فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 1 of 29

5938Sahih Muslim

نبی ﷺ کے نسب مبارک کی فضیلت اور نبوت سے قبل پتھر کا آپ ﷺ کو سلام کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ جَمِيعًا عَنْ الْوَلِيدِ قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَی کِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ وَاصْطَفَی قُرَيْشًا مِنْ کِنَانَةَ وَاصْطَفَی مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ

محمد بن مہران رازی محمد بن عبدالرحمن بن سہم ولید ابن مہران ولید بن مسلم، اوزاعی ابی عمار شداد، حضرت واثلہ بن اسقع ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا اور قریش کو کنانہ میں سے چنا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور پھر بنی ہاشم میں سے مجھے چنا۔

Wathila bin al-Asqa reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily Allah granted eminence to Kinana from amongst the descendants of Ismail and he granted eminence to the Quraish amongst Kinana and he granted eminence to the Quraish amongst Banu Hashim and he granted me eminence from the tribe of Banu Hashim.

5939Sahih Muslim

نبی ﷺ کے نسب مبارک کی فضیلت اور نبوت سے قبل پتھر کا آپ ﷺ کو سلام کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ حَدَّثَنِي سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَکَّةَ کَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکیر ابراہیم، بن طہمان سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں کہ جو مکہ مکرمہ میں میرے مبعوث ہونے سے پہلے مجھ پر سلام کیا کرتا تھا۔

Jabir bin ahadeeth reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I recognise the stone in Makkah which used to pay me salutations before my advent as a Prophet ﷺ and I recognise that even now.

5940Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ ساری مخلوقات میں سب سے افضل ہمارے نبی ﷺ ہیں۔

حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ

حکم بن موسیٰ ابوصالح ہقل ابن زیاد اوزاعی ابوعمار عبداللہ بن فروض حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میں حضرت آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I shall be pre-eminent amongst the descendants of Adam علیہ السلامعلیہ السلامon the Day of Resurrection and I will be the first intercessor and the first whose intercession will be accepted (by Allah).

5941Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَائٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَی الثَّمَانِينَ قَالَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَی الْمَائِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ

ابوربیع سلیمان بن داؤد عتکی حماد بن زید ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پانی مانگا تو ایک کشادہ پیالہ لایا گیا لوگ اس میں سے وضو کرنے لگے میں نے اندازہ لگایا کہ ساٹھ سے اسی تک لوگوں نے وضو کیا ہوگا اور میں پانی کو دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ کی انگلیوں سے پھوٹ رہا ہے۔

Anas reported that Allahs Apostle ﷺ called for water and he was given a vessel and the people began to perform ablution in that and I counted (the persons) and they were between fifty and eighty and I saw water which was spouting from his fingers.

5942Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوئَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ الْإِنَائِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَائَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّی تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ

اسحاق بن موسیٰ انصاری معن مالک ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا تھا اور لوگوں نے وضو کرنے کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہیں ملا پھر تھوڑا سا پانی رسول اللہ ﷺ کے وضو کے لئے لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا اور صحابہ کرام ؓ کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم فرمایا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ پانی آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے بہہ رہا ہے پھر صحابہ کرام ؓ نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں سے جو سب سے آخر میں تھا اس نے بھی وضو کیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: I saw Allahs Messenger ﷺ during the time of the afternoon prayer and the people asking for water for performing ablution which they did not find. A small quantity of water was brought to Allahs Messenger ﷺ and he placed his hand in that vessel and commanded people to perform ablution. I saw water spouting from his fingers and the people performing ablution until the last amongst them performed it.

5943Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَائِ قَالَ وَالزَّوْرَائُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَائٌ فَوَضَعَ کَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ قَالَ قُلْتُ کَمْ کَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ کَانُوا زُهَائَ الثَّلَاثِ مِائَةِ

ابوغسان مسمعی معاذ ابن ہشام ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ زوراء کے مقام میں تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ زوراء مدینہ منورہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک مقام ہے آپ ﷺ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی مبارک اس پانی والے پیالے میں رکھ دی تو آپ کی انگلیوں سے پانی پھوٹنے لگا پھر آپ کے تمام صحابہ نے اس سے وضو کیا حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ صحابہ کرام کتنی تعداد میں تھے حضرت انس ؓ نے فرمایا صحابہ کرام ؓ اس وقت تقریبا تین سو کی تعداد میں تھے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ and his Companions were at a place known as az-Zaura (az-Zaura is a place in the bazar of Madinah near the mosque) that he called for a vessel containing water. He put his hand in that. And there began to spout (water) between his fingers and all the Companions performed ablution. Qatada, one of the narrators in the chain of narrators, said: Abu Hamza (the kunya of Hadrat Anas bin Malik (RA)), how many people were they? He said: They were about three hundred.

