ہی نہ کرے) کہ اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that a woman was thrown into Hell-Fire because of a cat whom she had tied and did not provide it with food, nor did she set it free to eat insects of the earth until it died inch by inch. Zuhri said: (These two ahadith) show that a person should neither feel confident (of getting into Paradise) because of his deeds, nor should he lose (all hopes) of getting into Paradise.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَی نَفْسِهِ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِلَی قَوْلِهِ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ الْمَرْأَةِ فِي قِصَّةِ الْهِرَّةِ وَفِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِکُلِّ شَيْئٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ
ابوربیع سلیمان بن داؤد محمد بن حرب زبیدی حمید بن عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک بندے نے اپنے آپ پر (برے اعمال کی وجہ سے) زیادتی کی باقی حدیث گزر چکی لیکن اس حدیث میں بلی کے واقعہ میں عورت کا ذکر نہیں اور زبیدی نے کہا تو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا جس چیز نے بھی اس (کی راکھ) سے کچھ بھی لیا ہو وہ واپس کر دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that a servant transgressed the limit in committing sins. The rest of the hadith is the same but there is no mention of the story of the cat in it and in the hadith transmitted on the authority of Zubaidi (the words are): "Allah, the Exalted and Glorious, said to everything which had taken a part of his ashes to return what it had taken."
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا فَقَالَ لِوَلَدِهِ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُکُمْ بِهِ أَوْ لَأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَکُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي وَأَکْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَيَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي قَالَ فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا فَفَعَلُوا ذَلِکَ بِهِ وَرَبِّي فَقَالَ اللَّهُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا فَعَلْتَ فَقَالَ مَخَافَتُکَ قَالَ فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، قتادہ، عقبہ بن عبد غافر حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو مال اور اولاد عطا کی گئی تھی اس نے اپنی اولاد سے کہا میں تمہیں جو حکم دوں وہ ضرور کرنا ورنہ میں اپنی وراثت کا تمہارے علاوہ کسی دوسرے کو وارث بنا دوں گا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور زیادہ یاد یہی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا پھر میری راکھ بنانا اور مجھے ہوا میں اڑا دینا کیونکہ میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں بھیجی اور اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ مجھے عذاب دے پھر ان سے وعدہ لیا پس انہوں نے اللہ کی قسم اس کے ساتھ ایسا ہی کیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے برانگیختہ کیا اس نے عرض کیا تیرے خوف نے اللہ نے اسے اس کے علاوہ اور کوئی عذاب نہ دیا۔
Abu Said Khudri reported that Allahs Messenger ﷺ said that a person amongst the earlier nations before you was conferred property and children by Allah, He said to his children: You must do as I command you to do, otherwise I will make others besides you as my inheritors. As I die, burn my body and blow my ashes in the wind as I do not find any merit of mine which would please Allah, and if Allah were to take hold of me, He would punish me. He took a pledge from them and they did as he commanded them to do. Allah said: What prompted you to do this? He said: My Lord. Thine fear, and Allah did not punish him at all.
اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ لِي أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ذَکَرُوا جَمِيعًا بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ وَأَبِي عَوَانَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا وَفِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَالَ فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ مَا امْتَأَرَ بِالْمِيمِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، معتمر بن سلیمان ابوقتادہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسیٰ شیبان بن عبدالرحمن ابن مثنی ابو ولید، ابوعوانہ، قتادہ، شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ عزوجل نے مال اور اولاد عطاء کی اور تیمی کی حدیث میں ہے کہ اس نے اللہ عزوجل کے پاس کوئی نیکی جمع نہ کی اور شیبان کی حدیث میں ہے کیونکہ اللہ کی قسم اس نے اللہ کے ہاں نیکی کو جمع نہ کیا اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے کہ اس نے کوئی نیکی نہیں کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the chain of transmitters but with a slight variation of wording and Qatada explained the word "lam yasiru" as: "I find no good in store for me in the eye of Allah."
گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْکِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکَ قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَی لَا أَدْرِي أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ
عبدالاعلی ابن حماد حماد بن سلمہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ عبدالرحمن بن ابی عمرہ حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے رب العزت سے حکایت کرتے ہوئے فرمایا کسی بندے نے گناہ کیا پھر عرض کیا اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا پس وہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہ کو معاف بھی فرماتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے پھر وہ دوبارہ گناہ کر بیٹھتا ہے پھر عرض کرتا ہے اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا پس وہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہ کو معاف بھی فرماتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے پھر وہ دوبارہ گناہ کر بیٹھتا ہے تو عرض کرتا ہے اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا پس وہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہ کو معاف بھی فرماتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کردیا عبدالاعلی نے کہا میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ جو چاہو عمل کرو۔
Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ that his Lord, the Exalted and Glorious, thus said. A servant committed a sin and he said: O Allah, forgive me my sins, and Allah (the Exalted and Glorious) said: My servant commited a sin and then he came to realise that he has a Lord Who forgives the sins and takes to account (the sinner) for the sin. He then again committed a sin and said: My Lord, forgive me my sin, and Allah, the Exalted and High, said: My servant committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who would forgive his sin or would take (him) to account for the sin. He again committed a sin and said: My Lord, forgive me for my sin, and Allah (the Exalted and High) said: My servant has committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who forgives the sins or takes (him) to account for sin. O servant, do what you like. I have granted you forgiveness.
Abdul Ala said: I do not know whether he said thrice or four times to do "what you desire".
گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُرَشِيُّ الْقُشَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابواحمد محمد بن زنجویہ عبدالاعلی بن حماد نرشی اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
The hadith has been narrated on the authority of Abdul Ala bin Hammad with the same chain of transmitters.
گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ کَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَذَکَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَذْنَبَ ذَنْبًا وَفِي الثَّالِثَةِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَائَ
عبد بن حمید ابو ولید ہمام اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بندے نے گناہ کیا باقی حدیث حماد بن سلمہ کی حدیث ہی کی طرح ہے اور اس میں تین مرتبہ ذکر کیا کہ اس نے گناہ کیا اور تیسری مرتبہ کہا تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا پس وہ جو چاہے عمل کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported he heard Allahs Messenger ﷺ as saying that a servant committed a sin. The rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording.
گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيئُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيئُ اللَّيْلِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عمر بن مرہ ؓ حضرت ابوموسی ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے تاکہ دن کے گناہ گار کی توبہ قبول کرے اور اپنا ہاتھ دن کو پھیلاتا رہتا ہے تاکہ رات کے گناہ گار کی توبہ قبول کرے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔
Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah, the Exalted and Glorious, Stretches out His Hand during the night so that the people repent for the fault committed from dawn till dusk and He stretches out His Hand during the day so that the people may repent for the fault committed from dusk to dawn. (He would accept repentance) before the sun rises in the west (before the Day of Resurrection).
گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
محمد بن بشار، ابوداؤد شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ مَدَحَ نَفْسَهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی تعریف و مدح پسند نہیں ہے اسی وجہ سے اللہ نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے اسی وجہ سے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Nothing is more loveable to Allah than His praise as He has praised Himself and no one is more self-respecting than Allah Himself and it is because of this that He has prohibited abominable acts.