نکاح کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 18 · 171 hadiths · Page 1 of 9

3398Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًی فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا نُزَوِّجُکَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَکِّرُکَ بَعْضَ مَا مَضَی مِنْ زَمَانِکَ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ الْبَائَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَائٌ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، محمد بن العلاء ہمدانی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی معاویہ، اعمش، ابراہیم، حضرت علقمہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت عبداللہ ؓ کے ساتھ منٰی کی طرف پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عبداللہ ؓ سے حضرت عثمان ؓ کی ملاقات ہوئی تو ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے حضرت عثمان ؓ نے ان سے فرمایا اے ابوعبدالرحمن! کیا ہم تیرا نکاح ایک ایسی جوان لڑکی سے نہ کردیں جو تجھے تیری گزری ہوئی عمر میں سے کچھ یاد دلا دے؟ تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا اے جوانوں کے گروہ تم میں جو نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ نکاح کرلے کیونکہ نکاح آنکھوں کو بہت زیادہ نیچے رکھنے والا اور زنا سے محفوظ رکھنے والا ہے اور جو نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے رکھنا اس کے لئے خصی (نامرد) ہونا ہے۔

Alqama reported: While I was walking with Abdullah at Mina, Uthman happened to meet him. He stopped there and began to talk with him. Uthman said to him: Abu Abdul Rahman, should we not marry you to a young girl who may recall to you some of the past of your bygone days; thereupon he said: If you say so, Allahs Messenger ﷺ said: O young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes from casting (evil glances) and preserves one from immorality; but those who cannot should devote themselves to fasting for it is a means of controlling sexual desire.

3399Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًی إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ هَلُمَّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَاسْتَخْلَاهُ فَلَمَّا رَأَی عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَالَ قَالَ لِي تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ قَالَ فَجِئْتُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَلَا نُزَوِّجُکَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَارِيَةً بِکْرًا لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْکَ مِنْ نَفْسِکَ مَا کُنْتَ تَعْهَدُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، حضرت علقمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ منیٰ کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت عبداللہ کی حضرت عثمان بن عفان ؓ سے ملاقات ہوئی تو حضرت عثمان نے فرمایا اے ابوعبدالرحمن ادھر آؤ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ حضرت عبداللہ کو علیحدہ لے گئے تو جب حضرت عبداللہ نے دیکھا کہ حضرت عثمان ؓ کو کوئی خاص کام نہیں ہے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا اے علقمہ تم بھی آجاؤ سو میں بھی آگیا تو حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ ؓ سے فرمایا اے ابوعبدالرحمن کیا ہم تیرا نکاح نوجوان کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں تاکہ گزرے ہوئے زمانے کی یاد پھر تازہ ہوجائے تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا اگر آپ یہ کہتے ہیں آگے حدیث ابومعاویہ کی حدیث کی طرح نقل کی گئی ہے۔

Alqama reported: While I was going along with Abdullah bin Masud (RA) in Mina, Uthman bin Affan (RA) happened to meet him and said: Come here, Abu Abdul Rahman (kunya ofAbdullah bin Masud), and he isolated him (from me), and when Abdullah (b. Masud) saw that there was no need (for this privacy), he said to me: Alqama, come on, and so I went there. (Then) Uthman said to him: Abu Abdul Rahman, should we not marry you to a virgin girl that your past may be recalled to your mind? Abdullah said: If you say so, the rest of the hadith is the same as narrated above.

3400Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ الْبَائَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَائٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ بن عمیر، عبدالرحمن بن یزید، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرلے کیونکہ نکاح کرنا نگاہ کو بہت زیادہ نیچا رکھنے والا اور زنا سے محفوظ رکھنے والا ہے اور جو نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے رکھنا یہ اس کے لئے خصی ہونے کے مترادف ہے

Abdullah (b. Masud) (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said to us: O young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes (from casting evil glances) and preserves one from immorality; but he who cannot afford it should observe fast for it is a means of controlling the sexual desire.