5944Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ بِالزَّوْرَائِ فَأُتِيَ بِإِنَائِ مَائٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ

محمد بن مثنی محمد بن جعفر، سعید قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ زوراء کے مقام میں تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا کہ جس میں صرف اتنا پانی تھا کہ اس میں آپ ﷺ کی انگلیاں ڈوبتی نہیں تھیں یا آپ ﷺ کی انگلیاں اس میں چھپتی نہیں تھیں پھر ہشام کی روایت کی طرح ذکر کی۔

Anas reported Allahs Apostle ﷺ was at az-Zaura and a vessel containing water was brought to him in which his finger could not be completely dipped or completely covered; the rest of the hadith is the same.

5945Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ مَالِکٍ کَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُکَّةٍ لَهَا سَمْنًا فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْئٌ فَتَعْمِدُ إِلَی الَّذِي کَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّی عَصَرَتْهُ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَصَرْتِيهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَوْ تَرَکْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا

سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابن زبیر جابر، ام مالک حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت مالک ؓ کی والدہ نبی ﷺ کی خدمت میں گھی کے ایک برتن میں گھی بطور ہدیہ کے بھیجا کرتی تھیں پھر اس کے بیٹے آتے اور اپنی والدہ سے سالن مانگتے لیکن ان کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو حضرت مالک کی والدہ اس برتن کے پاس جاتیں جس میں وہ نبی ﷺ کے لئے گھی بھیجا کرتی تھیں تو وہ اس برتن میں گھی موجود پاتیں تو اس طرح ہمیشہ ان کے گھر کا سالن چلتا رہا یہاں تک کہ ام مالک نے اس برتن کو نچوڑ لیا (یعنی بالکل خالی کردیا) پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں تو آپ نے فرمایا تو نے اس برتن کو نچوڑ لیا ہوگا تو اس نے کہا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کاش تو اسے اسی طرح چھوڑ دیتی تو وہ ہمیشہ قائم رہتا۔

Jabir reported that Umm Malik used to send clarified butter in a small skin to the Apostle of Allah ﷺ . Her sons would come to her and ask for seasoning when they had nothing with them (in the form of condiments) and she would go to that (skin) in which she offered (clarified butter) to Allahs Apostle ﷺ , and she would find in that clarified butter and it kept providing her with seasoning for her household until she had (completely) squeezed it. She came to Allahs Apostle ﷺ and (informed him about it). Thereupon, he (the Holy Prophet) said: Did you squeeze it? She said: Yes. Thereupon he said: If you had left it in that very state, it would have kept on providing you (the clarified butter) on end.

5946Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْکُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّی کَالَهُ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ لَمْ تَکِلْهُ لَأَکَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَکُمْ

سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابی زبیر حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو آپ ﷺ نے اسے آدھا وسق جو دے دیئے پھر وہ آدمی اور اس کی بیوی اور ان کے مہمان ہمیشہ اس سے کھاتے رہے یہاں تک کہ اس نے اس کا وزن کرلیا پھر نبی ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کاش کہ تو اس کا وزن نہ کرتا تو ہمیشہ تم اسی میں سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے لئے قائم رہتا۔

Jabir reported that a person came to Allahs Apostle ﷺ and asked for food. And he gave him half a wasq of barley, and the person and his wife and their guests kept on making use of it (as a food) until he weighed it (in order to find out the actual quantity, and it was no more). He came to Allahs Apostle ﷺ (and informed him about it). He said: Had you not weighed it, you would be eating out of it and it would have remained intact for you.

