نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَی عَنْهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، عبدالواحد بن زیاد، ابوعمیس، حضرت ایاس بن سلمہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ اوطاس فتح مکہ کے سال تین دن تک متعہ کرنے کی اجازت دی پھر منع فرما دیا۔
Iyas bin Salama reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ gave sanction for contracting temporary marriage for three nights in the year of Autas 1847 and then forbade it.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَی امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ کَأَنَّهَا بَکْرَةٌ عَيْطَائُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تُعْطِي فَقُلْتُ رِدَائِي وَقَالَ صَاحِبِي رِدَائِي وَکَانَ رِدَائُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَکُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَی رِدَائِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُکَ يَکْفِينِي فَمَکَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ شَيْئٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَائِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا
قتیبہ بن سعید، لیث، حضرت ربیع بن سبرہ الجہنی ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دے دی تو میں اور ایک آدمی بنی عامر کی ایک عورت کی طرف چلے جو نوجوان اور لمبی گردن والی تھی ہم نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کیا تو اس نے کہا تم مجھے کیا عطا کرو گے؟ میں نے کہا اپنی چادر اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے زیادہ عمدہ تھی اور میں اس سے زیادہ نوجوان تھا پس اس عورت نے جب میری طرف دیکھا تو مجھے پسند کیا پھر اس نے کہا تو اور تیری چادر مجھے کافی ہے پس میں اس کے ساتھ تیں دن تک ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس مقررہ مدت نکاح والی عورتیں ہوں جن سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے تو چاہیے کہ وہ انہیں آزاد کر دے۔
Sabra Juhanni reported: Allahs Messenger ﷺ permitted temporary marriage for us. So I and another person went out and saw a woman of Bana Amir, who was like a young long-necked she-camel. We presented ourselves to her (for contracting temporary marriage), whereupon she said: What dower would you give me? I said: My cloak. And my companion also said: My cloak. And the cloak of-my companion was superior to my cloak, but I was younger than he. So when she looked at the cloak of my companion she liked it, and when she cast a glance at me I looked more attractive to her. She then said: Well, you and your cloak are sufficient for me. I remained with her for three nights, and then Allahs Messenger ﷺ said: He who has any such woman with whom he had contracted temporary marriage, he should let her off.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَکَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَائِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِأَسْفَلِ مَکَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَکْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَکِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلَانِ فَنَشَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَی الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَی عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ فَتَقُولُ بُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّی حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوکامل، فضیل ابن حسین جحدری، بشرا بن مفضل، عمارہ بن غزیہ، حضرت ربیع بن سبرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی انہوں نے کہا پس ہم نے مکہ میں پندرہ دن (یعنی دن رات تیس) قیام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی پس میں اور میری قوم میں سے ایک آدمی نکلے اور میں خوبصورتی میں اس پر فضیلت کا حامل تھا اور وہ بدصورتی کے قریب تھا اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک چادر نئی اور عمدہ تھی جب ہم مکہ کے نیچے یا اونچے علاقے میں آئے تو ہمیں ایک عورت ملی جو کہ باکرہ نوجوان اور لمبی گردن والی تھی ہم نے اس سے کہا کیا تو ہم میں سے کسی ایک سے نکاح متعہ کرسکتی ہے اس نے کہا تم دونوں کیا بدل دو گے؟ ہر ایک نے چادر پھیلائی پس اس نے دونوں آدمیوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور میرا ساتھی اسے دیکھتا تھا اس کے میلان طبع کے جانچنے کے لئے اس نے کہا یہ چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور عمدہ ہے اس عورت نے دو یا تین مرتبہ کہا کہ اس چادر میں کوئی حرج نہیں پھر میں نے اس سے نکاح متعہ کیا اور میں اس کے پاس سے اس وقت تک نہ آیا جب تک رسول اللہ ﷺ نے اسے میرے لئے حرام نہ کردیا۔
Rabi bin Sabra reported that his father went on an expedition with Allahs Messenger ﷺ during the Victory of Makkah, and we stayed there for fifteen days (i. e. for thirteen full days and a day and a night), and Allahs Messenger ﷺ permitted us to contract temporary marriage with women. So I and another person of my tribe went out, and I was more handsome than he, whereas he was almost ugly. Each one of us had a cloak. My cloak was worn out, whereas the cloak of my cousin was quite new. As we reached the lower or the upper side of Makkah, we came across a young woman like a young smart long-necked she-camel. We said: Is it possible that one of us may contract temporary marriage with you? She said: What will you give me as a dower? Each one of us spread his cloak. She began to cast a glance on both the persons. My companion also looked at her when she was casting a glance at her side and he said: This cloak of his is worn out, whereas my cloak is quite new. She, however, said twice or thrice: There is no harm in (accepting) this cloak (the old one). So I contracted temporary marriage with her, and I did not come out (of this) until Allahs Messenger ﷺ declared it forbidden.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَی مَکَّةَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ وَزَادَ قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاکَ وَفِيهِ قَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ
احمد بن صخر دارمی، ابونعمان، وہیب، عمارہ بن غزیہ، حضرت ربیع بن سبرہ ؓ اپنے والد ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فتح مکہ کے سال نکلے باقی حدیث بشر کی طرح ہی ذکر کی ہے اور اضافہ یہ ہے کہ اس عورت نے کہا یہ درست ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھی نے کہا یہ چادر پرانی اور گئی گزری ہے۔
Rabi bin Sabra al-juhanni reported on the authority of his father. We went with Allahs Messenger ﷺ to Makkah during the year of Victory and he narrated like this a hadith transmitted by Bishr (the previous one) but with this addition: "She said: Can it be possible?" And it is also mentioned in it: "He said: The cloak of this (man) is old and worn out."
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَکُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ النِّسَائِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِکَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا
محمد بن عبداللہ ابن نمیر، عبدالعزیز ابن عمر، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی تھی اور تحقیق اللہ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے پس جس کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو اسے آزاد کر دے اور ان سے جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے نہ لے۔
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father that while he was with Allahs Messenger (may peace be upon hm) he said: O people, I had permitted you to contract temporary marriage with women, but Allah has forbidden it (now) until the Day of Resurrection. So he who has any (woman with this type of marriage contract) he should let her off, and do not take back anything you have given to them (as dower).
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، عبدالعزیز بن عمر اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے یہ ارشاد فرماتے دیکھا ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdul Aziz bin Umar with the same chain of transmitters, and he said: I saw Allahs Messenger ﷺ standing between the pillar and the gate (of the Ka’bah) and he was relating a hadith as narrated by Ibn Numair.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَکَّةَ ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّی نَهَانَا عَنْهَا
اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن آدم، ابراہیم بن سعد، حضرت عبدالملک بن ربیع بن سبرہ الجہنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فتح مکہ کے سال مکہ میں داخلہ کے وقت نکاح متعہ کی اجازت دی پھر ہم مکہ سے نکلے ہی نہ تھے کہ آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔
Abdul Malik bin Rabi bin Sabraal-Juhanni reported on the authority of his father who narrated it on the authority of his father (i e. Abdul Maliks grandfather, Sabura al-juhanni): Allahs Messenger ﷺ permitted us to contract temporary marriage in the Year of Victory, as we entered Makkah, and we did come out of it but he forbade us to do it.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَکَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنْ النِّسَائِ قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ حَتَّی وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ کَأَنَّهَا بَکْرَةٌ عَيْطَائُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَی نَفْسِهَا وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي وَتَرَی بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَی صَاحِبِي فَکُنَّ مَعَنَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهِنَّ
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ربیع ابن سبرہ بن معبد، حضرت ابی ربیع بن سبرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو فتح مکہ کے سال عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی راوی کہتے ہیں پس میں اور میرا ایک ساتھی بنی سلیم سے نکلے یہاں تک کہ ہم نے بنی عامر کی ایک عورت کو پایا جو کہ نوجوان اور لمبی گردن والی معلوم ہوتی تھی ہم نے اسے نکاح متعہ کا پیغام دیا اور اس کے سامنے ہم نے اپنی اپنی دو چادریں پیش کیں پس اس نے مجھے دیکھنا شروع کیا کیونکہ میں اپنے ساتھی سے زیادہ خوبصورت تھا اور میرے ساتھی کی چادر کو دیکھا جو کہ میری چادر سے زیادہ عمدہ تھی تھوڑی دیر تک اس نے سوچا پھر مجھے میرے ساتھی سے پسند کرلیا پس وہ میرے ساتھ تین دن تک رہی پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مسلمانوں کو ان کے چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
Sabra bin Mabad reported that Allahs Apostle ﷺ permitted his Companions to contract temporary marriage with women in the Year of Victory. So I and a friend of mine from Banu Sulaim went out, until we found a young woman of Banu Amir who was like a young she-camel having a long neck. We made proposal to her for contracting temporary marriage with us, and presented to her our cloaks (as dower). She began to look and found me more handsome than my friend, but found the cloak of my friend more beautiful than my cloak. She thought in her mind for a while, but then preferred me to my friend. So I remained with her for three (nights), and then Allahs Messenger ﷺ commanded us to part with them (such women).