3401Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَمِّي عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ وَأَنَا شَابٌّ يَوْمَئِذٍ فَذَکَرَ حَدِيثًا رُئِيتُ أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ مِنْ أَجْلِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَزَادَ قَالَ فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّی تَزَوَّجْتُ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، عمارہ بن عمیر، عبدالرحمن بن یزید، علقمہ، اسود، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ان دنوں میں نوجوان تھا پھر اسی طرح حدیث آپ نے میری وجہ سے بیان کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ابومعاویہ کی حدیث ہی کی طرح ہے اور زیادتی یہ ہے کہ میں نے بغیر تاخیر کے شادی کرلی۔

Abu al-Rahman bin Yazid said: I and my uncle Alqama and al-Aswad went to Abdullah bin Masud (RA) . He (the narrator further) said: I was at that time young, and he narrated a hadith which it seemed he narrated for me that Allahs Messenger ﷺ said like one transmitted by Muawiyah, and further added: I lost no time in marrying.

3402Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّی تَزَوَّجْتُ

عبداللہ بن سعید اشج، وکیع، اعمش، عمارہ بن عمیر، عبدالرحمن بن یزید، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں قوم میں سے نوجوان تھا باقی حدیث کی طرح ذکر کی اور اس میں فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّی تَزَوَّجْتُ ذکر نہیں کیا۔

Abdul Rahman bin Yazid reported on the authority ofAbdullah (RA) : We went to him, and I was the youngest of all (of us), but he did not mention: "I lost no time in marrying."

3403Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَائَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا آکُلُ اللَّحْمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَنَامُ عَلَی فِرَاشٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا کَذَا وَکَذَا لَکِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَائَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

ابوبکر بن نافع، بہز، حماد بن سلمہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی رضوان اللہ تعالیٰ عنھم میں سے ایک جماعت نے ازواج نبی ﷺ سے آپ ﷺ کے گھریلو اعمال کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے بعض نے کہا میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا اور بعض نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور بعض نے کہا کہ میں بستر پر نیند نہیں کروں گا آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور فرمایا قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح گفتگو کی ہے حالانکہ میں نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں میرے طریقے پر نہیں۔

Anas (RA) reported that some of the Companions of Allahs Apostle ﷺ asked his (the Prophets) wives about the acts that he performed in private. Someone among them (among his Companions) said: I will not marry women; someone among them said: I will not eat meat; and someone among them said: I will not lie down in bed. He (the Holy Prophet) praised Allah and glorified Him, and said: What has happened to these people that they say so and so, whereas I observe prayer and sleep too; I observe fast and suspend observing them; I marry women also. And he who turns away from my Sunnah, he has no relation with me.

3404Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن مبارک، ابوکریب، محمد بن العلاء، معمر، زہری، سعید بن مسیب، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون پر مجرد رہنے کو رد کیا اگر انہیں آپ ﷺ اجازت دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔

Sad bin Abi Waqqas (RA) reported: The Messengger of Allah ﷺ rejected (the idea) of Uthman bin Muzun living in celibacy (saying): And if he (the Holy Prophet) had given me permission we would have got ourselves castrated.

3405Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُا رُدَّ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلُ وَلَوْ أُذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا

ابوعمران محمد بن جعفربن زیاد، ابراہیم ابن سعد، شہاب، زہری، حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سعد کو فرماتے ہوئے سنا آپ ﷺ نے عثمان بن مظعون کے مجرد رہنے کو رد فرمایا اگر آپ ﷺ اسے اجازت دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔

Said bin al-Musayyib reported: I heard Sad (b. Abi Waqqas) saying that the idea of Uthman bin Mazun for living in celibacy was rejected (by the Holy Prophet), and if he had been given permission they would have got themselves castrated.