5947Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوکَ فَکَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ فَصَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِکَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّکُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوکَ وَإِنَّکُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّی يُضْحِيَ النَّهَارُ فَمَنْ جَائَهَا مِنْکُمْ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّی آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاکِ تَبِضُّ بِشَيْئٍ مِنْ مَائٍ قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا قَالَا نَعَمْ فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی اجْتَمَعَ فِي شَيْئٍ قَالَ وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتْ الْعَيْنُ بِمَائٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ غَزِيرٍ شَکَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ حَتَّی اسْتَقَی النَّاسُ ثُمَّ قَالَ يُوشِکُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَی مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوعلی حنفی مالک ابن انس، ابوزبیر، مکی ابوطفیل عامر بن واثلہ حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک والے سال ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو آپ ﷺ نمازوں کو جمع فرماتے تھے ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھتے تھے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ایک دن نماز میں دیر فرمائی پھر آپ ﷺ نکلے اور ظہر و عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں پھر آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے پھر اس کے بعد آپ ﷺ تشریف لائے اور مغرب اور عشا کی نمازیں اکٹھی پڑھیں پھر آپ نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو کل تم دن چڑھے تک چشمہ پر پہنچ جاؤ گے اور تم میں کوئی اس چشمے کے پانی کو ہرگز ہاتھ نہ لگائے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے دو آدمی اس چشمے کی طرف پہنچ گئے اور چشمے میں پانی جوتی کے تسمے کے برابر ہوگا اور وہ پانی بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم نے اس چشمے کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے انہوں نے کہا جی ہاں تو نبی ﷺ نے جو اللہ نے چاہا ان کو برا کہا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چشمہ کا تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک اور اپنے چہرہ اقدس کو دھویا پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا پھر اس چشمہ سے جوش مارتے ہوئے پانی بہنے لگا یہاں تک کہ لوگوں نے بھی پانی پیا ( اور جانوروں نے بھی پانی پیا) پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ اس چشمے کا پانی باغوں کو سیراب کر دے گا۔

Muadh bin Jabal reported that he went along with Allahs Apostle ﷺ in the expedition of Tabuk and he (the Holy Prophet) combined the prayers. He offered the noon and afternoon prayers together and the sunset and night prayers together and on the other day he deferred the prayers; he then came out and offered the noon and afternoon prayers together. He then went in and (later on) came out and then after that offered the sunset and night prayers together and then said: God willing, you would reach by tomorrow the fountain of Tabuk and you should not come to that until it is dawn, and he who amongst you happens to go there should not touch its water until I come. We came to that and two persons (amongst) us reached that fountain ahead of us. It was a thin flow of water like the shoelace. Allahs Messenger ﷺ asked them whether they had touched the water. They said: Yes. Allahs Apostle ﷺ scolded them, and he said to them what he had to say by the will of God. The people then took water of the fountain in their palms until it became somewhat significant and Allahs Messenger ﷺ washed his hands and his face too in it, and then, took it again in that (fountain) and there gushed forth abundant water from that fountain, until all the people drank to their fill. He then said: Muadh, it is hoped that if you live long you would see its water irrigating well the gardens.

5948Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوکَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَی عَلَی حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْرُصُوهَا فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ أَحْصِيهَا حَتَّی نَرْجِعَ إِلَيْکِ إِنْ شَائَ اللَّهُ وَانْطَلَقْنَا حَتَّی قَدِمْنَا تَبُوکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَهُبُّ عَلَيْکُمْ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْکُمْ فَمَنْ کَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّی أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ وَجَائَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَائِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکِتَابٍ وَأَهْدَی لَهُ بَغْلَةً بَيْضَائَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْدَی لَهُ بُرْدًا ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّی قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَی فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا کَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا فَقَالَتْ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي مُسْرِعٌ فَمَنْ شَائَ مِنْکُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ وَمَنْ شَائَ فَلْيَمْکُثْ فَخَرَجْنَا حَتَّی أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِينَةِ فَقَالَ هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَنَا آخِرًا فَأَدْرَکَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرًا فَقَالَ أَوَ لَيْسَ بِحَسْبِکُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنْ الْخِيَارِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب سلیمان بن بلال عمرو بن یحییٰ عباس بن سہل بن سعد ساعدی حضرت ابوحمید سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہم وادی قری میں ایک عورت کے باغ پر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس باغ کے پھلوں کا اندازہ تو لگاؤ تو ہم نے اندازہ لگایا اور رسول اللہ کے اندازے کے مطابق دس وسق معلوم ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو ہمارا تیری طرف واپس آنے تک اس تعداد کو یاد رکھنا اور پھر ہم چلے یہاں تک کہ تبوک میں آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج رات بہت تیز آندھی چلے گی اور تم میں سے کوئی آدمی بھی اس میں کھڑا نہ ہو جس آدمی کے پاس اونٹ ہیں وہ انہیں مضبوطی سے باندھ دے ایسے ہی ہوا بہت تیز آندھی چلی ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا اسے لے کر اڑ گئی یہاں تک کہ طی کے دونوں پہاڑوں کے درمیان اسے ڈال دیا پھر اس کے بعد علماء کے بیٹے کا ایک قاصد جو کہ ایلہ کا حکمران تھا وہ ایک کتاب اور ایک سفید گدھا رسول اللہ ﷺ کے لئے بطور ہدیہ لے کر آیا رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کی طرف جواب لکھا اور ایک چادر بطور ہدیہ اس کی طرف بھیجی پھر ہم واپس ہوئے یہاں تک کہ ہم وادی قری میں آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے اس پھل کے باغ کے بارے میں پوچھا کہ اس باغ میں کتنا پھل نکلا اس عورت نے عرض کیا دس وسق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جلدی جانے والا ہوں اور تم میں سے جو کوئی جلدی جانا چاہے تو وہ میرے ساتھ چلے اور جو چاہے تو ٹھہر جائے پھر ہم نکلے یہاں تک کہ ہمیں مدینہ منورہ نظر آنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے اور یہ وہ احد پہاڑ ہے کہ جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا انصار کے سب گھروں سے بہتر بنی نجار کے گھر ہیں پھر قبیلہ عبدالا شہل کے گھر اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے پھر حضرت سعد بن عبادہ ہم سے ملے تو حضرت ابوسعید ؓ نے ان سے کہا کیا تو نے خیال نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے گھروں کی بھلائی بیان کی ہے اور ہمیں سب سے آخر میں کردیا ہے حضرت سعد ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے انصار کے گھروں کی بھلائی بیان کی ہے اور آپ ﷺ نے ہمیں سب سے آخر میں کردیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تم پسندیدہ لوگوں میں سے ہوجاؤ۔