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ
عمرو ناقد، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔
Rabi bin Sabra reported on the authority of his father that Allahs Apostle ﷺ prohibited the contracting of temporary marriage.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، معمر، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا۔
Rabi bin Sabra reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ forbade on the Day of Victory to contract temporary marriage with women.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِيهِ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُتْعَةِ زَمَانَ الْفَتْحِ مُتْعَةِ النِّسَائِ وَأَنَّ أَبَاهُ کَانَ تَمَتَّعَ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حضرت ربیع بن سبرہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے زمانہ میں عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا اور ان کے والد یعنی سبرہ دو سرخ چادروں کے بدلہ میں نکاح متعہ کرتے تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of Rabi bin Sabra that Allahs Messenger ﷺ forbade to contract temporary marriage with women at the time of Victory, and that his father had contracted the marriage for two red cloaks.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَامَ بِمَکَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا أَعْمَی اللَّهُ قُلُوبَهُمْ کَمَا أَعْمَی أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّکَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ کَانَتْ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَی عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِکَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّکَ بِأَحْجَارِکَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَائَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهُ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مَهْلًا قَالَ مَا هِيَ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا کَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ اضْطُرَّ إِلَيْهَا کَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْکَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَی عَنْهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ کُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُتْعَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر ؓ نے مکہ میں قیام کیا تو فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ نے اندھا کردیا ہے جیسا کہ وہ بینائی سے نابینا ہیں کہ وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں اتنے میں ایک آدمی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم کم علم اور نادان ہو میری عمر کی قسم امام المتقین یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا جاتا تھا تو ان سے ( ابن عباس ؓ سے) ابن زبیر ؓ نے کہا تم اپنے آپ پر تجربہ کرلو اللہ کی قسم اگر آپ نے ایسا عمل کیا تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا ابن شہاب نے کہا مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے اس سے آکر متعہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اس نے اسے اس کی اجازت دے دی تو اس سے ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ٹھہر جا انہوں نے کہا کیا بات ہے حالانکہ امام المتقین ﷺ کے زمانہ میں ایسا کیا گیا ابن ابی عمرہ نے فرمایا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں مضطر آدمی کے لئے تھی مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح پھر اللہ نے دین کو مضبوط کردیا اور متعہ سے منع کردیا ابن شہاب نے کہا مجھے ربیع بن سبرہ الجہنی نے خبر دی ہے اس کے باپ نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ابن شہاب نے کہا کہ میں نے ربیع بن سبرہ کی یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کرتے سنا اس حال میں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
Urwa bin Zabair reported that Abdullah bin Zubair (RA) stood up (and delivered an address) in Makkah saying: Allah has made blind the hearts of some people as He has deprived them of eyesight that they give religious verdict in favour of temporary marriage, while he was alluding to a person (Ibn Abbas). Ibn Abbas (RA) called him and said: You are an uncouth person, devoid of sense. By my life, Muta was practised during the lifetime of the leader of the pious (he meant Allahs Messenger, ﷺ , and Ibn Zubair said to him: just do it yourselves, and by Allah, if you do that I will stone you with your stones. Ibn Shihab said Khalid bin Muhajir bin Saifullah informed me: While I was sitting in the company of a person, a person came to him and he asked for a religious verdict about Muta and he permitted him to do it. Ibn Abu Amrah al-Ansari (RA) said to him: Be gentle. It was permitted in the early days of Islam, (for one) who was driven to it under the stress of necessity just as (the eating of) carrion and the blood and flesh of swine and then Allah intensified (the commands of) His religion and prohibited it (altogether). Ibn Shihab reported: Rabi bin Sabra told me that his father (Sabra) said: I contracted temporary marriage with a woman of Banu Amir for two cloaks during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ ; then he forbade us to do Muta. Ibn Shihab said: I heard Rabi bin Sabra narrating it to Umar bin Abdul Aziz and I was sitting there.