اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب ابومعاویہ ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی وجہ سے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام کیا ہے اور نہ ہی کوئی اللہ سے بڑھ کر تعریف کو پسند کرنے والا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: None is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible-and none loves His praise more than Allah Himself.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِکَ مَدَحَ نَفْسَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے اسی وجہ سے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام کردیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جسے اللہ سے بڑھ کر تعریف پسند ہو اسی وجہ سے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
Abdullah bin Masud reported it directly from Allahs Messenger ﷺ that he said: None is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible and nothing is loved by Allah more than the praise of His Ownself and it is because of this that He has praised Himself.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ مَدَحَ نَفْسَهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ أَنْزَلَ الْکِتَابَ وَأَرْسَلَ الرُّسُلَ
عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جرید اعمش، مالک بن حارث عبدالرحمن بن زید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں جسے اللہ رب العزت سے بڑھ کر تعریف پسند ہو اسی وجہ سے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے اور نہ ہی کوئی اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہے اسی وجہ سے بری باتوں کو حرام کیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جسے اللہ سے بڑھ کر عذر قبول کرنا پسند ہو اسی وجہ سے اللہ نے کتاب نازل کی اور رسولوں کو مبعوث فرمایا۔
Abdullah bin Masud reported that Allahs Messenger ﷺ said: None loves ones own praise more than Allah, the Exalted and Glorious, does. It is because of this that He has praised Himself, and none is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts and there is none who is more anxious to accept the apologies of the people than Allah Himself and it is because of this that He has revealed the Book and sent the Messengers.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ قَالَ يَحْيَی وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ
عمرو ناقد اسماعیل بن ابراہیم، اسماعیل بن علیہ حجاج بن ابی عثمان حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت مند ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن ایسا عمل کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah is self-respecting and a believer is also self-respecting and the respect of Allah is injured if a believer does what He has forbidden him to do.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
قَالَ يَحْيَی وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ شَيْئٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
یحییٰ ابوسلمہ ؓ عروہ بن زبیر، حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی چیز بھی اللہ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asma daughter of Abu Bakr, through another chain of transmitters.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً وَلَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ أَسْمَائَ
محمد بن مثنی، ابوداؤد ؓ ابان بن یزید حرب بن شداد یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
Abu Salama reported from Abu Hurairah (RA) that he narrated that Allahs Messenger (may peace be upon hin) said: There is none more self-respecting than Allah, the Exalted and Glorious. There is no mention of the narration of Asma.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَائَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا شَيْئَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
محمد بن ابی بکر مقدامی بشر بن مفضل ہشام یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ عروہ ؓ حضرت اسماء نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی بھی چیز اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے۔
Asma reported that Allahs Apostle ﷺ said: There is none more self-respecting than Allah, the Exalted and Glorious.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A believer is self-respecting and Allah is extremely self-respecting.
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ اس سند سے بھی مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah through another chain of transmitters.
اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ قَالَ فَنَزَلَتْ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي
قتیبہ بن سعید، ابوکامل فضیل بن حسین جحدری یزید بن زریع ابی کامل یزید تیمی ابی عثمان حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کا بوسہ لیا پھر اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو یہ آیت کریمہ (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ) 11۔ ہود۔ 114) دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا یہ میرے لئے ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے جو بھی عمل کرے گا اس کے لئے ہے۔
Abdullah bin Masud reported that a person kissed a woman and he came to Allahs Apostle ﷺ and made a mention of that to him. It was (on this occasion) that this verse was revealed: "And observe prayer at the (two) ends of the day and in the first hours of the night. Surely, good deeds take away evil deeds. That is a reminder for the mindful" (xi. 115). That person said: Allahs Messenger, does it concern me only? He (the Holy Prophet) said: It concerns every one of my Ummah, who acts according to it.
اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا کَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ کَفَّارَتِهَا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ
محمد بن عبدالاعلی معتمر ابوعثمان حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس نے کسی عورت کا بوسہ لیا یا ہاتھ سے چھیڑا ہے یا اور کچھ کیا ہے گویا کہ وہ اس کا کفارہ پوچھ رہا تھا تو اللہ رب العزت نے یہی آیات نازل فرمائیں باقی حدیث یزید کی حدیث کی طرح ہے۔
Ibn Masud reported that a person came to Allahs Messenger ﷺ and told him that he had kissed a woman or touched her with his hand or did something like this. He inquired of him about its expiation. It was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse (as mentioned above).
اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَصَابَ رَجُلٌ مِنْ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ فَأَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَی أَبَا بَکْرٍ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ
عثمان بن ابی شیبہ جریر، سلیمان تیمی یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے زنا کے علاوہ کوئی برا کام کیا پھر وہ عمر بن خطاب کے پاس آیا تو انہوں نے اسے بہت بڑا گناہ سمجھا پھر حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسے بہت بڑا گناہ خیال کیا پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters that a person had taken liberty with a woman less than fornication. He came to Umar bin Khattab and he took it to be a serious offence. Then he came to Abu Bakr (RA) and he also took it to be a serious offence. Then he came the Allahs Apostle ﷺ and he made a mention of this to him. The rest of the hadith is the same.
اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَی الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ سَتَرَکَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَکَ قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَهُ خَاصَّةً قَالَ بَلْ لِلنَّاسِ کَافَّةً
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ یحییٰ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے مدینہ کے کنارے ایک عورت سے لطف اندوزی کی اور میں نے اس سے جماع کے علاوہ باقی حرکت کی پس میں حاضر ہوں آپ ﷺ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں تو حضرت عمر ؓ نے اس سے کہا اگر اپنے آپ پر پردہ کرتا تو اللہ نے تیرا پردہ رکھا ہوا تھا ابن مسعود ؓ نے کہا نبی ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور چل دیا پس نبی ﷺ نے اس کے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا جو اسے بلا لایا آپ ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی اَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ ) دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کریں بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے حاضرین میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ یہ اس کے لئے خاص ہے آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ تمام لوگوں کے لئے۔
Abdullah reported that a person came to Allahs Apostle ﷺ and said: Allahs Messenger, I sported with a woman in the outskirts of Madinah, and I have committed an offence short of fornication. Here I am (before you), kindly deliver verdict about me which you deem fit. Umar said: Allah concealed your fault. You had better conceal it yourself also. Allahs Apostle ﷺ , however, gave no reply to him. The man stood up and went away and Allahs Apostle ﷺ sent a person after him to call him and he recited this verse: "And observe prayer at the ends of the day and in the first hours of the night. Surely, good deeds take away evil deeds. That is a reminder for the mindful" (xi. 115). A person amongst the people said: Allahs Apostle, does it concern this man only? Thereupon he (the Holy Prophet) said: No, but the people at large.
اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً قَالَ بَلْ لَکُمْ عَامَّةً
محمد بن مثنی، ابونعمان حکم بن عبداللہ عجلی شعبہ، سماک بن حرب، ابراہیم، خالد اسود حضرت عبداللہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے اس حدیث میں یہ ہے کہ حضرت معاذ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا یہ آیت اسی کے لئے خاص ہے یا ہمارے لئے عام ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تمہارے لئے عام ہے۔
This hadith has been transmitted by Abu al-Ahwas and in this (these words are) also found: Muadh said: Allahs Messenger, does it concern this particular case or to all of us? And he (the Holy Prophet) said: Of course, to all of you.
اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِيَّ کِتَابَ اللَّهِ قَالَ هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ قَدْ غُفِرَ لَکَ
حسن بن علی حلوانی عمرو بن عاصم، ہمام اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد (کے جرم تک) پہنچ گیا ہوں پس آپ ﷺ مجھ پر حد قائم فرمائیں نماز کا وقت ہوگیا تو اس نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز اداء کی جب نماز پوری کرچکا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد کے جرم تک پہنچ گیا ہوں آپ میرے بارے میں اللہ کا فیصلہ قائم کریں آپ نے فرمایا کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھا اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق تجھے معاف کیا جا چکا۔
Anas reported that a person came to Allahs Apostle ﷺ said: Allahs Messenger, I have committed an offence which deserves imposition of hadd, so impose it upon me according to the Book of Allah. Thereupon he said: Were you not present with us at the time of prayer? He said: Yes. Thereupon he said: You have been granted pardon.
اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَسَکَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَسَکَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَی الرَّجُلِ فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِکَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوئَ قَالَ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَقَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَکَ حَدَّکَ أَوْ قَالَ ذَنْبَکَ
نصر بن علی زہیر بن حرب، عمر بن یونس عکرمہ بن عمار شداد حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ایک دفعہ مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد (کے جرم) تک پہنچ گیا ہوں آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کریں رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں خاموش رہے اس نے پھر دہرایا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد کے جرم تک پہنچ گیا ہوں آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کردیں پس آپ ﷺ اس سے خاموش رہے اور نماز قائم کی گئی جب اللہ کے نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیا اور میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چل دیا تاکہ میں دیکھوں کہ آپ ﷺ اس آدمی کو کیا جواب دیتے ہیں پس وہ آدمی رسول اللہ ﷺ سے ملا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد کے جرم تک پہنچ گیا ہوں آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کریں ابوامامہ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا خیال ہے کہ جب تم گھر سے نکلے تھے تو کیا تم نے اچھی طرح وضو نہ کیا تھا اس نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا پس بیشک اللہ نے تیری حد کو معاف فرما دیا یا فرمایا تیرے گناہ کو معاف کردیا۔
Abu Umama reported: We were sitting in the mosque in the company of Allahs Messenger ﷺ . A person came there and said: Allahs Messenger, I have committed an offence which deserves the imposition of hadd upon me, so impose it upon me. Allahs Messenger ﷺ kept silent. He repeated it and said: Allahs Messenger, I have committed an offence which deserves the imposition of hadd upon me, so impose it upon me. He (the Holy Prophet) kept silent, and it was at this time that Iqama was pronounced for prayer (and the prayer was observed). And when Allahs Apostle ﷺ had concluded the payer that person followed Allahs Messenger ﷺ . Abu Umama said: I too followed Allahs Messenger ﷺ after he had concluded the prayer, so that I should know what answer he would give to that person. That person remained attached to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, I have committed an offence which deserves imposition of hadd upon me, so impose it upon me. Abu Umama reported that Allahs Messenger ﷺ said to him: Didnt you see that as you got out of the house, you performed ablution perfectly well. He said: Allahs Messenger, of course. I did it. He again said to him: Then you observed prayer along with us. He said: Allahs Messenger, yes, it is so. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said to him: Verily, Allah has exempted you from the imposition of hadd, or he said from your sin.
قاتل کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں اگرچہ اس نے قتل کثیر کئے ہوں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَی رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ لَا فَقَتَلَهُ فَکَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَی رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ انْطَلِقْ إِلَی أَرْضِ کَذَا وَکَذَا فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدْ اللَّهَ مَعَهُمْ وَلَا تَرْجِعْ إِلَی أَرْضِکَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْئٍ فَانْطَلَقَ حَتَّی إِذَا نَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِکَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ جَائَ تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَی اللَّهِ وَقَالَتْ مَلَائِکَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُمْ مَلَکٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ قِيسُوا مَا بَيْنَ الْأَرْضَيْنِ فَإِلَی أَيَّتِهِمَا کَانَ أَدْنَی فَهُوَ لَهُ فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَی إِلَی الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ فَقَبَضَتْهُ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ ذُکِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَأَی بِصَدْرِهِ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، معاذ بن ہشام قتادہ، ابی صدیق حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی نے ننانوے جانوں کو قتل کیا پھر اس نے اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا پس اس کی ایک راہب کی طرف راہنمائی کی گئی وہ اس کے پاس آیا تو کہنے لگا اس نے ننانوے جانوں کو قتل کیا ہے کیا اس کے لئے توبہ کا کوئی راستہ ہے اس نے کہا نہیں پس اس نے اس راہب کو قتل کر کے سو پورے کردیئے پھر زمین والوں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو ایک عالم کی طرف اس کی راہنمائی کی گئی اس نے کہا میں نے سو آدمیوں کو قتل کیا ہے میرے لئے توبہ کا کوئی راستہ ہے تو اس نے کہا جی ہاں اس کے اور توبہ کے درمیان کیا چیز رکاوٹ بن سکتی ہے تم اس اس جگہ کی طرف جاؤ وہاں پر موجود کچھ لوگ اللہ کی عبادت کر رہے ہیں تو بھی ان کے ساتھ عبادت الٰہی میں مصروف ہوجا اور اپنے علاقے کی طرف لوٹ کر نہ آنا کیونکہ وہ بری جگہ ہے پس وہ چل دیا یہاں تک کہ جب آدھے راستے پر پہنچا تو اس کی موت واقع ہوگئی پس اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑ پڑے رحمت کے فرشتوں نے کہا یہ توبہ کرتا ہوا اور اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہوا آیا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا اس نے کوئی بھی نیک عمل نہیں کیا پس پھر ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا اسے انہوں نے اپنے درمیان ثالث (فیصلہ کرنے والا) مقرر کرلیا تو اس نے کہا دونوں زمینوں کی پیمائش کرلو پس وہ دونوں میں سے جس زمین سے زیادہ قریب ہو وہی اس کا حکم ہوگا پس انہوں نے زمین کو ناپا تو اسی زمین کو کم پایا جس کا اس نے ارادہ کیا تھا پس پھر رحمت کے فرشتوں نے اس پر قبضہ کرلیا حسن (رح) نے کہا ہمیں ذکر کیا گیا کہ جب اس کی موت واقع ہوئی تو اس نے اپنا سینہ اس زمین سے دور کرلیا تھا (جہاں سے وہ چلا تھا)۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There was a person before you who had killed ninety-nine persons and then made an inquiry about the learned persons of the world (who could show him the way to salvation). He was directed to a monk. He came to him and told him that he had killed ninety-nine persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: No. He killed him also and thus completed one hundred. He then asked about the learned persons of the earth and he was directed to a scholar, and he told him that he had killed one hundred persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: Yes; what stands between you and the repentance? You better go to such and such land; there are people devoted to prayer and worship and you also worship along with them and do not come to the land of yours since it was an evil land (for you). So he went away and he had hardly covered half the distance when death came to him and there was a dispute between the angels of mercy and the angels of punishment. The angels of mercy said: This man has come as a penitant and remorseful to Allah and the angels of punishment said: He has done no good at all. Then there came another angel in the form of a human being in order to decide between them. He said: You measure the land to which he has drawn near. They measured it and found him nearer to the land where he intended to go (the land of piety), and so the angels of mercy took possession of it. Qatada said that Hasan told him that it was said to them that as death approached him, he crawled upon his chest (and managed) to slip in the land of mercy.