Abu Humaid as-Saidi reported: We went out with Allahs Messenger ﷺ on the expedition to Tabuk and we came to a wadi where there was a garden belonging to a woman. Allahs Apostle ﷺ said. Make an assessment (of the price of its fruit). And Allahs Messenger ﷺ also made an assessment and it was ten wasqs. He asked that lady (to calculate the amount) until they would, God willing, come back to her. So we proceeded on until we came to Tabuk and Allahs Messenger ﷺ said: The violent storm will overtake you during the night, so none amongst you should stand up and he who has a camel with him should hobble it firmly. A violent storm blew and a person who had stood up was carried away by the storm and thrown between the mountains of Tayy. Then the messenger of the son of al Alma, the ruler of Aila, came to Allahs Messenger ﷺ with a letter and a gift of a white mule. Allahs Messenger ﷺ wrote him (the reply) and presented him a cloak. We came back until we halted in the Wadi al-Qura. Allahs Messenger ﷺ asked that lady about her garden and the price of the fruits in that. She said: Ten wasqs. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: I am going to depart, and he who amongst you wishes may depart with me but he who wants to stay may stay. We resumed the journey until we came to the outskirts of Madinah. (It was at this time) that Allahs Messenger ﷺ said: This is Taba, this is Uhud, that is a mountain which loves us and we love it, and then said: The best amongst the houses of the Ansar is the house of Bani Najjar. Then the house of Bani Abdul Ashhal, then the house of Bani Abdul Harith bin Khazraj, then the house of Bani Saida, and there is goodness in all the houses of the Ansar. Said bin Ubadah came to us and Abu Usaid said to him: Did you not see that Allahs Messenger ﷺ has declared the houses of the Ansar good and he has kept us at the end. Said met Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, you have declared the house of the Ansar as good and have kept us at the end, whereupon he said: Is it not enough for you that you have been counted amongst the good.

5949Sahih Muslim

نبی ﷺ کے معجزات کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَکَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَکَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان اسحاق بن ابراہیم، مغیرہ بن سلمہ مخزومی وہیب حضرت عمر بن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے (اس روایت میں) آپ ﷺ کے اس فرمان تک ہے کہ انصار کے سب گھروں میں بھلائی ہے اور اس کے بعد حضرت سعد ؓ بن عبادہ والے واقعہ کا ذکر نہیں کیا اور وہیب کی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایلہ والوں کے لئے ان کا ملک لکھ دیا اور وہب کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف لکھا۔

This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Yahya with the same chain of transmitters up to the words: There is good in all the houses of the Ansar, and there is no mention of the subsequent event pertaining to Sad bin Ubadah.