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُتْعَةِ وَقَالَ أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِکُمْ هَذَا إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ کَانَ أَعْطَی شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابن ابی عبلہ، عمر بن عبدالعزیز، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح متعہ سے ممانعت فرمائی اور فرمایا آگاہ رہو یہ آج کے دن سے قیامت کے دن تک حرام ہے اور جس نے کوئی چیز دی ہو تو اسے واپس نہ لے۔
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father: Allahs Messenger ﷺ prohibited the contracting of temporary marriage and said: Behold, it is forbidden from this very day of yours to the Day of Resurrection, and he who has given something (as a dower) should not take it back.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبداللہ، حسن، محمد بن علی، حضرت علی ؓ بن ابوطالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Ali bin AbiTalib reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited on the Day of Khaibar the contracting of temporary marriage with women and the eating of the flesh of domestic asses.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِفُلَانٍ إِنَّکَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ يَحْيَی عَنْ مَالِکٍ
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، حضرت مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو ایک آدمی سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اسے کہہ رہے تھے کہ تو ایک بھٹکا ہوا آدمی ہے رسول اللہ ﷺ نے متعہ سے منع فرمایا باقی حدیث یحییٰ بن مالک کی حدیث کی طرح ہے۔
Malik narrated this hadith on the authority of the same chain of transmitters that Ali Ibn Abi Talib (RA) said to a person: You are a person led astray; Allahs Messenger ﷺ forbade us (to do Muta), as is stated In the hadith transmitted on the authority of Yahya bin Malik.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان ابن عیینہ، زہری، حسن، عبداللہ، محمد بن علی، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ بنی کریم ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن نکاح متعہ اور گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Muhammad bin Ali narrated on the authority of his father Ali that Allahs Apostle ﷺ on the Day of Khaibar prohibited for ever the contracting of temporary marriage and eating of the flesh of the domestic asses.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَائِ فَقَالَ مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، ابن شہاب، حسن، عبداللہ، محمد بن علی، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو عورتوں کے متعہ میں نرمی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ٹھہر جاؤ اے ابن عباس ؓ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے غزوہ خیبر کے دن منع فرمایا اور پالتو گدھوں کے گوشت سے بھی۔
Ali (RA) heard that Ibn Abbas (RA) gave some relaxation in connection with the contracting of temporary marriage, whereupon he said: Dont be hasty (in your religious verdict), Ibn Abbas, for Allahs Messenger ﷺ on the Day of Khaibar prohibited for ever the doing of it and eating of the flesh of domestic asses.
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حسن، عبداللہ، حضرت محمد بن علی بن ابوطالب ؓ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت علی ؓ بن ابی طالب کو ابن عباس ؓ سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے اور گھریلو پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Ali (RA) said to Ibn Abbas (RA) that Allahs Messenger ﷺ on the Day of Khaibar forbade forever the contracting of temporary marriage and the eating of the flesh of domestic asses.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، مالک، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بھتیجی اور اس کی پھوپھی اور بھانجی اور اس کی خالہ کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may peace upon him) having said this: One should not combine a woman and her fathers sister, nor a woman and her mothers sister in marriage.
ایک عورت اور اسکی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا
محمد بن رمح، ابن مہاجر، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک بن مالک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عورتوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا بھتیجی اور اس کی پھوپھی اور بھانجی اور اس کی خالہ کو
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade combining of four women in marriage: a woman with her fathers sister, and a woman with her mothers sister.