3406Sahih Muslim

جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُا أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِکَ لَاخْتَصَيْنَا

محمد بن رافع، حجین بن مثنی، لیث، عقیل، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن معظون نے مجرد یعنی غیر شادی شدہ رہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے منع فرما دیا اور اگر آپ ﷺ اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔

Said bin al Musayyib heard Sad bin Abi Waqqas (RA) saying that Uthman bin Mazun decided to live in celibacy, but Allahs Messenger ﷺ forbade him to do so, and if he had permitted him, we would have got ourselves castrated.

3407Sahih Muslim

اس آدمی کے بیان میں جس نے کسی عورت کو دیکھا اور اپنے نفس میں میلان پایا تو چاہیے کہ وہ مرد اپنی بیوی یا لونڈی سے آکر صحبت کرلے۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی امْرَأَةً فَأَتَی امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً لَهَا فَقَضَی حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُکُمْ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَلِکَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ

عمر بن علی، عبدالاعلی، ہشام بن ابی عبداللہ، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ ﷺ نے اپنی بیوی زینب ؓ کے پاس آئے اور وہ اس وقت کھال کو رنگ دے رہی تھیں اور آپ ﷺ نے اپنی حاجت پوری فرمائی پھر اپنے صحابہ ؓ کی طرف تشریف لے گئے تو فرمایا کہ عورت شیطان کی شکل میں سامنے آتی ہے اور شیطانی صورت میں پیٹھ پھیرتی ہے پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے تو اپنی بیوی کے پاس آئے۔

Jabir reported that Allahs Messenger ﷺ saw a woman, and so he came to his wife, Zainab, as she was tanning a leather and had sexual intercourse with her. He then went to his Companions and told them: The woman advances and retires in the shape of a devil, so when one of you sees a woman, he should come to his wife, for that will repel what he feels in his heart.

3408Sahih Muslim

اس آدمی کے بیان میں جس نے کسی عورت کو دیکھا اور اپنے نفس میں میلان پایا تو چاہیے کہ وہ مرد اپنی بیوی یا لونڈی سے آکر صحبت کرلے۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی امْرَأَةً فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَأَتَی امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً وَلَمْ يَذْکُرْ تُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ

زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابن ابی العالیہ، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؓ نے ایک عورت کو دیکھا پھر اسی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ ﷺ اپنی بیوی زینب ؓ کے پاس آئے اور وہ کھال کو دباغت دے رہی تھیں اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ وہ شیطانی صورت میں جاتی ہے۔

Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ saw a woman; and the rest of the hadith was narrated but (with this exception) that he said he came to his wife Zainab, who was tanning a (piece of) leather, and he made no mention of: "She retires in the shape of satan."

3409Sahih Muslim

اس آدمی کے بیان میں جس نے کسی عورت کو دیکھا اور اپنے نفس میں میلان پایا تو چاہیے کہ وہ مرد اپنی بیوی یا لونڈی سے آکر صحبت کرلے۔

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَحَدُکُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَی امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِکَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت اچھی لگے اور اس کے دل میں واقع ہوجائے تو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی طرف ارادہ کرے اور اس سے صحبت کرے کیونکہ یہ اس کے دل کے میلان کو دور کرنے والا ہے۔

Jabir heard Allahs Apostle ﷺ say: When a woman fascinates any one of you and she captivates his heart, he should go to his wife and have an intercourse with her, for it would repel what he feels.

3410Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ وَابْنُ بِشْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَائٌ فَقُلْنَا أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْکِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی، وکیع، ابن بشر، اسماعیل، قیس، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ ہوتی تھیں ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی نہ ہوجائیں آپ ﷺ نے ہمیں اس سے روک دیا پھر ہمیں اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے کے بدلے مقررہ مدت تک کے لئے نکاح کرلیں پھر حضرت عبداللہ ؓ نے یہ آیت تلاوت کی اے ایمان والو! پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اور نہ حد سے تجاوز کرو بیشک اللہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

Abdullah (b. Masud) reported: We were on an expedition with Allahs Messenger ﷺ and we had no women with us. We said: Should we not have ourselves castrated? He (the Holy Prophet) forbade us to do so. He then granted us permission that we should contract temporary marriage for a stipulated period giving her a garment, and Abdullah then recited this verse: Those who believe do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you, and do not transgress. Allah does not like trangressers" (al-Quran, v. 87).