5950Sahih Muslim

نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَأَدْرَکَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ کَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا قَالَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَی رَأْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ فَقَالَ لِي مَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قَالَ قُلْتُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ مَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قَالَ قُلْتُ اللَّهُ قَالَ فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، ابوسلمہ جابر، ابوعمران محمد بن جعفر بن زیاد ابراہیم ابن سعد زہری، سنان بن ابی سنان دولی حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے تو ہم نے رسول اللہ کو ایک ایسی وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے نیچے اترے اور آپ ﷺ نے تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور صحابہ کرام ؓ اس وادی کے درختوں کے سائے میں علیحدہ علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی میرے پاس اس حال میں آیا کہ میں سو رہا تھا تو اس نے تلوار پکڑ لی میں بیدار ہو تو وہ آدمی میرے سر پر کھڑا تھا مجھے صرف اس وقت پتہ چلا جب ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی وہ آدمی مجھ سے کہنے لگا اب تجھے کون مجھ سے بچائے گا میں نے کہا اللہ دوبارہ پھر اس نے مجھ سے کہا اب تجھے کون مجھ سے بچائے گا میں نے کہا اللہ اس نے تلوار اپنی نیام میں ڈالی وہ آدمی یہ بیٹھا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے کچھ تعرض نہیں فرمایا۔

Jabir binAbdullah (RA) reported: We went along with Allahs Messenger ﷺ on an expedition towards Najd and Allahs Messenger ﷺ found us in a valley abounding in thorny trees. Allahs Messenger ﷺ stayed for rest under a tree and he suspended his sword by one of its branches under which he was taking rest. The persons scattered in the valley and they also began to take rest under the shade of trees, and Allahs Messenger ﷺ said: A person came to me while I was asleep and he took hold of the sword. I woke up and found him standing upon my head and I had hardly become alert (and saw) that the sword was in his hand. And he said: Who can protect you from me? I said: Allah. He again said: Who can protect you from me? I said: Allah. He put his sword in the sheath (and you can see) this man sitting here. Allahs Messenger ﷺ did not in any way touch him.

5951Sahih Muslim

نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَکَتْهُمْ الْقَائِلَةُ يَوْمًا ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ وَمَعْمَرٍ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی ابوبکر بن اسحاق ابویمان شعیب زہری، سنان بن ابی سنان دولی ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ جو کہ نبی ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے تھے وہ خبر دیتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے تو جب نبی ﷺ واپس ہوئے تو ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے ایک دن دوپہر کو ہم نے ان کو آرام کرتے ہوئے پایا پھر اس کے بعد معمر اور ابراہیم بن سعد کی طرح حدیث ذکر کی۔

Jabir bin Abdullah al-Ansiri, who was one amongst the Companions of Allahs Apostle ﷺ , reported that he went on an expedition along with Allahs Messenger ﷺ towards Najd and Allahs Messenger ﷺ stayed there, and when Allahs Messenger ﷺ came back he also came back along with him. They, for one day, stayed for rest; the rest of the hadith is the same.

5952Sahih Muslim

نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان ابان بن یزید یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذات الرقاع تک پہنچ گئے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی لیکن اس میں یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کچھ تعرض نہیں فرمایا۔

Jabir bin Abdullah reported: We went along with Allahs Messenger ﷺ and as we reached the place Dhat-ur-Riqa; the rest of the hadith is the same, but there is no mention of the word that Allahs Messenger ﷺ did not harm him.

5953Sahih Muslim

اس مثال کے بیان میں کہ نبی کریم ﷺ کو کتناعلم اور ہدایت دے کر مبعوث فرمایا گیا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْهُدَی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَکَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتْ الْمَائَ فَأَنْبَتَتْ الْکَلَأَ وَالْعُشْبَ الْکَثِيرَ وَکَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَکَتْ الْمَائَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَی إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِکُ مَائً وَلَا تُنْبِتُ کَلَأً فَذَلِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِکَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَی اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ ابوعامر اشعری محمد بن علاء ابی عامر ابوسامہ برید حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جتنا علم اور ہدایت دے کر معبوث فرمایا اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ زمین پر مینہ برسا اس زمین میں سے کچھ حصہ ایسا تھا کہ جس نے پانی اپنے اندر جذب کرلیا اور بہت کثرت سے چارہ اور سبزہ اگایا اور زمین کا کچھ حصہ سخت تھا کہ وہ پانی کو روک لیتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو نفع دیتے ہیں لوگ اس میں سے پیتے ہیں اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں اور آگاہ رہو گھاس چراتے ہیں اور زمین کا کچھ حصہ چٹیل میدان ہے کہ وہ پانی کو نہیں روکتا اور نہ ہی اس میں گھاس پیدا ہوتی ہے تو یہی مثال اس کی ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے دین کو سمجھا اور جو دین اللہ تعالیٰ نے مجھے دے کر مبعوث فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا چناچہ اس نے خود بھی دین سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور مثال ان لوگوں کی کہ جنہوں نے اس طرف سر بھی نہیں اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت (دین) کو جسے مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اس کو قبول نہیں کیا۔