قاتل کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں اگرچہ اس نے قتل کثیر کئے ہوں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَجَعَلَ يَسْأَلُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَأَتَی رَاهِبًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ لَکَ تَوْبَةٌ فَقَتَلَ الرَّاهِبَ ثُمَّ جَعَلَ يَسْأَلُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَی قَرْيَةٍ فِيهَا قَوْمٌ صَالِحُونَ فَلَمَّا کَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ أَدْرَکَهُ الْمَوْتُ فَنَأَی بِصَدْرِهِ ثُمَّ مَاتَ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِکَةُ الْعَذَابِ فَکَانَ إِلَی الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ أَقْرَبَ مِنْهَا بِشِبْرٍ فَجُعِلَ مِنْ أَهْلِهَا
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، قتادہ، ابوصدیق نافی حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا پھر اس نے پوچھنا شروع کردیا کہ اس کے لئے توبہ کا کوئی راستہ ہے ایک راہب کے پاس آ کر پوچھا تو اس نے کہا تیرے لئے توبہ کا کوئی راستہ نہیں ہے اس نے راہب کو بھی قتل کردیا پھر اس نے دوبارہ پوچھنا شروع کردیا اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی طرف نکلا، جس میں نیک لوگ رہتے تھے جب اس نے کچھ راستہ طے کیا تو اسے موت نے گھیر لیا پس اس نے سینہ کے بل سرک کر اپنی آبادی سے اپنے آپ کو دور کرلیا پھر مرگیا تو رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اس کے بارے میں جھگڑا ہوا تو وہ ایک بالشت نیک لوگوں کی بستی کے قریب تھا پس اسے اسی بستی والوں میں سے کردیا گیا۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying that a man killed ninety-nine persons and then he began to make an inquiry whether there was any way left for him for repentance. He came to a monk and asked him about that, and he said: There is no chance for repentance for you. He killed the monk also and then began to make an inquiry and moved from one village to another village where there lived pious persons, and as he had covered some distance, he was overtaken by death, but he managed to crawl upon his chest (to the side nearer to the place where the pious men lived). He died and then there was a dispute between the angels of mercy and the angels of punishment and (when it was measured) he was found to be nearer to the village where pious persons were living equal to the Space of a span and he was thus included among them.
قاتل کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں اگرچہ اس نے قتل کثیر کئے ہوں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ وَزَادَ فِيهِ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَی هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي وَإِلَی هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي
محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، قتادہ، معاذ یہ حدیث اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں اضافہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے اس زمین کو حکم دیا کہ تو دور ہوجا اور اس زمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہوجا۔
This hadith has been narrated on the authority of Qitada with the same chain of transmitters but (with this variation of wording): "Allah commanded the earth (from where) he wanted to come out to move itself away and to the other earth (where he wanted to go) to draw nearer."
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور جہنم سے نجات کے لئے ہر مسلمان کا فدیہ کافر کے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی کُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ هَذَا فِکَاکُکَ مِنْ النَّارِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ طلحہ بن یحییٰ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا رب العزت ہر مسلمان کی طرف یہودی یا نصرانی بھیجے گا اور کہے گا یہ جہنم سے تیرا فدیہ و بدلہ ہے۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger ﷺ said: When it will be the Day of Resurrection Allah would deliver to every Muslim a Jew or a Christian and say: That is your rescue from Hell-Fire.