3411Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الْآيَةَ وَلَمْ يَقُلْ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اسماعیل بن ابی خالد اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ہے کہ پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی عبداللہ ؓ نے تلاوت کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters and he also recited this (above-mentioned verse) to us, but he did not say that Abdullah recited it.

3412Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ کُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي وَلَمْ يَقُلْ نَغْزُو

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل یہ حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ہم نوجوان تھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم خصی نہ ہوجائیں؟ ہم جہاد کرتے تھے نہیں کہا۔

This hadith has been narrated on the authority of Ismail with the same chain of transmitters (and the words are): "We were young, so we said: Allahs Messenger, should we not have ourselves castrated? But he (the narrator) did not say; We were on an expedition."

3413Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَا خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَکُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَائِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن دینار، حسن بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا منادی آیا تو اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے تمہیں نکاح متعہ کی اجازت دی ہے۔

Jabir bin Abdullah and Salama bin al-Akwa said: There came to us the proclaimer of Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger ﷺ has granted you permission to benefit yourselves, i. e. to contract temporary marriage with women.

3414Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ

امیہ بن بسطام عیشی، یزید ابن زریع، روح، ابن قاسم، عمرو بن دینار، حسن بن محمد، سلمہ بن اکوع، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی۔

Salama bin al. Akwa and Jabir binAbdullah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ came to us and permitted us to contract temporary marriage.

3415Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَائٌ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَائَ ثُمَّ ذَکَرُوا الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمْ اسْتَمْتَعْنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ

حسن حلوانی، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت عطا ؓ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ عمرہ کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے لوگوں نے مختلف چیزوں کے بارے میں سوال کئے پھر لوگوں نے متعہ کا ذکر کیا آپ نے کہا جی ہاں ہم نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر وعمر ؓ کے زمانہ میں متعہ کیا تھا۔

IbnJuraij reported: Ata reported that Jabir binAbdullah (RA) came to perform Umrah, and we came to his abode, and the people asked him about different things, and then they made a mention of temporary marriage, whereupon he said: Yes, we had been benefiting ourselves by this temporary marriage during the lifetime of the Holy Prophet ﷺ and during the time of Abi Bakr and Umar.

3416Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ حَتَّی نَهَی عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی آٹے کے عوض مقررہ دنوں کے لئے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانہ میں متعہ کرلیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ نے عمرو بن حریث کے واقعہ کی وجہ سے متعہ سے منع فرمایا دیا۔

Jabir bin Abdullah reported: We contracted temporary marriage giving a handful of (tales or flour as a dowery during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and during the time of Abu Bakr (RA) until Umar forbade it in the case of Amr bin Huraith.

3417Sahih Muslim

نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا

حامد بن عمر بکراوی، عبدالواحد ابن زیاد، عاصم، حضرت ابونضرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس بیٹھا تھا ایک آنے والا آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ کے درمیان دونوں متعہ (حج و نکاح) میں اختلاف ہوگیا ہے سو جابر ؓ نے کہا کہ ہم ان دونوں متعہ (حج ونکاح) کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے تھے پھر حضرت عمر ؓ نے ہمیں ان سے منع کردیا تو اس کے بعد ہم نے انہیں نہیں لوٹایا نہیں کیا۔

Abu Nadra reported: While I was in the company of Jabir binAbdullah, a person came to him and said that Ibn Abbas and Ibn Zubair differed on the two types of Mutas (Tamattu of Hajj 1846 and Tamattu with women), whereupon Jabir said: We used to do these two during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . Umar then forbade us to do them, and so we did not revert to them.