Abu Musa reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The similitude of that guidance and knowledge with which Allah, the Exalted and Glorious, has sent me is that of rain falling upon the earth. There is a good piece of land which receives the rainfall (eagerly) and as a result of it there is grown in it herbage and grass abundantly. Then there is a land hard and barren which retains water and the people derive benefit from it and they drink it and make the animals drink. Then there is another land which is barren. Neither water is retained in it, nor is the grass grown in it. And that is the similitude of the first one who develops the understanding of the religion of Allah and it becomes a source of benefit to him with which Allah sent me. (The second one is that) who acquires the knowledge of religion and imparts it to others. (Then the other type is) one who does not pay attention to (the revealed knowledge) and thus does not accept guidance of Allah with which I have been sent.

5954Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَی قَوْمَهُ فَقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَائَ فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَی مُهْلَتِهِمْ وَکَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَکَانَهُمْ فَصَبَّحَهُمْ الْجَيْشُ فَأَهْلَکَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ فَذَلِکَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَکَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنْ الْحَقِّ

عبداللہ بن براء، اشعری ابوکریب ابواسامہ برید حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے اس دین کی مثال جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرما کر مبعوث فرمایا ہے اس آدمی کی طرح ہے کہ جو اپنی قوم سے آکر کہے اے قوم میں نے اپنی آنکھوں سے دشمن کا ایک لشکر دیکھا ہے اور میں تم کو واضع طور پر ڈراتا ہوں تو تم اپنے آپ کو دشمن سے بچاؤ اور اس کی قوم میں سے ایک جماعت نے اس کی اطاعت کرلی اور شام ہوتے ہی اس مہلت کی بناء پر بھاگ گئی اور ایک گروہ نے اس کو جھٹلایا اور وہ صبح تک اسی جگہ پر رہے تو صبح ہوتے ہی دشمن کے لشکر نے ان پر حملہ کردیا اور وہ ہلاک ہوگئے اور ان کو جڑ سے اکھیڑ دیا یہی مثال ہے جو میری اطاعت کرتا ہے اور میں جو دین حق لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کرتا ہے اور مثال ان لوگوں کی جو میری نافرمانی کرتے ہیں اور جو دین حق لے کر آیا ہوں اسے جھٹلاتے ہیں۔

Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied me and the Truth with which I have been sent.

5955Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَتْ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهِ فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهِ

قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور میری امت کی مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی ہوئی ہو اور سارے کیڑے مکوڑے اور پتنگے اس میں گرتے چلے جا رہے ہوں اور میں تمہاری کمروں کو پکڑے ہوئے ہوں اور تم بلا سوچے اندھا دھند اس میں گرتے چلے جا رہے ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of mine and that of my Umma is that of a person who lit fire and there began to fall into it insects and moths. And I am there to hold you back, but you plunge into it.

5956Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

عمرو ناقد ابن ابی عمر سفیان، حضرت ابوالزناد ؓ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

The above hadith was likewise narrated with another chain of transmitters.

5957Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَائَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا قَالَ فَذَلِکُمْ مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنْ النَّارِ هَلُمَّ عَنْ النَّارِ هَلُمَّ عَنْ النَّارِ فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام ابن منبہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی ہو تو جب اس نے آگ سے اپنے ارد گرد کو روشن کیا تو اس میں کیڑے مکوڑے اور وہ جانور جو اس میں گرتے ہیں وہ گرنے لگے وہ ان کو روکے مگر وہ نہ رکیں اور اس میں گرتے رہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہی مثال میری اور تمہاری ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑ کر تمہیں دوزخ میں گرنے سے روکتا ہوں اور میں تمہیں کہتا ہوں کہ دوزخ کے پاس سے چلے آؤ دوزخ کے پاس سے چلے آؤ لیکن تم نہیں مانتے اور اس میں گرتے چلے جا رہے ہو۔

Hammam bin Munabbih reported: Abu Hurairah (RA) reported us some ahadith from Allahs Messenger ﷺ amongst many, (and) one is this that Allahs Messenger ﷺ said: A person lit fire and when the atmosphere was aglow, moths and insects began to fall into the fire, but I am there to hold them back, but they are plunging into it despite my efforts, and he further added: That is your example and mine. I am there to hold you back from fire and to save you from it, but you are plunging into it despite my efforts.